Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“ماہ تاب کیا کررہی ہو؟”
مشل علوی کو خلافِ توقع اپنے روم میں دیکھ کر ماہ تاب کی حیرت بجا تھی،۔
حیرت و الم میں گھری وہ مشل علوی کو دیکھ رہی تھی، جو گھریلو حلیے میں سنہری بالوں کو کیچر میں جکڑے، ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس تھی،۔
کیا ہوا تمہارا چہرہ اتنا سرخ کیوں ہورہا ہے؟” اس کا متورم چہرہ دیکھتی مشل بھی چونکی ،۔
“کک کچھ نہیں بس طبعیت ٹھیک نہیں ہے، تم بتاؤ کچھ کام تھا؟” وہ بیڈ پر دراز، چہرے پر ہاتھ پھیر کر سیدھی بیٹھی،۔گلاب بدن تپش زدہ تھا، سیاہ آنکھوں کے گوشے اب بھی ہلکے سے سوجن زدہ تھے،۔
“ہاں میں تمہارے ساتھ لاؤنج میں بیٹھنا چاہتی تھی”، مشل کے لفظ اس کے چہرے سے میچ نہیں کررہے تھے، ماہ تاب ٹھٹک کر رہ گئی،۔
شیور میں فریش ہوکر آتی ہوں،،
ہاں آجاؤ،، پھر بریک فاسٹ بھی اکٹھے کرلیں گے،،
خلافِ توقع وہ مان گئی تھی،،
ماہ تاب کسلمندی سے اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھی،۔
وہ فجر پڑھ کر سوئی تھی، رات بھر ہوئی بخار کی تپش نے اسے بےحال کردیا تھا،، لیکن وہ مشل کو بھی ٹالنا بھی نہیں چاہتی تھی،۔
سیاہ لباس بدل کر وہ سادہ چہرے کے ساتھ نیچے کی جانب بڑھی،۔
مشل لاؤنج میں ہی موجود تھی،۔
بوا کو اس نے کافی اور بوائل ایگ کا کہا تھا، مشل کا ناشتہ ، پورج اور گرین ٹی، پہلے ہی سنٹرل ٹیبل پر موجود تھا،۔
وہ سانس بحال کرتی کاؤچ پر دراز ہوئی،۔
مشل نے اس کا چہرہ دیکھ کر ٹی وی آن کیا تو ماہ تاب بھی خاموشی سے کاؤچ کی بیک سے ٹیک لگاکر آنکھیں موند گئی،،۔
بخار نے مکمل نقاہت طاری کردی تھی، لیکن وہ محض مشل کے کہنے پر یہاں موجود تھی،۔
“تم نے کہا تھا کہ میرا نکاح ہوچکا ہے”،۔
مشل کی مدھم پراسرار سی آواز گونجی تو ماہ تاب سیدھی ہوئی،۔
چہرے پر گھبراہٹ نمودار ہوئی،۔
گھبراؤ نہیں آرام سے جواب دو،، شارف آج مصروف ہیں،،
مشل کی غیر متوقع بات پر وہ حیرت سے کنگ ہوئی،۔
ہاں ،، جب تم پانچ سال کی تھی، اور عاہن آٹھ سال کا تھا، بابا نے تمہارا نکاح کردیا تھا،، دادا چاہتے تھے کہ بابا اور چچا اپنا رشتہ مزید مضبوط کرلیں،،اسی لیے بابا نے حامی بھری تھی،،
مام نے مجھے یہ بات کیوں نہیں بتائی؟”، وہ اب بھی چینل سرچنگ میں مصروف تھی،،
“کیونکہ مام تمہیں کبھی اس شخص کے ساتھ رخصت نہیں کرنا چاہتی تھیں،”
“رخصت تو میں اب بھی نہیں ہونا چاہتی۔”مشل کے سپاٹ لـفظوں نے ماہ تاب کو ساکت کیا،،۔پھیلی آنکھوں سے وہ مشل کا سرد سا چہرہ دیکھ رہی تھی،۔
چھ سالوں میں یہ پہلی بار تھا جب وہ اس کے ساتھ گفتگو کی نشست جما کر بیٹھی ، چھ سال پہلے جب وہ بیمار پژمژدہ سی ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹی تھی،، مشل علوی تب بھی غم بانٹنے نہیں آئی تھی، لیکن آج وہ اس کے ساتھ بیٹھی تھی، گفتگو کا موضوع بھی آج شاید اسی کی ذات تھی، تبھی یہ کایاپلٹ ہوئی تھی،،
“مم مشل پلیز!! کچھ ایسا ویسا مت کرنا،، پلیز۔”
وہ نقاہت کے باوجود دلبرداشتہ سا بولی، مشل نے کاٹ دار نظر اس پر ڈالی، اور دوبارہ ٹی وی پر نظر جمائی،،
“وٹ ایور!!! آئی ڈونٹ لائک ہم ،، تو میں کیسے اس کے ساتھ نکاح میں بندھی رہوں،، اور سب سے حیرت والی بات مام ڈیڈ نے کبھی ذکر نہیں کیا،؟ تو میں کیسے مان لوں کہ میں اس شخص کے نکاح میں ہوں،، کوئی پیپرز کوئی ثبوت ہے ؟”
