Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ماما!!
ہمم بولو،،”ماہ تاب کی آواز پر انہوں نے رخ موڑ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
جو انگلیاں چٹخاتی جیسے کوئی نئی فرمائش کرنا چاہ رہی تھی۔گھنگریالے بال لٹوں کی صورت دونوں اطراف میں بکھرے تھے۔چمکتی صورت پر اضطراب تھا۔
بولو ماہ تاب!! کیا چاہیے؟؟
آتا گوندھتی وہ جنجھلائیں۔
مم میں ش شام کک کے ساتھ۔۔۔
بات ابھی ادھوری ہی تھی کہ شبانہ خاتون نے زور سے پرات کو پٹکا۔ماہ تاب بے ساختہ اپنی جگہ سے اچھلی۔”تم کیا چھوٹی بچی ہو؟ ہر بات کو تفصیل سے سمجھانا پڑتاہے۔
سمجھ نہیں آتا کہ تمہارے بابا کو یہ سب پسند نہیں ہے۔پھر بھی تم “۔
آواز کی سختی نے جاناں کی حالت کو غیر کیا۔
وہ جانتی تھی یہی ردِ عمل ملے گا۔لیکن پھر بھی ہمت مجتمع کیے وہ یہاں آئی تھی۔
مارکیٹ سے کیا لینا تھا۔؟”
اس کی اتری صورت دیکھ کر وہ نرم پڑیں۔
“کچھ کتابیں لینی تھیں۔جو صرف شہرام کو پتہ ہے”۔
شہرام بھائی بولا کرو لڑکی!!
جی جی !! وہ چاہ کر بھی نہ بھول پائی تھی۔
جاؤ!!” جلدی آجانا ورنہ تمہارے پاپا کاپتہ ہے۔انہیں پسند نہیں ہے۔اور ڈوپٹہ لے کر جانا۔تھان نہ لپیٹ لینا”۔
ماہ تاب نے حیرانگی سے انہیں دیکھا۔لیکن پھر اثبات میں سرہلایا تھا۔
انہوں نےجانے کی اجازت دے دی تھی یہی اس کے لیے غنیمت تھا۔
“””””“””””””””* “مم۔۔ماما نے بہت مشکل سے اجازت دی۔ورنہ مجھے نہیں لگتاتھا کہ وہ مم مجھے آنے دیں گی”۔ شہرام کے پیچھے بائیک پر بیٹھے وہ اونچی آواز میں بولی تھی۔بائیک فراٹے بھرتی سیاہ تار کول پر بھاگ رہی تھء۔ “ویسے کونسی کتابیں لینی تھی؟؟مجھے لسٹ دو میں لادوں گا”۔وہ لب دبائے شرارت پر آمادہ تھا۔ شام!! جواباً وہ چیخی۔اور ایک ہاتھ کندھے پر مارا تھا۔ “تمہاری خوشی سیلیبریٹ کرنے میں آپ کے ساتھ آئی ہوں۔ماما سے جھوٹ بولتے ہوئے یہ میری زبان مزید لڑکھڑا رہی تھی”۔ شہرام نے بےساختہ لب بھینچے۔ناک سکوڑ کر گہرا سانس کھینچتا وہ پشیمان ساتھا۔ سوری!! شہرام سپیڈ آہستہ کرچکا تھا۔ شام!!” اب تم مجھے ناراض کررہے ہو اور اس مرتبہ اگر میں ناراض ہوگئی تو آسانی سے نہیں مانوں گی”۔ “ناراضگی کی بات نہیں۔لیکن کاش میں اس دن آپ کو بچالیتا تو شاید”۔۔۔وہ بات ادھوری چھوڑتا جیسے خود کو کمپوز کررہا تھا۔ شام!! آپ جانتے ہیں یہ مسئلہ شروع سے ہی تھا۔لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سب بب آ۔۔آ آپ کی وجہ سے ہے۔ اچھا چلو موڈ ٹھیک کریں۔ورنہ میری خوشی ملیامیٹ ہوجائے گی۔ تقدیر میں بہت سی ناپسندیدہ چیزیں لکھ دی جاتی ہیں جنہیں چاہ کر بھی ہم دور نہیں کرسکتے،لیکن ان پر کمپرومائز تو کرسکتے ہیں۔ اب آپ بائیک چلائیں،ورنہ بابا آجائیں گے۔ اس کندھے پر ہاتھ رکھے وہ متانت سےبولی تھی۔ شہرام نے سپیڈ بڑھائی تھی۔ سمسٹر کی شاندار کامیابی کی خوشی وہ جاناں کے ساتھ سلیبریٹ کرنے وہ اسے لیے فوڈ سٹریٹ لایا تھا۔ بھرپور وقت گزار کر وہ چند کتابیں لیے شام کو واپس لوٹے تھے۔ “””””“”””“”””” سعادت!! ابا جان کی پکار پر وہ بے ساختہ کھڑے ہوئے۔ وہ کم ہی اسے مخاطب کرتے تھے۔ماں تو پھر بھی کمرے کا رخ کرکے چند پل گزار لیتی تھیں لیکن باپ مہینے میں ایک بار ہی رخ کرتے۔ اباجی!! آئیں۔بیٹھیں ، سدرہ پانی لاؤ ابا جی کے لیے۔وہ سدرہ کو کہتے خوشی سے بوکھلائے تھے۔ بدرصاحب نے بے ساختہ انہیں دیکھا۔ان نظروں میں نہ کوئی اشتیاق تھا نہ کوئی والہانہ پن نہ کو پدرانہ محبت وہ عام سی نظریں تھیں ۔لیکن سعادت صاحب کے لیے وہ میٹھی نرم نگاہیں تھیں۔جو ان کے لیے کبھی کبھی اٹھتی تھیں۔ یہ!! دوائیاں لانی تھیں۔انہوں نے کچھ ججھکتے ہوئے پرچہ سعادت کی جانب بڑھایا۔ انہوں نے جلدی سے پرچہ تھاما مبادہ وہ پیچھے ہی نہ کرلیں۔ بیٹا!! تمہاری امی کی بھی ہیں وہ قدرے شرمندہ سے نظر آتےتھے۔ اباجی!! میں نے تو آپ کو ہمیشہ کہا ہے کہ آپ دے دیا کریں پر آپ شاید ۔۔۔وہ منمنائے تھے۔ “بیٹا دوائی کا مسئلہ نہیں بس انسولین وقت پر نہ لگے تو مسئلہ ہوتا ہے”۔وہ جھجک رہے تھے ۔ اباجی!!” دکان اب ماشاءاللہ اچھی چلنے لگی ہے۔بلکہ شہرام کے ٹیوشنز سے بھی اب میرا بوجھ تھوڑا کم ہوا ہے۔آپ پریشان مت ہوا کریں۔مجھے بتادیا کریں۔یقین کریں بھائی صاحب کے سٹور سے میں دوائیاں نہیں لاتا۔” وہ ان کی سوچ کو بھی زبان دیتے بولے ۔بدر صاحب نے تعجب سے انہیں دیکھا۔ سعادت!! ان کی پکار میں گویا شرمندگی تھی۔ ابا جی منحوس کی بات نہیں ہے بس اچھا نہیں لگتا۔وہ مروت میں پیسے بھی نہیں لیتے”۔ بدر صاحب نے انہیں بے ساختہ گلے سے لگایا تھا۔ اپنی سوچ پر انہیں شدت سے افسوس ہوا تھا۔کہ وہ دکان کی چوری میں سعادت علوی کو منحوس ٹھہرا گئے تھے۔ اور سعادت علوی کا روم روم کھل سا گیا تھا کہ آج باپ نے گلے سے لگایا تھا۔ اس شفقت کا نعم البدل تو قطعی نہیں ہوسکتا تھا۔ “””“””””“”” کتاب کے ورک پلٹتےہاتھ ٹھٹک سے گئے جب باہر سے شور سنائی دیا۔ یقیناً عاہن علوی نے کوئی تماشہ کیا ہوگیا تبھی شور بلند تھا۔ شبانہ تائی کی چنگھاڑ نے گویا شک پر یقین کی مہر لگائی۔وہ نفی میں سر ہلائے اٹھاتھا۔ صفحہ ہلکا سا موڑ کر وہ باہر آیا جہاں عاہن سعادت صاحب کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔جبکہ تائی امی مسلسل بولتی چلی جارہی تھیں۔ شہرام نے تاسف سے ایک بار پھر سرہلایا تھا۔گویا یہ روز کا تماشہ کبھی تمام نہیں ہوسکتا۔ بھائی صاحب !!” آپ مشل کا منہ دیکھیں۔