Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

دیبا میں کمرشل کرنا چاہتا ہوں۔
دیبا جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی شہرام کو دیکھتی رہ گئی۔
چٹکی کاٹو مجھے۔۔۔اپنی بازو آگے کرتی وہ شام سے گویا ہوئی تو اس نے خفگی بھری نگاہ سے انہیں گھورا تھا۔
کاٹو شام۔۔مجھے یقین کرواؤ کہ یہ تم ہی کہہ رہےہو۔وہ اب بھی شرارت پر آمادہ تھیں۔
دیبا۔۔میں سیریس ہوں۔بتائیں آپ کیا کہتی ہیں۔اپنی آنکھوں کی سرخی کو زائل کرنے کی کوشش میں وہ رخ موڑ گیا۔
کیا ہوا ہے شام؟؟ از ایوری تھنگ آل رائٹ۔” ان کی آواز پر وہ بمشکل لب بھینچ پایا تھا۔
“سب ٹھیک ہے۔آپ بس سائن کریں۔اور فضیل سے بات کریں۔پرفیوم کا کمرشل میں ہی کرنا چاہتا ہوں۔ان کی ایجنسی کے لیے میں کام کرنا چاہتا ہوں”۔
“اوکے میں کرلوں گی بات۔تم بس ریلکس ہوجاؤ۔اگر کوئی ایسی ویسی بات ہے تو مجھے بتاؤ”۔
میں آپ کو فلحال کچھ نہیں بتاسکتا ۔وقت آنے پر آپ خود جان جائیں گی”۔
“وجہ جو بھی ہے تمہارا فیصلہ مجھے پسند آیا ہے”۔میں آج ہی کنٹیکٹ کرتی ہوں۔
ان کے مان بھرے انداز پر وہ بے ساختہ مڑ کر ضبط سے سمٹا مسکرایا تھا۔


عاہن نے اس کی پراعتمادی دیکھ کر طنزیہ مسکان لبوں پر سجائے ہاتھ باندھے۔
کپڑے کو بمشکل تھام کر وہ سامنے کی ڈسٹ صاف کررہی تھی۔جب اس کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔
“میں نہیں کرسکتی۔میں جارہی ہوں۔ “
غصے سے چیخ کر کپڑا زمین بوس کیے وہ وہاں سے نکلی تھی۔
گڈ تمہارے لیے یہی بیٹر ہے۔۔” اس کی بڑبڑاہٹ مشل کی سماعت سے اوجھل نہیں رہی تھی۔
لیکن وہ مٹھیاں بھینچے وہاں سے نکل آئی تھی۔
عاہن نے گہرا سانس خارج کیے اس کا جانا دیکھا تھا۔وہ ایک طرح سے یہی چاہتا تھا کہ وہ یہاں سے چلی جائے۔اور وہی ہوا تھا۔ اگر وہ اسے سپورٹ کرتا یا پھر اس سے بات چیت بڑھاتا سکینڈل بننے میں ایک سے دومنٹ بھی نہ لگتے۔
شوٹنگ سٹارٹ کریں۔شیلہ آگئی کیا؟”
عاہن نے ڈائریکٹر کو دیکھا جو باہر کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔اس کی نگاہوں کی عیاری عاہن سے مخفی نہیں رہی تھی۔
“نہیں میں نے کال کی ہے کچھ دیر میں آتی ہے۔تم دوبارہ فریش ہوجاؤ میں ابھی آتا ہوں”۔
عاہن کے ماتھے کی رگ پھڑکی تھی۔وہ جانتا تھا وہ مشل کے پیچھے ہی جائے گا۔
“اوکے میں آتا ہوں۔”عاہن سر جھٹک کر اندر کی جانب بڑھا۔اور ڈائریکٹر نے باہر کی جانب قدم بڑھائے تھے۔


“سنیں میرے پاس آپ کے لیے ایک آفر ہے۔،”
بیگ سنبھالے وہ روڈ پر آئی تھی۔جب ایک شخص نے اسے پیچھے سے پکارا۔
یہ وہی ڈائریکٹر تھا جو عاہن کے ساتھ تھا۔
“کیا ہے؟اندر تو تم مجھے دھکے دے کر باہر نکال رہے تھے۔اور یہاں آکر تم میٹھی چھری بن گئے ہو”
“لسن مس !! ہم کیفے میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔وہ اردگرد دیکھتا اسے لیے کیفے کی جانب بڑھا تھا۔
