Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

نیم اندھیر کمرے میں وہ بیڈ کے کنارے پر لیٹی سارا دن میں اب شارف ابدال کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
وہ ناجانے اسے تلاشنے میں کہاں کہاں خوار ہوا ہوگا۔کہیں معیز کو تکلیف نہ پہنچا دی ہو۔کہیں احد۔۔”
بےساختہ دل میں وہ رب کو پکار اٹھی تھی۔
“یااللہ ان سب کی حفاظت فرمانا جنہیں میں تیرے بھروسے چھوڑ آئی ہوں۔”
دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے وہ کافی دیر رب سے رازو نیاز کرتی رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اس کی نظر شام پر گئی۔
وہ پہلو میں ہی تو براجمان تھا، اس کی جانب پشت کیے ویسٹ پہنے کمفرٹ اوڑھے لیٹا تھا،
اس شبِ یقین نے تو آج ماہ تاب علوی کی نیند کو ہی آنکھوں سے رخصت کردیا،
وہ پلکیں جھپک کر بار بار اس شخص کو دیکھتی، یہاں تک کہ آنکھوں کے میچنے پر ہلکا ہلکا سا درد ان سیاہ نینوں میں بھرنے لگا تھا،
لیکن آج ماہ تاب علوی کی جان بھی چلی جاتی تو پرواہ نہیں تھی، جس حسرت میں چھ سال تیاگ دیے گئے تھے ، آج وہ حسرت جب پوری ہوئی تو ماہ تاب علوی کیوں نہ سجدے پر سجدہ کرتی، آج اسے لگا تھا کہ وہ اس شخص کی ہمراہی میں آتے ہی پاک ہوگئی ہے،
جن غلیظانہ نظروں نے اسے چھ سال تک گندہ کیا تھا، آج وہ جیسے شہرام علوی کی معتبر نظر نے ہی جیسے وجود سے نجس ہٹادی تھی،وہ پاک روح میں ڈھل گئی تھی
ہاں اس شخص نے ماہ تاب علوی کو اتنے عرصے بعد آنکھ بھر کر دیکھا تھا، اس کا روم روم گواہ بنا تھا کہ آج شام علوی کی بھرپور نگاہ اس پر اٹھی ہے،اس بھرپور نگاہ نے حسرت زدہ سی ماہ تاب علوی کو سیر کردیا تھا،
ماہ تاب نے اس کے چوڑے شانے غور سے دیکھے۔ اسے وہ لمحہ یاد آیا جب وہ اس کے حصار میں مقید ہوئی تھی ، تو مکمل چھپ سی گئی تھی،
وہ مضبوط اونچا لمبا سا شخص ایک گھنا سایہ تھا ماہ تاب علوی کا ، اس کی چھاؤں دلفریب تھی، پرسکون تھی،۔
لیکن پھر وہ ایک جھٹکے میں اسے چھوڑتا باہر نکل گیا تھا۔اور آدھی رات کو واپس آیا تھا۔
اور بنا کچھ کہے ایک جانب سمٹا تھا۔
ماہ تاب کا دل چاہا اس کا رخ موڑ کر وہ اس کی بانہوں میں سمٹ جائے اس کے سینے پر سر رکھ کر ایک بار پھر اس کی دھڑکن سنے ، خود کو یقین دلائے کہ ہاں ماہ تاب علوی کو شہرام اس کا شام مل گیاہے، وہ مکمل اس کی دسترس میں ہے۔
فلحال اتنی بے باکی وہ افورڈ نہیں کرسکتی تھی، وہ اس شخص کے پہلو میں مکمل استحقاق سے براجمان تھی، یہی اس کے لیے شکر کا اعلیٰ مقام تھا،
وہ ہلکا سا اس کے قریب آ بیٹھی،
گھنے براؤن سے بالوں پر اس نے مخروطی انگلیاں رکھیں ،
شام جاگ چکا تھا، لیکن اس نے رخ نہیں موڑا، نیند کا خمار ذہن پر طاری تھا، آج ناجانے کتنے عرصے بعد یہ پرسکون نیند نصیب ہوئی تھی، وہ خود اپنی کیفیت پر حیران تھاکہ جو شخص پچھلے چھ سالوں سے مکمل گہری نیند سے محروم رہا تھا، جس کا دماغ گہری سی نیند میں جاگا سا رہتا تھا ، وہ آج محض دوگھنٹوں کے لیے کیسے گہری بے فکر سی نیند سو گیاتھا۔
وہ نرمی سے مخروطی انگلیاں براؤن بالوں میں جذب کرچکی تھی،
