Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
“میں نے کہا تھا ناں دادا۔۔میں ایک تیر سے دو شکار کرتا ہوں۔۔اور دیکھیں دونوں شکار عین نشانے پر لگے ہیں۔”
“
دادا کو دیکھتا وہ چئیر پر بیٹھادونوں ٹانگیں اوپر نیچے باندھ کر ٹیبل پر ٹکائی۔
“مجھے پتہ تھا عاہن علوی کے کرتوت کبھی نہیں سدھر سکتے۔”
سعادت علوی کمرے میں داخل ہوتے چلائے تھے۔
کم آن ڈیڈ ۔۔میں نے اب کیا کیا؟”
وہ معصوم بنا تھا۔
“اس بچی کو اتنا کیوں رلایا ۔اس کی حالت دیکھی تھی۔اور اب پھر اسے الجھا کر آگئے ہو۔”
عاہن نے آنکھیں گھمائی۔
“اور جو اس نے پچھلے چوبیس پچس سال میں مجھے رلایا اس کا حساب کون دے گا۔”
“وہ تم سے چھوٹی ہے کیا دنیا میں آنے سے پہلے ہی وہ تمہیں ستانے لگی تھی۔”
عاہن نے مدد طلب نظروں سے دادا کو دیکھا۔جبکہ دادی اپنی ہنسی دباتی دونوں باپ بیٹے کی نوک جھونک دیکھ رہے تھے۔
“اچھا بحث چھوڑو آگے بتاؤ کیا کرنا ہے؟” رخصتی دھوم دھام سے یا پھر سادگی سے کرنی ہے؟”
دادا نے عاہن کو دیکھا جو اپنی سیاہ آنکھوں سے شاطرانہ مسکرا کر باپ کا خون جلا رہا تھا۔
“آفکورس سادگی بھری دھوم دھام سے۔۔میرا مطلب ہے ابھی خاموشی سے رخصتی ہونی چاہیے۔میڈیا تو ہر خبر کو ایسے اچھالتا ہے جیسے یہ ان کا پیدائشی حق ہے۔اور پھر ریسپشن بھائی کا اور میرا اکٹھا ہوجائے گا۔”
دادا نے بے ساختہ سرہلایا۔
“تو کیا تم اکیلے اسے لینے جاؤ گے۔؟”
سعادت علوی مشکوک ہوئے۔
“افکورس ڈیڈ اس بلا کو اور کون لائے گا۔”
“سیدھی طرح بتاؤ۔اور میری بات کان کھول کر سن لو اگر تم نے مشل کے ساتھ کوئی زیادتی کی تو میں خود تمہیں پولیس کے حوالے کروں گا۔”
سعادت علوی کی واضح دھمکی پر اس کا دل چاہا اس چڑیل کے بال کھینچ کر اسے بری طرح مارے جو اس کے باپ کی آنے سے پہلے ہی چہیتی بہو تھی.
“نہیں آپ دادا دادی اور میں جاؤں گا ۔بھائی کو میں لے جانا چاہتا تھا لیکن شارف ابدال کو دیکھنا ان کے لیے اذیت ناک ہوگا۔جو میں ہرگز نہیں چاہتا۔”
قدرے سنجیدگی سے بولتا وہ آگے کا لائحہ عمل بھی طے کررہا تھا۔
“سر۔۔آج بلڈنگ کے سامنے ایک مشکوک عورت کو دیکھا گیا ہے۔دیکھنے میں وہ کوئی عام سی لڑکی تھی۔لیکن سر اس کا انداز عام نہیں تھا۔وہ ساتویں منزل کو نہایت غور سے دیکھ رہی تھی۔جیسے وہاں جانا چاہتی ہو۔”
آر جیکٹس کے مینجر کی کال پر شارف ابدال نے پیشانی مسلی۔
“مسائل ہر جگہ سے اسے آزما رہے تھے۔
“سیکیورٹی کو کیا میں نے گھاس چرنے کےلیے رکھا ہے۔ اور تم لوگ کیا وہاں آنکھیں بند کرکے بیٹھے ہو۔جو ہر ایرا غیرا وہاں پھٹکنے لگا ہے۔
جس کے پاس ” پاس” ہو اسی کو وہاں جانے دو۔
میں شینل کو کہہ کر معاملات سنبھالتا ہوں۔تم سیکیورٹی کو زرا سختی سے وارن کرو۔”
اوکے سر۔۔۔۔”
“میں زی سے کہتا ہوں وہ بھی معاملات سنبھالے گا۔اس”
کیا ہوا ہے؟ شارف سب ٹھیک ہے ؟”
وہ لوگ اپنا قیام مشل کے فلیٹ میں ہی کرچکے تھے۔
“کچھ نہیں مینجر کہہ رہا تھا میٹریل میں کچھ مسلہ ہورہا ہے۔اور کچھ نیو ڈیزائن بھی لانچ کرنے ہے تو ماڈلز کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
“مشل کو کہو کال ملائے ہرکام کچھ الگ طریقے کریں گے تاکہ شام علوی کو شک نہ ہو۔”
زوار علوی نے اثبات میں سرہلایا۔
