Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
اس کے حصار میں سمٹی وہ گھبرائی سی اردگرد دیکھتی راہِ فرار چاہ رہی تھی۔
یکلخت وہ بازو کے نیچے سے نکلتی باہر کی جانب بھاگی۔
ڈوپٹہ شانوں پر پھسلتا لمبے ڈائی سنہری بال نمایاں کرگیا۔
عاہن نے لمبے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر اس کی کوشش کو ناکام بنایا اور اپنی جانب کھینچا۔
“عاہن علوی کا حصار ،نگاہ اتنی کمزور نہیں ہے۔کہ کوئی پلک جھپکتے فرار ہوجائے۔”
عاہن چھوڑو۔۔” بال گرفت میں ہونے کی وجہ گردن ہلکی سی پیچھے ڈھلکی۔
عاہن نے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر ناک کے قریب کیا۔سوندھی سی خوشبو نتھنوں سے ٹکراتے دل کو کئی میٹھی راہوں کی جانب بھٹکانے لگی۔
نم ہتھیلیوں سے وہ وہاں سے بھاگنے کے درپر تھی۔
“عاہن چھوڑو مجھے بھوک لگی ہے۔”
خشک لبوں سے و بولتی ہلکا سا آگے ہوئی جب عاہن کی سرد سرگوشی نے ساری دلفریبیوں کو تلخیوں میں بدل دیا۔
اسد کے ساتھ کھانا نہیں کھایا۔”
قریب آکر گردن کے بازو لپیٹے اس نے مشل کی ہر کوشش ناکام بنادی۔
گردن پر دباؤ نے وجود میں سنسناہٹ دوڑی۔
وہ ساکت کھڑی رہی۔جبکہ آنکھوں میں غیر یقینی تھی۔
اس کی خاموشی پر عاہن نے لب بھینچ کر خود کو کوسا۔
“فکر مت کرو میں کوئی شکی مزاج انسان نہیں ہوں”۔اس کی سرسراتی آواز پر اس نے پلکیں جھپکی۔
پھر یہ سب کہنے کا مقصد۔۔”
“کوئی بھی شخص اپنی بیوی کے ایکس کو برداشت نہیں کرتا اور میرا دل چاہ رہا تھا۔تمہارے اس ایکس کا گلہ دبا کر اسے تڑپا تڑپا کرماردوں۔جیسے زاہد بٹ کو مارا۔لیکن اسے تمہارے صدقے معاف کردیا۔”
وہ میرا ایکس نہیں ہے۔”
“لیکن وہ تو یہی سمجھتا ہے”۔
“تو سمجھنے دو اب تم ہی ہو میری زندگی میں ، میں لاکھ گنہگار لاکھ بری ہوسکتی ہوں لیکن میں اس رشتے میں دیانتدار ہوں۔”
“اپنی ذات کی صفائیاں دینے والا شخص دل میں کچھ راز چھپائے ہوتا ہے۔”
میں نے کوئی راز نہیں چھپایا۔”
لیکن تمہارے ایکس نے چھپایا ہے۔خیر وہ راز بھی سامنے آہی جائے گا۔”
عاہن سٹاپ اٹ “آزاد کرو مجھے۔۔”
اور اگر نہ کروں تو۔”وہ کان کی جانب جھکا۔
تم مجھے تنگ کررہے ہو۔کپکپاتے لبوں پر قابو پائے وہ بمشکل بولی۔
میں تو تاعمر تمہیں تنگ کرنا چاہتا ہوں۔” اس نے کان کی لو کو چھولیا۔
“لیکن میں تمہارے اس تنگ حصار میں نہیں رہنا چاہتی”۔وہ جھٹپٹائی تھی۔
“رات کا فسانہ تو کچھ اور کہہ رہا تھا۔دن کے راز کچھ اور کہانی گھڑ رہے ہیں آخر یہ ماجرا کیا ہے؟مجھے تو کھلی منافقت لگتی ہے۔”
مشل کانوں کی لوؤں تک سرخ پڑی۔جبکہ اس کی بے باکی پر دل شدت سے دھڑکا۔
عاہن۔۔” وہ محض یہی کہہ پائی۔جبکہ اس کی گہرے سے طنز پر مشل کی آنکھ نم ہوئی۔
عاہن کو ایک بار پھر اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہوا۔۔پل میں اس کا رخ موڑ کر سامنے کیا اور اس ایک آنسو انگوٹھے سے رگڑا اور دونوں ابرو کے درمیان لب رکھ کر پیشانی سے ماتھا جوڑ لیا۔
