Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
صبح کی روشنی پھیلی تو شارف ابدال نے بھی کلب میں رات گزار کر فلیٹ کا رخ کیا۔
جس وقت وہ گھر میں داخل ہوئے فلیٹ کا دروازہ لاک نہیں تھا۔
انہیں حیرت نے گھیرا ۔چہرے پر ازلی نرمی حائل کرتے وہ اندر داخل ہوئے۔
ان کے مطابق تو اب تک زوار علوی کی روح پرواز کرچکی ہوگی۔
قتل کرنا ان کے لیے کبھی مشکل نہیں رہا تھا۔جو شخص اپنے بھائی کو نہایت دردناک طریقے سے مارسکتا تھا۔اس کے لیے دوست کو مارنا کیا مشکل تھا۔
اندر داخل ہوکر ان کا نشہ بھک سے اڑا۔
اندر زوار علوی کا وجود ہی موجود نہیں تھا۔
انہوں نے آنکھیں پھیلا کر دیکھا۔
ایک انہونی کا احساس شدت سے ہوا تھا کہ وہ کسی چنگل میں پھنس چکے ہیں۔کوئی ان پر نظر رکھ رہا تھا اور انہیں خبر بھی نہیں ہوپائی۔
کہیں معیز۔۔” ایک سوچ نے ان کے دماغ کا احاطہ کیا تو انہوں نے تیزی سے اشرف کا نمبر ڈائل کیا۔موبائل پر پہلے ہی اشرف کی کئی کالز موجود تھیں۔
انہوں نے تیزی سے نمبر ڈائل کیا۔لیکن دوسری جانب سے فون نہیں اٹھایا جارہا تھا۔
“ڈیم اٹ!! یہاں کراچی آنا میرے لیے سب سے بڑی مںحوسیت تھی”۔
وہ تیزی سے اندر کی جانب بڑھے۔
وارڈروب سے کچھ ضروری پیپرز لے کروہ تیزی سے فلیٹ سے نکلے تھے۔
اب ان کا لاہور جانا ضروری ہوچکا تھا۔لیکن اس سے پہلے وہ یہاں ایک ضروری کام کرکے ہی لوٹنے والے تھے۔
ۨ_
اپنے آپ کو حصار میں محسوس کرتی وہ جس وقت جاگی گھڑی بارہ بجارہی تھی۔
شام ناجانے رات کب آیا اسے خبر نہیں ہوپائی۔سدرہ چچی نے زبردستی اسے روم میں بھیجا تھا۔
اپنے سامنے شام کو دیکھ کر وہ ہولے سے مسکرائی۔صد شکر تھا کہ وہ ٹھیک لوٹا تھا۔
کمر پر بھاری بازو ٹکائے وہ گہری نیند میں تھا۔سانسوں کی بڑھتی کم ہوتی روانی خوبرو گندمی چہرہ نہارتی وہ مسکرائی۔
نرمی سے پیشانی سے بال ہٹاتی وہ ان ماتھے کی صبیح پن کو جذب کرنے لگی۔
بھورے بال معمول سے زیادہ ہی بڑے تھے جو اس کے چہرے پر کافی جچ رہے تھے۔
بھوک کی وجہ سے اسے نقاہت محسوس ہونے لگی لیکن وہ اسے آرام سے سوتا دیکھ کر اٹھا بھی نہیں سکتی تھی۔
اپنے چہرے پر تپش محسوس کرتے مندھی آنکھیں کھول کر شام نے ماہ کو دیکھا جو اس کے گال پر ہاتھ ٹکائے نرمی بھری نگاہوں میں اس کا چہرہ سموئے شاد تھی۔
شام کی نگاہ بے ساختہ گھڑی پر گئی تو وہ جھٹکے سے اٹھا۔
مائے گاڈ۔!! تم ٹھیک ہو ناشتہ کیا میڈیسن لی؟میں کیسے شٹ۔۔۔”
بڑبڑاتا ہوا وہ ماہ کو آسودہ کرگیا۔
انٹر کام پر اس نے فوری ناشتے کا کہا۔اور ماہ کی جانب مڑا جو ہلکا سا کپکپارہی تھی۔
“کیا ہوا ہے تمہیں ؟ بتاؤ ٹھیک ہو؟”
اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وہ بے تاب تھا۔
آپ رات کہاں گئے تھے اور کب واپس آئے۔؟”
توقع کے برعکس جواب سن کر ماتھے پر بل نمایاں ہوئے۔
“جاناں میں تم سے تمہاری طبعیت پوچھ رہا ہوں۔اور تم جواب کچھ اور دےرہی ہو؟”
سختی سے اٹی آواز پر وہ مسکرائی۔چہرے پر خوشگوار حیرت سمٹ آئی۔
جاناں۔۔۔آپ نے مجھے جاناں کہا ہے۔” اس کے ہاتھ تھامے بولتی وہ اب بھی بے یقین تھی۔
اسے اپنی بے اختیاری پر طیش آیا۔
“ماہ تاب!! تم کانپ رہی ہو؟”۔اس کے کندھے تھامے وہ سرعت سے بات کی نفی کرگیا۔
“اٹھو فریش ہو جلدی سے۔۔آج سب ڈسٹرب ہوگیا۔”
اسے کھڑا کیے وہ سلیپر پہنائے واش روم کی جانب لایا جو خوشگواری مکمل چہرے پر طاری کیے سیاہ آنکھوں سے مسکراتی پری کی مانند تھی۔
جلدی سے فریش ہوکر باہر آؤ۔
نظر چرا کر مڑتا وہ باہر بڑھا جب ماہ تاب نے بازو جکڑ کر اسے روکا۔
“ماہ تاب فریش ہوجاؤ فضول حرکتیں مت کیا کرو”۔حددرجہ لخ لہجہ سنتی وہ بے ساختہ بازو چھوڑے سنک کی جانب مڑی۔
اس کا بازو چھوڑنا اور پھر مڑ جانا ناجانے کیوں شام کو سوئی کی مانند چبھا تھا۔
“آئی ایم سوری میں روڈ ہوگیا۔”
وضاحت کرتا وہ اس کی جانب متوجہ ہوا جو سنک پر جھکی بنا کسی تاثر کے چہرہ دھورہی تھی۔
شام علوی کی نگاہ بھٹکتی اس چہرے پر گئی۔
نازک ہتھیلیوں میں پانی بھرنا اور پھر منہ پر پھینکنا۔ناجانے کیوں اسے ایک سحرانگیز منظر لگا۔جیسے کسی خوبصورت سی وادی پر بہتا ہوا جھرنا اور جھرنے کی چند بوندیں شفاف موتیوں کی مانند چمک جائیں۔
وہ مسمرائز سا اس کا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔
چونکا تب جب وہ لرزتی ہوئی ٹانگوں سے ٹاول کی متلاشی ہوئی۔
شام نے ٹاول اس کی جانب بڑھایا۔ماہ تاب نے چپ چاپ تھاما اور باہر جانے لگی۔
رات سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔بھوک سے نقاہت اور کپکپاہٹ بڑھ رہی تھی۔
شام بے ساختہ آگے بڑھتا اسے بانہوں میں اٹھائے باہر کی جانب بڑھا۔
ماہ تاب ایک چیخ کے ساتھ حصار بناتی سمٹی تھی۔
اس کی قربت کی مہکتی خوشبو محسوس کیے وہ لرزتی پلکیں جھکاتی لب بھی دبا گئی۔
سرخی میں ڈھلا چہرہ شام علوی کے جذبات بہکا رہا تھا۔
بیڈ پر بٹھاکر اس نے ناشتے سے پہلے کی میڈیسن اس کی جانب بڑھائی۔اور روم فریزر سے انسولین نکال کر لایا۔۔آج روٹین میں تھوڑی ردو بدل ہوگئی تھی۔جو شام کو سراسر اپنی غلطی لگی۔
انسولین بازو میں لگا کر اس نے چہرہ ہاتھوں میں تھاما۔
اس کی بے رخی سے زیادہ نرمی نے اسے ستایا تھا۔آنسو بہتے گال بھگونے لگے۔