دیکھیں مس آپ کا فگر آپ کی ہائیٹ ایون سب کچھ ای دم پرفیکٹ ہے۔
مزید خوبصورتی میں اضافہ آپ کی یہ گہری سبز آنکھیں کررہی ہیں۔”
“ڈائریکٹر صاف صاف بات کرو، میں لگی لپٹی نہیں رکھتی۔
تو مس یہ کہ آپ نوکرانی کے رول کے بالکل قابل نہیں ہیں۔وہ تو محض عاہن علوی کی وجہ سے میں خاموش ہوچکا تھا آپ کا یہ ترشا ہوا سراپا تو کسی کی مضبوط بانہوں میں لہرانا چاہیے”۔
لفظوں کی غلاظت پر مشل نے ماتھے پر بل نمایاں کیے۔
“واٹ؟ کیا بول رہے ہو ؟ سیدھی بات کرو۔
اب دوسری بار کہہ رہی ہوں تیسری مرتبہ تمہاری زبان تمہیں کہنے کا موقع نہیں دے گی”۔
غصیلا سانس خارج کیے وہ چہرے کو سپاٹ کرچکی تھی۔
“آپ کو جسٹ ایک آئٹم سونگ کرنا ہوگا۔،”وہ آگے جھک کر قدرے رازداری سے بولا۔
مشل پتلیاں پھیلائے سامنے سانولے سے رنگ کے ڈائریکٹر کو دیکھا۔
عیاری اس کی آنکھوں سے عیاں تھیں۔
آئٹم سونگ؟” یکلخت سبز نگاہوں میں تندہی ابھر آئی۔پتلیاں پھیل سی گئیں۔
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟میں کیا تمہیں کوئی ناچنے والی لگتی ہوں۔سٹوپڈ مین، “بلند آواز میں چیخ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ڈائریکٹر بوکھلایا برابر ہوا۔
“بیٹھیں مکمل بات سن لیں پہلے، یہاں میری بہت عزت ہے، آرام سے میری بات سن لو،
سکرین پر ڈانس کرنے والی ناچنے والی نہیں کہلاتی وہ ہیروئنز ہوتی ہیں”۔
“دیکھو عاہن علوی بلاشبہ بہترین ایکٹر ہے۔وہ یہاں تمہیں اپنے قدم جمانے نہیں دے گا۔کیونکہ وہ ان لڑکیوں کو اپنے زرا بھی قریب نہیں آنے دیتا جو اس سے برابری کرنے کی ٹھان لیں۔تمہیں بھی وہ زک پہنچا کر ہی سکون سے بیٹھے گا۔اور دیکھا جائے تو چھوٹی سکرین کا ہیرو ہے یعنی کہ ڈرامہ وغیرہ کرتا ہے۔، لیکن میرا ایک دوست ہے وہ فلم ڈائریکٹر ہے۔
اور چھوٹی سکرین سے زیادہ بڑی سکرین کا چارم ہوتا ہے”۔
مشل پرسوچ سی اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
وہ کافی شاطر آدمی تھا مقابل کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔وہ چند منٹ میں جان جاتا تھا۔
تمہیں لگ رہا ہے میں مان جاؤں گی؟”
مشل نے اس کی نگاہوں میں دیکھا تو مقابل کے چہرے پر خوشگواری نمایاں ہوئی تھی۔
بالکل میں آفر ہی ایسی کررہا ہوں۔راتوں رات شہرت نہ نصیب ہوئی تو میرا نام بدل دینا۔
ایک چماٹ ماروں گی منہ پر۔۔۔”وہ چیخ کر بولی تو ڈائریکٹر یکلخت بوکھلا گیا تھا۔
تمیز سے بات کرو۔جانتی ہو تم کس سے بات کررہی ہو؟”
کام کرنا چاہتی ہو تو یہ رہا کارڈ۔۔ورنہ دوبارہ بھیک مانگنا میرے پاس مت آنا۔”
مشل نے حیرت سے کارڈ اور پھر اسے دیکھا جو اب اٹھ کر باہر کی طرف جارہا تھا۔


وہ شارف ابدال کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو پرسوچ سا تھا۔اور ماہ تاب چہرے پڑھنے کا ہنر رکھتی تھی۔مقابل کی سوچ تک رہائی پانا اس کے لیے مشکل نہیں تھا۔
شارف ابدال کے چہرے کو نہایت غور سے دیکھا تو انہوں نے بھی نگاہ اسی جانب کی۔
