Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
آئی ایم سوری۔۔”
اس کا بکھرا حجاب انگلیوں سے سمیٹ کر اس نے اپنے عمل پر معذرت کی ۔
ماہ تاب نے ججھک کر اسے دیکھا۔
شام علوی اپنے نام کی طرح ہی انکوکھا تھا۔اپنے جائز حق پر بھی وہ معذرت کرتا ماہ تاب کے دل میں کئی پھولوں کی بہار لے آیا۔
“میں جیلس تو ہوتی ہوں۔لیکن مجھے یہ بھی اطمینان ہے کہ آپ میرے ہیں میرے ہی رہیں گے۔پر یہ جو میرا بے تاب دل ہے یہ کہتا ہے آپ کو خود سے دور کبھی نہ جانے دوں ان گہرے براؤن ارتکاز کو اپنے چہرے سے کبھی ہٹنے نہ دوں ۔کیونکہ یہ گہرے بھورے نین ماہ تاب علوی کا سکون ہے اس کی عافیت ہیں۔”
اپنی مخروطی انگلیاں چٹخاتی اپنے عمل کی وضاحت کرتی وہ شام علوی کو ایک گہری رمز سے آشنا کرگئی ۔
لیکن میں چاہتا ہوں تم جیلس ہوجاؤ اور ہوتی رہو۔
اس کی ننھی ناک کی پھنگ کو کھینچے وہ شرارت پر آمادہ ہوا۔
ماہ تاب نے خفگی بھری نگاہ شام پر ڈالی تو ایک وہ جانب کی مسکراہٹ اچھالے ایک ابرو اچکا گیا۔
ماہ نے بے ساختہ اس کے چوڑے سینے پر تھپڑ مارا۔
وہ اب بھی بادل بنا اس پر چھایا ہوا تھا۔
اس کا سینے پر ہاتھ مارنا شام علوی کو سکون و راحت کا موجب بنا۔
سفید ہاتھ لبوں سے لگائے وہ اندر کی جانب بڑھا۔جبکہ وہ سرخ ہوتے چہرے سے ہم قدم ہوئی تھی۔
وارڈروب کے آگے کھڑی وہ ہر دروازے کو کھولنے کی کوشش میں تھی۔یہ تجسس بھی تھا کہ آخری عاہن نے اتنی وارڈروبز کیوں بنوائی ہیں اور سب سے زیادہ چڑ اسے ان لاکس پر تھی۔
سرمئی تھیم سے سجا کمرا بعض اوقات اسے ایک تہہ خانے کا تاثر دے رہا تھا۔
کل رات وہ نیند میں بھی کافی بے چینی محسوس کرتی رہی تھی۔کچھ عاہن کی غیر موجودگی تھی جو اسے بے حال کررہی تھی۔اپنی کیفیت پر وہ خود حیران تھی۔اور مزید ماہ تاب کے انکشاف پر شارف ابدال کو غلط انسان ٹھہرانے پر وہ الجھ گئی تھی ۔وہ یہاں ؔماہ تاب کے لیے ہی آئی تھی لیکن اس کا اطمینان سکون بھرا چیرہ ناجانے کیوں اسے روک رہا تھا۔
چوتھی وارڈوب کو کھولنے کے لیے اس نے ہاتھ آگے بڑھایا جب پیچھے سے کسی نے اسے حصار میں لیا۔
جنگلی آتما۔۔۔۔”
بھاری سرد سرگوشی سنتی وہ خوف سے سفید پڑی اور چیخ کر ہاتھ پاؤں مارتی اسے خود سے دور دھکیلنے لگی۔
آہہہ۔۔۔”
جنگلی آتما۔۔کسی سے ڈرتی بھی ہے۔اپنے حصار میں مکمل مقید کیے وہ ایک سرگوشی کرتا اسے اپنے ہونے کا احساس دلاگیا۔۔
عاہن!! سرسراتے لبوں سے وہ محض یہی کہہ پائی۔
“شکر ہے پہچان لیا۔ورنہ مجھے لگا تھا یہ جنگلی آتما مجھے بھول چکی ہوگی۔”
اپنی گرفت سے اسے آزاد کرتا وہ سامنے ہوا تو اسے پھٹی آنکھوں سے دیکھتی پیچھے کھسک گئی۔
دروازہ تو اس طرف تھا۔نہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی اور نہ ہی اس کےآنے کی کوئی آہٹ تو پھر وہ کہاں سے آیا تھا ۔
تت تم کہاں سے آئے ہو؟
خوف سے اس کی رنگت سفید پڑ رہی تھی۔کچھ وہ کل سے روم میں اکیلی تھی اور کچھ اس کا دبے پاؤں آنا مشل کے لیے حیرانگی کا باعث تھا۔کچھ اس کا کمرا بھی آخری کارنر پر تھا۔
