Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
نیور مسٹر شارف!! “آپ اپنی حدود سے بڑھ رہے ہیں۔میں مسٹر چارلی کے ساتھ بالکل بھی ٹائم سپینڈ کرسکتی،۔”
وہ جھٹکے سے کھڑے ہوتے چیخی،۔
چارلی نے ناسمجھی سے ماہ تاب کو دیکھا جو پھٹی آنکھوں سے شارف ابدال پر چیخ رہی تھی،۔
ماہ تاب علوی بیہیو یور سیلف!!” انہوں نے جسٹ ایک کافی کے لیے کہا ہے،۔اور یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہی ہوگا،۔”
شارف ابدال اسے کے نزدیک آئے ، ان کی دبی دبی غراہٹ نے ماہ تاب کا چہرہ زرد کیا،۔
واٹ !! “یعنی میں آپ کے فائدے کے لیے اپنی عزت کا سودا کردوں،۔سیریسلی شارف؟آ۔۔آپ کو لل۔لگتا ہے” ، زبان کچھ زیادہ ہی آج لڑکھڑائی سی تھی،۔
“ماہ تاب کنٹرول وہ سامنے ہیں ہمارے، تم اتنا اوو ری ایکٹ کیوں کررہی ہو”،۔شارف ابدال اب بھی سختی پر آمادہ تھے۔،
مسٹر شارف ،،” میں ایک لـڑکی ہوں خدارا میری عزت کا کچھ مقام ہی میری نظر میں رہنے دیں”۔
وہ ہمت مجتمع کیے انہیں دور دھکیلتی چیخی تھی،۔اس کے دور دھکیلنے پر شارف ابدال نے سختی سے لب بھینچے، آنکھیں جھپک کر گہرا سا تاثر اندر اتارا،۔
“عزت!! کونسی عزت ماہ تاب ؟” ہاہ ، مجھے حیرت ہورہی ہے،۔اپنی نمائش کرنے والی لڑکی عزت کی بات کررہی ہے،۔بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکی عزت کی بات واٹ آ جوک”
وہ قہقہ لگاتے چند قدم پیچھے کھسکے۔
کئی آنسو گال پر بہہ کر بے مول ہوئے۔
نو مور ٹئیرز!! “اپنی حیثیت تمہیں پتہ ہے، پھر فضول کی ضد کیوں کرتی ہو،۔؟”
وہ لڑھکتے آنسوؤں کو اپنی پوروں پر لیتے جذب سے بولے۔
اس نے ہاتھ جھٹکنا چاہا لیکن شارف نے وہی ہاتھ تھام کر دبایا،۔
“تم اپنی حیثیت جاننا چاہتی ہوناں؟ رکو میں بتاتا ہوں تم کیا ہو؟”
وہ سر نفی میں ہلائے گہری سانس لیتے ماہ تاب کو کوئی نفسیاتی انسان لگے،
“تم بیوی تو معیز کی ہو لیکن تم پر معیز سے زیادہ میرا حق ہے، تمہارا اور میرا رشتہ جانتی ہو کیا ہے؟”
وہ زرا توقف کے لیے رکے ، کرسٹل گرے آنکھوں میں اس وقت جلتے شعلے ماہ تاب کی رنگت متغیر کررہے تھے۔
“تم میری رکھیل ہو مس ماہ تاب علوی، یو آر مائی مسٹریس” وہ چارلی کو دیکھتا استہزائیہ بولا،۔
چھن سے جیسے کانچ کے ٹکرے فضا میں بکھر گئے،۔
یہ ٹکرے شاید ماہ تاب علوی کی ذات کے ہی تھے،۔
ماہ تاب کو سانس لینے میں دشواری ہوئی۔اس کا انگریزی میں کہنا چارلی نے واضح سنا تھا۔
رکھیل کا مطلب سمجھتی ہو ناں۔۔۔” وہ گھور سیاہ آنکھوں میں گہرائی سے جھانکتے ماہ تاب کو حقیقت ازبر کروا رہے تھے۔
“تمہارے باپ نے خود تمہارا سودا کیا تھا، یاد ہے تمہیں وہ شرمسار تھا ۔ وہ میرے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا، اس نے کہا تھا کہ میں اب سے تمہارا سرپرست ہوں۔تم میری ذمہ داری ہو،۔اور جب کوئی ذمہ داری مل جاتی ہے ناں تو پھر شارف اس ذمہ داری میں کوئی لاپرواہی نہیں برتتا،۔”
