Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ہوش میں لوٹتے انہوں نے درد کرتے سر سے اردگرد نظر دوڑائی تو کچھ فاصلے پر کھڑے شام پر گئی جو سپاٹ چہرے کے ساتھ انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
سر پر پٹی تھی جبکہ ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔
وہ مدھم قدم چلتا ان کی جابب بڑھااور کرسی پر دراز ہوا۔
کیسی طبعیت ہے آپ کی؟” اس نے متانت سے پوچھا۔
زوار علوی کو لگا جیسے کسی نے نوکیلی چھری ان کے دل میں گاڑ دی ہو۔
وہ شخص!وہی شخص جس سے زوار علوی بچپن سے نفرت کرتے آئے تھے۔آج وہی شخص مسیحا کے روپ میں سامنے تھا۔ان کی حفاظت کویقینی بنائے اس سے حال دریافت کررہاتھا۔
زوار علوی کے کانپتے ہاتھ جڑے تو شام نفی میں سرہلائے ان کے ہاتھ تھامتا قریب ہوا۔
“آپ بڑے ہیں تایا ابو۔ہاتھ مت جوڑیں۔۔”
“نہیں شام!! میں گناہ گار ظالم ناجانے کیا ہوں۔کہ مجھے آج اپنا احتساب کرنا مشکل ہے۔
میں نفرت حسد خود پرستی کی جنگ میں غلط راہوں کا مسافر بن گیا تھا شام۔۔”
وہ تاسف سے بولتے آنکھوں سے اشک بار تھے۔
“تایا آپ کی صحت کے لیے زیادہ بولنا اچھا نہیں ہے۔
آپ آرام کریں۔”
وہ اٹھنا چاہتا تھا۔گھٹن بڑھ رہی تھی شام علوی کا اس شخص کے قریب رہنا اسے بے چین کررہا تھا۔
“شام۔۔!!ماہ کی حفاظت کرنا۔میں نے یہ دوذخ خود خریدی ہے۔لیکن اس دوذخ میں اپنی بچی نہیں گرانا چاہتا۔وہ بچی جسے میں نے کبھی پیار نہیں دیا۔”
“فکر مت کریں وہ میری بیوی ہے اس کو چھونے والی ہوا مجھ سے ہوکر گزرتی ہے۔”
وضاحتی پر اثر انداز میں کہتا وہ باہر کی جانب بڑھاجب زوار علوی نے اسے دوبارہ روکا۔
“میری بات سن لو شام۔۔یہ بہت ضروری ہے میں جانتا ہوں شارف کبھی بھی سکون سے نہیں بیٹھے پلیز سن لو شام۔۔”
“تایا ابوآپ کے آس پاس گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔میں سب معاف کرسکتا ہوں لیکن اپنی ماں کی وہ آخری تذلیل۔۔”
بے ساختہ اس نے لب بھینچ لیے۔وہ صاف گو آدمی تھا۔ہاں وہ ان کے سامنے ہی کچھ سخت لفظ کہہ کر انہیں ندامت میں انڈیل رہا تھا لیکن وہ ماں کے معاملے میں بے اختیار تھا۔
“تمہاری ماں میری محبت تھی شام۔۔” شام کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوا ۔
تبھی اپنی ہی محبت کو رسوا کرنے والے تھے۔
وہ قریب آکر طیش سے بولا۔
زوار علوی کی نگاہ نہیں اٹھ پائی تھی۔


ماضی!!!