ماہ تاب گردن جھکائے انگلیاں مسلتی تلخ سا مسکرائی،،۔
“میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، لیکن میں اتنا ضرور کہوں گی کہ میں لاکھ بری سہی،، لاکھ جھوٹی سہی،، لیکن میں نکاح کے معاملے میں جھوٹ نہیں بول سکتی،، تم بے شک مجھ سے نفرت کرو،، لیکن میں تم سے آج بھی محبت کرتی ہوں،،کیونکہ اس گھر میں واحد رشتہ جو مخلص ہے وہ شاید تمہارا ہے۔”
مشل کا ہاتھ ساکت رہ گیا،، تعجب سے اس نے ماہ تاب کا چہرہ دیکھا،، جس پر واضح سچائی کی روشنی مشل کو محسوس ہورہی تھی،،۔
“جانتی ہو اللہ نے مجھے ایک ہنر دیا تھا،، شاید میری زبان کے بدلے مجھے یہ نعمت عطا کی گئی، کہ میں چہرے پڑھ لینے کا ہنر رکھتی تھی،، شاید اب بھی رکھتی ہوں،، لیکن اب میں اس ہنر کو کبھی استعمال نہیں کرنا چاہتی،، کیونکہ یہاں سب چہرے سیاہ ہیں سب فریب میں لپٹے ہیں،، پھر ایک جیسے چہرے پڑھ کر کیا حاصل ہوگا،، لیکن مشل میں نے تمہارا چہرہ پڑھ لیا تھا،،میں بہت پہلے جان چکی تھی،، کہ تم کم ازکم مجھ سے نفرت نہیں کرتی، تم اس سب کا حصہ کبھی نہیں بن سکتی،کیونکہ تمہاری منزل یہ ہے ہی نہیں، تمہیں تو آسمان کو چھونا ہے، اور آسمان کو چھونے والے گندگی میں قدم ہرگز نہیں رکھتے،،تم پاک ہو، تمہیں پاکیزگی کی منزل پالینی ہے۔”
آج چھ سال بعد اس لڑکی کو ماہ تاب سے خوف محسوس ہوا تھا، چھ سال بعد مشل علوی کو اپنا رواں رواں سن محسوس ہوا،
” شٹ اپ!!! میں کیا ہوں کیا نہیں ، تم کیسے جان سکتی ہوجھوٹ مت بولو،”
وہ کانپ کر بولتی ماہ تاب کو مسکراہٹ دے گئی،۔
“اگر اتنے ہی چہرے پڑھنے کا ہنر رکھتی ہو تو اپنا پڑھ لو، شاید تمہیں اپنی ناشکری کا احساس ہوجائے۔”
“میری بات فلحال چھوڑ دو مشل!! خود کو بچالو، خدارا عاہن کو تلاش کر لو، “
“شٹ اپ!! فضول مت بولو،، مجھے عاہن نامی اس شخص میں کوئی دلچسپی نہیں ، مجھے اب بھی یاد ہے وہ مجھے کیسے مارتا تھا، میرے بال کھینچ کر مجھے نیچے گرادیتا تھا۔
میں اس دنیا میں سب سے زیادہ نفرت تمہارے بعد اس سے کرتی ہوں۔”
ماہ تاب سن بیٹھی اس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی،،
ماہ تاب نے مشل کا چہرہ غور سے دیکھا، وہ ہلکی سی آنکھیں سکوڑ کر اس کا گلابی چہرہ دیکھنے لگی،،۔
“مشل تم جھوٹ بول رہی ہو” کئی ساعت بعد وہ تلخ سا مسکرائی،،۔مشل نے تعجب سے ابرو اٹھائی،۔
ہونٹ سکوڑے نتھنے پھلائے اس نے ماہ تاب کی سیاہ آنکھوں کو گھورا،، جو اس پر ہی جمی تھیں،،جو سیاہ ہوکر بھی چمک سی رہی تھیں، جیسے ان آنکھوں میں نمی موتی بن گئے ہوں ،،
مشل نے رخ موڑ کر اپنی توجہ ٹی وی کی جانب کی،، یکلخت وہ چونکی تھی،،۔
یقینی طور پر وہ چونک ہی تو گئی تھی،،
اتنی جلدی کیسے اور کیونکر ممکن ہوگیا تھا،،۔
عاہن!! ۔۔۔۔۔”اس نے آنکھیں پھاڑ کر ٹی وی کو گھورا۔
یہ کک کیسے؟؟” مشل کی بڑبڑاہٹ پر ماہ تاب نے بھی سامنے سکرین کودیکھا،،
سیاہ نین حیرت کی اماجگاہ بن گئے،،
عا،، عاہن علوی،، سکرین پر اپنی شاندار شخصیت کے ساتھ موجود تھا،،
وہی نقوش تھے، وہی سیاہ چمکدار براؤن تاروں والے ریشمی بال تھے،،۔ہاں رنگت تھوڑی سی نکھر گئی تھی، وہ خوبرو بھی لگ رہا تھا،،
