Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

شام!! بھاری پکار سنتا وہ ہوش کی جانب لوٹا۔بازو سن ہوتا بالکل بے جان تھا۔
ہممم!! وہ نیند کے خمار میں غرق محض یہی کہہ پایا۔
آپ کی کالز آرہی ہیں۔”
وہ ہنوز نرمی سے بولی جبکہ دل شدت سے دھڑک رہا تھا۔
اس کے پہلو میں براجمان وہ شام علوی کی توانا بازو پر سر رکھے ہوئے تھی۔ایک سکون رگوں میں اترا تھا۔
شام نے جھٹ آنکھیں کھول کر حیرت سے اسے دیکھا جو بالکل پہلو میں تھی۔
جھٹکے سے اس نے اٹھنا چاہا جب بازو کی حرکت نے اسے بے حال کیا۔وہ لب دبا گیا۔
ماہ آرام سے اٹھی اور سنہری بالوں کو سمیٹا جو آدھے اس کے سینے پر بکھرے تھے۔
ان نرم سے بالوں کی دلفریب مہک نے مقابل کو مہکایا تھا۔درد زائل ہوتا جیسے نگاہ کو بھی بھٹکا گیا۔
ماہ نے اس کو ساکت لیٹا دیکھ کر حیرت کا مظاہرہ کیا۔
کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں؟” وہ اس کے چہرے پر چھلکتا درد بھانپتی نرمی سے مڑی۔اور چہرے پر ہاتھ رکھا
“ہممم میں ٹھیک ہوں۔”
انجان سا بنتا وہ اٹھنے لگا جب بازو میں شدت سے درد اٹھا یہ وہی بازو تھا جو چھ سال پہلے فیکچر ہوا تھا۔۔کچھ ماہ کے نرم نازک وجود سے اور کچھ ایک ہی کروٹ لیٹے رہنے کی وجہ سے وہ سن ہوکر درد کا موجب بن رہا تھا۔
“آئی ایم رئیلی سوری مم۔۔میں نے جان کر نہیں۔رئیلی شام۔۔ “
وہ بازو ہلکا سا اٹھاتی روہانسی ہوئی۔
سفید رنگت میں گھلی گلابیاں دیکھتا وہ مسرور ہوا۔اور یہ چیز حیران طلب تھی کہ ماہ تاب کو اس کا درد یاد تھا۔
“اٹس اوکے ۔۔تم۔فریش ہوجاؤ آج ہماری ڈاکٹر سے اپائٹمنٹ ہے۔میں دیبا سے کنفرم کرتا ہوں۔”
دوسرے ہاتھ سے بازو آزاد کروا کر وہ اٹھنے لگا۔جب ماہ نے اس کے کندھے پرہاتھ رکھا۔
“میں جانے انجانے میں ہر بار آپ کے درد کی وجہ بن جاتی ہوں۔”
وہ اب ہلکا ہلکا بازو پر مساج کرکے درد کو زائل کرنے میں ہلکان تھی۔
“ماہ چھوڑ دو ۔۔ٹھیک ہوجائے گا۔”
اس نے نرمی سے سر ہٹا کر پاؤں میں جوتے پہنے۔اور کھڑا ہونے لگا۔
جاناں کب کہیں گے؟” اس کی حسرت پر ڈوبی آواز نے مقابل کو آنکھیں میچنے پر مجبور کیا۔
شاید کبھی نہیں ۔۔” وہ پل بھر میں ستمگر بنتا اس کا ہاتھ نرمی سے جھٹکتا واش روم کی جانب بڑھا۔
ماہ تاب تلخ سا مسکراتی آنکھ کا کونا رگڑ گئی تھی۔


ماما کی کال دیکھتی وہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔
دلہن کے سراپے میں وہ مکمل تیار تھی۔اس کاپور پور سجا سراپا کسی پری جیسا تھا۔
شارف ابدال نے ہی سب انتظامات کیے تھے۔
سبز نینوں میں چمکتی نمی کو اس نے بمشکل جھپک کر پیچھے جھٹکا۔
کال پک کر کے اس نے موبائل کان سے لگایا۔
