Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

ماضی!!
زندگی اتنی تلخ اتنی دردناک بھی ہوتی کے یہ ماہ تاب علوی نے اب جانا تھا۔
باپ کو غیرت مند ہونا چاہیے۔باپ کے احساسات نہیں مرنے چاہیے۔لیکن یہاں ماں اور باپ دونوں دولت کی حوس میں ایسی راہوں پر گامزن تھے جو صرف تباہی لاتی ہے۔ان کے احساسات غیرت سب دولت کی حوس لے گئی تھی۔
مشل علوی کی زندگی جوانی کی جانب بڑھنے لگی تو ماہ تاب علوی کو فکر ستانے لگی۔اپنی تباہی اسے منظور تھی۔لیکن بہن کی تباہی اسے جیتے جی ماردیتی۔
وہ مشل کی غیر محسوس طریقے سے حفاظت کرنے لگی تھی۔
چند روز بعد ہی عبیحہ مراد اس کے در پر آئی۔اس کی تو اپنی زندگی کٹھنائیوں میں تھی۔وہ اسے کیا سہارا دیتی۔لیکن وہ ماہ تاب تھی جسے دوسروں کی فکر عزیز تر تھی۔
“ماہ تاب میرے بابا مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔مجھے پناہ دے دو۔وہ لوگ مجھے جینے نہیں دے رہے۔”
محلے والوں نے اسے مار مار کر وہاں سے نکال دیا تھا۔
گناہ چھپاتے چھپاتے وہ موت کے دہانے پر آئی تھی۔
ان دنوں زوار علوی اور شبنم فرانس ٹور پر گئے تھے۔یہ شارف ابدال کی مہربانی تھی جو زوار علوی کو کسی نعمت سے کم نہیں لگی۔
ماہ تاب کو لگا زندگی ایک دم سے بالکل ہی بیچ چوراہے میں آگئی ہے جہاں انسان مرنا پسند کرتاہے۔وہ کس کے پاس جاتی کس سے مدد مانگتی کوئی در باقی ہی نہیں تھا۔وہ شخص ایسا منہ موڑ کر گیا کہ کوئی سہارا ہی نہیں چھوڑا کوئی نشانی ہی نہیں بچی تھی جس سے وہ سراغ لگالیتی۔
چند ماہ کا یہ قیام عبیحہ مراد کے لیے بہت کٹھن تھا۔شارف ابدال نے اب بھی اس کی حالت پر رحم نہیں کھایا تھا۔
وہ اس بچے کے بعد اسے اسی ساتویں منزل کا حصہ بنانے والے تھے جہاں کی غلاظت شاید عبیحہ مراد کو مکمل برباد کردیتی۔
ہاسپٹل میں جس وقت اسے لے جایا گیا۔شارف ابدال ننھے احد کے پیدائش کے بعد آیا تھا۔
معیز اس وقت ہسپتال کے بقیہ جات جمع کروانے گیا تھا۔
“جلدی سے اس جنجھٹ سے آزاد ہوجاؤ تمہیں میرے ساتھ میرا پارٹنر بننا ہے۔تم ترقی کی راہوں کی ملکہ بننے والی ہو۔تم شارف ابدال کی زندگی کا اہم جز بن جاؤ گی۔تم میرا ساتھ چاہتی تھی ۔تو سنو میں تمہیں اپنا ہمراز بنانے والا ہوں۔
یہ بچہ بھی بہت پیارا ہے۔لیکن میں اسے اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں بناؤں گا۔”
ننھے سے بچے کو گود میں اٹھائے شارف ابدال اس کا خون خشک کررہا تھا۔
اس خود غرض لڑکی کی ممتا جاگ اٹھی تھی۔
شارف سے بچہ لے کر سینے سے لگائے وہ سہمی جب شارف ابدال اس کےنزدیک آیا۔
“فکر مت کرو۔یہ بچہ محفوظ رہے گا۔اسے میں کچھ نہیں کرسکتا خون تو یہ میرا ہی ہے۔لیکن اگر کوئی چالاکی کرو گی تو اس کا خون بھی بہادوں گا۔کیونکہ جو میری راہ میں رکاوٹ بنتا ہے وہ کٹھنائیوں میں ڈھلتا ہے۔”