کچھ دیر میں وہ دادا کو کال ملا کر اس نے دادا کو خوشی کی نوید سنائی تھی۔کہ وہ خود اب رخصتی چاہتی ہے۔
بہتی آنکھوں سے آنسو کی رمق شارف کو جھوٹ لگی لیکن دادا کی آواز پر عاہن کی ستمگری شدت سے یاد آئی تھی۔ان کی آواز میں واضح خفگی تھی۔
زوار علوی اتنے عرصہ بعد باپ کی آواز سنتے جیسے بے اختیار ہوئے تھے۔
جذبات پر قابو پائے وہ دم سادھے بیٹھے رہے۔
“میں خود بھی یہی چاہتی ہوں عاہن علوی کہ ہماری رخصتی ہوجائے تاکہ میں اپنی بے عزتی کا اور دادا کے سامنے شرمندگی کا بدلہ تم سے اچھے سے لے سکوں ۔تمہیں ناگن ڈانس نہ کروایا تو میرا نام بھی مشل علوی نہیں۔”
کال بند ہوتے ہی ایک عہد اس نے تخیل میں کیا تھا۔
یہاں جو فقیر لوگ رہتے ہیں؟ ان کے بارے میں کچھ پتہ ہے؟”
ایک یقین کی جھلک نے ہی اسے آج ہمت دی تھی۔احد کو وہ حفاظتی طور پر ساتھ لایا تھا۔شارف ابدال کو وہ حامی بھرچکا تھا کہ وہ میڈیا میں بیان دے گا۔
تبھی وہ مطمئن سا احد کے ساتھ اب دنیا چھاننے والا تھا۔
سرمئی سی آنکھوں والا وہ بچہ سب کو اپنی جانب متوجہ کرلیتا تھا۔
آدمی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“صاحب ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا وہ فقیر کم بہروپیے زیادہ ہوتے ہیں۔
خیر اگر آپ کو پتہ کرنا ہے تو آگے ایک کوارٹرز ہیں وہاں پیشہ ور فقیر رہتے ہیں۔”
معیز نے گاڑی کا رخ اسی جانب موڑا تھا۔
کچھ فاصلے پر ہی کچی آبادی شروع ہوچکی تھی۔حیرت طلب بات تھی معیز رؤف نے اس جگہ کبھی آنے کا گمان بھی نہیں کیا تھا۔اور اس کی محبت یہاں در بدر تھی۔
عبیحہ مراد۔!!
“کش تمہاری خواہشات تمہیں برباد نہیں کرتی کاش تم ایک بار میری آنکھوں میں دیکھ لیتی۔۔تو آج سرشار سی میری پناہوں میں ہوتی۔”
تخیل کی دنیا میں اسے پکارتا وہ بدحال سے عبیحہ مراد کے لیے خوار ہونے والا تھا۔
وہ احد کو ساتھ لیے کچی گلیوں کی جانب جانے لگا۔وہ تو اس کا نام بھی نہیں جانتا تھا۔شاید اتنے عرصے میں اس کی پہچان بھی کھوچکی تھی۔
مختلف لوگوں سے عبیحہ مراد کا نام تلاشتا وہ گلی گلی گھوما تھا۔
لیکن ابھی تلاش ختم ہونے میں وقت باقی تھا۔حقیقت عیاں ہونے میں کچھ دشواریاں تو ممکن تھی۔
وہ گلی سے مڑتا امید کھو کر باہر نکلا جب ایک اجنبی نسوانی پکار نے معیز رؤف کے قدموں کو روکا تھا۔
شارف ابدال نے فلحال معیز کو چپ رہنے کا کہا تھا وہ مشل کی رخصتی پہلے چاہتے تھے۔تاکہ اپنی گیم وہ آرام سے کھیل سکیں۔
شبنم بیگم کو مشل کی رخصتی کی اطلاع دی گئی تو وہ حسبِ معمول بھڑکی تھیں۔لیکن لاہور میں بیٹھ کر وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی۔
چند دن کی بات ہے وہ واپس لوٹ آئے گی۔
زوار علوی نے مشل کو دیکھا جو چھوٹے سے لاؤنج میں موجود مکمل طور پر کھانا کھانے میں مگن تھی۔
شارف ابدال باہر گئے ہوئے تھے۔
“مشل بیٹا آپ اپنی شاپنگ وغیرہ کرلیتی۔بے شک یہ رخصتی کسی پلان کے تحت ہے پر دنیا داری بھی ضروری ہے۔”
پاپا میں نے۔۔۔”
دروازے پر ہوتی بیل نے دونوں کو چونکایا۔
زوار علوی دروازے کی جانب بڑھے۔
دروازے میں ایستادہ عاہن علوی کو دیکھتے وہ حیران ہوئے جو سیاہ پینٹ شرٹ میں سنہری تاروں والے بال ماتھے پر گرائے۔اپنی خوبروئی کی مکمل۔عکاسی کررہا تھا۔
کیسے ہیں تایاسسر۔”