اس کی بازو جکڑتے اس نے اپنے قریب کھینچا،۔اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے سسکی لیتی وہ بمشکل تھمی تھی،۔
چارلی بے ساختہ اٹھ کر ماہ تاب کی جانب آیا،۔
ہے شارف!! کول مین!! آئی انڈرسٹینڈ، “اگر یہ نہیں جاناچاہتی تو تم فورس مت کرو، میں زبردستی کا قائل نہیں ہوں”۔
چارلی ہاتھ اٹھائے شارف کو روک چکاتھا،۔
“ڈونٹ وری مسٹر چارلی!! میں زبردستی نہیں کررہا،مس ماہ تاب کو میس کری ایٹ کرنے کی عادت ہوچکی ہے”۔
شارف ابدال ازلی مسکراہٹ بحال کرتے ماہ تاب کو بازو کے نرغے میں لیتے چارلی کی جانب متوجہ ہوئے،۔
وہ گہرے سانس لیتی اکسیجن کی بحالی کے لیے تڑپی،۔فضا میں اکسیجن کم کیسے ہوتی ہے ، آج ماہ تاب علوی کو احساس ہورہا تھا،۔
“چارلی کو ہمیشہ شوخ چیزیں پسند ہیں۔اور ویسے بھی ایشین بیوٹی اپنی ہر ادا سے ہم جیسے جی دار لوگوں کو متوجہ کرلیتی ہیں۔”
چارلی کی پرشوق گہری سی نگاہ اب بھی ماہ تاب پر تھی، وہ شخص شاید نگاہوں سے ہی بھسم کرنا جانتا تھا،۔شارف اور چارلی اس وقت ماہ تاب کو خونخوار بھیڑئیے لگے، جو اسے نوچ لینا چاہتے تھے،،۔
کئی بار وہ میٹنگز میں گئی تھی، کئی بار اس نے یہ تعفن زدہ نظریں برداشت کی تھیں۔لیکن آج جو کیفیت تھی وہ شاید کبھی نہیں ہوئی تھی،۔
دل آج پھر اس شخص کی سچائی پر پچھتایا تھا، وہ تھپڑ شدت سے یاد آیا جو اس نے کبھی شہرام علوی کو مارا تھا، آج دل کررہا تھا وہ اپنے منہ پر مارے ،۔اور مار مار کر اپنے گال لال کرلے،۔
شارف نے بے ساختہ بازو پر شدت سے دباؤ ڈالا،۔
سسکی لیے اس نے سامنے دیکھا تو چارلی نیلی آنکھ کا کونا دباتا مسکرایا،۔
“ریلکس لیڈی کسی دن تم خود راضی ہوجاؤ گی، میں اس دن کا انتظار کروں گا،۔
اب میں چلتا ہوں ، یہ ڈیلز وغیرہ تو اب چلتی ہی رہیں گی،۔”
بائے ایشین بیوٹی۔۔۔”
اس کا گال تھتپائے وہ اپنے ساتھی کے ساتھ وہاں سے نکلتے چلے گئے۔
وہ کانچ کی نازک گڑیا جیسے آج کئی ٹکروں میں بٹی تھی،۔سیاہ بھنوروں میں طوفان امڈ آیا،۔
شارف ابدال بھی ماہ تاب کا بازو جکڑتے آفس روم سے نکل کر لفٹ کی جانب بڑھے تھے،۔
💞💞💞💞
دہکتی نگاہیں موبائل پر جمی تھیں۔دوسرے ہاتھ میں انگوٹھے اور انگلی کے درمیان دبی سیگریٹ کے وہ گہرے کش لیتا اندر بھڑکتی آگ مزید بھڑکارہا تھا۔
من میں شدت سے خواہش امڈ آئی کہ کاش وہ لڑکی اس کے سامنے آجائے اور وہ اس کا چہرہ تھپـڑوں سے لال کردے،۔اسے بتائے کہ وہ کن غلط راہوں پر چل نکلی ہے۔
وہ نہیں جانتا تھا وہ کہاں رہتی ہے؟نہ اسے شوق تھا جاننے کا، وہ اس لڑکی سے بے انتہا نفرت کرتا آیا تھا، محبت کا ایک پہلو بھی اس لڑکی کے لیے عاہن علوی کے دل میں نہیں تھا،وہ ساری دنیا سے محبت کرلیتا لیکن مشل سے محبت ناممکنات میں سے لگتا تھا،۔
مشل علوی نے اسے محبت کے نام پر ہمیشہ کانٹے فراہم کیے تھے، پھر وہ کیسے ان راہوں پر پھولوں کی برسات کرتا، وہ اسے نظر انداز کردیتا تھا۔
