Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

دادا کو کہہ کر اس نے میڈیسن منگوالی تھی۔ایک اور حقیقت کا انکشاف بدر علوی کو مزید پچھتاؤں میں گھیر گیا تھا۔لیکن ان کے سینے سے لگتی وہ اپنی خوش بختی کو بیان کرتی انہیں اچھا خاصہ مطمئن کرچکی تھی۔
اسے یہ تو اطمینان تھا کہ یہاں کوئی شارف ابدال کوئی شبنم بیگم نہیں ہوگی۔
احد کی یاد اسے شدت سے آئی تھی۔وہ معصوم بچہ تو بے وجہ سزا کاٹ رہا تھا۔
ناجانے معیز کس حال میں تھا۔
ماہ ناشتہ کرلو۔سدرہ چچی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پچکارا تو وہ سیڑھیوں کی جانب دیکھری پلیٹ میں چمچ گھمانے لگی۔
پورج کی وہ محض دو چمچ ہی کھا پائی تھی۔
وہ آجاۓ گا فکر مت کرو۔چھ سالوں میں اس نے اپنے کام کے لیے اتنی محنت کی ہے کہ وہ سب فطری فکریں بھلا چکا ہے۔
سدرہ چچی افسردہ ہوئی تو ماہ نے ان کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا۔
چچی اپنے ہر ستم کا ازالہ میں اب بھرپور طریقے سے کروں گی۔
سعادت علوی کی آنکھوں میں ڈھیروں محبتیں اس کے لیے سمٹ آئی۔
گڈ مارننگ ڈیڈ۔۔۔” عاہن کھلتا گلاب بنتا ڈیڈ کے گال چومے چئیر پر دراز ہوا تو انہوں نے سخت نظروں سے اسے گھور کر دیکھا۔
جواباً وہ مسکرایا تھا۔
یہ واہیات حرکات میرے ساتھ مت کیا کرو۔”
ماہ نے حیرت سے سعادت علوی کی سختی کو دیکھا۔لیکن عاہن کو ڈھٹائی سے مسکراتے دیکھ کر وہ مزید حیران ہوئی۔
“یہ سب روز چلتا ہے تم ناشتہ کرو کل سے صحیح طریقے سے کچھ کھایا ہی نہیں اور نہ میڈیسن ٹھیک سے لی۔”
چچی نے اسے ڈپٹا تو وہ ڈبڈباتی آنکھوں پر آسودہ مسکراہٹ سے پلیٹ کی جانب جھک کر رہ گئی۔
ایک سدرہ چچی تھی جو اس کے لیے بے غرض چاہت رکھتی تھیں۔اور ایک اس کی سگی ماں شبنم بیگم جنہوں نے ہمیشہ مفاد کے لیے مخاطب کیا تھا۔
کچھ دیر میں شام سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔
وائٹ شرٹ بلیک کوٹ اور پینٹ میں وہ اپنے گھنے بال سیٹ کیے مکمل تیار تھا۔اس کے گندمی چہرے پر ایک اطمینان و سکون کی رمق تھی۔
ماہ کا دل دھڑک گیا جو وہ کرچکا تھا یقیناً شارف ابدال زخمی شیر بن کر اسے چیڑ پھاڑ کر رکھ دیتے۔
اس کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ کر شام نے چند پل اسے دیکھا۔ اس کی آنکھون میں ان کہی سی ہمت اس چہرے پڑھ لینے والی کو واضح محسوس ہوئی تھی۔
ٹیبل سے جوس کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگائے وہ موبائل کیز لیے باہر کی جانب بڑھ گیا۔
سعادت علوی نے اول روز کی طرح کہیں حصار اس کے ساتھ باندھے جبکہ سدرہ چچی دل ہی دل میں دعائیں پڑھنے لگی ۔
ماہ نے اسے باہر نکلنے تک دیکھا۔اردگرد جیسے اس کے لیے سب مانند سا پڑتا محسوس ہوا۔
“فکر ناٹ ماہ۔۔۔!! وہ آج نیک کام کے لیے گئے ہیں۔اور مجھے میرے بھائی پر یقین ہے وہ اپنا کام مکمل کرکے ہی لوٹیں گے۔”
عاہن نے آج پہلی مرتبہ براہ راست اسے مخاطب کیا تھا۔