ساری نفرت ساری کدورتوں کو ایک تہہ خانے میں بندکرتا وہ خوشگواری سے گویا ہوا۔
کھانا کھاتی مشل علوی کا ہاتھ بے ساختہ آواز پر رکا اور دل شدت سے دھڑکا۔
اس دن کی بے مروتی کے بعد ان کا واضح پہلا سامنا تھا۔
تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟؟” انہوں نے سختی سے استفسار کیا۔لہجہ ازلی رعونت آمیز تھا۔
“اوبویسلی تایا اپنی بیوی کا لہنگا پلس ہیوی جیولری لے کر آیا ہوں جو کل وہ پہن کر میرے گھر رخصت ہوگی۔”
وہ ہلکی سی گردن ترچھی کیے زوار علوی کا ضبط آزما رہا تھا۔
مشل نے کن آنکھوں سے اسے دیکھا۔ناجانے کیوں اس کی دن کی بے اعتنائی نے اسے کمزور کردیا تھا۔
“دروازے سے تو ہٹیں۔یہ ڈریس یہ جیولری سپیشل میری انوسینٹ وائف کے لیے ہے۔”
باکس اور بیگز اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے۔
اور مشل تم نے شیروانی نہیں لی؟”
سوالیہ انداز میں پوچھ کر اس نے آنکھوں میں مصنوعی خفگی بھری۔
اس کا بے باک انداز مشل علوی کی صندلی پیشانی نم کرگیا تھا۔
مشل نے خفگی بھری نگاہ مقابل پر ڈالی جو پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“کوئی من پسند شادی نہیں ہے جو تمہاری ڈیمانڈز پوری کی جائے ۔”
زوار علوی کے الفاظ پر اس نے بمشکل اشتعال دبایا۔
“من پسند نہ سہی لیکن شادی تو شادی ہوتی ہے اور شادی کے آرمان ایک مرتبہ ہی پورے کیے جاتے ہیں۔
لیکن خیر آپ سے امید رکھنے سے اچھا انسان کسی جانور سے امید لگالے۔”
مشل کا چہرہ اہانت سے سرخ ہوا اپنی جگہ چور سی بنی بیٹھی وہ کندھے سکوڑے نظر جھکا گئی۔
اپنی اوقات میں رہو عاہن۔۔”
زوار علوی دھاڑے۔
میں اپنی اوقات میں ہی ہوں۔کچھ لوگ دوسروں کے ساتھ فریب کرکے چھت چھین کر بھی اوقات کی بات کررہے ہیں تعجب ہے۔
اس نے ہلکی سی گردن جھکائی تو زوار علوی کی آنکھوں میں کرختگی بڑھی۔
کل چھ بجے تک تیار رہنا۔اور اگر کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو میں وہ حال کروں گا کہ تم اپنا چہرہ نہیں پہچان پاؤ گی۔
عاہن علوی کی سختی نے دھک سے دل کو ساکت کیا۔وہ پھٹی آنکھوں سے اس کے سخت لفظ سہارتی بمشکل ڈبڈباتی آنکھوں میں آنسوؤں کو روک پائی۔
تم میری بیٹی سے یہ کس لہجے میں بات کررہے ہو۔
اس کو کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب کرتے وہ دھاڑے تو عاہن نے فوراً ان کا ہاتھ کندھے سے ہٹایا۔
میں ایک ظالم قاتل کا ہاتھ اپنے وجود پر برداشت نہیں کرسکتا آئندہ احتیاط کیجیے گا۔
بھپرے انداز میں وہ آنکھیں نکالے غرایا تھا۔
زوار علوی نے اس کا گستاخ لہجہ پھٹی آنکھوں سے دیکھا۔
مشل ماحول میں بڑھتی گرمی کے باعث جھٹکے سے کھڑی ہوتی باپ کے پاس آئی۔ اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
جن کی آنکھیں سرخ ہوتی ضبط کا پتہ دے رہی تھی۔
اپنے باپ کو تھوڑا سمجھاؤ بیٹی کو رخصت کرنے والا ہے۔اتنی اکڑ داماد کے سامنے نہیں دکھانی چاہیے۔
سبز گلابی ہوتی آنکھوں میں سرد ارتکاز کا عکس انڈھیلے وہ مشل کی روح تک سنسناہٹ کا باعث بنا۔اس کا پل پل سرد روپ اس کی جان نکال رہا تھا۔
مشل نے لب وا کیے کچھ کہنا چاہا جب عاہن نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
سب چیزیں لایا ہوں کل چھ بجے تیار رہنا۔
