Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

سٹڈی کیسی جارہی ہے؟؟
شارف صاحب کی بھاری آواز پر اس نے محض سرہلایا۔
اور دوبارہ کھانے میں مشغول ہوا تھا،
“میں چاہتا ہوں تم میری بات مان لو” ۔وہ سیدھا مدعے کی بات پر آئے تھے۔
چائینز رائس کا چمچ منہ میں رکھ کر وہ اب بھی اطمینان سے کھانا کھاتا رہا ۔
“زوار نے دوبارہ دباؤ ڈالا ہے۔ایک بار تم اسے دیکھ لیتے تو شاید انکار نہیں کرپاؤ گے”۔
سرد انداز میں کہے گئے جملے پر فورک کو وہ پلیٹ میں پٹختا سیدھاہوا۔
لگتا یے آ پ نے اسے اتنی غور سے دیکھا ہے کہ آپ کو میرے اقرار پر یقین ہوچکا ہے”۔
سادہ سالہجہ تھا لیکن شارف صاحب کے لیے وہ لفظ سادہ نہیں تھے۔
چہرہ یکلخت سرخ ہوالیکن مقابل بھی شارف صاحب تھے۔
“حسن کو عام نظر سے کبھی نہیں دیکھا جاتا۔اسے ہمیشہ گہرائی میں جاکر دیکھاجاتا ہےاور تم اچھی طرح جانتے ہو میں کبھی حسین چیز کو آسانی سے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا”۔
نوالہ نگل کر کانچ نازک گلاس لبوں سے لگاکر مقابل شخص کو دیکھاتھا۔
ہممم!! اندازہ تو مجھے کافی وقت سے ہے۔خیر آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟”
پلیٹ دور کھسکا کر وہ سیدھاہوا۔کھانا وہ کھاچکا تھا۔
تم جانتے ہو، میں کیا چاہتا ہوں۔ ، شارف صاحب بھی کرسی سے ٹیک لگاکر ہاتھ کو جکڑ کر سیدھے ہوئے۔
“اور اگر میں نے آپ کی بات نہیں مانتا تو کیا کریں گے؟”
سیاہ آنکھوں کا سرد پن شارف صاحب سے اوجھل نہیں رہا تھا۔
میں کرہی کیا سکتا ہوں۔،لیکن میں اس بار تم سے چاہتا ہوں کہ تم میری یہ بات مان لو باقی تمہاری شرائط مان لوں گا”
اپنے فائدے کے لیے وہ نرم پڑ چکے تھے،مقابل کو اس نرمی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔اور اس نرمی کا خمیازہ وہ اچھے سے بھگت چکا تھا،
“آپ نے کہا ہے کہ آپ نے اس پر کافی غور وفکر کیا ہے تو آپ اسے کیوں نہیں اپناسکتے؟
حالانکہ آپ جس چیز پر نظر ڈال لیں اسے آسانی سے نہیں چھوڑتے؟؟
پھر اب کونسی رکاوٹ راہ میں حائل ہء؟”
رکاوٹ محض اس کی عمر ہے۔یہ بات تو تمہیں بھی ازبر ہے کہ میں جو چاہوں حاصل کرلیتا ہوں، “
ایک سال تک تم اسے نکاح میں رکھ کر میرے حوالے کردو۔اس کے بعد میرا کام ہے
شارف کے جواب پر مقابل نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی۔
ایک حسرت نے دل مییں شدت سےبسر اٹھایا تھا ،کہ کاش وہ اس حسین چہرے کو مسخ کرسکتا۔جس کے لفظ لفظ میں غلاظت موجود تھی۔
“میں انگیجمنٹ کرنے کے لیے تیار ہوں بشرطیکہ لڑکی کو اٹھارہ سال کا ہونے دیں”۔
چہرے پر الوہی سادگی پھیلا کر وہ اپنی حالت سدھار چکا تھا۔
“مجھے امید تھی تم میری بات ضرور مانو گے”۔
“میں نے آپ کی بات نہیں مانی بلکہ میں نے اپنی مرضی بتائی ہے۔پلیز اب جتنے دن میں یہاں موجود ہوں مجھے مزید تنگ مت کیجیے گا”۔۔ٹشو سےہاتھ صاف کرتا وہ سیدھا ہوا۔
ایک نظر ان کے شاندار چہرے پر ڈالے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
شارف صاحب نے بمشکل گھونٹ کو حلق سے اتارا۔
ایک تلخ نظر اس کی پشت پر ڈال کر وہ دوبارہ لنچ کی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔
کام آسانی سے ہوچکا تھا ، ان چھوٹی موٹی گستاخیوں کا حساب کتاب پھر کسی دن کے لیے اٹھاکر رکھا تھا۔


بابا!! دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب نظر بابا پر ڈالی۔
آؤ شہرام!! سعادت صاحب سیدھے ہوکر بیٹھے تھے۔
تم کبھی اجازت لےکر اندر نہیں آئے تو آج پھرکیا وجہ ہے؟؟
سعادت صاحب کو وہ آج بہت الگ سا لگا۔لب سکڑے سے آنکھوں میں ہلکی سی شرم کے بل ، جبکہ ماتھے پر پرسوچ سی لکیریں تھیں۔
بابا!! کبھی کبھی اجازت لے لینی چاہیے۔پیشانی مسل کر وہ دونوں ہاتھ سیدھے کیے کرسی پر دراز ہوا۔
ماہ تاب کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہو؟”
شہرام کے چہرے پر تعجب نہیں ابھرا۔وہ مزید سر نیچے کرچکا تھا۔سعادت صاحب اس کی سوچ کو پڑھ لیں گے۔اتنا تو اسے اندازہ ہوچکا تھا۔
بابا ایک سال ہونے والا ہے۔نہ تایا ابا نے یہاں کا رخ کیا نہ ہم وہاں گئے”۔
ایک خوف ایک ڈر کہہ لیں جو ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ناجانے وہ میری قسمت میں ہے بھی یا نہیں؟؟”
سنجیدہ بردبار سا انداز لیکن اس میں ہلکورے لیتا ڈر سعادت علوی سےبھی اوجھل نہیں رہا۔
“جن کی نیت نیک ہو انہیں ڈرنا نہیں چاہیے”۔
سعادت علوی بھی بیڈ سے نیچے پاؤں کرکے شہرام کے برابر ہوچکے تھے۔
بابا !! نیت تو شروع سے ہی نیک تھی۔پر اکثر محبت کی راہوں میں ہجر خسارے کے طور پر ملتا ہے۔جو میں قطعی نہیں چاہتا،
مجھے کبھی کبھی تعجب ہوتا ہے شہرام علوی؟؟
بابا کی غیر متوقع بات پر اس نے سراٹھا کر مبہم مسکراہٹ لبوں پر سجائی۔
آپ میرے بابا ضرور ہیں۔لیکن آپ میرے ہمراز میرے دوست اس سے زیادہ ہیں۔”
وہ دونوں ایسے ہی تو نہیں ایک دوسرے کو سمجھ لیتے تھے”۔
وہاں جانا، عزت نفس کو پامال کرنے جیسا ہے شہرام”
بابا !! ماہ تاب کے آگے ہر چیز بے معنی لگتی ہے۔ناجانے کیوں اس معاملے میں دل بے اختیار ہوجاتا ہے۔کہ کسی چیز کی فکر باقی نہیں رہتی۔
وہ بضد تھا۔ایک ایسی لاحاصل شے کے لیے جو شاید اس کی دسترس سے بہت دور تھی۔
“اسے رکھو گے کہاں ؟؟ اپنے فیوچر کے بارے میں سوچ لیتے تو اچھا ہوتا” ،، سعادت علوی جلد بازی نہیں چاہتے تھے۔
“بابا محض ہاتھ مانگنا چاہتا ہوں۔، بےشک منزل ابھی کافی دور ہے۔لیکن اس منزل کی لگن کا کوئی تو سامان ہو،جس کی جستجو میں منزل کو پاسکوں۔”
سعادت علوی محض اسے دیکھتے رہے۔
