Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

جاناں!!۔رکو۔۔ایسے مت بھاگو چوٹ لگ جاۓ گی۔”بارہ سالہ شہرام علوی سات سالہ ماہ تاب کے پیچھے بھاگتا اسے پکڑنے کے در پر تھا۔۔لیکن اس کی رفتار کچھ زیادہ ہی تیز ہوئی۔
میں نن نہیں۔۔میں۔۔تیز۔۔بب بھاگوں گی۔تم نہیں ۔۔پپ پکڑ و گے مجھے۔”
وہ بچی بھاگتے ہوۓ مزید آگے بڑھی۔
جاناں آپ گر جاؤ گی۔۔ادھر رک”۔پھولتی سانس سے ادھورا سابولتا شہرام بھی اپنے قدموں میں تیزی لایا۔۔اور اسے پکڑنے کے لیے جھپٹا لیکن دیر ہوچکی تھی۔
ایک چیخ کے ساتھ سمینٹ کی سیڑھیوں سے پھسلتی وہ نیچے گرتی چلی گئی۔
صحن میں سبزی بناتی تائی امی کا کلیجہ گویا منہ کو آیا۔دھڑام سی کی آواز انہوں نے بھی سنی تھی۔
ماہ!! ۔میری بچی!!۔چیختی ہوئی وہ بچی کی جانب بڑھی۔
ماہ زمین پر بے سدھ گری تھی۔اور خون تھا کہ بہتا چلا گیا۔
زوار۔۔زوار۔۔ماہ گرگئ۔۔زوار۔۔چیختی ہوئی انہوں نے اپنے شوہر کو آواز دی۔۔جو اندر بیٹھے کاروبار کے سلسلے میں والدسے گفتگو کررہے تھے۔
شبانہ کی آواز پر تیزی سے باہر کی جانب آۓ۔۔بے ساختہ ان کے قدم تھمے ۔۔سامنے خون کی چھوٹی سی ندی سی بنی ہوئی تھی۔۔اور پاس ہی ان کی بیٹی زمین پر بے ہوش تھی۔
ماہ میرا بچہ۔!!
زروار صاحب تیزی سے آگے آئے۔
کیسے گری یہ؟؟ وہ یکدم دھاڑے کہ شہرام چھت پر کونے میں چھپا تھا۔
وہ ماہ تاب کو بازوؤں میں بھرے تیزی سے باہر نکلے۔
شبانہ بیگم آنسو پونچھتےاندر سے چادر لیے فوراً باہر کی جانب بڑھی۔
لیکن زوار صاحب ان کو روک چکے تھے۔
تم کہاں جارہی ہو۔؟”
رکو میں خود لے کر جاؤں گا۔بائیک پر اسے بٹھاتے وہ تیزی سے بائیک بھگا لے گئے۔۔
شبانہ بیگم کے ماتھے پرتیزی سے بل نمودار ہوۓ وہ چادر سر سے اتارتی اندر کی جانب بڑھی۔
زوار کو ان کا نہ لے کر جانا انتہائی طیش میں دھکیل گیا۔
ان کی اسی عادت سے وہ تنگ تھی۔ مشکل گھڑی میں بھی وہ انہیں ساتھ نہیں لے کر جاتے تھے۔
اکیلی بچی کو وہ ناجانے وہاں کیسے سنبھالتے۔۔لیکن انہیں پرواہ نہیں تھی۔
ان کے نزدیک بیوی کو ساتھ لے کر گھومنا۔ گویا نہایت شرم ناک کام تھا۔ اور یہ کام اپنے باپ کے ڈر کی وجہ سے ہی کرتے تھے۔
تیزی سے وہ برآمدے سے اندر آتے ایک کمرے کی جانب بڑھی۔
“جہاں شہرام ماں کے پلو سے چپکا بیٹھا تھا۔ باہر نکلو تمہیں میں بتاتی ہوں”۔۔چیل کی طرح شہرام پر جھپٹتی اس کے سانولے سے چہرے پر دو چار تھپڑ دھر گئیں۔
سدرہ کا کلیجہ گویا منہ کوآیا۔”
بھابھی رکیں۔ بتائیں کیا ہوا ہے سب خیر تو ہے؟