مام کیسی ہیں آپ؟”
وہ خلاف توقع نرمی سے بولی۔بے شک یہ شادی ایک پلاننگ کے تحت تھی لیکن وہ پہلی مرتبہ اپنوں سے اتنا دور جارہی تھی۔اس شخص ہمراہ ہونے والی تھی جس سے اس ک ایک بے رخی بھرا تکلف دل تعلق رہا تھا۔
“مم۔۔میں آپ کو بہت مس کروں گی۔”
وہ بےاختیار ہوئی تو شبنم بیگم کی آنکھیں بھیگی۔
“مام اس چند عرصے میں ہم اتنا دور ہوچکے ہیں کہ کبھی آپ کے سینے سے نہیں لگ پائی لیکن آج میرا دل چاہ رہا تھا کہ آپ مجھے سینے سے لگاتی۔۔مجھے اپنے ہاتھوں سے رخصت کرتی پر شاید قسمت بھی نہیں چاہتی۔”
مشل۔۔میرا بیٹا۔۔”
مام مجھے کچھ خاص لفظوں کی چاہ نہیں ہے۔کیونکہ آپ کے لفظ مجھے بے چین کریں گے۔
لیکن میرے لیے دعا ضرور کیجیے گا۔ کیونکہ ماؤں کی دعائیں عرش سے ٹکراتی ہیں۔
وہ فون کاٹتی لب دانتوں میں دباتی بڑھتی سسکیوں کو بمشکل روک پائی۔
اسد کی کئی کالز میسجز دیکھتی وہ حیران ہوئی۔جانتی تھی وہ اپ سیٹ ہوگا۔لیکن اس کے دل میں اسد کے لیے کبھی کوئی خاص جذبات نہیں رہے تھے۔
ایک الگ سی بے چینی ایک الگ سی بو تھی جو اسے محسوس ہوتی تھی۔شاید یہ کسی کی امانت کی خوشبو تھی جو اسے اسد کے قریب ہونے سے روک دیتی تھی۔
شارف ابدال کے ساتھ بھی وہ بارہا ہاتھ ملاچکی تھی ان کے گلے بھی کئی بار لگی تھی۔لیکن جیسے ہی وہ نزدیک آتے وہ پیچھے ہٹ جاتی تھی۔
لیکن جب جب عاہن اس کے قریب آیا تھا ایک خوشبو دار حصار ایک مضبوط سی نرم خو دیواریں جو اس کے بے چین دل کو راحت میں بدل دیتی تھی۔
وہ اپنی کیفیت شاید کسی کو نہیں سمجھا پاتی لیکن ایسا تھا جو اسے منفرد لگتا تھا۔کیا وہ پاکیزگی میں ڈھلی لڑکی تھی۔یا پھر اس کی روح میں ایک انفرادیت تھی۔؟؟
کچھ سوچ کر اس نے میسج ٹائپ کیا تھا۔
“اسد میں جانتی ہوں تم اداس ہوگے اور تمہیں مجھ پر غصہ بھی ہوگا لیکن میں اپنے نکاح کی حقیقت نہیں جانتی تھی۔لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ میرا نکاح ہوچکا ہے۔میں تھم گئی تم سے دور آگئی کیونکہ وہ شخص جیسا بھی ہے میرا شوہر ہے۔میں کم ازکم اس رشتے میں بددیانتی کی مرتکب نہیں ہوسکتی۔تم محض میرے ویڈیو پارٹنر تھے۔کوشش کرنا کسی اچھی سی لڑکی سے شادی کرلینا۔”
میسج سینڈ کرکے اس نے اسے بلاک کردیا تھا۔
واؤ ۔۔” شارف ابدال کی آواز سن کر وہ سب سوچیں جھٹکتی دلفریب سا مسکرائی۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا مشل علوی اس جوڑے میں اتنی خوبصورت لگے گی۔ویسے تمہارے ہسبنڈ کی چوائس بہت اچھی ہے۔”
اس کا ہاتھ تھامے وہ مزید قریب ہوئے تو مشل نے چند قدم پیچھے لیے۔
“کم آن مشل ۔۔۔”
انہوں نے اسے ہلکا سا قریب کیا تو پیشانی پر کئی بوندیں سمٹ آئی۔
