Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

پندرہ دن بعد وہ آج واپس لوٹ آئی تھی،۔
اس سارے عرصے میں وہ ایک بےجان مورت کی مانند شارف ابدال کی ہر میٹنگ اٹینڈ کرتی رہی،۔
نہ شارف ابدال نے اسے تنگ کیا نہ اس نے اووری ایکٹ کیا،۔
گھر میں داخل ہوکر وہ سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھی،
اور پھر کمرے میں آکر ماہ تاب علوی کا ضبط ٹوٹ گیا تھا،۔آنسو پھر شدت سے بہہ نکلے، اپنی بازو کو کھرچتی وہ دیوانی ہونے لگی،،گہری خراشیں بازؤں پر ابھر آئیں جن سے خون نکلنے لگا تھا،۔
چیخ چیخ کر گلے میں خراشیں ابھر آئی،۔
اپنے کمرے میں تیار ہوتی مشل نے واضح ماہ تاب کی چیخیں سنی تھیں۔وہ عادی تھی، ان سب چیزوں کی،۔
وہ ہنوز بے حس بنی اپنے کام میں مصروف رہی، اسے حیرت بھی ہوتی تھی کہ وہ لڑکی شارف ابدال کے ہم قدم ہونے کے باوجود بھی فضول میں تماشے کرتی ہے، حالانکہ اس شخص کی ہمراہی میں کون ناخوش رہ سکتا ہے،۔
وہ بڑبڑا کر رہ گئی تھی،۔
چند ساعتوں بعد وہ نک سک سی تیار کمرے سے نکلی،۔ماہ تاب کے کمرے سے ابھرتی سسکیوں نے آج بے ساختہ مشل کے قدموں کو روکا تھا،۔
وہ گہری سانس بحال کیے رخ موڑتی ماہ تاب کے کمرے کی جانب بڑھی،۔
بنا دستک دئیے وہ اندر داخل ہوئی،
ماہ تاب سلیولیس شرٹ اور ٹائٹس میں اجڑے دیار کی مانند زمین پر دراز تھی،۔
ماہ تاب !! مجھے سمجھ نہیں آتا، تم چاہتی کیا ہو، شارف اتنے اچھے ہیں تمہیں ہر معاملے میں سپورٹ کرتے ہیں ایون جب تم نے معیز سے بھاگ کر شادی کی تب بھی بابا سے انہوں نے ہی بچایا تھا،۔
ہر میٹنگ میں وہ تمہیں لے کر جاتے ہیں حالانکہ تمہاری یہ عیب زدہ زبان ہر چیز میں رکاوٹ کی وجہ ہے، ، بابا کو شارف نے زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا،۔
سب کچھ تمہیں حاصل ہے پھر تم کس بات کا غم مناتی ہو؟”
اپنے پیچھے مشل کی آواز سنتی وہ سیدھی ہوئی،۔ دل چاہا بھاگ کر اس کے گلے جا لگے، لیکن اس کی چند لمحوں کی گفتگو نے اسے وہی ساکت کیا تھا،۔
وہ اسے وہی ایستادہ دیکھ کر سرجھٹکتے باہر کی جانب بڑھنے لگی،۔
لیکن وہ تھمی تھی،۔
ماہ تاب علوی بھاگ کر اس کے روبرو ہوئی،۔
مشل نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر اس کا متورم چہرہ دیکھا اور ابرو اچکائے سوالیہ انداز اپنایا،؟
بے ساختہ وہ مشل کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر روئی،۔
مشل تھم سی گئی، سانس جیسے سینے میں اٹکا، لرزتی تڑپتی ماہ تاب علوی نے شدت سے اسے تھاما تھا،۔ہاتھ میں جکڑا بیگ زمین بوس ہوا،
وہ اسے دور ہٹانا چاہتی تھی لیکن نہ جانے کیوں نہیں کرپائی،
مم مشل خدارا مجھے جھٹکنا مت ، ممم میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں۔پلیز کچھ مت بولنا،۔
وہ سرگوشیانہ سسکی لیتی مدھم سابولی،۔
شارف اچھا انسان نہیں ہے،۔وہ غلط آدمی ہے، تت تم اس سے دور رہو، وہ تمہیں برباد کردے گا، وہ تمہاری نسوانیت کا سودا کرنے والا ہے،۔
تم کسی کے نکاح میں ہو مشل!! میں تو برباد ہوچکی ہوں۔لیکن میں تمہیں برباد نہیں کرنا چاہتی،۔
تم کسی کی امانت ہو،،”
ایک سانس میں حقیقت گوش گزارتی وہ سسکی تھی۔
مشل علوی کے سامنے جیسے زمین و آسمان گھوم کر رہ گئے، آسبز رنگ آنکھوں نے جیسے اندیکھی حقیقت کو بدقت قبول کیا،۔
وہ ایک سانس میں ساری حقیقت بیان کرتی مشل کے ہوش اڑاتی بے حال ہوئی،،
نن نکاح!! وہ ہولے سے بڑبڑائی،۔مشل نے دور ہٹنا چاہا لیکن ماہ تاب نے اس کی ہر کوشش ناکام بنائی،
مشل میں ہر وقت شارف ابدال کی نگاہ کے حصار میں ہوں ،، پلیز مجھے جھٹک مت دینا، خدارا میں سچ کہہ رہی ہوں۔
تمہارا نکاح ہوچکاہے، پانچ سال کی تھی تم جب تمہارا نکاح ہوا تھا، عاہن،، ہاں عاہن،، سعادت چچا کا بیٹا،، پلیز کچھ مت بولنا،،
پلیز میرے نمبر پر بھی میسج نہ کرنا میرا موبائل ہیک ہے وہ مکمل شارف کے کنٹرول میں ہے، پلیز مشل!!