کیوں مار رہی ہیں؟” سدرہ بیگم تیزی سے شہرام کو تھام گئ۔ جواب اونچی آواز میں رو رہا تھا۔
یہ پوچھو تمہارے بیٹے نے کیا نہیں کیا۔؟
“ماہ کا سر پھاڑ دیا اس نے ہزار بار بولا اپنے بیٹے کو میری بیٹی سے دور رکھا کرو کیا تمہاری عقل میں بات نہیں آتی؟”
چیختے ہوئے وہ اس وقت ایک جاھل عورت کا کردار اچھے سے ادا کر رہی تھیں۔
“اور تم اتنی بھولی کیوں بن رہی ہو کیا تمھیں شور سنائی نہیں دیا میری بچی کا اتنا خون نکلا باہر آکر دیکھو زرا۔؟”
شہرام کو دور دھکیل کر ان کا بازو پکڑے وہ باہر کی جانب لائیں۔جہاں اب بھی خون موجود تھا۔
سدرہ بیگم کی آنکھیں حیرت سے پھٹی۔ یہ کیسے ہوا؟
تمہارے اس کالو بیٹے کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ شبانہ بیگم اونچی آواز میں چلائیں۔
اندر سے دادی بھی باہر کی جانب آئی۔
اے شبانہ کیوں چیخ رہی ہے کیا ہوا؟
دادی کی چنگھاڑ پر ان کے ماتھے پر بل نمایاں ہوۓ۔ وہ جھٹکے سے مڑتی دادی کی جانب متوجہ ہوئی۔۔ یہ پوچھے کیا نہیں ہوا میری ماہ کو زخمی کردیا۔۔”
ہاے امی ۔میری بچی۔!!
“امی شہرام نے ماہ کو سیڑھیوں سے دھکا دیا ہے دیکھیں میری بچی کا کیا حال ہوا کتنا خون بہہ گیا ہے اور زوار مجھے لے کر بھی نہیں گئے۔۔ نہ جانے کس حال میں ہو گی میری بیٹی۔”
ڈوپٹے سے آنسوپونچھتی وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی چلی گئی۔
اے سدرہ اس طرح کھڑی کیا دیکھ رہی ہے ؟ جلدی سے شبانہ کے لئے پانی لا”۔
جی امی!!۔ سدرہ تیزی سے کچن کی جانب آئی اور پانی کاگلاس بھر کرانہیں قدموں واپس آئیں۔
بھابی!! پانی پی لیں شہرام کی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتی ہوں۔”
سدرہ پھر انھیں پکارتی پیار سے بولی۔
نہیں پینا مجھے پانی میری بچی لا دو مجھے نا جانے کس حال میں ہے وہ زوار بھی مجھے نہیں لے کر گئے۔۔”
ان کا رونا دوبارہ شروع ہوا۔؛
اتنے میں اندر سے ایک اور بچی کی رونے کی آواز آئی۔
شبانہ بیگم جیسے ہوش میں آئیں ۔اور تیزی سے اندر کی جانب بڑھیں۔”
جاؤ شہرام کو دیکھو وہ رو رہاہوگا ۔ساس کی آواز پر وہ بھی ڈوپٹے سے نم آنکھیں پونچھتی اندر کی جانب بڑھ گئیں۔مزید کچھ کہہ کر وہ اپنی شامت نہیں بلوا سکتی تھیں۔
❤❤❤❤❤
شہرام تم نے گرایا؟ سدرہ بیگم اس کے قریب بیٹھتی سختی سے استفسار کرگئ۔
نہیں امی میں نہیں گرایا جاناں تیز بھاگ رہی تھی میں اسے پکڑ رہا تھا۔ میں نے اسے روکتارہا لیکن وہ نہیں رکی۔اور پھر وہ گرگئی۔
آخری الفاظ میں اس کی آواز بھرائی ۔
“جاناں مت کہا کرو۔۔کیوں نہیں سنتے تم؟”