نفیس گرین ڈائمنڈ بریسلٹ اس کی کلائی کی زینت بنائے انہوں نے ہاتھ اوپر کیا تو مشل نے اس بریسلٹ کو دیکھا جس کی خوبصورتی آنکھوں کو مسمرائز کررہی تھی۔
“اٹس سو بیوٹیفل اینڈ تھینکس شارف۔۔” وہ ہاتھ آزاد کروا کر بریسلٹ دیکھتی گویا ہوئی۔
“میں تمہیں ہمیشہ سب سے الگ گفٹ دینا چاہتا تھا اورتمہیں سب سے الگ رکھنا چاہتا تھا۔بٹ تمہارے پاپا نے کچھ فیصلے بہت غلط کیے۔تم اس لڑکے کو ڈیزرو نہیں کرتی۔”
“نن نہیں شارف۔۔پلیز پاپا کو کچھ مت کہیں ۔”
وہ نہ چاہ کر بھی انہیں ٹوکتی بدقت مسکرائی۔
اس آخری ملاقات میں ناجانے کیا سحر مشل علوی پر پھونکا گیا کہ وہ شخص اسے اچھا لگنے لگا تھا۔یا پھر یہ نئے رشتے کا تقاضا تھا کہ وہ شارف ابدال کے منہ سے بھی برائی نہیں سن پائی تھی۔
“ہممم میں جانتا ہوں بٹ یہ بریسلٹ میں نے سپیشل تمہارے لیے ارجنٹ ڈیزائن کروایا ہے کبھی اسے جدا مت کرنا۔”
شیور !!” یہ میرے لیے آپ جیسا ہی قیمتی ہے۔میں کبھی الگ نہیں کروں گی۔”
اپنی سرمئی آنکھوں سے اس کا چہرہ نہارتے وہ بمشکل ڈگمگاتے جذبات پر قابو رکھ پائے تھے۔


” چچی اور دادا وغیرہ کہاں جارہے ہیں؟”
گھر میں ہوتی چہل پہل پر اس نے شام سے استفسار کیا جو آئینے کے سامنے کھڑا پرفیوم چھڑک رہا تھا۔
مشل کی رخصتی ہے۔وہ اطمینان سے بولا تو ماہ کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔
تو کیا ہم بھی جائیں گے؟” وہ سمہی سی بولتی شام کو ساکت کرگئی ۔
نہیں۔۔”
ماہ کے دل سے بھاری بوجھ سرکا تھا۔
“میں نہیں چاہتا کہ تم وہاں جا کر ڈسٹرب ہو اسی لیے فلحال ہم وہاں نہیں جائیں گے۔ہم ڈاکٹر سے مل کر دیبا کی طرف جائیں گے۔”
دیبا کا سنتی وہ حیران ہوئی۔۔
دیبا کون ہے؟”لہجے میں کاٹ محسوس کرتا اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے جو وہ بمشکل چھپا پایا۔
میری پارٹنر ہے۔
پپ پارٹنر مطلب؟؟”
ماہ جلدی سے آگے آتی ڈریسر کے پاس کھڑی ہوئی ۔
شام بے ابرو اچکا کر اسے دیکھا ۔ماہ کی نگاہ میں الجھن تھی۔
“پارٹنر تو پارٹنر ہوتا ہے۔”
“پارٹنر کئی قسم کے ہوتے ہیں۔آپ بتائیں کیسے پارٹنر؟”
ماہ تاب !!!”چار بجے ڈاکٹر سے اپائٹمنٹ ہے۔چھ بجے ہمیں گھر واپس آنا ہے۔تو جلدی سے ریڈی ہوجاؤ باقی سوالات کے جواب دینا میں فلحال دینا نہیں چاہتا۔”
وہ بال سنوارتا بولا ۔
ماہ کے گلے میں پھندا سا اٹکا تھا۔
اپنے سوال کی نفی پر اس نے سرجھٹک دیا۔
کیا تم شارف ابدال کے پاس جانا چاہتی ہو؟”
ماہ سہمی اپنی جگہ سے اچھلی ۔شام کو اپنے سوال پر پچھتاوا ہوا۔
“سوری۔۔تم چینج کرو جاکر۔اور میں اجّو سے ناشتہ منگواتا ہوں۔”