اس کے گال پر ہاتھ پھیرے وہ مزید سفاک بنے۔
کچھ دیر میں وہ وہاں سے نکلے تھے۔عبیحہ مراد ایک گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہلکان تھی اگر مزید ان راہوں کا حصہ بنتی تو شاید اپنی نگاہ میں گرجاتی ۔
بچے کو کاٹ میں لٹا کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر پن اور نوٹ پیڈ اٹھایا۔جو شاید نرس یہاں رکھ گئی تھی۔
“مجھےمعاف کردینا ماہ تاب میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔لیکن میں ان راہوں کا حصہ نہیں بن سکتی میرا بچہ تمہارے پاس امانت ہے۔اسے اچھا انسان بنانا اسے شام جیسا بنانا۔معیز میرے بچے کی حفاظت کرنا میں تم سے اپنے بچے کی حفاظت کی بھیک مانگتی ہوں میرے بچے کو اندیکھی راہوں میں نہ بھیجنا۔مجھے معاف کردینا معیز۔۔مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کرنا۔شارف ایک درندہ ہے جس کی درندگی کی میں اسیر ہوتی جہنم کی حقدار ہوگئی ہوں۔خدا تمہاری عزت کی حفاظت کرے گا۔ایک بدنصیب ماں کی دعا ہے۔میرے بچے کو ناجائز مت کہلوانے دینا۔یہ میری آخری التجا آخری بھیک سمج لو۔”
وہ پن رکھے سہارا لیتی باہر نکلی اور ہاسپٹل کے پچھلے دروازے سے باہر نکلی۔
رکشے میں سوار ہوتی وہ شہر کے دوسرے کونے میں اتری لیکن سڑک پار کرتے ایک گاڑی اس کا ناتواں وجود کو روندتی آگے بڑھ گئی تھی۔


عبیحہ مراد کی ناکام تلاشی پر وہ ہمت ہارتا ڈھے گیا تھا۔
عبیحہ کی چالاکی پر دنگ تو شارف ابدال بھی ہوئے۔کئی سراغ لگائے لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔
روح کے زخموں سے چور معیز رؤف نے اب بھی ہمت نہیں ہاری تھی۔اسے ہمت کرنی تھی اسے اپنی ماں کو تلاشنا تھا۔اسے احد کی حفاظت کرنی تھی۔ماہ تاب کو سہارا دینا تھا۔
پھر بے شک ان راہوں میں وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا تب بھی شاید اسے فرق نہیں پڑتا۔
ماہ تاب پر شارف ابدال کی ہروقت نظر تھی۔اس کے موبائل تک ہیک تھے۔
تین ماہ میں وہ کئی بار اپنی غلطیوں کی وجہ سے ٹارچر روم میں بھیجی گئی۔جہاں کی اندوہناکیاں تاریکیاں روح کو سنسانا دیتی تھی۔
وہ سسکتی تڑپتی چیختی ان دردناک لمحات کو سنتی بے ہوش ہوجاتی۔
شوگر کی وجہ سے حالت خراب ہوجاتی لیکن شارف ابدال اس کی سزا کم نہیں کرتے تھے۔
وہ ان راہوں کی عادی ہونے لگی تھی۔ماں باپ کی بے حسی دیکھ کر وہ بے جان روح کی مانند شارف ابدال کے ساتھ جانے لگی ۔
اسے محض چند لمحے ان سب سفاک حوس پرست مردوں کے درمیان بیٹھناہوتا تھا۔اپنے جسم کی نمائش کرنی ہوتی تھی۔شارف ابدال کی ڈیل چند سیکنڈ میں سائن ہوجاتی۔اور ایک نئی ترقی ان کی راہ کی مکین بن جاتی۔