“میں مانتی ہوں میری غلطی ہے۔میں نے ایک بار اعتبار نہیں کیا جس کی سزا میں نے چھ سال نہایت دردناک طریقے سے کاٹی ہے۔لیکن اب اگر آپ کو پاکر بھی سزا ہی بھگتنی ہے تو مجھے اسی جہنم میں پھینک آئیں ۔کم ازکم آپ کی بے رخی سے وہ جہنم نما زندگی میرے لیے بہتر ہوگی۔”
جاناں۔۔۔” شام نے چہرہ دبوچ کر سختی سے جاناں کہا تو وہ سسکتی ہاتھ ہاتھ جھٹکنے لگی۔
مت کہیے جاناں نہیں سننا مجھے۔۔”
ہچکیوں سے روتی وہ شام علوی کی آنکھؤں میں سرخی نمایاں کرنے کا موجب تھی۔
“میری بات سنو ماہ تاب علوی۔۔۔آج تو تم نے اس جہنم میں جانے کی بات کہہ دی ۔آج کے بعد اگر ایسا کہا تو میں ۔۔۔۔”
لب بھینچے اس نے خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا۔۔وہ کیسے کچھ سخت کہہ دیتا ۔وہ شام علوی کی جاناں تھی۔
“کہہ دیجیے کہ زبان کاٹ دوں گا گلہ دبا دوں گا۔۔جان سے مار ڈالوں گا”۔روٹھی نازنین سی بنی وہ چیخی ۔
شام کے لبوں پر مسکراہٹ امڈ آئی تھی۔
“کیسے کہہ دوں کہا ہی نہیں جاتا۔۔”
ماہ نے خفگی سے اسے گھورا۔
“ہاں جیسے جاناں نہیں کہا جاتا ویسے ہی سب کچھ بھی نہیں کہا جاتا۔”
“تم جاناں سننا چاہتی تھی۔تو میں کہہ تو رہا ہوں۔”
وہ سرعت سے تمام الفاظ نظرانداز کرگیا تھا۔
آج دل کسی دلفریبی کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔
“دل سے تو نہیں کہا۔”اس کے ہاتھ چہرے سے ہٹانے کی جستجو میں وہ منمنائی تھی۔
تمہیں کیسے پتہ دل سے نہیں کہا؟”
ناجانے کیوں آج دل حسین ذومعنی بھری گفتگو کی جانب اشارہ کررہا تھا۔
“مجھے کیسے پتہ نہیں چلے گا شام۔؟میں آپ کی ماہ تاب علوی نہیں جاناں ہوں ۔اور جاناں سب جانتی ہے”۔
“خود پر بڑا یقین ہے۔ضروری تو نہیں تم سب جانتی ہو۔کچھ تو میں بھی جانتا ہوں جو تمہیں بتا نہیں سکتا۔اور نہ تم جان سکو گی۔”
آنکھوں میں امڈتی شرارت کو اس نے خفگی سے جانچا۔
” آپ نہ بتائیں میں ویسے بھی چہرے پڑھنے کا ہنر رکھتی ہوں ۔”وہ گردن اکڑائے نم آنکھوں سے بولی۔
دل تو نہیں پڑھ پاؤ گی۔”
“آپ کا دل بھی باآسانی پڑھ سکتی ہوں۔کیونکہ مجھے اتنا پتہ ہے اس دل میں صرف اور صرف شام علوی کی جاناں کا پہرہ ہے”۔
زیادہ پراعتمادی اچھی نہیں ہوتی۔لیکن تمہاری یہ پراعتمادی مجھے اچھی لگی۔”
“اچھی لگنی بھی چاہیے۔۔۔۔”
اس کی پراعتمادی پر رشک کیے وہ آگے ہوا اور نرمی سے ناک کو چوم لیا۔
اس کے عمل پر سٹپٹائی وہ رونا بھولے دور ہوئی۔
لرزتی دراز پلکیں گال پر سایہ فگن ہوئی۔
“اب کیوں نظر جھکا رہی ہو۔بتاؤ زرا میرے چہرے پر کیا لکھا ہے؟”
اپنی عادت کے برعکس آج وہ شرارت پن پر آمادہ تھا۔
ماہ نے پلکیں جھکائے رکھی۔
وہ قریب ہوتا بالکل ایک انچ پر رکا تو مٹھیاں بھینچے وہ بڑھتی دھڑکن کانوں میں محسوس کرنے لگی۔
