Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

شاندار پرشکوہ عمارت کو اپنی براؤن آنکھوں سے دیکھتا وہ گاڑی سےباہر آیا تھا۔
گھنے براؤن بالوں کو ہاتھ سے سیٹ کیے وہ آگے بڑھا۔
بلیک چیک کوٹ کی شکنیں وہ چلتے ہوئے درست کرتا گیا۔
شارف صاحب کو ٹائم کا بتادیا تھاناں۔؟؟”
اپنے ساتھی سے تصدیق کرتے سیاہ شائن شوز میں مقید پاؤں آگے بڑھائے ۔گلاس ڈور کھلا دیکھ کر وہ اندر داخل ہوا۔
سائیڈ پر موجود گارڈ نے بھی شہرام علوی کو اشتیاق سےدیکھا۔
سس سر !! ایک منٹ پلیز رک جائیں،، گارڈ کی آواز پر وہ حیرت سے مڑا۔
شہرام کے اسسٹنٹ نے تعجب سے گارڈ کودیکھا۔آنکھوں میں تندہی ابھری دیکھ کر شہرام نے گلاسز اتار کر اسے تنبیہ کی۔
“سر میری بیٹی آپ کی بہت بڑی فین ہے۔میں معذرت خواہ ہوں کہ میں آپ کوروک کر آپ کا وقت ضائع کرچکا ہوں۔لیکن پلیز سر ایک سیلفی،، پلیز سر انکار مت کیجیے گا”۔
شہرام کئی ثانیے اسے دیکھتا رہا۔آنکھوں کے کونوں میں بہت سی کرچیاں سمٹ کر تھم سی گئی۔گلاسز درست کرتے وہ گارڈ کے برابر کھڑا ہوا تھا۔
سر !!” شارف صاحب ویٹ کررہے ہیں۔آپ کا ٹائم ویسٹ ہوگا۔” شہرام علوی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کو کہا اور گارڈ کی جانب متوجہ ہوا جو ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔
موبائل دیں اپنا!! شہرام نے ہتھیلی سامنے کی۔
بوکھلا کر گارڈ نے موبائل جیب سے نکال کر سامنے کیا۔
شہرام نے بے ساختہ کندھے کے گرد بازو حمائل کرکے دو تین پکس ایک ساتھ لی ،گارڈ کے چہرے پر حیرانگی مکمل طور پر سمٹ آئی تھی۔اندازہ نہیں تھا کہ وہ مشہور ماڈل ایسے اس کو اپنے برابر کھڑا کرے گا۔
اس کے وجود سی اٹھتی مہک نے بتایا تھا کہ وہ شخص کتنی اونچی مسند پر براجمان ہے۔
سب انسان برابر ہیں ،، یہ اونچی نیچی حیثیت ہم نے متعین کی ہے۔اپنی بیٹی کو میرا سلام کہیے گا۔
ایک جانب ہونٹ پھیلائے میٹھی سی مسکراہٹ کے سنگ اس نے سلام اس شخص کے حوالے کرکے شاید مزید حیرانگی میں دھکیلا تھا۔
گارڈ نے سلیوٹ نما انداز میں اسے سلام کیا۔جواباً وہ کندھا تھپتپائے آگے بڑھتا چلا گیا۔
اس کی مہک میں گارڈ کو اوصاف کی مہک برملا محسوس ہوئی تھی۔
❤❤❤❤❤❤
آئندہ کوئی شخص اگر براہ راست مجھ سے مخاطب ہوتو کوشش کرنا کہ اپنی زبان بندرکھو۔
مت بھولو اس نے میرے لیے دروازہ کھولا تھا۔اگر وہ دروازہ نہ کھولتا تو شاید یہ زحمت میرے ہاتھوں ہوتی۔
جی سر میں سمجھ گیا۔۔ “
مقابل نے محض سر جھکا کر سامنے موجود دروازہ ناک کیا۔
گھڑی دیکھتا وہ راہداری میں سجے کمروں کے دروازوں پر بھی گاہے بگاہے نظر ڈال رہا تھا۔
کچھ دیر بعد دروازہ وا ہوا۔
نیوی بلو پینٹ کوٹ میں ملبوس شارف صاحب اپنی ازلی خوبصورتی کے ساتھ سامنے آ کھڑے ہوئے۔
ویلکم مسٹر شام ! قدرے آگے بڑھ کر وہ شان کے گلے لگے۔لیکن مقابل نے ہاتھ ملانے پر ہی اکتفاکیا۔
شارف صاحب مقابل کی واضح حرکت کو دیکھ کر بھی ضبط کرگئے۔
ابتدائی کلمات کے بعد وہ دروازے سے پیچھے ہوئے۔
شہرام نے قدم آگے بڑھائے۔نظر بے ساختہ سامنے شاندار کمرے کی جانب گئی۔اور آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔
وہ نظر کمرے کو دیکھ کر ہرگز نہیں پھیلی تھی۔وہ نظر سامنے موجود لڑکی کو دیکھ کر پھیلی تھی۔
زمین و آسمان شاید آج صحیح معنوں میں شہرام علوی کے لیے گھومے تھے۔