وہ دنیا سے لاپرواہ ہوچکی تھی۔ ایک چابی والی گڑیا تھی جسے اردگرد سے کچھ مطلب نہیں تھا۔دنیا کہاں پہنچ چکی ہے دنیا میں کیا ہورہا ہے ایک بے خبری بھر زندگی تھی۔۔ہر روز محض یہی خیال ہوتا کہ آج اسے آدھی بازو پہن کر شارف ابدال کے ہمراہ جانا ہے آج گہرا گلا پہننا ہے۔آج پنڈلیوں کو نمایاں کرنے والا لباس پہننا ہے آج اتنے گھنٹے مردوں کے درمیان بیٹھ کر خود کو اذیت دینی ہے۔
یہ تھی ماہ تاب علوی کی زندگی۔جہاں شاید کوئی سکون کوئی راحت نہیں تھی۔ایک ناکردہ جرم کی پاداش میں چھ سال قطرہ قطرہ اذیت روح چھلنی کرتی چلی گئی تھی۔
جبکہ دوسری جانب شاید قسمت نے آسانیاں لکھ دی ۔شام علوی نے تو ایک عمر کٹھنائیاں پہلے ہی جھیل لی تھیں ۔کراچی آنا اس کے لیے نعمتِ خداوندی تھا۔
وہ ایک کیفے میں جاب کرنے لگا تھا۔کیفے سے فارغ ہونے کے بعد وہ ایک اکیڈمی میں پڑھانے لگا تھا۔
بابا الگ جاب کررہے تھے جبکہ عاہن کا یہاں کالج میں ایڈمیشن ہوچکا تھا۔کوچنگ جانا شام کو کراٹے کلب جانا غرض ہر طرح سے اس کی لائف کو مشکلات سے دور رکھا گیا تھا۔
لیکن وہ عاہن علوی تھا۔اردگرد کی وحشتناکیوں کو وہ بھانپنے لگا تھا۔حوس کے مارے درندے یہاں کراچی میں بھی اسے نظر آئے تھے۔
اور پھر ایک دن وہ ہوا جس کا گمان بھی کسی نے نہیں کیا تھا۔


کراچی میں ان دنوں سندھو بھائی نامی گینگ بہت مشہور تھا۔پولیس اس گینگ کی تلاش میں ہر جگہ خاک چھانتی پھر رہی تھی۔
اس گینگ کی سربراہ نے کئی لڑکے لڑکوں کی عزت کو روند کر انہیں موت کے گھاٹ اتارا تھا۔
میڈیا میں بڑھتی بے راہ روی بھی ان دنوں عام تھی۔ہم جنس پرستی ، کا بڑھتا رجحان ان دنوں انڈسٹری میں خفیہ طور پر دکھایا گیا۔کئی ایکٹر ڈائریکٹرز پروڈیوسرز کے چہرے بے نقاب ہونے لگے۔وہ تو تھا ہی اس دنیا کا دلدادہ۔ان خبروں سے اس کے ارادے ڈگمگانے لگے تھے۔لیکن برائی اچھائی ہر جگہ ہوتی ہے۔اگر اس جگمگاتی دنیا میں قدم رکھنا تھا تو اپنی حفاظت بھی یقینی بنانی تھی۔
وہ کوچنگ سے لوٹ رہا تھا۔جب ایک چوڑے چثے والے آدمی نے اس کی راہ روکی ۔
اس کی سرخ آنکھوں میں حوس کی ٹپکتی بوندیں اسے بھی لپیٹ میں لینے لگی۔
رات کا وقت تھا گلی سنسان تھی۔اردگرد نظر دوڑائی تو کوئی ذی روح نہیں تھا۔
عاہن علوی کا حلق خشک ہوا۔
وہ شخص اس کی جانب بڑھ رہا تھا جبکہ عاہن علوی کے قدم پیچھے کی جانب ہونے لگے۔
دور فضاؤں میں پولیس کے سائرن کی آواز گونج رہی تھی۔
یعنی پولیس اسی شخص کے تعاقب میں ہی تھی۔
وہ چاقو نکالے اس کی جانب بڑھا۔
عاہن نے کندھے پر لٹکے بیگ کو مضبوطی سے تھاما اور قدم پیچھےکی جانب لیے۔
“دیکھ مجھے میرا کام کرنے دے گا تو آزادی تجھے آسانی سے دوں گا۔پولیس سے جان بچاتا وہ شخص اس وقت بھی اپنی درندگی کو پورا کرنا چاہتا تھا۔
اس کے لہجے سے ٹپکتی خباثت نے عاہن علوی کے اعصاب سپاٹ کیے۔اگر وہ اس وقت گھبرا جاتا تو شاید تاعمر نہ اٹھ پاتا۔لیکن اسے آج ہمت نہیں ہارنی تھی۔