اس کی نگاہ کا ارتکاز محسوس کرکے ہی اس نے ماہ کو کہنا مناسب سمجھا تھا۔


بارہ بجے کے قریب اس کی آنکھ کھلی تو گردن میں ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئی۔
رات عاہن کے جاتے ہی وہ وہاں سے نکل آئی۔نہ کسی نے روکا تھا نہ اس نے اب وہاں رکنا تھا۔اس کی ہمت جواب دینے لگی تھی۔
اسد کی کئی کالز آئی لیکن وہ اگنور کرتی رہی۔
گھر آکر وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بے حال ہوئی تھی۔۔اس بے مہر شخص کے لفظ اسے جیسے کاٹ رہے تھے۔
مشل علوی کا غرور ٹوٹا تھا۔وہ جو اس شخص کی نرمی کی منتظر ہوچلی تھی جب اس نے لفظوں کا قہر ڈھایا تو دل کئی ٹکروں میں بٹ گیا تھا۔
آج احساس شدت سے جاگا تھا کہ اس نے اپنی ذات سے اسے کتنا زک پہنچایا تھا۔
عاہن کا لفظ لفظ اسے ڈوب مرنے کے مقام پر لے آیا تھا۔
دماغ وہ لفظ برداشت کرنے کی ہمت مجتمع کرتا رہا۔
دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وہ سوجی سبز آنکھوں سے کب نیند کی وادی میں اتری اسے خبر نہیں ہوئی تھی۔
وہ زمین سے اٹھ کر بیڈ پر لیٹنے لگی جب اس کا فون بجا۔
ان نون نمبر دیکھتی وہ حیران ہوئی۔وہ شارف ابدال کا نیو نمبر تصور کرتی کال پک کرکے موبائل کان سے لگایا۔
ہیلو۔۔”
“سوگ تو تم نے کافی منالیا ہوگا اب زرا نئے جھٹکے کے لیے تیار ہوجاؤ۔
اپنے موبائل میں انسٹاگرام اوپن کرو۔”اٹس شام “کو سرچ کرو۔اور پوسٹ چیک کرو۔”
اس نے موبائل کان سے ہٹا کر حیرت سے دیکھا وہ عاہن ہی تھا۔۔مشل کا دل شدت سے دھڑکا۔
کانپتے ہاتھوں سے اس نے موبائل کان سے لگایا تو کال کٹ چکی تھی۔
مشل نے سانس روکے سرچ بار میں اٹس شام کو سرچ کیا تو سامنے ہی شہرام علوی تھا۔
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔بائیو میں ماڈل لکھا تھا۔
پہلی پوسٹ چیک کی تو سامنے ہی شام ماہ تاب کو بانہوں کے نرغے میں لیے کھڑا مسکرا رہا تھا۔
مشل کی آنکھیں حیرت سے پھٹی۔ گمان ہوا تھا کہ وہ ماہ نہیں ہوسکتی۔
نیچے کیپشن بھی موجود تھا جس میں وہ اپنے نکاح کا واضح اعلان کررہا تھا۔
مشل نے تصویر کو زوم کرکے دیکھا تو خوبصورت سی ماہ آسودہ سی مسکراتی شام کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔
یہ۔۔۔کیسے؟ ماہ تو پہلے ہی معیز کے نکاح میں تھی۔پھر شام سے کیسے؟”
پلک جھپکتی وہ خود کو یقین دلانے سے قاصر تھی۔
نن نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔۔ایسا کیسے۔۔۔نفی میں سرہلاتی وہ کمینٹس پڑھنے لگی۔ جہاں شام کا رپلائے بھی تھا جس میں وہ بتارہا تھا فلحال نکاح ہوا ہے۔ولیمہ وہ دھوم دھام سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس نے تیزی سے شارف کا نمبر ملایا تھا۔لیکن وہ بزی تھا۔پے درپے ہوتے انکشاف مشل کا ذہن الجھا رہے تھے۔
اس نے وہی نمبر ڈائل کیا جس سے کال آئی تھی۔