وہ آج چھ سالوں کی چھپی حقیقت مکمل مشل کے حوالے کرچکی تھی،۔
مشل نے جھٹکے سے ماہ تاب کو دور دھکیلا، چند ثانیے وہ ساکت رہی لیکن یکلخت کانپتے ہاتھوں سے اس نے بیگ اٹھایا، لڑکھڑاتے قدموں سے وہ باہر کی جانب تیزی سے بڑھی۔
اسد کو اس نے کانپتے ہاتھوں سے میسج کیا،۔کہ وہ آج نہیں آئے گی،
بیگ کمرے میں داخل ہوتے ہی زمین بوس ہوا،۔
یہ ماہ تاب کیا کہہ رہی تھی، اس کا نکاح کیسے؟ اسے کیوں نہیں پتہ تھا کہ اس کا نکاح ہوچکا ہے نہ کبھی زوار علوی نے نہ کبھی شبنم نے ذکر کیا ، پھر ماہ تاب کیوں کہہ رہی تھی،۔ اور شارف برے انسان کیسے ہوسکتے تھے، وہ تو مشل کو ہر معاملے میں سپورٹ کرتے تھے،۔ان کی بدولت ہی تو وہ اتنی آزادانہ زندگی گزار رہی تھی،۔
وہ اس کی ہر خواہش پوری کرتے تھے، پھر وہ شخص غلط کیسے،؟
یقیناً ماہ تاب ہی جھوٹی تھی، اسے تو ہر معاملے میں واویلا کرنے کی عادت ہے ، یہ سوچیں مشل کے دماغ کی تھیں۔
وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی، لیکن نکاح کوئی عام بات نہیں تھی،۔یقیناً کچھ تھا ماہ تاب کے لفظوں میں کہ وہ جھٹلا نہیں سکتی تھی،۔
نہیں !! “ماہ تاب جھوٹی ہے ، شارف بہت اچھے انسان ہیں۔،۔میرا کوئی نکاح نہیں ہوا،۔اور وہ عاہن،،نن نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ مم میں مام سے پوچھتی ہوں ،ہاں وہ جواب دیں گی،۔”وہ سب سوچوں کو بھاڑ میں جھونک کر تیزی سے نیچے کی جانب بڑھی،
جاتے ہوئے اس نے ایک نظر ماہ تاب کے دروازے کی جانب ڈالی جو بند تھا،۔
مام !! وہ اونچی آواز میں انہیں پکاررہی تھی،۔
بی بی جی !! بڑی میڈم جاچکی ہیں۔،
ملازمہ کی آواز پر اس نے بمشکل اشتعال دبایا،۔
گھڑی کی جانب دیکھا تو دن کے بارہ بجا رہی تھی۔
اور شبنم تو گیارہ بجے ہی چلی جاتی تھی،۔
ذہن مختلف سوچوں کی اماجگاہ بن چکا تھا،۔
وہ نفی میں سرہلاتی ہولے سے بڑبڑائے دوبارہ اوپر کی جانب بڑھ گئی تھی اب سارے جواب شبنم کے آنے کے بعد ہی مل سکتے تھے،۔
❤❤❤❤❤
ہیلو دیبا!! پچھلے دنوں ہوئے فیشن شو میں وہ کافی مصررف رہا تھا،
آج فراغت کے بعد وہ حسب معمول دیبا کے آفس میں موجود تھا،۔
شام !! بیٹھو!! یہ کچھ نئے چہرے ہیں۔،
“ان میں سے جو تمہیں قابل لگ رہے ہیں، انہیں سلیکٹ کرتے جاؤ”،۔
لیپ ٹاپ اس کی جانب بڑھاتی وہ دوبارہ موبائل میں مگن ہوئی،۔
دیبا!!! “یہ کام آپ اچھے سے کرلیتی ہیں”۔
پھر مجھے کیوں خوار کررہی ہیں؟”
وہ جان چھڑاتا کاؤچ پر دراز ہوا،۔
تم کیوں اتنا دور بھاگتے ہو۔ خیر چھوڑو کہنا ہی فضول ہے “،
وہ محض مسکراکر رہ گیا،۔
شام !! ایک فوٹو شوٹ ہے، آئی تھنک کسی میگزین کے لیے ایڈ ہے”۔
اور ہاں مجھے یاد آیا،
مسٹر شارف ابدال ہیں، وہ ہمارے ساتھ کنٹریکٹ سائن کرنا چاہتے ہیں۔ایون کرہی لیا ہے۔
بلیو می!! ہی از ہینڈسم مین!!! ان کے دو شوٹ ہیں، اور ایک کمرشل کا کنٹریکٹ ہے خیر کمرشل کے لیے میں فیضی کو کہہ دوں گی،۔