زوار علوی کی پیدائش پر جتنی خوشی منائی گئی تھی۔سعادت علوی کی پیدائش پر ماتم کی فضا قائم ہوئی۔
بدر علوی کی دکان پر ہوئی چوری کو سعادت کی پیدائش سے مشروط کردیا گیا۔
ایک زرا سی بدنصیبی نے بدر علوی کے دل سے سعادت علوی کی محبت ہی ختم کردی تھی۔
زوار علوی ماں باپ دونوں کا لاڈلہ خودسر انسان بنتا چلا گیا۔جبکہ سعادت علوی کے حصے میں ماں کی ادھوری سی محبت آئی جو بدر علوی کے سامنے شاید کھو جاتی تھی۔
ہر میدان میں فتح مندی حاصل کرنے والا زوار علوی باپ کی آنکھوں کا تارہ بنتا چلا گیا۔جبکہ سعادت علوی شروع سے ہی کمزور کم گو رہے۔
کالج سے یونیورسٹی کا سفر دونوں نے اکٹھا کیا۔سدرہ بدر علوی کی دور کے رشتے دار کی بیٹی تھی۔جو پڑھائی کے سلسلے میں لاہور آئی تھی۔
چند دن ان کے گھر رہ کر وہ ہاسٹل شفٹ ہوگئی لیکن زوار علوی کا دل دھڑکا گئی۔جبکہ سدرہ کا دل سعادت کے لیے دھڑکا تھا۔
اکلوتی لاڈلی اولاد تھی۔بیٹی کی خواہش کا احترام کیا گیا تھا۔
زوار علوی نے اشارے کنایوں میں دو چار بار اپنی دل کی بات پہنچانا چاہی لیکن سدرہ نے نخوت سے سر جھٹک دیا۔سدرہ کو زوار کی عیاش طبعیت سے نفرت سی تھی۔اسے وہ سوبر سا سعادت اچھا لگتا تھا جو نظر جھکا کر چلتا تھا۔جبکہ زوار کی نظر میں ایک بے باکی تھی۔
زندگی کے ہرم مقام پر کامیاب ہونے والے زوار علوی اس مقام پر ہار قبول کرنا مشکل سمجھ رہے تھے۔
شبانہ ان کی یونیورسٹی سے ہی تھی۔کافی خوبصورت اپنی گہری سبزی مائل آنکھوں سے وہ زوار علوی کو کچھ حد تک اچھی لگی۔
باپ کے سامنے اپنی مرضی رکھی بدر علوی تو ویسے بھی زوار کی ہر ناجائز بات پر سرجھکانے کے قائل تھے۔
یوں چٹ منگنی پٹ بیاہ شبانہ بیگم گھر آگئیں۔
شبانہ کی خوبصورتی یہاں بھی زوار کی کامیابی کی وجہ بن گئی۔
دو سال بعد سعادت علوی کی شادی سدرہ بیگم سے ہوئی۔
تین سال گزر چکے تھے لیکن شبانہ کی گود خالی تھی۔جبکہ سدرہ بیگم کے آنگن میں شہرام نامی پھول کھل گیا۔
جلد اولاد اور وہ بھی بیٹا دونوں کے سینے پر سانپ لوٹ گئے۔سدرہ کی رنگت ہلکی سی گندمی تھی تبھی شام کا رنگ بھی دبتا سا تھا۔لیکن اولاد بیٹا تھی۔
پانچ سال کا عرصہ گزرا۔ جب شبانہ بیگم کے گھر اولاد کی خوش خبری آئی۔
سفید گلابی سیاہ آنکھوں والی ماہ تاب آنگن میں کلی کی مانند کھلی۔لیکن زوار علوی کو بیٹے کی چاہ تھی۔بیٹی کو ایک نظر دیکھ کر گود میں اٹھانا بھی گوارہ نہیں کیا۔
انہیں دنوں سدرہ بیگم پھر سے امید سے تھیں۔
ماہ تاب کی پیدائش کے چند عرصے بعد ہی عاہن علوی پیدا ہوا۔۔
دوبارہ بیٹا ہونا گویا زوار علوی کے لیے ایک اور ہار تھی۔
پانچ سالہ شام اس گڑیا کو دیوانہ تھا۔لیکن شبانہ بیگم اس کی دبتی رنگت کے باعث قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتی تھیں۔
چند سالوں میں بولنے والی ماہ تاب کی زبان میں گھن ناجانے کیوں زوار علوی کو اس سے مزید نفرت کی وجہ دے گیا۔جس کانتیجہ شام علوی سے نفرت بھی نکلا۔حالانکہ زبان میں تھوڑا مسلہ شروع سے ہی تھا۔