مشل کاؤچ سے اٹھ کر سکرین کے بالکل قریب آگئی تھی،۔ جبکہ ماہ تاب ہنوز سکرین پر نظر جمائے ساکت بیٹھی رہی ،، کیا دعائیں مستجاب ہوگئی تھیں؟؟ اتنی جلدی قبولیت کی سند پاگئی تھیں۔
مشل نے پلکیں جھپک کر اس منظر کو جھٹلانا چاہا، لیکن وہ منظر تو سچ میں سکرین پر نمودار تھا،۔
بڑی سی سکرین پر اس کا کلوز سین دکھایا جارہا تھا،،
مشل کا سر نفی میں ہلا، جبکہ ماہ تاب علوی کے ہاتھ دعائیہ صورت میں اٹھ گئے،،
پلکوں کی باڑھ سے آنسو گال پر بہنے لگے،،
بخار نقاہت جیسے سب اڑنچھو ہوتی چلی گئی، چھ سال، چھ سال بعد ہی تو کوئی راہ ہاتھ آئی تھی،، یعنی سفر کا آغاز پھر سے ہونے والا تھا،۔
شبِ یقین کی پہلی کڑی مشل علوی کی جانب بڑھ رہی تھی،۔


“پاپا شارف مان نہیں رہے، مجھے ایکٹنگ کرنی ہے تو بس کرنی ہے۔۔”
منہ پھلا کر اس نے ایک نظر شارف کو دیکھا جو سربراہی کرسی پر براجمان مٹھی لبوں پر رکھے لیپ ٹاپ کی سکرین کو گھور رہے تھے،۔
پچھلے دو دن سے وہ انہیں منارہی تھی۔لیکن آج وہ تھک ہار کر باپ کو کال کرچکی تھی۔
“جانے دو یار!! میری گڑیا کا خواب ہے تو جانے دو اسے۔”
زوار علوی کی سفارش پر اس نے شارف کو دیکھا،۔
جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
“ٹھیک ہے یہ جانا چاہتی ہے تو جائے لیکن اسد اس کے ساتھ جائے گا، ناجانے وہاں کیسا ماحول ہو؟”
شارف کی پریشانی پر مشل محض مسکرا کر رہ گئی،۔
شارف !!” آپ ٹینشن نہ لیں وہاں سب اچھا ہوگا، کیونکہ میری ویڈیوز کی دھوم اب میڈیا تک بھی ہونے لگی ہے”۔
مصنوعی کالر اچکاتی وہ فراخ دلی سے چئیر پر براجمان ہوئی، گلابی گال معصومیت سے تمتمائے تھے،
اس کا قابلِ دید اطمینان ناجانے کیوں شارف کو الگ سی بے چینی دے رہا تھا،۔
تھینکیو پاپا!!! پاپا کو بائے بول کر وہ دوبارہ شارف کی جانب متوجہ ہوئی،۔
ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں ؟” وہ سیدھے ہوتے کہنیاں ٹیبل پر ٹکا گئے تھے،۔
“جی پوچھیں !! آپ کب سے اجازت لینے لگے؟” وہ اب بھی مسکرارہی تھی، سبز آنکھوں میں چمکتے نوخیز خوابوں کے جگنو جیسے شارف کو بھی جھٹلادینا چاہتے تھے،۔
یہ ایکٹنگ کا خیال کس نے دماغ میں ڈالا ہے؟”
ان کے سوال پر ایک سایہ چہرے پر نمودار ہوا، لیکن چند پل کے لیے،۔
“مشل علوی کے شوق آپ جانتے ہیں شارف۔۔”
وہ آنکھیں چھوٹی کیے شرارت سے بولتی شارف کو شاید دھوکہ دینا چاہتی تھی،۔
“وکے ایسا ہی ہو، اگر یہ فتنہ خیز خیالات کسی اور کا مرہونِ منت ہوا توانجام کے لیے تیار رہیے گا،۔کل شام کی ٹکٹ ہے کراچی کی، اور میں بھی ماہ تاب کے ساتھ کچھ دنوں میں ایک کانٹریکٹ کے سلسلے میں جارہا ہوں، ہوپ سو تب تک آپ کو کسی ڈرامہ میں ایز آ ہیروئن رول مل جائے،”
قدرے مسکرا کر انہوں نے مشل کو دیکھا جو مسکراتی ہوئی کافی خوش نظر آرہی تھی،
شارف نے فون کان سے لگاکر ایک نظر مشل علوی کو دیکھ کر نفی میں سرہلایا تھا،،۔
❤❤❤❤
مشل کے جانے کی خبر سنتی وہ تلخ سا مسکرادی تھی۔لیکن ایک اطمینان بھی تھاکہ وہ اپنے اصل کی جانب گئی ہے۔اور اللہ چاہے تو کیا نہیں ہوسکتا۔
معیز کو اس نے حیرت سے دیکھا۔
خلافِ توقع وہ کئی دن بعد آج ماہ تاب کی جانب آیا تھا،۔
وہ آج لاؤنج میں ہی براجمان تھی،۔ملگجا سا حلیہ سنہری بال میسی بن میں بندھے تھے، جبکہ تن پر سجی شرٹ ٹراؤزر بھی کافی ملگجی سی تھی،۔
معیز کی آنکھیں جیسے ندامت سے جھک سی گئیں۔
