Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

شارف ابدال سے الوداعی کلمات ادا کرکے اس نے ایک بے قرار سی نظر پورے ہال پر ڈالی۔
جاتے ہوئے وہ اس بےرحم لڑکی کو دیکھنا چاہتا تھا۔
سب لوگ موجود تھے لیکن ماہ تاب علوی کہیں نہیں تھی۔
میک اپ آرٹسٹ بھی باتوں میں مصروف تھا۔
وہ سرجھٹکتا باہر نکل آیا۔جب کہ دیبا کو مستحسن صاحب پک کرنے والے تھے۔
شارف کو بھی ماہ کی کمی محسوس ہوئی تو انہوں نے میک اپ آرٹسٹ سے استفسار کیا جس کا اس نے محض روم کی جانب اشارہ دے کر ادا سے جواب دیا۔۔شارف ابدال جھرجھری لیتے اندر کی جانب بڑھے جب دیبا نے انہیں ایک بار پھر روکا تھا۔
مسٹر شارف!! ” بیسٹ آف لک آپ کا یہ کمرشل انشاءاللہ بہت ہٹ جائے گا۔اور پرفیومز کے سٹاک کے لیے تھینکیو سومچ۔۔۔”
شارف ابدال کو وہ خاتون کافی متاثرکررہی تھیں۔
ان کا پراعتماد انداز نازک سراپا ساڑھی میں نمایاں تھا۔
وہ مسکرا کر دوبارہ ان سے محوِ گفتگو ہوئے تھے۔
ایک کافی پلیز۔۔۔” شارف ابدال نے انہیں آفر کی تو وہ سر اثبات میں ہلاتی دو سٹیپ اوپر سائیڈ پر موجور چئیر پر بیٹھی۔
یہیں کافی پینا چاہتی ہیں آپ؟؟”
شارف دبا سا مسکرائے۔ “
محسن بہت اچھی کافی بناتا ہے۔نیکسٹ ٹائم آپ کی فیورٹ جگہ پر ٹرائے کریں گے۔دراصل میرے ہسبنڈ مجھے پک کرنے والے ہیں۔اور میرا چھوٹو سا بیٹا ماما کو نہ پاکر طوفان مچادے گا”۔
اوکے۔۔””شارف ابدال لب دبائے بولے تو دیبا مسکائی تھیں۔
“اندر مس ماہ تاب ہیں ۔انہیں بھیج دیجیے گا”۔
پاس کھڑے ایک لڑکے کو کہتے وہ دوسری چئیر پر بیٹھ گئے۔


سیاہ مرسڈیز کا دروازہ کھولے وہ گاڑی میں سوار ہوا۔گاڑی کو سپیڈ سے بڑھاتا وہ گھر کی جانب روانہ ہوا تھا۔پچھلے تین چار دن سے وہ مصروفیت کے باعث فلیٹ پر ہی تھا۔یہاں سے گھر بھی نزدیکی پر تھا۔
گاڑی کی روانگی کے ساتھ شہرام کی سوچیں بھی روانہ ہوتی ان لمحوں میں کھو گئی تھی۔
گاڑی پورچ میں رکی تو وہ گاڑی لاک کرتا چابی گارڈ کو دیتا خود اندر بڑھا۔
ماہ تاب نے گاڑی رکنا محسوس کیا تو گہرا سانس لے کر ایک بار پھر ورد جاری کیا۔
ایک منٹ کے لیے بھی اس کی زبان نہیں رکی تھی۔
اس رب کی پکار آج اس نے شدت سے کی تھی کہ اللہ پاک نے اس کا یقین ایک پل کے لیے بھی ڈگمگانے نہیں دیا تھا۔
گارڈ لوک وغیرہ چیک کرتا جب وہ ڈگی کی جانب آیا تو ماہ تاب تیزی سے باہر نکل کر آئی ۔
گارڈ یکلخت پیچھے ہوا اور حیرت سے سامنے موجود لڑکی کو دیکھا جو سہمی ہوئی تھی۔