میں اوپر سے آیا ہوں۔اس کا سفید گلابی چہرہ نہارتے پتلیاں گھماتا شرارت پر آمادہ ہوا۔
ہوڈی کے دونوں بازو فولڈ کیے وہ بکھرے الجھے بالوں میں کافی تھکا ہارا تھا۔سیاہ آنکھیں سرخ ڈروں سے بھری تھی۔
مشل نے بغور اس کا حلیہ ملاحظہ۔
کہاں سے آرہے ہو تم؟” یہ کسی ایکٹر کا حلیہ تو نہیں ہے؟”
تم نے مس کیا ناں مجھے۔۔۔”
“میرا دماغ نہیں خراب جو تمہیں مس کروں گی۔تمہارے اس الجھے حلیے کی وجہ پوچھ رہی ہوں۔”
“اوہ تو مطلب تمہیں میری تھکاوٹ کا احساس ہورہا ہے۔مطلب اچھی بیوی بننے کی پریکٹس دو دن میں ہی شروع کردی۔”
وہ انگلی گال پر ٹکا کر شرارت پن پر آمادہ ہوا۔
آئی لائک اٹ۔۔”
تم کہاں سے آئے ہو عاہن۔۔”وہ اس کے کندھے سے پیچھے جھانکتی ایک بار پھر متجسس ہوئی تو عاہن کا قہقہ گونج اٹھا تھا۔
یار لڑکی تم ایک سوال کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہو۔؟”
وہ اسے گھماتا رخ بیڈ کی جانب کرگیا۔اور خود اس کے مقابل ہوا۔
“میں ہوا ہوں۔۔ہوا کا کوئی رخ کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا وہ کبھی بھی کہیں سے بھی آجاتی ہے۔اب اپنے اس نالائق دماغ پر زیادہ زور مت ڈالو۔۔”
اس کی ناک کو کھینچے وہ بیڈ کی جانب بڑھتا چت لیٹ گیا۔
اعصاب تھکے ہوئے تھے۔تبھی وہ زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ پارہا تھا۔
مشل آج خلافِ توقع خاموش تھی چہرے پر پھیلی اداسی و گھبراہٹ کو عاہن نے بغور دیکھا۔
دونوں بازو سر کے نیچے رکھتا وہ سر بلند کیے اسے دیکھنے لگا جو اب بھی کمرے میں نظر دوڑاتی بد حواس سی تھی۔
تم نے کھانا کھایا۔؟اس کا بے رونق ساچہرہ ناجانے کیوں دل کی دنیا میں بے چینی بھر رہا تھا۔
کیا ہوا ہےمشل؟” وہ قدرے سرد سا بولا تو ٹپ ٹپ کئی آنسوں آنکھوں سے بہتے چلے گئے۔
“مجھے یہاں نہیں رہنا۔میں واپس جانا چاہتی ہوں۔”
اپنی کیفیت وہ خود سمجھ نہیں پارہی تھی دل کی حالت الگ آزردہ تھی۔
وہ فوراً سے اٹھ کر اس کے پاس آیا۔
میڈم کیا دماغ خراب ہوگیا ہے؟”جو ایسے ری ایکٹ کررہی ہو؟”
اس کی کنپٹی پر انگلی سے دباؤ ڈالے وہ چڑا۔
“تم جاؤ جہاں جانا ہے۔میں اکیلی ہی ٹھیک ہوں دو دن ہوئے ہیں مجھے اس گھر میں آئے ہوئے اور تم دوسرے دن ہی مجھے اکیلا چھوڑ گئے ۔اس بھوت بھرے کمرے میں میرا دم گھٹ رہا تھا ایک خوف مجھے ہر وقت محسوس ہوتا رہا اوپر سے اس کمرے کا کلر۔۔”
وہ سوں سوں کرتی ساری تفصیل بتائے عاہن کو پشیمانی میں مبتلا کرگئی ۔
دادا۔۔۔۔” حسبِ معمول دادا کا نام لیا گیا جنہوں نے یہ مصیبت اس کے گلے ڈال دی تھی۔
وہ آج بھی نہیں آنے والا تھا محض مشل کی وجہ سے آیا تھا تاکہ وہ اکیلا محسوس نہ کرے۔
“آئندہ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔”
وہ سپاٹ انداز میں بولے وارڈروب کھولنے لگا۔
تاکہ فریش ہوسکے۔
مشل اس کی کاروائی دیکھتی خاموشی سے بیڈ کے کنارے پر جا لیٹی ۔بھوک سے حالت خراب تھی لیکن آج اس کا کھانے کا موڈ نہیں تھا۔
اپنے کپڑے لے کر وہ ایک نظر اسے دیکھے واش روم کی جانب بڑھا تھا۔
اپنے پیچھے اشرف کی موجودگی کو یقینی بنائے وہ مڑا نہیں تھا۔