جوس پیو ماہ تاب ۔۔”ان کی گھمبیر آواز پر وہ دوبارہ جوس کی جانب متوجہ ہوئی۔
“مشل یہیں ہے اور میں کل اس سے ملنے جاؤں گا”۔
ماہ تاب کی سانس رک کر چلی تھی۔
وہ۔۔۔وہ خود آجائے گی۔۔۔” وہ چاہ کر بھی کہنے سے روک نہیں پائی تو مقابل نے سرد انداز سے اس کا چہرہ جانچا جو اب گھبراہٹ میں بدل گیا تھا۔
“کیا میں نے تم سے پوچھا یا مشورہ مانگا ہے۔میں نے محض تمہارے دماغ میں یہ بات ڈالی ہے کہ میں اسے بھولا نہیں ہوں۔
کل شوٹ ہے۔اور پرسوں کمرشل کے لیے میں نے مسٹر شام کی آفر کو مان لیا ہے”۔
ماہ نے حیرت سے مقابل کو دیکھا تھا۔
“میں کیسے۔۔میں نہیں کروں گی۔نہیں شارف آپ پھر حد سے بڑھ رہے ہیں۔۔”
“ماہ تاب اچھے بچے ضد نہیں کرتے۔میں جلد ہی شوٹنگ کا کہتا ہوں۔تم نے محض کچھ سین کرنے ہیں۔کمرشل بمشکل دو یا تین منٹ کا ہے۔”
“پاپا سے پوچھ لیں۔میں ایسےکام نہیں کرسکتی۔”
وہ نظر چرا کر بولی ۔ اس کے لہجے میں پنہاں رضا مندی مقابل کو حیران کرگئی تھی۔
کیا تم سچ میں کمرشل کے لیے مان گئی ہو؟”ْ
“میری مرضی میری ذات چھ سال پہلے ہی ختم ہوچکی تھی۔میں اگر انکار کروں گی تو آپ زبردستی کریں گے میرے پیاروں کو اذیت دیں گے۔
اس لیے اچھا ہے ناں میں خود ہی مان جاؤں”۔
لہجہ تلخ ساتھا۔
“آئی لائک اٹ مجھے تمہارا یہ چینج اچھا لگا۔آئی تھنک اب معیز کو بھی اس انڈسٹری میں قدم جمالینے چاہیے۔بہت عیش و آرام کرلیا۔ “
وہ آج پل پل ماہ تاب کے ضبط کو آزمارہے تھے۔
ماہ تاب خاموش رہی تو وہ ان کا چہرہ جانچنے لگے تھے۔جہاں کوئی تاثر نہیں تھا۔
بلیک سلک شرٹ کے ساتھ ہائی ٹیل پونی کیے وہ سفید گالوں پر گلال بکھیرے شارف ابدال کی توجہ کا مرکز تھی۔
ہائے مسٹر شام۔۔” یکلخت ماہ تاب کا رنگ فق ہوا۔شام اور یہاں۔۔؟
کل کا لنچ ادھار تھا تو اسی لیے میں نے یہاں بلالیا۔
لنچ نہیں تو ڈنر ہی سہی۔۔” شارف ابدال کی آواز پر اس نے سیاہ آنکھوں سے مقابل کو دیکھا۔
جو ہڈی جینز میں گھنے بالوں کے ساتھ ماسک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
ماہ تاب کی مٹھیوں میں نمی سمٹ آئی تھی۔
انہوں نے اپنا کیبن بک کروایا تھا۔
شارف ابدال نے اس کے لیے چئیر پیچھے دھکیلی تو آنکھوں سے تشکر ظاہر کرتا وہ چئیر پر بیٹھا۔
ویٹر کو مینیو بتا کر وہ کل کے شوٹ کے بارے میں ڈسکس کرنے لگے تھے۔
ماہ تاب کی نگاہ دیوانہ وار اس شخص کے چہرے پر تھی۔
شام ان نگاہوں کو واضح محسوس کرسکتا تھا۔
“مسٹر ابدال میں کمرشل کے لیے ریڈی ہوں میں نے آپ کو کل بھی شاید انفارم کیا تھا”۔
“جی میں جان گیا ہوں۔ماہ تاب کو بھی کمرشل سے کوئی پرابلم نہیں ہے۔”
ڈیٹس گڈ۔۔”ماہ تاب کو لگا وہ اب اسے دیکھے گا لیکن وہ شارف کی جانب ہی متوجہ رہا تھا۔
کھانے کے دوران وہ کافی معاملات ڈسکس کرچکے تھے۔
وہ شام کی ایک نگاہِ دید کے لیے حسرت زدہ ہی رہی تھی۔


فلیٹ پر آج پھر عاہن موجود تھا۔اسے توقع تو تھی لیکن یقین نہیں تھا۔