سدرہ اس کا کان مروڑتی دبی آواز میں چیخیں۔
“امی سب تو اسے جاناں کہتے ہیں تو میں کیوں نہ کہوں؟”
اپنی تکلیف بھول کر وہ ماں سے سوال گو ہوا۔
سدرہ نے بے ساختہ اپنا ماتھا پیٹا۔
“کون کہتا ہے اسے جاناں!!بتاؤ زرا کس کے منہ سے سن لیا تم نے جاناں؟”
اپنا جھوٹ پکڑے جانے پر وہ نظر جھکاگیا۔
آئندہ اگر تمہارے منہ سے جاناں لفظ نکلا تو تمہاری زبان کاٹ دوں گی۔۔اور اب” ماہ تاب” سے دور رہنا۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔
جاؤ عاہن کو دیکھ کرآؤ۔
بدتمیز کہیں کا کب سے گلی میں نکلا ہے ابھی تک نہیں آیا؟؟
اپنے دوسرے بیٹے کا ذکر کرتی وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھی۔۔
سیڑھیوں کے پاس گرا خون صاف کرنا بھی گویا انہیں کی ذمہ داری تھی۔
شبانہ تو بقول ساس کے صدمے میں تھی۔
❤❤❤❤
مشل میری گڑیا۔!! کیا ہوا کیوں رو رہی ہے۔چار سالہ مشل کو گود میں اٹھاتی سینے سے لگاتے پچکارنے لگی۔آنسو تھے کہ بہتے چلے گئے۔”
ماہ تاب ناجانے کس حال میں تھی ۔زوار کا کوئی فون بھی نہیں آیا تھا ورنہ کچھ تو تسلی ہوجاتی۔
“ماما!! پاپا کو بلاؤ۔مشل اس وقت باپ کی گود میں ہوتی تھی۔اب ماں کو دیکھ کر وہ ان کو پکار رہی تھی۔
“گڑیا !! وہ ماہ تاب کو لے کر گئے ہیں۔بہنا کو چوٹ لگ گئ ہے۔آپ دعا کرو وہ جلد ٹھیک ہوجائیں۔”
تاب کو کیا ہوا ماما؟؟” معصومانہ سوال کرتی وہ مزید ان کو رلا گئ۔
“بیٹا ان کو سر پر چوٹ لگ گئ ہے ۔آپ دعا کرو جو میں نے آپ کو سکھائی تھی۔”
جواباً چار سالہ مشل ننھے ننھے ہاتھ اٹھاتی دعا کرنے لگی۔
بے ساختہ اسے بھینچتی وہ شدت سے روتی چلی گئی۔
ماما میں عاہن کے پاس جاؤں؟؟
ان کی گرفت سے نکلتی وہ بیڈ سے نیچے اتری تھی۔
ادھر آؤ۔!!یکلخت اسے بازو سے کھینچ کر بیڈ پر بٹھایا۔
“خبردار جو تم اس کے ساتھ کھیلی۔میں تمہارے ہاتھ کاٹ دوں گی ۔
دونوں اولادوں نے ناک میں دم کرکے رکھ دیا۔ناجانے ان کالے کلوٹوں میں کیا حسن بھرا ہوا ہے جو بھاگی چلی جاتی ہیں دونوں بہنیں۔”
تیز آواز میں بولتی وہ کمرہ سمیٹتی جارہی تھیں۔
مشل تو گویا سانس دبوچے کونے میں سمٹی تھی۔لیکن یہ بھی چند پل کے لیے تھا۔ماں کی توجہ بھٹکتے ہی وہ پل میں وہاں سے غائب ہونے والی تھی۔
❤❤❤❤❤
عاہن ۔مما ڈانٹ رہی تھی کہتی تمہارے ساتھ نہیں کھیلنا۔یہ اپنا جوتا پہنو جلدی سے اگر انہوں نے دیکھ لیا تو ماریں گی مجھے”۔اپنے ننھے سفید پاؤں سے چپل نکال کر اس نے عاہن کی جانب بڑھائی۔
جواباً عاہن بھی اپنی چپل اتار کر اس کی جانب بڑھاتا پل بھر میں اس کی پونی زور سے کھینچ کر اندر کی جانب بھاگا تھا۔