اس کا بے نور سا چہرہ جتلا رہا تھا کہ شارف علوی نے ماہ تاب کی روح پر وار کیا ہے،۔
کیسی ہو؟” وہ اپنے دونوں ہاتھ جکڑتا صوفے پر دراز ہوا،
ماہ تاب نے غیر یقینی سے اسے دیکھا،
احد نہیں آیا؟” ماہ تاب نے پہلے ہی سوال کی نفی کی تھی۔
بخار ہے اسے”۔ مختصر جواب میں ہی ماہ تاب بے چین ہوئی۔
“کہاں ہے وہ کیوں نہیں لائے اسے جانتے ہو وہ ٹھیک نہیں پھر بھی تم نہیں لائے ۔وہ میرے بغیر نہیں رہتا”
اپنی جگہ سے اٹھتی وہ بے قراری کے سنگ بولتی معیز رؤف کو بھی بے چین کرگئی۔
ریلکس ماہ تاب!! “میں لایا ہوں میں گاڑی میں لیٹاہوا ہے دراصل آج میری امپورٹنٹ میٹنگ تھی۔پر تم سے ملنا بھی ضروری تھا۔”
بوا ماں !!! “احد کو گاڑی سے لے کر آئیں۔”
معیز کو نظرانداز کرکے اس نے بوا ماں کو پکارا۔
معیز کو اس کی بےرخی واضح چبھی تھی۔لیکن قصور تو اس کا بھی تھا۔
“تمہارے بابا رخصتی چاہتے ہیں”۔وہ جھٹ سے بولا تو ماہ تاب ساکـت ہوئی۔
“میں رخصتی نہیں چاہتی۔میں اب پوری طرح شارف کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں”۔
اس کی غیر متوقع بات پر معیز ٹھٹک گیا۔
“واٹ؟؟ کیا کہہ رہی ہو تم؟ ہوش میں ہو؟ “”
معیز بازو جکڑ کر غرایا۔ماہ تاب نے فوراً بازو آزاد کروا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا۔
معیز کو سیاہ آنکھیں کچھ غیر شناسائی سی لگی۔
لیکن ماہ تاب کے ہلتے لب کچھ اور ہی داستاں سنارہے تھے۔
وہ سمجھ تو نہیں پایا لیکن کچھ تھا کہ وہ خاموش ہوگیا تھا۔
چند ثانیے وہ لب بھینچے کھڑا رہا۔
“میں اپنی مرضی کی مالک ہوں جو میرا دل کرے گا وہ کروں گی”۔
وہ اٹل انداز میں گفت و شنید کرتی معیز کا پارہ ہائی کررہی تھی۔
“میری اجازت کے بغیر اگر تم نے کسی غلط راہ پر قدم بھی رکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”۔
وہ اسے دھمکاتا وہ جھٹکے سے باہر نکلا تھا۔
تلخ سا مسکراتی وہ واپس کاؤچ پر آکر بیٹھی تھی۔
❤❤❤❤❤
شارف ابدال کو ان دونوں میں ہوئی گفتگو حیران کررہی تھی۔
پہلے مشل اور اب یہ ماہ تاب آخر کہاں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔
پرسوچ سا وہ آفس میں موجود تھا۔
کچھ مسنگ ہے، وہ ماتھے پر ہاتھ سے ٹھوکر مارتا اب بھی سوچ رہا تھا۔
سوچوں کے تانے بانے میں الجھے اس نے دوسری بوتل کا ڈھکن کھولا۔
نشہ تھا کہ خمارپن بڑھارہا تھا۔ فلحال وہ پرسکون ہونا چاہتا تھا۔
شینل کو بھیجو۔۔ سائیڈ سے فون اٹھا کر اس نے مینجر کو کال کی
کچھ دیر بعد ایک طرحدار سی لڑکی چست سلور ٹاپ اور تنگ بلیک منی سکرٹ پہنے ریشمی بال کمر پر بکھرائے کمرے میں داخل ہوئی۔
اس کا خوبرو چہرہ دیکھتے وہ پرسکون ہوئے تھے۔
وہ مسکراتی ہوئی شارف کی بانہوں کا ہار بنی۔
شارف کمر میں بازو حائل کیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
بنا کچھ بولے وہ سپاٹ انداز سے کمر جکڑے لفٹ کی جانب بڑھے۔
ساتویں منزل میں لفٹ رکی تو وہاں ایک دروازہ تھا۔
اپنے انگوٹھے کا کوڈ ڈال کر انہوں نے دروازہ کھولا۔
وہاں کا منظر ہی کسی اور جہاں کا تھا۔جیسے کسی ویران بنجر زمین سے کسی سرسبز وادی میں قدم رکھ دیاہو۔
چاروں طرف بنے کمروں کے منقش دروازے اس وقت بند تھے۔
سلور بلیک کامبینشن کا یہ پورشن ایک ڈارک روم کا منظر پیش کررہا تھا۔
اس پورشن کو ڈارک ورلڈ کہنا زیادہ بہتر تھا۔