لیکن وہ آگیا تھا۔چہرے پر آج شوخ پن کے بجائے سپاٹ سرد تاثرات تھے۔
مشل کو اس کے تنے اعصاب نے جیسے گہرا سکون فراہم کیا تھا۔
کیا مسلہ ہے تم ہربار کیوں آجاتے ہو۔۔۔آؤچ۔۔”بنا سنبھلنے کا موقع دئیےبازو سے جکڑ کر اس نے مشل کو دیوار کے ساتھ لگایا تھا۔
ایک ہاتھ دیوار پر زور سے مار کرحصار میں مقید کرتا وہ مقابل کا دل اچھل کر حلق میں لانے کا موجب بنا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی وہاں آنے کی؟ کیا اتنی بے شرم اور آوارہ ہوچکی ہو۔۔اپنے فگر اپنی خوبصورتی کی بھرے مجمعے میں تعریف کرتے تمہیں زرا بھی غیرت نہیں آئی”۔
گہری براؤن آنکھوں سے اسے گھورتا وہ دھاڑا تھا۔
“میرا دل کررہا ہے میں تمہاری اس خوبصورتی کی آج اتنے اچھے طریقے سے تعریف کروں تاکہ کم ازکم تمہیں باہر غلیظ لوگوں سے اپنی تعریف کروانے کی نوبت نہ آئے”۔
اس کی ذومعنی انداز پر مشل کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔
شعلوں جیسی لپک نگاہ میں محسوس کرتی وہ کانپتی جبیں پر بمشکل قابو رکھ پائی تھی۔
وہ دو انچ کے فاصلے پر موجود تھا۔لیکن اسے اپنا اوپر چھایا ہوا محسوس ہورہا تھا۔
“پیچھے ہٹو عاہن۔۔اپنی حد میں رہو۔ورنہ میں پولیس کو کال کروں گی۔تم پر ہراسمنٹ کا کیس کروادوں گی۔پھر اپنے یہ دوٹکے کے فن کو استعمال کرنا۔۔۔”
“بلاؤ جسے بلانا ہے بلاؤ۔۔کسی مائی کے لعل میں اتنا دم نہیں کہ وہ عاہن علوی پر ہاتھ ڈال سکے۔اور تم جتنا اپنے باپ کی حرام دولت پر اچھل رہی ہو ناں۔ محض تیرہ دن باقی ہیں۔تمہارے پر میں اپنے ہاتھوں سے کاٹوں گا۔”
مقابل کا پراعتماد انداز وہ بمشکل برداشت کرپائی تھی۔اپنے ڈگمگاتے اعتماد کو بحال کرتی وہ استہزائیہ مسکرائی۔
“خوش فہمی میں جیتے رہو۔میری طرف سے تم جو مرضی کرو۔مشل علوی آسانی سے ہاتھ آنے والوں میں سے نہیں ہے”۔
میں تو تمہارے ڈائریکٹر سے بات چیت بھی بڑھا کر آچکی ہوں اور تم کس خوش فہمی میں جی رہے ہو۔
طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجاتی وہ عاہن کو چیلنج زدہ نظروں سے دیکھتی بولی۔
ہاں جان گیا ہوں تم آئٹم سونگ کے لیے ڈن کرنے والی ہو۔مقابل کا لہجہ پل بھر میں نرم ہوا تو وہ اس کی پراسراریت سے چونکتی اس کا چہرہ جانچنے لگی۔
وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔لیکن لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
آئٹم سونگ میرے سامنے پرفام کرنا۔میں اچھے سے نوٹ بھی نچھاور کروں گا۔اور سراہ بھی اچھے سے لوں گا۔
اس کے عامیانہ پن پر خون چھلک کر چہرے پر سمٹ آیا۔
مشل نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور دھکیلا۔لیکن بھاری جسامت کو وہ ایک انچ بھی نہیں ہلاپائی تھی
“پیچھے ہٹو عاہن۔۔تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے”۔