عاہن کی پیدائش کے تین سال بعد سبز آنکھوں والی مشل پیدا ہوئی۔بیٹی کی پیدائش اور شبانہ کا دوبارہ نہ بننا زوار علوی کی اکڑ توڑگیا تھا۔
وہ باپ کے سامنے روتے تڑپ اٹھے۔بیٹے کی چاہ بھی پوری نہ ہوپائی تھی دو کلیاں وہ بھی پرائی تھیں۔
بدر علوی نے گھر کے اختیارات زوار کے حوالے کردیے۔بدلے میں پانچ سالہ مشل کا نکاح آٹھ سالہ عاہن کے ساتھ کرنے کی شرط رکھ دی۔زوار علوی کو ناچار ماننا پڑا۔
زوار علوی نے میڈیکل سٹور کی بنیاد رکھی تو وہ دنوں میں چلنے لگا۔جبکہ سعادت کے حصے میں باپ کی پرچون کی دکان تھی۔
سدرہ سعادت کی ذہنی ہم آہنگی مکمل اولاد زوار کے دل پر قہر ڈھاتی تھی۔
ان کا تھوڑے میں مل بانٹ کر کھانا انہیں اپنی دولت سے بھی زیادہ حسین لگتا تھا۔
شبانہ بیگم قدرے پھوہڑ بے باک سی عورت تھیں۔جو زیادہ میں بھی راضی نہیں تھیں۔جبکہ
ان کا کم آمدنی پر بھی صبر شکر انہیں تیز آلے کی طرح کاٹتا تھا۔
زندگی کی رفتار بڑھ رہی تھی۔
بچے بڑے ہونے لگے تو زوار کے دل میں ترقی کا لالچ بڑھنے لگا۔
میڈیسن خفیہ طریقے سے ڈبل ریٹ کرکے بیچی جانے لگی۔کچھ خاص ادویات جو صرف کم دستیاب ہوتی تھی ان کی فراوانی ہونے لگی۔
یہ سب آسان نہیں تھا۔کمپنی والوں کے منہ پیسے سے بھرے گئے تھے۔
انہیں دنوں ان کی دکان پر شارف ابدال آئے۔انہیں کسی خاص دوا کی تلاش تھی۔
خاص ادویات کے لیے کئی خفیہ کوڈ رکھے جاتے تھے۔شارف ابدال اپنی نفیس طبعیت اور خوبروئی کے حوالے سے کافی پسند آئے تھے۔
وہ بسا اوقات دوا کے لیے آنے لگے۔بات بڑھی دوستی ہونے لگی۔
انہیں کی مدد سے نئے گھر کی بنیاد رکھی تھی۔
رفتہ رفتہ دوستی بڑھتی راز و نیاز تک جا پہنچی۔ اس محلے والے گھر میں تو وہ آنہیں سکتے تھے۔لیکن نیا تعمیر کیا گیا سفید محل نما وہ گھر مکمل شارف ابدال کی اجاہ داری تھا۔
ماہ تاب کی خوبصورتی نے انہیں پہلی نظر میں مسمرائز کیا تھا۔اتنا مکمل ملکوتی حسن ان کی عیاش پسند طبعیت کو ایک بار پھر سے نکھار گئی۔
ان کا تعلق لاہور سے ہی تھا۔لیکن بھائی کی مہربانی نے انہیں فرانس پہنچایا تھا۔اپنے ہی بھائی کے قاتل بنے وہ آج ساری دولت پر پھن پھیلائے بیٹھے تھے۔سات منزلہ آر جیکٹس برانڈ بھائی کی دولت سے ہی ممکن تھا۔


عام سے محلے میں بسنے والے رؤف اور شارف دو بھائی تھے۔
رؤف صاحب کو شروع سے ہی خوشبو سے پیار تھا۔
کئی پھول گھر کے چھوٹے حصے میں لگائے وہ خوشبو سے سانسیں مہکاتے رہتے۔
شارف ابدال قدرے خاموش طبع انسان تھا۔ایک بھائی نارمل شکل و صورت کا تھا جبکہ شارف ابدال کی خوبصورتی سرمئی کانچ کی آنکھیں غرض مجسم شہزادے کی مانند تھا۔
رؤف صاحب ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز تھے۔جبکہ شارف ابدال ابھی کالج کی زندگی گزار رہے تھے۔
باپ کی جمع پونجی اور کچھ کمپنی کی جانب سے رؤف صاحب کو فرانس جانے کا اتفاق ہوا۔