کچھ سال پہلے بھی وہ ہمت ہار گیا تھا۔لیکن اب نہیں۔
اس نے بیگ پوری قوت سے اس کے منہ پر مارا۔
چاقو زمین پر گرا۔پھرتی سے اس نے چاقو اٹھایا تھا۔
یکلخت وہ بھی ہڑبڑا کر جھپٹا کہ عاہن کا ہاتھ پھسلا۔چاقو سیدھا اس کی گردن کے آرپار ہوا۔
خون کا فوارہ اڑتا عاہن علوی کے چہرے پر آیا اور وہ شخص وہی زمین پر ڈھے گیا۔
پل بھر کا کام تھا جو دونوں نہیں سمجھ پائے۔عاہن علوی کا سانس پھولا جبکہ ہاتھوں میں مضبوطی ہنوز تھی۔ہاتھوں میں لرزاہٹ نہیں تھی۔
پولیس کی وردی میں موجود شخص بھی اس کی جرات دیکھ کر حواس باختہ ہوا۔
تم نے سندھو بھائی کو ماردیا۔؟” انسپکٹر متین کی آواز پر وہ مڑا اور ساکت نگاہ سے اسے دیکھا۔مقابل آدمی کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔
“جو ظلم کرے اسے ماردینا چاہیے۔اور تڑپا تڑپا کر ماردینا چاہیے۔لیکن یہ آسانی سے مرگیا۔”
اس کے لہجے کی مضبوطی اور چہرے کی سختی پر انسپکٹر بھی دنگ ہوا۔
تت تم کون ہو؟” انسپکٹر متین نے پسٹل اس پر تانی۔عاہن نے اطمینان سے ٹشو پاکٹ سے نکال کر خون صاف کیا۔دل کی دھڑکن حد درجہ بڑھی ہوئی تھی۔لیکن اعصاب پر پوری طرح کنٹرول تھا۔
“میں مستقبل کا اداکار ہوں۔اور تمہارا خبری ہوں۔”
واٹ ؟؟” کیا کہہ رہے ہو؟”
“ہاں اور یہ ان کاؤنٹر تم نے کیا ہے۔کیونکہ میں تو یہاں موجود ہی نہیں تھا۔ اور آج انکاؤنٹر گولی کے بجائے چاقو سے ہوگیا۔”
اس نے چاقو جھٹکے سے اس کی گردن سے نکال کر ٹشو سے پراطمینان طریقے سے صاف کیا۔
انسپکٹر متین کو اس کی حرکت پر ہلکی سے جھرجھری آئی ۔ٹشو خون سے بھر گیا تھا۔عاہن نے دوسرا ٹشو بیگ سے نکال کر وہ چاقو اچھی طرح صاف کیا ۔
یہ ہتھیار میرے حوالے کرو۔اور چلو تم میرے ساتھ۔”
کیا تم پروموشن نہیں چاہتے؟”
عاہن نے باضابطہ اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔عاہن کے لہجے میں پنپتی سختی اور دوٹوک انداز پر متین چپ رہ گیا تھا۔
“یہاں رشوت ، قتل وغارت عام ہے۔بھتہ خوری عام ہے۔
تم سالوں بھی محنت کرو تو بھی اوپر نہیں جاسکتے یہ جو موٹا انسان ایک ہی وار سے مرگیا ہے۔اس کے بدلے تم ایس پی بن سکتے ہو۔مزید ترقی تمہاری منتظر ہوگی۔”
پر تم یہ سب کیوں کررہے ہو؟”
” کیونکہ مجھے ایکٹر بننا ہے”
تو کیا ایکٹر بننے کے لیے تم اصلی زندگی میں قتل و غارت شروع کردو گے؟”
انسپکٹر متین کا پارہ بڑھنے لگا۔
“نہیں میں ایکٹر بھی بنوں گا لیکن مجھے مردِ مجاہد بھی بننا ہے۔تاکہ عاہن علوی ایک روشن ستارہ کہلایا جائے اور ایک گمنام ستارہ۔”
عاہن اس کے مقابل کھڑا ہوا۔
اس سانولے سے لمبے قد کاٹھ کے لڑکے کی آنکھوں میں جنون خیزی تھی۔کچھ کرنے کی لگن تھی۔