محض تمہیں یہاں سے رخصت کروا کر لےجاؤں گا تمہارا کوئی ساز وسامان میرے ساتھ نہیں ہوگا۔
دھیان رکھنا کچھ بھی نہیں جائے گا۔محض دادا کی خواہش کے تحت میں تمہیں اپنا رہا ہوں ۔ورنہ میں تو تمہاری شکل دیکھنے کو بھی روادار نہیں تھا۔
اس کے چہرے پر پھیلی بیزاری اور اپنے لیے نفرت محسوس کرتی وہ سسکی تھی۔
عاہن مٹھی سختی سے بند کیے وہاں سے نکلا اور نیچے کی جانب بڑھا جہاں شام علوی اس کا انتظار کررہا تھا۔
اب کہاں جاناہے؟”
شام نے عاہن کو گاڑی میں سوار ہوتے استفسار کیا۔۔
“بھائی شاپنگ کرنے عاہن علوی کی شادی ہے۔
کوئی عام بات تو نہیں۔”
چہرے پر رونق بحال کیے وہ آئینے میں بکھرے بال سنوارنے لگا۔
شام نے گاڑی شاپنگ مال کی جانب موڑی جہاں وہ اگلے تین چار گھنٹے تک خوار ہوتے بھی مطمئن تھے۔اور مشل علوی گھر کی سکون بھری تنہائی میں بھی بے قرار تھی۔
قریب گیارہ بجے وہ کمرے میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر اس کی جان نکال گیا تھا۔بھورے نینوں کا بوجھل پن حیرت میں بدلا۔
ماہ تاب!! “یہ کیا کررہی ہو ؟ یہ انجیکشن؟ کیا کررہی تھی تم؟”۔
وہ سرنج بازو میں لگانے میں مگن تھی، جب شہرام یکدم دھاڑ کر اس کے قریب آیا،
ایک جھٹکے میں سوئی چھین کر دور اچھالی۔
باریک سی سرنج سفید بازو پر خراش ڈالتی دور جاگری تھی۔
وہ سسک کر بازو پر ہاتھ رکھے لب بھینچ گئی۔
یہ کیا حرکت تھی ماہ تاب ؟تم ڈرگز؟؟ اور یہ تمہارے پاس کہاں سے آئے؟”
بازو سے جکڑے وہ اسے روبرو کیے بھورے ارتکاز اس کی بھنورا سی آنکھوں میں گاڑےدھاڑا۔
بازو سے خون کی لکیر نکل کر کلائی کی جانب بہنے لگی۔
لیکن شہرام علوی کی تو نظر ہی چہرے پر تھی جو کچھ کمزور سا تھا۔آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے قریب سے نمایاں ہوتے تھے۔
اس نے آج چہرہ غور سے دیکھا تھا۔
“ماہ تاب علوی !! جواب دو؟ یہ کیا کررہی تھی تم؟”
وہ کندھوں پر گرفت مضبوط کیے پھر سے بولا، لیکن وہ دم سادھے اس خوبرو شخص کو دیکھے نینوں کی پیاس بجھاتی رہی، جس نے آج غصے میں ہی سہی لیکن قربت کا ایک لمحہ تو عطا کیا تھا۔اور ماہ تاب علوی تو روم روم جاگ اٹھی تھی۔باوری سی بنی وہ اس شخص کو دیکھتی سیر ہورہی تھی، شہرام کو اس پر پتھر کی مورت جیسا گمان ہوا۔ماتھے پر لکیریں ابھرنے لگی۔
اس نے ہلکا ساکندھوں کو جھٹکا ، لیکن وہ ہنوز سن کھڑی رہی تھی۔یکلخت اس کی نظر کلائی پر گئی ۔
جہاں خون کی لکیر سی بن گئی تھی۔
اففف !! وہ کلائی جکڑ کر سامنے کیے لب بھینچ کر اس نے دوبارہ اسے گھورا جو اب اردگرد دیکھتے بوکھلائی سی تھی۔
بازو سے جکڑے وہ اسے بیڈ پر لایا، چہرہ سپاٹ تھا جب کے بھورے نین کچھ مضطرب تھے۔،
فرسٹ ایڈ باکس لیےوہ دوبارہ قریب دراز ہوا اس کی قیمتی مہک فسوں خیزی طاری کرتی ماہ تاب کی سانسوں کو جیسے مہکا رہی تھی۔
خراش زیادہ گہری نہیں تھی۔کاٹن سے بلڈ صاف کرکے سنی پلاسٹ لگا کر اس نے دوبارہ ماہ تاب کی جانب دیکھا۔
بتاؤ ؟ وہ انجیکشن کیوں لگارہی تھی؟اور پلیز جھوٹ مت بولنا،اور ناجانے کتنے جھوٹ ہیں جو ہماری زندگی کو متاثر کرنے والے ہیں۔”
وہ چند ثانیے اس کے بولنے کا منتظر رہا، لیکن وہ جیسے لب سی کر بیٹھی تھی۔
بولو ماہ تاب!! وہ اس کی خاموشی سے چڑنے لگا تھا۔، “وہ مم مجھے ڈائباٹیز (شوگر)ہے،” بوکھلائی سی وہ نظر بھی جھکاگئی تھی