“کون ہو تم؟ صاحب کی گاڑی میں کیا کررہی۔ ؟”ہو۔گن نکال کر اس نے سامنے تانی تو ماہ تاب کا رہا سہا سانس بھی رک گیا تھا۔
اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا جہاں شاندار گھر نمایاں تھا۔
وہ گارڈ کو دھکیلتی اندر بھاگی تھی۔
“اے لڑکی رکو۔۔رکو۔۔”وہ تیزی سے اندر بھاگتی جھپاک سے لاؤنج میں غائب ہوئی تھی۔
شام سیڑھیوں کی جانب بڑھتا ٹھٹک گیا تھا۔
ماہ تاب۔۔۔” بے ساختہ ایک سرسراہٹ سی لبوں سے نکل کر معدوم ہوئی۔
شام۔۔”وہ گہرے سانس لیتی بمشکل اس کا نام ادا کرپائی تھی۔
شام کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے اور وہ تیزی سے نیچے آیا۔
تم۔۔۔۔” مقابل کی نگاہ میں سردپن تھاجبکہ وہ حسرت زدہ سی اس کے نقوش دیکھ رہی تھی۔
تم یہاں کیوں اور کیسے آئی ہو”۔
“سر یہ میڈم آپ کی گاڑی کی ڈگی سے نکلی ہیں۔میں ان سے پوچھ ہی رہا تھا کہ یہ اندر بھاگ آئی۔”
جاؤ تم۔۔۔میری کزن ہے یہ۔۔” گارڈ کو باور کرواتا وہ دوبارہ ماہ کی جانب مڑا۔جس کا چہرہ میک اپ میں بھی سفید پڑ رہا تھا۔
کون ہے شام؟؟” سدرہ بیگم سامنے انجان لڑکی کو دیکھتی حیران ہوئی۔
تم کون ہو؟؟” اس کے ابھرے میک اپ سے سجے نقوش میں وہ ماہ تاب کو پہچان نہیں پائی تھیں۔
“چچ چچی۔۔۔چچی۔۔میں ماہ تاب۔۔”سدرہ بیگم کو سامنے پاتی وہ ضبط چھلکاتے نین بہاتی ان کے سینے سے آلگی تھی۔
“چچی میں ماہ تاب ہوں۔آپ کی ماہ تاب شام کی جاناں چچی۔۔۔”
اپنے سینے پر ہاتھ رکھتی وہ جیسے انہیں یقین دلوانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔
ماہ۔۔۔۔”بے تابانہ وہ بازو حائل کرنے لگی جب شام نے اسے بازو سے جکڑ کر سامنے کیا۔
“خبردار جو تم نے اپنے یہ جھوٹے آنسو بہائے۔کیوں آئی ہو یہاں اور میری گاڑی میں کیوں چھپی تھی؟ کیا مجھے ایک بار پھر تباہ کرنا چاہتی ہو؟”۔
سرد نگاہوں سے اسے گھورتا وہ دھاڑا تو ماہ تاب سہمی تھی۔
“نہیں۔۔نہیں شام۔۔”
“چپ کرو۔جاؤ یہاں سے۔۔۔”
“شش۔۔شام۔۔میری بات سنیں پلیز۔۔۔میں آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہوں۔”
“شٹ اپ۔۔۔کچھ نہیں سننا میں ابھی شارف ابدال کو فون کرتا ہوں۔تمہیں اس وقت اپنے سسر کے پاس ہونا چاہیے تھا۔جو ناجانے تمہیں ڈھونڈنے میں ناجانے کہاں خوار ہورہا ہوگا۔”
کاٹ دار لہجہ سنتی وہ خوف سے سفید پڑی۔۔
“پلیز۔۔پلیز۔۔شام۔۔انہیں مت بلائیے گا۔۔پلیز۔میری بات سن لیں۔”
یکلخت وہ پاؤں میں گرتی اس کے سیاہ جوتے تھام گئی۔