وہ اپسرا،تھی یا شہزادی،؟یا پھرماہ تاب علوی یا پھر شہرام کی جاناں ؟؟ بہت سے نام ذہن میں ابھر کر معدوم ہوئے لب سختی سے پھینچ لیے گئے۔آنکھوں کی پتلیاں واپس اپنی جگہ پر آئی۔جان سے انجان بننے کا سفر کا آغاز ہوا تھا۔لیکن صرف اور صرف شہرام علوی کی جانب سے۔
مقابل کی حالت تو ساکت تھی۔خوبصورت میک اپ سے آراستہ آنکھیں ہلکی سے پھیلیں۔
ٹانگ پر رکھی ٹانگ بے ساختہ سیدھی ہوئی۔ لایقینی طور پر وہ سیدھی کھڑی ہوچکی تھی۔
شام۔۔۔۔”
سرخ لبوں سے ایک سرسراہٹ سی نکلی تھی۔
بھوری مائل آنکھوں نے بھی نگاہِ مکمل اس پر طاری کی تھی۔
خوبصورت ادھورے سے پیراہن میں وہ اپسرا کسی کا بھی ایمان ڈگمگانے کے لیے کافی تھی۔
لیکن شہرام علوی کا ایمان تو نہیں دل ضرور ڈگمگایا تھا۔نگاہ میں حقارت مکمل امڈ آئی۔
وہ ماہ تاب علوی تھی۔شہرام علوی کو ناجانے یقین کرنا مشکل لگا۔۔وہ برہنہ بازو برہنہ پنڈلیوں کے ساتھ ماہ تاب علوی ہی تھی۔ڈوپٹہ ندارد تھا۔یعنی وقت نے ماہ تاب علوی سے شرم و حیا کے سب حق چھین لیے تھے۔
سیاہ چمکدار سی آنکھوں میں بے رنگ پانی نمودار ہوا۔اپنی حالت پر اسے افسوس کے بجائے نفرت محسوس ہوئی۔
کیا ایسا بھی مقام آنا تھا کہ وہ اپنی محبت کے سامنے یوں بےباک سی آتی کیا وقت نے مدار گھمادیا تھا۔
وقت نے ماہ تاب کو شرم سے غرق کرنے کا تہیہ کرلیا تھا۔
وہ گلاب بدن اپسرا تھی۔۔ لیکن شہرام کو وہ ایک بےحیائی کا پیکر لگی۔
سنہری بالوں کی گھنگریالی لٹیں اردگرد بکھر کر گہرے راز چھپانے سے قاصر تھی۔
نفرت کا ایک اور پہلو شہرام علوی کے حوالے ہوا تھا۔
بیٹھیے مسٹر شام!!” میں آپ کا تعارف کرواتا ہوں ۔
شارف صاحب نے آدابِ میزبانی نبھائی۔
کمرے میں دو گارڈ مزید موجود تھے۔جو دروازے پر ایستادہ تھے۔
تین مردوں کے درمیان وہ اکیلی بےباک حلیے میں تھی۔شہرام کو سمجھنے میں قباحت نہیں ہوئی کہ وہ یہاں کس حیثیت سے موجود ہے۔
“یہ یقیناً شوبز کا ابھرتا ہوا ستارہ ہیں۔اور ایسی خوبصورتی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ان کا یہ خوبصورت سا انداز خود بتارہا ہے کہ یہ شوبز کے ہر ایکٹر کی بانہوں میں نظر آئیں گی”۔
ایک بےباک نظر وجود پر ڈال کر وہ ایک بار پر سمٹا سا مسکرایا۔
ماہ تاب علوی بےبسی سے سمٹ بھی نہیں پائی۔مقابل کے لفظ کوئلے کی طرح وجود پر لگ کر سلگ اٹھے۔
دل تڑپ تڑپ کو کردار کی گواہی دینا چاہتا تھا۔لیکن لب سل چکے تھے۔ سیاہ گھور سی نگاہ میں آنسو کا سمندر امڈ آیا۔لیکن بہاکر وہ تماشہ نہیں بنواسکتی تھی۔
وجود کانپ ساگیا تھا۔
آہاں !! شارف صاحب ہلکا سا مسکرائے۔
شہرام !!” آپ غلط سمجھ رہے ہیں”۔شارف صاحب کے عنابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔
سوالیہ انداز سی نظر اس نے شارف پر ڈالی جو گارڈ کو اشارے سے ٹیبل پر گلاس سجانے کا کہہ رہے تھے۔
“شارف صاحب میں نہیں پیتا”۔
ایون میں کچھ بھی کھانے کی خواہش نہیں رکھتا آپ کام کی بات پر آئیں۔”
ہاتھ کے اشارے سے وہ ملازم کو روک چکا تھا۔
ایسا تو نہیں چلے گا۔کچھ بھی ٹرائی کریں پر آپ ایسے نہیں جائیں گے۔
“پھر لنچ ڈن کرلیتے ہیں” ۔شارف صاحب پرسوچ سے بولے ۔
شیور!! پر لنچ اسی ریسٹورنٹ میں پھر کبھی۔۔”
“ڈن”شارف صاحب مسکرا کر کاؤچ پر سیدھے ہوئے۔
“آپ شاید تعارف کروانے والے تھے؟؟
شہرام نے دوبارہ نگاہ ماہ تاب پر ڈالی جو اب انگلیاں مسلتی مکمل بے چین تھی۔