اب میں تجھے اپنی چپل نہیں دوں گا۔چڑیل”
آہ !!۔بے ساختہ وہ چیختی نیچے کی جانب گری۔
ہربار ماما ماما کرکے چپل بدل لیتی ہے۔
عاہن نے دروازے کی اوٹ سے بول کر دروازہ سختی سے بند کیا تھا۔
جواباً وہ اسے معصوم سی گالیاں دیتی پیر پٹکتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی جہاں ماں سے شکایت کرکے وہ آج پھر عاہن کو پٹوانے والی تھی۔
❤❤❤❤
یہ تھی علوی ہاؤس کی زندگی۔جہاں وہ دس مکین زندگی بسرکررہے تھے بقول بدر علوی کے انہیں سلوک و اتفاق کی رمق ایک پل کے لیے بھی اس گھر میں نظر نہیں آتی تھی۔تبھی زندگی کو بسر کرنے کا نام ہی دیا جاسکتاتھا۔
“لڑتے جھگڑتے بچپن کا سفر جوانی کی جانب بڑھنے لگا۔
لڑائی جھگڑا بھی زیادہ تر بڑوں کے درمیان تھا۔
بچے تو آپس میں کافی حد تک خفیہ تعلقات رکھتے تھے۔
پندرہ سالہ عاہن علوی میٹرک کے امتحانات کی تیاری کررہا تھا جب کہ گیارہ سالہ مشل ابھی تک فائیو سٹینڈرڈ میں اٹکی ہوئی تھی۔
شہرام علوی بی ایس کے پہلے سمسٹر میں تھا۔
جب کہ ماہ تاب عرف شہرام کی جاناں کالج کی نئی نویلی زندگی میں قدم رکھ چکی تھی۔”
وقت کی ترقی نے زوار علوی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا کر گویا گردن میں سریا بھی فٹ کروایا تھا۔
جبکہ سعادت علوی میں عاجزی نے ڈھیرا جمایا تھا۔
زوار بیٹا!! “یہ دوائیاں تو زرا بھیج دینا”۔بدر صاحب نے دوا کا پرچہ سامنے بڑھایا تھا۔
اولاد اب حیثیت میں اونچی ہو چکی تھی۔اس لیے بدر صاحب زرا دب کر ہی بات کرتے تھے۔
اچھا ابا جی !!”کل بھجوا دوں گا اب زرا سٹور پر کام بڑھ گیا۔تو شاید بھول جاؤں۔”
دوٹوک کہتے وہ کمرے سے نکلے تھے۔اور اپنے شاندار سے پورشن کی جانب بڑھے تھے جو انہوں نے حال ہی میں سیٹ کروایا تھا۔بدر علوی لبوں پر جبری مسکراہٹ سجائے بیگم کی جانب متوجہ ہوچکے تھے جو اس ساری باتوں کے درمیان کچھ نہیں بولی تھیں۔بولتی بھی تو کیا بیٹا شاید ان سے کافی حد تک بڑا ہوچکا تھا۔جس کے سامنے ماں باپ بھی زبان چلانے سے کتراتے تھے۔
❤❤❤
“ماہ اپنے کمرے میں جا کر پڑھو۔تمہارے پاپا آگئے ہیں”۔ فزکس کی بک کھول کر بیٹھی ماہ تاب نے ۔محض اثبات میں سرہلایا اور اپنے اور مشل کے مشترکہ کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
“ابو کی بھی کبھی سمجھ نہیں آتی۔!! اتنی جلدی دوائیاں ختم کرلیتے ہیں۔بھلا پوچھے کوئی ان سے کہ پیسے کیا آسمانوں سے اتر کر ہاتھ پر آتے ہیں۔جو اتنی مہنگی ادویات فوراً حاضر ہوجائیں گی۔