ان کا کوئی “نائیٹ اوڈ” پرفیوم ہے جو وہ حال ہی میں لانچ کرننے والے ہیں تو اس سلسلے میں ان کا شوٹ پلس کمرشل ہے، اور جانتے ہو، اس پرفیوم کی فریگرینس اس کا ڈیزائن جسٹ واؤ!! آئی تھنک تمہیں یہ شوٹ کرنا چاہیے ،
ون مور تھنگ، لاہور میں اپنے یونیک جیکٹس اینڈ کوٹ کی ڈیزائنگ میں یہ نمبر ون پر ہیں۔ایون انٹرنیشنل لیول پر ان کا کام کافی پسند کیا جاتا ہے”،۔
وہ ہاتھ کی حرکات کے سنگ بولتی شام کو ساری تفصیل بتانے لگی،۔
“یہ شارف ابدال؟؟ کون ؟ کیا کوئی نیا ڈیزائنر ہے؟ ابرو اچکائے اس نے دیبا کو دیکھا”،۔
“ڈیزائنر بھی کہہ سکتے ہو۔، بزنس مین بھی کہہ سکتے ہو۔
وہ فرانس سے یہاں آئے ہیں،بزنس کے سلسلے میں،،
فرانس میں ان کا آر پرفیوم ہاؤس ہے۔اور یہاں لاہور میں “آر “جیکٹس اینڈ کوٹ نامی برانڈ بہت وسیع رقبے پر پھیلا ہے۔
ان کے ہر میٹریل ہر پروڈکٹ پر آر کنندہ ہوتا ہے۔
تمہیں شاید یقین نہیں آئے ان کے کوٹ اور جیکٹس کے ڈیزائن اتنے یونیک ہوتے ہیں کہ وہ ہر سیزن کے لیے موافق ہیں۔
یہی نہیں بلکہ یہ اپنا میٹیریل کافی جگہوں پر سپلائے کرتے ہیں،پر ڈیزائنز اففف کمال!!
اکثر ٹاپ ماڈلز نے ان کے برانڈ کے لیے کام کیا ہے،۔”
“تو اب آپ چاہتی ہیں میں بھی ایک آدھ کنٹریکٹ ان کے ساتھ سائن کرلوں؟”
بالکل!!” تم پرفیوم شوٹ کے لیے ایک دم پرفیکٹ رہو گے،۔اور ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا کہ شارف ابدال ہماری ایجنسی کے ساتھ جڑ جائے”۔
“اور یہ اپنی نیو ونٹر کلیکشن بھی لانچ کرنا چاہتے ہیں۔ تو مجھے لگتا ہے کہ تم ایک پرفیکٹ ماڈل ہو،”
دو چار جیکٹس میرے لیے بھی لے آنا،۔
وہ دبا دبا سا مسکراتی آنکھیں بھی سکوڑ رہی تھیں۔
“دیبا آپ مجھے کتنا مکھن لگاتی ہیں،اگر مستحسن صاحب نے دیکھ لیا ناں وہ مجھے ایک جھٹکے سے اس آفس سے باہر پھینکیں گے۔اور الزام بھی مجھ پر عائد ہوگا کہ میں فلرٹ کرتا ہوں”۔
وہ لب دبائے انہیں دیکھتا شرارت پر آمادہ ہوا۔
شٹ اپ بدتمیز!!
میٹنگ کچھ دن بعد کی فکس ہے، ٹینشن نہ لو فلحال تمہیں میرے ساتھ مصروف رہنا ہے،۔
نو مور آرگومنٹ،، وہ انگلی اٹھائے تنبیہہ کرتی اسے بولنے سے روک گئی تھیں۔
❤❤❤❤
سنو!! وہ کلاس کے بعد فارغ ہوئے باہر کی جانب بڑھا ، جب انسٹرکٹر نے اسے روکا ،
جی سر!! پچھلے ایک مہینے سے وہ یہاں آرہا تھا۔ایکٹنگ کی بنیادیں وہ سیکھ چکا تھا،۔اب دوسرے مرحلے کی جانب روانہ ہوچکا تھا،۔
“تمہیں کام کرنے کا شوق ہے اور میں نے دیکھا ہے تم جلدی سیکھ گئے ہو”،۔
جی سر!!!” شوق بہت ہے اسی لیے سیکھ گیا ہوں”۔
“ہممم!!!ایک ڈرامہ ہے، تم اس میں کام کرنا چاہو گے، ٠
صاحب ٹی وی ڈرامہ!! عزیر اشتیاق سے ان کی جانب آیا،۔
“نہیں ٹی وی ڈرامہ تو نہیں ہے،۔
ویب سیریز کہہ لو”،
ویب سیریز وہ ہولے سے بڑبڑایا،۔
تمہیں ڈرامہ میں کام کرنے کا شوق ہے ناں؟؟
وہ پچاس سالہ شخص اب عزیر کے قریب آکر اس کے کندھے پر بازو رکھ چکا تھا،۔
جی سر بہت شوق ہے، لیکن آپ جانتے ہو ناں !!!