لیکن وہ اتنا بھی غافل نہیں تھا۔وہ خبر رکھتا تھا، بسا اوقات سہہ پانا اسے مشکل لگتا،لیکن عاہن علوی نے ان چند سالوں میں کچھ سیکھا ہویا نہ ہو ضبط کرنا اس شخص نے بہت اچھے سے سیکھ لیا تھا،۔
عاہن علوی وہ کندن تھا جو آگ یعنی صبر شکر ضبط کی بھٹی میں تپ کر سونا بنا تھا، اور جب انسان سونا بن جائے تو وہ کئی جذبوں سے ماورا ہوجاتا ہے۔
وہ لاکھ خوش مزاجی دکھاتا، لیکن اس کا دل آج بھی ان لمحوں میں مقید تھا جب اس کی ماں کے ساتھ ظلم ہونے جارہا تھا۔جب ان کی چھت چھین لی گئی تھی،جب وہ دوکمروں والے فلیٹ میں زمین پر سوتا تھا،۔کتنی محرومیاں تھیں جو محض اس لڑکی اور اس لڑکی کے باپ کی وجہ سے دیکھی تھی،۔
مشل علوی کی اس حقیقت کو اس نے اپنے جان سے پیارے بھائی سے بھی چھپالی تھی،۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ شہرام علوی جان پائے کہ وہ دو بہنیں انہیں برباد کرنے کر بعد بھی آباد ہیں۔وہ اپنے بھائی کو دوبارہ سنگ دل بنتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔
ماہ تاب کو اس نے بارہا کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر سرچ کیا تھا لیکن خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل پایا،۔
لیکن مشل علوی تو مکمل اس کی نظر کے حصار میں تھی،۔وہ اس کی زندگی کا اہم جزو تھی، بے شک نفرت کا رشتہ ہی بحال تھا لیکن وہ اس رشتے کو بھی بخوبی نبھاتا آرہا تھا،۔
دروازے پر ہوتی دستک پر وہ چونکا،۔
چہرے پر ہاتھ پھیرے وہ اٹھ کر دروازے کی جانب آیا۔
سامنے شہرام علوی کو دیکھ کر عاہن کی آنکھیں حیرت سے پھٹ سی گئیں۔
سامنے اپنی ساحرانہ شخصیت کے ساتھ شام علوی ایستادہ تھا،۔
بھائی!! ” سیگریٹ کو وہ پاؤں تلے مسلتا اس کے گلے آلگا،۔
شہرام نے مکمل اسے حصار میں لیا تھا،۔
بھائی آئی مسڈ یو سومچ.۔۔۔” ازلی انداز میں محبت کا اظہارکیے وہ آنکھیں نم کیے مسکرادیا تھا،۔شہرام کی
پدرانہ محبت عود کر آئی تھی،
گھر میں تو کم ازکم لحاظ کرلیا کرو،۔” وہ عاہن سامنے کرتا مصنوعی خفگی لیے بولا،۔
“بھائی میں تو کہتا ہوں آپ بھی ٹرائی کریں، قسم سے اس کا سویگ ہی الگ ہے”۔
وہ پیچھے ہوتا مسکرایا تھا کچھ پل کی تلخی اب طمانیت میں بدل چکی تھی،۔
“بھائی آپ کا نیو فوٹو شوٹ میں نے دیکھا ، قسم سے کیا کمال لگ رہے تھے،۔”
اممما۔انگلیوں کی پوروں پر ہونٹ رکھ کر شام کے گال سے لگاتا ایک بار پھر ہنسا تھا،۔
اس کا یہ بے تکانہ انداز بمشکل شام نے ہضم کیا،۔
بے ساختہ وہ شخص نگاہ میں گھوم گیا،۔جو کبھی اپنی کھلنڈری نیچر سے اسے متوجہ کرتا تھا۔
اندر آئیں بھائی۔۔۔” وہ اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے روم میں لے آیا،۔
بابا نے تمہاری شکایت کی تھی،
چھوڑو بھائی !! بابا کو تو عادت ہے،” عاہن ہاتھ جھٹکتا سیدھا کھڑا ہوا،۔