اور یہ سعادت اچھا اپنی غریبی کا رونا روتا رہتا ہے۔کہ سارا خرچ میرے سر پر آجاتا یے”۔
کوٹ اتار کر سائیڈ پر رکھتے وہ پیشانی سے پسینہ صاف کرتے صوفہ پر بیٹھے تھے۔
“اب کیوں پچھتارہے ہیں زوار۔!!جب بھی میں نے آپ کو سمجھایا آپ کو تو میری باتیں کڑوی لگتی تھیں۔
سعادت اندر ہی اندر پیسہ جمع کررہا ہے لیکن آپ کوخبر ہی نہیں ہے۔اس کے تو دو بیٹے ہیں جبکہ ہمارے سر پر تو بیٹیوں کا بوجھ ہے پھر بھی ابو کو نظر نہیں آتا۔”
یہی بات مجھے بھی سمجھ نہیں آتی کہ یہ سعادت چاہتا کیا ہے۔اور کیوں چھپاکر رکھتا ہے۔؟”
پیشانی مسلتے وہ شبانہ کی تائید کرگئے۔
اچھا آپ پریشان نہ ہوں۔ ویسے گھر کی تعمیر کہاں تک پہنچی۔؟؟
شبانہ بیگم نے سرعت سے بات بدل کر زوار کی توجہ گھر کی جانب دلوائی۔
آہستہ بولو۔!! کوئی سن لے گا۔کتنی بار کہا اس راز کو ابھی راز ہی رہنے دو۔”
زوار کی تندہی پر شبانہ نے زبان دانتوں تلے دبائی۔
“میں آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں۔آپ پریشان نہ ہوں”۔تسلی آمیز انداز میں وہ کہتی باہر کی جانب بڑھی تھیں۔
* “””؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛”””*
دبے قدموں سے چلتی وہ پیچھے بھی مڑ کر دیکھ رہی تھی۔کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے۔تسلی کیے وہ شہرام کے دروازے کے قریب رکتی ایک بار پھر پیچھے مڑ کر خود کو پرسکون کرتی سامنے متوجہ ہوئی۔
ہلکی سی دستک دیتی وہ اندر داخل ہوئی۔جہاں چئیر پر بیٹھا شہرام پوری طرح کتاب میں غرق تھا۔
آجاؤ!!:وہاں بیٹھو میں آتا ہون۔ بس پانچ منٹ میں یہ لیکچر کمپلیٹ کرلوں،۔پھر آپ کو پڑھاتاہوں”۔
بنا اس کی جانب دیکھے وہ جاناں کو ہدایت دیتا دوبارہ پڑھائی میں مگن ہوا۔
کرسی پر بیٹھتی وہ شہرام کو دیکھ کر مسکرائی تھی جو ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک ٹراؤزر پہنے سانولی سی رنگت پر بکھرے بالوں سمیت بھی نہایت پیارا لگتا تھا۔
“مجھے مت دیکھیں ۔سٹڈی پر فوکس کریں۔ورنہ آج میں سزا دینے سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔”
یکدم سٹپٹاتی وہ بک کی جانب متوجہ ہوئی۔ لیکن پھر نتھنے پھیلاۓ شہرام کی جانب متوجہ ہوئی۔
تت تمہیں۔کک کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں۔
جاناں کی غصے سے بھرپور آواز پر شہرام کے لبوں پر ابھرتی مسکراہٹ پل بھر میں معدوم ہوئی۔
“مری نظریں چاروں جانب ہوتی ہیں۔سپیشلی جب آپ سامنے ہوتی ہیں”۔
بنا اس کی جانب دیکھے وہ جاناں کو سٹپٹانے پر مجبور کرگیا