مجھے پتہ تھا تم ضرور کال کرو گی۔”عاہن کی تمسخرانہ آواز وہ فون سے بھی محسوس کرسکتی تھی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ ماہ پہلے سے شادی شدہ ہے وہ نکاح پر نکاح کیسے کرسکتی ہے۔کیا کیا تم لوگوں نے ماہ کے ساتھ بولو؟”
اپنا غم بھلائے وہ چیخی تھی۔
عاہن کا قہقہ گونجا ۔مشل کی دھڑکن واضح بڑھی تھی آخر یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہوا تھا۔
اس دنیا میں کیا ممکن نہیں ہے ؟ سب ممکن ہے جیسا تمہارا اور میرا یہ نکاح نہ چاہ کر بھی ممکن ہوگیا۔۔خیر تمہیں ایٹ لیسٹ اپنے جیجا کو کانگریٹس کہنا چاہیے۔اور ہاں اس کے ایکس سسر کو زرا حوصلہ اچھے سے دینا وہ کافی صدمے میں ہے۔
عاہن یہ سب کیسے ؟ وہ اسے سے آگے سوچ ہی نہیں پائی۔
ویسے ہی جیسے تم لوگوں نے ہمیں برباد کیا تھا۔۔خیر نیکسٹ نیوز کے لیے تم شام بھائی کو فولو ضرور کرنا کیونکہ آگے کافی جھٹکے تمہارے منتظر ہیں۔اور ہاں آئٹم سونگ کے لیے بیسٹ آف لک۔
جلد ہی خلع پیپرز پر سائن کرکے بھیج دوں گا۔
اس کی آخری لفظ پر مشل کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔
بند مٹھی میں نمی بڑھتی اسے بے حال کرگئی تھی۔


وہ ایجنسی سے کچھ ہی دور تھا جب میڈیا کیمرہ لیے اس حسین خبر کے بارے میں مزید جاننا چاہتے تھے۔
اس نے سپاٹ لبوں پر مسکراہٹ طاری کی۔اپنی چال میں ایک سرشاری بھری تھی۔
بالوں کو ہلکا سا پیچھے کرکے دوبارہ سیٹ کیے وہ آگے بڑھا۔
یکلخت وہ جھمگٹے کی طرح اس کی جانب بڑھے تھے۔اورسوالوں کی بوچھاڑ پر وہ مزید گہرا مسکرایا۔
آپ کے ہر سوال کا جواب ملے گا۔لیکن کچھ دیر انتظار کیجیے۔
اور ماہ تاب یعنی میری جانان میری کزن بھی ہیں۔ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔تو ہماری فیملی نے ہمارے نکاح کو ترجیح دی بے شک نکاح سے بڑھ کر کوئی رشتہ اہم نہیں ہوتا۔
وہ تفصیلاً جواب دیتا میڈیا کو ہٹائے اندر داخل ہوا تھا۔
نچلے فلور سے گزر کر وہ اوپر کی جانب بڑھا۔چند منٹ پہلے والی ہنسی دوبارہ سپاٹ پن میں بدل چکی تھی جبکہ چہرے پر ایک سفاکیت طاری ہوئی۔
وہ جانتا تھا زوار علوی آچکے ہیں۔اور آج وہ شہرام علوی کے بجائے ٹاپ ماڈل شام علوی تھا۔جو آج اپنے دشمنوں کا سامنا سینہ تان کر کرنا چاہتا تھا۔وہ انہیں جتانا چاہتا تھا کہ وہ اب رشتوں کا لحاظ بھی نہیں کرے گا وہ اب اپنے پیاروں کی قربانی کا صلہ سود سمیت وصول کرنے والا تھا۔
دیبا کے آفس میں داخل ہوکر اس نے پورے آفس میں نظر دوڑائی۔
جہاں زوار علوی ازلی رعونت کے ساتھ کاؤچ پر براجمان تھے جبکہ کچھ فاصلے پر شارف ابدال کا چہرہ سرد تاثرات سے سجا تھا۔
سرمئی کانچ میں نمایاں سفاکیت شام کے لبوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ کا موجب تھی۔
گڈ نون مسٹر شارف ابدال۔”
ایک جانب کی سمٹی مسکراہٹ اچھالتا وہ انہیں مزید طیش دلاگیا تھا۔
میری بیٹی کہاں ہے؟ زوار علوی اٹھ کر اس پر جھپٹے تو شام کا اسٹنٹ اس کے آگے ایستادہ ہوا۔