ویسے آپ میرا ڈرامہ دیکھ رہے ہے ناں؟؟
وہ یکلخت شام کی جانب گھوما،
بے ساختہ شام نے اپنے بال سہلائے اور آنکھ کو سکوڑا،۔
“پتہ تھامجھے، بلکہ یقین تھا کہ ساری دنیا عاہن علوی کی تعریف کردے گی، لیکن شام علوی یعنی میرا بھائی کبھی نہیں کرے گا،۔”
وہ نروٹھے پن سے ہاتھ اٹھا اٹھا کر بولتا شام کو مسکرانے پر مجبور کرگیا،۔
“اچھا کسی دن تسلی سے دیکھوں گا، بس فرصت میسر آجائے،”
“آپ کی فرصت کا عالم میں اچھے سے جانتا ہوں۔”
وہ سیگریٹ سلگائے دوبارہ کش لینے لگا۔
“خیر چند دن بعد شو سٹارٹ ہے تم وہاں مجھے نظر آؤ، خبردار جو کوئی بہانہ کیا تو”،۔
شام اسے قابو کرنا اچھے سے جانتا تھا،۔انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے وہ عاہن کو الجھا چکا تھا،۔
اوکے آئی ول ٹرائے!!! وہ ہنوز سرد سا بولا،۔
شام جانتا تھا چند منٹ بعد وہ پھر سے بے تکان بولنا شروع کردے گا۔
عاہن علوی کے بغیر میں شو سٹارٹ نہیں ہونے دوں گا۔
بابا سے مل کر آتا ہوں”۔اسے تنبیہہ کیے وہ کمرے سے نکلاتھا،۔سرجھٹکے وہ بیڈ پر چت لیٹا، چند پل کی خوشی کے بعد ایک بار پھر اس دشمنِ جان کا عکس آنکھوں میں سمٹ آیا تھا۔
💞💞💞💞💞
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے ماہ تاب کو جھٹکے سے زمین بوس کیا،۔
“تم اپنی حیثیت اب تک کیوں نہیں سمجھ پائی،۔تم کیوں بھول جاتی ہو کہ ماہ تاب علوی کا وجود کس لیے ابھی تک سانس لے رہا ہے۔کیا دیوار پر پینٹنگ کی طرح سجانے کے لیے میں نے اتنی خواری کی ہے۔
تمہاری وجہ سے آج میرا لاکھوں کا نقصان ہوتے ہوئے بچا ہے۔مسٹرچارلی کی نیچر اچھی تھی ورنہ تم نے تو سارا کام خراب کردیا تھا۔”
وہ ماہ تاب علوی کی جانب جھکے چیخ رہے تھے،۔
اس شارف ابدال سے بہت الگ، جو دنیا کو نظر آتے تھے۔اس وقت وہ ظالم صیاد تھا۔ایک ظالم درندہ جو اپنی نگاہوں سے ہی چیر پھاڑ دینا چاہتا تھا۔
ماہ تاب کا سانس پھول رہا تھا۔، رنگت متغیر ہونے لگی تھی،
تم نے صبح سے کچھ کھایا تھا؟”
وہ اس کی حالت دیکھ کر کچھ نرم پڑے،
ماہ تاب آنسو بہاتی محض زمین کو کھوجتی رہی،۔
وہ گل بدن ساحرہ اس وقت کرچیوں میں بٹی تھی،۔کھانے کا ہوش کسے رہتا ،۔
ؔماہ تاب میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔شارف ابدال مزید سختی پر آمادہ ہوئے۔
بہت ڈھیٹ ہو تم۔۔”وہ سرنفی میں ہلاتے بیڈ کی جانب آئے انٹرکام اٹھا کر انہوں نے کھانے کا آرڈر دیا،۔
اٹھو چینج کرو آئندہ اگر ایسی کوئی حرکت کی تو میں ہر لحاظ بھول جاؤں گا”،۔
وہ اب بھی زمین پر ساکت سی بیٹھی تھی،۔
شارف نے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بمشکل اشتعال دبایا۔
آگے بـڑھ کر اسے بازو سے جکـڑ کر بیڈ کی جانب لائے،۔
وہ کٹی ڈال کی مانند ان کے ساتھ گھسیٹ رہی تھی،۔
جیب میں رکھا شارف ابدال کا فون تھرتھرایا تو انہوں نے ماہ تاب سے توجہ ہٹا کر کال پک کی،
بولو!!