ماہ تاب نے اثبات میں سرہلایا۔
اس کے ڈر کو محسوس کرتا وہ پرسوچ ہوا تھا۔
ماہ تاب علوی کو جسمانی اذیت سے زیادہ ذہنی اذیت دی گئی تھی جو اس کے لیے کافی خطرناک تھی۔
نفسیاتی لحاظ سے اس جہنم سے وہ نکل کر زیادہ ڈرپوک ہوچکی تھی۔
کیونکہ وہاں وہ پل پل اذیت محسوس کرتی اس زندگی کی عادی ہونے لگی تھی۔لیکن شام علوی کے میسر آئے ساتھ نے اسے ڈرپوک بنایا تھا۔شارف ابدال کا ہلکا سا ذکر بھی اسے کسی گہری کھائی میں دھکیل سکتا تھا۔


سیاہ شلوار سوٹ زیب تن کیے اس نے آئینے میں اپنا خوبرو سا چہرہ دیکھا۔سیاہ چمکدار آنکھوں میں ایک جنون خیزی لیے وہ عاہن علوی اس نرم خو ایکٹر سے بہت الگ لگ رہا تھا جو ایکٹنگ کے جوہر دکھا کر سب کو اپنا گرویدہ بناتا تھا۔
بھوری تاروں والے سیاہ بالوں کو آج اس نے پیچھے کی جانب جمایا۔
کمرے سے نکل کر وہ شام کے کمرے کی جانب آیا۔
ایک گہرا سانس فضا کے سپرد کرتا وہ ساری سختی بھی جیسے گم کرگیا تھا۔
دروازہ نوک کرکے وہ اندر داخل ہوا تو ماہ تاب سیاہ لباس کے ہالے میں کاؤچ پر دراز تھی۔جبکہ شام واش روم میں ہاتھ دھونے گیا تھا۔
وہ لوگ ناشتہ کرچکے تھے۔۔ماہ نے اسے دیکھا تو دھیما سا مسکرائی۔اس مسکراہٹ میں بھی ہلکی سی ججھک تھی۔
“مجھ سے گھبرایا مت کرو۔میں وہی عاہن ہوں۔تم سے کچھ ماہ چھوٹا کزن۔لیکن تمہاری بہن کے لیے میں ایک نیا عاہن ہوں ۔جو اس سے گن گن کر بدلے لے گا۔اسے بتائے گا کہ ستانا کیسا ہوتا ہے۔”
ماہ نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا تو سامنے شام تھا۔جو عاہن کے برابر کھڑا تھا۔
سیاہ رنگ میں من پسند چہرہ کھل سا گیا تھا۔
اس کی گلاب میں گھلا سفید چہرہ شام علوی کی نظر بھٹکا رہا تھا۔
شام نے عاہن کے کندھے پر تھپکی دیتے بازو حائل کیا تو وہ بے ساختہ شام کے گلے لگا۔
“میری خواہش تھی آپ میرے ساتھ جاتے لیکن اس گھٹیا انسان کی وجہ سے میں نہیں چاہتا آپ یا ماہ تاب تکلیف محسوس کریں”۔
“فکر مت کرو تمہارے ریسپشن پر پوری انڈسٹری کو انوائیٹ کروں گا۔”
ماہ ان دونوں بھائیوں کا پیار اتفاق دیکھتی حیرانگی کے ساتھ حسرت زدہ تھی۔ایسا لگا جیسے وہ محبتوں کے ہالے میں لپٹے ہیں۔
سعادت اور زوار علوی بھی تو دو بھائی تھے لیکن محض زوار علوی کی شیطانیت نے ہر کام تباہ وبرباد کیا تھا۔
ان کی دلفریب محبت کے لیے کئی حصار دعائیہ انداز میں باندھتی ان کو دیکھتی رہی تھی۔


دروازے پر دستک ہوئی تو اس کا دل شدت سے دھڑکا۔وہ اپنے کمرے میں موجود تھی۔
لیکن اس شخص کے آنے کی خوشبو اسی دھمک نے مشل علوی کےوجود میں حشر بھرپا کیا تھا۔
باہر موجود زوار علوی اتنے سالوں بعد باپ کو دیکھتے فطری انسیت کے تحت آگے بڑھے تھے۔