ان نرم انگلیوں نے نرمی کا شدید تاثر دماغ کو فراہم کیا، ان نرم لمس کی حرکات نے دوبارہ اسے گہری نیند کی جانب رواں دواں کیا، لیکن وہ اب سونا نہیں چاہتا تھا، وہ بھی تو جیسے یقین دلانا چاہتا تھا کہ ماہ تاب اس کی قربت کے سائے میں ہے، وہ یہ بھی تو یقین کرنا چاہتا تھا کہ ماہ تاب نے کہا تھا کہ آج شبِ یقین ہے تو کیا سچ میں شبِ یقین تھی، دل کا ایک حصہ جو برسوں سے ادھورا تھا آج ماہ تاب علوی کے لمس سے مکمل ہوگیا تھا۔
لیکن یکلخت اس کا دل ہرشے سے چاٹ ہوا۔شارف ابدال کا چہرہ نگاہ میں سمٹ آیا تھا۔
ماہ تاب پلیز سٹاپ دس نان سینس۔۔”وہ اس کا ہاتھ جھٹکتا اٹھ بیٹھا تھا۔
ماہ تاب سہم کر دور ہٹی۔
“پلیز مجھے مزید مت الجھاؤ میری زندگی پہلے ہی بہت الجھی ہوئی ہے۔”
پیشانی مسلتے وہ دوسری جانب رخ موڑ گیا تھا۔”شام پلیز!! میری بات سن لیں ۔میں معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ادھر میری طرف دیکھیں۔میں آپ کو سچ بتانا چاہتی ہوں۔”
وہ اٹھ کر اس کے سامنے آتے بولی تھی۔
کیا سنوں۔کیا دیکھوں ماہ تاب!! تمہیں میں نے اپنا لیا ہے یہی تمہارے لیے کافی ہونا چاہیے۔کیونکہ دھتکارنے والی تم خود تھی۔اب پلیز اگر میں تمہیں تمہاری منشاء کے مطابق اپنا چکا ہوں تو پلیز فلحال مجھ سے دور ہی رہو۔اتنی جلدی اگر تمہیں میرا نام مل گیا ہے تو یہ مت سوچو کہ شام علوی کا دل بھی تمہیں میسر آجائے گا۔”
پل بھر میں وہ ماہ تاب کے سارے خواب توڑتا کمرے سے ہی نکل گیا تھا۔
اس وقت اگر وہ اس لڑکی کی ہمراہی میں رہتا تو شاید اس کا دل ہی اسے بغاوت پر اکسادیتا۔۔جو وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا۔
پھیلی آنکھوں میں چمکتے موتی لیے وہ اس شخص کی پہلی سختی بمشکل برداشت کرپائی تھی۔


آج سارا دن وہ مختلف لوگوں سے ملتی کافی خوش تھی۔کئی ایکٹرز سےوہ ایک دن میں ہی مل چکی تھی۔
عاہن علوی کے ڈائریکٹر نے اسے کافی لوگوں سے ملوایا تھا۔
وہ میک اپ روم میں تھی۔ڈائریکٹر چاہتا تھا کہ اب وہ ڈریس چینج کرکے ڈانس سٹارٹ کرے۔کچھ اس کی پرجوشی نے بھی اسے آج اکسایا تھا کہ وہ ایک دو سٹیپس آج ہی کرلے۔۔
آج سارا دن وہ کوریوگرافر سے مختلف سٹیپ سیکھتی مصروف رہی تھی۔اور ریہرسلز میں بھی کافی کچھ سیکھ لیا تھا۔
بار بار اس کی نظر باہر کی جانب بھی جاتی کہ کہیں وہ شخص نہ آجائے۔
زاہد بٹ بڑی عمر کا چوڑی جسامت والا عجیب و غریب شخص اسے کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا۔لیکن اسے محض عاہن علوی کو نیچا دکھانا تھا۔
سیٹ پر موجود ایک ملازم ابھی اسے ڈریس دے کر گیا تھا جسے دیکھ کر ایک دم تو چہرہ پسینے سے بھیگ گیا۔لیکن اپنے حواس پر قابو پاتی وہ چئیر سے ٹیک لگا کر بیٹھی عاہن کے ری ایکشن کا سوچ رہی تھی۔
جب وہ اسے دیکھے گا تو اس کی ساری اکڑ ٹوٹ جائے گی۔
لیکن وہ نہیں جانتی تھی۔اسے توڑنے کے لیے وہ گمراہی کی دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے۔وہ شارف ابدال کے بچھائے جال میں اچھی خاصی پھنس رہی ہے۔
اس وقت وہ اکیلی تھی۔
کیونکہ ابھی فلحال اسے ڈریس چینج کرنا تھا۔
وہ اپنی سیٹ سے اٹھی ہی تھی جب درواہ لوک ہوا وہ جھٹکے سے مڑی تو اس کا اوپر کا سانس اوپر ہی رہ گیا تھا۔