“واٹ دا ہیل!! کیا مصیبت ہے، شارف ابدال کو سب نے بہت ہلکا لے لیا ہے، میں بتاؤں گا اب ان سب کو کہ میں کیا چیز ہوں۔
رکو میں خود اسے ڈیمو دکھاتا ہوں۔سر کے بل واپس نہ آیا تو کہنا،۔”
ماہ تاب کی چھٹی حس جیسے بیدار ہوئی،۔
وہ تڑپ کر اٹھی ،۔بھاگ کر وہ شارف کی جانب آئی،
پپ پلیز شارف!! “لاسٹ وارننگ پلیز!! کچھ مت کرئیے گا میں چارلی کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرلوں گی۔۔پپپ پلیز شارف!! میں ہر بات مانوں گی۔،”
وہ ہاتھ جوڑتی شدت سے سسک اٹھی،۔
شارف نے جھٹکے سے رخ موڑ کر اسے حصار میں مقید کرکے ہتھیلی ہونٹوں پر جمائی،۔
وہ آنکھیں پھیلاتی نفی میں سرہلائے جھٹپٹائی،۔بھوک نے پہلے ہی حالت خراب کی تھی مزید کسر اس شخص کی سختی نے نقاہت طاری کی،
“جانے دو اسے پانچ منٹ کے اندر وہ گھر واپس آئے گا،۔
فکر نہ کرو اس کی ساری کمزور ڈوریوں کے سرے میرے ہاتھ میں ہیں”۔
وہ ماہ تاب کو سختی سے مقید کیے سرگوشیانہ اس کے کانوں میں بولا تھا،۔
جھٹکے سے اس دوبارہ دور پھینکتا وہ فون جیب میں رکھے مڑا تھا،
روم فریج سے سرنج اور ایک چھوٹی سی بوتل لیے وہ ماہ تاب کی جانب آئے۔
پاؤں کے بل وہ ماہ تاب کے پاس دراز ہوئے۔
سرنج میں سیال بھرکر اس نے بنا سنبھلے ویلوٹی ڈریس اوپر کرکے بازو میں وہ سیال انجیکٹ کیا،
“یہ تمہارے لیے فائدہ مند تھا کم ازکم ڈیمو دیکھنے کے لیے تم میں ہمت تو ہونی چاہیے”،۔
ماہ تاب سسکی تھی۔
“اور ہاں بہت جلد مشل علوی تمہاری طرح یہ رنگین دنیا کا حصہ بننے والی ہے۔اور مجھے اتنا تو یقین ہے کہ وہ کم ازکم تمہاری طرح تماشہ نہیں کرے گی،۔کیونکہ اس کے ذہن کی ساری سوچیں میری ہی پیدا کردہ ہیں۔”
اس کا گال تھتپاتے وہ اٹھ کھڑے ہوئے،
“کھانا کھاؤ،، اور یقین رکھو، تم نے زرا بھی چوں کی تو میں وہ حال کروں گا کہ اپنی شکل بھی پہچان نہیں پاؤ گی”،۔
ان کی سرد سی دھمکی نے ماہ تاب کو بھی جیسے سرد کیا تھا۔خوف کی دبیز تہہ جیسے ماہ تاب کو حصار میں لے رہی تھی۔،
بازو گردن ہاتھوں پر جیسے کیڑے رینگتے محسوس ہونے لگے،
وہ بھاری قدم اٹھائے کمرے سے نکلے تھے، وہ زندہ لاش کی مانند زمین سے اٹھی،