“ابھی کہاں ابھی تو بہت کچھ کرنے کا ارادہ ہے۔”وہ مزید قریب آتا اس کی جانب جھکاتو مشل فق ہوتے چہرے کے ساتھ چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔
“بے فکر رہو۔تمہارے اس حسین چہرے میں مجھے زرا سی بھی دلچسپی نہیں ہے۔کیونکہ عاہن علوی کا معیار اتنا برا نہیں ہے۔”
مشل کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخی میں ڈھلا تھا۔
“خیر تم آئٹم سونگ کے لیے ڈن کرو۔پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ عاہن علوی کیا چیزہوں۔”
اسے خود سے دور دھکیلے وہ باہر نکلا تھا۔جبکہ اس کا دو دھکیلنا دھتکارنا
ناجانے مشل علوی کی دنیا کو تہہ وبالا کرگیا تھا۔


اگلے کئی روز وہ ایڈ کی تیاریوں میں مصروف رہے تھے۔
اور آج شوٹ ریڈی تھا۔
ڈارک میک اپ اور آتشی لبوں کو رنگے ماہ تاب علوی کی راعنائیاں نمایاں تھیں۔
سلیولیس بلیک لونگ میکسی جس کا پچھلا گھیر زمین کو چھوکر ایک سماں باندھ رہا تھا۔
وہاں موجود کئی ستائش بھری نظریں اس پر اٹھی تو شام محض لب بھینچ کررہ گیا۔
بلیک کوٹ کے ساتھ بھری داڑھی مونچھ اور بالوں کو ایک ترتیب سے سیٹ کرکے وہ کافی خوبرو لگ رہا تھا۔
سیٹ کیمرہ سب کچھ ریڈی تھا۔
شام نے ایک بھرپور نگاہ ماہ تاب پر ڈالی جو ایک چئیر پر بیٹھی سمٹی ہوئی تھی۔
پل بھر میں دونوں کی نگاہ ملی تو بے ساختہ شام نے رخ موڑا۔اور دیبا کو دیکھا تھا۔
شارف ابدال ڈائریکٹر کے ساتھ مصروف تھے۔
دیبا نے ماہ کو دیکھ کر شام کو دیکھا اور انگوٹھے سے ڈن کا اشارہ دیا تو وہ خفگی بھری نگاہ سے رخ موڑ گیا۔
یہ رائل پیلس ہال تھا۔جو بسا اوقات فلمی سینز کے لیے استعمال ہوتاتھا۔
ڈارک بلیو تھیم سے سجا پیلس سنہری روشنیوں میں اور بھی نمایاں تھا۔
ڈائریکٹر نے سب اوکے ہونے کا اشارہ دیا تو وہ چہرے پر نرم مسکراہٹ سجائے آگے آئی تھی۔شام نے اس کا ہاتھ تھام کر کپل کی طرح اسے گھمانا تھا۔
محض دو ڈائلوگ تھے اس صرف لپسنگ کرنی تھی۔وائس کے لیےانہوں نے کسی دوسری ہیرؤئن کو سائن کیا تھا۔
ماہ تاب کے قدموں کی لرزاہٹ شارف سے اوجھل نہیں رہی تھی۔شارف ابدال کا یہ ایڈ کافی مالیت کا تھا۔
یہ لڑکی کام بگاڑے گی۔۔” وہ جھٹپٹا کررہ گئے۔
کٹ۔۔۔” یکدم ڈائریکٹر کی آواز پر شام بھی سیدھا ہوا۔اس کے چہرے پر ماہ تاب کے لیے کوئی تاثرات نہیں تھے۔
دیبا ایک جانب بیٹھی شام کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھی۔
ڈائریکٹر اسے مختلف ہدایات دینے لگا تھا۔
ماہ تاب نے گہرا سانس لے کر آنکھیں موندھی تو پچھلے چھ سال کی ساری خواہشات ساری امیدیں آنکھوں میں سمٹ آئی۔ایک سماں سا بندھا تھا۔
سین دوبارہ شروع ہوا تو ماہ تاب بے تابانہ شام کی جانب بڑھی۔سب یادیں دماغ میں ہلچل مچاتی اسے بے چین کررہی تھیں۔
شارف ابدال بھی اس کی پراعتمادی دیکھ کر ایک دم ساکت ہوئے تھے۔ایک دم نیچرل سین تھاجو ان کی آنکھوں میں نمایاں تھا۔