شام سن ہوا۔بے ساختہ قدم پیچھے لے کر اس نے دھڑکتے دل پر قابو پایا۔جو اس کے عمل سے شدت سے دھڑک اٹھا۔
وہ تو پر اعتماد لڑکی تھی پھرآج کیا حالات تھے وہ اس کے پاؤں میں گر کر معافی کی طلبگار تھی۔
“شام اس کی بات سنو۔۔۔وہ کافی ڈری ہوئی ہے۔”
سدرہ بیگم اس کی کیفیت سمجھ گئی تھیں۔ اسے سیدھا کرتی سینے سے لگا کر انہوں نے اس کا سر تھپکا۔
ایک ٹھنڈک بھرا تاثر تھا جو سدرہ بیگم کے دل میں امڈ آیا تھا۔
ماہ تاب نے سختی سے سدرہ بیگم کو پکڑا تھا جیسے ان سے دور جانے کا غم ہو۔
“ماں یہ ڈری نہیں ہوئی آپ نہیں جانتی یہ لڑکی کیا چیز ہے۔۔۔۔۔” سخت الفاظ کہنے کی چاہ اس نے شدت سے لب بھینچ کر دبائی تھی۔
ہال میں یکلخت مجمع جم چکا تھا۔دادا دادی۔۔سعادت علوی بھی حیران سے تھے۔
دادا۔۔۔” ماہ حسرت زدہ نگاہ لیے سسک اٹھی تھی
دادا کانپتے ہوئے آگے آتے وہ دادا کے سینے سے لگی۔ان رشتوں کے لیے وہ کئی سال تڑپی تھی۔
شام اس کا سب تماشہ نہایت ضبط سے دیکھ رہا تھا۔
“دادا یہ آپ کی نام نہاد پوتی اپنے سسر سے چھپ کر آئی ہے۔اسے کہیں واپس چلے جائے میں آپ اپنے گھر میں اب کوئی تماشہ نہیں چاہتا۔”
اس کی دھاڑ پر وہ ان کے سینے سے لگتی سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔
“مجھے کہیں نہیں جانا میں یہی رہنا چاہتی ہوں۔”وہ چیخ کر بولتی شام کا پارہ مزید بلند کرچکی تھی۔
کیوں کس حیثیت سے کون ہو تم؟۔۔”شام کی دھاڑ اس سے بھی بلند تھی۔
“رکو تم ایسے نہیں مانو گی میں ابھی مسٹر شارف کو کال کرتا ہوں”۔
وہ موبائل نکالتا ان کا نمبر تلاشنے لگا ۔ماہ تاب نے آگے آکر اس کا موبائل چھین کر دور اچھالا۔
اس کی بے باک حرکت پر اس نے سخت آنکھوں سے ماہ کو دیکھا۔
کیا بدتمیزی ہے؟”۔موبائل کی ٹوٹی سکرین دیکھ کر وہ دھاڑتا ماہ کے نزدیک ہوا۔
“میری بات سن لیں پھر جو مرضی کیجیے گا۔”وہ سرخی سوجی آنکھوں سے اسے دیکھتی سسکی تھی۔
“کیا سنوں کہ تم اپنے نام نہاد سسر کے ساتھ خفیہ میٹنگز بھگتاتی ہو۔شوہر کا کچھ اتا پتہ نہیں ہے۔اور یہاں اپنے سسر سے چھپ کر میرے کردار کو داغ دار کرنے آچکی ہو۔۔”
“نہیں ہے وہ میرا سسر کوئی شوہر نہیں ہے میرا۔۔جھوٹا آدمی ہے وہ۔۔۔سب فریب ہے۔ ظالم سفاک دردندہ ہے وہ۔۔۔۔”
شام سے بلند آواز میں چیختی وہ شدت گریہ سے روئی تھی۔
شام ساکت رہ گیا تھا۔
دروازے سے اندر آتا عاہن بھی ساکت رہ گیا تھا۔
ماہ۔۔۔”
“یہ دونوں بہنیں عذاب کی طرح ہماری زندگی میں پھر سے نازل ہوگئی ہیں۔”
دانت کچکچائے وہ اندر آیا۔
شام پھٹی آنکھوں سے ماہ کو دیکھ رہا تھا۔