گھبراؤ نہیں ، اس کی شوٹنگ یہی ہوتی ہے، تمہیں کئی اور جانے کی ضرورت نہیں ہوگی،۔
بشرطیکہ کام پوری طرح خفیہ ہوتا ہے،۔
عزیر ان کی کی باتوں پر حیران تو ہوا لیکن پھر سرجھٹکے انہیں دیکھنے لگا، جو اسے راہداری سے گزار کر آخری کمرے کی جانب لائے،۔
وہاں کی تو دنیا ہی اور تھی،عزیر نے آنکھیں جھپک کر دوبارہ اس خیال کو جھٹکنا چاہا،۔
لیکن وہ منظر سچ میں خوبصورت تھا،۔
دیواروں پر پورٹریٹ موجود تھے،۔جو بسا اوقات ایسا تاثر دیتے کہ وہ حویلی میں ہی موجود ہیں اور بسااوقات سڑکوں کا تاثر بھی دے رہے تھے،۔
مختلف کیمرے مختلف کاسٹیوم وہاں موجود تھے،۔
یہاں ہم ویب سیریز کی شوٹنگ کرتے ہیں۔تم مجھے اچھے لگے تو سوچا ایک آدھ کام تم بھی کرلو،۔
صاحب آپ کا بہت شکریہ ،، میں کام کرلوں گا ، بھلے مجھے نوکر ہی کیوں نہ بننا پڑے لیکن میں کرلوں گا،۔
ارے نوکر کیوں؟ تم مین رول کرسکتے ہو بشرطیکہ تم سب کچھ خفیہ رکھو،
وہ شخص اب عزیر کو دیکھ کر گردن کھجا رہا تھا،۔
صاحب خفیہ کیوں ؟”
“وہ اس لیے کہ حکومت کی جانب سے ہمیں لائسنس نہیں ملا، اسی لیے ہم خفیہ طور پر کام کرتے ہیں۔
خیر چھوڑو ساری باتیں کام کرو گے؟”۔
اس کی تیز عقاب سی نظریں عزیر کے چہرے پر ہی جمی تھیں۔
ان میں واضح ہوتی خباثت عزیر کو بھی محسوس ہوئی لیکن وہ لب بھینچے کھڑا رہا،۔
اچھا سن!! وہ عزیر کو خاموش دیکھ کر مزید قریب آیا تو عزیر چند قدم پیچھے ہوا،۔
ارے ڈرتے کیوں ہو؟ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں تمہیں ڈبل پیسے دلوادوں گا، بس تم نے میرا کام بھی کرنا ہوگا،۔
کک کیا کام!! عزیر کی زبان لڑکھڑائی تھی،۔
“مجھے خوش کردو میں تمہیں خوش کردوں گا، “اس کی بازو پر ہاتھ پھیر کر انہوں نے واضح اشارہ دیا،۔اس کی سیاہ سی آنکھیں جیسے خوف سے پھیل گئیں۔
یہ آپ کیا کررہے ہیں، میں ایسا کچھ نہیں کروں گا، مجھے جانے دو یہاں سے،۔
وہ چند قدم پیچھے ہٹا،۔
“بچے ضد نہیں کرتے، چلو آؤ”،۔
عزیر مزید کھسکا لیکن اس شخص نے بازو جکڑ لیا تھا،۔
“میں آرام سے آفر کررہا تھا لیکن تم نہیں مانے، اپنا کام تو میں ویسے بھی کرہی سکتا ہوں۔”لہجے میں بوند بوند ہوس محسوس کرتا عزیر چوکنا ہوا،۔
وہ اسے لیے اسی روم کی جانب آیا،۔
مختلف لوازمات سے آراستہ وہ کمرہ دیکھنے لائق تھا، چکا چوند روشنیوں نے جیسے پر چیز کو روشن کیا تھا ،۔عزیر نے بے ساختہ اس شخص کو دھکا دیا،۔اور باہر کی جانب بھاگا،۔
اس ہال نما کمرے سے نکل کر وہ راہداری سے بھاگ کر آگے آیا،۔راہداری سے آگے ایک ہال تھا۔
پانی سر سے اونچا ہورہا تھا۔اب مزید وہ پانی میں ڈوب نہیں سکتا تھا،۔
دیوار کے ساتھ کھڑے ہوکر اس نے سانس بحال کیا، اردگرد کیمروں کو دیکھ کر اس نے جانچنا چاہا،۔لیکن راہداری کے شروع پر ایک ہی کیمرہ تھا،۔
عزیر نے کیمرے کو فوکس کیا، کچھ بھی کرکے اسے کیمرے کی زد میں آنا تھا،۔
عزیر نے ساری توجہ قدموں کی چاپ پر لگائی،۔وہ شخص مدھم قدموں سے آگے آرہا تھا،۔
اس نے وقت جانچا وہ چھ قدم مزید لے کر اس کی جانب پہنچ جاتا،۔
عزیر نے ہاتھ میں پہنی گھڑی کی جانب دیکھا،جو دیکھنے میں عام سی تھی، لیکن اس گھڑی کے سارے فنکشن جدید تھے،۔