“میں جانتا ہوں وہ چاند ہے جسے میں چھونے کی چاہ ہی کرسکتا ہوں۔لیکن میں اس خواہش میں تھوڑا سا ضدی ہوچکا ہوں۔
تایاابا کی جانب سے ناجانے مجھے کیوں بغاوت کی بوآتی ہے۔میں نہیں چاہتا اس سب میں وہ لڑکی تباہ وبرباد ہو۔
آپ اسے میری دسترس میں دے دیں۔شہزادیوں جیسی زندگی دینے کا وعدہ میں کرتا ہوں” ،ہاتھ آگے پھیلائے وہ دلگیر سا تھا۔۔سعادت علوی کو ناجانے کیوں اپنے بیٹے کی دیوانگی سے خوف محسوس ہوا۔وہ وعدہ چاہ رہا تھا۔ایسا وعدہ جس کے ٹوٹ جانے کا خدشہ تھا۔
“وعدہ کافی مشکل عمل ہے۔کوئی آسان حل سوچ لو”۔
“کوئی حل نہیں ہے۔بابا میں بے بس ہورہا ہوں۔ناجانے کیوں یہ دل بار بار سرزنش کرتا ہے کہ ماہ تاب مجھ سے دور چلی جائے گی۔میں ہر بار اس دل کو بہلالیتا ہوں لیکن اب میری ہمت جواب دینے لگی ہے۔”
بےبسی کی گہری رمق نے شہرام کے لہجے میں محسوس کرتے وہ بے ساختہ کھڑے ہوکر قریب آئے۔
“میں وہاں جاناتو نہیں چاہتا، نہ ہی میں یہ چاہتا تھا کہ تمہارے کچھ بننے سے پہلے میں ماہ تاب کا ہاتھ مانگوں۔
بھائی صاحب تو مشل اور عاہن کے نکاح کو بھی پسند نہیں کرتے ناجانے اس فیصلے پر کیا ردعمل دیں۔” بہرحال میں اپنے بیٹے کے لیے وہاں جاؤں گا۔تھوڑی عزت نفس کی قربانی دینی ہوگی۔لیکن تمہارے لیے وہ بھی قبول ہے”۔
اس کو کندھے سے تھامے وہ عین برابر تھے۔
شہرام فرطِ جذبات سے ان کے گلے لگا۔
میں جانتا ہوں بابا!!میں خود غرض بن رہا ہوں۔لیکن ،، بات ادھور چھوڑے وہ لب بھینچ گیا۔
“تم میرے بیٹے میرا سہارا ہو،میرا بازو ہو، میں نے ہمیشہ تمہیں اپنا ہمراز بنایا ہے شہرام،، کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا مجھ سے راز کہنے کے بجائے کسی غیر سے کہے”۔کندھوں ہر گرفت مضبوط کیے۔انہوں نے بھوری آنکھوں میں دیکھا۔جو جھکی ہوئی تھیں۔
ان آنکھوں کو میں جھکا ہوا نہیں ، بلکہ روشن دیکھنا چاہتا ہوں۔ماتھے پر لب رکھ کر انہوں نے اسے گلے لگایا۔
بابا!! “مجھے فخر ہے کہ میں سعادت علوی کی اولاد ہوں۔اور اس پر میں جتنا شکرادا کروں کم ہے”
“ہہ بات عاہن کو بھی سمجھادیا کرو۔اسے بھی زرا فخر محسوس کرواؤ کہ میں اس کا باپ ہوں”۔
کھردرے سے لہجے میں بھی ایک نرمی تھی جو شہرام سے اوجھل نہیں تھی۔
“آپ کا دبنگ انداز اس سے ہضم نہیں ہوتا۔،مارا مت کریں اسے ،وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجائے گا”۔
ہاں تم اس کی خواہشات پوری کرتے رہو ، وہ ٹھیک رہے گا۔
سعادت علوی سنجیدہ ہوئے۔
وہ بے جا خواہشات نہیں کرتا ،اس کی خواہشات کی حقیقت جس دن آپ کو پتہ چل گئی اور جس دن آپ نے اس کی چمکدار آنکھوں کا راز پالیا اس دن آپ کہیں گے شہرام علوی میرا بایاں اور بہرام علوی میرا دایاں بازو ہے۔”
رسانیت کے سنگ ہاتھ تھامتا وہ سعادت علوی کو اگاہی دے گیا تھا۔


ایک سال کا قلیل عرصہ گزار کر وہ آج بیٹے کی خواہش میں آج اس در پر آئے تھے جہاں آنا ان کے لیے عزت نفس گنوادینے کے مترادف تھا۔
دل تو چاہا کے واپس مڑجائیں لیکن شہرام کی بے بسی میں لپٹا چہرہ سامنے آ کھڑا ہوا۔
آج انہیں اپنی حیثیت سے اونچے سگے بھائی کے گھر جانے پر شرم محسوس ہورہی تھی۔
گارڈ نے مشکوک نظروں سے ان دونوں کو دیکھا۔لیکن شناختی کارڈ دیکھ کر اندر جانے کی اجازت دے دی۔
انہوں نے شاندار پورچ پر نظر دوڑائی۔
سعادت علوی کی نظر میں محض حیرت تھی۔نہ کوئی اشتیاق نہ کوئی حسرت، فقط حیرت۔
سر جھٹکتے وہ اندر کی جانب آئے ۔
سنسان لاؤنج میں ایک نگاہ ڈالے وہ رک چکے تھے۔
آسیہ صفائی زرا اچھی سی کرنا شام کو شارف۔!!
ان کے لفظ ادھورے رہ گئے۔
سامنے سدرہ اور سعادت علوی کو دیکھ کر چہرے پر ناگواری کی شدید لہر امڈ آئی لیکن ناگواری کو مسکراہٹ کے لبادے میں اوڑھ وہ آگے بڑھی۔
سدرہ بیگم نے آگے بڑھ کر خوبصورت کاسنی لباس میں ملبوس شبانہ بیگم کو گلے لگایا۔
خیریت؟؟ کیسے آنا ہوا؟؟
بنا کسی سلام دعا کے وہ سوال کرتی دونوں کو چونکا چکی تھیں۔
بھابھی کیسی ہیں۔؟؟ اور بھائی کیسے ہیں۔سعادت علوی نے ہی آداب نبھائے تھے۔
اثبات میں سرہلاتی وہ انہیں لاؤنج کی جانب لائیں۔جہاں بیش بہا قیمتی چیزیں ان کی پہنچ سے بہت اونچی تھیں۔
سفید کاؤچ پر دراز ہوکر انہوں نے طائرانہ نگاہ پورے گھر پر دوڑائی۔
ان کا سرد سا انداز سعادت علوی واضح محسوس کرچکے تھے۔
بھائی صاحب سے بات کرنی تھی۔اگر وہ آجاتے تو ،،سعادت علوی نے مزید آغاز کیا۔
کیسے آنا ہوا سعادت؟”
زوار علوی کی آواز پر وہ دونوں یکلخت کھڑے ہوئے۔
کیسے ہیں بھائی صاحب ؟؟ فرطِ جذبات سے آگے بڑھ کر انہوں نے گلے لگنا چاہا لیکن زوار علوی ہاتھ کھڑا کرچکے تھے۔
تضحیک کا گہرا تاثر رگ وپے میں سرائیت کرگیا۔لیکن بیٹے کی حسرت نے سب جذبات کو اندھے کنویں میں دھکیلا تھا۔
ماہ تاب مشل کہاں ہیں ؟؟ شبانہ بیگم سے استفسار کرتے زوار نے ایک تائیدی نگاہ پورے گھر پر ڈالی،
“وہ اپنے کمرے میں ہیں”۔شبانہ بیگم نے فوراٌ جواب دیا تھا۔ ملازمہ کو کہو وہ کمرے سے باہر مت آئیں۔ورنہ وہ اس گھر سے باہر نکل جائے گی۔
شبانہ بیگم کو ہدایت دیتے وہ سیدھے بیٹھے۔اور گھڑی کی جانب نظر دوڑائی۔
ان کا ہر عمل سعادت علوی کی ہمت کو ڈگمگا رہا تھا۔
پر وہی ایک بات بیٹے کی خواہش سر آنکھوں پر رکھ کر وہ ہر چیز نظرانداز کردینا چاہتے تھے۔
“بھائی صاحب میں آپ سے کچھ بات کرنے آیا تھا”۔
لہجے میں نامعلوم سی التجا سمٹ آئی تھی۔سدرہ خاتون خاموش تماش بین کی مانند محض دل ہی دل میں ورد جاری رکھے تھیں۔
“اگر ماہ تاب کا ہاتھ مانگنے آئے ہو تو میری جانب سے انکار سمجھو “سعادت علوی!!