لاؤنج میں سجے قیمیتی صوفے زمین پر سجے کشن دیوار پر ایستادہ سلور سکرین غرض وہاں ہر چیز نرالی تھی ۔ وہاں کی سب سے خوبصورت چیز آئینے تھے۔پورے لاؤنج کی خالی دیواروں کی جگہ آئینے تھے۔ایک جانب چھوٹا سا بار بنایا گیا تھا۔شیشوں کے کیبن میں رکھی برانڈڈ شراب کی بوتلیں ایک ترتیب سے سجی تھیں۔یہ محض لاؤنج کا منظر تھا۔
جبکہ
الگ الگ کمروں میں قیمتی فرنیچر کے ساتھ ہر سہولت فراہم کی گئی تھی۔
یہ تھا شارف علوی کا مین بزنس۔ کھلے عام بے راہ روی۔کھلے عام زناکاری کھلے عام نجس کام یہاں انجام دئیے جاتے تھے۔
یہ پورشن ایک طرح سے باہر ممالک کے قیمتی ڈارک رومز کی مانند تھا۔جہاں حرام فعل بڑی دیدہ دلیری سے کیا جاتا تھا۔اور فلمایا جاتا تھا۔
شارف علوی نے یہاں ہم جنس پرستی کا ایسا اڈہ کھولا تھا کہ کہیں بھی اس کا سراغ نہیں مل سکتا تھا۔
یہاں ہر طرح کی آزادی انہیں فراہم کی جاتی تھی۔
ٹاپ ماڈلز کی پرائیوٹ شوٹ یہیں ہوتے تھے۔
آر جیکٹس اینڈ کوٹس کی ساتویں منزل باہر کی دنیا کے لیے محض ایک بند دروازے کی طرح تھی جس کا منظر کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔
شینل نے مسکرا کر شارف کو دیکھا جو اب کچھ حد تک پرسکون تھے۔
شینل نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
شینل کو کاؤچ پر بٹھاتے وہ اس کے وجود میں مکمل طور پر گم ہوچکے تھے۔


کراچی کے ائیرپورٹ پر کھڑے ہوکر اس نے دونوں بانہیں پھیلائی۔
“ویلکم کرو عاہن علوی!! تم سے چھٹکارا پانے میں آ پہنچی ہوں۔”
لبوں کو سرسراتی وہ سبز چمکتی آنکھوں سے باہر کامنظر دیکھ رہی تھی۔
شارف نے اس کے لیے یہاں فلیٹ بک کروایا تھا۔
باہر ڈرائیور موجود تھا۔اپنے نام کی نیم پلیٹ دیکھ کر وہ ڈرائیور کی جانب بڑھی۔
بیک سیٹ سے ٹیک لگا کر بوجھل سانس ہوا کے سپرد کی۔اسد کو اس نے بہت مشکل سے روکا تھا۔
یہ اس کی جنگ تھی اسے اکیلی لڑنی تھی اسے اس بے نام انجان رشتے سے آزادی چاہیے تھی۔
کراچی کی سڑکیں دیکھتی وہ مکمل باہر کے مناظر میں گم رہی۔
کتنے ہی زخم کتنی ہی تلخ یادیں پردہ کے سکرین پر ابھرنے لگی۔سب بری یادوں میں وہ سانولا سا عاہن علوی موجود تھا۔
یہاں آنے تک وہ اس کی سب انفارمیشن نکال چکی تھی۔اسے حیرت ہوئی تھی کہ وہ کئی ڈراموں میں مین لیڈ رول کرچکا تھا۔پر وہ اس کی نگاہ سے اوجھل تھا۔کیا اس میں بھی کوئی مصلحت تھی۔
یاپھر وہ دنیا سے اتنی بےخبر اپنی زندگی جی رہی تھی؟۔
اب محض اس کی لوکیشن سرچ کرنی تھی۔باقی معلومات وہ ایک ایجنٹ کے ذریعے حاصل کرچکی تھی۔
وہ یہاں آئی تھی تو اس کے دو ارادے تھے ایک اسے مشہور ایکٹرس بننا تھا دوسرا اسے عاہن سے آزادی حاصل کرنی تھی۔
اس نے اپنی سوچ سے ماہ تاب کو بھی اگاہ نہیں کیا تھا۔شبنم بیگم کو بھی اس نے سرسری سا بتایا تھا۔
وہ شارف ابدال کو یہ حقیقت بتادیتی لیکن وہ خود اس شخص سے اپنی تکلیفات کا بدلہ چاہتی تھی۔اور بعد میں انہیں بتانا چاہتی تھی۔
گاڑی ایک بلڈنگ کے سامنے رکی تو وہ خواب سے حقیقت کی دنیا میں لوٹی۔
“میڈم یہ آپ کے فلیٹ کی چابی میں ہر وقت نیچے موجود رہوں گا آپ کو جہاں جانا ہو آپ مجھے کہہ دینا”۔
ڈرائیور کی بات پر اس نے سر اثبات میں ہلایا۔گاڑی سے اتر کر وہ سب سوچوں کو دھکیلتی لفٹ کی جانب بڑھی تھی۔
❤❤❤❤❤