“میں جانتی ہوں یہ سچائی قبول کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن میں سچ بول رہی ہوں پلیز مجھے اس شخص سے بچالیں اب جو کرسکتے ہیں آپ ہی کریں گے شام آپ کو اللہ کا واسطہ ہے پلیز مجھے شارف سے بچالیں”۔
وہ گڑگڑاتی ہوئی زمین پر ڈھے گئی ۔
شام نے سرعت سے نگاہ پھیری۔اور عاہن کی طرف آیا اس کا موبائل لیتا وہ اوپر کی جانب بڑھ گیا۔
وہ اس لڑکی کی کوئی بات سننے میں انٹرسٹ نہیں رکھتا تھا۔یاپھروہ اس لڑکی کو ایسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔


“مسٹر شارف لگتا ہے میرے ہسبنڈ آئے ہیں میں انہیں اندر بلاتی ہوں اور ایک ادنیٰ سا تحفہ بھی ہے جو آپ کی شایانِ شان نہیں لیکن آپ کو پسند آئے گا۔”
شارف ابدال کو کہتی وہ باہر کی جانب بڑھی جب ان کے موبائل کی بپ بجی تھی۔
“دیبا پچھلے ہال کی سی سی ٹی وی فوٹیج فوراً سے پہلے ڈیل کروائیں۔
شارف ابدال کو خبر نہیں ہونی چاہیے۔اور انہیں باتوں میں لگا کر فوراً کام کریں۔
شام علوی۔۔”
عاہن کے نمبر سے میسج دیکھ کر وہ چونکی اور ایک نگاہ شارف پر ڈالی جو کافی کا آخری گھونٹ بھرتے اٹھنے ہی والے تھے۔
شام کبھی ایسے نہیں کہتا تھا ضرور کچھ گڑبڑ ہوئی تھی۔اور عاہن کے نمبر سے میسج آنا یقیناً کچھ گڑبڑ تھی۔
وہ تیزی سے باہر نکلی تھیں۔
محسن۔۔”دروازے میں ہی کھڑا تھا۔ان کا خاص آدمی تھا جو کافی معاملات سنبھال لیتا تھا۔
“محسن پچھلے دو گھنٹوں کی فوٹیج جلدی سے ڈیل کرو۔جاؤ۔۔۔کوئی بات مت کرنا۔پلیز۔۔جاؤ۔۔۔جلدی۔۔”
دبے لفظوں میں کہتی وہ گاڑی کی جانب بڑھی۔جہاں مستحسن صاحب موجود تھے۔
گفٹ لائے ہیں آپ؟؟” مستحسن صاحب سے استفسار کرتی وہ معاذ کی جانب متوجہ ہوئی جو ماں کو دیکھ کر مچل اٹھا تھا۔
انہوں نے مسکرا کر گفٹ دیبا کو دیا اور ان کی معیت میں اندر بڑھے۔
جہاں شارف ابدال چکر کاٹ کر پیشانی مسل رہے تھے۔
دیبا وہ ماہ تاب میک اپ روم میں تھی ابھی تک نہیں آئی۔آدھا گھنٹہ ہوچکا ہے۔
“واٹ ماہ تاب؟۔۔ وہ روم میں ہی ہوگی رکیں میں دیکھتی ہوں ان سے ملیں یہ میرے ہسبنڈ ہیں۔”
وہ مستحسن صاحب سے ملواتی خود اندر بڑھی۔
پل بھر میں وہ معاملہ سمجھ چکی تھیں۔
شارف ابدال کو گڑبڑ کا احساس تو کافی پہلے ہوا تھا لیکن دیبا جیسی خوش مزاج عورت نے انہین اٹھنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔
محسن کنٹرول روم سے باہر آتا دوبارہ ملازم کے ساتھ باتوں میں مشغول ہوتا کن آکھیوں سے اشارہ بھی فراہم کرگیاتھا۔