میں قطعی اپنی بیٹی کو اس گندے محلے میں موجود اس عام شکل و صورت والے شخص کے ساتھ رخصت نہیں کرسکتا”
سعادت علوی تھم سے گئے ۔پتلیاں ساکت ہوئی۔لب سکڑ سے گئے۔سدرہ بیگم نے ہاتھ کی مٹھی بند کی۔
بھائی صاحب !! شہرام پسند کرتا ہے۔بچوں کی خوشی ہے۔وہ انشاء اللہ جلد اپنا مقام بنائے گا۔لیکن ایک بار آپ حامی بھرلیتے تو”۔
سعادت!! وہ سیدھے ہوکر بیٹھے۔سیاہ بے نور سی آنکھوں میں سفاکیت امڈ آئی تھی۔
“سب سے پہلے اپنے بیٹے کی حفاظت یقینی بناؤ۔روزانہ کئی قاتلانہ حملے ہوتے ہیں لاکھوں لوگ مارے جاتے ہیں۔کہیں شہرام بھی کسی اندھی گولی کا شکار نہ ہوجائے”۔ “یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ سعادت علوی کا چہرہ یکلخت سفید ہوا۔
“میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔وہ جس پر نظر رکھ کر بیٹھا ہے وہ میری بیٹی ہے۔زوار علوی کی بیٹی۔
اسے شرم آنی چاہیے کہ وہ اس حد تک سوچ رہا ہے۔وہ میری یعنی زوار علوی کی بیٹی کو سوچ رہا ہے۔”
“بھائی صاحب آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ایسا کچھ نہیں ہے۔شہرام نے محض خواہش کا اظہار کیا تھا”۔آج انہیں اپنے بڑے بھائی کے چہرے سے خوف محسوس ہوا تھا۔
شہرام کی فکرشدت سے لاحق ہوئی تھی۔
انہیں اپنے بھائی کے چہرے پر سفاکیت کی دبیز تہہ نظر آئی تھی۔دولت نے ان کو سفاک بے حس بنادیا تھا۔یا پھر یہ کسی اور ہی بات کا خمار تھا۔
وہ فلحال سمجھنے سے قاصر تھے۔
“اسے ایسی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بھی سوچنا چاہیے۔کم ازکم چند پل تو سوچنا چاہیے کہ وہ چاند چھونے کی جسارت کررہا ہے جو کبھی بھی ممکن نہیں ہے۔ سعادت وہ میری بیٹی کا مجرم ہے۔اور میں مجرم کو سزا دینا چاہوں گا۔ نا کہ انعام اس کے حوالے کردوں۔بہرحال اسے سمجھا دینا۔میرا وقت ضائع ہورہا ہے۔میں اس محلے سے نکل کر اس لیے نہیں آیا کہ میں اپنا وقت برباد کروں میں وقت کے ضیاع کو کامیابی میں رکاوٹ سمجھتا ہوں۔
ماہ تاب کا رشتہ میں طے کرچکا ہوں۔کارڈ بھیجوں گا۔ابو کے ساتھ شرکت ضرور کرنا۔مجھے اچھا لگے گا اگر تم شرکت کرو گے۔”
واضح لفظوں میں انہیں باور کرواتے وہ ایک قسم کا ان دونوں کو وہاں سے دفعہ ہونے کا ہی کہہ رہے تھے۔
سدرہ بیگم سفید چادر سنبھالے سپاٹ چہرے سے کھڑی ہوئی۔ زوار صاحب نے ان کا انداز واضح دیکھا تھا۔اس عورت سے انہیں ذاتی پرخاش تھی۔ سعادت علوی کا ہاتھ تھام کر وہ بنا الوداعی کلمات ادا کیے پرتعیش لاؤنج سے نکل آئی ۔وہ عقوبت خانہ ان کی سانس کو روک رہا تھا۔
ان کی حالت جب وہاں چند پل رک کر بگڑ چکی تھی تو سعادت علوی کیونکر کھل کر سانس لے پاتے۔؟
زوار علوی نے مڑ کر سدرہ خاتون کی اکڑ کو ان کی گستاخی کو ایک بار پھر دیکھا ۔اور وہ تب تک دیکھتے رہے تھے جب تک وہ سامنے نظر آتے پورچ سے باہر نہیں نکل گئے تھے۔
ان سیاہ پتلیوں نے یہ منظر ازبر کرلیا تھا۔اس گستاخی کی سزا وہ عنقریب اپنے بھائی کے حوالے کرنے والے تھے۔


یہاں بیٹھو ماہ تاب!!
لائبریری میں داخل ہوتے ہی اسے زوار علوی کی سخت آواز نے ٹھٹھکایا تھا،
سرد سی لائبریری میں روشن زرد سا بلب جیسے ماہ تاب علوی کو زرد کرگیا تھا، آج ناجانے کتنے عرصے بعد بابا نے اسے پکارا تھا،
سفید کلف والا سوٹ پہنے وہ جیسے اپنے چہرے پر بھی سختی کی کلف جماچکے تھے،
ماہ تاب وہاں بیٹھو،!! اور شبانہ تم جاؤ یہاں سے،
شبانہ کو جانے کی ہدایت دیتے وہ سیدھے ہوئے کتاب سائیڈ پر موجود گول شفاف شیشے والی میز پر رکھی،
ماہ تاب یکلخت کانپی تھی،
ڈوپٹے کے کونے کو مٹھی میں جکڑے لب پر ورد جاری رکھے وہ نظر جھکائے سامنے چئیر پر دراز ہوئی۔
میں زیادہ سوال نہیں پوچھوں گا، لیکن جتنے بھی پوچھوں گا سچ سچ جواب دینا،ان کی سخت آواز پر ماہ تاب کا حلق خشک ہوا،
شہرام تم سے ملا تھا؟” ان کے سوال پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا،
جھوٹ نہیں بولنا ماہ تاب!! ان کی گھورتی نگاہ نے نفی میں ہلتے سر کو جیسے روک دیا تھا،۔
جج جی!!! کک کالج آئے تھے،۔
ماہ تاب کے جواب پر وہ آرام دہ چئیر سے کھڑے ہوئے، ماہ تاب بھی خوف سے کانپتی کھڑی ہوئی ، التجائیہ سا باپ کو دیکھا، جن کے چہرے پر سجا کروفر اور رعونت ماہ تاب کی جان ہلکان کررہا تھا۔
وہ سخت گیر باپ تھے، ماہ تاب بہت کم ہی ان سے بات کرپاتی تھی، آج تو وہ مقابل آچکے تھے،
بیٹھو ماہ تاب!! انہوں نے دوبارہ بیٹھنے کااشارہ دیا، آواز مزید بھاری ہوچکی تھی،
آج کے بعد اگر تم شہرام یا اس گھر میں موجود کسی شخص سے بھی ملی تو میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑنے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا،
میں اپنی عزت کو گلے کا طوق نہیں بنانا چاہتا، بیٹیاں جب باپ کا سرجھکانے لگیں تو انہیں ختم ہی کردینا چاہیے،۔
ماہ تاب کا رنگ خوف سے سفید پڑا، نرم گلابی ہتھیلیاں پسینے سے تر ہوئی،
“تمہیں ہر جگہ جانے کی آزادی ہے، ہر چیز کی آزادی ہے،جو کھانا ہے کھاؤ ، جس طرح رہنا چاہتی ہو رہو، لیکن تم اس محلے کا رخ نہیں کرو گی، جس دن تم مجھے ان راہوں میں جاتی نظر آئی میں تمہیں خود اپنے ہاتھ سے گولی ماردوں گا،مجھے اولاد عزیز ہے لیکن جو اولاد اپنے معیار سے نیچے گرے اسے مار ہی دینا چاہیے، عنقریب عاہن اور مشل کا نکاح بھی ختم ہوجائے گا، کیونکہ اس گھر سے میں کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتا”۔
وہ بول رہے تھے، لیکن ماہ تاب علوی تو ساکت ہوچکی تھی، کیا کوئی شخص اتنا بھی سفاک ہوسکتا تھا، وہ ان کی بیٹی تھی بھی یا نہیں ماہ تاب جیسے شکوک کا شکار ہوئی،
“کچھ دن میں شارف کا بیٹا آئے گا ، اس سے ملنا ، اسے ٹائم دینا ، کیونکہ فیوچر میں وہ تمہارا لائف پارٹنر کہلایا جائے گا۔کافی اچھا لڑکا ہے میں اس سے مل چکا ہوں ،
میرا ارادہ تو تمہیں شارف کے نکاح میں دینے کا تھا، لیکن محض چند سال بڑے ہونے کی وجہ سے میں یہ سفاک فیصلہ نہیں کرسکتا،”
وہ چند سال بڑا تو نہیں تھا ۔وہ اس کے بابا کی عمر کا شخص تھا۔ماہ تاب کو اپنے باپ کی سوچ پر حیرت ہوئی،
وہ سفاک فیصلے کرکے ماہ تاب علوی سے اب بھی کہہ رہے تھے کہ وہ سفاکیت نہیں برت سکتے، یعنی گناہ کرکے گناہ کو گناہ ہی نہ مانا جائے ، “
ماہ تاب کو سانس لینے میں دقت ہوئی، بھنورا سی نمکین پانیوں سے بھری آنکھیں جیسے باپ کے سفاک چہرے پر جمی رہ گئی،
وہ جھٹکے سے اٹھ کر دروازہ کھولے باہر بھاگی، ہتھیلیاں منہ پر جمائے وہ اپنے کمرے کی جانب بھاگتی تڑپ کر روئی تھی، وہ اس کی جان ہی تو نکال چکے تھے۔
زوار علوی جانتے تھے ماہ تاب کا یہی ری ایکشن ہوگا، لیکن وہ مطمئن تھے، ماہ تاب علوی کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق انہیں مکمل حاصل تھا۔


ہیلو!!