گھڑی کی پچھلی طرف سے ایک بٹن دبا کر گہرا سانس لیے وہ مـڑا تھا،۔
چہرے پر یکلخت بیچارگی طاری ہوئی۔
وہ چوڑے جثے والا شخص جو کچھ دن پہلے انہیں ایکٹنگ سکھا رہا تھا، وہ اصل میں شیطان صفت انسان تھا،۔جس کے چہرے پر ہی خباثت کی دبیز تہہ جمی تھی،۔
“مم۔۔۔مجھے معاف کردیں سر،، میں ایکٹنگ کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن آپ۔۔ایسا ایسا مت کریں۔”،
وہ ہاتھ جوڑ کر کھـڑا ہوچکا تھا،۔لہجے میں اٹی بےبسی مقابل کے لبوں پر مسکان لائی تھی،۔
“بچے اتنا ڈر کیوں رہے ہو، کچھ بھی نہیں ہوگا، دیکھو اگر کامیابی کی سیڑھی کو چھونا ہے تو کچھ قربانی تو دینی ہوگی،۔بڑے بڑے ڈائریکٹرز سے تمہارا رابطہ کروا دوں گا،۔کہو تو ابھی ایک سے بات کروادیتاہوں۔،”
اسی شخص نے جیب سے موبائل نکال کر سامنے کیا،۔
“نن نہیں مجھے بات نہیں کرنی مجھے یہاں سے جانا ہے،۔”
“بچے تیری عمر اتنی ہے نہیں جتنی تو ہمت کا مظاہرہ کررہا ہے”،۔
اسی شخص نے عزیر کو کندھے سے تھام کر برابر کیا،۔اسے لیے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔
عزیر اب کیمرے کی زد سے دور آچکا تھا۔
وہ اسے لیتا آگے بڑھ رہاتھا جبکہ عزیر آنکھوں کو سکوڑے چند قدم پر رک گیا،،
“میری عمر اور اپنی عمر کا لحاظ کیا ہوتا تو شاید آج میں تجھے زندہ چھوڑ دیتا،”
عزیر نے اس شخص کا بازو کندھے سے ہٹا کر مروڑا،۔کایا پلٹ ہوتی دیکھ وہ شخص بھی چونکا۔
کیا بکواس ہے کون ہو تم؟” اس شخص کی سفید چندیا پر پسینہ نمودار ہوا تو وہ وہ استہزائیہ سا مسکرایا۔
“میں وہ ہوں جس کی کوئی پہچان نہیں، مجھے تم ایک گمنام ستارہ بھی کہہ سکتے ہو اور ایک روشن ستارہ بھی کہہ سکتے ہو،۔میں اس ملک کا ایک عام سا مجاہد ہوں جو اپنا حق اس زندگی میں ادا کرنا چاہتا ہے تاکہ کل اپنے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے پر مجھے شرمندگی نہ ہو،”
عزیر نے ایک زوردار پنچ اس کے منہ پر مارا،
بھاری ہاتھ کی مضبوطی نے اس شخص کا جبڑا ہلادیاتھا۔
“اللہ پاک کہتا ہے ظلم کرنے والوں کو معاف کردو، اس کا بدلہ میں لوں گا۔لیکن تجھ جیسے ظالم شیطانوں کو معاف تو ہرگز نہیں کرنا چاہیے”۔
اس نے ایک زور دار کک سینے پر ماری ،روشن سیاہ آنکھوں میں سفاکیت ابھری ،۔
ایک جنون خیزی ، حب وطن کا فرض آنکھوں میں سمٹ آیا تھا۔
جبڑے تن چکے تھے۔
“دیکھو۔۔۔مم میں کچھ نہیں کررہا تھا یہ بس ایک مذاق تھا۔مم مجھے چھوڑدو،۔”
عزیر نے جیب سے ایک سلور ٹیپ نکالی۔جو دیکھنے میں عام تھی۔لیکن اس کی کپیسٹی عام ٹیپ سے کئی زیادہ تھی۔۔کہ وہ چاہ کر بھی اپنا منہ آزاد نہ کروا پاتا۔
ٹیبپ کا ایک حصہ اس نے جھٹکے سے منہ پر چپکایا۔
“تمہارا مذاق اب میں بناؤں گا۔کہ ساری دنیا تم سے عبرت حاصل کرے گی۔تم جیسے جانوروں کو جینے کا حق حاصل نہیں ہے۔تم وہ ہو جس نے کئی بچوں کو خواب اپنی ہوس میں روند دیے، تم وہ ہو جس نے کئی گھر کے چراغ بجھا دئیے۔ کئی لوگوں کے نوالے چھین لیے،،ابلیس کا ایک روپ ہو تم!!!یا شاید تمہارا یہ گھناؤنا روپ دیکھ کر ابلیس بھی شرم سے مرتا ہوگا،،”
وہ پے در پےاسے ماررہا تھا، ہاتھ زخمی ہونے لگا تھا۔لیکن اسے پرواہ نہیں تھی۔