کلائی میں درد کی ٹیس سی اٹھی لیکن وہ بے جان روح کی مانند بیڈ پر لیٹی تھی،۔
گرم سیال بہہ کر کنپٹی کی جانب بڑھنےلگا،آج پھر اذیت کی انتہا ہوئی تھی،۔لب تلخ سا مسکرا رہے تھے جبکہ آنکھیں نوحہ کناں تھیں۔
💞💞💞💞💞
احد !! وہ چیختا ہوا گھر میں داخل ہوا،
ڈیڈی!! “بب بچاؤ ڈیڈی، “
“اشرف چھوڑو اسے” وہ دو سیڑھیاں چڑھتا اوپر آیا لیکن پیچھے روشن سکرین پر اندوہناک نیم اندھیر منظر اور ساؤنڈ سسٹم سے گونجتی نسوانی چیخوں نے اسے ساکت کیا،۔
پیشانی نم آلود ہوئی تھی، جبکہ اس منظر کو دیکھنے کے لیے معیز رؤف میں مڑنے کی ہمت باقی نہیں رہی،۔
وہ وہیں گھٹنوں کے بل ڈھے سا گیا، دونوں ہاتھ پہلو میں گرے تھے۔۔
احد اب بھی چیخ رہا تھا لیکن جو چیخیں ٹی وی لاؤنج میں موجود ساؤنڈ سسٹم سے ابھر رہی تھیں۔ان میں احد کی چیخیں کہاں سنائی دیتی،۔
معیز!! معیز!!” بیٹا کیوں ہر بار مجھے مجبور کرتے ہو، میں ایسا نہیں چاہتا لیکن تمہاری ہرروز کوئی نہ کوئی غلطی مجھے تمہاری ماں کے ساتھ یہ سلوک کرنے پر مجبور کردیتی ہے،۔”شارف ابدال کی بھرپور آواز سسٹم سے ابھری تھیں۔
اشرف کے موبائل کا کنکشن ساؤنڈ سسٹم سے جڑا تھا۔
اشرف کی موجودگی میں یہ اذیت برداشت کرنا معیز رؤف کے لیے زمین میں گڑھنے جیسا تھا،
معیز نے بمشکل سر اٹھا کر اوپر کی جانب دیکھا جہاں اشرف کے سیاہ چہرے پر خباثت نمایاں تھی،۔جبکہ وہ احد کو ایک بازو سے لاؤنج کی مرر گرل سے نیچے لٹکائے دوسرے سے اس کا گال سہلا رہا تھا،۔
آگے کھائی پیچھے کنواں ، معیز رؤف ایک سہارے کی مانند درمیان میں پھنسا تھا،
“بیٹا اتنی خواری اچھی نہیں ہوتی، میں ہر ہفتے تمہاری ماں کی آواز سنا تو دیتا ہوں پھر تم کیوں انہیں ڈھونڈنے کی زحمت کرتے ہو،۔اب دیکھو آج پھر مجھے مجبوراً آج پھر تمہاری ماں کو بولنے کی زحمت دی،”۔
وہ لٹا پٹا شخص اب بھی سیڑھیوں پر تھکا ہارا سا بیٹھا رہا،۔
ڈیڈی!! احد کی آواز ایک بار پھر ابھری ،وہ روتا ہوا معصوم سا بچہ مدد کے لیے تڑپ رہا تھا۔ معیز نے سرخ آنکھوں سے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھا،۔
اشرف کا ہاتھ رینگنے لگا تھا۔احد تڑپ سا رہا تھا۔اس نے ایک زور دارچٹکی اس کے گال پر کاٹی،۔
آہہہہ ڈیڈی!!!