شہرام دھک سا پیچھے ہٹا، کلائی پر گرفت کمزور ہوئی، سماعت پر شبہ ہوا تھا۔
اس نے ماہ تاب کی جبین جکڑ کر چہرہ سامنے کیا، تت تم جھوٹ بول رہی ہوناں،،”” لبوں کی سرسراہٹ پربھی اسے شبہ سا ہواتھا۔
چند پل پہلے جو کمرہ مہک سا رہا تھا اب اندھیر سالگا۔
ماہ تاب نے نفی میں سر ہلایا، شہرام کا سر بھی بے ساختہ نفی میں ہلا۔
کہ کہہ دو جھوٹ ہے۔
اور نگاہ ایک بار پھر ان نینوں میں الجھ سی گئی جو شکوہ کناں تھے کہ دیکھو شہرام تم مجھے چھوڑ کر گئے تو کیسے کیسے روگ مجھے آلگے،۔
یہ تمہارا دل توڑنے کی سزا ہے، جوگن تو بن ہی بیٹھی تھی۔اس مرض کا روگ بھی لگابیٹھی ہوں۔ ہجر کی طویل تر خواری نے مجھے ہلکان کرکے رکھ دیا،کئی سالوں کی دشوار مسافت کے بعد اگر قرب نصیب ہوا بھی ہے تو مرض کے ساتھ،
شہرام کو وہ سیاہ ساگر رنج ،غم شکوہ ،شکایت کا سنگم لگے تھے۔
ؤہ اسے دیکھتا رہا تھا ، یہاں تک کہ ننھی سی نمی کی بوند بھورے نینوں میں چمک آئی۔، ماہ تاب کا سر نفی میں ہلا، وہ اسے چھونے کے لیے ہاتھ آگے بـڑھانے لگی تھی،
شہرام علوی نے اسے شدت سے خود سے لگایا ۔اورسینے میں سمولیا تھا۔
حصار مضبوط کیے وہ اس کے بالوں کو سہلائے بے چین تھا،اتنی بےچینی کے دھڑکن بڑھ کر ماہ تاب کو شہرام کے دل کی دھڑکن کانوں میں محسوس ہونے لگی۔
وہ سکون سے آنکھیں موند گئی تھی۔ساری فکر پریشانیاں کہیں جاسوئی۔
ایسا کیوں کیا ماہ۔۔۔کیوں ماہ۔۔۔” وہ ضبط سے بولتا ماہ کو اپنے سینے میں سموتا ہلکان ہورہا تھا۔ ہاتھ پشت پر رقص کرتے اسے مزید اپنے سینے میں سمو کر اس کو وجود دل میں سمانا چاہتا تھا۔
“مم میں نے نہیں شام میں تو بڑھنا چاہتی تھی۔لیکن اس مرض نے اجازت نہیں دی۔۔”
کمر کے گرد بازوحائل کیے وہ بھاری ہوتی آواز میں بولی تو ایک آنسو بہتا ماہ تاب کے سنہری بالوں میں جذب ہوا۔
اس کے سر پر لب رکھے وہ اس کی پشت سہلاتا خود بھی سسک اٹھا۔
لب دبا کر اس نے اندر بڑھتی کھولن کو بمشکل دبایا۔
اس کے قرب کے خوشبو محسوس کیے وہ سکون سے آنکھیں موند گئی۔
اس کے انتظار میں وہ اب تک نہیں سوئی تھی۔لیکن اب سینے پر سر رکھ کر تھکن غالب آنے لگی تو وہ آنکھیں موند گئی ۔
ماہ تاب!! شام اسے بے حس وحرکت محسوس کرتے سیدھا کرنے لگا جب اس کے نیند سے بوجھل نین اس کی کیفیت کو عیاں کرگئے وہ شاید سونا چاہتی تھی۔
شام نے چہرہ ہاتھوں میں بھر کر شدت سے اس کے ماتھے پر لب رکھ کر اپنے لمس کی چاشنی سے اسے مکمل نواز دیا۔
یہ دوسرا لمس تھا جو ماہ تاب علوی کی صندلی پیشانی پر ستارے روشن کرگیا تھا۔
اس کو بانہوں میں بھرتا وہ بیڈ پر دراز ہوا۔
اپنے سینے پر سررکھے اس نے سنہری زلفوں میں انگلیاں چلائی ۔
ماہ تاب کا دماغ پرسکون ہونے لگا تھا وہ نیند کی گہری وادیوں میں گم ہوتی حواس گنوا گئی تھی۔
جاناں………” شام کی پکار جاگ گئی اس شخص نے اسے آج جانان کہہ کر پکارا تھا۔وہ نیند میں دور سے آتی سرگوشی سنتی مسکرائی۔سماعت پر گمان تھا کہ وہ شخص جانان کہہ رہا ہے۔
لیکن نیند کا غلبہ شدید تھا اس کی قربت میں سرشار وہ استحقاق سے سینے پر سر رکھتی سوچکی تھی۔
شام علوی عقیدت سے جھکتا ان نرم خو رخسار پر اپنے لبوں سے کئی پھول کھلائے سسکا تھا۔