فون چھوٹ کر زمین پر گرا اور وہ ساکت نگاہوں سے دھمکی کو حقیقت ثابت ہوئے سامنے دیکھتی رہیں۔
کس کا فون تھا؟؟سدرہ کیا ہوا ہے؟”
سعادت علوی بیڈ پر نیم دراز سے تھے۔سدرہ بیگم ساکت کھڑا دیکھ کر دہل سے گئے۔
شہرام!! بھائی صاحب نے سچ کردیا۔انہوں نے میرے بیٹے کو سزا دے دی۔۔سعادت انہوں نے اپنا کہا سچ کردیا۔۔مم میرا بیٹا !!
“سدرہ کیا ہوا؟؟ تفصیل بتاؤ شہرام کو کیا ہوا ہے”۔
زبان لکنت زدہ سی تھی۔آواز میں ہلکورے لیتا احساسِ ضیاع کا خوف سدرہ بیگم کوواضح محسوس ہوا۔
اگلے ہی پل وہ انہیں دیکھتی وہ بوجھل ہوتی نگاہوں سے زمین بوس ہوئی تھیں۔
سدرہ !! کیا ہوا ہے۔تیزی سے نیچے جھکتے وہ بےتابانہ ان کا گال تھپتپاتے ہوئے چیخے تھے۔
سعادت شہرام کا ایکسڈنٹ!! سعادت! ذوار بھائی نے اپنا کہا سچ کردیا۔سعادت وہ ظالم نکلے۔
“سعادت میرا بیٹا تکلیف میں ہے۔میں سانس کیسے لے رہی ہوں سعادت!! آپ مجھے لے جائیں سعادت”
،وہ ضبط کے بندھن توڑتی شدت گریہ سے روئی تھیں۔
“میں لے کر چلتا ہوں پر ہمت کرو ایسے نہیں روتے۔۔میں کال کرتا ہوں”۔
بوکھلائے سے کندھوں سے تھام کر انہیں کھڑا کرچکے تھے۔
فون کان سے لگاکر وہ کمرے سے نکلے تھے۔
نم ہوتی آنکھ گواہ تھی کہ آج بھائی پر بنا برسوں کا مان ٹوٹ گیا تھا۔
شہرام علوی کا دل تو انکار سن کر پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا، اب ناجانے اس پر کیا قیامت ڈھائی گئی تھی۔


شہرام کو سیدھا بٹھا کر خود بھی سانس بحال کرتے چئیر پر دراز ہوئے۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا شہرام کی بھائی صاحب ایسا بھی کریں گے۔مجھے لگا وہ محض دھمکی دے رہے ہیں۔لیکن انہوں نے بتادیاتھا کہ وہ دھمکی نہیں دیتے وہ دھمکی پر عمل کرنا جانتے ہیں”۔
وہ ساکت سا سپاٹ چہرہ لیے سامنے دیوار کو دیکھتا رہا۔ماتھے پر پٹی تھی جبکہ ایک ہاتھ پر پلاستر چڑھا ہوا تھا۔دائیں ٹانگ پر بھی کئی خراشیں نمایاں تھیں۔
سوچوں کا محور محض ماہ تاب علوی کی ذات تھی۔
اگر اس کے ساتھ اس حدرجہ برا سلوک کیا جاسکتا تھا تو پھر ماہ تاب کے ساتھ ناجانے کیا رویہ روا رکھا جاتا۔
اور حیرت طلب بات یہ تھی کہ اس کی شادی اتنی جلدی ہو کس سے رہی تھی۔؟”
شہرام!! اس کی خاموشی کو جانچتے وہ اسے پکار اٹھے تھے۔
ہلکی سی گردن موڑ کر اس نے بھورے سے کانچ بابا پر ٹکائے۔
بابا!! “آئی ایم سوری! میری وجہ سے آپ کی اتنی تذلیل ہوئی۔میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا۔بابا میں نہیں چاہتا تھا یہ سب ہو،”
بھول جاؤ بیٹا!! میں یہ نہیں کہوں گا کہ تم ماہ تاب کو بھول جاؤ لیکن ایک بات یاد رکھو ہماری زندگی کی ساری دولت تم اور عاہن ہو،
میں تم دونوں کو کھو نہیں سکتا۔اگر وہ لڑکی تمہاری قسمت میں ہوئی تو تمہیں ضرور ملے گی۔
یا پھر اللہ نے میرے بیٹے کے لیے کچھ خاص سوچا ہے۔اس ذات پر یقین کامل رکھو وہ سب بہتر کردے گا۔لیکن تم دوبارہ بھائی صاحب کے پاس نہیں جاؤ گے۔تمہاری ماں نے جو سفاکیت جو ابلیسیت کی طاقت ان کی آنکھوں میں بھانپ لی ہے ناں ،اس کے بعد سے وہ سہم گئی ہیں”۔
نہیں جاؤں گا بابا!!آپ پریشان مت ہوں اللہ بہتر کارساز ہے۔پر آپ بھی ہمت مت ہاریں یہ زخم جلد ہی بھرجائیں گے۔گہرا سانس خارج کیے اس نے کندھوں کو تھوڑا سا جھکایا تھا۔
“آپ کی دکان دو دن سے بند ہے۔،دکان سے زیادہ اہم اس وقت میری اولاد ہے وہ دوبدو بولے۔
ان کے چڑ کر جواب دینے پر وہ زخمی سا مسکرایا تھا۔جس پروہ محض اسے گھور کر رہ گئےتھے۔
“آرام کرو میں زرا تمہاری ماں کو دیکھ لوں ناجانے کہاں کونے میں بیٹھی رو رہی ہوگی، اور یہ عاہن ابھی تک نہیں لوٹا”،۔وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ رہے تھے جبکہ شہرام علوی کی آنکھیں نم ہوتی جارہی تھیں۔


سنہری دھوپ آنگن میں بکھرے خنکی کا تاثر قدرے کم کرنے کاموجب تھی۔
پراٹھوں کی لذیذ خوشبو چھوٹے سے علوی ہاؤس میں پھیلی ہوئی تھی۔
شہرام کے ایکسڈنٹ کو ہفتہ ہوچکا تھا، بازو کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے وہ گھر پر ہی تھا۔
بھاپ اڑاتی چائے کا کپ تخت پر موجود تھا جبکہ سعادت صاحب نوالہ توڑتےمکمل ناشتے میں مشغول تھے۔
دروازے پر ہوتی تیز دستک پر سعادت علوی چونک سے گئے۔
بازو پر پٹی لپیٹے شہرام بھی قریب کرسی پر دراز تھا۔اس کا کپ قریب چھوٹی میزپر موجود تھا۔عاہن کالج جا چکا تھا۔ایسے میں اتنی زور دار دستک قدرے تعجب کی بات تھی۔
رکیں میں دیکھتا ہوں۔بازو کی رسی نما پٹی درست کرتا وہ بمشکل اٹھا لیکن سعادت علوی اسے روکتے کھڑے ہوئے۔
ہاتھ صاف کیے وہ راہداری سے گزر کر دروازے کے قریب آئے۔
دروازے پر ایک بار پھر دستک ہوئی تھی
دھڑ دھڑ کی آواز کئی ثانیے سنائی دیتی رہی۔
شہرام نے ایک نگاہ بدر علوی صاحب پر ڈالی جو وہیں آرہے تھے۔
دروازہ وا ہوتے ہی چار پانچ لوگ خاصے ڈیل ڈول والے سعادت علوی کو دور دھکیلتے اندر داخل ہوئے،
شہرام جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔سعادت علوی دیوار سے لگ کر زمین بوس ہوئے۔
بابا!! بےقراری سے پکارتا وہ آگے آیا۔
کون ہیں آپ لوگ اور یوں اندر کیسے داخل ہورہے ہیں۔؟”وہ چیختا ہوا بنا درد کی پرواہ کیے آگے بڑھا تھا۔