“سوچ لو میں قتل کروں گا فائدہ تمہارا ہوگا۔دشمنوں کو موت کے گھاٹ میں اتاروں گا نام تمہارا بلند ہوگا۔میرا کہیں بھی نام ونشان نہیں ہوگا۔اور جو قتل تم نہیں کرپاؤ گے۔اس پر گمنام ستارے کا ٹھپہ لگادینا۔
فائدہ ہی فائدہ۔”
وہ پلینر تھا۔پل بھر میں اس نے آئندہ زندگی کا لائحہ عمل طے کرلیا تھا۔
“لیکن پھر بھی تم نے جس دلیری سے قتل کیا ہے تمہیں پاکستانی ادارے ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔”
“مجھے صرف ایکٹنگ کرنی ہے ایکٹنگ میرا جنون ہے۔میں اپنا نام بنانا چاہتا ہوں۔لیکن میں ان ملک دشمنوں کا خاتمہ بھی چاہتا ہوں۔ہزاروں لوگ خفیہ گمنام زندگی گزار رہے ہیں وہ بغیر کسی مطلب بغیر کسی تمغے کے کام کررہے ہیں تو میں کیوں نہیں کرسکتا۔؟”
وہ اب تک ساکت پرسوچ کھڑا تھا۔
جلدی کرو وقت نہیں ہے۔” عاہن نے اس کا چہرہ جانچ کر ایک اور داؤ کھیلا۔
مستقبل کی ایک روشنی انسپکٹر متین کی آنکھوں کے گرد گھومی تو جیسے سب کچھ خوشگوار لگنے لگا۔
عاہن علوی وقت سے پہلے اصل زندگی کی اداکاری میں قدم رکھتا دشمنوں کے لیے ایک پھانسی کا پھندہ ثابت ہوا تھا۔


حال۔۔”
بیٹا سجا سنورا کرو۔وہ لاکھ تم سے بے اعتنائی برت دے لیکن جو جگہ شہرام کے دل میں تمہاری ہے وہ کسی کی نہیں ہوسکتی۔
چچی کی سرگوشیاں ذہن میں ادھم مچانے لگی تو وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی۔
ایک تنقیدی سی نگاہ اپنے گلابی چہرے پر ڈالی۔
وہ کل سے ناجانے کہاں گم تھا۔نہ ماہ تاب کی فکر تھی نہ وہ گھر آیا تھا۔
آج شدت سے شام علوی کی کمی محسوس ہورہی تھی۔
وہ یک ٹک شام کو سوچتی آئینہ دیکھتی رہی۔
نازک گلابی سے لب، سیاہ بھنورا سی دراز پلکوں والی آنکھیں، ستواں ناک ڈائی شدہ گولڈن بال جو اب مزید خوبصورت ہوچکے تھے۔
اس وقت عام سی کرتا شلوار میں ملبوس تھی۔
پہلے دل چاہا سب چھوڑ کر بیٹھ جائے وہ تو ایک نگاہ بھی نہیں ڈالتا تھا۔اس نے تو نکاح والے دن بھی آنکھ بھر کر نہیں دیکھا تھا پھر آج کیسے دیکھے گا۔
وہ نگاہ بھر کر اسے دیکھتی رہتی تھی۔لیکن اس کی نگاہ ادھوری ہوتی تھی۔جس میں بھی شکوہ واضح ہوتا تھا۔
گولڈن کلر کی شارٹ تکون فراک جس پر ہوا گولڈن ہی باریک ورک اس رنگ کی خوبصورتی میں سونے جیسا کام کررہا تھا۔
لباس لے کر ڈریسنگ کی طرف بڑھی۔کچھ دیر میں وہ لباس تن پر سج کر مزید خوبصورت لگا تھا۔
آنکھوں کی ابھرتی سطح پر گولڈن رنگ بکھرا کر باریک لائنر سے آنکھیں مزید قاتلانہ بناتی آج شاید شام علوی کو چاروں شانے چت کردینے والی تھی۔
لپ سٹک کو تلاش کرتے ہاتھ کانپے۔وہ لمحات یاد آئے جو ان چھ سالوں میں بھگتے تھے۔ یکدم ساری تیاری کا جوش ختم ہوا اور اذیت نے اردگرد ڈیرا ڈالا۔
اس نے ڈریسنگ کے آئینے میں ایک بار پھر اپنا عکس دیکھا ۔ایسے لگا جیسے شارف ابدال موجود ہو۔اور اسے گہری تپش زدہ نگاہوں سے گھور رہا ہو۔