ماہ تاب کے بے باک فیصلے پر معیز اب تک حیرت زدہ تھا۔احد کو کھانا کھلاتا ناجانے کہاں سے عبیحہ مراد کا چکمتا عکس آنکھوں میں لہرایا۔اس نے بھی تو دیدہ دلیری سے اپنے فیصلے کیے تھے اور پھر بدبختی نے اسے ایسا نوچا تھا کہ وہ شکل دکھانے کے قابل نہیں رہی تھی۔
ناجانے وہ بدبخت کہاں تھی جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی اجاڑی تھی۔
وہ احد کو دیکھتا جیسے آج ماضی کی تلخ یادوں میں کھویا تھا جب عبیحہ مراد اس بچے کے کمبل پر ایک نوٹ چسپاں کیے ناجانے کن راہوں کی باسی بن گئی تھی۔
ان چھ سالوں نے معیز رؤف کو جیسے کئی اندیکھی زنجیروں میں جکڑا تھا۔
جو خواب وہ چھوٹی عمر سے دیکھتا آیا۔وہ کانچ کی طرح ایسا ٹوتا تھا کہ اب بھی کئی کرچیاں بدن میں پیوست تھیں۔
شارف ابدال صرف ماہ تاب کا مجرم نہیں تھا وہ شخص تو ہر اس انسان کا مجرم تھا جس نے اسے پیار دیا تھا بھروسہ دیا تھا۔
بابا ماما کب آئیں گی؟”۔
“جلد آئیں گی بابا کی لگن سچی ہے وہ عبیحہ مراد کو ڈھونڈ لے گے۔۔”بے خیالی میں بولتا وہ احد کو بھی چونکا گیا۔
عبیحہ کون پاپا؟” احد کے سوال پر وہ ٹھٹک گیا۔
پیشانی مسل کر اس نے سانسوں کا تاثر حبس زدہ فضا کو سپرد کیا۔
“کوئی نہیں بیٹا۔بابا آپ کو آج پلے لینڈ لے کر چلیں گے”۔
نرمی سے گال چوم کر اس نے ایک اور نوالہ اس کے منہ کی جانب بڑھایا تھا۔
❤❤❤❤❤❤❤
صبح اس کی آنکھ دس بجے کھلی۔
ایجنٹ کا میسج موبائل پر آچکا تھا۔اس میں عاہن علوی کا پورا بائیو ڈیٹا تھا۔
یہ کام ایجنٹ کے لیے مشکل تو تھالیکن مشل نے اس کا منہ پیسوں سے بھر کر ہی یہ انفارمیشن نکالی تھی۔
بدر علوی ہاؤس کا ایڈریس نوٹ کرتی وہ فریش ہونے بڑھ گئی۔
سیاہ سلیولیس لونگ فراک پہنے کانوں میں آویزے ڈال کر اس نے تازہ ڈائی شدہ بالوں کو کمر پر جھٹک دیا۔
“ویٹ کرو عاہن علوی میں آرہی ہوں تمہارے پاس، کچھ حساب لینے کچھ حساب چکانے۔مشل علوی سے نکاح کی سزا تو تمہیں ملنی ہی چاہیے۔”
لبوں پر تیز اناری رنگ بکھیرتی وہ اپنی تیاری کو تنقیدی نگاہوں سے دیکھتی آئینے سے ہٹی۔
وہ ہر ہتھیار آزما کر عاہن علوی سے سامنا چاہتی تھی۔اسے جتانا چاہتی تھی کہ وہ اس رشتے کو ختم کرنے کے لیے کتنی ایکسائیٹڈ ہے۔
وہ آج اس شخص کے چہرے پر اڑتی رنگت دیکھنا چاہتی تھی۔اسے وہ منظر یاد آیا جب وہ سکرین پر ایکٹنگ کرتا دلفریبی سے مسکرا رہا تھا۔
اس کے سمٹے بال اس کی مسکراہٹ کتنی مکمل تھی۔جو مشل علوی کو بے چین کرگئی تھی۔
باریک سا ڈوپٹہ خلاف توقع اس نے شانے پر ٹکادیا۔
بلیک ہینڈ بیگ تھام کر وہ فلیٹ لاک کرکے نیچے کی طرف بڑھی تھی۔


“صد شکر ہے آج عاہن بھیا جلدی چلے گئے”۔
اجو بھیا کی شکرگزاری پر سدرہ مسکرا کر رہ گئی۔
اجو اور عاہن میں ناجانے کیوں خدا واسطے کا بیر تھا۔دونوں ساتھ نظر بھی آتے تھے۔اور دشمنوں کی طرح لڑتے بھی تھے۔
واچ مین کی آواز لاؤنج میں ابھری تو سدرہ بیگم حیران ہوئی۔
“اجو زرا دیکھو یہ واچ مین کیوں بول رہا ہے؟”۔انہوں نے اجو کو کہا جو بھرے ہاتھوں سے شلیف سمیٹ رہا تھا۔
“رکو میں خود دیکھتی ہوں”۔
وہ کباب پلیٹ میں رکھتی باہر کی طرف بڑھی۔
ہلکے گلابی شلوار سوٹ میں ڈوپـٹہ سر پر ٹکا کر وہ باہر آئی۔
کیا ہوا کون آیا ہے؟”
بدرعلوی کو دیکھ کر انہوں نے واچ مین سے پوچھا۔
“میم باہر ایک لڑکی آئی ہیں کہہ رہی ہیں عاہن علوی سے ملنا ہے۔”