آج اسے ہر حال میں منہا سے ملنا تھا۔جس نے آج عبیحہ کے معتلق خبر دینی تھی۔
منہا داؤد ان کی یونی فیلو تھی۔اس دن اسے آواز دینے والی کوئی اور نہیں منہا داؤد تھی۔
وہ ماضی کے جھروکوں میں گھومتا سامنے دیکھ رہا تھا۔اشرف کی موجودگی وہ گھر سے ہی نوٹ کرچکا تھا۔اسی لیے ابھی سڑکوں میں خوار ہورہا تھا۔
یکلخت اس نے گاڑی چھوٹی سی گلی میں موڑ کر اسے بھٹکایا۔اپنا موبائل وہ پہلے ہی سوئچ آف کرچکا تھا۔
کچھ دن پہلے
“مسٹر معیز رؤف”
اپنے پیچھے نسوانی آواز سنے وہ حیرت سے مڑا۔۔سامنے کھلتی رنگت کی سفید شارٹ شرٹ کے ساتھ جینز میں ملبوس وہ لڑکی اس ماحول کی باسی نہیں لگتی تھی۔
معیز نے بغور اس کا چہرہ دیکھا اونچی ٹیل پونی میں بندھے بال اور شانوں پر ڈوپٹہ تھا۔
آپ میرا نام کیسے جانتی ہیں؟”وہ مسکرائی تھی۔
معیز کو تعجب نے گھیرا۔
“میں منہا داؤد ہوں۔آپ کی یونی فیلو۔شاید ایک دو بار ملاقات بھی ہوئی تھی۔”
وہ پراعتمادی سے قدم لیتی آگے آئی۔
چھ سال پہلے اسے اس نے ہلکی پھلکی جھلک میں ہی دیکھا تھا۔
جب شہرام علوی اس شہر کو چھوڑ کر گیا تھا ایک اس کی تلاش میں نکلنے والی ایک اہم لڑکی منہا داؤد بھی تھی۔
تم ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی ہی منہا داؤد ہو؟”
وہ اب بھی معتجب تھا۔
منہا نے نرمی سے سرہلایا۔
واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز؟ پر آپ اس ایریا میں۔؟”
“ہم جیسے رپورٹرز کو ہر جگہ جانا پڑتا ہے۔کیونکہ ہمارا کام ہی ایسا ہے۔نگر نگر چھان کر خبریں تلاشنا کرائم کو منظر عام پر لانا۔”
وہ ہلکی سی گردن ترچھی کیے بولتی معیز کو حیران کرگئی۔
اوہ مطلب جرنلسٹ؟”
ہمم۔”
“دراصل یہاں اس ایریا میں اپنے کچھ خبری لوگوں کے لیے آئی تھی۔ تمہیں یہاں دیکھا تو حیران ہوئی۔”
“ہاں میں بھی یہاں کسی کی تلاش میں آیا تھا چھ سال پہلے ایک اپنا مجھ سے کھوگیا تھا۔”
وہ سر کوجنبش دیتا نظر جھکا گیا۔ناجانے کیوں وہ اپنے آپ کو روک نہیں پایا تھا۔
یہاں اس جگہ پر؟”
ہنہہ۔۔” اس نے ہنکارا بھرا۔
“مجھے لگتا ہے تمہاری تلاش شاید ختم ہوگئی ہے۔”
وہپر اعتمادی سے کہتی اسے چونکا گئی۔
اور یہ آپ کو کیسے پتہ چلا؟”
“کیونکہ تم اب منہا داؤد سے مل چکے ہو۔چلو آؤ کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”
وہ اسے لیے کیفے کی جانب بڑھا تھا۔
بات سے بات نکلتی چلی گئی تو شارف ابدال کا ذکر بھی نکل آیا۔اور شارف ابدال کے ذکر پر منہا داؤد کے کان کھڑے ہوئے تھے۔
“شارف ابدال کو کون نہیں جانتا۔ان کا اپنا ایک نام ایک پہچان ہے ۔آر جیکٹس برانڈ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے لیکن مجھے وہاں کچھ الگ بھی لگتاہے۔
اور میں پچھلے دو سال سے اس کھوج میں ہوں کہ وہاں کچھ غیر قانونی کام ہورہے ہیں۔لیکن خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں ہوپایا۔”
معیز نےحیرت سے اس کا چہرہ جانچا تو وہاں فرض شناسی کی الوہی چمک تھی۔
“تمہاری مدد میں کروں گا”۔
معیز کچھ دیر بعد اردگرد دیکھے مدھم سا بولا۔
احد ایک جانب بیٹھا تھا۔
“تم کیوں؟وہ تو تمہارے ڈیڈ ہیں۔؟”