بیوی سے حددرجہ پیار بھی تھا لیکن خوشبو کو بوتلوں میں قید کرنے کی دھن بھی سوار تھی۔
فرانس کی خوبصورتی نے تو انہیں اپنے رنگ میں رنگا ہی تھا۔لیکن خوشبو نے اب بھی ان کا دامن نہ چھوڑا۔
مختلف لوگوں سے بات چیت کچھ کمپنی کی سپورٹ تھی۔ایک چھوٹا سا پرفیوم ہاؤس خریدا۔جو ایک کمرے جتنا ہی تھا۔
اس خوشی کو انہوں نے گھر والوں سے بھی شئیر کیا تھا۔
علیہ بیگم کی گود میں ننھا معیز آچکا تھا۔جبکہ شارف ابدال کے وہی شب وروز تھے۔شادی جیسےرشتے سے انہیں عجیب چڑ تھی۔
وقت گزرتا رہا کامیابی قدم چومتی رہی کہ آج چھ سالہ معیز اور علیہ بیگم فرانس میں تھیں۔
ایک کمرے کا پرفیوم ہاؤس کئی ایکڑ پر پھیل گیا۔
ریک میں سجی کئی بوتلیں رؤف صاحب کی محنت کا ثبوت تھیں۔
اپنی ایک فیکٹری زیرتعمیر کروائی جہاں وہ نئی خوشبو کو متعارف کرواتے تھے۔
باپ کی موت ہوئی تو شارف کا سہارا رؤف صاحب کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ماں تو کافی پہلے داغِ مفارقت دے گئی تھی۔
یوں شارف ابدال کا فرانس آنے کا اتفاق ہوا۔
اپنی ازلی خوبصورتی کی بناپر انہوں نے یہاں بھی اپنے پنجے گاڑے۔کئی خوبصورت لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسایا۔کئی گمنام راستوں کے مکین بن گئے۔
علیہ بیگم کو ایک خاص ڈر تھا جو ہروقت شارف سے محسوس ہوتا تھا۔شارف کی سرمئی آنکھوں سے وحشت ٹپکتی تھی۔
وہ معیز کو بھی شارف سے دور رکھنے لگی تھیں۔
انہیں دنوں معیز رؤف کے ساتھ حرام فعل انجام دیا گیا۔جس میں کچھ ہاتھ انہیں شارف ابدال کا لگا تھا۔
نو سالہ وہ بچہ دردسے آدھ موا شارف ابدال کے ہاتھوں میں ہی واپس آیا۔
علیہ بیگم نے شارف ابدال کو تھپڑ بدعائیں ناجانے کیا کچھ کہہ ڈالا۔جبکہ رؤف بیٹے کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھے۔انہیں اپنے بھائی پر یقین تھا۔لیکن بیوی جان سے عزیز تھی۔اسی لیے خاموش رہے کہا جارہا تھا۔سکول سے آتے ہوئے کچھ آوارہ لڑکوں نے اسے زودکوب کیا تھا۔
اپنے رسوخ استعمال کرکے انہوں نے کئی سراغ لگائے لیکن مجرم پکڑا نہیں گیا۔
معیز کی شخصیت دبنے لگی تھی۔لیکن باپ اور ماں کے پیار نے اسے کچھ حد تک ٹھیک کیا تھا۔


“آؤ شارف۔۔!!” وہ مختلف میشنوں کے پاس کھڑے کچھ نئے کیمکلز اور کچھ پھولوں کی تجربے میں مگن تھے۔جب شارف ابدال اس حصے میں آیا تھا جہاں پرفیوم کی تیاری کی جاتی تھی۔تیز رنگ برنگی خوشبو ایک ناگوار بو کا موجب تھی۔
معیز کے ساتھ میں نے زیادتی نہیں کی تھی۔
ان کی پراسرار آواز سنتے وہ مڑے۔
“میں جانتا ہوں علیہ کو غم و غصہ میں سمجھ نہیں آیا۔اس کے لیے میں معذرت کرتا ہوں۔”
“مجھے معذرت نہیں چاہیے۔”وہ اب بھی سرد سا تھا۔رؤف صاحب نے ایک جانب رکھے بڑے سے ٹب میں رکھے کیمکل کو دیکھا۔ جبکہ کچھ فاصلے پر کئی میشینری اور کئی بوتلیں موجود تھیں۔
پھر کیا چاہیے؟”۔وہ شارف کے قریب آئے اور کندھے پر ہاتھ رکھا۔