انہوں نے بدر علوی کو دیکھا جنہوں نے تاسف سے سرہلادیا۔
یہ روز کا معاملہ تھا۔اس گھر کا سب سے بڑا ٹھرکی سب کا سردرد سب کو اپنے کاموں سے زچ کرنے والا واحد عاہن علوی تھا۔جو روز کوئی نہ کوئی لڑکی اٹھا کر گھر بھیج دیتا تھا۔
بقول اس کے اسے شادی کرنی تھی۔لیکن پسند بھی ماں کو کروانی تھی۔
بلا کر لاؤ دیکھو کون ہے۔؟”
واچ مین کو جانے کا کہہ کر انہوں نے کمرے کی طرف نظر دوڑائی جہاں سعادت علوی آرام فرمارہے تھے۔
“ابو جی دعا کیجیے گا بس سعادت باہر نہ آئیں ورنہ معاملہ بگڑ جائے گا۔”
“پریشان نہ ہو وہ آرام کررہا ہے نہیں آئے گا باہر،”۔
ان کی حوصلہ افزائی پر سرہلاکر انہوں لاؤنج کے دروازے کی طرف دیکھا تو نظر نے وہاں سے ہٹنے سے انکار کردیا۔
فضا ساکت ہوئی تھی جبکہ بدر علوی صاحب اپنی طبعیت کے باوجود کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
سدرہ بیگم کی آنکھوں میں ماضی کی کرچیاں ابھرتی چھبن پیدا کرنے لگی۔
وہ بے ساختہ آگے بڑھی۔کئی تلخ باتیں کئی بدنما حادثے آنکھوں میں رونما ہوتے مدغم بھی ہونے لگے۔لیکن وہ رکی نہیں وہ مشل علوی کے روبرو جاکر کھڑی ہوگئی جس کے چہرے پر بیزاری تھی۔جیسے وہ یہاں آنا نہ چاہتی ہو، لیکن سبز بھنورا آنکھوں میں ستائش بھی تھی۔
انہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سامنے کیا۔وہ مشل کے چہرے کو چھونے کے لیے ہمت مجتمع کرنے لگی۔
مشل نے تعجب سے انہیں دیکھا۔اور پیچھے بدر علوی کو دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی۔
وہ اس کے دادا تھے جن کی گود میں بیٹھ کر وہ دنیابھر کی باتیں کیا کرتی تھی۔
سامنے چچی تھیں جن کے گلے میں لٹک کر وہ ننھی ننھی فرمائشیں پوری کرواتی تھی۔لیکن وہ لمحے چند پل بھر لیے تھے۔پھر وقت بدل گیا تھا۔وہ رشتوں سے دور ہوگئی تھی۔اور پھر اس گھر سے دور ہوئی تو وہ سب بھول گئی۔
لیکن آج بدر علوی کو دیکھ کر دل چاہا وہ ان کی نرم شفقت بھری چھاؤں میں جا کر ان کے سینے سے جالگے۔
مشل ہوناں”۔ انہوں نے تصدیق چاہی تو وہ چہرے پر سپاٹ پن لاتی اثبات میں سرہلاگئی۔
انہوں نے بے ساختہ مشل کو سینے سے لگایا تو وہ ٹھٹھکی دھڑکن بڑھ گئی جبکہ مساموں سے پسینہ پھوٹ پڑا ۔
اسے لگا تھا وہاں اس کا استقبال نفرت آمیزی سے کیا جائے گا۔اس سے وجہ پوچھی جائے گی اور وہ نفرت سے اپنے آنے کی وجہ بتائے گی ۔پھر رشتہ ختم ہونے کی بات کرے گی۔لیکن یہاں تو سب الٹ تھا۔اس کی چچی اسے سینے سے لگائے کھڑی تھی۔
“مجھے میرے اللہ پر یقین تھا اللہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کرے گا کہ میرے عاہن کی اصلی حقدار اس در تک ضرور آئے گی۔
میری دعائیں رنگ لے آئی۔ابو جی دیکھیں ناں مشل آگئی میری بیٹی آگئی”۔
اس کی پیشانی چومتی وہ فرطِ جذبات سے بولی تو مشل علوی کو لگا اس کا دل سن ہوگیا ہے۔
بنا کسی غرض کے بنا کسی نفرت کے وہ اسے تھامتی اندر لائی۔وہ بےجان مورت بنتی شاندار لاؤنج کے درمیان آکر کھڑی ہوئی۔
“بیٹھو میں تمہارے چچا کو بلاتی ہوں۔”اسے نفیس سے کاؤچ پر بٹھاتی وہ مڑی تھیں۔
“چچی رکیں۔مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا”۔
سدرہ بیگم دوبارہ مڑی۔
“بولو بیٹا۔ارے میں بھی کتنی بھلکڑ ہوں تم سے کھانے وغیرہ کا پوچھا ہی نہیں۔کیا پیو گی؟ رکو میں جوس منگواتی ہوں”۔