“اس بات کو چھوڑو تمہیں معلومات چاہیے وہ میں تمہیں فراہم کردوں گا بس تمہیں میری ایک مدد کرنی ہوگی۔”معیز نے احد کو دیکھا۔
ویسے تم شادی تو کرہہ چکے ہو؟”تو کس کی تلاش میں آئے ہو۔؟”ان بھٹکتی گلیوں میں کون سا ساتھی ڈھونڈ رہے ہو؟اور میری مدد؟”
منہا کے سوال پر اس نے پہلو بدل کر پیشانی رگڑی۔
ناجانے کیوں معیز رؤف کا دل اس پر اعتبار کرنے کو چاہا۔
“عبیحہ مراد نامی لڑکی کی تلاش ہے مجھے۔جو بدقسمتی سے اس کی ماں کہلاتی ہے۔اسے میں نے آخری مرتبہ یہی اسی ایریا میں دیکھا تھا۔”
واٹ۔۔۔؟” منہا کی آنکھیں پھیلی تھیں۔
عبیحہ۔۔۔” اسے نام لینے میں دقت سی ہوئی۔
کیا تم جانتی ہو؟” وہ بے تاب ہوتا استفسار کرنے لگا۔
نہیں میں نہیں جانتی۔منہا نے نگاہ پھیری ۔معیز سمجھ چکا تھا کہ وہ اسے جانتی ہے۔
فلحال خاموشی ہی اسے بہتر حل لگا۔
“یہ میرا کارڈ ہے میرے موبائل پر فون مت کرنا ۔میں خود تم سے رابطہ کروں گا۔”
وہ اس کا چہرہ کئی ثانیے دیکھتا رہا اور پھر ایک کارڈ اس کی جانب بڑھایا۔
منہا نے وہ کارڈ تھاما اور بیگ میں رکھا۔احد کولیے وہ وہاں سے نکلا تھا۔
شارف ابدال کا کراچی میں ہونا اسے اطمینان دلاگیا تھا۔تبھی وہ چند عرصے میں اپنا کام نہایت آسانی سے کرسکتا تھا۔
پچھلے کچھ دنوں میں وہ احد کو پک کرکے منہا سے ملتا رہا۔اور اعتماد جیت جانے کی صورت میں ہی آج اس کی یقینی ممکن تھی۔
سیاہ براؤن بال گیلے اوپر کی جانب سیٹ کیے وہ مشل کو دیکھتا باہر کی جانب بڑھا۔
کچھ دیر میں ٹرے میں کھانا سجائے اوپر آیا تو وہ ہنوز اسی پوزیشن میں تھی۔
اٹھو کھانا کھاؤ۔اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیے ایک جھٹکے میں بٹھایا۔
“کیا ہے؟ میں نہیں کھاؤں گی؟”
وہ چیختی بازو چھڑوائے پیچھے کھسکی۔عاہن نے اسے قریب کھینچ کر بالکل مقابل بٹھایا۔
“مجھے نخرے اٹھانا زرا بھی پسند نہیں ہے۔اور تمہارے تو میں کبھی بھی نہ اٹھاؤں۔”
چاول کی چمچ اس نے تیزی سے اس کے گال دونوں جانب سے دبا کر اندر ڈالا۔
وہ آنکھیں پھیلاتی بمشکل نوالہ نگل پائی۔
جبکہ عاہن نے ایک نوالہ اپنے منہ میں ڈالا۔اسے اپنی ہی چمچ سے کھاتا دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔؟”
سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے اس نے ایک اور نوالہ اس کی جانب بڑھایا۔
جسے وہ چپ چاپ کھاچکی تھی۔شاید بھوک نے مزاحمت کا وقت نہیں دیا تھا۔
کچھ دیر بعد اس نے گلاس اس کے لبوں سے لگایا ۔وہ چپ چاپ پانی پی کر نگاہ پھیر گئی۔
عاہن نے برتن سائیڈ ٹیبل پر رکھے اور اسے اپنے برابر بٹھایا۔دونوں برابر براجمان تھے۔
اس کے عمل پر وہ سلگتی دور ہونے لگی جب عاہن نے چوڑا بازو اس کے گرد پھیلایا۔
وہ مکمل اس کے حصار میں مقید ہوچکی تھی۔
اس کے لمس اس کی قربت نے دل میں اندیکھی سی اگن طاری کی۔
وہ قربت کے احساس میں کھوئی تھی۔
“شارف ابدال کو کال کیوں کی تھی۔؟”
اس کے سوال اور سرد انداز پر وہ خوف سے اچھلی جبکہ چہرہ سفید ہوا۔
اسے توقع بھی نہیں تھی کہ وہ ایسا کچھ پوچھے گا۔
جس وقت اس نے شارف کو کال کی تھی لاؤنج میں کوئی بھی نہیں تھا۔