جس کی مخروطی انگلیاں نیل پالش اور مختلف رنگز سے سجی تھیں۔
“یہ میری بہو ہیں۔” لفظ تھے یا تیر؟؟ شہرام کو سمجھنے میں دقت ہوئی۔اس کے سانس میں رکاوٹ بڑھی تھی۔
چھن سے اندر بہت اندر ٹوٹ کر کچھ بکھرا تھا۔دل کی امید ،،ہاں امید ٹوٹی تھی۔یہ شاید امید ٹوٹ جانے کی آواز تھی۔
دل کرلایا تھا۔ مضبوط ہاتھوں اور بازؤں کی رگیں ضبط سے تن گئی تھیں۔لیکن چہرے پر ایک جانب سمٹی مسکراہٹ تھی۔جو ان چھ سالوں میں اس کی شخصیت کا خاصہ رہی تھی۔
اس ایک جانب لبوں والی مسکراہٹ نے شہرام علوی کو شہرت پر پہنچایا تھا۔
تبھی دل کی ریزہ ریزہ ہوئی حالت پر وہی مسکراہٹ خوبرو چہرے پر امڈ آئی تھی۔
واؤ ڈیٹس گریٹ،، کاروباری دنیا میں ایسی خوبصورتی کافی فائدہ مند ہوتی ہے۔اور اتنی نوخیز کلیاں فائدہ بھی دگنا دیتی ہیں۔”
نوکیلے وار برہنہ بازو برہنہ پنڈلیوں کو ہی جیسے زخمی کرنے پر تلے تھے۔
کاش ماہ تاب علوی کے پاس اس وقت جادو کا پیراہن ہوتا جو وہ اوڑھ لیتی اپنی رعنائیاں اس شخص سے چھپالیتی۔وہ رعنائیاں اس وقت اس کے لیے غلاظت جیسی تھیں جو اس کے وجود سے چپک چکی تھیں۔ غلاظت کے بعد اب درد کا وقت تھا جو شہرام علوی اپنے کاٹ داڑ لفظوں سے پہنچا رہا تھا۔
“میں فریش ہوکر آتی ہوں “۔دونوں مٹھیوں کو دائیں بائیں رکھے اس نے کاؤچ پر دباؤ ڈال کر بمشکل یہ جملہ کہا۔
آپ کو مزید فریش ہونے کی ضرورت ہے۔میرے جیسا جذبات سے عاری شخص آپ کو دیکھ کر تھم گیا ہے۔تو باقیوں کی الامان۔۔” شہرام نے ایک اور نوکیلا تیراچھالا۔
سرخی دھاریوں سےبھری نگاہیں افسوس سے شہرام کی جانب اٹھی۔ سر ہلکا سا نفی میں ہلا گویا یقین دلانا چاہا کہ غلط سمجھ رہے ہو۔
شہرام نے نگاہِ حقارت بدل کر مقابل کو شخص کو دیکھا۔
وہ مزید حیسن ہوچکی تھی۔شہرام علوی کی پہنچ سے بہت دور وہ لڑکی اب دو آتشہ حسن کی ملکہ تھی۔ وہ سیاہ گلاب بن گئی تھی۔ایسا سیاہ گلاب جو حقارت میں بھی مبتلا کردے اور جو قمیتی بھی ازحد تھا۔
اس کی برہنہ بازو سے جھلکتی بے داغ جلد اس کے حسین چہرے پر سجا مصنوعی حسن اسے مزید تازگی عطاکیے ہوئےتھا۔ شہرام کو اپنی نگاہ پر افسوس ہوا تھا۔
وہ کیوں دیکھ رہا تھا اسے؟؟ کیا حق باقی رہا تھا۔وعدہِ وفا سب چکنا چور ہوچکے تھے۔
جائیں ماہ تاب!! “شہرام صاحب کا دل بے اختیار ہو رہا ہے۔کہیں وہ مکمل بہکنے کا حسین سامان دیکھ کر بہک ہی نہ جائیں”۔
شارف صاحب مدھم سا مسکراکر ایک گہری بات کی کہ ماہ تاب علوی کو اپنا آپ کیچڑ میں دھنستا محسوس ہوا۔
“ایسا نہیں شارف صاحب میں اپنے معیار بہت بلند رکھتا ہوں۔”
ماہ تاب کا دل چاہا وہاں موجود قیمتی گلاس میں سے ایک اٹھا کر اپنی گردن کے آرپار کرلے۔
یہ لفظ لفظ اذیت اس کی روح چھلنی کررہی تھی۔
زندگی نے بھی کہاں لا کر پٹکا تھا۔جس شخص کی خواہش میں اتنے سال تیاگ دئیے تھے۔وہ شخص ملا بھی تو ایک بند کمرے میں ، ایسے بند کمرے میں جہاں زرہ زرہ گناہ کی غلاظت جمی تھی۔
ایکسکیوز می۔۔۔”
وہ جھٹ سے سامنے بنے پرتعیش واش روم میں بند ہوئی۔
بند تو شہرام علوی کا دل بھی ہوا۔روم روم سلگ اٹھا۔بھوری آنکھوں میں ہزاروں خوابوں کی چھبن نے دھوم مچائی۔