کیسے سیاہ کردیا ہے۔بچپنے کی بھی حد ہوتی ہے۔اگر مشل نے بچی بن کر تھوڑا مذاق کرہی لیا تھا تو اسے کیا ضرورت تھی اس کا منہ کالا کرنے کی؟”۔ شہرام جیسے سارا معاملہ پل بھر میں سمجھ چکا تھا۔ سنہری بالوں کی الجھی لٹوں اور سیاہ چہرے کے ساتھ روتی ہوئی مشل اس وقت سیاہ رات میں سیاہ بھوت کی مانند تھی۔ تائی امی!!”بچی نہیں رہی یہ۔آپ جانتی ہیں میرے دوست موجود تھے ۔پہلے جاہل پن کا ثبوت دیکھ کر اس نے مختلف بکواس کی چلو مان لیاوہ مذاق تھا۔ لیکن اس نے وہ راکھ والا پانی مجھ پر پھینکا۔آپ کے لیے یہ چھوٹی بات ہوگی۔لیکن باہر میرے دوست موجود تھے۔جانتی ہیں ان کے سامنے مجھے کتنی سبکی کا احساس ہوا۔۔عاہن کی طیش زدہ سی آواز برآمدے میں گونجی۔مشل نے بے ساختہ ماں کا پلو تھام کر چھپنا چاہا تھا۔ان کا آپس میں لڑائی جھگڑا کبھی اتنی سنگینی اختیار نہیں کرتا تھا۔لیکن آج مشل نے مذاق کی حد پار کی تھی۔ “حسب معمول عاہن اپنے دوستوں کے ساتھ گھر کے باہر دروازے سے تھوڑا ہٹ کر موجود تھا۔وہ اس کے عام دوست نہیں تھے۔گھر میں وہ جتنا مرضی غیر سنجیدہ رہتا لیکن اپنی پڑھائی اور کالج میں وہ ہمشیہ سنجیدہ رہا تھا تبھی اس نے دوستوں کا انتخاب بھی اچھے گھرانے کے لڑکوں کا کیا تھا۔ مشل کی شرارتی رگ اسے باہر دیکھ کر پھڑک گئی تھی۔ چھت پر جاکر اس نے پہلے تو اپنے شیطانی دماغ کے گھوڑے دوڑائے۔ اوپر جاکر پہلے تو وہ مختلف آوازیں نکالتی رہی۔بہرام بظاہر ضبط کرتا رہا لیکن اسے گھور کر پیچھے ہونے کو بھی کہا لیکن مشل علوی بھی اپنے نام کی طرح ڈھیٹ تھی۔ چھت پر ایک جانب کچھ راکھ موجود تھی۔جو کہ دادا نے جلائی تھی۔ شاپر میں اس راکھ کو بھرتی وہ پانی شامل کیے چھت کے کنارے پر آئی۔ پل بھر میں شاپر وہ ان پر پھینک کر وہاں سے بھاگتی نیچے آئی۔اور کمرے میں چھپی تھی۔ عاہن جو چند پل پرسکون ہوا۔اس کی یہ غلیظ حرکت دیکھ کر جیسے جھٹپٹایا۔وہ گندا پانی اس کے دوستوں کا حلیہ بھی بگاڑ چکے تھے۔ سبکی کا گہرا احساس عاہن علوی میں سرایت کرتا محسوس ہوا۔شرم کا مقام تھا اس کے لیے کہ اس کے دوستوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ طیش ہی طیش گویا عاہن میں امڈ آیا تھا۔ ان سے معذرت کرتا وہ اندر آیا۔پہلے تو دو تھپڑ اس نے مشل جو کونے میں چھپی تھی اس کے سرپر مارے۔ اور مزید کسر اس نے جوتوں کی پالش کا لیپ اس کے منہ پر لگاکر پوری کی۔ اس کے چیخنے کو نظرانداز کرتا وہ کپڑے چینج کرنے واش روم میں بند ہوچکا تھا۔لیکن نہیں جانتا تھاکہ تائی امی طوفان کھڑا کردیں گی۔ باہر عدالت سج چکی تھی وہ قصور وار نہ ہوتے بھی قصور وار تھا۔ اور یوں قصہ مختصر وہ مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ عاہن علوی بھینچے جبڑوں کے ساتھ سرجھکائے نم بالوں کے ساتھ موجود تھا۔ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بندتھیں۔ تائی امی!!” مشل کو سمجھایا کریں ۔بے شک وہ بچی ہے لیکن ایسی حرکات بھی اچھی نہیں ہیں۔عاہن اب بڑا ہوچکا ہے۔وہ جب ایسی حرکات نہیں کرتا تو مشل کو بھی کہیں گریز کیا کرے”۔ اس سارے عمل کے دوران شہرام کی متانت زدہ آواز گونجی۔ عاہن نے مان بھری نظر سے شہرام کو دیکھا ۔جو سنجیدہ سا سیاہ شرٹ اور سیاہ ہی ٹراؤز میں ملبوس اس وقت بہت بردبار سا لگا جو مسئلہ سلجھانا چاہتاتھا۔ ماہ تاب کو اس کی سمجھداری پر رشک سا محسوس ہوا۔ “اپنے بھائی کی غلطی تمہیں نظر نہیں آرہی جو مجھے سمجھا رہے ہو۔۔دیکھو بچی کا منہ کیسے کالاکردیا۔ خدانخواستہ کوئی دیکھ لے تو کیاسوچے گا؟” ان کے لفظوں نے گویا عاہن کو ساکت کیا تھا۔اسے احساس ہوا تھا کہ وہ بھی غلط کرچکا ہے۔منہ کالاکرنا” اس لفظ نے اس کو جیسے جنجھوڑ دیا تھا۔سیاہی مطلب گمراہی تباہی، وہ تو کبھی بربادی کا تمنائی نہیں ہوسکتا تھا۔ تائی امی سوری!! آئندہ خیال رکھوں گا”۔ناجانے وہ کیوں چاہ کر بھی مزید شہرام کو کچھ کہنے نہیں دینا چاہ رہا تھا۔ ٹھٹکی کو تو مشل بھی تھی۔عاہن علوی ،!! اتنی جلدی ہار مان گیا یہ ناممکن سی بات تھی۔وہ غیر سنجیدہ سا چھوٹا سالہ لڑکا اسے اس وقت بڑا سا سمجھدار شخص لگاتھا۔ تائی امی بجائے عاجز بن کر سمجھداری کا مظاہرہ کرتی محض ہنہہ کہہ کر سرجھٹک گئی تھیں۔ شہرام اسے لیے سعادت کو آنکھوں سے سب ٹھیک ہونے کا اشارہ دے کر اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ 💖💖💖 تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔وہ تو بچی ہے لیکن تم نے اس کے منہ پرجوتوں کی پالش ہی لگادی۔ یہ کوئی اچھی حرکت نہیں ہے۔ تنے جبڑے جیسے یکلخت مسکراہٹ میں ڈھلے سنگل بیڈ پر گرتا وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوا۔ شہرام نے تعجب سے اسے دیکھا۔ بھائی!! “اففف مجھے سمجھ ہی نہیں آئی میں نے ایسے کیوں کیا۔لیکن اب مجھے سوچ سوچ کر ہنسی آرہی ہے۔کیا بھوتنی لگ رہی تھی۔اففف کالی چڑیل”۔ شہرام نے ایک بار پھر تاسف سے سرہلایا ۔عاہن!! “تم جتنے غیر سنجیدہ بنتے ہو اتنے ہو نہیں اس لیے میرے سامنے فالتو ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے”۔ شہرام سمجھ چکا تھا۔کہ وہ کیوں ہنس رہا ہے۔ عاہن گویا ہنستا ہی چلا گیا۔لیکن پھر ہنسی میں جیسے تلخی سی ابھر آئی تھی۔ بھائی!! “یہ احساس کمتری بہت بری شے ہے”۔یکدم سنجیدہ ہوتا وہ بیڈ کے کنارے پر قدرے پھیل کر بیٹھا۔ سیاہ ہلکے نم سے بکھرے بال بھی گردن پیچھے گرانے پر اوپر اٹھے تھے۔ احساس !!” ہمارے اندر ہوتا ہے اور کمتری ہم خود پیدا کرلیتے ہیں۔ تم ایک مکمل انسان ہو۔کوئی کمی نہیں ہے تو پھر کیوں کمتر سمجھ رہے ہو؟”۔ شہرام نے فوراً اسے ٹوکا تھا۔ بھائی !! “وہ میرے دوست تھے۔۔جانتے ہیں اس نے کتنی غلط حرکت کی۔اس ڈربے نما گھر میں تائی امی نے ڈرائنگ روم بھی ہمارے حصے میں نہیں رہنے دیاکہ میں اپنے دوستوں کو وہاں بٹھاسکوں”۔ ان کے حسد کا بھی عجیب عالم ہے۔ لیکن اس مشل نے انہیں آج دروازے تک بھی نہیں رہنا دیا۔ ناجانے وہ کیا سوچ رہیں ہوگے۔کہ میں کس گندے محلے کا لڑکا ہوں کس گندے سے گھرانے میں پیدا ہوا ہوں؟۔ مزید کسر میری یہ شکل و صورت پوری کردیتی ہے”۔ کچی عمر کی پکی سوچیں اسے ہمیشہ جکڑ لیتی تھیں۔شہرام سانس خارج کرتا اس کے پاس دراز ہوا۔ ایک بازو کندھے کے گرد پھیلایا تھا۔ اپنے بال دیکھو!! ایسے خوبصورت میرے بال ہوتے تو میں روز انہیں سنوارتا۔ان کو کسی کو ہاتھ نہ لگانے دیتا۔ سیاہ چمکدار سے بال جن کی چمک اپنی جانب متوجہ کرنے کا ہنررکھتی تھیں ۔جو سورج کی کرنوں میں براؤن ریشمی تاروں کی مانند چمک سے جاتے تھے۔ وہ جب ہاتھ سے انہیں ہلکا سا اوپر کرتا تو ان میں چمکتی وہی براؤن ریشمی تاروں کی باریک نوکیں واپس اس کے چہرے پر آتی جس سے وہ گندمی صورت ایک خوبصورت مجسمے کی مانند لگتی تھی۔اس کے بال نرم و ملائم اور سلکی تھے۔ مناسب ناک نقشہ، گہری سیاہ سی آنکھیں پتلے سے چہرے پر خوب جچتی تھیں۔جبکہ شہرام کی آنکھیں گہری براؤن سی تھیں۔ ان سیاہ آنکھوں کا راز وہ شاید نہیں جانتا تھا کہ وہ اس کی سیاہ چمکدار ذہانت سے پُر آنکھیں سب کو کتنی اپیل کرتی ہیں۔لوگ اسے دبلے پتلے لڑکے کو مڑ کر دیکھتے ہیں۔شہرام اس حقیقت سےاگاہ تھا۔لیکن عاہن شاید یہ آگاہی بھی نہیں چاہتا تھا۔وہ شاید لوگوں کو پرکھنا نہیں جانتا تھا۔ وہ میٹرک کے پیپر دے کر فارغ تھا۔وہ سب کو لاپرواہ لگتاتھا۔لیکن وہ چھوٹی لاابالی عمر کا گہرا سا بچہ تھا۔ جو احساس کمتری میں گھر رہا تھا۔اور شہرام اس حقیقت سے رفتہ رفتہ اگاہ ہورہا تھا۔ تمہیں ایکٹر بننا ہے ناں بہرام!!وہ جیسے اس کی دکھتی رگ چھیڑ گیا۔تو خود کو مضبوط کرلو، عاہن بالوں کو اوپر کیے آنکھوں میں شکوے بھرے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ۔جو مبہم سا مسکرارہا تھا۔ “آپ میری دکھتی رگ کو بہت بری طرح دباتے ہیں “۔وہ مصنوعی شکوہ کرتا جیسے شہرام کو مزید مسکرانے کی وجہ دے گیا۔ “صبح اس سے سوری کرلینا”۔ شہرام نے کہنا ضروری سمجھا تھا۔ میرا جم میں ایڈمیشن کروادیں۔ میں سوری کرلوں گا۔ وہ الگ سی فرمائش کرتا بیڈ سے اٹھ کرباہر نکل گیا۔ شہرام جانتا تھا وہ آسانی سے ماننے والوں میں سے نہیں ہے۔اس کی یہ شرط مان کرہی وہ اسے غلطی کا احساس دلاسکتاتھا۔وہ بلاتامل اس کی شرط مان چکا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ محدود خواہشات رکھتا تھا۔ بیڈ سے اٹھتا وہ بابا سے بات کرنے کا اٹل ارادہ کرچکاتھا۔ “””””””*””””” ****”””””