“اپ کی بیٹی اب میری بیوی ہے۔مسٹر زوار علوی۔۔۔”
وہ اطمینان سے بولتا سربراہی کرسی پر براجمان ہوا تو زوار علوی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔
اپنی اسسٹنٹ کو اس نے باہر جانے کا اشارہ دیا۔
دیبا بھی شام کو دیکھتی اب کچھ مطمئن تھیں۔۔کم آن دیبا۔میرے سپیشل گیسٹ آپ کے آفس میں آئے ہیں اور آپ نے ان کو کچھ سپشل ٹریٹمنٹ نہیں دیا۔
اس کی تمکنت بھری چال اس کے پراعتمادی زوار علوی کو بھی حیران کررہی تھی۔
ان کی نگاہ میں چھ سال پہلے والا سانولا دبلا سا شہرام گھوم گیا۔جو کمزور تھا غریب تھا۔
لیکن سامنے شہرام علوی نہیں بلکہ شام علوی تھا۔جس کے ہاتھ میں پاور پیسہ سب تھا۔جس کی جیب میں اتنے نوٹ تھے کہ لوگ اس کے سامنے سر جھکا کر بات کرتے تھے۔
“شہرام میرے ساتھ گیم مت کھیلو میری بیٹی کہاں ہیں۔تم ابھی میری پاور نہیں جانتے تمہاری یہ ماڈلنگ ایجنسی تباہ وبرباد کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا”۔
“اتنی ہمت ہے آپ میں کہ آپ میری چیزوں کو تباہ کردیں۔اور میں چپ چاپ واپس لوٹ جاؤں۔
نہیں زوار علوی چھ سال پہلے میں اپنی کمزوریوں کی وجہ سے راہ سے ہٹا تھا لیکن آج اگر آپ میری ایک کمزوری کو پکڑیں گے تو وہ آپ کو میری طاقت بن کر ملیں گی۔اور آپ کی طاقتوں کو میں ایسے کمزوری میں بدلوں گا کہ آپ تڑپ کر رہ جائیں گے لیکن کچھ کر نہیں پائیں گے۔”
وہ ابرو اچکائے دونوں ہاتھ مٹھی کی صورت جکڑے مکمل اطمینان سے پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھا بولا تھا۔
زوار علوی کا ضبط جواب دے رہا تھا۔
جبکہ شارف ابدال سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھے تھے۔وہ دماغ سے کھیلنے کے عادی تھے۔پھر اب طیش اشتعال کیسے ظاہر کردیتے۔
مسٹر شارف نیکسٹ شوٹ کب کریں ؟”
وہ فالتو شے کی طرح زوار علوی کو نظر انداز کرتے گویا ہوئے۔
“مسٹر شام!! آپ نے ابھی میری دوستی دیکھی تھی۔اب آپ میری دشمنی دیکھیں گے ۔اور میری دشمن کا عالم آپ اپنی نام نہاد بیوی سے ہوچھیے گا جو نکاح پر نکاح کا جرم کرچکی ہے۔”
شام کا ہلکا سا قہقہ فضا میں گونجا تھا۔
کم آن مسٹر شارف۔!! آپ مجھے چھوٹا بچہ سمجھ رہے ہیں جانتا ہوں آپ عمر میں بڑے ہیں۔لیکن عقل میں ایک قدم مجھ سے پیچھے ہیں۔
کاروباری معاملات میں ذاتی دشمنی لانا کچھ جچتا نہیں ہے۔
خیر باقی باتیں چھوڑیں۔ماہ میری بیوی ہے۔اس کا پہلا نکاح ہوا ہی نہیں تھا کیونکہ میں سب چیک کروا چکا ہوں۔میں نے اپنا ہوم ورک کپملیٹ کیا تھا لیکن آپ نے شاید ادھورا ہوم ورک ہی پورا سمجھ لیا تھا۔”
“اور اگر میں اس کے پہلے شوہر کو آپ کے مقابل لے آؤں تو آپ کیا کریں گے۔؟ جانتے ہیں نکاح پر نکاح کی سزا کیا ہوتی ہے ؟”
“شیور آپ اس نام نہاد شوہر کو مقابل لے آئیں میں ہر چیز کے لیے تیار ہوں۔دیکھتے ہیں وہ کتنے پانی میں ہے۔”
وہ ہاتھ اٹھائے بولا ۔
دیبا ساکت سی شام علوی کی پراعتمادی دیکھ رہی تھیں۔اس کے جوابات انہیں بھی حیران کررہے تھے۔