جبڑے تن سے گئے تھے۔کوئی شہرام علوی سے پوچھتا کہ اس نے زندگی میں سب سے زیادہ اذیت کہاں محسوس کی وہ برملا کہہ دیتا یہاں اس لمحہ اس گھڑی اپنی محبت اپنی زندگی کو ایک نامعقول حلیے میں کسی غیر کے پہلو میں براجمان دیکھ کر،ایک پاکیزہ لڑکی کو برہنگی میں دیکھ کر جو ازیت جو تکلیف جو زہر میں بجھی سوئیاں روم روم میں محسوس کرکے یہاں تڑپ مچی تھی۔یہ تڑپ تو اس تڑپ سے کہیں زیادہ تھی۔جب بے امان سا سڑکوں پر تڑپا تھا۔ ان سیاہ سڑکوں پر چیخ چیخ کر رویا تھا۔
ویل مسٹر شہرام !! “کام کی بات پر آتے ہیں:۔شارف صاحب آخری نگاہ ماہ تاب پر ڈال کر پلٹے اور شہرام کی جانب متوجہ ہوئے۔
آئی تھنک دیبا نے آپ کو تفصیل بتادی ہوگی۔
میں چاہتا تھا یہ کمرشل بھی آپ کرتے یعنی پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ آپ سکرین پر جلوے بکھیریں تو کیا ہی اچھی بات ہے۔
یہ :کمرشل “ہائی ریٹ پراجیکٹ ہے۔اور ایک قسم کا رائل ٹائپ کمرشل ہے۔
ایون میں آپ کو دگنا پے کروں گا۔بشرطیکہ آپ اس کمرشل میں ایز آ ایکٹر کام کریں۔
شارف صاحب نے ایک فائل اس کے سامنے رکھی۔
ویل!! “پیمنٹ کا کوئی ایشو نہیں ہے۔ یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔لیکن میں نے ایز آ ماڈل اس انڈسٹری کو جوائن کیا تھا۔ ایز آ ایکٹر ایز آ کمرشل سٹار بننے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔کیونکہ میں صنف نازک کے ساتھ کام کرنا پسند نہیں کرتا۔جبکہ یہ ایک پرفیوم کا ایڈ ہے۔تھوڑا بولڈ پلس ڈارک ہوگا۔ابویسلی اس میں صنف نازک قریب آئے گی۔ تو آپ سمجھ سکتے ہیں۔کہ مجھے یہ سب پسند نہیں ہے۔میں اپنے کام کے معاملے میں تھوڑا نہیں بہت پوزیسسو ہوں”۔
شہرام نے صاف انکار کیا۔شارف صاحب محض پیشانی سہلا کر رہ گئے۔
چند پل کی خاموشی چھا گئی تھی۔ واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر دونوں کا رخ مڑا۔
شہرام نے واضح اس کا متورم چہرہ دیکھا۔جو رونے کی چغلی کھارہا تھا۔ناک سرخ ہوکر مزید خوبصورت ہوگئی تھی۔سیاہ بھنور میں اب بھی پانی موجود تھا۔
از ایوری تھنگ آل رائٹ ماہ تاب!! وہ اٹھ کر اس کی جانب بڑھے جبکہ شہرام نے مٹھیاں بھینچیں۔
_🔥
“میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں”۔۔شارف صاحب کے ماتھے پر اس کی ہٹ دھرمی سے بل نمایاں ہوئے۔وہ آج پھر ان کا بنا بنایا کام بگاڑ رہی تھی۔
“چند منٹ کی میٹنگ رہ گئی ہے پھر چلتے ہیں آپ بیڈ پر بیٹھو۔”وہ مزید قریب ہوئے جبکہ ماہ تاب نے ہاتھ کھڑے کیے تاکہ وہ دور ہی رہیں۔
شہرام علوی کا دل تڑپا تھا۔ماتھے کی رگ پھول رہی تھی۔روم روم سلگ اٹھا تھا۔وہ اسے بیڈ پر جانے کو کہہ رہا تھا۔اور یہ کس قدر گہری بات تھی۔
“میں یہ کمرشل کرنےکے لیے تیار ہوں، شارف صاحب لیکن میری ایک شرط ہے۔”وہ اچانک اٹھ کھڑا ہوا۔شارف کا اس کے قریب ہونا شہرام علوی کے لیے سلگنے کی آخری حد جیسا ہی تھا۔
شارف صاحب کے چہرے کی تازگی بحال ہوئی۔یکلخت وہ اس کی جانب مڑے۔ماہ تاب کو ان کا اس کی جانب متوجہ ہونا سانس خارج کرنے کے لیے موقف ثابت ہوا۔
“مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے۔آپ بس ڈن کریں”۔
شرط سن لیں شارف صاحب کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی بہو انکار کردے”۔
شارف صاحب کی بے تابی پر وہ استہزائیہ سا مسکرایااور اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی۔
شارف صاحب کے لب سکڑے تھے جبکہ ماہ تاب کی آنکھوں میں بے یقینی ابھرآئی۔سر بے ساختہ نفی میں ہلا۔وہ شاید جان چکی تھی۔
لیکن آج وہ ہر ستم آزمانے کی ٹھان چکا تھا۔