خوف سے رنگت سفید پڑ گئی۔جبکہ ہاتھوں میں لرزاہٹ بڑھنے لگی۔
وہ سب کچھ اسی طرح چھوڑے بیڈ پر آکر سمٹ گئی۔ گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ لیے۔
لمحات آنکھوں میں رقص کرنے لگے جب شارف ابدال اسے تیار کروا کر مختلف مردوں کے درمیان لے جاتا تھا۔اس کا تعارف ایک مسٹریس کے طور پر کروایا جاتا تھا۔
ایک طویل تر عرصہ اس نے یہ تکلیف سہی تھی۔کئی زخم تو اس کے جسم پر اپنے دئیے گئے تھے۔اگر شام علوی کبھی وہ زخم دیکھ لیتا تو کیا اس پر اعتبار کرتا۔
سلیولیس لباس وہ بسا اوقات پہنتی آئی تھی۔لیکن جب وہ زخم نمایاں ہوتے تو انہیں میک اپ کی آڑ میں چھپایا جاتا۔
اس کے جسم پر اس سے زیادہ شارف ابدال کا حق تھا۔اس کی ایک کھرونچ کے بدلے اسے دردناک ماحول میں رکھا جاتا تھا۔جہاں کی غلاظت اس کے دماغ کو جنجھنا دیتی تھی۔
اس کا سر وحشت ناک چیخوں سے پھٹنے والا ہوجاتا لیکن اسے آزادی نصیب نہیں ہوتی تھی۔شارف ابدال نے اسے جسمانی اذیت کے بجائے ذہنی اذیت سے نوازا تھا۔
اس وقت بھی وہ مناظر نگاہ میں رقص کرنے لگے جب وہ ہذیاتی ہوئی اپنے ہاتھ پاؤں مسلنے لگی۔
کمرے کا دروازہ کھلا تو وہ چیختی اپنی جگہ سے اچھلی جبکہ شام علوی کی نگاہ آج سرخ تھی۔چہرے پر حزن و ملال تھا۔
وہ تیز قدموں سے ماہ کی جانب آیا۔
جاناں۔۔” میری جاناں،، شام کی جاناں!! میں ہوں جاناں ،، تمہارا شام ڈرو مت۔”
اسے بازوؤں سے تھام کر سامنے کھڑا کیا اور سینے سے لگایا۔اس کے لفظوں میں بے قراری تھی۔
ایک بے اختیاری تھی۔وہ وقت حالات سب کچھ بھول گیا تھا۔
“تم چاہتی تھی ناں میں دل سے جاناں کہوں تو سنو تم میری جاناں ہو۔تم صرف میری جاناں ہو۔تم ہو تو شام ہے تم نہیں تو شام بھی نہیں۔
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ اتنی محبت کہ شاید ہی کسی نے کی ہو۔تم میری روح سکون دل دھڑکن ازل ابد سب ہو۔تم میری جانان ہو جس کے قرب کے لیے میں نے ایک طویل عرصہ سفر کیا ہے۔تم میری نس نس میں ہو۔میری دھڑکن میں ہو میری آتی جاتی سانس کی روانی ہو۔تمہارا وجود میرا سکون ہے۔تمہارا اس کمرے میں ہونا میرے لیے میرا اطمینان ہو۔”
بنا اسے سنبھلنے کا موقع دئیے اس نے شدت سے ماہ تاب علوی کو سینے میں سمولیا۔
سر پر لب جمائے وہ لفظوں کی مٹھاس بخشنے لگا۔
ماہ تاب علوی کے سارے وہم و ابہام ہوا میں معلق ہوکر کہیں گم ہوگئے جبکہ وہ اس کے سینے سے لگی پرسکون ہوگئی۔
ماہ تاب !! شام نے بے قراری سے اس کا چہرہ تھاما وہ بوجھل آنکھوں سے اسے دیکھتی لڑکھڑائی جب شام نے کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سہارا دیا۔
شام !! میں بری نہیں تھی شام!!میں غلط نہیں تھی میں پاپا کو نہیں جھٹلا سکتی تھی وہ میرے پاپا تھے۔لیکن میں نے تمہیں دھتکار دیا۔تمہاری ہر بات کی نفی کردی۔