یہ موذی مرض اور وہ نازک جان۔۔وہ کس بات کا غم مناتا۔
ماہ تاب نیند میں کسمسائی تو اس نے دوبارہ انگلیاں بالوں میں گھمائی۔
اور کنپٹی پر سلگتا لمس عطا کردیا۔
اس کا موذی مرض شام علوی کے دل سے سب شکوے دھوتا چلا گیا۔وہ اس مرض میں لپٹی نازک سج لڑکی کو سزا دیتا بھی تو کیا جو پہلے ہی سزاؤں کی ماری تھی۔
لیکن وہ اسے تھوڑی سی بے اعتنائی دکھا کر سزا کی تھوڑی سی جزا تو دے ہی سکتا تھا۔
ماہ تاب کے نرم گداز وجود کو بانہوں میں جکڑتا وہ آنکھیں موبد چکا تھا لیکن کل وہ اسے چیک اپ کے لیے بھی لے جانے والا تھا۔وہ اپنی جانان کو ہجر و درد کی ہلکی سی رمق بھی نہیں دینا چاہتا تھا۔
ماضی۔۔۔”
شارف ابدال کو دوبارہ پولیس کا نوٹس آیا تو انہوں نے پہلی فلائٹ سے فرانس جانے کی ٹکٹ بک کروائی۔
ماہ تاب علوی باپ کی حقیقت جانتی اب تک صدمے میں تھی۔
گھٹنوں کے گرد ہاتھ لپیٹے وہ سسکتی تڑپتی اس شخص کو پکارتی رہی اس کے گرد دعاؤں کے حصار باندھتی رہی۔
باہر اٹھتا شور سن کر وہ حیران ہوئی تو شبنم بیگم کے ساتھ زوار علوی شاید کہیں جارہے تھے رات کے دس بج رہے تھے اس وقت ان کا جانا تعجب کی بات تھی۔
ریلنگ پر کھڑے وہ ان کو جاتا دیکھتی رہی۔
یکلخت اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا۔
دم سادھے وہ مختلف خیالات بناتی بگاڑتی رہی۔
قریب گیارہ بجے وہ سیاہ شال میں لپٹی ایک چھوٹے سے بیگ کے ساتھ گھر سے نکلی تھی۔
ارادہ ایک بار شام علوی سے ملنے کا تھا تاکہ معافی مانگ کر اس کے ساتھ کی بھیک مانگ لے۔
گارڈ کو دھوکا دیتی وہ سڑک پر تیزی سے بھاگی تھی۔
نقاہت کی وجہ سے وہ بھاگتی بے حال ہونے لگی۔
گارڈ نے اسے بھاگتے دیکھ کر اپنے سر کو فون ملایا تھا۔
جہاں زوار علوی شارف ابدال کو ائیرپورٹ چھوڑ کر واپس پلٹ رہے تھے۔روح فرسا خبر نے ان کا پارہ ہائی کیا۔
انہوں نے شارف ابدال کا نمبر ملایا تھا۔
شارف ابدال دوہری مشکل میں پھنسے بے بس تھے۔
“فکر نہ کرو میں زی کو اس کے پیچھے روانہ کرتا ہوں۔
تم پریشان نہ ہو اس کی طبعیت اسے زیادہ بھاگنے کی اجازت نہیں دے گی۔”
شارف ابدال بیچ راہ میں پھنس گئے تھے فلائٹ کی کچھ دیر میں راونگی تھی۔
زی جو نیند میں غرق تھا شارف ابدال کے حکم اور انکشاف پر جھٹکے سے اٹھ گیا۔
بارہ بجے کے قریب وہ گھر سے ماہ تاب علوی کی کھوج میں نکلا تھا۔
وہ رکشے میں بیٹھی رب تعالیٰ کو پکارتی بے حال تھی۔
رکشے والے نے اسے پرانے محلے اتارا تو وہ بے قرار سی اس راستے کی جانب بڑھی جہاں اس کا بچپن گزرا تھا جہاں وہ شام علوی کو رلا کر نکلی تھی۔
گھر کی جگہ وہاں ریت پتھروں کا ملبہ دیکھتی وہ اندر بڑھتی وحشت بھری چیخوں کو بمشکل لبوں پر ہاتھ رکھتی روک گئی ۔
اس کے باپ نے تو اس گھر کا نام ونشان مٹادیا تھا۔
دل چاہا اس ملبے کی قبر پر پھوٹ پھوٹ کر روئے اور سسک کر یہی مرجائے۔
اس کا باپ اپنی اولاد کا نہیں بن پایا تھا۔تو ان رشتوں کا کیا بنتا۔ثابت ہوا تھا زوار علوی کی رگوں میں سفاکیت بھری تھی شیطانیت بھری ہوئی تھی۔
دل چاہا سب دروازے کھول کر لوگوں سے اس مہربان شخص کا پوچھے۔اس کو چیخ چیخ کر پکارے جس کی جدائی اس کی روح کو کمزور کررہی تھی جو اپنے کسی نام ونشان کو چھوڑے اس کی رگوں کو کاٹ رہا تھا۔