“بکواس نہیں کرنی،کیونکہ ہم زبان نہیں ہاتھ چلاتے ہیں۔کل شام تک یہ گھر خالی ہوجانا چاہیے ورنہ ایک ایک کو اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا”۔
مکروہ شکل والا غنڈا اپنی بھدی آواز میں دھاڑ کر شہرام کے روبرو ہوا۔
یکلخت ماتھے پر کئی بل نمایاں ہوئےجبڑے تن سے گئے تھے۔جبکہ بدر علوی صاحب ساکت کھڑے رہ گئے۔
کس حق سے یہ گھر خالی کریں ، یہ گھر ہماری ذاتی ملکیت ہے۔شہرام بازو کی تکلیف نظرانداز کیے آگے بڑھ آیا لیکن مقابل شخص نے ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا۔
بھاری ہاتھ کی وجہ سے وہ زمین بوس ہوا ۔بازو دوبارہ زمین پر لگا درد کی ٹیسوں نے لب آنکھیں بھینچنے پر مجبور کیا تھا۔
شہرام !!
سدرہ بیگم چیختی شہرام کی جانب آئیں۔
اے پیچھے ہٹ!! زبان چلاتا ہے۔سالا،، نہایت عامیانہ الفاظ استعمال کیے اس آدمی نے سدرہ بیگم کو جکڑ کر کھڑا کیا۔
اس کے غلیظ لمس پر وہ تڑپتی بازو جھٹک کر دور ہٹی تھیں۔
شہرام بھی یکلخت کھڑا ہوا تھا۔
اے پیچھے ہٹو”!!، اسے ماں سے دور دھکیلتا وہ چیخا۔
وہ سیاہ لباس میں لپٹا شخص چہرے پر بھی مکمل سیاہی لیےہوئے تھا۔خباثت چہرے سےمکمل ٹپکتی تھی۔
سامان باہر پھینکو،، اپنے آدمیوں کو اشارہ دیے وہ آگے آیا اور دوبارہ شہرام کے سامنے کھڑا ہوا۔
“تجھے اب میں بتاتاہوں۔، بہت جوان بن رہا ہے”۔
چہرے پر غضب لیے شہرام سرخ نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا۔
شہرام بنا ڈرے اس کے سامنے ڈٹارہا ۔
سعادت علوی صاحب کراہتے ہوئے شہرام کے آگے کھڑے ہوئے۔
بھائی صاحب یہ گھرہماری ذاتی ملکیت ہے۔ہم نے نہ قرض لیاہے اورنہ ہی گھر گروی رکھوایاہے۔
پھر آپ کیوں یہ سب کررہے ہیں۔”
شہرام کے غصے کو وہ اچھی طرح جانتے تھے جوان خون تھا پل بھر میں ناجانے کیاکرجاتا؟۔
بڈھے زبان چلاتاہے۔اے انکل تم سمجھاؤ اپنے بیٹے کو، زیادہ سوال کرنا اچھا نہیں ہوتا۔
بدر علوی جو ساکت کھڑے تھے اجنبیت بھری نگاہوں سے سامنے غنڈے کو دیکھ رہے تھے۔ان کی زوجہ اندر تھی۔تبھی باہر کے حالات سے بے خبر رہیں۔
“کیوں خالی کریں ، میں پولیس کو کال کرتاہوں۔تم لوگوں کی غنڈہ گردی یہاں نہیں چلے گی”۔
شہرام بلند آواز میں بولے سعادت علوی کے برابر کھڑا ہوا۔
” ایک بازو پر بندھی پٹی اگر مسلہ کررہی ہے تو میں دوسری کو بھی پٹی کردیتاہوں۔ویسے بھی مجنوں غنڈے کو انسانی خدمت کا بہت شوق ہے”
اپنی گدی سہلائے وہ گردن ترچھی کیے شہرام کو ہی دیکھ رہاتھا۔
بکواس بند کرو، نکلو یہاں سے۔کس حق سے تم لوگ یہ سب کررہے ہو”۔
اس لڑکے کی دیدہ دلیری ” مجنوں بھائی کو طیش دلا رہی تھی۔اسے حکم نہیں تھا کہ وہ شہرام کو زک پہنچا سکے۔ورنہ وہ اس کی حالت بگاڑ دیتا۔
حق !!” ادھر آ شوکے،، انہیں زرا حق دکھا،ایک بےباک قہقہ لگا کر وہ مقابل غنڈے سے پیپر لیتا شہرام کے قریب آیا۔
یہ دیکھ !! حق کی بات کرتا ہوں۔کسی کا ناجائز حق نہیں کھاتا۔پیپر اس کے ہاتھ پر رکھے وہ لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجاتا ایک طائرانہ نگاہ گھر پر بھی ڈال رہا تھا۔
انہونی سا کا احساس شہرام کی رگوں میں سرائیت کرگیا۔پیپرز پر بدری علوی سعادت علوی اور زوار علوی تینوں کے سائن موجود تھے۔
وہ گھر بیچ دیا گیا تھا۔آنکھیں قدرے پھیل سی گئی۔بھوری آنکھوں کا ارتکاز پیپر پر جم سا گیا۔
یہ کب اور کیسے ہوا تھا؟” شہرام نے کئی بار پیپر پڑھا جس پر واضح لکھا تھا کہ یہ گھر باقاعدہ مرضی سے بیچا گیا۔
پیپر یکلخت ہاتھ سے زمین بوس ہوا۔ہلکی ہوا سے وہ پیپر کئی دورچلا گیا۔
زوار علوی نے اسے محبت کی پاداش میں ایک گہری سزا دے ڈالی تھی۔وہ سفاک تھے۔اور آج تو انہوں نے سفاکیت کی انتہا کردی تھی۔
بدر علوی اب بھی ساکت تھے وہ جیسے بنا دیکھے ہی سمجھ گئے تھے کہ ان پیپرز میں کیا ہوگا۔
سعادت علوی نے شہرام کی جانب دیکھا جو اب بھی سامنے موجود شخص کو غصے سے گھور رہا تھا۔لیکن اب آنکھوں میں واضح پریشانی تھی۔
اس بڈھے کو بھی ہلاؤ زرا،، بدر علوی کو دیکھ کر مجنوں نے مزید بے باک قہقہ لگایا۔اس کے قہقےمیں عجیب سی گھٹن محسوس ہوتی تھی۔
ایسا نہیں ہوسکتا، نہیں یہ میرے دستخط نہیں،، سعادت علوی وہ پیپر اٹھا چکے تھے۔اور اس پر موجود تحریر نے ماتھے پر پسینے نمودار کیے، یہ کیسے ہوسکتا تھا۔زوار علوی ان کی چھت ان کی زندگی کا سرمایہ کیسے بیچ سکتے تھے۔
شہرام!! یہ۔۔یہ جھوٹ ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔
بھابھی جی!! زرا اپنے سر کی چھت کو سمجھاؤ، ایسا بھی ہوسکتا ہے۔مجنوں بھائی کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔
اپنی سرخ آنکھوں سے وہ سدرہ بیگم کو گھورتا بولا کہ شہرام سیدھا ہوتا ماں کے پاس آیا جو سہمی سی کھڑی تھیں۔
امی!! آپ اندر جائیں ، میں ہوں یہاں ، انہیں نرمی سے کہتا کندھے پر بازو پھیلائے اندر کی جانب بڑھا۔
سدرہ بیگم نے ایک آہ بھری نگاہ شہرام پر ڈالی جو لب بھنیچے چہرے کی سرخی چھپا کر جیسے ضبط کرنا چاہتا تھا۔انہیں اس کی تکلیف کا اندازہ ہوچکا تھا۔
وہ جان گئی تھیں کہ زوار علوی نے کیا ستم ڈھایا ہے۔
بھاری تھکے سے قدم لیتی وہ شہرام کے ساتھ چلتی جارہی تھیں۔
ان کے لیے فلحال تسلی کے لیے یہی کافی تھا کہ ان کا بیٹا ان کا کندھا تھامے انہیں سہارا دئیے آگے بڑھ رہا ہے۔