وہ تیزی سے اوپر بھاگا، معیز سٹاپ اٹ یار!! اپنے ڈیڈ کی بات کو مکمل نہیں سنو گے؟”
شارف ابدال کی گھمبیر سی آواز میں معیز کو غیر محسوس سے خطرہ کی بو محسوس ہوئی۔
معیز کے قدم ٹھٹک سے گئے۔
“میری بات سن لیا کرو، جانتے ہو ناں میری بات نہ سننے والوں کا میں کیا حال کرتا ہوں”۔
“مجھے آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دینا، آپ مجھے مار دیں شارف!! ماردیں مجھے “، وہ سرخ آنکھوں سے چیختا بے بسی کی اتہاہ گہرائیوں میں تھا،۔شکست خوردہ سا وہ دوبارہ زمین بوس ہوا،۔ کبھی گرنا کبھی اٹھنا ، معیز رؤف کی زندگی ایک تماشہ بن گئی تھی،۔
آہاں !! “میں کون ہوتا ہوں مارنے والا؟
خیر کام کی بات پر آتے ہیں ، زوارعلوی ماہ تاب رخصتی چاہتا ہے، اور میں جانتا ہوں تم دونوں نے نکاح نہیں کیا، یا کیا بھی ہے تو کیوں کیا ہے۔ ناجانے تم نے کیا گیم کھیلا ہے، مجھے سچ بتادو میں ماہ تاب کو آزاد کردوں گا۔
اور رخصتی بھی روک دوں گا،۔”
وہ آج پھر وہی سوال کررہے تھے، اور اس سوال کا جواب نہ دینے کی قسم اس نے پچھلے چھ سال سے کھائی تھی،۔پھر آج کیسے جواب ممکن ہوتا،۔
“آپ میری جان بھی لے لیں گے ناں تب بھی نہیں بتاؤں گا اور ماہ تاب میری بیوی ہے، میرے نکاح میں ہے وہ،
آپ کون ہوتے ہیں اسے آزاد کرنے والے؟میں آپ کی حقیقت زوار علوی کو بتاکررہوں گا،۔ایک دن آپ بے نقاب ہوگے،۔اللہ کا قہر آپ پر ضرور نازل ہوگا،۔”
غیر مرئی سی قوت بحال کیے وہ سیدھا اٹھا،۔اوپر بڑھ کر اس نے احد کو اشرف سے چھینا اور زور دار دھکا اسے مارا ،وہ پیچھے کی جانب گرا تھا۔
شدت سے احد کو خود میں بھینچے وہ سسکا تھا،۔وہ بظاہر مضبوط شخص اندر سے احد جیسا ہی تھا،معصوم سہما ہوا۔
اس درندگی کا عذاب تو اس نے ایک عمر سہا تھا،۔پھر وہ کیسے نہ احد کی تکلیف سمجھ پاتا،۔
وہ پھولے سے گالوں والا سفید بچہ سختی سے مٹھیوں میں شرٹ جکڑ چکا تھا،۔
بس بابا آگئے ہیں ، اب کچھ نہیں ہوگا،۔
وہ اشرف کو قہر آلود نگاہ سے دیکھتا اندر کی جانب بڑھا تھا، شارف ابدال کی آواز اب بھی گونج رہی تھی،۔
لیکن وہ نظرانداز کرتا کمرے کا دروازہ بند کرچکا تھا،۔
یہاں بیٹھو،، !! ڈیڈی آگئے ہیں اب کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا بابا سے غلطی ہوگئی بابا کا دھیان بٹ گیا تھا، وہ نرم چھوٹے ہاتھوں کو بے تحاشہ چومتا سسکا تھا،۔ احد سہما سا معیز کو دیکھ رہا تھا۔
بابا کو معاف کردو احد!! وہ ایک بار پھر شدت سے اسے خود میں سموتا سسک اٹھا تھا،
❤❤❤❤
ہینڈ بیگ جھلاتی وہ گھر میں داخل ہوئی،۔
حسب توقع شبنم خاتون لاؤنج میں کچھ مردوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔جو بظاہر تو ان کی این جی او کے اہم آراکین تھے،۔