دیوار پر اس شخص کا خون لگ چکاتھا۔۔
مختلف پوسٹرز پر اس شخص کے خون کے چھینٹے پڑے تھے۔
اس نے ہاتھوں کی مضبوطی سے ہی اس شخص کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔
جیب سے اس بٹنوں والا عام سا موبائل نکالا اور زمین پر کراہتے شخص کو نظروں کے حصار میں لیا،،۔
وہ اپنی پوری مضبوطی قدموں میں جمائے کھڑا تھا،، سیاہ پیشانی نم تھی،،
ایس پی صاحب!! “گند سمیٹنے کا وقت شروع ہوگیا ہے۔
آدھے گھنٹے میں مون ایکٹ اکیڈمی پہنچ جائیے گا۔کیونکہ جسے میں نے ابھی بری طرح پیـٹا ہے اس کے آدھے گھنٹے تک حواس ٹھکانے پر نہیں آئیں گے”۔
وہ نیچے گرے شخص کو دیکھ کر بولا ۔
موبائل جیب میں ڈال کر اس نے پینٹ کو زرا سا گھٹنوں سے اوپر کیا، اور اس کے پاس دراز ہوا۔
چچ!!! ” ترس مجھے بالکل بھی نہیں آئے گا کیونکہ تو رحم کے قابل نہیں ہے۔
میں جانتا ہوں تو ایک چھوٹی مچھلی ہے۔اور چھوٹی مچھلی کو جھٹکے میں مارا جاتا ہے۔لیکن میرا طریقہ زرا الگ ہے،۔ تجھے مارنے کی پریکٹس کروں گا تو بڑی مچھلی کے گلے میں کانٹا آسانی سے لگاسکوں گا۔
اور میرا ایک اصول بھی ہے کہ اپنے ہر دشمن کو ایسے تڑپا تڑپا کر مارو کہ آپ کے دل میں کوئی کسک باقی نہ رہے کہ میں اسے آخری وقت تک تڑپا نہیں پایا”۔
اس لیے میں نے اپنا ہر تمنا پوری کی ہے،، اس نے بیک جیب سے ایک سیگریٹ اور منی لائیٹر نکالا۔
سیگریٹ سلگا کر اس نے انگوٹھے انگلی کے درمیان دبا کر گہرا کش لیا،
ناؤ آئی فیل بیٹر!!! ناک سے گہرا سانس خارج کیے وہ گردن ہلائے جیسے کھلی فضا میں خود کو محسوس کررہا تھا۔
کان کی لو کھجا کر اس نے ایک اور گہرا کش لیا،،
“چل باقی کی باتیں کرلیتے ہیں۔
میں جانتا ہوں تو کچھ دن بعد رہا ہوجائے گا۔کیونکہ تیرے تعلقات بڑے بڑے گِدھوں کے ساتھ ہیں۔
لیکن آج کل گدھ بھی چھپنے کی جگہ ڈھونڈ رہے ہیں۔
اس لیے مرجائے گا تو بہتر رہے گا۔ورنہ نہ گھر کا رہے گا نہ گھاٹ کا،۔یعنی گلی کا کتا بن کر گھومے گا۔
تو کہتا ہے تو میں تیرا کام آسان کردیتا ہوں۔”
پھٹی آنکھوں کے ساتھ اس نے نفی میں سرہلایا تو عزیر مسکرایا تھا۔
ابے بڈھے!! “کاہے کو گردن نہ میں ہلاتا ہے۔ ایک ویب سیریز تو اپن کے ساتھ سائن کرہی چکا دوسری اوپر جا کر کرلینا”۔
پیور ٹپوری انداز میں بول کر اس نے گلے پر دباؤ بڑھایا،۔
“ٹینشن نہ لے تیری موت کا سراغ کوئی بھی پانہیں سکتا کیونکہ عاہن علوی اپنا کام پوری صفائی اور اطمینان سے کرتا ہے”۔
پوری شدت سے اس نے مقابل شخص کی گردن جکڑ کر ایک جانب موڑی،۔کڑک کی آواز سے وہ شخص موت کی آخری ہچکی لیتا دنیا سے رخصت ہوا تھا۔
دھرتی کا بوجھ کم ہوا،، خس کم جہاں پاک”۔
سیٹی کی دھن بجاکر وہ ہاتھ جھاڑتا اٹھا تھا۔،۔
چہرے پر سیاہی تھی جبکہ حلیہ غربت کی نشاندہی کررہا تھا۔
کیمرے کی زد میں آبھی جاتا تو عزیر نامی لڑکے کو کس نے دیکھا تھا۔۔وہ تو عاہن علوی تھا۔
پاکستان کا ٹاپ کلاس ایکٹر،، جس کی ایکٹنگ کی ایک دنیا دیوانی تھی ،وہ اور قتل توبہ توبہ، وہ تو عزت دار انسان ہے۔”
کان کی لو کھنیچ کر وہ استہزائیہ انداز بولتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