علیہ کی معافی اور آپ کی موت۔۔”
جنونی انداز میں انہوں نے رؤف صاحب کا سر سٹیل کی بڑی سی بوتل مارا جس میں پرفیوم کا محلول تھا۔
شارف کیا ہوگیا ہے؟” ایسے کیوں کررہے ہو۔؟”
وہ سر پر ہاتھ رکھے آگے آئے۔
“ہر کامیابی ہر چیز تمہارے پاس ہے میرے پاس کیا ہے؟ایک بکواس ترین کمرا اور چند گنے چنے دوست۔مجھے بھی رؤف بننا ہے جسے لوگ جھک کر سلام کریں جسے لوگ عزت بخشیں جس کا ایک نام ہو۔جو مجھے تمہارے رہتے نہیں ملے گا۔تمہیں مرنا ہوگا۔تاکہ شارف ابدال کی حکومت قائم ہوسکے۔”
“شارف میں تمہارا بھائی ہوں”۔وہ درد سے کراہ اٹھے۔
“بھائی نہیں میرے راہ کی رکاوٹ ہو تم۔فکر مت کرو میرے ہرکام میں رؤف ضرور ہوگا۔ایک لکی نمبر کے طور پر اور ہاں میرے دوستوں نے معیز کے ساتھ زیادتی کی تھی۔اس بچے نے میرے حکم سے روگردانی کی۔تبھی اسے سزا دی تھی۔”
رؤف صاحب کی بہتی پیشانی کا خون آنکھوں میں آنے لگا۔
“گھٹیا انسان میں نے تمہیں سینے سے لگایا اور تم نے سینے پر ہی خنجر گھونپ دیا۔”
وہ لڑکھڑاتے آگے آئے جب شارف ابدال نے انہیں سٹیل کی ٹب میں موجود کیمکل میں سر سے ڈبویا۔
اس وقت فیکٹری میں بہت کم لوگ ہوتے تھے۔تبھی وہ اپنا کام آسانی سے کرسکتے تھے۔
زندگی کے لیے تڑپتے انہوں نے کئی مرتبہ ہاتھ پاؤں مارے۔لیکن سفاکیت طاری کیے شارف نے اسی خوشبو میں ڈبو کر انہیں مار دیا تھا۔جس سے وہ جنون کی حد تک پیار کرتے تھے۔موت کی سفاکیت ایک شریف النفس پاکیزہ انسان کو نگل گئی نہ زمین کانپی نہ ڈبونے والے کے ہاتھ۔
تمام ثبوت مٹا کر انہوں نے نہایت افسوس ناک طریقے سے سارے حالات پولیس کے گوش گزارے۔
“پولیس کے مطابق ان کا پاؤں پھسلا تھا جس کے باعث وہ اوندھے منہ گرے اور بچ نہ سکے۔
خوشبو سے دم گھٹنے کے باعث موت ہوگئی۔”
شارف ابدال کا انڈر گراؤنڈ موجود کئی لوگوں سے روابط تھے تبھی وہ آسانی سے بچ گئے تھے۔
علیہ بیگم اور معیز کی زندگی اجڑ گئی تھی۔لیکن شارف ابدال نے اس اجڑی زندگی کو نہایت دردناک بنادیا۔
معیز دس سال کا ہوچکا تھا۔
عدت گزری تو ذریعہ معاش کی فکر ہونے لگی۔شارف ابدال نے نکاح کی آفر سامنے رکھی۔لیکن علیہ بیگم نے انکار کردیا۔جس کا بدلہ انہوں نے زیادتی کرکے نکالا۔وہ ظالم وحشی تھا۔اس کے لیے رشتے کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ان کے لیے کسی کی عزت لوٹ لینا عام سے کام جیسا تھا۔
علیہ بیگم کو برسوں کی بیمار عورت بنادیا گیا۔
رؤف صاحب کے خاص آدمی جو مائیکل کا منہ بھی پیسے سے بند کردیا گیا۔
علیہ بیگم کس سے مدد مانگتی کوئی بھی سہارا نہیں بچا تھا۔
شارف ابدال نے ان کی زندگی جہنم بنادی تھی۔معیز سے مشفقانہ رویہ تھا۔لیکن ماں کی باتیں معیز کو خوف میں مبتلا رکھتی۔
کچھ ہی عرصہ میں انہوں نے علیہ بیگم سے شادی کا اعلان کردیا۔
علیہ بیگم کی لاکھ حیل و حجت کے بعد بھی نکاح نہیں رکا تھا۔ایک قاتل ریپسٹ وحشی انسان کی بیوی بن کر وہ ہر پل اذیت میں گھر گئ تھی۔