“تم آنسو مت بہایا کرو۔میں تم سے لاکھ نفرت برت لوں لیکن تم مجھے عزیز ہوتی جارہی ہو۔تمہاری کی گئی سب زیادتیوں کے باوجود بھی میرا دل تمہارے معاملے میں بے اختیار ہوگیا ہے۔میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا لیکن یہ گستاخی مجھ سے ہوچکی ہے۔تمہاری محبت چند عرصے میں ہی رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگی ہے۔عنقریب تم میرا جنون نہ بن جاؤ۔”
مشل نے پیشانی جدا کرکے سینے پر ٹکائی۔
پر مجھے تم اب بھی اچھے نہیں لگتے۔”
ایک زور دار پنچ اس نے دل پر مارا تو وہ مدھم سا قہقہ لگاگیا۔
اس کی نخوت بھری آواز میں کی گئی محبت کی نفی بھی عاہن کو بھارہی تھی۔
میں تمہیں اچھا پیارا تمہارا سب لگوں گا۔ناشتہ کرتے ہیں پھر تمہارے ایکس کا گفٹ بھی دیکھیں گے ناجانے کونسا دل جلانے والا تحفہ لایا ہوگا۔
اسے سامنے کیے وہ آنکھوں میں اپنا عکس سموتے بولا۔
مشل نے ایک اور پنچ سینے پر مارا تو عاہن نے کلائی جکڑ کر اسے گھورا۔
مشل نے کندھے اچکا کر چہرے پر معصومیت طاری کی تھی۔
ماضی۔۔”
معیز ہاسٹل میں مقیم ہوا تو جیسے اسے کھلی فضا میں سانس لینے کا روزن کھل گیا۔
شارف ابدال اسکے ہر معاملے کی خبر رکھتے تھے۔
زوار علوی نئے گھر میں شفٹ ہوئے تو شارف ابدال کے لیے بھی در واہ ہوگئے۔
ان کا پہلا شکار عبیحہ کے بعد شبانہ بیگم تھی۔
عبیحہ مراد کو شارف ابدال کی وجاہت نے مسمرائز کیا تھا جبکہ شبانہ بیگم کو ان کی دولت نے متاثر کیا۔
ماہ تاب اس سب سے گھبرانے لگی تھی۔
علیہ بیگم نے خفیہ طریقے سے پولیس سے رابطہ کیا تبھی شارف ابدال کو واپس فرانس جانا پڑا۔جس کے نتیجے میں ان کا تیسرا شکار ماہ تاب علوی ہاتھ سے مچھلی کی طرح پھسل گئی۔
وہاں کے معاملات کو انہوں نے مائیکل کی مدد سے حل کیا اور علیہ بیگم کو وہ اپنے ساتھ لے آئے۔
معیز ان دنوں ہاسٹل میں ہی مقیم تھا۔
معیز سے ان کو اتنی بہادری کی امید نہیں تھی۔
وہ علیہ بیگم کو تہہ خانے میں قید کرتے علوی ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے۔
اس تہہ خانے کا راز شارف کے علاوہ اشرف کو پتہ تھا۔
معیز رؤف اس گھر میں بہت کم رہا تھا۔تبھی لاعلمی میں رہا۔
“شارف!! مجھے معاف کردو۔ماہ تاب نے بہت غلط کیا۔میں جانتا ہوں تمہیں بہت برا لگاہوگا۔لیکن معیز سے مجھے یہ امید نہیں تھے”۔
شارف ابدال کے دل و دماغ میں جکڑ چل رہے تھے۔جبکہ چہرہ ہنوز سپاٹ تھا۔
نکاح نامہ کہاں ہے؟” شارف کا پہلا سوال ہی زوار علوی نے ماتھا مسلا۔
وہ میں نے پھاڑ دیا تھا۔
“واٹ!! آر یو میڈ کہ تم نے نکاح نامہ پھاڑ دیا۔وہ کاپی تھا اصلی نکاح نامہ معیز کے پاس محفوظ ہے۔
شارف پلیز مجھے معاف کردو۔ماہ تاب اب سے تمہاری امانت ہے۔میں جانتا ہوں تمہارے مستقبل کے حوالے سے کچھ خواب تھے۔میں بلکہ یہی چاہتا تھا کہ تمہارا اور ماہ تاب کا نکاح ہو تاکہ ہمارا تعلق اور مضبوط ہوجائے۔لیکن۔۔”
“وہ اب میری بیٹیوں جیسی ہے زوار۔ایسا دوبارہ مت سوچنا۔”