بک کھولو جو چیپٹر آج کلئیر کرنا اسے ریوائز کریں میں آتا ہوں”۔اپنی کتابوں کو ترتیب سے رکھتا وہ مصروف سے انداز بولتا جاناں کی جانب آیا تھا۔جو بک کھول کر پڑھنےمیں مشغول ہوچکی تھی۔
دوگھنٹے وہ اب اسے مکمل دلچسپی سے پڑھانے والا تھا۔
❤❤❤❤❤
یااللہ اس لڑکے کا میں کیا کروں۔سر پیٹتی وہ کمرے میں بکھری کتابوں کے ورق کو بھی سمیٹ رہی تھیں۔جو عاہن نے اس انداز سے بکھیرے تھے کہ سدرہ بیگم کی کمر دوہری ہوچکی تھی ۔
نواب نے میٹرک کے پیپر نہیں دیے گویا ایک احسان عظیم کیا تھا کہ بکس کو ہوا میں اچھال کر ان کے بخیے ہی ادھیڑ دیے تھے۔
شارٹس کے ساتھ شرٹ پہنے وہ منحنی سا وجود لیے کمرے میں داخل ہوا جہاں سدرہ بیگم کچھ کتابیں تو سمیٹ چکی تھیں۔لیکن کچھ کتابوں کے صفحے بیڈ سے نیچے جاچکے تھے۔
ممی!! میں آزاد پنچھی بن گیا۔۔”ٹھمکے لگاتا وہ سدرہ بیگم کو بھی گھماگیا۔
بدتمیز چھوڑو مجھے۔کیا کررہے ہو۔تمہارے بابا نے دیکھ لیا ناں پھر تمہاری گھگی بندھ جاۓ گی۔
اس کی بازو کو جھٹکتی وہ گھومتے سر کے ساتھ بیڈ پر ٹکی تھیں۔
اوہ ممی !! آج دھمکی نہ دو آج میں آزاد ہوگیا ہوں۔آج ابو کی ڈانٹ بھی مجھے پھولوں کی طرح لگے گی۔
گہرا سانس لیتا وہ چہرے کو فضا میں بلند کیے ایک ادا سے بولتا سدرہ بیگم کے ماتھے پر بل لایا تھا۔
بیٹا !! اب یہ کتابیں تو آپ نے پھاڑ دی۔اگر سپلی وغیرہ آگئی تو کیا کرو گے۔
یکلخت اس کے ٹھمکے تھمے تھے۔اور پھیلے ہونٹ سپاٹ ہوۓ۔
ممی !! “بددعا تو نہ دو۔جانتی ہیں ۔میں نےمر مر کر پیپر دیے ہیں۔اور آپ ہیں کہ جلے پر نمک چھڑک رہی ہیں”۔مصنوعی افسردگی سے بولتا وہ نادیدہ آنسو رگڑتا زمین پر بیٹھا۔
نوٹنکی کی انتہا دیکھتی سدرہ بیگم سرجھٹک کر رہ گئی۔
“یہ صفحات میں سمیٹ کر رکھ رہی ہوں۔جب تک رزلٹ نہیں آتا یہ کتابیں اگر کمرے سے کہیں غائب ہوئی تو میرا جوتا اور تمہارا یہ سر ہوگا۔سچی بتارہی ہوں اتناماروں گی کہ شہرام بھی نہیں بچاپاۓ گا”۔
دھمکی آمیز انداز میں کہتی وہ کتابوں کو پردےکے پیچھے موجود الماری میں رکھتی کمرے سے نکلی تھیں۔”میری تو کوئی عزت ہی نہیں ہے۔جو دیکھتا ہے جوتوں پر آجاتا ہے ایک مرتبہ بڑا آدمی بن جاؤں پھر سب کو بتاؤں گا عاہن بابو کیا چیز ہیں۔ایسا لش پش بن کر سب کے سامنے آؤں گا کہ اس فشل کی دکان بھی اپنے کنچے جھپک نہیں پائے گی”۔
“شیشے کے آگے کھڑے ہوتے بالوں کو سٹائل سے سنوارتا اپنی نوٹنکی کا آغاز کرچکاتھا۔
❤❤❤❤❤❤
ٹیسٹ کیساہوا؟؟ اس کو کالج سے پک کرکے بائیک پر پیچھے بٹھاۓ شہرام نے پہلا سوال ہی یہی کیاتھا۔