رات کی سنسان بھری خاموشی میں وہ واپس مڑی۔وہ اب گھر نہیں جانا چاہتی تھی وہ شارف ابدال جیسے درندے کے ساتھ اپنی زندگی برباد نہیں کرسکتی تھی۔
وہ دنیا میں دربدر ہوجاتی وہ اسے دل وجان سے منظور تھا۔
ساری رات وہ سڑکوں پر گھومتی سسکتی رہی آنکھیں سوجتی بے حال ہوچکی تھیں۔
سڑک کے کنارے وہ بیٹھی اونچے محل شان و شوکت کے باجود وہ بے آسرا تھی۔جس کے اپنے ہی ماں باپ اس کے دشمن تھے
دولت کی بڑھتی ہوس نے انہیں حرام حلال کی تمیز بھلادی تھی۔
رات کے تین بجے وہ سڑک پر بیٹھی اگلی منزل سوچ رہی تھی جب ازلی آوارہ پیشہ ور لوگ اپنی شیطانیت دکھانے سڑکوں پر گھوم رہے تھے۔
گاڑی کی تیز روشنی اور شور وغل سنتی وہ چھٹی حس کا خطرہ اچھے سے بھانپ چکی تھی۔
بیگ سنبھالے وہ ان کی پہنچ میں آنے سے پہلے ہی بھاگی۔سانس پھولنے لگا لیکن اسے بھاگنا تھا۔تب تک جب تک وہ اپنی عزت ناموس نہ بچالیتی۔آنسو بہتے اس کی حالت زار کو عیاں کرنے لگے۔
سنسان سڑک سے وہ دوسری سڑک پر آئی۔تو سامنے آتی تیز ہیڈ لائٹ روشنی پر اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھاجو آنکھوں میں چھبن پیدا کرتی اس کے حواس چھین رہی تھی۔
بے ساختہ گاڑی کے ٹائر چرچرائے تو وہ بونٹ سے لگتی زمین بوس ہوئی۔
معیز رؤف جو ماہ تاب علوی کو نہایت بیزاری سے تلاشتا راتوں کو خوار ہورہا تھا۔
اس کی الجھی بکھری حالت اسے دلبرداشتہ کرگئی ۔
ماہ تاب کو تھام کر اس نے سیدھا کیا تھا۔
درد برداشت کرتی وہ اس کے ہاتھ ہٹائے دور ہوئی جب معیز رؤف نے بازو سے جکڑ کر اسے کھڑا کیا۔
اس کا چہرہ خوف سے سفید پڑگیا۔یعنی وہ پکڑی جاچکی تھی۔
“تم سب گھروالے کیا ایسے ہی شیطانیت بھرے پھرتے ہو۔شارف ابدال تو منانتے ہیں فطرتاً درندہ ہے۔لیکن تم سب کیوں درندگی پر اتر آئے ہو۔اگر کسی عاشق کےلیے بھاگ ہی رہی تھی کم ازکم انفارمیشن تو اس کی پوری نکالتی۔تمہاری دوست عبیحہ مراد تو بنا بھاگے اپنی زندگی تباہ کرچکی تھی پھر تم کیوں بھاگنے کی نوبت تک آئی۔تم بھی کسی چور راستے کا رخ کرلیتی۔”
ماہ نے اسے دور دھکیلا۔اور پھٹ پڑی تھی۔
“مم میں بھاگ نہیں رہی تھی۔۔میں اپنے باپ سے بچ کر بھاگی ہوں۔۔جج جو تمہارے باپ سے میرے نکاح کا ارادہ کیے بیٹھا ہے۔”
وہ چیخی تو معیز رؤف کی دنیا ساکت ہوئی۔یعنی اس دنیا میں صرف وہی مظلوم نہیں تھا۔۔اونچے محلوں میں رہنے والی وہ شہزادی بھی دکھ سے اٹی تھی۔
جس کی بوجھل روح معیز رؤف کو جکڑ چکی تھی۔اس کی لکنت زدہ زبان اس کا روگ عیاں کرگئی تھی۔
وہ پھیلی آنکھوں سے ماہ تاب کو دیکھتا رہ گیا۔
“پلیز مجھے بچالو۔۔میں شام کے پاس جانا چاہتی ہوں۔میں شارف سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔تمہیں اپنی ماں کا واسطہ پلیز مجھے اس کے پاس نہ لے کرجاؤ۔شام تکلیف میں ہے وہ مجھے پکار رہا ہے۔”
وہ فریاد گو ہوئی سسکی تھی۔
“تم رو مت پلیز۔۔میں کچھ کرتا ہوں۔”
اس نے فوراً اپنا موبائل سوئچ آف کیا تو ماہ تاب نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
میں جانتا ہوں شارف ابدال ایک ظالم سفاک شخص ہے جس نے ناجانے کتنے گھر تباہ کیے ہیں جس نے کئی معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر ان کو تباہ وبرباد کردیا۔”
“وہ تمہارا باپ بھی ہے۔””