معیز کی ذات ان کے لیے ٹھنڈی ہوا کی مانند تھی۔
ایک رائیل فیملی کی لڑکی سے زیادتی کی بنا پر ان پر پولیس کا گھیرا تنگ ہونے لگا۔
کیس ابھی عدالت میں درج نہیں ہوا تھا۔پولیس کو رشوت دے کر انہوں نے منہ بند کرنا چاہا۔
لیکن معاملات بگڑنے لگے تھے۔لڑکی کی فیملی کی طرف سے دباؤ تھا۔لیکن پولیس نے دونوں کا ذاتی معاملہ کہہ کر رفع دفع کیا۔
جگہ مقام کوئی بھی ہو۔پیسہ ہر جگہ بولتا ہے۔
معیز کو لیے وہ لاہور آگئے جہاں انہوں نے پیسہ لگا کر آر جیکٹس کی بنیاد رکھی۔
علیہ بیگم اپنی اولاد کی دوری پر تڑپ اٹھیں۔لیکن مجبور تھیں کچھ نہیں کرسکتی تھیں۔
اپنے آپ کو صحت و چست رکھنے کے لیے وہ کئی ادویات استعمال کرتے آرہے تھے۔
یہ ادویات ایسی ہوتی ہیں جو بڑھتی عمر کے باجود آپ کے چہرے کے خدوخال کو مناسب رکھتی ہے انہیں لٹکنے نہیں دیتی جو ڈرگز کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں۔جو سکون آوار بھی ہوتی ہیں۔
یوں وہ دوائیاں انہیں زوار علوی صاحب کے قریب لے آئی تھی۔


معیز کو شارف ابدال پر تھوڑا سا شک تھا لیکن اپنی کمزور شخصیت کے باعث وہ کچھ نہیں کرسکا۔
ماں کو وہاں چھوڑنے کا بہانہ پرفیوم ہاؤس بنا تھا۔
اس کا سکول میں ایڈمیشن ہوا۔اپنی دبتی شخصیت کے باعث یہاں بھی کئی مرتبہ اسے ہراساں کیا گیا۔شارف ابدال کو کئی بار اگاہ کیا۔لیکن ان کے لیے یہ خاص بات نہیں تھی۔
معیز رؤف کئی بار شارف کے ہاتھوں زدوکوب ہوا۔کئی بار بے دردانہ طریقے سے اسے مارا جاتا۔ماں کے لیے تڑپتا تو کمرے میں بند کردیا جاتا۔وہ مار کھاکھاکر سخت جان ہوتا گیا۔
کالج سے یونیورسٹی کا سفر شروع ہوا۔جہاں شام علوی ملا تھا۔جو اس سارے حبس زدہ ماحول میں ایک کھلی ہوا لگا۔جو بری طرح لڑکوں کو پیٹ رہا تھا۔
اسے ایسا ہی تو بننا چاہتا تھا جو دوسروں کو مارنے سے نہ ڈرے جو چھ لڑکوں پر بھی بھاری رہے۔
دوستی کا ہاتھ معیز نے ہی بڑھایا تھا۔وہ اسے اپنی طاقت سمجھنے لگا تھا جو اسے شارف کے چنگل سے آزادی دلوادے گا۔۔لیکن اس سے پہلے ہی قسمت نے شام کو چھین لیا تھا۔شارف ابدال کی نگاہ سے یہ دوستی بھی اوجھل نہیں رہی تھی۔


حال۔۔!!
“بھابھی جی آپ سے ملنے کوئی دوست آیا ہے”۔مشل جو ابھی فریش ہوئی تھی۔ جھٹکے سے مڑی۔
اجّی دروازے میں ہی ایستادہ تھی۔عاہن کا آج امپورٹنٹ شوٹ تھا۔وہ صبح ہی نکل گیا تھا۔
“آپ چلیں میں آتی ہوں۔”
بالوں کو سنوار کر اس نے ڈوپٹہ اوڑھ لیا۔اور یہ پہلی بار تھا جب غیر محسوس طریقے سے اس نے یہ عمل دہرایا تھا۔
کل رات عاہن کے بخشے گئے مان محبت عزت نے اسے ایک رات میں ہی مغرور بنادیا تھا۔نکھری سی وہ آج مکمل عاہن کے رنگ میں رنگی تھی۔
بدبو دار حصار جو ہر وقت محسوس ہوتا تھا عاہن کی خوشبو میں بدلا تو سانسیں بھی ہموار ہونے لگی تھیں۔
صد شکر تھا کہ وہ شخص یہاں نہیں تھا ورنہ وہ اس بدتمیز سے نظر بھی نہیں ملاپاتی۔