مقابل نے اسے گھول گھمایا تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا کر گھومتی سر شام کے دل کے مقام پر ٹکاگئی تھی۔ناک کی نوک سینے پر لگی تو اس نے گہرا سانس بھرا۔
دیکھنے والی آنکھ کو یوں لگا تھا جیسے وہ کلون کی مہک کو سانسوں میں اتار رہی ہے۔
اس کی قربت اس کی نازک کمر کے گرد حصار کیے شام علوی بھی پل پل جیسے ان لمحوں کا اسیر ہوا۔
سماں تھا کہ بندھ سا گیا تھا۔
پرفیکٹ۔۔۔یکلخت دیبا نے ہلکی سی تالی بجائی۔
ماہ تاب ہوش میں لوٹتی نم آنکھوں سے مسکراتی دیبا کی جانب متوجہ ہوئی جس کی آنکھوں میں ستائش تھی۔
دیبا مستحسن تواس کی نازکی اس کی خوبصوری کی اسیر ہوچکی تھیں۔
سین مکمل ہوا تو وہ میک روم کی جانب بڑھنے لگی۔
آج ماہ تاب علوی کی شبِ یقین تھی۔آج وہ اس شب کو خود یقین میں بدلنے کا تعین کرچکی تھی۔
دیبا شام کا ہاتھ تھامتی اسے کانگریٹس کہنے لگی ۔ماہ تاب کے جاتے قدم ٹھٹھک گئے تھے۔
وہ عورت کافی حسین تھی لیکن عمر کے لحاظ سے شام سے زیادہ ہی لگتی تھی۔۔شام کے چہرے کا سپاٹ پن اس عورت کی ہمراہی میں غائب ہوا تو ماہ تاب ٹھٹک کر رہ گئی۔
جلدی سے چینج کرو میں دیبا سے بات کرلوں۔پھر ہم نکلتے ہیں۔”شارف کے الفاظ پر سر اثبات میں ہلائے وہ مڑی تھی۔ایک نظر اس نے دوبارہ شام اور دیبا پر ڈالی
سر جھٹک کر وہ میک اپ روم کی جانب بڑھ گئی۔
شام علوی کی گاڑی کا نمبر اس کا رنگ ماہ تاب اسی روز ازبر کرچکی تھی۔ جس دن انہوں نے ڈنر ساتھ کیا تھا۔
چینج کرکے اس نے اپنے ساتھ لائی ہڈی کو جینز کی شرٹ کے اوپر پہنا۔
“یااللہ میری مدد فرمانا۔ آج میں خود غرض بن رہی ہوں۔لیکن میرے اللہ میں نے مشل کو معیز کو اور احد کو تیری حفاظت میں دیا۔میری شبِ یقین آج طے ہے۔اور اس شب کو یقینی تو بنائے گا۔۔”
لمبے ناخنوں والے ہاتھوں کو دعائیہ انداز میں اٹھائے وہ پچھلے دروازے کی جانب بڑھی۔
آج وہ یہاں سے ہر حال میں جانے کا فیصلہ کرچکی تھی۔
شارف ابدال کی نگاہ آج پہلی بار ماہ تاب سے ہٹ کر دیبا کی جانب تھی۔دیبا کے کاروباری معاملات سن کر وہ کافی متاثر نظر آئے تھے۔
اور یہی سے ان کی گمراہی کا آغاز مکمل ہوا تھا۔
شام بھی پاس ہی کھڑا تھا۔شام کے کیرئیر کے بارے میں بتاتی وہ کافی پرجوش تھیں۔جبکہ وہ سمٹا سا مسکرا رہا تھا۔
کچھ دیر میں ہی وہ نکلنے والا تھا۔
آج شاید رب نے بھی ماہ تاب کی قسمت کا تارہ روشن کیا تھا۔
سنسان راہداری سے گزرتی وہ بیسمنٹ کی جانب آئی۔
صد شکر تھا کہ وہ کسی نظر کے حصار میں آئے بغیر بیسمنٹ میں پہنچ چکی تھی۔
شام کی گاڑی دیکھتی وہ دبے پاؤں اس جانب آئی۔
وہ شام کے آنے تک انتظار کرنا چاہتی تھی۔لیکن ایک بار اس نے گاڑی چیک کرنا ضروری سمجھا۔
اور ماہ تاب آج اگر یہاں سے جاتی تو سجدہ شکر ضرور کرتی۔
اللہ تیرا شکر ہے۔۔”
ڈگی کا بٹن اوپن تھا۔
مکمل اس میں سوار ہوتی وہ دم سادھے سیدھی لیٹ کر ورد جاری کیے تمام معاملات اللہ کے حوالے کرتی آنکھیں موندھ گئی تھی۔


جاری ہے۔