“”””””””””؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛”””””””””””
بکھرے سامان کے ساتھ تین نفوس لاؤنج میں جمے بیٹھے تھے۔دونوں کے سر جھکے تھے جبکہ شہرام کی خون آلود نگاہ بدر علوی پر تھی جنہوں نے ناجانے کیا ستم ڈھایا تھا۔
دادا!! میرے بابا بھی آپ ہی کی اولاد تھے۔ ان کا اس سب میں کیا قصور تھا کہ ان کی پیدائش پر آپ کی دکان پر چوری ہوگئی تھی۔کیا انہوں نے ان چوروں سے ڈیل کی تھی۔
کیا اتنی نفرت تھی آپ کو بابا سے کہ آپ نے زوار تایا کو سارے اختیارات دے دیے تھے۔
کیا میرے بابا آپ کی اولاد نہیں تھے؟”
ایک زخم خوردہ نگاہ اس نے سعادت پرڈالی جو نفی میں سرہلائے اسے روک لینا چاہتے تھے۔
اس اپنے باپ کی فرمانبرداری پر رشک کے ساتھ افسوس بھی ہواتھا۔
وہ شاید ان اولادوں میں سے تھے جو والدین کے لیے سر بھی کٹوا سکتے تھے۔
شہرام کے جبڑے تنے سے تھےجبکہ بھوری آنکھوں میں ٹھنڈاسا تاثر تھا۔
دادا!! میں آپ سے کچھ پوچھ رہاہوں؟ انہیں ہنوز خاموش دیکھ کر وہ یکلخت اٹھ کھڑا ہوا۔
بدر علوی کی آنکھ نم سی ہوتی محسوس ہوئی۔جھری زدہ چہرے پر گہری ندامت امڈ آئی تھی۔
شہرام نے محض سرجھٹکا۔ بازو کے درد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ ان کی دنیا ان کی چھت چھین لی گئی تھی۔ ہزاروں مصائب جیسے سر اٹھائے آ کھڑے ہوئے۔
مجھے معاف کردو ، میں جانتا ہوں میں نے سعادت سے نفرت میں بہت بڑی گستاخی کردی۔میں نے یہ چھت خود اپنے ہاتھوں سے بیچ دی ہے۔زوار نے تو اپنے باپ کو بھی رسوا کردیا ،،اس نے تو شیطانیت کی سب سے الگ مثال قائم کردی۔
یااللہ!! یہ کیسے ہوگیا، انہیں وہ وقت یاد آیا جب انہوں نے بڑے مان سے گھر کے کاغذات زوار کے حوالے کیے تھے،
سعادت علوی تڑپ کر باپ کے برابر دراز ہوئے تھے۔
بابا!! پریشان نہ ہوں ، کچھ نہیں ہوا خدارا آپ اپنی حالت مت بگاڑیں”۔ان کی کمر سہلاتے وہ رنج و الم میں ڈوب سے گئے تھے۔
“بابا میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتا، میں ان لوگوں سے نہیں ڈرتا، تایا ہمارے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے، میں یہ نہیں ہونے دوں گا”۔
بھوری آنکھوں میں مزید سرد مہری ابھر آئی جبکہ جبڑے تنے سے تھے۔ ہاتھ مٹھی کی مانند بند تھا۔
ساری ناانصافیاں ،ساری بے عزتی ساری تکالیف جیسے بھوری آنکھوں کے سامنے آ ٹھہری تھی۔
ایک ماہ تاب کے رشتے کے لیے انہوں نے اسے موت کی وادی میں پہنچادیا تھا۔اور اب بدر صاحب سے ان کی زمین چھین لی تھی۔
فشار خون بلند ہورہا تھا۔
میں جارہا ہوں بابا!! میں نہیں رکوں گا۔، تایا ابا کو جواب دینا ہوگا۔
سر نفی میں ہلاتا وہ باہر کی جانب بڑھا۔
آج وہ آر یا پار کرلینا چاہتا تھا۔
نن نہیں شام !! میرے بچے رک جاؤ ، خدا کے لیے رک جاؤ ، میں پہلے ہی تمہاری تکلیف دیکھ کر تڑپ رہا ہوں ، میں اپنی اولاد کو نہیں کھو سکتا۔،
سعادت علوی اسے بازو سے تھام کر روکتے التجائیہ ہوئے۔
بابا!! چھت چھن جائے گی زمین قدموں میں نہیں رہے گی۔کیا آپ نے سوچا ہے تایا نے کیا کیا ہے؟اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ اب بھی نرمی قائم رکھنا چاہتے ہیں ؟”
وہ بازو جھٹک کر چیخا تھا۔آواز میں درد کی گہری رمق تھی۔اپنے خساروں پر وہ آنسو بھی نہیں بہاسکتا تھا۔
“وہ غنڈے دیکھے تھے تم نے؟ محلے کے سب سے خطرناک لوگ ہیں ، اگر انہوں نے تمہیں کچھ کردیا تو میرا کیا ہوگا تمہاری ماں کا کیا ہوگا۔ بھائی صاحب وقت کے فرعون بنے بیٹھے ہیں۔اور شہرام یقین رکھو موسیٔ کے آنے سے پہلے فرعون نے تباہی کی حد پار کی تھی۔کتنی زندگیاں پانی کی طرح بہہ گئی تھیں۔میں اس فرعون کے ہاتھوں اپنے بیٹے کی تباہی نہیں چاہتا۔
بابا!! میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بھی نہیں بیٹھ سکتا، زندگی ہار جانے کے خوف سے میں خود غرض نہیں بن سکتا۔، مجھ میں انسانیت باقی ہے۔آپ میرے بابا میری ہمت ہیں۔،میں آپ پر الزام عائد نہیں کرسکتا”، ایک نظر بدر علوی پر ڈالے وہ تیزی سے وہاں سے نکلا تھا۔
بدر علوی کو وہ ایک نظر زمین میں گاڑ چکی تھی۔آج انہیں شدت سے احساس ہوا تھا کہ ایک دقیانوسیت کے پیچھے وہ کتنا نقصان کرچکے تھے۔
سعادت علوی کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی۔وہ شہرام کو روک رہے تھے۔اسے پکار رہے تھے۔اور وہ اپنے باپ کی پکار کو نظر انداز کیےاپنے باپ کی ہی زمین کو واپس لانے وہاں سے جارہا تھا۔
آواز معدوم ہوتی جارہی تھی ان کی آنکھیں بوجھل ہورہی تھیں احساسِ ندامت بڑھتا ہی جارہا تھا۔
“””””””””””””
بائیک کو سفید محل کے سامنے روکے اس نے گہرا سانس خارج کیا۔پورا سفر سیاہ تار کول کی سڑکوں پر اس نے جس ضبط کے ساتھ طے کیا یہ اس کا رب ہی جانتا تھا۔
بازو پر سوجن بڑھ سی گئی تھی۔دل کے زخم بھی ہرے ہونے لگے تھے۔اپنا عہد توڑدیا تھا کہ وہ اس گھر کی جانب تب تک رخ نہیں کرے گا جب تک کچھ بن نہیں جاتا۔ ، لیکن آج زوار علوی نے اسے مجبور کیا تھا۔کہ وہ غلط ہے۔اسے عہد توڑنا ہے اسے بھیک مانگنی ہے۔
کس سے ملنا ہے؟”
گارڈ سامنے ایک لمبے سے قد کے لڑکے کو دیکھ کر حیران تھا۔
زوار علوی سے ملنا ہے میں ان کا بھتیجا ہوں۔انہیں کہو میرا ملنا بہت ضروری ہے”۔