جس نے اپنی محبت کی انوکھی رمز سے اگاہ کیا تھا۔
چہرے پر پھیلی سرخی گواہ تھی عاہن علوی مشل کو زیر کرچکا ہے۔
محبت کا فسوں سر پر چڑھ کر بول رہا تھا۔
مہکتی عاہن کے رنگ میں رنگی وہ نازک چپل سفید پاؤں میں اڑستی نیچےکی جانب بڑھنے لگی۔لبوں پر شرمگیں سی مسکراہٹ تھی۔
آج ہر چیز خاص لگ رہی تھی۔
چچی سے مل کر وہ ڈرائنگ روم میں آئی جہاں اسد براجمان تھا۔
مشل کا رنگ فق ہوا۔جبکہ ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئی۔
تم یہاں؟”
کیسی ہو مشل ؟” وہ قدم لیے اس کی جانب آیا۔جب وہ پیچھے ہوئی۔
میں ٹھیک تم بتاؤ۔؟”
وہ کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی۔
“کافی خوبصورت ہوگئی ہو۔لگتا ہے عاہن علوی کی ہمراہی میں اچھا وقت گزر رہا ہے۔”
اسد نے بات کا آغاز کیا۔
مشل کے چہرے پر ناگواری ابھر آئی۔
اس کا ڈوپٹہ لینا ہلکا سا شفاف آسمانی سوٹ پہننا اسد کی طبعیت کو سرور بخش رہا تھا۔
“ویسے ایکٹر کی بیوی ہو ڈوپٹہ تم نے دادیوں کی طرح لے رکھا ہے۔کہیں مشہور ایکٹر عاہن علوی مولوی تو نہیں ہیں۔”
“نہیں میں مولوی نہیں ہوں۔”
عاہن کی بھاری آواز سنتی وہ جھٹکے سے مڑی جبکہ چہرہ سفید پڑا۔
اپنی خوبرو سے حلیے میں وہ بال سیٹ کیے آگے آیا۔اسد اس کی شخصیت سے مرعوب ہوا تھا۔
عاہن نے اسد کو نظر انداز کیے ایک گہری سی نگاہ مشل علوی پر ڈالی جو اس رنگ میں کافی کھلی کھلی تھی۔محبت کے میٹھے رنگ اس کے چہرے پر مکمل کھلے تھے۔
مشل کا دل دھڑک گیا۔
“میری بیوی کو ڈوپٹہ اوڑھنا اچھا لگتا ہے۔اسے ڈوپٹہ اوڑھ کر کاملیت کا احساس ہوتا ہے۔اپنا ملکوتی حسن خوبصورت بال اب صرف عاہن علوی کی ہمراہی میں نمایاں کرنا پسند ہے۔اور عاہن علوی کو اپنی بیوی کی اس ادا سے بہت گہری محبت ہے۔”
اس کے کندھے کے گرد مضبوط ہاتھ پھیلا کر اپنے ساتھ کی یقینی دلاتا وہ مشل علوی کے دل کی دنیا تہہ وبالا کرگیا تھا۔
وہ اسے محبت سے نواز رہا تھا۔یعنی اسے مشل علوی کی عزت کا پاس رکھنا آتا تھا۔
“ویل !! یہ تو اچھی بات ہے”۔
اسد ناگواری چھپائے ہاتھ آگے کرگیا جسے عاہن نے گرمجوشی سے تھاما۔
“مشل نے بتایا تھا آپ کے بارے میں کہ آپ بہت اچھے دوست رہ چکے ہیں۔”
عاہن نے بات کا آغاز کیا اور مشل کے پہلو میں براجمان ہوگیا۔
مشل کا چہرہ اب بھی ہلکا سا سفید تھا۔
“ہمارا تعلق دوستی سے آگے کا تھا۔خیر قسمت کی بات۔۔” تاسف سے سرہلاکر اس نے بات ادھوری چھوڑی عاہن نے سے ضبط مشکل تھا۔
“ہاں ہوگا۔لیکن وہ ماضی کی بات ہے جبکہ میں مشل کا حال مستقبل سب کچھ ہوں۔ کیوں مشل۔۔”
ابرو ہلکی سی اچکا کر اس نے مشل کا ہاتھ تھاما۔جو لرز رہا تھا۔
عاہن نے انگوٹھے کا لمس ہاتھوں پر بکھیر دیا۔مشل سنسنا اٹھی تھی۔۔جبکہ اسد سے یہ رومانوی منظر برداشت کرنا مشکل ہوا۔
اجّو نے سینٹرل ٹیبل پر لوازمات سجائے تو مشل نے غیر محسوس طریقے سے ہاتھ چھڑوانا چاہا۔
بھابھی جی آپ لے لیے کچھ لاؤں۔؟”