ان کے دو ٹوک انداز پر زوار نے تعجب سے انہیں دیکھا۔
وہ جانتے تھے مقابل موجود شخص کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔داؤ پیچ کھیلنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔
تو کیا تم رخصتی چاہتے ہو۔؟”
“لیکن میں رخصتی نہیں چاہتی۔یہ نکاح میری مرضی سے ہوا تھا تو رخصتی بھی میری مرضی سے ہوگی”
۔
ماہ تاب کی آواز سن کر زوار طیش سے مڑے جبکہ شارف ابدال نے اس کی اکڑ کو بغور جانچا۔
یہ ان کی توقع کے خلاف تھا۔
“آپ نے میری دوست کو برباد کردیا۔آپ کو شرم نہیں آتی آپ درندے ہیں۔آپ کی وجہ سے ہماری فیملی تباہ کاریوں کی جانب بڑھ گئی
” وہ شارف پر جھپٹی جب زوار علوی نے اسے کھینچ کر دور کیا۔
زمین بوس ہوئی وہ بمشکل اپنے حواس قائم رکھ پائی۔
زوار !! “بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔یہ تو نرم و نازک سی ہوتی ہیں۔”
انہوں نے آگے بڑھ کر ماہ تاب کو دونوں کندھوں سے تھام کر کھڑا کیا۔
ان کے لمس پر تڑپتی وہ دور ہوئی جس کے چکر میں شارف کے ہاتھ جھٹک گئے۔
وہ لب بھینچتے بمشکل ضبط کرپائے تھے۔
“معیز کو بلاتا ہوں وہی آپ سے ڈیل کرے گا۔”
کیسی ڈیل؟؟” میں کوئی گری پڑی شے نہیں ہوں میرا باپ اپنی عزت کا سودا کرسکتا ہے لیکن مجھ میں ابھی تھوڑی سی غیرت باقی ہے۔
معیز سے نکاح میری مرضی سے ہوا ہے تو باقی فیصلے بھی میری مرضی سے ہوگے۔”
زوار علوی نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔جبکہ شارف ابدال نے گہرا سانس کھینچا۔
اتنی بدلحاظ اتنی بدتمیزی کہاں سے سیکھی تم نے؟”
زوار کنٹرول کرو۔” شارف آگے آئے۔
“نہیں شارف۔!! اس نے تم سے بھی بدتمیزی کی ۔ہر ایک کے ساتھ میں برداشت کرسکتا ہوں تمہارے ساتھ نہیں کرسکتا۔جانتی ہو شارف کون ہے؟ ہمیں زمین سے آسمان کی بلندیوں پر لانےوالا شارف ابدال ہے۔اور تم اسی کے ساتھ مغلطات بک رہی ہو۔”
شبنم بیگم بھی شور سن کر وہاں آئی۔ماہ تاب کی چند دن کی بڑھتی بدتمیزی سے وہ بھی تنگ آچکی تھیں۔
شارف !!” آج سے ماہ تاب کی زمہ داری تمہاری ہوئی۔تم اس کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرو۔میں اس گستاخ لڑکی سے اب مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔
اس کی رخصتی کا فیصلہ بھی تمہارا ہوگا۔”
ماہ تاب کو لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی۔اس کا باپ کیا اتنا سفاک تھا۔اتنا دولت کی حوس میں پاگل تھا کہ وہ بھول گیا تھا کہ وہ اپنی ہی بیٹی کو کسی غیر کے ہاتھ میں تھمارہا ہے۔
“مجھے امید نہیں تھی پاپا کہ آپ اس حد تک گریں گے۔آپ ایک غیر شخص کے حوالے کرنے میں بھی دریغ نہیں کریں گے۔ٹھیک ہے آپ میری ذمہ داری سے بری الزمہ ہوتے ہیں تو میں بھی آج سے آپ کی بیٹی نہیں رہی۔ماہ تاب علوی یتیم ہوگئی۔ماہ تاب کا کوئی سرپرست نہیں ہے۔اور تم شارف ابدال ایک دن تمہارا چہرہ میں ضرور سب کے سامنے لا کر رہوں گی۔