“نہیں جاناں۔۔!! میں غلط تھا میں گناہ گار ہوں تمہیں درندوں کے درمیان پھینک آیا اپنی زندگی کو ہی عذاب راستوں میں دھکیل دیا۔”
اس کی روشن پیشانی شدت سے چومتے وہ سسکا تھا۔
زوار علوی کا انکشاف جو انہوں نے آج کیا تھا وہ شام علوی کی جان کو ایک گہرا جھٹکا دے گیا۔
وہ غلیظ سفاک درندہ نما شیطان اس کی عزت اس کی زندگی کو رسوا کرنے والا تھا۔اگر وہ اس حد تک کرنے کی ٹھان چکا تھا تو پچھلے چند سالوں میں ماہ تاب نے ناجانے کیا کیا جھیلا ہوگا ۔وہ جب اسے ملی تھی تب بھی الجھی سی تھی لیکن وہ اپنی غلط فہمی میں اپنی نگاہ کے فریب میں اس کا اجلا چہرہ نہیں جانچ پایا ۔
وہ کل سے ماہ تاب کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔اور آج جب وہ زوار علوی سے ملنے گیا جو انکشاف انہوں نے کیا تھا وہ الٹے پاؤں وہاں سے لوٹ آیا۔دل بے قرار تھا ۔
وہ جلد از جلد ماہ تاب کی جانب بڑھنا چاہتا تھا۔لیکن کمرے میں آتے ہی اس کی الجھی بکھری حالت اسے تڑپا گئی تھی۔دل سسک اٹھا تھا۔
آج شام علوی کی بردباری بے قراری میں بدلی تھی۔
وہ دیوانہ بنا اسے چھو رہا تھا۔اس کے ہاتھوں کے لمس پر وہ مہکتی سسکی۔
شام۔۔!!
شام کی جاناں شام کی زندگی شام کے جینے کی وجہ”۔
اس کے نرم گلابی گال چھو کر اس نے چھ سال کا ازالہ کیا۔
اس کے گلابی لب جو سرخی سے معدوم تھے شام علوی کے ہاتھوں کے لمس پر دہکتے گلاب رنگ اوڑھنے لگے۔
وہ بوکھلائی سے سمٹتی اس کے سینے میں پناہ ڈھونڈنے لگی۔لیکن وہ شخص آج نظر نظر میسر چاہتا تھا۔
وہ اس کا قربت میں ڈھلا گلابی چہرہ آج جذب کرلینا چاہتا تھا۔
اس کا ادھورا سا سنگھار تو شام علوی کے نرمی پرشدت لمس نے مکمل کردیا تھا۔وہ سہاگن بنتی مہک اٹھی۔
“جس شخص نے میری جاناں کو مجھ سے دور کیا ہے جس شخص نے میری جاناں کی روح پر وار کیے ہیں اسی شخص کو شام علوی اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتارے گا۔اس کی زندگی کو دردناک عذابوں میں دھکیل دے گا۔کل اس کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔وہ تڑپے گا۔”
اس کے لہجے میں پنپتی جنونیت سے وہ سہم گئی۔بازو سختی سے اس کے گرد باندھ لیے۔
“تم پاک ہو تم پاکیزہ ہو۔تم میری ہو تم میرے لیے شفاف آئینے کی طرح ہو تم میرے لیے ایسے چاند کی مانند ہو جس میں کوئی داغ نہیں اگر کوئی داغ تھا تو وہ میرے ساتھ جڑ کر دھل گیا ہے۔”وہ اس کا ڈر سمجھ گیا تھا۔
اس کی دونوں آنکھوں پر بوسوں کی بوچھاڑ پر وہ سسکتی روئی تھی۔
آج اس کے لمس میں مکمل جاذبیت تھی پرسکونیت تھی کوئی شکوہ نہیں تھا۔
“شام کو معاف کردو تم میری جاناں تھی لیکن میں تمہارا شام کبھی نہیں بن پایا۔تمہاری ایک غلط فہمی پر تمہیں لمبے عرصے کی سزا دے آیا۔”