سامنے عاہن علوی سرد تاثرات سے اسے گھورتا جیسے آج جان سے ہی ماردیتا۔
ٹی شرٹ کے ساتھ سلیولیس ہڈی پہنے وہ عام سے حلیے میں بھی نکھرا سا تھا۔
مشل بے ساختہ پیچھے کھسکی۔
سیگریٹ سلگا کر اس نے گہرا کش لیا تو ماہ تاب کو اس کے عمل پر مزید وحشت ہوئی۔وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ سیگریٹ کر گہرے کش لے رہا تھا۔
تم یہاں کیوں آئے ہو؟ وہ بمشکل اپنی گھبراہٹ پر قابو رکھ پارہی تھی۔
وہ خاموش رہا تھا تو مشل کا حلق خشک ہونے لگا۔
اس کا انداز اب بھی پرسکون تھا لیکن جیسے وہ اسے دیکھ رہا تھا مشل علوی کی دھڑکن بڑھ رہی تھی۔
یکلخت اس نے سیگریٹ کو پیروں تلے عجیب انداز سے مسلا تو وہ نم ہوتی پیشانی سے مزید پیچھے کھسکی۔
عاہن اس کی جانب بڑھنے لگا تو وہ مزید پیچھے ہوتی دیوار سے لگ گئی۔
سختی کو نرمی میں بدلتے دیکھ کر مشل حیران بھی ہوئی۔
“میں جانتا تھا تم ڈائریکٹر کی بات ضرور مانو گی ، کیونکہ تمہیں مجھے تباہ کرنے کے لیے ہر حد تک جاسکتی ہو۔لیکن مشل علوی میں تم محض ایک بات کہوں گا۔
مجھے برباد کرنے کے اور بھی طریقے ہیں ، خدارا میری بربادی میں تم اپنی عزت کا سودا مت کرو، تم جانتی ہو تم کیا کرنے جارہی ہو؟ یہ آئٹم سونگ تمہیں آسمان کی بلندیوں پر تو پہنچا دے گا۔کیونکہ تم ایک اچھی ڈانسر ہو،لیکن کیا تم یہ برداشت کرپاؤ گی کہ لوگ تمہارا برہنہ جسم کو غور سے دیکھیں تمہارے جسم کے بارے میں محـفل میں تبصرہ کریں ،
کیا یہ سونگ جب سکرین پر جلوہ گر ہوگا تم سب کے ساتھ بیٹھ کر اعتماد سے دیکھ سکو گی۔کیا تم سوشل میڈیا پر غلط کمینٹس برداشت کرپاؤ گی؟
یہ لباس ، کہنے کو تو ایک لباس ہے۔لیکن کیا لباس ایسے ہوتے ہیں؟”
اس نے رنگین چولی اور گھاگھرا کی جانب اشارہ کیا۔،
مشل نے بے ساختہ اس لباس کو دیکھا جو پیچھے اور آگے سے بالکل ہی چھوٹا تھا۔
لیکن وہ اپنی انا کا خون نہیں کرسکتی تھی۔وہ عاہن علوی کی بات نہیں مان سکتی تھی،
اس کا انداز مکمل نرمی میں ڈھلا دیکھ کر وہ مزید ضد پر آمادہ ہوئی۔
“تم ہوتے کون ہو مجھے یہ لیکچر دینے والے؟ کس نے حق دیا ہے، یہ میری زندگی ہے جس میں تمہارا کوئی حق نہیں ، تم تو مجھے نوکرانی کا رول دینے والے تھے۔اب تمہیں کہیں ڈر تو نہیں لگ رہا کہ میں اس سونگ سے شہرت پاکر تمہارے مقابل آجاؤں گی؟”
طنزیہ سی مسکراکر وہ اپنے متزلزل ہوتے جذبات چھپانا چاہ رہی تھی۔
“حق، ہاہ صحیح کہا ،، حق کیا ہوتا ہے ؟ کچھ بھی تو نہیں ہوتا۔، کچھ بھی نہیں۔تم میرے نکاح میں تقریباً میں بارہ تیرہ سال سے ہو، میں نے کبھی حق نہیں جتایا ، کیونکہ ہمارے درمیان اس رشتے کو لے کر کوئی جذباتیت نہیں تھی۔
میں حق آج بھی نہیں جتاؤں گا کیونکہ میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جذبہ نہیں ہے۔اگر کوئی جذبہ میرے دل میں ہوتا بھی تو تمہارے باپ نے وہ بھی ختم کردیاتھا۔”
اس کے لفظوں نے ناجانے کیوں اسے بے چین سا کردیا تھا۔
“میں محض ایک انسان ہونے کے ناطے تمہیں کہنا چاہتا ہوں تم یہ سونگ مت کرو۔، تم ڈرامہ میں ایکٹنگ کرلو، ایون میں تمہیں خود ایز آ لیڈ ہیروئن کاسٹ کرواؤں گا۔پر پلیز یہ آئٹم سونگ مت کرو۔، یہ ریکویسٹ سمجھ لو،”