انگارہ ہوتی نگاہ اس نے گارڈ پرڈالی۔
تم صاحب کے بھتیجے ہو؟” گارڈ اس کی ہلکی سانولی رنگت اورحلیے سے قصد ہی نہیں کرپارپا تھا۔
پیچھے ہٹو مجھے اندر جانے دو، گارڈ کو دھکیلتا وہ اندر کی جانب بڑھا لیکن گارڈ مستندی سا آگے آیا۔
ایک بازو سے اسے دور دھکیلے وہ آدھ کھلا چھوٹا گیٹ دھکیل کر اندر داخل ہوا۔پتھریلی روش پر سادہ سی چپل کی کچر کچر جیسی آواز ابھر کر معدوم ہورہی تھی۔
گارڈ اس کے پیچھے بھاگا آرہا تھا۔لیکن اس پر دھن سی سوار تھی باپ کے جڑے ہاتھ دادا کا سفید چہرہ نگاہ میں گھوم گھوم جاتا۔،
اپنی محبت ، اپنی چاہ کا اس وقت خیال بھی نہیں آرہا تھا۔
بھاری لکڑی کا دروازہ جھٹکے سے کھولے وہ اندر داخل ہوا۔
وہ سفید محل اس وقت ویران سا تھا۔ سفید ماربل پرکیچڑ کے ہلکے ہلکے نشان چھپ گئے تھے۔
تایا ابو!! پوری طاقت سے وہ چیخا تھا۔
اور کئی بار انہیں پکارتا رہا۔ تایا ابو باہر آئیں کہاں ہیں آپ؟” آپ ہمارے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔، آپ نے اچھا نہیں کیا ، سائیڈ کانچ کی اونچی سی ٹیبل پر دھرا کانچ کا قیمتی ستون نما مجسمہ اس نے پل بھر میں زمین بوس کیا۔
چھناکے کی آواز گونج اٹھی تھی۔
زوار علوی سفید کلف سوٹ میں کلف لگی گردن کے ساتھ مضبوط قدم لیتے کمرے سے باہر آئے۔
“میں جانتا تھا کہ تم یہاں ضرور آؤ گے۔کیونکہ سانپ کی دم کچلی جائے تو وہ پلٹ کر وار ضرور کرتا ہے”۔
ایک طائرانہ نگاہ اس کے وجود پر ڈالے وہ طنزیہ سے مسکرائے۔
ان کے گرم الفاظ نے گویا چہرہ بھی دہکا دیا تھا۔
شبنم بیگم بھی قیمتی ساڑھی کا پلو سنبھالے شہرام کے مقابل آ کھڑی ہوئیں۔
ان کا برہنہ کندھا اور گہرا سا گلہ ان کی ذہنیت کو ظاہر کررہا تھا کہ وہ کس حد تک گمراہی کی راہ پر گامزن ہوچکی ہیں۔ان کی گمراہی کا تو وہ خود گواہ تھا۔
محض چند عرصے میں ہی وہ اپنی روایات بھول کر مغربی طرز زندگی اپنا چکی تھیں۔
تایا ابو!! “یہ محل کیا کم تھا جو آپ نے ہم سے وہ کچی زمین بھی چھین لی۔اس پر میرے بابا کا حق تھا۔
آپ کو کیا ملا ؟ کیا آپ کو ہم پر رحم نہیں آیا۔ ، کیوں تایا ابو”۔
دماغ میں خون کی ٹھوکروں نے اسے بے حال کیا تھا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ اس شخص کا گریبان تھام لے۔لیکن وہ حدود قیود کا خیال رکھنا جانتا تھا۔
“وہ میرا گھر تھا۔ابا نے میرے نام کیا تھا انہوں نے مجھے حق دیا تھا کہ میں اسے بیچ بھی سکتا ہوں۔پاور آف اٹارنی میرے نام تھی۔
اور تم لوگ سدا کے قبضہ کرنے والے کمینے لوگ، میرا حق تھا وہ میں چاہوں تو سب کچھ کرسکتا ہوں”۔
اس کی بلندپکار پر وہ بھی سفاک بنے لفظوں کا زہر فضا میں پھیلا رہے۔ان لفظوں کے زہر سے فضا بھی آلودہ ہوتی پناہ مانگتی تھی۔
“آپ غلط کررہے ہیں ، ہم سے ہماری زمین نہ چھینیں، میرے بابا مرجائیں گے۔خدارا وہ آپ کے باپ ہیں جنہیں آپ بے گھر کررہے ہیں”۔
وہ اب بھی التجائی ساتھا۔ماحول کی خنکی خون کو بھی منجمند کررہی تھی۔اس کے دہکتے جذبات بھی سرد ہورہے تھے۔وہ نرمی چاہتا تھا وہ جاناں کا باپ تھا اس کی محبت اس کی زندگی کا گھنا سایہ وہ گستاخ نہیں ہونا چاہتا تھا،
“مجھ سے نرمی کی توقع کبھی مت رکھنا شہرام کیونکہ مجھے تم لوگوں سے شدید نفرت ہے۔مجھے سعادت سے نفرت ہے۔مجھے تم سے نفرت ہے شہرام مجھے عاہن سے بھی نفرت ہے۔اور وہ سدرہ تمہاری نام نہاد ماں ، میرے سامنے اکڑ کر گئی تھی۔نکل گئی ناں اکڑ، میں یہی تو چاہتا تھا۔اس عورت سے تو میرے اور بھی بہت حساب نکلتے تھے۔وقت آنے پر میں وہ بھی برابر کردوں گا۔اس گھمنڈی عورت کا غرور توڑنا تھا مجھے،،”
یہ زوار علوی کا کونسا روپ تھا یہ کیسی نفرت تھی جو وہ کہہ رہے تھے۔ جو شہرام کا سانس دبوچ رہا تھا۔جو آنکھوں کو پھیلانے کا باعث تھا۔
یہ نفرت کیونکر تھی؟” شہرام کو سمجھنے میں دشواری ہوئی۔
شکر کرو تمہاری ماں کو میں نے کچھ نہیں کہا ورنہ۔اس عورت کی اکڑ میں،، انتہائی عامیانہ الفاظ اور تاثر نے شہرام کے ضبط کا پیمانہ چھلکایا تھا۔
تاا ابو!! اپنی زبان بند کریں وہ طیش میں ان کا سفید گریبان تھامے دھاڑا۔یکدم شور سا بلند ہوا تھا۔
سیڑھیوں سے اترتی ماہ تاب تھم سی گئی۔
وہ کچی نیند سے جاگی سفید ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھی پاؤں میں ریبٹ شوز تھے۔جبکہ سنہری بالوں پر بین تھا۔
شام کو سامنے دیکھ کر اس نے خمار بھری آنکھیں رگڑ ڈالیں پلکیں جھپک کر وہ نیند بھگاتی نیچے آئی۔وہ آگیا تھا۔یہ حقیقت تھی یا پھر نگاہ کا فریب،؟ وہ شخص آیا تھا اس کی ایک ہفتے کی دعاؤں کا ثمر اس کے سامنے تھا، اس کا صبر سامنے تھا۔
یکلخت شہرام نے زوار کا گریبان تھام کر اپنی جانب کھینچا۔، ماہ تاب کی چلتی سانسیس جیسے دبوچ لے گئیں تھیں۔
شام !! تیز قدموں سے وہ نیچے آئی اور شہرام کی بازو جکڑ کر طیش سے اپنے باپ سے دور دھکیلنا چاہا۔
وہ غیض و غضب میں گھرا بھوری غضب ناک نگاہ مکمل زوار پر ڈالے کھڑا تھا۔
ماہ تاب کا آنا وہ محسوس نہیں کرپایا تھا۔
چھوڑو میرے پاپا کو،،وہ بازو جکڑے اسے دور ہٹانے کے لیے باؤلی ہوئی تھی۔
اے!!! یکلخت وہ دھاڑتا گریبان چھوڑے مکہ فضا میں تان کر مڑا، فضا میں ایک بلند چیخ ابھری تھی۔
سامنے ماہ تاب کو چہرے پر ہاتھ رکھے دیکھ کر وہ ساکت ہوا۔