“تو ٹھیک ہے پھر اب آپ سے ملاقات کورٹ میں ہی ہوگی۔اور اپنی نام نہاد بیوی سے میری حقیقت جان لیجیے گا کہ میں کیا چیز ہوں اور وہ میری کیا لگتی ہے؟اور اس کی پہچان کیا ہے؟”
ان کی تمسخرانہ مسکان اور چمکتی سرمئی آنکھوں میں واضح شیطانیت نے شام کے چہرے پر ضبط نمایاں کیا۔
دماغ کی رگیں تن سی گئی تھیں۔لیکن اسے ضبط کرنا تھا۔ان چھ سالوں میں شام علوی نے اپنے جذبات احساسات دنیا سے چھپالیے تھے۔۔وہ اپنا ایک احساس دنیا کے سامنے لگتا تھا۔ ہر حال میں مسکراؤ۔ مسکراؤ اور اپنی اسی مسکان سے لوگوں کو جلا کر خاکستر کردو۔
زوار علوی پھولے نتھنوں سرخ آنکھوں سے اب بھی اسے گھور رہے تھے۔
“میری بیوی کسی کو نہیں پہچانتی نہ وہ آپ کو جانتی ہے نہ وہ اپنے باپ کو پہچانتی ہے۔
وہ صرف ایک پہچان رکھتی ہے وہ ٹاپ ماڈل شام علوی کی بیوی ہے۔او آپ جاسکتے ہیں۔”
شارف ابدال تمکنت سے چلتے شام کی جانب آئے۔
شام نے بغور ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہ قریب جھکے اور غلاظت بکی۔
“ماہ تاب علوی ایک حسین اپسرا تھی۔میں اس کی قربت کو بہت مس کروں گا۔”
ان کی عامیانہ بات پر شام نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں۔جبکہ زوار علوی اس سرگوشی کو سننے کے لیے آگے آئے۔
ان سرمئی کانچ میں نمایاں ہوس کو دیکھ کر شام کا دل چاہا وہ یہ منہ نوچ لے۔
چلو زوار !! میرا کام ہوچکا ہے۔”
وہ زوار کو اشارہ دیتے باہر نکلے تھے۔
شام سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ دانت پر دانت جمائے بیٹھا رہا۔
مرر گیٹ بند ہوا ۔اور شام کا ضبط جواب دے گیا تھا۔
جھٹکے سے اس نے ٹیبل پر سجی ایوارڈز فائلز سازو سامان سب زمین بوس کیے۔
دیبا یکلخت اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
کیا ہوا شام؟” شارف نے کیا کہا؟
شام نے بال مٹھی میں دبوچ کر لب بھینچے۔بند آنکھوں سے بلند فشار کو کم کرنے کی کوشش میں رخ موڑ گیا۔۔
“کچھ نہیں کہا دیبا۔آپ پریشان مت ہوں۔اپنے گھر کی سکیورٹی بڑھائیں آفس کی سیکیورٹی میں بڑھاتا ہوں۔اور آج کے بعد آپ مستحسن صاحب کے بغیر مت آئیے گا۔”
ان کا ہاتھ تھام کر وہ مدھم سا بولا۔۔
دیبا کا رنگ فق ہوا۔
“شام ہم کسی مصیبت میں تو نہیں پھنس گئے یہ شارف ابدال مجھے بہت خطرناک انسان لگ رہا ہے۔”
دیبا کی پریشانی بجا تھی۔
“کچھ نہیں ہوگا آپ اطمینان رکھیں۔میڈیا کو میں جواب دے چکا ہوں۔فضیل سے کہہ کر وہ ایڈ بھی فلحال رکوادیں۔
ابھی آپ اپنے برانڈ پر فوکس کریں۔۔ایجنسی کے کام کو فلحال سکپ کردیں۔اور یہ یقین رکھیں کہ آپ کے شام علوی کی ذات پر بہت احسانات ہیں۔تو وہ آپ کو برباد نہیں ہونے دے گا۔”
اس کے مطمئن سے جواب پر انہوں نے محض اثبات میں سرہلایا تھا۔


پاپا یہ کیسے ہوسکتا ہے؟” ماہ نکاح پر نکاح کیسے؟”
مشل باپ کو دیکھ کر حیران بھی تھی۔دل چاہا ان کے سینے سے لگ جائے۔