پھر وہ کیسے سچ جان گیا تھا؟
عاہن نے جیب میں سے لائٹر سیگریٹ نکالا اور ایک ہاتھ کی مدد سے ہی اسے روشن کیا جبکہ دوسرا ہاتھ ہنوز اس کے گرد پھیلا تھا وہ دونوں بیڈ کے کنارے پاؤں لٹکائے بیٹھے تھے۔
اس کے پل پل عمل پر مشل کی ہمت جواب دے رہی تھی۔
مم۔میں نے نہیں۔۔۔” خوف سے آواز حلق میں دب گئی۔
مشل علوی شارف ابدال کو کال کیوں کی تھی۔؟”
اس نے گہرا کش لے کر دوبارہ سوال داغا۔خنکی بھرے ماحول میں بھی پیشانی نم تھی۔جب کہ حلق میں کانٹے اگ آئے۔
اس کی خاموشی پر وہ بمشکل اپنے بڑھتے اشتعال پر قابو رکھ پایا ۔
“تم بھول رہی ہو مشل علوی کے تم میرے گھر میں ہو۔اس گھرمیں جس کا کونا کونا عاہن علوی کی ذات کو ازبر ہے۔یہاں کوئی پتہ بھی ہلتا ہے تو مجھے خبر ہوتی ہے۔
عاہن!” وہ منمنائی تھی۔
“اپنی بیس سالہ زندگی تم نے بہت آزادی سے گزاری تھی ہر کام نہایت آزادی سے کیا۔اور اس آزادی نے تمہارا دماغ بھی خراب کیا جس کی بدولت تم اس گھٹیا شخص کی کٹھ پتلی بننے والی تھی۔اور وہ تم کیسے بننے والی تھی۔وہ تمہارے اس الٹے دماغ میں کبھی نہیں آئے گا۔
لیکن اب سے یہ یاد رکھو تم عاہن علوی کے گھر اس کی نگاہ کے حصار میں ہو تمہارے ایک ایک عمل پر میری نظر ہے۔
تم میرے گھر سے کسی کو کال کرو گی مجھے خبر نہیں ہوگی۔ یہ بےوقوفی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔”
اس کے کندھے پر دباؤ بڑھا کر اس نے مشل کو مزید قریب کیا۔اس کا سر کندھے سے لگا جبکہ سانسیں مدھم تھیں۔
وہ اپنی بھاری آواز سے اس کی ساری بہادری کو پل بھر میں مسمار کرگیا۔
اس کا سرد انداز لفظوں کی کاٹ غرض مشل زندگی میں پہلی بار سہمی تھی وہ شخص اپنی قربت میں اسے سہمارہا تھا۔
“مم میں آئندہ نہیں کروں گی۔۔وہ ماہ۔۔۔۔”بےساختہ اس نے لب دبائے ۔
وہ نڈر لڑکی آج عاہن علوی سے مکمل ڈر چکی تھی۔
وہ کافی دیر چپ چاپ کش لگاتا دھواں اگلتا رہا اور مشل ٹھنڈی پڑتی دم سادھے ہوئے تھی۔
جوتے تلے سیگریٹ مسل کر اس نے مشل کی سبز آنکھوں کو دیکھا جو خوف سے اب بھی پھیلی تھیں۔
اس کی الجھی بکھری لٹیں سنوار کر اس نے مشل کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما۔
“مشل علوی میرا دل تو چاہتا ہے اپنے بچپن کی تباہی پر تم سے روز بدلا لوں ۔لیکن اگر میں نے بدلا لے لیا تو مجھ میں اور تم میں کیافرق رہے گا۔”
اس کے گال انگوٹھے سے سہلائے وہ سیاہ آنکھوں سے تلخ مسکرایا۔
سبز رنگ چمکتی نگاہوں میں خوف اب بھی ہلکورے لے رہا تھا۔
عاہن نے نرمی سے ان آنکھوں پر اپنے انگوٹھے پھیرے۔مشل نے آنکھے میچے سانس روکے اس لمحے میں مقید ہوئی۔
“میرا دل چاہتا ہے میں تم سے نفرت کروں بیش بہا نفرت۔کہ تمہیں اپنے وجود سے بھی نفرت ہونے لگے۔لیکن میرا دل تمہارا یہ حسین چہرہ تمہاری یہ مخمور گہری سی آنکھیں دیکھ کر بھٹک جاتا ہے۔اس دل پر اختیار ختم ہوجاتا ہے۔”
مشل اس کی الجھی سلجھی باتوں پر کوئی رائے قائم نہیں رکھ پائی تھی۔وہ اب بھی اسی خوف کے حصار میں تھی۔