مجھے نہیں پتہ۔۔”
پھر کسے پتہ ہے؟”
شام۔۔۔” وہ جنجھلاتی شام علوی کو راحت آمیزی دے گئی۔
آئی ایم سوری۔۔” اس کی گھمبیرتا بھری آواز پر جھٹ پلکیں اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا جو مسکرارہا تھا۔
کس بات کے لیے سوری کررہے ہیں۔؟” ماہ تاب کی آنکھوں میں اترتے سوال پر سوبر سے شام کو شرارت سوجھی۔
وہ تو اس کی بردباری کی قائل تھی لیکن آج وہ بے باکی پن میں مبتلا تھا۔
“خود سوچ لو۔”
اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہلکی سی گردن ترچھی کیے ماہ تاب کو حیران کیا۔
ماہ تاب کو کل رات یاد آئی جب اس نے کان کی لو کو چھوا تھا۔
سٹپٹاتی وہ دور ہونے کے لیے ہاتھ کھینچنے لگی۔
عجیب ہیں آپ ۔۔۔” وہ محض یہی کہہ پائی۔
ہاں تمہارے معاملے میں عجیب سے عجیب تر۔۔”
دونوں ہاتھوں پر تاثیری عطاکیے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
دروازے پر ہوتی دستک پر وہ دروازے کی جانب بڑھا۔۔
“ہم دو دن سے روز روم میں ناشتہ کررہے ہیں چچی کیا سوچیں گی؟”
وہ روہانسی ہوئی اٹھتی دروازے کی جانب بڑھی۔
“رک جاؤ تمہاری چچی کچھ نہیں کہے گی۔وہ تو چاہتی ہی یہی ہیں کہ ہم دونوں زیادہ سے زیادہ وقت ساتھ گزاریں۔تاکہ کچھ بات آگے بڑھے۔”
شام نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور اس کی جانب مڑا جو بے قرار سی تھی۔
سرخی میں ڈھلتے چہرے پر شام علوی کی نگاہ ٹھہر سی گئی۔
آج آپ بہت بے باک ہورہے ہیں۔ “
زبان سے پھسلتے لفظوں پر اس نے جلدی سے منہ پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سرہلایا
شام کا مدھم سا قہقہ گونجا۔
اسے دونوں بازوؤں سے تھام کر اپنی طرف کھینچا۔کٹی ڈال سی وہ سینے سے لگی۔
“آج دل بے باکیوں کی جانب گامزن ہے۔دراصل بے رخی برت کر میں ازالہ کرنا چاہ رہا تھا۔تاکہ یہ ازالہ ہم دونوں کے حق میں بہتر ہوجاۓ۔”
اس کی ذومعنی سرگوشی پر وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہی تھی۔
“بب بھوک۔۔لل لگ رہی ہے”۔کانپتے ادھورے لفظوں پر وہ اسے کاؤچ کی جانب لایا ۔
لگ تو مجھے بھی رہی ہے۔اسے برابر بٹھائے وہ مزید شرارت پن پر امادہ ہوا تو وہ روہانسی ہوئی۔
بھوک یار۔۔” لب دبائے وہ بدمست سا ہوا۔
جبکہ ماہ تاب انگلیاں چٹخاتی شرم کی سرخی میں اٹی تھی۔
“اوکے ریلکس۔۔۔باقی بے باکیاں ناشتے کے بعد۔۔ویسے میں ناشتے کی ہی بات کررہا تھا۔”
دودھ کا گلاس اس کی جانب بڑھاکر کندھے پر بازو پھیلائے اسے مزید قریب کرتے ایک بار پھر اسے سٹپٹانے پر مجبور کرگیا تھا۔
دو کانسٹیبلز کو زوار علوی کی حفاظت پرمعمور کیے وہ دو بجے کے قریب پچھلی جانب سے ہی کمرے میں داخل ہوا۔
