Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Last updated: 22 August 2025
Rate this Novel
Shab E Yakeen
By Hadia Mughal
یہ تھی علوی ہاؤس کی زندگی۔جہاں وہ دس مکین زندگی بسرکررہے تھے بقول بدر علوی کے انہیں سلوک و اتفاق کی رمق ایک پل کے لیے بھی اس گھر میں نظر نہیں آتی تھی۔تبھی زندگی کو بسر کرنے کا نام ہی دیا جاسکتاتھا۔ "لڑتے جھگڑتے بچپن کا سفر جوانی کی جانب بڑھنے لگا۔ لڑائی جھگڑا بھی زیادہ تر بڑوں کے درمیان تھا۔ بچے تو آپس میں کافی حد تک خفیہ تعلقات رکھتے تھے۔ پندرہ سالہ عاہن علوی میٹرک کے امتحانات کی تیاری کررہا تھا جب کہ گیارہ سالہ مشل ابھی تک فائیو سٹینڈرڈ میں اٹکی ہوئی تھی۔ شہرام علوی بی ایس کے پہلے سمسٹر میں تھا۔ جب کہ ماہ تاب عرف شہرام کی جاناں کالج کی نئی نویلی زندگی میں قدم رکھ چکی تھی۔" وقت کی ترقی نے زوار علوی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا کر گویا گردن میں سریا بھی فٹ کروایا تھا۔ جبکہ سعادت علوی میں عاجزی نے ڈھیرا جمایا تھا۔ زوار بیٹا!! "یہ دوائیاں تو زرا بھیج دینا"۔بدر صاحب نے دوا کا پرچہ سامنے بڑھایا تھا۔ اولاد اب حیثیت میں اونچی ہو چکی تھی۔اس لیے بدر صاحب زرا دب کر ہی بات کرتے تھے۔ اچھا ابا جی !!"کل بھجوا دوں گا اب زرا سٹور پر کام بڑھ گیا۔تو شاید بھول جاؤں۔" دوٹوک کہتے وہ کمرے سے نکلے تھے۔اور اپنے شاندار سے پورشن کی جانب بڑھے تھے جو انہوں نے حال ہی میں سیٹ کروایا تھا۔بدر علوی لبوں پر جبری مسکراہٹ سجائے بیگم کی جانب متوجہ ہوچکے تھے جو اس ساری باتوں کے درمیان کچھ نہیں بولی تھیں۔بولتی بھی تو کیا بیٹا شاید ان سے کافی حد تک بڑا ہوچکا تھا۔جس کے سامنے ماں باپ بھی زبان چلانے سے کتراتے تھے۔ ❤❤❤ "ماہ اپنے کمرے میں جا کر پڑھو۔تمہارے پاپا آگئے ہیں"۔ فزکس کی بک کھول کر بیٹھی ماہ تاب نے ۔محض اثبات میں سرہلایا اور اپنے اور مشل کے مشترکہ کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ "ابو کی بھی کبھی سمجھ نہیں آتی۔!! اتنی جلدی دوائیاں ختم کرلیتے ہیں۔بھلا پوچھے کوئی ان سے کہ پیسے کیا آسمانوں سے اتر کر ہاتھ پر آتے ہیں۔جو اتنی مہنگی ادویات فوراً حاضر ہوجائیں گی۔ اور یہ سعادت اچھا اپنی غریبی کا رونا روتا رہتا ہے۔کہ سارا خرچ میرے سر پر آجاتا یے"۔ کوٹ اتار کر سائیڈ پر رکھتے وہ پیشانی سے پسینہ صاف کرتے صوفہ پر بیٹھے تھے۔ "اب کیوں پچھتارہے ہیں زوار۔!!جب بھی میں نے آپ کو سمجھایا آپ کو تو میری باتیں کڑوی لگتی تھیں۔ سعادت اندر ہی اندر پیسہ جمع کررہا ہے لیکن آپ کوخبر ہی نہیں ہے۔اس کے تو دو بیٹے ہیں جبکہ ہمارے سر پر تو بیٹیوں کا بوجھ ہے پھر بھی ابو کو نظر نہیں آتا۔" یہی بات مجھے بھی سمجھ نہیں آتی کہ یہ سعادت چاہتا کیا ہے۔اور کیوں چھپاکر رکھتا ہے۔؟" پیشانی مسلتے وہ شبانہ کی تائید کرگئے۔ اچھا آپ پریشان نہ ہوں۔ ویسے گھر کی تعمیر کہاں تک پہنچی۔؟؟ شبانہ بیگم نے سرعت سے بات بدل کر زوار کی توجہ گھر کی جانب دلوائی۔ آہستہ بولو۔!! کوئی سن لے گا۔کتنی بار کہا اس راز کو ابھی راز ہی رہنے دو۔" زوار کی تندہی پر شبانہ نے زبان دانتوں تلے دبائی۔ "میں آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں۔آپ پریشان نہ ہوں"۔تسلی آمیز انداز میں وہ کہتی باہر کی جانب بڑھی تھیں۔ **** """؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛"""****