لیکن ان کی حقیقت اور بارعب چہروں کے پیچھے چھپی خباثت مشل علوی کو ازبر ہوچکی تھی،۔
کچھ دیر پہلے جو چہرہ کھلتا گلاب تھا اب سپاٹ تنفر زدہ تھا،۔
سبز مغرور نینوں میں سردمہری ابھر آئی جبکہ لب سختی سے بھینچے وہ لاؤنج سے گزر کر اوپر کی جانب بڑھنے لگی،۔
مشل !! شبنم کی آواز پر اس نے آنکھیں گھما کر گردن ہلکی سی پیچھے گرائی۔
مام!! “آپ اچھے سے جانتی ہیں مجھے آپ کے ان سو کالڈ دوستوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ، پھر کیوں آپ مجھے ہمیشہ پکارتی ہیں۔
آپ اگر اپنا کام کررہی ہیں تو کرتی رہیں۔مجھے گھسیٹنا ضروری ہوتا ہے،؟”
سبز رنگ آنکھوں سے چھلکتی رعونت وہاں ایستادہ تین باحیثت مردوں کو بھی سٹپٹانے پر مجبور کردیتی تھی،
وہ ایسی ہی تھی منہ پھٹ بے باک اپنی من مرضی کے فیصلے کرنے والی،۔
اس ماحول کی عادی کرنے والی بھی تو شبنم خود تھیں۔اب کیوں وہ غم کرتی؟
سنہری بال جو لٹوں کی صورت دونوں جانب پھیلے سے تھے انہیں ہاتھ سے جوڑے کی شکل دیتی وہ تیزی سے اوپر کی جانب بڑھ گئی ،
اس وقت مشل علوی کے لیے سب سے ضروری کام محض سونا تھا،۔
اپنی خوبصورتی کو وہ چند ٹکے کے مردوں کو ٹائم دینے کے لیے تباہ نہیں کرسکتی تھی،۔
کمرے میں داخل ہوکر اس نے گہری سانس بحال کی،۔
وجود پر جیسے کئی من بوجھ اتر آیا،
وہ خود کو گہری کھائی میں محسوس کرنے لگی۔
وہ جانتی تھی وہ مرد وہاں کیوں موجود ہیں۔
یہ گھر طوائف خانہ تو نہیں لیکن اس سے کم بھی نہیں تھا،۔
وہ بے باک تھی ، نڈر تھی، بلکہ ہر برائی اس میں بدرجہ اتم موجود تھی،۔لیکن اس ان مردوں کی قربت سے گھن آتی تھی،۔ایک ناگوار بوتھی۔جو اسے بسا اوقات محسوس ہوتی ،۔آج بھی اسد کے کندھے پر سررکھتے اس شدید بو اپنے اردگرد محسوس ہوئی تھی، جو شاید چند پل میں اس کی سانس ہی روک دیتی،
لیکن وہ شارف پر حددرجہ اعتماد کرتی تھی،اس شخص کی ان چھ سالوں کی محنت نے مشل علوی کو اصل دلدل میں ہی دھکیلا تھا،۔وہ اس کی ہر سوچ پر قابض تھا۔وہ ادھر ادھر تو نہیں بھٹکی لیکن وہ شارف ابدال کے جال میں مکمل پھنس چکی تھی،۔
شارف ابدال مشل علوی کی زندگی کا مسیحا تھا، یا پھر اس کی محدود سوچ نے شارف کے علاوہ کسی پر دھیان نہیں دینے دیا تھا ،
وہ شخص دماغ سے کھیلتا تھا، اپنے داؤ پیچ آزما کر وہ ہر انسان کو قابو کرنے کا ہنر رکھتا تھا،۔اس گھر میں اگر کسی مرد پر وہ بھروسہ کرتی تھی وہ شارف ابدال تھا۔
مشل علوی بھی تو اس کی منفرد شخصیت کے باعث اسے ایک الگ سی حیثیت دینے لگی تھی،۔
فلحال وہ سونا چاہتی تھی۔
بنا چینج کیے وہ بیڈ پر ڈھے سی گئی،۔
کئی پل وہ چت لیٹی آج کے مناظر میں مگن رہی ،۔
❤❤❤❤❤
جاری یے