شام!! میم ۔۔۔ن۔نے آج میرے لیے سپیشل کلیپنگ کروائی۔وہ کہتی میری رائیٹ آنسرز کے ساتھ ساتھ میری ہینڈ رائٹنگ بھی بیسٹ ہے۔”
خوشی سے چہکتی وہ شہرام کاسیروں خون بڑھاگئی۔
“مجھے پتہ تھا جاناں آپ کے مارکس بہت اچھے آئیں گے۔اس لیے آج میں نے تائی امی سے سپیشل کہاتھاکہ میں آپ کو کالج سے پک کرلوں گا۔ان کاموڈ تو آف ہوا لیکن پھر بھی مان گئیں کیونکہ تایاابو سٹور کے کام کے سلسلے میں گئے تھے”۔
شام!! “ماما ۔۔زیادہ ڈانٹتی ہیں ناں۔مدھم سے مایوسی شہرام کو اس کے لہجے میں محسوس ہوئی ۔مجھے اگران کے لہجے کی زرا سی بھی پرواہوتی میں کبھی آپ کو لینے نہیں آتا۔میرے لیے آپ اہم ہو جاناں۔!! اور کچھ نہیں۔اور جانتی ہوناں میں آپ کو اداس نہیں دیکھ سکتا۔”
سچے جذبوں کی گہری رمق شہرام کے لہجے سے محسوس کرتی وہ بے ساختہ مسکرائی۔
شام!!گول گپے؟؟ سامنے ٹھیلے کو دیکھتی وہ بے ساختہ اسکی شرٹ کھینچ کر بائیک روکنے کا اشارہ کرگئی۔
اچھا !! بے صبری نہ ہوجایا کریں۔۔مجھے پتہ تھا آپ نے ایسے ہی بے تابی دکھانی ہے۔اس لیے بائیک کی رفتار کو پہلےہی آہستہ کرلیا۔
شام!! تم دنیاکے سب سے بیسٹ کزن ہو۔اونچی آواز میں وہ مکمل جملہ ادا کرگئی۔
اور آپ دنیاکی چالاک ترین لڑکی جسے میں صرف من پسند چیز کھلانے پر اچھا لگتا ہوں۔
تیکھی نظروں سے کہتا وہ جاناں کو منہ بسورنے پر مجبور کرگیا۔
آج دیکھنا میں تمہارا کباڑہ کرواؤں گی۔دھمکی آمیز انداز میں کہتی وہ بیگ کو شہرام کی گود میں پھینکتی ٹھیلے کی جانب بڑھ گئ۔
سر جھٹکتا اسکا بیگ ہاتھ میں تھامے اس کے پیچھے لپکاتھا۔جہاں وہ بے صبری سے آرڈر دیتی آج سارا دن گول گپوں پر گزارنے والی تھی۔
❤❤❤❤❤❤
“بیٹا کیا چاہتی ہو آپ؟؟ اپنی عمر دیکھیں اور اپنا کلاس لیول دیکھیں”۔
زوار صاحب کے صبر کا پیمانہ بھی جیسے آج لبریز ہوچکا تھا۔
“عاہن آپ سے محض تین سال بڑا ہے لیکن میٹرک کلئیر کرچکا ہے جبکہ آپ اب تک ففتھ؟؟
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ ففتھ سٹینڈرڈ میں ہی رک چکی ہو۔
کیوں نہیں پڑھتی۔؟؟ “کوئی ٹیوٹر چاہیے یا کیا چاہیے آپ مجھے بتائیں ؟جو بھی ضرورت ہے مجھے بتائیں۔میں آپ کو فراہم کروں گا لیکن اس ففتھ سٹینڈرڈ کا پیچھا چھوڑ دو”۔
آواز قدرے بھاری ہوچکی تھی۔
پاپا!! مشل کی مدھم سی آواز پر انہوں نے اس کی جانب دیکھا جو سیاہ آنکھوں میں آنسو بھرے باپ کو ہی دیکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا؟؟آپ کو کچھ کہنا ہے؟” لہجہ قدرے نرم ہوا۔