وہ ماہ تاب علوی کو کڑی سزادینا چاہتا تھا۔دل توڑنے کی سزا تو ایک طرف تھی کہ وہ بے وفائی کی بھی مرتکب ہوئی تھی۔
اس میں ماہ تاب کا کیا عمل دخل ہے؟”شارف صاحب کی سوالیہ نگاہ شہرام کے ساکت چہرے پر تھی۔
“میں یہ کمرشل کے لیے تیار ہوں۔بشرطیکہ میرے ساتھ ماہ تاب ایز آ کو سٹار کام کریں”۔
ماہ تاب کو یقین نہیں تھا کہ وہ شخص ایسی بھی کوئی شرط رکھے گا۔
دونوں ہاتھوں کو قدرے بھینچ کر ضبط کیے وہ چند قدم مزید پیچھے ہوئی۔
“شارف میں محض آپ کے ساتھ اس میٹنگ میں آئی تھی۔اس سے زیادہ امید مت رکھیے گا کہ میں کسی ڈرامہ کمرشل یا فلم میں کام کروں گی”۔
آنسوؤں کا گولہ حلق میں اتارے وہ مضبوط لہجے میں بولی۔لہجہ لڑکھڑاہٹ لیے تھا لیکن لفظ لفظ مضبوط تھا۔
شہرام نے بے ساختہ بال سہلا کر سیدھے کیے۔اور تھوڑی پر انگوٹھا پھیر کر ایک بھرپور نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی۔جو سرخ ہوکر مزید دلنشین ہورہاتھا۔
“ایز یو وش مس ماہ تاب!! بائی دا وے یہ کمرشل اس میٹنگ روم کے کام سے کئی زیادہ صاف ثابت ہوسکتا ہے۔”
عین نازک نس دبا کر گویا تکلیف کا شدت بھرا تاثر مقابل کی جانب اچھالا گیا۔
“مسٹر شہرام!! آپ پلیز بیٹھیں۔اور یہ میری بہو ہیں۔انہیں میں لایا تھا۔محض میٹنگ کے داؤ پیج سمجھانے کے لیے۔آپ شاید غلط رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔”
شارف صاحب کو اس کی بات ناگوار لگی لیکن اپنے فائدے کے لیے وہ شہرام علوی سے گالیاں بھی آرام سے سن سکتے تھے۔اور مقابل شخص کا کردار دیکھ کر وہ ماہ تاب کو کچھ بھی بنا سکتے تھے۔جیسے آج بہو کی حیثیت سے تعارف کروایا تھا۔
“اوپس !میری مجال کے میں ایک لیڈی کے بارے میں غلط رائے قائم کروں۔ قطعی نہیں میں صنف نازک کی عزت کرنا جانتا ہوں”۔وہ بے ساختہ کان کی لو چھوگیا۔
“بہرحال مجھے دیر ہورہی ہے۔لنچ کا وقت بھی نکل گیا ہے۔
“میں ایز آماڈل شوٹ کے لیے ریڈی ہوں۔اگر کمرشل کا ارادہ ہوا تو مس ماہ تاب کو کنوینس ضرور کیجیے گا۔ایسے حسین چہرے اگر انڈسٹری میں آگئے تو فلم انڈسٹری راتوں رات کامیابیوں کی بلندیوں کو چھوجائے گی۔ ویل باقی ڈیٹیل آپ میرے اسٹنٹ کو دے دیجیے گا۔سائن کے لیے پین ملے گا۔”
کاؤچ پر دراز ہوکر فائل سامنے کھسکائے وہ پین کے لیے ہاتھ بڑھاچکا تھا۔
ماہ تاب بھی سامنے کاؤچ پر دراز ہوکر دوبارہ مکمل پراعتمادی سے بیٹھی۔چہرے پر اجنبیت ابھر آئی۔جب اس ظالم صیادکو پرواہ نہیں تھی تو وہ کیونکر کرتی؟؟
کس حق سے کرتی وہ کچھ بھی تو نہیں تھا ماہ تاب کا۔ہاں وہ نہیں تھا۔
کیا واقع نہیں تھا۔لیکن دل ؟؟ دل کیا راز چھپائے بیٹھاتھا۔یہ دل کیوں بے تاب سا تھا۔یہ ماہ تاب علوی شاید کبھی عیاں نہیں کرسکتی تھی۔
سائن کرکے اس نے پین سائیڈ پر رکھا۔گلاسز ایک بار پھر آنکھوں پر جمی۔بھوری آہ زدہ آنکھیں اوجھل ہوئی۔بھوری آنکھوں کے کونے نمی سے اٹ گئے تھے۔۔لیکن ان سیاہ شیشوں نے بھی راز چھپادیا تھا۔
“سی یو سون، اللہ حافظ ،” شارف صاحب سے ہاتھ ملا کر وہ دروازے کی جانب بڑھا۔ماہ تاب کی ساری حسیات بیدار ہوئی روم روم آنکھ بن کر چمک اٹھا کہ وہ جاتے ہوئے اسے دیکھے گا۔ایک ادھوری نظرڈالے گا۔وہ آنکھوں سے راز عیاں کردے گی۔
لیکن ساری امید تب ملیامیٹ ہوئی جب وہ دروازے سے نکلتا چلا گیا۔اس کے ساتھی بھی نکل کر جاچکے تھے۔لیکن ماہ تاب علوی ساکت تھی۔دل ،دنیا ،وقت، کائنات سب کچھ ماہ تاب علوی کے لیے تھم چکا تھا۔