عاہن کے لہجے میں پہلی بار التجا سمٹ آئی تھی۔سیاہ پتلیاں بھی فریاد گو تھیں۔
“مجھے تمہارا احسان نہیں چاہیے۔میں خود اپنا مقام بنانا جانتی ہوں۔اور نکاح ،، نکاح کی میری نظر میں نہ پہلے کوئی اہمیت تھی نہ اب ہوگی”۔
سنو!!! “مجھے برباد کرنا چاہتی ہو ناں “۔
وہ آگے بڑھ کر اسے کندھوں سے تھامے مقابل لایا۔آج اس کی قربت میں کچھ الگ ہی بے اختیاری تھی۔
مشل علوی کے کندھے اس لمس پر ٹھنڈے پڑے گال تپ سے گئے، ایسا اس نے کب سوچا تھا کہ وہ اسے چھولے گا،وہ اسے اپنے مقابل کھڑا کرے گا۔
ہ۔۔ہا ۔۔ہاتھ اٹھاؤ، دور ہوکر بات کرو ، پلکوں کو جھپکتی وہ مدھم سا بولی۔
عاہن نے کندھوں سے تھام کر ہی اسے مزید نزدیک کیا تھا۔اتنا کہ دونوں میں فاصلے سمٹ آئے تھے۔
عاہن،لیومی،، وہ محض بولی تھی لیکن کندھوں کو نہیں جھٹکا تھا۔شاید وہ ہاتھ ہٹانا نہیں چاہتی تھی۔
“میں تمہیں حق دیتا ہوں مشل علوی،میرا کیرئیر تباہ کرنا ہے مجھے برباد کرنا ہے یا جو بھی تم کرنا چاہو، میں حق دیتا ہوں کہ جو تمہارا دل چاہے کرو، لیکن بدلے میں تم یہ آئٹم سونگ نہیں کرو گی،”
اس کی گرم سانسوں کی تپش مہکتی خوشبو،مشل کے دل کی کیفیت بدل رہی تھی۔اس کا کندھوں سے تھام لینا بھی اسے برا نہیں لگ رہا تھا۔دل دھڑ دھڑ کانوں میں دھڑک رہا تھا۔
ایسا کیوں ہورہا تھا۔یہ غلط تھا۔اسے وہ کیوں اس لمحے تھوڑا سا بالکل تھوڑا سا پیارا لگ رہا تھا۔
اس کی سیاہ گہر سی آنکھیں شوریدہ جذبات سے پر تھیں،
تم کانپ رہی ہو؟” فسوں ٹوٹ گیا تھا،عاہن علوی نے کمزوری جکڑ لی تھی۔
اس نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں، لبوں کو سختی سے پیوست کیے نفی میں سرہلایا،
“تم کانپ رہی ہو مشل، تمہارے ارادے ڈگمگا رہے ہیں۔”
وہ لب دبائے مکمل اس کا چہرہ حصار میں لیے ہوئے تھا۔
“پیچھے ہٹو۔سمجھتے کیا ہو تم؟ سمجھ نہیں آتا کہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔لیکن عجیب چپکو انسان بن کر تم مجھے سمجھانے آگئے۔تمہارے گھر میں تمہیں خلع نامہ دے کر آئی تھی لیکن پھر بھی بے شرموں کی طرح پہنچ گئے۔جاہل مردوں کی طرح حق جتانا تو تمہارا شروع سے ہی شیوہ رہا ہے۔میں اپنی مرضی سے یہ سونگ کرنا چاہتی ہوں۔یہ میری زندگی ہے جسے میں اپنی مرضی سے گزاروں گی۔”
وہ پھٹ پڑتی چیخی اور عاہن کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دھکیلا۔
عاہن نے سکون سے موبائل جیب سے نکالا۔
وہ حیران ہوتی خاموش ہوئی ۔کایاپلٹ ہوچکی تھی۔
اس نے سکرین سامنے کی جہاں دادا کی کال چل رہی تھی۔مشل کی آنکھیں پھیلی تھیں۔جبکہ حلق مزید خشک ہوا۔زمین آسمان جیسے آنکھوں میں گھوم کررہ گئے۔
جبکہ وہ گردن ہلکی سی ترچھی کیے مشل علوی کو چیلنج زدہ نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔
اس کے چہرے پر نمایاں کمینگی بھری کھلتی مسکراہٹ دیکھ کر اس کا دل چاہا اس کا منہ نوچ لے۔
جس نے کس قدر گھٹیا طریقے سے اسے مات دی تھی۔
“سن لیا اپنی لاڈلی پوتی کا محبت نامہ۔۔آپ اس گھٹیا لڑکی کو میرے ساتھ ہمیشہ کے لیے جوڑنا چاہتے ہیں۔
جس کی زبان زہر اگلتی نہیں تھکتی۔جسے میں جاہل مرد لگتا ہوں۔”