لیکن اس وقت ماہ کی شادی ان سب کی دنیا ہلا گیا تھا۔
“وہ تو میں بھی نہیں جانتا۔لیکن اب تم ہی ہو جو ماہ کو وہاں سے نکال کر لاسکتی ہے۔شام نے ماہ تاب کو بہکایا ہے جس کی وجہ سے وہ یہ سب کرچکی ہے”۔
زوار علوی نے مان سے اسے دیکھا۔جبکہ شارف ابدال زوار علوی کی شیطانیت پر مسکرائے تھے۔
میں کیسے پاپا؟”
مشل حیران ہوئی۔
“تمہارا نکاح بچپن میں عاہن سے ہوچکا ہے “
وہ نظر چرائے بولے تو مشل نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولیں۔
“میں جانتی ہوں بابا لیکن آپ نے مجھ سے یہ حقیقت چھپا کر اچھا نہیں کیا۔۔مجھے ماہ تاب نے سب سچ بتادیا تھا۔اور میں اسی لیے یہاں آئی تھی۔
آپ جانتے ہیں عاہن ایکٹر ہے۔اور اب شام۔۔۔”
“سب جانتا ہوں۔اسی لیے تمہیں وہاں بھیج رہا ہوں۔”
“پر میں خلع نامہ بھیج چکی ہوں بلکہ دے کر آئی ہوں۔۔”
زوار علوی اپنی بے خبری پر کلس کر رہ گئے۔
ان کی عیاشی نے ان کی دونوں اولادوں کو باغی بنادیا تھا۔
دل چاہا ماہ کو جان سے ماردیں جبکہ مشل کا منہ تھپڑوں سے لال کردے۔
“پر اب تمہاری رخصتی ہوگی۔تم خود کہو گی۔عاہن سے یا اس گھر میں کسی سے تمہارا رابطہ ہے؟”
“جی عاہن یہاں آچکا ہے۔اور دادا سے بھی میں مل چکی ہوں۔بلکہ دادا بھی رخصتی ہی چاہتے ہیں۔”
انگلیاں مسلتی وہ گہرے اضطراب میں تھی۔
“ٹھیک ہے پھر تم اب ان سے خود کہو گی۔اور وہاں رخصت ہوکر جاؤ گی ۔اور ماہ کی ساری خبر لاکر دو گی۔”
شارف ابدال اس پوری گفتگو میں پہلی مرتبہ بولے تھے۔
حیرت سے اس نے شارف ابدال کو دیکھا وہ اب بھی مسکرارہے تھے۔
شارف معیز بھائی کو پتہ ہے؟”
وہ پرتجسس ہوئی۔
“نہیں میں اسے ابھی بتانے والا ہوں اور کورٹ میں اس کی گواہی سب سے زیادہ حیثیت رکھے گی۔
ماہ تاب نے میرے ساتھ دھوکا کرکے اچھا نہیں کیا۔میری نرمی کا میرے پیار کا شاید یہی صلہ ملنا تھا۔”
شارف ابدال چہرے پر حساسیت کا جال بچھائے گویا ہوئے۔
“آپ پریشان نہ ہو شارف ماہ تاب کو میں خود لاؤں گی شام نے ہی کچھ کیا ہے۔”
وہ شارف کے پاس آتی گویا ہوئی ۔انہوں نے محض اثبات میں سرہلایا تھا۔


گاڑی چلاتا وہ بمشکل ضبط کرپارہا تھا۔شارف ابدال جیسا گھٹیا انسان اس حد تک گرا ہوا تھا۔شام علوی کو اب اندازہ ہوا۔
ان کے ساتھ کیے گئے کنٹریکٹ میں دیبا اور شام کو کافی نقصان کا سامنا تھا لیکن اس وقت جنگ کاروبار کی بجائے ذاتی نوعیت کی ہوچکی تھی۔
شام کی زندگی کی جنگ تھی اس کی جاناں کی جنگ تھی۔وہ کیسے اس شخص کو چھوڑ دیتا۔
کیا ماہ کے ساتھ اس حد تک ظلم ہوتا رہا ہے وہ اس نہج پر سوچ رہا تھا جہاں سے شاید کوئی بھی نہیں سوچ پاتا۔
اس نے عاہن کانمبر ڈائل کیا تھا۔
“عاہن مجھے شارف ابدال کے سارے کاموں کی ڈیٹیل چاہیے۔تمہارے لیے کچھ مشکل نہیں ہوگا۔میں جانتا ہوں مشل کی حفاظت بھی ضروری ہے لیکن ان سب کا کنکشن شارف ابدال سے ہے۔”