عاہن کہاں ہو تم؟؟ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے فوراً عاہن کا نمبر ملایا تھا۔
ماتھے کی پھڑکتی رگ اسے مائیگرین کی طرف دھکیل رہی تھی۔
کیا ہوا بھائی؟ مجھے بتائیں آپ ٹھیک ہیں۔آپ کی میٹنگ کیسی رہی۔؟”
عاہن اس کے لہجے میں پوشیدہ درد پل بھر میں سمجھ چکا تھا۔
بھائی بتائیں کیا ہوا ہے؟” وہ ایس پی سے ملی اطلاع کے مطابق ابھی بلڈنگ میں داخل ہوا ہی تھا جب شام کے فون نے اس کی توجہ کھینچی تھی۔
شام اسے بہت کم فون کرتا تھا۔فون کال پر اس کی بھاری سی آواز سن کر ہی وہ جان چکاتھا کہ وہ تکلیف میں ہے۔
شام نے بے ساختہ آنکھوں کے کونے مسلے۔سرخ ڈوروں والی آنکھیں شرٹ کے کھلے بٹن وہ تیزی سے ڈرائیونگ کررہا تھا۔
بھائی بتائیں مجھے۔آپ ٹھیک ہیں۔کیا ہوا ہے۔۔؟”
عاہن کی آواز اب اسے دور سے سنائی دے رہی تھی۔
آنکھوں کے کونے رگڑتے اس نے گہرا سانس کھینچا تھا۔
ایک دم اس نے کال ڈسکنکٹ کی تھی اور گاڑی کی سپیڈ بڑھادی تھی۔
“کیوں ۔۔۔۔محض ایک لفظ زبان سے بمشکل ادا ہوا تھا۔کیوں میرے ساتھ ہی کیوں میں ہی کیوں ہر بار ۔۔۔۔۔”
سٹیرنگ پر مکہ مارتا وہ دانت پیسے غرایا تھا۔
گرم سیال بہتا داڑھی میں جذب ہوا۔
آج پھر چھ سال پہلے والی تکلیف ابھر گئی تھی۔سلے ہوئے زخم ادھڑ کر خون رسنے کی وجہ بن گئے۔
ایک جھٹکے میں اس نے گاڑی روکی تھی۔
اور وہ چیخ اٹھا تھا۔۔۔
سٹیرنگ پر دونوں ہاتھ مار کر اس نے اندر بڑھتی کھولن ہاتھوں سے نکالی۔
شارف کا اسے چھونا۔اسے بات کرنا۔اسے کیوں چبھا تھا۔اور کیا وہ اتنی بے حیا ہوگئی تھی کہ اپنے شوہر کے بجائے اپنے سسر کے ساتھ میٹنگز اٹینڈ کررہی تھی۔
شارف ابدال ڈیزائنر تھے۔ان کا اپنا برانڈ تھا تو کیا وہ ان کے لیے کام کرچکی تھی۔
نہیں۔۔نہیں۔۔وہ اس حد تک نہیں جاسکتی۔۔اس نے فوراً سے پہلے گوگل اوپن کیا تھا۔
ماہ تاب کا نام ڈالتا وہ من میں اپنے خیالات کی نفی کرتے تڑپ اٹھا تھا۔
امیجز میں جا کر اس نے سب جگہ سرچ کیا۔لیکن ماہ تاب کہیں نہیں تھی۔
دل کو جیسے یک و گو تھوڑا سا سکون محسوس ہوا تھا۔
لیکن اس کا سنہرا روپ دلکش راعنائیاں اس کی حقیقت کو اچھے سے عیاں بھی کررہا تھا۔
عاہن کی کال آنے لگی تو اس نے فوراً سے پہلے پک کی تھی۔
“بھائی آپ کہاں ہیں۔بتائیں مجھے آپ نے کال کیوں کی تھی آپ ایسا کبھی نہیں کرتے”۔
عاہن کے بے چینی بھرے سوالات پر تلخ مسکراہٹ لبوں پر سمٹ آئی تھی۔
“وہ لوٹ آئی ہے عاہن ۔۔اب تو لگتا ہے پہلے سے زیادہ اذیت دینے کے لیے لوٹ آئی ہے۔”
“کون بھائی۔۔بتائیں کون۔۔۔؟”وہ یکلخت رک گیا۔
مشل اب یہاں تھی تو ماہ تاب کیوں نہ آتی۔ عاہن نے ضبط سے مکہ دیوار پرمارا۔
“بھائی یہ دونوں پھر سے کسی پلین کے تحت آئی ہیں۔آپ یقین نہیں کریں گے مجھے مشل پر ایسے ہی شک نہیں تھا۔ بھائی میں ان دونوں بہنوں کو برباد کردوں گا۔آئی سوئیر اگر آپ روئے یاپھر آپ نے کچھ ایسا ویسا کیا۔”
وہ سرخ آنکھوں سے سامنے دیکھتا عاہن کے لفظوں کو سنتا رہا۔
عاہن تم کچھ نہیں کرو گے اب جو کروں گا میں خود کروں گا۔بس تم خاموش رہو۔”
مام کو پریشان مت کرنا۔میں دیبا کی طرف جارہا ہوں۔
پرسوچ زاویے ایک مقام پر آکر ٹھہرے تھے۔اب دیکھنا یہ تھا کہ جنگ کون جیتتا۔
شام ماہ تاب یا پھر عاہن علوی۔۔۔”


شام۔۔۔!! یااللہ۔۔میں کیسے ۔۔۔کیسے شکر ادا کروں۔۔اللہ یہ کیسا مقام ہے۔خوشی غم ایک ساتھ۔۔”