کمرا خلاف معمول خالی تھا۔مشل علوی کی بھینی سی خوشبو محسوس کرتا وہ بوجھل سانس خارج کیے بیڈ پر دراز ہوا۔دل تو چاہا اس کا ڈرا سہما چہرا دیکھ کر خود کو تھوڑا پرسکون کرے لیکن تھکن پور پور میں امڈ آئی تھی۔
پیٹ کے بل لیٹے وہ کمفرٹ لیے آنکھیں موند گیا۔
گہری نیند میں گئے اسے ابھی دس منٹ ہی ہوئے تھے۔
جب دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔لیکن بوجھل آنکھوں کی وجہ سے وہ نیند کی وادیوں میں ڈوبا رہا۔
آج صبح سے وہ چچی کے ساتھ ہی تھی۔عاہن پر آج حددرجہ غصہ تھا۔وہ اگر آج سامنے ہوتا تو اس کا منہ ہی نوچ لیتی جس برے طریقے سے اس نے اسے ڈرایا تھا۔
بیڈ پر عاہن کو لیٹے دیکھ کر سبز آنکھوں میں طیش آیا۔
“میری نیند حرام کرکے یہ محترم خود گہری نیند سورہاہے۔اسے تو میں بتاتی ہوں”۔
مصنوعی کف اوپر چڑھائے اس نے اردگرد جانچا۔
دماغ میں آئے ناقص خیال پر عمل پیرا ہونے کے لیے وہ واش روم کی جانب بڑھی۔
باتھ ٹب میں کچھ پانی بھرتی باہر آئی اور ایک جھٹکے میں سارا پانی عاہن پر انڈیلا۔ٹب پھینک کر اس نے جلدی سےکمفرٹ اس کے منہ پر کیے کمر پر چار پانچ اپنے نازک ہاتھوں سے بھاری پنچ مارے۔
بدتمیز انسان۔۔۔اس برے طریقے سے مجھے ڈرایا۔اور پھر رات کو ناجانے کہاں غائب ہوگئے؟اور اب یہاں نیندیں پوری کررہے ہو۔۔میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔”
ابھی وہ پانی والی افتاد پر ہڑبڑابھی نہیں پایا تھا۔جب اس نے کمفرٹ پر سے ہی پشت پر چار پانچ پنچ مارکر حواس جنجھنادئیے۔
پاگل لڑکی۔۔کیا ہوگیا ہے ایسے اوو ری ایکٹ کیوں کررہی ہو؟”
اسے دور جھٹک کر کمفرٹ اتارے وہ سرخ آنکھوں سے سیدھا ہوا۔آدھا کمفرٹ زمین بوس ہوا۔
مشل تیکھے چتون لیے اقریب ہی کھڑی تھی۔
کیا مسئلہ ہے ؟کیوں میرے اوپر پانی پھینکا تم نے؟اور مجھے ہاتھ کیوں لگایا۔؟”
بمشکل اشتعال پر قابو پائے وہ اس کے مقابل ہوا۔جس کے چہرے پر سرخی امڈ آئی تھی۔
“شٹ اپ۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی اتبا بیہودہ مذاق کرنے کی؟
میں رات تمہاری اس حرکت سے بے ہوش ہوگئی تھی۔خدانخواستہ اگر میں مرجاتی تو؟”
“تو میری جان چھوٹ جاتی تم جیسی جنگلی آتما سے۔۔اور میں من پسند لڑکی سے شادی کرلیتا۔اور اسے ہنی مون پر لے جاتا۔”
دونوں بازو جکڑے غرایا۔
“یہ تمہاری حسرت ہی رہے گی کہ تم دوسری شادی کرسکو۔جیسی تمہاری شکل ہے تم شکر ادا کیا کرو تمہیں میں مل گئی۔”
“میں صبر کرلوں میرے لیے یہی کافی ہے۔”
مشل کی ناک سرخ ہوئی۔
“تم ناشکرے ہی رہنا “۔
“ہاں شکر کے نتیجے میں تم جو مل گئی ہو”۔