وہ پیشانی جوڑے سسک اٹھا۔ہاتھ اب چہرے کے گرد حائل تھے۔
“مجھے اپنی پناہوں میں چھپالیں شام!! مجھے شارف ابدال کے خوف سے آزادی دلوادیں مجھے سمیٹ لیں شام۔۔۔جاناں کی محبت سچی تھی لیکن اعتبار کچا تھا۔
مجھے ایک بار جاناں کہیں ،بار بار کہتے رہیں۔۔میں آج جاناں کا ورد سننا چاہتی ہوں۔میں یہ سکون چاہتی ہوں کہ جاناں کی زندگی میں کوئی درد کوئی تکلیف نہیں صرف اس کا شام علوی ہے۔کوئی شہرام بھی نہیں ہے۔
اس نے اطمینان سے سینے پر سر رکھ دیا جبکہ شام علوی نے اس کے گرد گھیرا ہلکا سا تنگ کیا۔
میں ہر لمحہ جاناں کہوں گا ہر وقت جاناں کا ورد ہوگا۔تمہاری سماعت دل دماغ روح ایک لفظ کی گردانی سے مغرور ہوجائے گا۔تم میرے حصار میں نکھرتی معتبر ہوجاؤ گی۔لیکن میری جاناں کو مجھ سے دور جانے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔۔ماہ تاب علوی میری جاناں کو اب بالکل بھی اذیت مت دینا۔”
“بالکل بھی نہیں دوں گی شام قریب تر رہے گا تو جاناں جی اٹھے گی۔جاناں صندل ہوجائے گی۔جاناں پاکیزہ ہوجائے گی۔۔وہ گلاب کے عرق کی مانند شفاف خوشبودار سی ہوجائے گی۔”
اس کی سرگوشیاں بوجھل ہونے لگی تھی جبکہ شام علوی نرمی میں ڈھل کر خماری کی جانب گامزن ہوا۔خمار پن میں اسے دیوانہ وار پکار کر اس نے آج ماہ تاب علوی کو صندل گلاب سا عطرتی بدن کردیا تھا۔
اس کی میٹھی سی گردان سنتی وہ کبھی مسکرادیتی کبھی شرما جاتی تو کبھی اس کے حصار میں مقید ہوتی آنکھیں موند لیتی۔
غرض یہ مبارک رات شام علوی کی ذات کےلیے انوکھے سکون کا باعث تھی۔اور ماہ تاب کا سکون جیسے اس شخص میں قید تھا۔
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
مَیں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے
اِس قدر ٹوٹ کے چاہو، مجھے پاگل کردو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو
اس کے سائے میں مرے خواب دھک اُٹھیں گے
میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو
دُھوپ ہی دُھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر
اِس قدر برسو میری رُوح میں جَل تھَل کر دو
جیسے صحرائوں میں ہر شام ہوا چلتی ہے
اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے تھَل کر دو
تم چھپا لو مرا دِل اوٹ میں اپنے دِل کی
اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو
مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چُرائو مُجھ سے
اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حَل کر دو
اپنے غم سے کہو ہر وقت مرے ساتھ رہے
ایک احسان کرو اس کو مُسلسل کر دو
مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں
اور مری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو
(وصی شاہ)


جاری ہے