“عاہن میری بات سنو۔۔اسے کچھ مت کہنا میں سمجھاؤں گا بیٹا۔۔۔” دادا کی آواز پر مشل شرم سے مرجانے کو ہوئی تھی۔
اس بدتمیز انسان نے ایک پل میں کیا گیم کھیلا تھا کہ وہ سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔
اس نے کال کاٹ کر موبائل کو جیب میں ڈالا۔
مشل کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخ ہوچکا تھا۔
“میرا دماغ خراب تھا ناں جو میں تمہارے ساتھ اتنے ایموشنل ڈائیلوگ بولتا۔۔میں یہ کام سکرین پربہت اچھے سے کرلیتا ہوں تو پھر تم نے کیا سوچا تھا کہ میں تم پر اپنے محبت بھرے لفظ ضائع کروں گا۔”
پاگل خوش فہم لڑکی۔۔” اس کے لفظ اسی کو لوٹائے اس نے حساب بے باک کیا۔
مشل زوار علوی ۔۔ مجھے تم سے صرف اور ایک جذبہ محسوس ہوتا ہے اور وہ ہے نفرت کا ۔ میری نفرت کا پیمانہ تم جان لو تو شرم سے ڈوب مرو۔کہ کوئی تم سے اتنی نفرت بھی کرسکتا ہے۔
دادا کو لگتا تھا ان کی پوتی سدھر چکی ہے وہ محض اپنے باپ کے دباؤ میں یہ حرکتیں کررہی ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ تم جیسی بدتمیز اور الٹی کھوپڑی کی لڑکی اپنی مرضی سے یہ عجیب و غریب کام نہایت خوش اسلوبی سے کرتی ہے۔”
اس کی کنپٹی پر انگلی کا دباؤ ڈالے وہ لفظ چبا کر ادا کرتا اسے مکمل دلبرداشتہ کرگیا تھا۔
مشل کی پلکیں شدت سے بھیگی تھیں۔دادا کے سامنے وہ ناجانے کیا کیا بول چکی تھی۔اور مزید دکھ ناجانے اسے کس بات کا ہوا تھا فلحال وہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی۔
اس کی ڈبڈبائی آنکھیں دیکھتا وہ تلخ سا مسکرایا۔۔نرمی سے انگلی کی پور پر اس کا آنسو بھرتا اس نے عین نگاہ کے سامنے اپنی انگلی کی۔
“یہ ایک قطرہ ہے مشل علوی۔اور مجھے اس کو دیکھ کر زرا بھی خوشی نہیں ہے کیونکہ میں تمہاری آنکھیں آنسوؤں سے بھردینا چاہتا ہوں۔کیونکہ تمہارے باپ نے میری ماں کو میرے جان سے عزیز تر بھائی کو میرے باپ کو میرے دادا دادی کو اتنے خون کے آنسو رلائے ہیں کہ اب تو حساب کرنا ممکن نہیں ہے۔
میری طرف سے تم کسی غیر کی بانہوں میں بیہودہ ویڈیوز بناؤ کسی کے فیک پرپوز کرنے پر خوشی سے اتراؤ مجھے گھنٹہ بھی فرق نہیں پڑتا۔کیونکہ تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہارے لیے کچھ محسوس کیا جائے”
اس کی آنکھوں سے نکلتی چنگاریاں لبوں پر کھیلتی طنزیہ مسکراہٹ اور لفظوں میں بکھرے کانچ مشل علوی کے دل کو کئی ٹکروں میں توڑنے کا موجب تھے۔
چہرے پر بڑھتی سرخی سبز غلافی آنکھوں میں تیرتے آنسو گواہ تھے کہ مشل علوی اس وار کو سہنے کی حقدار نہیں تھی۔
اب آرام سے یہ ڈریس پہن کر کسی کی بانہوں میں جھول لینا لیکن پہلے اپنا یہ خوبصورت مگر اندر کا بدصورت چہرہ آئینے میں ضرور دیکھ لینا۔
اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے پھینکے وہ جہاں سے آیا تھا وہی سے باہر نکلا تھا۔
اور مشل علوی کی زندگی تہہ و بالا ہوچکی تھی۔
گال بھگوتے آنسو اب گردن میں جذب ہوتے مشل کی قسمت پر نوحہ کناں تھے۔


آدھی رات کو وہ گھر واپس آیا تو پچھلے راستے سے اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا تھا جب اسے کچھ فاصلے پر بنے سنگی بینچ پر کوئی ہیولہ نظر آیا۔