انہوں نے پورا ہال بیک ایریا ہر جگہ دیکھ لیا تھا۔لیکن ماہ کا کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔
“مسٹر شارف کہیں مس ماہ تاب کڈنیپ تو نہیں ہوگی”۔دیبا کے گہرے انکشاف پر شارف ابدال چونک گئے تھے۔
ماہ تاب اگر ایسی حرکت کرتی بھی تو کم ازکم کچھ ایسا ثبوت ضرور پیش کرتی جس کے عوض وہ اندازہ لگاپاتے کہ وہ خود گئی ہے۔
“وہ یہاں کسی کو نہیں جانتی نہ ہی کسی سے ان کی دشمنی ہے۔پھر وہ کیسے کڈنیپ ہوسکتی ہے؟”۔
ان کا ضبط جواب دے رہا تھا ان کی چابی کی گڑیا ایسے کیسے کہیں غائب ہوسکتی تھی۔
اس کا تمام سازو سامان وہی تھا۔کچھ بھی ادھر ادھر نہیں تھا۔
شارف ابدال پولیس کی مدد بھی نہیں لے سکتے تھے۔اتنا رسکی کام وہ چاہ کر بھی نہیں کرسکتے تھے۔
پیشانی مسلتے وہ چئیر پر دراز ہوئے تو دیبا بھی ان کے قریب آئی۔
ہال نما اس پیلس میں ہر سہولت تھی اگر نہیں تھی تو سیکیورٹی کی سہولت۔۔”
شارف ابدال کا بلڈ پریشر ہائی ہورہا تھا وہ چاہتے تو زمین آسمان ایک کردیتے۔لیکن انہیں فلحال ضبط رکھنا تھا۔
آئی تھنک ماہ تاب اپنی سسٹر کے پاس ہوسکتی ہیں۔شارف ابدال کی قیاس آرائی پر دیبا نے حیرت سے انہیں دیکھا تو وہ مشل کا نمبر ملاتے بے لگام گھوڑے کی طرح چکر لگاتے خود کو ہلکان کررہے تھے۔
دوسری جانب مشل کا انکشاف بھی ان کی سب امیدوں پر پانی پھیر گیا تھا۔
مشل کو انہوں نے بمشکل مطمئن کیا تھا۔
وہ اپنی سسٹر کیطرف چلی گئی ہیں۔دیبا کو جواب دیتے وہ بمشکل چہرے کی شادابی بحال کرپائے۔۔
اور خود اس ہال نما پیلس سے نکل آئے جس نے انہیں ترقی کے ساتھ ساتھ تنزلی بھی عطا کردی تھی۔


رات سے صبح ہوئی تو ماہ تاب بھی جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
گیسٹ روم میں وہ تمام رات سہمی رہی تھی۔
اسے اب بھی یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ اس درندے کی قید سے نکل آئی ہے۔
“وہ اس وقت ایک سہمے ہوئے پرندے کی مانند تھی جو کئی سال ظلم سہتے پنجرے میں گزار دے۔اور جب اڑے تو اس کے آدھ پر کٹے ہوں۔لیکن اس میں آزادی کی بغاوت اس حد تک بھری ہوتی ہے کہ وہ آدھ کٹے پروں کے ساتھ ہی اونچائی کی پرواز بھر لیتا ہے۔
اور وہی بغاوت اسے کامیابی سے نوازتی ہے۔”
اور آج ماہ تاب آدھے کٹے پرندے کی مانند تھی ۔جس کا پور پور زخمی تھا لیکن اس میں شام سے معافی مانگنے کی لگن آزادی کی بغاوت شدت سے تھی۔
تبھی وہ آج اس سفاک انسان کی آنکھوں میں دھول جھونکے یہاں موجود تھی۔