“بھائی آپ پریشان نہ ہو۔میں اسی کام میں لگاہوں بس کچھ دن مزید ٹھہر جائیں۔ اس ایریے کے ایس پی سے میری بات ہوچکی ہے وہ سب خفیہ طریقے سے معلومات ہم تک پہنچائے گا۔اور زوار علوی کی بھی ساری معلومات کچھ عرصے میں مل جائےگی۔”
تھینکس عاہن۔۔”
“بھائی آپ ماہ کو سنبھالیں اسے اس وقت آپ کا ساتھ چاہیے میں جانتا ہوں یہ سب آپ کے لیے مشکل ہوگا لیکن اس کے چہرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ بہت کچھ ۔۔۔”
وہ رکا تو شام علوی کا دل شدت سے دھڑک گیا۔گہرا اضطراب وجود میں برپا ہوا۔
میں گھر ہی جارہا ہوں تم پریشان مت ہو ۔اور ہاں پاکستان کے مردِ مجاہد بیسٹ آف لک۔”
شام علوی گہرا سا مسکرائے عاہن کے لبوں پر بھی مسکراہٹ لایا تھا۔


خلافِ توقع اس پر کچھ دنوں سے کوئی نظر نہیں رکھی جارہی تھی اور یہی چیز معیز کو حیران کررہی تھی۔شارف ابدال سے بھی کافی دن سے کوئی رابطہ نہیں تھا اس طرح وہ عبیحہ کو آسانی سے تلاش کرسکتا تھا۔اور اپنی ماں کو بھی ڈھونڈ سکتا تھا۔
اس کا حلیہ دیکھ کر دل اب بھی بے قرار تھا۔ناجانے وہ کس حال میں تھی۔
احد کو ساتھ لیے وہ آج وہی جارہا تھا جہاں اس نے عبیحہ کو دیکھا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتا وہ فون کی بیل سے چونک گیا۔شارف ابدال کا نمبر دیکھ کر وہ مشکوک ہوا۔اردگرد نگاہ دوڑائی تو کوئی بھی نہیں تھا۔
ہیلو۔۔۔” وہ گویا ہوا۔
“تمہاری بیوی نکاح پر نکاح کا جرم کربیٹھی ہے اور تم ناجانے بے غیرت آدمیوں کی طرح کونسی دنیا میں جی رہے ہو؟”
شارف ابدال کی متوقع بات پر معیز حواس باختہ ہوا۔
آپ کیا کہہ رہے ہیں؟” ماہ کہاں ہے؟”
یہ سوال پوچھتے ہوئے ڈوب مرنا چاہیے۔وہ تمہاری بیوی ہے۔
“مت بولیں شارف ابدال کے میری بیوی کو آپ نے برباد کردیا ہے۔اور آپ ہی کہتے تھے کہ مجھ سے زیادہ آپ کا اس پر حق ہے ۔تو اب اس سب کی وعظ و نصیحت کا مقصد؟”
معیز کے درست تجزیے پر وہ لب بھینچ کر رہ گئے۔
“تمہیں کچھ تصویریں سینڈ کررہا ہوں۔دیکھو اپنی نام نہاد بیوی کے کام اور تم نے میڈیا کے سامنے یہ اعلان کرنا ہے کہ ماہ تاب تمہاری بیوی ہے نہ کہ اس شام علوی کی۔”
شارف ابدال کی اگلی دھماکہ خیز بات پر وہ ساکت ہوا۔
شام۔۔۔”
ایک نام لبوں سے ابھر کر معدوم ہوا تھا۔اس سماعت پر شبہ ہونے لگا ۔
اس نے فوراً کال کی کٹ کی اور وٹس اپ چیک کیا۔
جہاں تصاویر آچکی تھیں۔
معیز کی آنکھیں پھیلی لب نیم واہ ہوئے۔
معیز علوی کے لیے جیسے ساری دنیا معلق ہوگئی تھی۔یاد رہا تھا تو بس سامنے کا منظر۔
اس نے بے اختیار موبائل کی سکرین کو کانپتی انگلیوں سے چھوا۔
وہ اس کا دوست اس کا مسیحا شہرام ہی تھا۔لیکن پہلے سے زیادہ خوبرو پہلے سے زیادہ اونچالمبا ہوچکا تھا۔
یعنی ماہ تاب اپنے اصل کی جانب لوٹ گئی تھی۔معیز کی آنکھیں تشکر سے نم ہوئی۔ماہ کی شبِِ یقین ممکن ہوچکی تھی۔اور وہ بے خبر رہ کر شکر کا سجدہ بھی ادا نہیں کرپایا تھا۔
لیکن ماہ اس تک پہنچی کیسے تھی۔؟حیرت طلب بات تھی جو اسے مزید الجھا چکی تھی۔