چند منٹ بعد ایس پی صاحب اور ان کے کارندوں نے یہ گندھ سمیٹ کر ہی کوڑے دان میں ڈالنا تھا۔
❤❤❤❤❤
مشل کو کیا بتایا ہے ؟”
شارف ابدال پہنچ چکے تھے یعنی انہیں خبر ہوچکی تھی کہ مشل علوی پریشان ہے،۔
“وہ حقیقت جو اسے بہت پہلے پتہ ہونی چاہیے تھی”۔
وہ بنا سہمے ان کے سامنے اکڑ کر کھڑی ہوئی۔
شارف ابدال نے سختی سے ریشمی گولڈن بال مٹھی میں جکڑ کر ماہ تاب کو اپنے قریب کیا،۔
“اتنی دیدہ دلیری،اتنی ہمت ماہ تاب علوی،۔
اپنی اوقات بھول رہی ہو تم،، “
انہوں نے بالوں کو جھٹکا دے کر مزید قریب کیا،
وہ درد سے سسکی لیکن لبوں پر دلخراش مسکراہٹ امڈ آئی۔
اوقات!!” بہت اچھے سے یاد ہے۔لیکن مجھے میرے اللہ پر پورا یقین ہے، میں نے اپنے حصے کا کام کیا ہے باقی کام میرا اللہ کرے گا۔۔میں تو برباد ہوچکی ہوں لیکن میں مشل کو برباد نہیں ہونے دوں گی”۔
وہ نـفی میں گردن ہلائے کپکپاتی جبیں کے سنگ بولتی شارف ابدال کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ لائی۔
جانتی ہو،،” احد بال بال بچا ہے۔معیز رؤف میرے خلاف جارہا تھا میں نے اس کی کمزور نبض دبائی تو وہ الٹے قدموں سے چلتا واپس آیا اور میرے سامنے گڑگڑایا۔
اس پر تو میں نے رحم کھالیا ، لیکن تم پر رحم کھانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔” اس کے گال کو سہلاتے وہ حدرجہ قریب کیے بولتے اس کی جان حلق میں اٹکا رہے تھے۔
ایک اور تکلیف دہ انکشاف، ایک اور درد ازیت کا در وا ہوگیا تھا۔
ماہ تاب علوی کی سبز رگیں کھنچنے لگی۔سیاہ آنکھوں
گلابی گوشے کے پیمانے چھلک رہے تھے۔
بال ہنوز گرفت میں تھے۔
ماہ تاب آنسو بہالو !! “کیونکہ یہ آنسو ہی تو تمہاری تکلیف کو کم کرسکتے ہیں”۔
شارف ابدال مزید قریب آرہے تھے۔ماہ تاب علوی کا تنفس بگڑا تھا۔گردن بازوؤں پر جیسے کیڑے رینگتے محسوس ہونے لگے۔جبکہ بالوں کی جڑوں میں بے انتہا درد سمٹ آیا،۔
اس نے بھرپور زور لگاکر شارف ابدال کی کوشش ناکام بنائی۔
بے ساختہ گردن چہرہ مسلتی وہ بے حال ہوئی۔کمرے میں شارف ابدال کا قہقہ گونجا تھا۔
ماہ تاب علوی کو کمرے کی فضا حبس زدہ سی لگی۔
وہ بھاری قدموں سے چلتے قریب آنے لگے جبکہ ماہ تاب علوی کا رواں رواں خوف سے کھڑا ہوا۔
وہ رخ موڑے سیاہ نینوں کو سختی سے بھینچتی گلابی لبوں سے رب تعالیٰ کو پکارتی بے حال ہوئی۔
شارف ابدال نے دونوں کندھوں کو جکڑا اور کان کے قریب جھکے ،،،
“میرے راستے میں جو رکاوٹ لانا چاہتا ہے ناں وہ پھر تباہ برباد ہوجاتا ہے۔
تمہاری نام نہاد عزت اگر محفوظ ہے تو وہ بھی میری بدولت،،، جس دن شارف ابدال کا ضبط چھلکا۔تم تو برباد ہوہی جاؤ گی تمہاری بہن کی بربادی بھی تمہارے حوالے ہوگی۔اس کی وہ حالت کروں گا کہ اپنی شکل بھی پہچان نہیں پائے گی۔”
وہ کان کے قریب غرائے تھے۔کان میں پڑتی بھاری سانسیں ماہ تاب کو دوہری اذیت دینے لگی تھی۔
کندھوں پر ان کے بھاری ہاتھوں کا بوجھ ماہ تاب کی روح پر بھی بوجھ بـڑھا رہا تھا۔ماہ تاب کو اپنی سانسیں تنگ پڑتی محسوس ہوئی۔
شارف ابدال!!! “میں نے اللہ پر کامل یقین رکھا ہے۔اس نے چھ سال سے میری عزت کو محفوظ رکھا ہے تو آگے بھی رکھے گا۔ یہ غلیظ لمس غلیظ لوگ جو میں برداشت کرتی ہوں یہ شاید مجھے میرے گناہوں کی سزا لگتا ہے جسے میں بھگت رہی ہوں۔لیکن