اور جب خوف حاوی ہوتو کوئی ذومعنی بات کوئی میٹھی سرگوشیاں سماعت نہیں مہکاتی دل میں جذبات نہیں جگاتی۔اس کے چہرے پر اب بھی تلخی تھی ۔ایک اجنبیت بھری دیوار حائل تھی۔
“تمہیں ایک چیز دکھاتا ہوں۔”
گہرا سانس خارج کیے وہ کچھ فاصلے پر ہوا تو مشل نے بوجھل سانس لیا۔
اس نے موبائل سامنے کیا تو سامنے کا منظر دیکھ کر وہ چیختی دور ہوئی جب عاہن نے اسے پاس کھینچا۔
چچ چھوڑو مجھے۔۔”
“پورا منظر دیکھو مشل علوی۔۔کیونکہ یہ تمہارے لیے بہت ضروری ہوچکاہے۔تمہیں سچ جان لینا چاہیے کہ عاہن علوی کیا چیز ہے؟”
وہ ڈائریکٹر زاہد بٹ تھا۔جسے عاہن بے دردی سے قتل کررہا تھا۔پہلے اس کے سر پر راڈ سے کئی وار کیے ۔ خون کی چھینٹے اردگرد گرتے رہے۔
اس کے منہ میں زہر انڈیلتا وہ عاہن ہی تو تھا۔اور پھر اس کا گلا دبانا۔غرض ہر عمل میں سفاکیت اور درناکی تھی ویڈیو کافی قریب سے بنائی گئی تھی۔
وہ اس کا سیاہ روپ بھی پہچان چکی تھی۔وہ اسی لباس میں تھا جب وہ گھر سے نکلا تھا۔
قریب پانچ منٹ کی ویڈیو مشل کی حالت بگاڑ چکی تھی۔
ٹھنڈی پڑتی وہ عاہن کی بازوں میں جھول گئی۔
جبکہ عاہن پراسرار سا مسکرایا تھا۔
پرفیکٹ۔۔۔”
لیپ ٹاپ پر وہ تصاویر دیکھتے گہرا سا مسکرائے۔یہ ماہ تاب کی مختلف پوز میں تصاویر تھیں۔جسے ایڈٹ کیا گیا تھا۔
اپنے شکار کو وہ بل میں سے بھی کھینچنا جانتے تھے۔
اور ماہ تاب ان کی جادو کی چھڑی تھی۔اسے کیسے وہ بخش دیتے۔
نیو لیپ ٹاپ پر وہ تصاویر سکرول کررہے تھے جب دروازے کے فریم میں کھڑے زوار علوی چونکے۔پیشانی پر پسینہ نمودار ہوا۔
وہ ماہ تاب کا چہرہ تھا۔لیکن وہ شارف ابدال کی بانہوں میں۔۔اتنے غلیظانہ طریقےسے؟” انہیں یقین کرنا مشکل لگا۔
شارف!!”وہ بے ساختہ دھاڑتے آگے آئے اور لیپ ٹاپ اپنی جانب گھمایا۔
“یہ کیا ہے شارف؟ یہ ماہ کی تصاویر تمہارے ساتھ کیوں؟ اور یہ کیسے؟”
ناقابل فہم ابھرے تاثرات اور کانپتے ہاتھ وہ اپنی کیفیت سمجھ نہیں پائے۔
شارف ابدال طنزیہ مسکرائے۔
“غور سے دیکھو زوار علوی۔یہ تمہاری بیٹی ہی ہے۔جس نے مجھے برباد کرنے میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اور اب اس کے برباد ہونے کاوقت ہے۔اس کے تڑپنے کا وقت ہے مجھ سے بغاوت پر اسے خوار ہونا پڑے گا۔ اپنی خوبصورتی کی قیمت تو چکانی پڑے گی۔ اپنے ہاتھوں اپنا خوبصورت چہرہ برباد کرے گی۔اس کا شوہر خود اپنے ہاتھوں سے اس کا گلہ دبائے گا “
ان کے لہجے میں پنہاں سفاکیت غلاظت سے انہیں آج پہلی مرتبہ خوف محسوس ہوا۔
“شش شارف یہ غلط۔۔ماہ میری بیٹی۔۔نن نہیں شارف۔۔”
ان کی کپکپاہٹ بڑھ رہی تھی۔جبکہ شارف ابدال نے ابرو اچکا کر انہیں دیکھا۔
“کم آن زوار۔۔کونسی بیٹی ؟یہ وہی بیٹی ہے جسے تم نے میرے حوالے کیا تھا۔اور یہ عام بات ہے یار۔ایسے کئی تصاویر وائرل ہوتی ہیں فکر مت کرو میرا چہرہ شو نہیں ہوگا کیونکہ میں اسے بلر کرنے والا ہوں۔”
نن نہیں شارف یہ ظلم نہیں میں خود اسے تمہارے پاس لاؤں گا۔لیکن ایسے نہیں۔۔دیکھو میں مانتا ہوں۔اس نے گناہ کیا ہے۔لیکن یہ مت کرو۔۔”