سعادت علوی اور سدرہ بیگم سر اٹھاۓ تمام منظر دیکھ رہے تھے لیکن اس تمام تر منظر نے انہیں کئی سالوں کی اذیت یاد کروائی تھی۔
آج بھی اس خوف کے حصار میں وہ سعادت کا ہاتھ جکڑ گئی۔اپنے ہونے کا احساس دلا کر انہوں سدرہ بیگم کا ہاتھ تھاما۔
وہ جہاندیدہ عورت تھیں۔لیکن اس بھیانک دن کا خوف اب بھی ان کے رونگھٹے کھڑے کردیتا تھا۔
شارف ابدال نے بیزاریت سے یہ مناظر دیکھتے ایک جانب کھڑے رہے۔۔
یہ فرنشڈ فلیٹ تھا۔جس میں چھ انسان آرام سے رہ سکتے تھے ۔
عاہن ان سے فاصلے پر ہی رہا تھا۔
سیاہ شلوار سوٹ پر سیاہ واسکٹ پہنے وہ اپنے اونچے لمبے سراپے میں زوار علوی کو کافی خوبرو لگا۔
نکاح چونکہ ہوچکا تھا۔کچھ دیر میں مشل کو باہر لایا گیا تو شارف ابدال کو اس کا بازو پکڑے دیکھ کر وہ بمشکل ضبط کرپایا۔
تیزی سے آگے بڑھ کر اس نے مشل کا نرم ونازک بازو شدت سے دبوچا۔
وہ سسکی تھی جبکہ زوار علوی بھی حیران ہوئے۔
سعادت علوی نے نگاہ سے تنبیہہ کی تو وہ نظرانداز کرگیا۔
شارف ابدال اس لڑکے کی ہمت و جرات دیکھتے حیران ہوئے۔دل میں جیسے آگ بھڑک اٹھی۔لیکن چہرے پر ہنوز نرمی اور ایک الگ جاذبیت تھی۔وہ اپنے احساسات دنیا سے بھی چھپا کر رکھنے والے شخص تھے۔
سعادت علوی نے اس آدمی کو بغور دیکھا۔انہوں یہ حیرانگی ہوئی تھی کہ اتنا دلفریب شخص ان کا دوست کیسے بن گیا۔
بدر علوی اور ان کی زوجہ کی نگاہ میں بھی حیرانگی تھی۔
ایک غیر شخص کی خاطر انہوں نے ناجانے کتنی زندگیوں کو رلایا تھا انہیں اندازہ بھی نہیں تھا۔
مشل نے بار بار کن انکھوں سے عاہن کو دیکھا جس کا چہرہ آج سفاکیت سے اٹا تھا۔اس پر مستزاد اس کی سیاہ سرد سی آنکھیں اس کے وجود کو بھی ٹھٹھرارہی تھی۔
ڈیڈ چلیں۔۔۔” کچھ دیر میں ہی اس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔
زاوار علوی نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ ترچھی کیے انہیں استہزائیہ نگاہ سے دیکھتا یکلخت اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اس پری چہرہ لڑکی کا ہار سنگھار دیکھنے کی اس میں ایک پرسنٹ بھی خواہش نہیں تھی۔
مشل کا دل دھک سارہ گیا۔ناجانے کیوں اس کا دل چاہا عاہن اسے دیکھےاس کی آنکھوں میں ستائش ابھرے وہ دیکھے کہ وہ اس کے لائے لہنگے میں کتنی دلفریب کتنی حسین لگ رہی ہے لیکن وہ بے مہر بنا شخص سامنے دیکھتا رہا ۔
بنا کچھ کھائے پیے بنا کسی مٹھاس سے لبوں کو چاشنی بخشے وہ آج انوکھے طرز کی رخصتی کرتے وہاں سے نکلے تھے۔
عاہن کی آہنی گرفت میں جکڑی اس کی بازو کو مشل نے دانت سے لب کاٹ کر سسکی کو روکا تھا۔