میں جس کی امانت ہوں اس تک بھی پہنچ ہی جاؤں گی۔اللہ نے فرمایا ہے ناں کہ مشکل کے بعد آسانی ہے، تو انشاءاللہ آپ جیسے ابلیس کے چنگل سے بھی وہ رب مجھے ایسے نکالے گا کہ آپ ہاتھ مسلتے رہ جائیں گے۔میری یقین کی شب بھی ضرور آئے گی۔
اور اس شبِ یقین پر آپ کا اختتام میں اپنے ہاتھوں سے کروں گی،”
وہ بوجھ سہارتی اطمینان سے بولی کہ اس کے لہجے میں نمودار غیر معمولی پن نے شارف ابدال کی پیشانی کو بھی نم کیا تھا۔لیکن وہ حواس بحال کرتے
سختی پر آمادہ ہوئے،،،۔
اچھا اتنا یقین!!! انہوں نے بے ساختہ ماہ تاب کی شرٹ کندھے سے مٹھی میں جکڑی تووہ خوف سے سفید پڑتی سانس تک روک گئی۔
جھلستی آگے جیسا لمس ماہ تاب علوی کو اذیت کی اندوہناک کھٹنائیوں میں گھیرنے لگا۔
“تمہاری عزت اگر ابھی داغدار کردوں تو کوئی بھی مجھے روک نہیں پائے گا۔کیونکہ تم میری غلام ہو،،،اور غلاموں سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔ لیکن میں ایک جھٹکے میں نہیں تڑپاتا میں پل پل تڑپانے کا عادی ہوں۔۔دیکھو ناں اب بھی کیسے تڑپ رہی ہو،،” وہ دوبارہ کان کے قریب جھکے غرائے،،، ماہ تاب مٹھیاں بند کرتی اب بھی رب کو پکار رہی تھی۔
یکلخت ان کا فون جنجھنا اٹھا،،۔
“بچ گئی ماہ تاب علوی لیکن کب تک؟؟ خیر کچھ دن میں کراچی کے لیے نکلنا ہے اپنی تیاری پوری رکھنا۔”
ایک اور روح فرسا خبر سناکر انہوں نے اس کی جان مزید ہلکان کی۔
فون پھر بجا تھا۔
وہ بازو کو جکڑ کر دباؤ بڑھاتے جاتے جاتے بھی اسے اذیت دینا نہیں بھولے تھے۔
شارف ابدال کمرے سے نکلے تھے،، ماہ تاب علوی تڑپتی سسکتی واش روم کی جانب بڑھتی شاور کے نیچے کھڑے ہوتی کندھے سے وہ لمس ہٹاتی خود کو زخمی کرنے لگی تھی،،۔
❤❤❤❤❤❤
کانگریٹس بھائی!! آپ کا بھائی فتح یاب ہوکر لوٹا ہے،، عاہن علوی کے لہجے میں پنہاں جیت کی خوشی نے اس کو بھی سمٹا سا مسکرانے پر مجبور کیا۔میرے
سپر ہیرو مجھے یقین تھا تم کبھی نامراد نہیں لوٹو گے،،
عاہن کے ماتھے پر لب رکھ کر شام نے اسے سینے سے لگایا،،۔
وطن کے ہر دشمن کی موت پر میں تمہیں سیلیوٹ کروں گا،، اور اس معاملے میں تم مجھے روک نہیں سکتے،،،
شام نے دور ہوکر اسے سلیوٹ کیا تو وہ جھینپ سا گیا،،،
بھائی یہ تو اللہ پاک کا کرم ہے جو اس نے مجھے اس قابل بنایا،، میری سوچوں کا رخ بدل دیا گیا،،، مجھے وہ اوجھل شے دکھائی جو باقی دنیا سے اوجھل تھی۔
شاید میں اللہ کا خاص بندہ ہوں۔تبھی وہ مجھے ظاہر ہوگئی۔
عاہن انگلیوں سے کھیلتا زمین کودیکھ رہا تھا۔
بالکل!!” تم اللہ پاک کے خاص بندے ہو ،، تبھی تو یہ ممکن ہو کہ عاہن علوی وطن کی حفاظت میں اپنا حق ادا کررہا ہے۔پھر بے شک گم نام رہ کر کرے”،۔
شام کا کندھے پر رکھا ہاتھ عاہن علوی کو ایک انعام کی مانند تھا۔
“یہ سب آپ کی بدولت ممکن ہے،، آپ ہیں تو میری پہچان ہے”،
نہیں عاہن علوی صاحب!!! “آپ کی پہچان سعادت علوی کی بدولت ہے،۔
شام کو شام ہی رہنے دو اپنا باپ نہ بناؤ،” وہ شرارت آمیز انداز میں کہتا عاہن کو بھی جھینپنے پر مجبور کرگیا تھا۔
❤❤❤❤❤
جاری ہے