کمرے میں داخل ہوتے شام کو دیکھ کر ماہ تاب بے قراری سے اس کی جانب بڑھی۔جس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔
شام۔۔پلیز۔میرا۔۔۔یقین کرنا۔۔وہ جھوٹا آدمی ہے۔میں جانتی ہوں۔اس نے میرے خلاف بہت سی باتیں کی ہیں لیکن۔۔پلیز۔۔مجھے چھوڑنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیجیے گا۔
اس کے چہرے پر پھیلی بے یقینی بھانپتی وہ دونوں ہاتھ سینے پر رکھے حسرت سے اسے پکار رہی تھی۔
شام نے بے ساختہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا۔شارف ابدل کی سب باتیں جیسے فالتو شے کی مانند لگی۔
ماہ تاب علوی کا دل اور روح پاکیزہ تھے۔وجود پر اگر کسی کا غلیظ لمس تھا بھی تو اس مہربان شخص کو پرواہ نہیں تھی اس کی روح شام علوی کے لیے وقف تھی۔
“خود سے قیاس لگانا چھوڑو گی تو زندگی میں آگے بڑھو گی اپنے خوف پر قابو پاؤ گی۔”
توقع کے برعکس بات پر ماہ کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔
شام نے دھیرے سے نم آنکھوں کو دونوں انگوٹھوں سے رگڑ دیا۔اور ماتھے پر پرشدت لمس کی چھاپ چھوڑ دی۔
ماہ کا دل شدت سے دھڑک اٹھا تھا۔اس لمس نے تو جیسے نئی زندگی کی نوید دی تھی۔وہ محبوب کے لمس سے مہک اٹھی تھی۔
لیکن اگلے ہی لمحے وہ مہک اپنے ہر عمل سے چھین لی گئی تھی۔
“تمہارا جرم بہت بڑا ہے ماہ۔۔لیکن تمہارے معاملے میں میرے دل میں ہمیشہ وسعت رہی ہے۔میری محبت تو چھ سال پہلے ہی ختم ہوچکی ہے۔لیکن تم اب میری ذمہ داری ہو۔جسے میں بخوبی نبھاؤں گا۔ جس کے لیے میں ہر حد تک جاؤں گا۔پر مجھ سے کبھی محبت کا دعویٰ مت کرنا کیونکہ میری محبت کو تم نے اپنے پاؤں تلے نہایت درناک طریقے سے کچل دیا تھا۔اس سفید محل کی دیواروں میں میری محبت کی قبر دفن ہیں۔
اور جب محبت کی قبر بن جائے تو وہ کبھی زندہ نہیں ہوتی۔ “
آپ جھوٹ بول رہے ہیں شام۔۔” وہ ساری فکر بھلائے اس کے چہرے کے نقوش جذب کرتی اطمینان سے بولی۔
شام کے ماتھے پر تین لکیریں ابھری۔چہرے پر اس نے بے ساختہ گرفت سخت کی کہ جبڑے سخت دباؤ کو محسوس کرتے درد کی راہ پر قدم رکھنے لگے۔
ماہ تاب کے چہرے پر درد کے باوجود اطمینان تھا۔ایک جاذبیت تھی جو شام علوی کی نگاہ بھٹکا رہی تھی۔
یکلخت اس کے دماغ میں جھماکہ ہوا تھا۔
وہ لڑکی تو چہرے پڑھنے کا ہنر رکھتی تھی۔اور شام علوی کا چہرہ تو من پسند چہروں میں سے تھا۔
شام نے بے ساختہ نگاہ چرائی تو ماہ نے اس کا چہرہ دوبارہ اپنی جانب موڑ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔دل گستاخی پر اکسانے لگا تو جذبات کا سمندر آنکھوں میں بھڑکنے لگا۔
گہری براؤن سی آنکھوں میں پنپتے جذبات کا عکس دیکھتی وہ دل تک اترتے سکون کو محسوس کرتی مسکرائی تھی۔
شام نے پل بھر میں اسے چھوڑ کر رخ موڑا تھا۔
فسوں ٹوٹا تو وہ سرخ چہرے کے ساتھ سانس بھرتی رخ موڑ گئی۔
ایک دوسرے کے مخالف سمت کھڑے وہ ایک دوسرے کی دھڑکن سننے کو بے تاب ہوئے تھے۔


جاری ہے۔