اور جس دن تمہار چہرہ سب کے سامنے آیا میرا یہ نام نہاد باپ بھی نظر ملانے کے قابل نہیں رہے گا۔”
تن فن کرتی وہ اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی۔آنسو گال بھگوتے چلے گئے جبکہ وہ کاپنتے بدن سے زمین بوس ہوتی چیخی تھی۔
شارف پلیز!!” مجھ سے نکاح کرلیں۔پلیز شارف آپ کو خدا کا واسطہ ہے میں آپ سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کروں گی۔”
آج پھر عبیحہ مراد شارف ابدال کے درپر آئی تھی۔
وہ شاداب سی عبیحہ مراد اس وقت کمزور ناتواں سی ملگجے حلیے میں تھی۔
“کم آن عبیحہ!! میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا میں ایسے نکاح وغیرہ کے جنجھٹ میں نہیں پھنستا۔تم خود میری جانب بڑھی تھی اگر میں بڑھتا تو الگ بات تھی۔
تم لائف انجوائے کرو۔کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
بلکہ آؤ میں تمہیں لائف کی نئے سکون سے متعارف کرواتا ہوں۔”
اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے وہ مزید غلاظت پر آمادہ تھے۔
شارف میں نے آپ سے محبت کی تھی۔وہ پژمزدہ سی چیخی۔
“بند کمروں کی محبت کبھی محبت نہیں ہوتی وہ صرف تسکین ہوتی ہے جو تم چاہتی تھی۔اور میں اس تسکین کی وجہ بن گیا۔”
کمر میں ہاتھ ڈالے انہوں نے عبیحہ مراد کو اپنے قریب کیا تو وہ سسکتی ہاتھ جوڑتی بھکاری کی مانند تھی۔
“شارف بس آپ نکاح نامے پر سائن کردیں خدارا میں آپ کو کبھی نہیں کہوں گی اس بچے کی ذمہ دار اٹھائیں۔پلیز میری عزت بچالیں میرا باپ مرجائے گا۔”
وہ سسکتی گڑگڑائی لیکن مقابل شارف ابدال تھا۔جس کی سفاکیت سے شیطان بھی پناہ مانگتا تھا۔
“میں وہ سائن بھی نہیں کرنا چاہتا۔کیونکہ میں کسی کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتا۔آگے جاکر بہت مسلے ہوتے ہیں۔جو میں ہرگز برداشت نہیں کرسکتا فلحال تو مجھے تمہاری دوست کی اکڑ توڑنی ہے۔جو اس نے میرا گریبان پکڑ کر دکھائی ہے۔اب میں تمہاری کوئی بکواس نہیں سننا چاہتا۔”
اس کے چہرے پر جھکے اسے ایک تباہی کی جانب گامزن کررہے تھے۔آج اس تباہی میں وہ ان کی ہمقدم ہرگز نہیں تھی۔بلکہ آج اس تباہی میں چاہتی تھی کہ وہ وہیں مرجائے۔
لیکن کچھ تباہیاں انسان کو تاعمر برداشت کرنی پڑتی ہے۔ان تباہیوں کے گہرے آثار ہر قدم پر آپ کو کانٹوں کی مانند جسم کو لہو لہو کرنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔
معیز!! تم نے نکاح کرکے اچھا نہیں کیا۔”
شارف ابدال اس وقت سربراہی کرسی پر براجمان تھے جبکہ وہ آج ہی ہاسٹل سے لوٹا تھا۔
آپ نے ایک عمر میرے ساتھ اچھا نہیں کیا اور آج میں نے ایک کام آپ کے خلاف کرلیاتو کونسی بڑی بات ہے۔”
لہجے میں پنپتی بغاوت کی بو پر شارف ابدال نے ابرو اچکائی۔
اتنی ہمت !!! وہ قدم قدم چلتے قریب آئے۔معیز کا دل خوف سے لرزا۔لیکن آج اسے ایک زندگی بچانے کے لیے اپنی قربانی بھی دینی پڑتی تو وہ گریز نہیں کرتا۔وہ اس کے مسیحا کی محبت تھی۔وہ کیسے اسے تکلیف دے سکتا تھا۔