عاہن کی چھٹی حس بیدار ہوئی تھی۔
وہ پاکٹ میں منی چاقو کو یقینی بناتا آگے آیا تو سامنے شام کو دیکھتا تنے اعصاب نرمی میں ڈھلے جبکہ دل پر جیسے کسی نے درد کا الاؤ بڑھایا تھا۔
یہاں کیوں بیٹھے ہیں ؟” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا سنجیدہ سا بولا تو شام نے سرخ ہوتی آنکھوں سے عاہن کا چہرہ دیکھا۔جو خلافِ توقع خطرناک حد تک سپاٹ تھا۔
تمہارے پاس سگریٹ ہے ؟” شام کے سوال پر وہ حیران ہوا اور جبڑوں سے پکڑ کر شام کا چہرہ اپنی جانب موڑا۔
شام نے خفگی بھری نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
یہ ٹاپ ماڈل مسٹر شام علوی سیگریٹ مانگ رہے ہیں جو اپنے بھائی کو ناجانے کتنی دھمکیاں کتنی گالیاں کتنے لیکچر سیگریٹ پر دے دیتا ہے۔
بکو مت عاہن ، اگر ہے تو دو ورنہ دفعہ ہوجاؤ۔
کیوں نہیں بھائی آج ہم دونوں بھائی اپنا غم ہلکا کریں گے۔اس نے سیگریٹ نکال کر اس کے ہونٹوں میں دبائی اور ایک اپنے لبوں سے لگائی۔۔منی گولڈن لائٹر نکال کر اس نے شعلہ بھڑکایا تھا۔
عاہن نے شام کی سیگریٹ سلگائی تو وہ کش لے کر کھانستے ہوئے دوہرا ہوا جبکہ عاہن نے مسکرا کر گہرا کش لیا اور پھر ہنستا چلا گیا تھا۔۔
شام انگلیوں میں نہایت بے ترتیب انداز سے سیگریٹ تھامے اسے ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
“بھائی سیگریٹ پینا بھی ایک آرٹ ہے۔اور یہ آرٹ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ سیگریٹ تو ہر کوئی پیتاہے ،اور یہ دیکھنے بھی عام ہوتی ہے لیکن اس سیگریٹ کو منفرد پینے والا بناتاہے۔ سیگریٹ پینے کے لیے آپ کے دل میں غم ہونا چاہیے۔ایک جلن ہونی چاہیے جو شعلے کی تپش سے مزید سلگ اٹھے۔
اور وہ سلگن اگلے انسان کو بھی اپنے لپیٹ میں لےتا کہ سیگریٹ کے دھویں اس ظالم کا چہرہ واضح ہوجائے۔
عاہن کی سرخ ہوتی آنکھوں میں مشل علوی کا عکس پوری طرح سمٹ آیا تھا۔
جبکہ شام کی نگاہ اس پری جیس ظالم حسینہ کے خیال میں کھوئی تھی۔
دونوں بھائی آج پھر دلبرداشتہ سے ایک دوسرے کا غم ساتھ بانٹنے بیٹھے تھے۔
ایک تو اپنی محبت پاکر بھی بے چین تھا۔تو دوسرا عنقریب محبت کے روگ میں ڈوبنے سے پہلے نفرت کا الاؤ روشن کر آیا تھا۔
کئی سیگریٹ کے ٹکرے اپنے قدموں میں پھینک کر وہ خود بھی سلگے تھے اور اپنی ذات سے جڑی دو زندگیوں کو بھی سلگاتے رہے۔جو دونوں تھی تو مختلف جگہوں پر لیکن دونوں کے دلوں پر زخم ایک جیسے تھے۔
اور آج وہ مقام آگیا تھا جب وہ پھر سے مل کر تڑپ اٹھے تھے۔


آناً فاناً زوار علوی نے فلائٹ پکڑی تھی۔وہ اگلی صبح ہی پہنچ چکے تھے۔اور وہ سیدھا کراچی آئے تھے۔
ماہ تاب آخر کہاں جاسکتی ہے۔تم نے زی سے پوچھا وہ
کہاں ہے؟”
ان کا پہلا سوال ہی یہی تھا۔
وہ زی کے پاس نہیں ہے نہ ہی اس کا معیز سے کوئی رابطہ ہوا ہے بلکہ وہ ان تین چاردن میں کسی سے بات نہیں کررہی تھی۔”
“پھر کیسے ؟ کیا تمہیں زرا اندازہ نہیں تھا۔”
زوار علوی الجھ کر رہ گئے تھے۔
“وہی مجھے سمجھ نہیں آرہی یہاں وہ کسی کو نہیں جانتی بلکہ وہ یہاں کافی مطمئن بھی تھی ایڈ کے لیے بھی مان گئی تھی۔پھر ناجانے۔۔۔؟”