وہ ہاتھ جوڑتے آج ایک لاچار باپ تھے۔آج اتنے سالوں بعد ان کے ہاتھ کانپے تھے ان کا دل لرزا تھا۔اس بیٹی سے بے شک انہیں پیار نہیں تھا لیکن اس کی ایسی بربادی۔وہ لاکھ آزاد خیال سہی لیکن یہ حدود سے آگے تھا۔
یہ ابلیسیت کا آخری درجہ تھا۔
“تم مجھے سمجھا رہے مجھے منع کررہے ہو۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی تم میرے غلام ہو زوار۔۔”
گرے آنکھوں میں چمکتے آگ کے شعلوں نے آج زوار علوی کو دہلایا تھا۔
“میں تمہارا غلام ۔ ہاں۔۔میں ہوں میں تمہارا غلام لیکن میری بیٹی نہیں میں تمہیں یہ نہیں کرنے دوں گا۔ہرگز نہیں کرنے دوں گا۔”
انہوں نے لیپ ٹاپ یکدم جھپٹا اور دور اچھالا۔
جبکہ شارف ابدال ان کے عمل پر ساکت ہوئے۔
یو بلڈی ۔۔۔۔۔۔”زیرِ لب کئی گالیاں اوع ایک زور دار تھپڑ انہوں نے زوار علوی کو مارا اور خود سے دور دھکیلا۔
وہ بھاری جسامت کے شخص تھے۔اپنا توازن برقرار نہ رکھنے پر وہ پیچھے کی جانب گرے۔
سر دیوار سے اچانک ٹکرایا تو زمین و آسمان آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔
شارف لیپ ٹاپ اٹھانے کے لیے جھکے جب زوار علوی نے ٹانگ مار کر لیپ ٹاپ ایک بار پھر زمین بوس کیا۔
شارف ابدال کا خون کھول اٹھا تھا۔آنکھوں میں لپکتے شعلوں سے انہوں نے زوار علوی پر قہر آلود نگاہ ڈالی۔آج ان کا اہم فرد ہی ان سے بغاوت کی جنگ کا آغاز کررہا تھا۔اور یہ ان کے لیے نقصان دہ تھا۔
لیپ ٹاپ کی سکرین پر پڑی خراشیں اس کی سکرین کو تاریک کرگئی۔
“وٹ دا ہیل۔۔تم سب گھٹیا دو ٹکے کے لوگوں نے میرا بنا بنایا پلان تباہ وبرباد کرنے کی ٹھان لی ہے۔”
ایک زور دار بھاری بوٹ کی ٹانگ انہوں نے زوار علوی کے سینے پر ماری۔
زوار علوی درد سے تڑپے تھے۔
آج اتنے سال بعد انہیں درد کا احساس ہوا تھا۔احساس ہوا تھا کہ ایک بار یہی ظلم وہ سدرہ بیگم کے ساتھ کرنے والے تھے۔اور آج پلٹ کر ماہ تاب پر آیا تھا۔
“تم سب لوگوں نے میرا کام برباد کردیا۔تمہاری دونوں بھگوڑی بیٹیاں مجھے چکمہ دے کر بھاگ گئی۔
شارف ابدال کو بہت ہلکا سمجھ لیا تھا۔
وہ سمجھتی ہیں شارف ابدال عام آدمی ہے نہیں شارف ابدال انہیں بتائے گا کہ وہ شیطان کا دوسرا روپ ہے۔وہ دونوں میری غلام ہیں۔ان دونوں کی زندگی کا دردناک انجام طے نہ کیا تو میرا نام بھی شارف ابدال نہیں۔”
ایک زور دار ٹھوکر انہوں نے زوار علوی کو ماری۔
درد کی ایک لہر وجود میں دوڑی ۔پچھلے چھ سالا مناظر جیسے آنکھوں میں گھوم آئے۔
مشل۔۔۔ماہ “ایک سسکی سی ان کے لبوں سے ابھر کر معدوم ہوئی۔آج ان دو پریوں کی یاد شدت سے آئی تھی۔
شارف ابدال طنزیہ مسکرائے۔
“تمہارا مرنا اب ضروری ہوچکا یے زوار علوی۔کیونکہ تم بھی بھگوڑے بننے والے ہو۔بننے والے کیا تم بن گئے ہو۔”
وہ اردگرد دیکھتے نفسیاتی انسان لگے۔
یکلخت ان کی نظر لیپ ٹاپ پر گئی۔
“شٹ۔۔یہ تم نے میرا نیو لیپ ٹاپ برباد کردیا۔انہوں نے دانت پیسے۔
“میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔گھٹیا پاگل آدمی۔”پوری قوت سے انہوں نے وہ لیپ ٹاپ ان کے سر پر مارا۔
خون کا فوارہ ابلتا زوار علوی کی پیشانی کو گیلا کرگیا۔
ایک بار پھر زور دار وار انہوں نے زوار علوی کے سر پر کیا تھا۔