وہ ماڈل بن گیا تھا۔ٹاپ ماڈل۔۔۔ماہ تاب کے لیے اب بھی یقین کرنا مشکل تھا۔
۔وہ بہت خوبرو ہوگیا تھا۔
وہ سجدے میں میں گری لبوں سے مسکراتی آنکھوں سے روتی دوہری کیفیت میں تھی۔
“اللہ مجھے لگ ہی رہا تھا کہ شبِ یقین ضرور ممکن ہوگی۔دیکھیں ممکن ہوگئی”۔
شارف اس کو روم میں چھوڑ کر گئے تھے تب سے وہ ایسے ہی تھی۔
اس کے ذہن میں شام کی باتیں گونج رہی تھیں۔ “کمرشل۔۔ہاں کمرشل۔۔۔میں کمرشل کروں گی۔۔مجھے شام کے پاس جانا ہے۔میں جاؤں گی۔۔اب میں نہیں رہوں گی”۔
آنسو رگڑتی اٹھ کھڑی ہوئی تو بے ساختہ واش روم کی جانب بڑھی۔
لیکن دیوار گیر آئینے میں اپنا عکس دیکھتی وہ تھم سی گئی۔
سفید لباس میں وہ پری کی طرح لگ رہی تھی۔لیکن اس پری میں شفاف پن نہیں تھا۔اس کے راعنائیاں نمایاں کرتا لباس جتا رہا تھا کہ شام کی نگاہ میں اس کے لیے حقارت تھی۔
پل بھر میں مجتمع ہمت ڈھے سے گئی۔
وہ کیسے اسے قبول کرے گا۔کیسے اس کی باتوں پر یقین کرے گا۔کیسے وہ بتا پائے گی کہ یہ سب ایک فریب ہے۔اس کی روح اس کے نام کی طرح پاکیزہ ہے۔اس کے من میں غلاظت نہیں ہے۔
ایک امید ٹوٹی تھی تو دوسری جانب ایک اور امید نے دامن پھیلایا تھا۔
“اگر وہ مجھے قبول نہیں بھی کرے گا تو بھی میں اس کے قدموں کی خاک بن کر اس کے پاس زبردستی رہ جاؤں گی کیونکہ ایسی ذلت بھری زندگی سے لاکھ درجے بہتر کسی کی پاکیزہ نگاہ میں تلخ جملے کے ساتھ رہ لو۔”
ایک طمانیت خود میں محسوس کرتی وہ چینج کرنے واش روم کی جانب بڑھی تھی۔۔آج اسے اپنے رب کا شکر بڑے دلفریب انداز میں کرنا تھا۔


شوٹنگ کے لیے ڈائریکٹر کی کال سنتا وہ اسی جانب روانہ ہوا تھا۔
اس کا ڈرامہ کے چھوٹا سا شوٹ تھا جس کے بعد وہ گھر جاکر آرام کرنا چاہتا تھا۔کل رات سے وہ جاگ رہا تھا۔
شوٹ کی جگہ پر وہ پہنچا تو ڈائریکٹر گھڑی دیکھ رہا تھا۔
تھینک گاڈ تم آگئے ۔میری زاہد بٹ سے میٹنگ تھی۔
جلدی سے یہ شوٹ مکمل کرلیتے ہیں۔
ڈائریکٹر کی تفصیل سنتا وہ میک اپ روم کی طرف بڑھا۔
کچھ دیر میں وہ شوٹ کے لیے ریڈی تھا۔سیٹ بھی تیار تھا۔جب اسے ایک جانب شور سنائی دیا۔
حیرت سے اس کی آنکھیں پھیلی۔ابھی دو دن پہلے ہی تو وہ اس سے مل کر آیا تھا پھر وہ اتنی جلدی کیسے آگئی تھی۔
مشل کو دیکھ کر اس کا خون تو کھول اٹھا تھا۔لیکن وہ اسے نظرانداز کرتا سامنے موجود کاؤچ پر جا بیٹھا۔وہ آرام سے اس کی حرکات دیکھنا چاہتا تھا۔
مشل اس کی نظر اندازی پر پہلو بدل کر ڈائریکٹر کو دیکھنے لگی۔
ڈائریکٹر اسے نظر انداز کرتا آگے بڑھا جب مشل ایک دم سامنے آکر کھڑی ہوئی۔
ڈائریکٹر نے مدد طلب نظروں سے عاہن کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
عاہن نے کندھے اچکا کر اسے اشارہ دیا تھا۔
سر پلیز ایک چانس۔۔۔” اس کی آنکھوں میں واضح التجا نے عاہن کو گہری تسکین دے رہی تھی۔
“دیکھیں مشل علوی یہ آپ کا فرسٹ ٹرائل ہے۔۔اور آپ کو نوکرانی کا رول مل سکتا ہے۔۔ورنہ آپ جاسکتی ہیں”۔ڈائریکٹر کے دو ٹوک انداز پر مشل نے تعجب سے ڈائریکٹر کو دیکھا۔
خوبصورت اپسرا کی مانند وہ لڑکی وہاں سب سے نمایاں تھی۔
لیکن ڈائریکٹر نے اسے نوکرانی ہی بنادیا تھا۔۔”سر آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟”
اس کی نظر صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے عاہن پر گئ۔ جو لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجاۓ مشل کو ہی دیکھ رہا تھا۔لبوں پر مٹھی سی جمی تھی۔