تمہاری ماں جانتے ہو کس اذیت میں ہے؟” انہوں نے اپنا موبائل معیز کے سامنے کیا۔
معیز رؤف کی سانس گویا کسی نے دبوچی تھی۔سامنے اس کی ماں نیم اندھیر کمرے میں سسکتی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی۔
تین مرد ان کے گرد موجودتھے۔
ماما۔۔۔!! وہ تڑپتا موبائل تھامنے کے لیے جھپٹا لیکن شارف ابدال نے موبائل آف کیا۔
وہ ساکت رہ گیا تھا۔ایسا تو کبھی نہیں سوچا تھا۔کہ وہ اس حد تک گرجائے گیں۔
شارف ان سب میں ماما کا کیا قصور ہے؟ “
“قصور تو سب اس کا ہے۔اس کی وجہ سے میں واپس فرانس گیا اور یہاں تم نے نیا تماشہ کھڑا کردیا۔
سزا تو سب ہی بھگتتے ہیں”۔
“شارف میری ماما کو چھوڑدیں۔پلیز انہیں اذیت مت دیں”۔وہ گھٹنوں کے بل کرتا سسکا۔
“مجھ سے دھوکہ دہی کرنے والوں کو میں نہایت بھیانک سزا دیتا ہوں انہیں تڑپا تڑپا کر مارتا ہوں۔لیکن تم تو میرے بھتیجے پلس بیٹے ہو۔تمہیں کیسے تڑپاؤں”۔
اسے کھڑا کیے وہ ازلی نرمی سے بولے۔لیکن اس نرمی بھی ایک سرد پن حائل تھا۔
“ماہ تاب کو طلاق دو اور اسےمیرے حوالے کردو۔”
نہیں میں یہ نہیں کروں گا۔کبھی نہیں کروں گا۔وہ اٹھ کر ان کے مقابل ہوا۔
اتنی محبت کرنے لگے ہو اس لڑکی سے؟” شارف ابدال نے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہلکا سا دباؤ ڈالا۔
“میں اسے آپ جیسے درندے کے حوالے کبھی نہیں کروں گا۔آپ بے شک میری جان بھی لے لیں میں آخری وقت تک اس کی حفاظت کروں گا۔
اور جہاں تک ماما کی بات ہے انہیں بھی آپ سے آزاد کروا کر رہوں گا۔
اگر یہاں آپ کی پہچان ہے تو کچھ لوگ مجھے بھی جانتے ہیں۔میری ایک آپ کے خلاف گواہی آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کرسکتی ہے۔ میں آپ کے سارے خفیہ راز زوار علوی کو بتادوں گا۔”
وہ مضبوط انداز میں ان کی آنکھوں میں دیکھتے دھاڑا۔
تم یہاں سے نکلو گے تو کچھ کرو گے۔” اشرف اسے لے جاؤ یہاں سے۔۔”
اشرف تو حکم کا پابند تھا۔
چھوڑو مجھے۔۔چھوڑو۔۔گھٹیا انسان دو لوگوں نے اسے جکڑا تھا۔
میرے سامنے جو بھی کھڑے ہونے کی کوشش کرتا ہے۔میں اسے ایسے ہی تڑپاتا ہوں۔
کمرے میں قید معیز کی چیخیں گونج رہی تھیں۔اسے بری طرح زودوکوب کیا جارہا تھا۔اسے تڑپایا جارہا تھا۔جبکہ شارف ابدال وہ چیخیں سنتے محض مسکرارہے تھے۔ان چیخوں میں ان کا گہرا سکون چھپا تھا۔
درد کا سلسلہ جیسے شروع ہوچلا تھا۔لیکن اس سب میں شاید قسمت نے مشل کو دور رکھا۔ وہ اپنی دنیا میں مگن تھی۔شارف ابدال نے اس کے ساتھ نہایت دوستانہ مشفقانہ رویہ رکھا تھا۔وہ اسے بہت کم ہاتھ لگاتے تھے۔
ماہ تاب کو وہ مختلف پارٹیز میں لے جانے لگے۔مختلف لوگوں سے ملوانے لگے۔
پہلی مرتبہ وہ جب ان کے ساتھ گئی تو اس نے کافی واویلہ مچایا۔
شارف ابدال نے اسے ساتویں منزل پر لاکر پھینکا۔وہاں موجود درندوں کی جیسے زبانیں باہر لٹک گئی۔
اتنی مکمل خوبصورتی اور نازک بدن اپسرا شاید پہلی بار سامنے تھی۔