پھیلی پتلیاں، سکڑنے لگی تھیں جبکہ ہاتھ کا بنا مکہ وہی فضا میں ساکت رہ گیا۔
وہ سفید پری اپنے ہاتھ سامنے کیے کھڑی تھی۔
زوار نے یکلخت اسے دور دھکیلا تھا۔جبکہ ماہ تاب نے دھیرے سے بازو ہٹائی۔
جاناں!! لبوں سے ہلکی سی سرگوشی ادا ہوئی۔
فضا میں کئی پل سکوت طاری رہا۔
ماہ تاب!! “وہ اچھے لوگ نہیں ہیں تمہارے پاپا دھوکہ کررہے ہیں جن سے انہوں نے تمہارا رشتہ طے کیا ہے وہ اچھا انسان نہیں ہے۔ماہ تاب تمہارے بابا نے ہماری چھت چھین لی”۔
اپنے پسندیدہ سہارے کو سامنے پاتے ہی وہ پھٹ پڑا تھا۔وہ ماہ تاب علوی کی تباہی نہیں چاہتا تھا۔اپنا خسارہ تو اسے پھر بھی قبول تھا۔
زوار صاحب اس کی جلدبازی پر بوکھلائے سے آگے آئے۔
میری بچی پرہاتھ اٹھاؤ گے، ہمت کیسے ہوئی۔؟” وہ دھاڑتے ہوئے آگے بڑھے تھے۔جبکہ وہ چند قدم لڑکھڑا کر دور ہٹا۔پتلیاں اب بھی اس اپسرا پر جمی تھیں۔
وہ جانے انجانے میں اسے نقصان پہنچانےوالا تھا۔
شہرام نے زوار علوی پر تنفر بھری نگاہ ڈالی جبکہ شبنم بیگم بازو سینے پر لپیٹے طنزیہ سی مسکان کے ساتھ آرام دہ سی کھڑی تھیں۔ماہ تاب علوی کو بچانے کی زحمت بھی انہوں نے گوارا نہیں کی تھی ۔
ماہ تاب میری بات سنو،، اس ساکت کھڑے دیکھ کر وہ دوبارہ بولا تھا۔
تمہارے بابا نے میرے رشتے سے بھی انکار کیا تھا۔ماہ تاب یہ زخم دیکھو، یہ میرا بازو دیکھو، ماہ تاب میں نے کہا تھا ناں جاناں کے سفر کا آغاز دوبارہ ہوگا۔ دیکھو شروع ہونے والا تھا۔لیکن۔،،
شہرام کیا بکواس کررہے ہو؟میری بیٹی کے ساتھ تم کس طرح کی زبان استعمال کررہے ہو، کیا یہ تربیت کی ہے تمہاری ماں نے؟”
وہ اس کی نازک رگ دبانا جانتے تھے۔
شہرام کے نتھنے پھولے تھے،آپ میری ماں کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔
“میں آپ کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری ماں کے بارے میں عامیانہ الفاظ کہنے کی۔ہماری زمین چھین لینے کی ،ہمارے سر سے سائبان ہٹانے کی” ، وہ ایک بار پھر ان کا گریبان تھام کر دھاڑا
پرتعیش آئینہ بنا لاؤنج کئی ساعت اس دھاڑ کو ضبط کرنے کی ہمت مجتمع کرتا رہا۔
شام چھوڑو میرے بابا کو، وہ ایک بار پھر ہوش میں لوٹتی آگے بڑھی۔ شام کو دوردھکیلنے کی ناکام کوشش میں وہ ہلکان ہوئی تھی۔
تم اپنے بابا کی سچائی جان لوگی تو کم ازکم مجھے نہیں روکو گی ماہ تاب علوی”
تیز نگاہ اس پر ڈالے وہ ان کے گریبان کو بھی جھٹک گیا تھا۔
کیا کیا ہے میرے بابا نے ؟ اگر ایسا کچھ کیا بھی تھا تو آپ کی ہمت کیسے ہوئی ان کا گریبان پکڑنے کی۔ہوتے کون ہیں آپ میرے بابا کے گریبان پکڑنے والے۔
بنارکے وہ چیختی شہرام کو بھی سن کرگئی۔
فضا میں سرد پن سا حائل ہوا جبکہ سفید محل کی دیواریں بھی آج یہ قیامت اپنی سختی میں سمولینا چاہتی تھیں۔
تو تم بھی اپنے باپ کی طرح خود غرض بن گئی۔ہاہ !! یہ تو ہونا ہی تھا۔سفاک باپ کی سفاک بیٹی تو تم بھی بن سکتی تھی۔اور وہ تم بن گئی”۔
گہری سانس خارج کیے وہ استہزائیہ سا مسکرائے چند قدم پیچھے ہوا تھا۔
“شہرام تم غلط سمجھ رہے ہو،بیٹا میں ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا تمہیں غلط فہمی ہورہی ہے۔ دیکھوبیٹا آرام سے بھی بات کرسکتے ہیں۔”
یکدم پینترا بدلے وہ ملول سی کی کیفیت میں آگے آئے۔
شہرام نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روکا تھا۔
“اپنا یہ ڈھونگ اپنی اولاد اپنی بیوی کو دکھائیں۔، مجھ سے یہ غلیظ دکھاوا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ نہایت سفاک نہایت گھٹیا انسان ہیں۔، آپ نے پہلے میرے بابا کو تکلیف پہنچائی پھر مجھے اذیت دی اور اب ہمارا گھر ہی چھین لیا۔میری ماں کے بارے میں آپ نے یہ زبان کیونکر استعمال کی؟کتنی شیطانیت ہے آپ میں۔
شیطان ہیں آپ ،، شیطان سے بھی بڑے درندے،،”
شہرام !! شٹ اپ جسٹ شٹ اپ،دور ہٹیں میرے بابا سے،پیچھے ہٹو ماہ تاب میں نہیں چھوڑوں گا انہیں،
لاؤنج میں ہماہمی سی بڑھ گئی تھی۔
شام!!
یکلخت وہ ساکت ہوا ،
چٹاخ سی کی آواز ابھر کر معدوم ہوئی۔جبڑے تن سے گئے تھے جبکہ ہاتھ کی مٹھیاں وہ بھینچ گیا تھا۔
بھوری آنکھوں میں گلابی ڈورے نمایاں ہوئے تھے۔
چہرے پر غضب لیے ماہ تاب علوی نے تمام تر سفاکیت کی انتہا کی تھی۔
آپ ،، کک کی ہمم ہمت کیسے ہوئی میرے بابا کے بارے میں غلط باتیں کرنے کی۔
کون ہیں آپ کیا حیثیت ہے آپ کی؟کچھ بھی نہیں ہیں آپ،کچھ بھی نہیں شہرام علوی،
مجھے افسوس ہورہا ہے کہ میں آپ کو اپنا آئیڈیل مانتی تھی۔تف ہی میری چوائس پر، جسے اپنے سے بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں وہ کیسے کسی کا آئیڈیل ہوسکتا ہے۔
ایک ایک لفظ نوکیلے کانچ کی طرح شہرام علوی کے قلب و جان پر پیوست ہوتا رہا،
کس حیثیت سے آپ نے میرا رشتہ لینےاپنے بابا کو بھیجا تھا۔آپ پہلے اپنا اور میرا معیار دیکھ لیتے پھر یہ ہمت کرتے،،اور انکار !! میں نے کیا تھا انکار ، میں کم از کم اپنے مجرم سے شادی نہیں کرسکتی ۔
آپ کی وجہ سے میری یہ زبان لکنت زدہ ہوئی۔میں لفظوں سے محروم ہوتی چلی گئی۔
میں ڈبیٹر بننا چاہتی تھی۔محض اس زبان کی وجہ سے میں نہیں بن پائی، آپ مجرم ہیں میری محرومی کے۔میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی”۔
وہ پھٹ پڑی تھی۔