مشل نے متعجب ہوکر انہیں دیکھا۔وہ کتنی نرم دل تھیں۔
کیا وہ جس کام کے لیے یہاں آئی تھی وہ یہ کام کرلیتی۔؟ لیکن اسے کرنا تھا۔وہ اس طوق کو گلے میں لٹکا کر نہیں پھر سکتی تھی۔
“چچی پلیز رکیں۔ یہ کچھ پیپر ہیں۔میں یہاں کھانے پینے نہیں آئی ایک کام تھا جو انجام دینا تھا۔دیر ہوگئی لیکن یہ کام سرانجام دینا بھی ضروری ہے”۔
وہ بیگ کی جانب جھکتے ملسلسل بولتی انہیں حواس باختہ کررہی تھی۔۔انہوں نے بدر علوی کو دیکھا جو کچھ پریشان تھے۔
اس نے پیپر نکال کر ان کے ہاتھ پر رکھ دئیے۔
“یہ خلع کے پیپرز ہیں میں انجان تھی کہ میری قسمت کا فیصلہ میری نادانی میں کردیا گیا۔لیکن یہ بھی ضروری تھا۔کیونکہ میرے اور آپ کے بیٹے کے راستے جدا تھے جدا ہیں جدا ہی رہیں گے”۔
وہ نرم تاثرات چہرے پر سجائے مکمل مطمئن تھی لیکن اندر چلتی جنگ گواہ تھی کہ یہ پیپر ان کے ہاتھ میں تھماتے کتنے دھماکے دل کی دنیا میں ادھم مچانے لگے ہیں۔
“یہ کیا ؟؟ ایسا کیسے؟ نہیں مشل بیٹا۔ایسے نہیں کرتے دیکھو آرام سے بات کریں گے۔ایسے جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرتے۔ابوجی آپ سمجھائیں ناں ۔ابھی تو آئی ہے عاہن سے تو مل لے۔پھر کوئی فیصلہ کریں گے۔
بھابھی زوار بھائی سے بات کریں گے۔”
مشل سے ضبط کرنا مشکل لگا۔خون کی کشش تھی یا پھر کئی عرصے بعد ہوئی ملاقات کی تشنگی۔وہ اپنی کیفیت سمجھ ہی نہیں پارہی تھی۔
سدرہ بیگم کا بوکھلایا انداز پشیمانی میں مبتلا کررہا تھا۔
چچی !!” میں نہیں جانتی دادا کو کیا بے اعتباری تھی جو میرا نکاح بنا میری عمر کا لحاظ کیے کروادیا گیا۔
اور ستم بالائے ستم !! نکاح تو چلو ٹھیک کروادیا تھا ۔مجھے اس حقیقت سے بھی کئی سال اوجھل رکھا گیا۔میں شکر گزار ہوں کہ ماہ تاب نے مجھے اس حقیقت سے روشناس کروادیا۔ورنہ گمراہی میں جیتی نا جانے کتنا عرصہ یہ طوق گلے میں باندھے رکھتی”۔
ماہ تاب۔۔۔” سرسراہٹ سی سدرہ بیگم کے لبوں سے نکلی۔ نازک سی سیاہ آنکھوں والی پری کا عکس آنکھوں میں چھم سے لہرایا۔
وہ کیسی ہے ؟” مشل کے ہاتھ تھامتی بےقراری سے وہ گویا ہوتی اسے پل پل آزمارہی تھی۔
“وہ ٹھیک ہے آپ یہ پیپر عاہن کو دے دیجیے گا۔
اسے کہے جلدی سائن کردے میں کراچی میں ہی ہوں۔براہِ مہربانی کوئی تماشہ نہیں کیجیے گا”۔
وہ بیزاری سجائے کھڑی تھی۔جبکہ سدرہ بیگم دلبرداشتہ سی اس کا موہنا چہرہ دیکھتی رہی۔سبز گہری آنکھوں میں اب بھی معصومیت تھی ۔انہیں وہ آج بھی تیرہ چودہ سال کی مشل علوی لگی تھی جو ان سے فرمائشیں کرتی نہیں تھکتی تھی۔
اجازت دیجیے چچی !! اللہ حافظ”
بیگ کندھے پر ڈال کر وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر دادا کے قریب آئی۔
ان کا ہاتھ زبردستی اٹھا کر چوما۔”آپ مجھے بہت عزیز ہیں دادا۔لیکن آپ نے میری زندگی کابھیانک فیصلہ کرکے اچھا نہیں کیاْ۔
ان کا ہاتھ اپنے سرپر پھیرتی وہ کندھے پر بیگ لٹکائے نکلتی چلی گئی۔ایک تمکنت تھی اس کی چال میں لیکن محض پچھلی جانب سے دیکھنے والا سمجھ رہا تھا کہ وہ اکڑ کر چل رہی ہے۔لیکن نرم گلابی گالوں پر بہتے آنسوؤں میں دل دکھانے کی اذیت چمک اٹھی تھی۔
مشل علوی لاکھ بری سہی لیکن وہ چند رشتوں میں بہت مخلص تھی۔ان چند رشتوں میں اس کے دادا اور چچی چچا ہر دم شامل رہے تھے۔


جاری ہے