اسے نوچنے کے لیے وہ بے تاب تھے۔جبکہ ماہ تاب وہ منظر دیکھتی مرجانے کو ہوئی۔
یہ کیسی اندوہناک دنیا تھی یہ کیسی غلاظت تھی۔اس اسلامی ملک میں یہ گندگی کیسے؟”
وہ ابکائیاں لیتی بمشکل خود کو بچانے کی تگ و دو میں تھی۔
ایک شخص نے اسے تھامنا چاہا جب اس نے شدت سے اس کی بازو پر کاٹا۔
اس بھاری بھرکم شخص کا بھاری ہاتھ ماہ تاب پر پڑا اسے لگا جیسے جبڑا ٹوٹ گیا ہو۔
شارف ابدال نے اسے بازو سے جکڑ کر سامنے کھڑا کیا۔
جبکہ وہ سوجی آنکھوں پھٹے ہونٹ کے ساتھ بمشکل حواس قائم رکھ پائی۔کیا زندگی اتنی دردناک ہوتی ہے۔
“میں تمہیں کبھی ان کے حوالے نہیں کروں گا کیونکہ میں تمہاری خوبصورتی تباہ نہیں کرنا چاہتا۔تم میری ڈائمنڈ کی ہو۔جو مجھے آسمان کی بلندیوں پر پہنچائے گی۔لیکن اگر تم نے مجھ سے دھوکے بازی کی یا پھر کچھ ایسا ویسا کیا تو میں مشل کو ان درندوں کے حوالے کروں گا۔اور تمہارے سامنے وہ اس کی حالت بگاڑ دیں گے۔
اگر اپنی بہن کو بچانا ہے تو تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا۔تمہاری عزت محفوظ رہے گی اگر تم میرے ساتھ تعاون کرو گی۔”
شارف کا رنیگتا ہاتھ ماہ تاب کے رونگھٹے کھڑا کررہا تھا۔وہ اس لمس پر مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔
عزت لٹنے سے زیادہ تو یہ سب کھلی آنکھوں سے دیکھنا تکلیف دہ تھا۔یہ اذیت تو اب اسے روز دیکھنی تھی۔
اور یہ سوچ تو اسے مارنے کو تیار تھی کہ زوار علوی بھی اس حقیقت سے اگاہ ہے تو کیا اس نے اپنی بیٹی کو مکمل بیچ دیا۔کیا وہ اتنا درندہ تھا اتنا سفاک باپ تھا۔
وہ وہی ان کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔وہاں موجود گندگی نے ماہ تاب کے حواس چھین لیے تھے۔
حال”!!
اشرف کے موبائل پر وہ کل سے خوار ہورہا تھا۔کئی میسجز وہ چیک کرچکا تھا۔
لیکن علیہ بیگم کو ڈھونڈنے کا کوئی سرا نہیں ملا۔
ایک اسی موبائل کے زریعے ہی تو وہ ان تک پہنچ سکتا تھا۔
ناجانے اشرف کس حال میں ہوگا۔اگر اس نے کسی طرح شارف سے رابطہ کرلیا تو ناجانے کیا ہوگا۔
پرسوچ سا وہ پیشانی پر ہاتھ کی ٹھوکر مار رہا تھا۔
موبائل پر رنگ ہوئی تو وہ چونک گیا۔
سامنے ہی شارف ابدال کا نمبر تھا۔
معیز کے چہرےپر ایک سایہ آکر گزرا۔گہرا سانس لے کر اس نے کال پک کی۔
اشرف۔۔” کل سے کہاں ہوتم؟ علیہ کو کھانا کیوں نہیں دیا وہ وہاں تڑپ رہی ہے۔جانتے ہو اس کا زندہ رہنا کتنا ضروری ہے۔فوراً سے پہلے نیچے جاؤ اور اسے کھانا دو۔ جاؤ جلدی۔۔۔” وہ دھاڑتے معیز کو جیسے ایک نشانی فراہم کرگئے اسے لگا وہ سانس نہیں لے پائے گا۔
کچھ بولو بھی اب معیز اور احد کہاں ہیں ؟” جلدی بتاؤ ؟۔میں کچھ دن میں لوٹنے والا ہوں۔”
معیز نے کال کاٹی اور جھٹکے سے اٹھا۔
نیچے مطلب؟؟”ْ وہ گراؤنڈ فلور پر ہی تھا کیا کسی کمرے میں ؟” وہ پرسوچ سا ہر کمرا چیک کرنے لگا۔بیل دوبارہ ہوئی تھی۔لیکن معیز ہر چیز نظرانداز کیے ہر کمرہ دیوانوں کی طرح دیکھ رہا تھا۔
جاری ہے