پاپا !! آپ کے پاس اتنے زیادہ پیسے ہیں۔
بیٹا آپ کی پڑھائی سے پیسوں کا کیاتعلق؟ آپ کی تو فیس وغیرہ بھی ٹائم پر ادا ہوتی ہے پھر پیسے؟؟
“جی !! پاپا وہ سب تو ٹائم پر ہی ادا ہوتی ہے”۔وک منمنائی تھی۔
پھر پیسوں کو کیوں پوچھ رہی ہو۔
شبانہ بیگم نے بھی گویا مشل کو تعجب سے دیکھا۔
وہ پاپا میں کہہ رہی تھی کہ وہ قدرے زوار صاحب کے قریب ہوئی۔
“بیٹا صاف صاف بولو”۔زورا صاحب جنجھلائے تھے۔
“آپ بولنے نہیں دےرہے تو بات کیسے پوری کروں گی”۔
اچھا آپ بولو۔۔اس کی جنجھلائی سی آواز سن کر وہ مزید گویا ہوئے۔
میں کہہ رہی تھی ۔آپ کے پاس بہت پیسے ہیں۔تو آپ وہ پیسے پرنسپل کو دے کر مجھے پروموٹ ہی کروادیں۔
سچی پاپا نیکسٹ کلاس میں جاتے ہی میں فرسٹ پوزیشن لاؤں گی۔
وہ زوار صاحب کی پھیلی آنکھیں دیکھ کر جلدی سے بولی تھی۔
شبانہ بیگم حیرت سے کنگ ہوئیں۔
یہ ناقص خیال آپ کے ذہن میں کس نے ڈالا۔
پاپا !! “یہ ناقص خیال نہیں ہے۔یہ بہت اچھاطریقہ ہے کسی کو نہیں پتہ چلے گااور میں سکس کلاس میں پروموٹ ہوجاؤں گی”۔وہ اب بھی اپنے موقف پر ڈٹی تھی۔
“مشل دفعہ ہوجاؤ یہاں سے،،ماہ تاب سے کچھ سیکھو۔بےشک اس کی زبان میں مسلہ ہے لیکن وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتی دکھائی دیتی یےاور ایک تم نالائق۔
جاؤ نکلو اور ماہ سے جاکر پڑھو۔خبردار جو تم مجھے کہیں باہر نظر آئی۔، شبانہ بیگم کی ڈانٹ پھٹکار پر وہ ہونٹ لٹکائے انہیں دیکھے گئی جن کی آنکھوں کیں غضب نمایاں تھا۔
منہ بسورتی وہ تھکے قدموں سے باہر نکلی جہاں عاہن اس کی حالت دیکھ کر لوٹ پوٹ ہوا۔
مشل کی کارستانی وہ اپنی فطری عادت کان لگاکر سن چکاتھا۔
فشل کی دکان! “اگر تایاابو نے رشوت دے بھی دی ناں تب بھی تمہاری شکل سکس کلاس والی نہیں ہے۔تم ففتھ سٹینڈرد کے ہی لائق ہو”۔
اس کی سنہری پونی کو جھٹکے دیتا وہ پھر ہنساتھا کہ مشل کا صبر کاپیمانہ لبریز,ہوا۔
آگے بڑھتی وہ اس کے دوسرے ہاتھ پر دانت گاڑ گئ۔اپنے دھیان میں کھڑا عاہن یکدم چیخاتھا۔
اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتاوہ اپنی پوری طاقت سے اس کی ہتھیلی کی ایک سائیڈ زخمی کرتی زور دار دھکادیتی کمرے کی جانب بھاگی۔
کمینے !! مزہ آیا۔مزید چڑاتی وہ دھاڑ سے دروازہ بند کرتی کمرے میں بند ہوئی تھی۔
بہرام کی شعلہ برساتی نگاہیں گویا دروازے پر جم کررہ گئ تھی۔
ہاتھ میں ٹیس سی اٹھتی محسوس ہوئی۔ تمہیں میں نہیں چھوڑوں گا۔آئندہ کا عہد کیے وہ اپنے پورشن کی جانب بڑھا تھا۔درد سے ہاتھ جھٹک کر رہ گیا تھا۔
“””””””*“”””””