“بالکل یہ تمہارے شکر کا پھل ہے کہ تمہیں مجھ جیسی خوبصورت سبز آنکھوں والی گڑیا مل گئی۔”
مشل نے گردن اکـڑائی۔
اچھا سبز آنکھیں تو ناگن کی بھی ہوتی ہیں۔اور تم ناگن کی طرح مجھ سے لپٹ رہی ہو تاکہ اپنے زہر سے مجھے مار سکو۔
عاہن نے اسے مزید قریب کیا ۔بے ساختہ اس کے سینے سے لگتی وہ سرخ ہوئی۔لیکن اس کا ناگن کہنا خون کھولانے کا موجب ہوا۔
“عاہن آئی ول کل یو۔۔تم ہوگے ناگن ۔۔میں ایک خوبصورت لڑکی ہوں”۔
ہاں ایک خوبصورت جنگلی آتما جسے کاٹنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔”
شٹ اپ!!بتاؤ مجھے رات تم کہاں گئے تھے۔
وہ گریبان تھامنے کے لیے آگے بڑھی ۔عاہن نے جھٹکے سے اس کی کلائیاں جکڑ کر اس بیڈ پر بٹھایا اور خود اس پر سایہ فگن ہوا۔
میں جہاں جاؤں جو مرضی کروں یہ میری زندگی ہے۔تم ہوتی کون ہو سوال کرنے والی؟
قدرے نزدیک جھک کر اس نے سبز آنکھوں میں جھانکا جو ہلکی سی پھیلی تھی۔مشل نے بے ساختہ لبوں کو تر کیا۔
میں۔۔میں تمہاری بیوی ہوں۔اپنی پراعتمادی کو بحال کرنے میں بھی اس کی زبان لڑکھڑا گئی
عاہن نے ایک ہاتھ سے اس کا چہرا دبوچا۔
“وہ قتل اصلی تھا مشل علوی۔وہ ڈائریکٹر تھا۔اور ڈائریکٹر ہیرو یا ولن نہیں ہوتے۔میں نے وہ ویڈیو تمہیں اس لیے دکھائی تھی کیونکہ عنقریب تمہارے شارف ابدال کا بھی وہی حال ہونے والا ہے”۔
لہجے کے سرد پن پر وہ ٹھٹھرتی اٹھنے کی تگ و دو میں ہوئی۔
چچچھوڑو۔۔۔مجھے۔”اس کی ہر کوشش ناکام بنائے وہ ان سبز نینوں میں الجھا۔
مشل کی نگاہ بھٹکی اور نگاہ سے نگاہ ملی تھی۔دونوں دل شدت سے دھڑکے لیکن چند پل کا عمل تھا۔
سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ کو دیکھ کر بدلے کا جذبہ شدت سے ابھرا۔
پل بھر میں اس نے وہ بھرا جگ مشل کے سر پر انڈیلا۔
آہہہ!! کسی نرمی کی منتظر وہ یکلخت اس کے عمل پر جنجھنا گئی۔۔ایک کپکپی سی وجود میں اتری اور وہ چیختی عاہن کے سینے سے لگی۔
پانی کچھ ٹھنڈا تھا۔
مشل کی بازو پکڑ کر اس نے کلائی پر ہلکے سے کاٹا۔اور اس رات کا بدلہ لیا۔وہ چیختی تڑپ اٹھی تھی۔
کمینے انسان چھوڑو۔۔۔” اپنا چھڑوانے میں سرگرداں وہ کئی وار نازک ہاتھوں سے اس کے سینے پرکرتی چلی گئی۔
حساب برابر ہوا۔
اسے دور پھینکے وہ گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرے قہقہ لگاتا مشل کو حددرجہ زہر لگاتھا۔
نازک کلائی سرخ تھی۔۔جبکہ پانی کی وجہ سے وہ اب بھی کپکپارہی تھی۔
“تم ایک پاگل سائیکو آدمی ہو۔تمیز نہیں ہے ایک لڑکی سے کیسا رویہ رکھا جاتا ہے۔”
گلابی لباس میں بھیگی سی سفید چہرے کے ساتھ وہ چیخی۔
عاہن نے مڑ کر ابرو اچکائے اسے جانچا جو کپکپارہی تھی۔