مقابل کی گہری طنزیہ مسکراہٹ نے فشار خون بلند کیا۔اس کی مسکراہٹ اور شاہانہ انداز مشل کے ضبط کو آزما رہا تھا۔
“میں نوکرانی کارول کیسے کرسکتی ہوں۔ کیا یہ میری شخصیت سے میچ کرتا ہے؟”۔
آپ میراپورٹ فولیو دیکھیں میری ویڈیوز دیکھیں۔ایون میرا فگر دیکھیں،،
مشل باوجود ضبط کے قدرے سختی سے بولی۔
“لسن مس۔۔۔!! یہ آپ کے پاپا جی کا گھر نہیں ہے۔جہاں آپ کو پکی پکائی چیز مل جائے گی۔ یہاں مقام بنانے کے لیےہر کام کرنا ہوتا ہے۔۔یہ آپ کی خوبصورتی یا پھر سوکالڈ فگر کوئی کام نہیں کرسکتا تھا۔آپ کو یہ رول مل رہا اسی پر اکتفا کرلیں۔
آپ نے رول کرنا ہے تو کریں ورنہ وہ رہا باہر کا راستہ”،
ہاتھ کے اشارے سے اس نے باہر کا راستہ دکھایا۔
“یو عاہن!! میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔”
مشل تیکھے چتون لیے اس کی جانب آئی لیکن عاہن کے گارڈ یکدم اگے کھڑے ہوتے اسکے بڑھتے قدم روک گئے۔۔
میم۔مائنڈ یور لینگویج۔”
“وہ باس ہیں ہمارے۔آپ ان کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرسکتی۔”
یکدم وہاں مجمع جمع ہوچکا تھا۔
باس ہوگاتمہارا،یہ شخص،،”
“جائیں یہاں سے۔۔ابھی کوئی سین نہیں چل رہا۔۔”
عاہن کھڑے ہوکر بولتا اس کی بات یکلخت کاٹتا ایک طنزیہ نگاہ بھی اس پر ڈال رہا تھا۔
سب کو وہاں سے جانے کا حکم دیتا وہ دوبارہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔
روبرو آۓ وہ مشل کی آنکھوں میں دیکھتا تمسخرانہ مسکرایا۔
مس مشل!۔۔”آپ کو توشکرگزار ہونا چاہیے کہ یہاں میں نے آپ کو نوکرانی کے لیے فائنل کردیا۔
اگرآپ کسی اور سیٹ یا چینل پر جائیں گی تو فقیرنی کا رول بھی نہیں ملے گا”۔
مشل نے بے ساختہ مٹھیاں بھینچی۔
عاہن!! “تم حد سے مت بڑھو۔۔”دھیمی سا وہ دانت پیستے بولی۔
“عاہن علوی،میرا نام عاہن علوی ہے، مس مشل،
اور اہم بات اگر آپ کو یہ رول نہیں چاہیےتو پلیز آپ جاسکتی ہیں”
زرا سا قریب جھکے آنکھوں کو وہ دو انگلیوں سے اسے جانے کا اشارہ دے گیا۔۔گویا اسے دھکے دے کر نکالنے والا کام کیا ہو۔
مشل اس کے اجنبیت بھرے رویے سے یکدم مایوس سی ہوئی۔۔اور گہری سبز آنکھوں میں نمی چمکی۔
یکدم مقابل کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔
“گارڈ نکالو اسے۔۔ٹائم نہیں ہے میرا سین لیٹ ہورہا ہے۔آجاتے ہیں ناجانے کہاں سے اٹھ کر “
دل کی حالت پر قابو پائے گارڈ کو اونچی آواز میں ہدایت دیتا رخ موڑ گیا۔۔
” میں تیار ہوں”۔اپنی ازلی خود اعتمادی کو بحال کرتی وہ عاہن کو جھٹکا دیتی سیدھی ہوئی۔
عاہن نے سختی سے لب بھینچے۔۔
“کپڑا دو اسے”۔۔عاہن نے حکم دیا تھا۔
وہاں موجود ملازم نے ایک میلا سا کپڑا لاکر مشل کے ہاتھ میں تھمایا۔
چھی۔۔یہ کتنا گندا ہے۔۔اس نے کپڑا فوراً نیچے پھینکا۔۔اور ہاتھ جھاڑے ۔۔
“میڈم آپ تو کپڑا بھی نہیں پکڑ رہی تو ایکٹ کرکے کیسے دکھائیں گی”۔۔
ڈائریکٹر قدرے بیزاری سے بولا۔
“یار عاہن نکالویار۔۔”
مشل کا دل چاہا وہاں موجود کرسی کو ڈائریکٹر کے سر پر مار دے۔
یکدم عاہن نے اسکے منہ کے آگے چٹکی بجا کر اس کے خیالی پلاؤ پر پانی پھیرا۔
اور انکھوں سے ایسے دیکھا گویا کہہ رہا کو کہ ختم ہوگئ ہمت؟۔
جھٹکے سے نیچے جکتی وہ کپڑا اٹھاتی سیدھی ہوئی۔۔اور سامنے موجود عاہن کو چیلنج کرتی نظروں سے دیکھا۔


جاری ہے۔