چچی صبح ہوتے ہی اس کے روم میں آئی تو وہ ڈر کراچھلی تھی۔
رات اس کے ہلکے انکشافات ہی ان کو دہلاگئے تھے اگر مزید سچائی جان لیتی تو ناجانے کیا حالت ہوتی۔
چچی ۔۔۔پلیز مجھے جانے کا مت کہیے گا۔وہ درندہ میرا قتل کردے گا۔”
وہ ان کے سامنے ہاتھ جوڑے لاچار ہوئی۔”دڑو نہیں ماہ تاب تم یہاں محفوظ ہو۔شاید اللہ بھی چاہتا تھا کہ تم اس ظلم سے رہائی چاہو۔کیونکہ اس پر ہمت تم نے خود کی تھی۔
“وہ کہتے ہیں ناں ہمت مرداں مددِ خدا”۔
اسے سینے سے لگائے وہ نرمی سے اس کی پشت تھپکتی اپنے ساتھ کا مان نہایت مطمئن طریقے سے دے رہی تھیں۔
“چچی میں موت کے دہانے پر تھی۔لیکن اس دن شام کو دیکھا تو مجھے لگا کہ اتنی جلدی موت کیسے ابھی تو معافی مانگنی ہے بہت سے معاملات ٹھیک کرنے ہے۔
چچی مجھے معاف کردیں میں نے شام کا یقین نہیں کیا میں نے اپنے ان ماں باپ کا یقین کیا جن کا مجھے کبھی یقین نہیں کرنا چاہیے تھا ۔جن کی وجہ سے میں خود برباد ہوگئی۔”
وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر روئی تو سدرہ بیگم کو اسے سنبھالنا مشکل ہوا۔
صبح خیزی کا عادی شام علوی دروازے سے ہی پلٹ گیا تھا۔
کچھ تو تھا جو اوجھل تھا۔ کچھ تو تھا ماہ تاب کی روح پیوند زدہ تھی۔
چھ سال پہلے جس بری طرح اس نے شام کو توڑا تھا۔ وہ اب اس لڑکی پر یقین نہیں کرسکتا تھا۔
لیکن شام علوی کو یہ بھی اندازہ تھا کہ ماہ تاب علوی نے جھوٹ بولنا کبھی نہیں سیکھا تھا۔
وہ شام کی جاناں تھی۔ماہ تاب جھوٹی فریبی ہوسکتی تھی لیکن جاناں کی روح شفاف پانی کی مانند تھی۔


شارف ابدال نے اپنے ذرائع استعمال کرکے معیز رؤف پر بھی نظر رکھی تھی۔ماہ کا موبائل بھی چیک کیا تھا۔چار پانچ دن سے اس کا معیز سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
آخر ان سے کہاں غلطی ہوئی تھی ۔پرسوچ سے وہ رات بھر سونہیں پائے۔
دیبا معاذ کی وجہ سے کچھ دیر بعد ہی گھر جاچکی تھیں۔اس وقت وہ ہوٹل میں تھے سیگریٹ پھونکتے انہوں نے ہر پہلو سے سوچا تھا۔لیکن کوئی سرا ہاتھ آنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
“ماہ تاب اگر تم نے یہ بغاوت خود کی ہے تو میری درد ناک سزائیں بھگتنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔کیونکہ شارف ابدال اپنی من پسند چیز توڑ مروڑ دیتا ہے لیکن کسی کے حوالے نہیں کرتا۔تمہیں واپس آنا ہوگا شارف ابدال کا خوف ایسے ہی تمہارے ذہن سے ختم نہیں ہوسکتا۔”