“تم لڑکی نہیں ایک جنگلی آتما ہو۔اور جو لڑکیاں ہوتی ہیں ان سے میں ہمیشہ نرمی ہی برتتا ہوں۔”
اس بار نگاہوں کا تصادم دونوں کے جذبات کو دہکا گیا۔
ٹرانس سی کی کیفیت میں وہ آگے بڑھا تو مشل بیڈ پر پاؤں اوپر کرتی پیچھے ہوئی۔
بیڈ سے نیچے گرے کمفرٹ میں پاؤں الجھا تھا اور وہ اپنے بوجھ سے مشل کے اوپر گرا۔
آہہ۔۔”اس اچانک افتاد پر وہ بوکھلاتی چیخی۔۔جبکہ عاہن نے سرعت سے اس کے منہ پر ہتھیلی جمائی۔
“پاگل لڑکی اتنا مت چیخا کرو۔سب کے سامنے عاہن کی ذات مشکوک بنانے لگی ہو۔میرا باپ تو پہلے ہی مجھے جلاد سمجھتا ہے۔اوپر سے تم سچ کی مہر لگادیتی ہو”۔
وہ دبا دبا سا غرایا اور ہتھیلی کا دباؤ مزید بڑھایا۔
پھٹی آنکھوں اور بھاری بوجھ سے وہ کانپتی اسے اٹھنے کا کہہ رہی تھی۔
بھیگا ٹھنڈا سا وجود عاہن علوی کے جذبات ابھار رہا تھا۔نیند کی خماری کی جگہ چاہت کی خماری نے آنکھوں میں ڈھیرہ جمایا۔اس کی بہکتی آنکھوں سے اس نے زور لگاکر اسے دور ہٹانا چاہا اور نفی میں سرہلایا۔
ہتھیلی ہنوز لبوں پر تھی۔جبکہ وہ نم سی پیشانی توجہ طلب تھی۔
نرمی سے جھک کر اس نے پرشدت سی تاثیری لمس پر اسے دہکایا تھا۔
سانس کی بحالی کے لیے تڑپی ، ہتھیلی ہٹانے کے لیے اس کے ہاتھ کی پشت پر ناخن مارے۔
عاہن نے گرفت مضبوط رکھی۔
دونوں آنکھوں کو چھو کر اس نے مکمل مشل علوی کو زیر کردیا تھا۔
چند پل وہ ان خوبصورتی ماورائی نقوش میں کھویا رہا۔جبکہ وہ گلابی پڑتی بمشکل اپنے تاثرات چھپا پارہی تھی۔
“تم حسین ہو۔اور تم اپنے حسن سے عاہن کو بہکارہی ہو۔تم ایسے کیوں کررہی ہو۔عاہن کو کوئی زیر نہیں کرسکتا۔تم ایسا نہیں کرسکتی۔ میں تم سے تھوڑی سی بھی محبت نہیں کرسکتا مشل علوی۔۔”
خواب گو سی کیفیت دونوں پر طاری تھی۔
عاہن کے نرمی بھرے لمس چند پل کی قربت نے مشل علوی کو دل شدت سے دھڑکایا تھا۔
آج عاہن علوی کی محبت کی چھوٹی سی جھلک اس دل میں ایک گہرا شگاف ڈال گئی تھی۔آج بچپن میں بدصورت لگنے والا چہرہ اسے سب سے خوبصورت سب سے پیارا لگ رہا تھا۔اس کے لفظ سماعتوں کو سکون الوہی سکون بخش رہے تھے۔
اس کے وجود کی تیز خوشبو مشل علوی کے دل کے تاروں میں بھی تازگی بھرے گنگنا رہی تھی۔
اس شخص کے ساتھ وہ ہمیشہ بدتمیزی دھتکار جیسا رویہ اختیار کرتی آئی تھی۔ اس کی شکل سے نفرت کرتی آئی تھی۔لیکن مقابل نے اسے دھتکارنے کے بجائے سینے سے ہی لگایا تھا۔
اور آج تو اس نے اپنے ہر عمل سے مشل کو کچھ حد تک عاہن سے محبت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔
اس پاکیزہ بندھن نے آج دو دلوں کا بھرم رکھا تھا۔
جاری ہے۔