“مشل ناشتہ نہیں کیا؟ “عاہن نے مڑ کر اسے دیکھا جس نے نفی میں سرہلایا تھا۔
اسد کی موجودگی کو وہ جیسے دونوں کی فراموش کرچکے تھے۔
“اجّو بھیا آپ ناشتہ لگائیں ہم مشل کے دوست کو رخصت کرکے کچھ دیر میں ہی آتے ہیں۔حد ہے مشل! ایسے لاپرواہی برتنا اچھا نہیں ہوتا۔”
اس نے دونوں ہاتھ جکڑے وہ بے قرار ہوا۔
اسد نے حیرت سے سر اٹھا کر مشل کو دیکھا جو سٹپٹا کر رہ گئی
“جی بھیا ابھی لگادیتے ہیں۔”
“آپ یہ فریش جوس لیں۔”
عاہن نے آدابِ میزبانی نبھائی۔جبکہ مشل سے اس کا میٹھا انداز ہضم کرنا مشکل ہوا۔
اتنے دن سے وہ ساتھ تھے کبھی اس نے کھانے کا یا کچھ بھی نہیں پوچھا تھا۔
“شیور آپ ناشتہ کرلیں۔لیکن جانے سے پہلے کیا مجھے آٹو گراف ملے گا۔”
وہ پین اور چھوٹی سی پاکٹ ڈائری لیے اس کی جانب آیا۔
“کمال ہے آج کے دور میں بھی لوگ آٹو گراف لیتے ہیں”۔
عاہن نے سر جھٹک کر پین تھاما۔
ہم جیسے لوگ جب کسی فیمس سلیبریٹی کو سامنے دیکھتے ہیں تو ایسے ہی مڈل کلاس جیسی حرکتیں کرتے ہیں۔
اسد کے برجستہ جواب پر اس نے ایک ترچھی نگاہ مشل پر ڈالی جو انگلیاں مسل رہی تھی۔
عاہن نے ایک کارنر پر اپنے سائن کیے۔
اسد نے ایک باکس والا بیگ اس کی جانب بڑھایا۔
اوہ تھینکیو سو مچ۔۔” عاہن نے وہ بیگ تھام لیا تھا جس میں شاید ان دونوں کےلیے گفٹ تھا۔
کچھ دیر میں اسد ایک گہری سی نگاہ مشل پر ڈال کر وہاں سے نکلا۔
مشل نے بھاری بوجھل سا سانس خارج کیا اور عاہن کو دیکھا جو شوخ نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔
ایسے کیا دیکھ رہےہو؟” وہ سراپا سوال بنی۔
دراز پلکیں سایہ فگن ہوئی ۔جبکہ خوبصورت سی رات کی دلفریبیاں دونوں کو مہکا گئی۔
“تم اس رنگ میں کافی خوبصورت لگ رہی ہو۔مجھے تو لگا تھا میرا لایا سرخ لباس ہی تم پر خوبصورت لگے گا۔لیکن یہ شفاف سا رنگ بھی برا نہیں ہے۔”
باکس رکھتا وہ مشل کی جانب آیا۔لہجے میں مفقود نخوت پن مشل کو بھایا تھا۔
اس نے قدم پیچھے لیے گال سرخی میں اٹ کر تپنے لگے۔
فاصلہ سمٹا تو وہ دیوار کے ساتھ لگی جبکہ عاہن نے دیوار پر بھاری ہاتھ رکھ کر اسے قید کرلیا۔
“گزری رات کا حسین فسانہ جتا رہا ہے کہ مشل علوی کے دل میں عاہن علوی کی محبت کی کونپل پھوٹ پڑی ہے۔”
مشل نے ڈوپٹہ مٹھی میں جکڑ لیا۔جبکہ ننھی سی ناک سرخ ہونے لگی۔
پپ پیچھے ہٹو۔بہت بے باک ہو تم۔۔”
لڑکھڑائی سی بولتی وہ لب پھیلانے کا موجب بنی۔اس کا شرمایا گھبرایا روپ عاہن کو سرشاری کی جانب دھکیل رہا تھا۔
“ہاں بےباک بنانے کی وجہ بھی تم ہو”۔مشل کی جھکی نظر کئی میٹھی رت کی جانب بلارہی تھی۔
وہ ہلکا سا قریب جھکا اور پرفسوں لفظوں کو سماعت کے نذر کیا۔
ان کی جھکی نظر کو جو آج دیکھا
احساس ہوا شرم و حیا کسے کہتے ہیں۔
(انتخاب)
مشل کو لگا وہ اس لمحے میں قید ہوگئی ہے۔بھوک پیاس نیند ڈر خوف جیسے سب اڑنچھو ہوئے۔
یاد رہا تو صرف عاہن علوی اور اس کی شریر سی گستاخیاں۔


جاری ہے ۔