موبائل فون کی بیل پر انہوں نے جھٹکے سے فون اٹھایا تو دوسری جانب مشل تھی۔
شارف گہرا سانس بحال کرتے چہرے کی شادابی بحال کیے محوِ گفتگو ہوئے۔
شارف ماہ مل گئی؟” اس نے پہلا سوال ہی یہ کیا تھا۔
“ہاں وہ دراصل واش روم میں لوک ہوگئی تھی۔ایڈ بھی فلحال میں سٹاپ کروارہا ہوں۔دراصل مجھے اس میں کچھ چنجز کروانے تھے”۔
آپ بتاؤ اتنی صبح فون۔؟” جھوٹ سچ کی آمیزش کے ساتھ وہ مشل سے استفسار کرتے حیران ہوئے تھے۔
“شارف میں آئٹم سونگ کے لیے سلیکٹ ہوگئی ہوں۔”
عاہن کا سراپا ذہن کی سکرین پر لہرایا تو وہ سہمتی ادھورا سا بولی۔
اس پورے عرصے میں یہ خبر شارف ابدال کو گہرا سکون دے گئی تھی۔
ڈیٹس گڈ۔۔۔!! میں پرے کروں گا کہ مشل علوی آسمان کی بلندیوں کو چھولے۔” ان کے دئیے گئے اعتماد پر مشل کا رہا سہا ڈر بھی ختم ہوا تھا۔
مشل بالکل عبیحہ مراد کی کاپی تھی۔انہیں اس لڑکی پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی۔ٹیڑھی کھیر تو ان کے لیے ماہ تاب تھی۔لیکن ناجانے کیوں اس لڑکی پر وہ سختی تو کرتے تھے لیکن ایک اندیکھی حدود بھی متعین اسی کے لیے کی گئی تھی۔
کیا وہ لڑکی ان کے دل تک رسائی رکھتی تھی یا پھر وہ ایک ضد تھی ایک چیلنج تھی ۔
انہیں آج کسی بھی طرح ماہ تاب کو تلاشنا تھا۔اس کے لیے انہیں زمین آسمان بھی ایک کرنے پڑتے تو وہ بھی کر گزرتے۔


دادا۔۔۔۔” عاہن دانت پیسے بدر علوی کے کمرے کی جانب آیا۔ “دادی۔۔یہ زوار علوی کیا چیز ہیں۔کیا یہ آپ ہی کے بیٹے ہیں اور یہ دو نمونیاں آپ ہی کی پوتی ہونے کا شرف رکھتی ہیں؟۔
میرے بابا کہیں دوسری مخلوق سے تو نہیں ہیں؟”
الٹے سوال نہیں کرتے عاہن۔۔”ْ
دادی نے اسے گھورا تو خفگی سے انہیں دیکھتا وہ دادا کی جانب مڑا۔
“ْقسم سے دادا آپ مجھے اپنی قسم میں نہ باندھتے تو میں اس لڑکی کا حشر بگاڑ کر رکھ دیتا۔”
بدر علوی عینک صاف کرتے چونک گئے تھے۔
کل رات کے اختتام کی طرح صبح کا آغاز بھی نہایت ہنگامہ خیزی سے ہوا تھا۔
اب کیا ہوا ہے؟”
بدر علوی نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
“وہ آپ کی نام نہاد پوتی ناگن ڈانس کرنے کی ٹھان چکی ہے۔ادھر بڑی مصیبت گیسٹ روم میں موجود ہے”۔
ہاتھ کو ناگن کی طرح ہوا میں لہراتا وہ دونوں نفوس کے لبوں پر اس پریشان کن ماحول میں بھی لبوں پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔
“بیٹا میں نے محض یہی کہا تھا کہ پیار سے کسی گلاس ٹوٹے ٹکرے بھی اکھٹے کرو گے تو وہ بھی مکمل ہوجائیں گے۔میں جانتا ہوں زوار کی بے راہ روی نے ان کے کچے ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔میں ان بچیوں کو کم ازکم باپ جیسا بنتے نہیں دیکھ سکتا۔
ماضی میں کی گئی میری چند کوتاہیاں میرے گلے کا طوق بن گئی ہیں۔لیکن اس طوق کو میں ہی ہٹانے کی لگن میں اس مقام پر آیا ہوں کہ اللہ نے مجھے تم دونوں جیسی نعمتوں سے نواز دیا ہے۔”
اچھا آپ پریشان مت ہوں۔گریٹ عاہن علوی آپ کو سینٹی نہیں دیکھ سکتا۔
ان کے کندھے کے گرد بازو پھیلائے وہ ان کی ساری پریشانی اپنے کندھوں میں جذب کرگیا تھا۔
“میرا دوسرا کام بھی آج ہی ہوجانا چاہیے”۔
آنسو رگڑتے وہ عاہن علوی کے کندھوں پرایک اور بوجھ ڈال گئے تھے۔
آپ کی سوچ کا بڑے بھیا کو پتہ چلا ناں تو انہوں نے گھر کا حشر نشر بگاڑ ایک منٹ میں بگاڑ دینا ہے۔ “ْ
آنے والے وقت کے حوالے سے وہ انہیں ڈراتا خود بھی ہاتھ باندھے پرسوچ ہوا تھا۔
“کچھ نہیں ہوگا۔تم بس میرا کام کردینا۔دگنا پیسہ دوں گا۔بلکہ چائے پانی کے لیے ایکسٹرا”۔
دادا۔۔۔۔”وہ محض جنجھلایا تھاجبکہ اسے سینے سے لگاتے وہ قہقہ لگااٹھے تھے۔
“وہ ابھی اپنے دادا کو جانتا نہیں ہے۔دیکھنا ماہ کو غائب کرنے کی دیر ہے وہ خود نکاح کی حامی بھرے گا۔


پاپا ماہ ماما کب واپس آئیں گی؟”وہ احد کو سکول سے پک کرکے گھر کی جانب لے جارہا تھا۔
جلد آئیں گی آپ یہ جوس فنش کرو۔
اشارے پر گاڑی رکی تو معیز ماہ کو سوچتا باہر دیکھنے لگا۔
کچھ فاصلے پر اسے چند فقیر عورتوں کا جھرمٹ نظر آیا تو اس نے تاسف سے سرہلایا۔
معیز رؤف نے نگاہ پھیر کر دوبارہ اسی جانب دیکھا۔اور شاید کربِ آشنائی کا در واہ ہوگیا تھا۔۔
بکھرے بال ٹوٹی چپل نازک مٹی اٹے پاؤں کو بمشکل ڈھانپ رہی تھی۔
میلا کچیلا ڈوپٹہ لیے وہ لڑکی عبیحہ مرادہی تھی۔
عبب۔۔۔عبیحہ۔۔۔یہ کیسے۔۔۔؟؟”
وہ سامنے دیکھتا اشارے کھلنے کی ٹائمنگ دیکھنے لگا۔جہاں ابھی ایک منٹ باقی تھا۔
اس نے ایک بار پھر بے قرار نظر ڈال کر اپنے شک کی تصدیق چاہی تھی۔وہ عبیحہ مراد ہی تھی وہ اسے کیسے نہ جان پاتا وہ اس کی پہلی نظر کی محبت تھی۔
“بیٹا میں بس ایک منٹ میں آیا۔”
دل کی بےقراری پرقابو پائے وہ باہر آیا جب اشارہ کھلنے کی وجہ سے ہارن بجنے لگے۔۔وہ ساتھی فقیرنی سے باتوں میں مشغول تھی۔
معیز نے کرب سے آنکھیں میچ کرآنکھوں کی سرخی چھپائی اور دوبارہ گاڑی میں بیٹھا۔
اتنے سالوں بعد وہ نظر آتی معیز رؤف کو ایک بار پھرانہیں تلخ یادوں کی جانب دھکیل گئی تھی۔