یکلخت وہ رکے تھے۔
وہ مان گئی تھی۔ایسے کیسے اتنی جلدی ؟؟
شارف ابدال کے حواس بحال ہوئے تو ان کا دماغ بھی کام کرنے لگا۔
وہ آسانی سے مان گئی تھی۔یعنی کچھ تھا جو ان سے چھپا تھا۔
کیا ہوا تم کیا سوچ رہے ہو؟”
زوار علوی اس کا چہرہ دیکھتے حیران ہوئے جو سرخ ہورہا تھا۔
“زوار علوی ماننا پڑے گا کہ تمہاری بیٹی تمہاری طرح شاطر نکلی۔۔اتنی چالاکی سے کھیل گئی کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔”وہ زوار کا چہرہ دیکھتے غرائے تھے ۔۔
“کچھ بتاؤ ہوا کیا ہے؟” زوار صاحب کا رنگ فق ہوا۔وہ شارف ابدال کی ناراضگی افورڈ نہیں کرسکتے تھے۔
“بتاتا ہوں بلکہ ڈیمو بھی دکھاتا ہوں۔ماہ تاب سر کے بل چل کر نہ آئی تو کہنا۔اس لڑکی نے مجھے یعنی شارف ابدال سے غداری کی ہے۔اب یہ مربھی جائے نہ تب بھی شارف ابدال اس کی سزا ختم نہیں کرے گا۔”
وہ جھٹکے سے اٹھ کر کوٹ پہنے باہر کی جانب بڑھے تھے۔


ملازمہ کو کلاتھ سٹینڈ لاتے دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئی۔
شام کی ہڈی اور کھلے سے ٹراؤزر میں ملبوس وہ ابھی منہ دھو کر باہر نکلی تھی،۔
رات کافی دیر تک جاگتی وہ آنسو بہاتی شام کے لفظ برداشت کرتی رہی تھی۔
ملازمہ کے ساتھ ایک اور لڑکی تھی، جو ٹاپ اور جینز میں ملبوس دونوں جانب برگنڈی رنگ کے بال بکھرائے ہوئے تھی،۔دیکھنےمیں وہ کوئی فیشن ڈیزائنر ہی لگ رہی تھی۔
میم !!” یہ شام سر نے آپ کے کپڑے بھجوائے ہیں، سب آپ کے جسامت کے اکورڈنگ ہیں”،
وہ لڑکی قدرے خوشگواری سے بولی، ماہ تاب نے ایک نظر سٹینڈ پر ڈالی، جہاں سب لباس اسے بغیر آستین کے ہی نظر آئے،
یعنی شام اس کی چوائس کو جانچ چکا تھا یا پھر آخری وقت میں اسی طرح کے لباس میں دیکھا تھا،
“مم م مجھے یہ نہیں چاہیے، مجھے کچھ ڈڈ ڈفرنٹ آؤٹ فٹ چاہیے،”
اس لڑکی نے تعجب سے ماہ تاب کودیکھا، اور سب لوگوں کی طرح وہ بھی حیران رہ گئی تھی، پری چہرہ سی وہ اپسرا کی زبان گھن زدہ تھی،
“اوکے میم۔آپ بتادیں آپ کیسے ڈریسز چاہتی ہیں ، کچھ دیر میں وہ بھی آجائیں گے۔”
“مم مجھے وہ لونگ گاؤن چاہیے جو فلی کور کردیں ، اور ڈوپٹہ بھی چاہیے،”
وہ بمشکل چند لفظ ہی بول پائی،۔
“اوکے میم!! میں سمجھ گئی، میں سر کو کہہ دیتی ہوں ، وہ دیبا میم کو بتادیں گے،”
دیبا!! وہ ہولے سے بڑبڑائی اور چونک بھی گئی،
دیبا کون ہیں ،؟” ماہ تاب نے بے قراری سے پوچھا تھا،
“وہ سر کی بزنس پارٹنر ہیں ، میم میں سر کو کہہ کر آتی ہوں ۔”
سفینہ کو نیچے آتے دیکھ کر شام حیران ہوا تھا۔
کیا ہوا ؟ یہ واپس کیوں لائی ہو؟”
“سر میم کہہ رہی ہیں انہیں کچھ اور چاہیے۔مطلب گاؤن ٹائپ ڈریسز ۔”
شام کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے۔لیکن سفینہ کو کہہ کر اس نے دیبا کو اس کی پسند کے ڈریسز کا آرڈردیا تھا۔
کچھ گھنٹوں میں ہی کئی ملبوسات سفید کمرے میں شام کی وارڈروب میں استحقاق سے سج چکے تھے۔
بقیہ سازو سامان ڈریسر کی زینت بنا تھا۔
مہرون لونگ سلکی گاؤن پہن کر اس نے ڈوپٹہ ہلکا سا سر پر اوڑھا ۔ملکوتی حسن جیسے مکمل ہوتا محسوس ہوا۔اندر داخل ہوتے شام کے قدم ڈگمگا سے گئے۔