پے درپے وہ کئی وار کرتے ہذیاتی انداز میں چلارہے تھے ۔نفیس طبعیت شارف ابدال اس وقت ابلیسیت کی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ در دیوار جیسے اس سفاکیت کی بو کو بمشکل سہار پائی تھی۔
گھر میں پھیلا نیم اندھیرا محسوس کیے وہ شام کا ہاتھ تھامے اندر کی جانب بڑھی۔
وہ رات گئے لوٹے تھے۔
شام نے سہارے کے طور پر اس کے گرد بازو پھیلائے تو وہ جھینپتی ہمقدم ہوئی۔
یکلخت سیڑھیوں سے اترتے عاہن کو شام نے حیرت سے دیکھا۔
“بھائی! جانا ضروری ہے۔ماہ کو مشل کے روم میں بھیج دیں ۔آپ آئیں میرے ساتھ۔”
وہ عجلت میں بولتا باہر کی جانب بڑھا جب ماہ تاب خوف سے سفید پڑی۔
“ن نہیں شام۔۔شش شارف۔۔نہیں آپ نہیں جائیں گے۔وہ آپ کو نقصان پہنچادے گا۔”
اس کی بازو دونوں ہاتھوں سے تھامتی وہ خوف سے شام کی بازو سے چپکی تھی۔
“کچھ نہیں ہوگا میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔عاہن میرے ساتھ ہے۔گھبراؤ مت!”
اس کا گال تھپتپائے اس نے بازو چھڑوایا۔جب وہ نفی میں سرہلائے مزید قریب ہوئی۔
باہر گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو اسے ایمرجنسی کا احساس شدت سے ہوا۔
“ماہ میں جلدی آؤں گا جاؤ مشل کو دیکھو وہ اکیلی ہوگی۔”
عجلت میں اسے چھوڑتا وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھا تھا۔
کیا ہوا ہے؟” تم اتنی عجلت میں کیسے؟”عاہن کی تیزرفتاری پر شام بھی چونکا۔
“شارف ابدال نے زوار تایا پر حملہ کردیا ہے۔پیشانی مسلے بمشکل بولا۔
عاہن نے ضبط سے آنکھیں اور مٹھیاں میچیں ۔
میں اسی لیے چاہتا تھا اس کے خلاف جلد ازجلد ایکشن لیں لیکن۔۔۔اور یہ تو ہونا ہی تھا۔ابلیس اپنے ساتھ کبھی بھی ساتھی نہیں رکھتا۔”
“بھائی !! اس پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں ہے۔میں حیران ہوں اس آدمی کی زوار تایا سے دوستی کیسے اور کیونکر ہوگئی۔؟یہ آدمی نہایت مشکوک اور خطرناک ہے۔صد شکر ہے کہ ماہ تاب اور مشل وقت پر یہاں تک پہنچ گئیں۔ناجانے وہ دونوں کس مصیبت میں گرفتار ہوجاتیں۔؟”
“ہماری لاعلمی اور ان سے بےفکری نے ہمیں آج یہ دن دکھایا ہے کاش میں اپنی تکلیف کو بھول کر ایک بار پلٹ جاتا ۔۔
اس کے لہجے میں مفقود پشیمانی پر عاہن نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
دونوں کےپاس آج لفظ نہیں تھے۔
عاہن نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی۔کچھ دیر میں وہ فلیٹ کے قریب تھے۔
جس وقت وہ اندر داخل ہوئے زوار علوی کا خون بہہ کر اردگرد ندی بنا گیا ۔کئی سال پہلے کا منظر شام کی آنکھوں کے آگے گھوما۔جب ایسے ہی ماہ تاب سیڑھیوں سے گری تھی۔اور خون اردگرد پھیلا تھا۔
فلیٹ کا دروازہ کھلا تھا جبکہ چیزیں اردگرد بکھری تھیں۔جبکہ شارف ابدال ناجانےکہاں چلے گئے تھے۔
زوار تایا!!” عاہن نے نیچے جھک کر ان کی سانس چیک کی۔
بھائی سانس چل رہی ہے جلدی کریں انہیں لے کر جانا ہوگا۔ان کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے ۔
عاہن کی چیخ پر شام ان کے قریب جھکا تھا ۔