ماہ تاب جھٹ سے بولی تو وہ طنزیہ مسکرایا ۔۔”
وہ میرے انکل یعنی میرے بدنصیب باپ کے بھائی ہونے کا شرف رکھتا ہے۔ایک گھر میں اللہ نے ایک فرشتہ صفت انسان اور ایک شیطان صفت انسان بھیج دیا تھا۔”
یعنی ان دونوں کی کہانی الگ نہیں تھی۔اس زیرِ زمین پر ہر شخص کی کہانی معیز رؤف ماہ تاب علوی سے مختلف نہیں تھی۔پھر چاہے وہ فرانس کی آزاد فضا سے آیا معیز رؤف ہو یا پھر لاہور شہر میں رہتی ماہ تاب علوی۔
“دیکھو ہم جھوٹا نکاح کریں گے۔
جانتی ہو انسان شدید غصے میں شدید ردِعمل کرتا ہے۔۔اور اس شدید عمل کا ردِ عمل بہت بھیانک ہوتا ہے”۔
صبح کا اجالا پھیل رہا تھا لیکن وہ دونوں اب بھی گاڑی میں تھے۔
مختلف خیالات کی اماجگاہ بنے دماغ سے وہ مختلف پلاننگ کرتے رہے۔
“نن نہیں مجھے شام کے پاس جانا ہے۔وہ میرا انتظار کررہا ہوگا۔وہ تکلیف میں ہوگا۔”
“جانتی ہو ماہ شام علوی میرا مسیحا بننے والا تھا۔
حسن اتفاق دیکھو تمہارا اور میرا مسیحا ایک ہی ہے۔
پچھلےکئی دنوں سے میں شارف ابدال سے چھپ کراس شخص کی کھوج میں نکلا ہوں۔لیکن کوئی امید پوری نہیں ہوئی۔
اور آج دیکھو قسمت اس موڑ پر لے آئی ہے کہ ہم دونوں ایک شخص کے لیے ہی دلبرداشتہ ہیں۔وہ شخص تو پھر رب کی خاص نعمت ہوئی جو سب اسے تلاش کر ہلکان ہورہے ہیں اور وہ کسی بیگانگی بھری راہوں میں خوار ہوکر ہمیں یاد کررہا ہوگا۔
کیونکہ جیسے ہمارے دل بے چین ہیں یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ تڑپ دونوں جانب برابر ہے۔”
وہ سانس لیے رکا تھا۔
“خیر ہم یہاں سے کورٹ جائیں گے۔ یہاں رشوت اتنی عام ہے کہ کسی کا قتل کرکے اس کے گھر والوں کا منہ پیسے سے بھر کر بند کردو۔وہ پیسے کی چاہ میں اس کی میت پر آنسو بہانا بھی بھول جائے گا۔
وکیل کی جیب میں بھی چند نوٹ بھریں گے۔تو وہ ہمارا کام آسانی سے کردے گا۔
نکاح جھوٹا ہی ہوگا۔کیونکہ میں جانتا ہوں تم شام علوی کی امانت ہو جسے میں کبھی نہ کبھی لوٹا دوں گا اور اپنی امانت میں جلد ہی پالوں گا۔بے شک وہ خیانت تو کرچکی ہے لیکن دل کمینہ سمجھتا نہیں ہے۔
خیر ہم جھوٹا نکاح نامہ کریں گے۔اس کی کاپی ہم تمہارے پاپا کو دکھائیں گے۔۔تمہیں محض اس وقت میرا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کو اشتعال دلانا ہوگا۔کیونکہ شارف ابدال جیسا عیار انسان یہاں نہیں ہے۔اور تمہارا باپ ایک کٹھ پتلی ہے جس کا اپنا کوئی دماغ نہیں ہے۔غصے میں ان کا اگلا عمل دیکھ کر تم خود حیران رہ جاؤ گی۔”
اس کی پریقینی پر ماہ نے حیرانگی سے اس کا چہرہ بھانپا جو سچائی کی عکاسی کررہا تھا۔
لیکن اس کے لیے گواہ بھی تو چاہیے۔
ماہ تاب اس دوران پہلی مرتبہ بولی۔
“فکر مت کرو پیسے سے سب ہوگا۔””
صبح کا عکس بڑھنے لگا تو زندگی رواں دواں ہونے لگی۔
انہوں نے کورٹ کا رخ کیا تھا۔جہاں ضمیر بیچتے وکیلوں میں سے ایک کا انتخاب کرکے جعلی نکاح نامہ تیار کروایا تھا۔
معیز کا موبائل بند تھا۔جس کی وجہ سے اس کی لوکیشن سرچ نہیں ہوپارہی تھی۔
معیز یہ فیک ہی ہے ناں۔۔”وہ اب بھی جیسے شکوک میں تھی۔
معیز نے سر اثبات میں ہلایا۔
سائن کرکے اس نے پین اس کی جانب بڑھایا۔
کچھ دیر میں جعلی نکاح کی فوٹو کاپی کروا کر وہ گھر کی جانب رواں دواں ہوئے تھے۔
&_&
جاری ہے