ہلکا سا ڈوپٹہ میں سمٹا سفید گلابی چہرہ دیکھتے شام کا دل شدت سے دھڑکا۔
مسمرائز سا چلتا وہ اس کے قریب آیا تو ہتھیلیوں میں اترتی نمی کو برداشت کرتی وہ نظر جھکا گئی۔
وہ اس وقت عام سے حلیے میں تھا۔لیکن اس کی خوشبو ماہ تاب کے حواس معطل کررہی تھی۔
اس کے چہرے کو چھوتا وہ اب بھی خواب سی کیفیت میں تھا۔۔ماہ کو لگا جیسے وہ رات کی سختی کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔اس کی قربت کی فسوں خیزی میں آنکھیں موندتی وہ حواس باختہ ہوئی۔
فون رنگ نے اسے ہوش کی دنیا میں پٹکا تھا۔
ماہ نے دھیرے سے آنکھیں کھول کر شام کو دیکھا جو اب موبائل نکال کر مڑا تھا۔
دوسری جانب سے جو اطلاع اسے ملی وہ اس کا خون کھولانے کے لیے کافی تھی۔
“آپ پریشان مت ہوں دیبا میں آتا ہوں۔بس آپ سب سنبھالیں مستحسن صاحب کو بلائیں۔”
اس نے ماہ کا معصوم چہرہ دیکھا۔جہاں اب سہمے ہوئے تاثرات تھے۔
شام نے دھیرے سے پکـڑ کر اسے اپنے برابر کیا تو وہ خوف سے سفید پڑتی کچھ معاملہ سمجھ گئی تھی۔
“شام میں نہیں جاناچاہتی۔پلیز۔۔مجھے وہاں مت بھیجنا۔آپ مجھے اپنے قدموں میں بھی جگہ دیں گے تو رہ لوں گی لیکن اس شخص کے پاس نہیں”۔
وہ ہاتھ جوڑتی سسکی تو شام نے نرمی سے اسے سینے سے لگایا۔۔
“بے فکر رہیں دیبا۔میں اب شہرام علوی نہیں شام علوی ہوں ۔اب میری کمزوری میری طاقت بن چکی ہے۔
اور اب کچھ لوگوں کی طاقت ان کی کمزوری بن جائے گی۔”
کال کاٹ کر اس نے ماہ کو سامنے کیا ۔سیاہ بھیگی آنکھیں اس نے نرمی سے صاف کی تھی۔
” میرا دل توڑنے کی سزا تو میں تمہیں فرصت میں دوں گا۔ وہ معاملہ میں نے ایک طرف رکھ دیا ہے۔
لیکن اتنا یقین رکھو کہ تم میری بیوی ہو۔اور ایک غیرت مند آدمی اپنی بیوی کو نہ کسی کے حوالے کرتا ہے نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے”۔
اس کی پریقینی پر ماہ نے نرمی سے سر ہلایا تو وہ مطمئن ہوا۔۔
“تمہیں میرے ساتھ تین چار سیلفیز میں نہایت رومینٹک پوز دینے ہیں۔”
اس کی اگلی بے باک بات پر اس نے ماہ کے گال گلابی ہوئے تھے۔
“فکر مت کرو۔یہ سب دنیا کو دکھانے کے لیے ضروری ہے۔”
اسے ڈریسر کی چئیر پر بٹھاتے اس نے مختلف سازو سامان کی جانب اشارہ دیا تاکہ وہ اچھے سے تیار ہوسکے ۔
وہ جھجکتی ہوئی تیار ہونے لگی۔
ہلکے سے رخسار گلابی کیے سیاہ آنکھوں میں کاجل بھرا اور گلابی ہوئے لبوں پر مہرون رنگ بکھیر دیا۔
شام اس کے قریب کھڑا اس کی کاروائی دیکھتا رہا۔
کچھ پل میں وہ بالکل تیار تھی ۔
اسے بیڈ پر بٹھا کر اس نے کیمرہ سیٹ کیا اور تین چار پوز نہایت دلفریب انداز میں لیے۔
“میرے ساتھ کا یقین رکھو گی تو تمہیں کبھی مصیبت کی جانب نہیں جانے دوں گا اگر مجھ پر یقین کھودو گی تو شاید دلدل میں دھنسنے سے تمہیں روک نہ پاؤں۔”
ماہ نے جلدی سے نفی میں سرہلایا تو اس نے لب بھینچ لیے۔
تم نیچے چلو میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔”
اسے اپنے ہونے کا احساس دلا کروہ موبائل میں مگن ہوا تھا۔
اورکچھ دیر میں ٹاپ ماڈل شام علوی کے نکاح کی خبر بمعہ دلفریب تصاویر اور نکاح نامے کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی سب کو ڈگمگا کر رکھ گئی تھی۔


جاری ہے