جبکہ زوار علوی اس کا بے رحمانہ سلوک بھانپ کر بھی ضبط کرگئے تھے ۔اس وقت مشل کا وہاں جانا اس کی ہر تکلیف سے بڑھ کر تھا۔


ڈاکٹر سے میڈیسن اور مختلف ہدایات لے کر وہ باہر آیا تھا۔
شام کو کئی لوگوں نے دیکھ کر اس سے آٹو گراف مانگا تو وہ مسکراتے کئی لوگوں سے ملنے لگا۔
لوگ اسے ماہ کے ساتھ ہاسپٹل میں دیکھ کر حیران بھی تھے۔
“سر آپ کی وائف بہت پیاری ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے انہیں آپ کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔پر آپ ہاسپٹل میں سب ٹھیک ہے؟”
“آفکورس شی از مائے انوسینٹ وائف ۔اور بس انہیں موسمی بخار تھا اسی لیے میں چیک اپ کے لیے لے کر آیا تھا۔”
نرمی سے اس کے گرد بازو حائل کیے اس نے ماہ تاب کو ساتھ لگایا تو ایک مضبوط خوشبودار سا حصار اس کے گرد ہالہ بنا گیا۔
آج مقابل موجود لوگوں کی نظروں میں اسے دیکھنے یا چھونے کے لیے ہوس نہیں تھی۔بلکہ ان نگاہوں میں اپنے فیورٹ ماڈل کے ساتھ دیکھ کر اشتیاق تھا خوشی تھی۔
اتنے سال بعد اپنے چہرے کے گرد لپٹے حجاب کو اس نے رب کا انعام سمجھا تھا۔جو شام علوی کی بدولت اسے نصیب ہوا تھا۔
وہ بے ساختہ اس کا بازو جکڑتی مزید قریب ہوئی تو ہلکا سا کندھا سہلا کر اس نے اپنے ساتھ کا مان نہایت خوش اسلوبی سے دیا تھا۔
وہ شخص بند کمرے میں اجنبی دیوار حائل کرلیتا تھا لیکن آج وہ اس کا شام بنا اسے ساتھ لیے کھڑا تھا۔
ان سے بمشکل اجازت لے کر اس نے ماہ کےمنہ پر ماسک لگایا۔اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔
اس کی مضبوط انگلیوں کو گالوں پر محسوس کرتی وہ سٹیٹائی تھی۔لیکن وہ نرمی سے اپنا کام کرتا دور ہوا۔
“دببا کی طرف ہمارا پرسوں کا انویٹیشن ہے۔تم بتاؤ کہیں جانا چاہتی ہو؟”
اس کا محبت بھرا لہجہ ، جاذبیت سے اس سے رائے لینا ماہ تاب کی سیاہ غلافی آنکھوں میں موجدار سمندر لایا۔
وہ بے ساختہ اس کے کندھے سے لگ گئی۔
“مجھے جانان کہہ کر پکاریں گے تو دل میں جو آخری پھانس ہے وہ بھی نکل جائے گی۔”
وہ نم ہوتی آواز سے بولی تو شام نے سٹیرنگ پر گرفت مضبوط کی۔
“کچھ خواہشات اور کچھ نام بے مقصد رہ جاتے ہیں۔سمجھ لو یہ خواہش بھی وقت کے گرد میں لپٹ کر کہیں چھپ گئی ہے۔”
انگوٹھے سے آنسو رگڑ کر اس نے گاڑی سٹارٹ کی۔
ماہ تاب ہنوز اس کے کندھے پر سر رکھ بیٹھی رہی۔
وہ لڑکی اپنے عمل سے پل پل اس کا ضبط آزماتی تھی۔
اس کا دل شدت سے دھڑکانے کا موجب بن رہی تھی۔
اس کے وجود سے اٹھتی دلفریب خوشبو بالوں کی نشہ طاری کرتی مہک کے حصار میں بیٹھا وہ اپنے دل میں بھڑکتے جذبات پر بمشکل قابو رکھ پایا تھا۔


جاری ہے