ادھر دکھاؤ مجھے۔!! فش باؤل اس کے ہاتھ سے کھینچ کر اس نے مشل کو دور دھکیلا۔
عاہن !! یہ میرا فش باؤل ہے۔دو مجھے۔”نیچے زمین سےاٹھتی وہ بنا درد کی پرواہ کیے بہرام پر جھپٹی تھی۔لیکن وہ باؤل اوپر کرتا مشل کی پہنچ سے دور کرتا لہرایا تھا۔
ارے میں دیکھ ہی رہا ہوں۔اتنی باؤلی کیوں ہورہی ہو۔”
تیکھے چتونوں سے مشل کو دیکھتا وہ باؤل میں ہاتھ مارتا مچھلی نکالنے کی کوشش کرنے لگا۔
عاہن !!” مارنا نہیں دیکھو پلیز مارنا نہیں ۔اس کو مچھلی نکالتے دیکھ کر مشل بے ساختہ تڑپی ۔جانتی تھی وہ بہت ظالم بدتمیز ہے جو مشل کی چیزوں کی تباہی میں وقت بھی نہیں لگاتا تھا۔اور رات کا بدلہ تو ابھی باقی تھا
” کیا بدتمیزی ہے۔دیکھنے دومجھےپھر ہم دونوں اسے فرائی کرکے کھائیں گے۔”۔مشل کو بازو سے دور کرتا وہ مچھلی پانی میں سے پکڑ چکا تھا۔
عاہن !! نہیں کرو۔بھرائی سی آواز میں بولتے ہوۓ وہ رونا شروع کرچکی تھی۔
اوۓ پاگل !! تم رو کیوں رہی ہو۔یہ لو پکڑو”
مچھلی اس کے ہاتھ پر رکھتا وہ باؤل سائڈ پر رکھ کر اس کے پاس بیٹھا تھا ۔
آہہہ!! “عاہن اسے پانی میں ڈالو یہ مرجاۓ گی۔”مچھلی کو ہاتھ پر سے یکدم دور اچھالتی وہ چیخی تھی۔
چھوٹی سی مچھلی زمین پر گرتی اچھلنے لگی۔
اب تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ اسے واپس دو۔واپس دی تو تم اب کہہ رہی ہو پانی میں ڈالو۔اس کی حالت سے حظ اٹھاتا وہ سنجیدہ سابولا۔ عاہن تم بہت بـڑے کمینے ہو۔اسے دھکا دیتی مچھلی کی جانب آئی جو فرش پر اچھل رہی تھی۔مشل اس کو تھامنے کے لیے آگے بڑھی لیکن وہ مزید اچھل کر آگے بڑھ رہی تھیم۔
بہرام اس کو دیکھ کر قہقہ لگائے ہنستا چلا گیا۔ جو روتی ہوئی مچھلی پکڑ رہی تھی۔
یکدم مچھلی کا اچھلنا کم ہوا اور ایک جانب گرتی وہ شاید دم توڑ چکی تھی۔
مشل کی ہچکی بندھی تھی۔بے ساختہ بہرام بھی گھبرایا۔
مچھلی کو پکڑتا وہ صحن میں لگے واش بیسن کی جانب لایا۔
اور پانی کھول کر اس میں مچھلی کو جلدی سے ڈالا۔پانی ملتے ہی بے ساختہ مچھلی بھی پھدک کر سانس لے رہی تھی۔
تم کمینے ہو۔تم نے میری مچھلی کو مار دیا۔چیختی ہوئی مشل بے ساختہ عاہن پر جھپٹی۔اور اس کے بازو پر ناخن مارتی وہ خراشیں ڈال چکی تھی۔
“اوۓ چھوٹی بلا کیوں چڑیل بن رہی ہو۔زندہ ہے تمہاری مچھلی” ۔بازو جھٹکتا وہ اسے دور کیے چیخا ۔جو روتی ہوئی سرخ ہوچکی تھی۔بازو میں اٹھتی ٹیسوں نے اسے مزید غصہ دلایا۔
مرگئی ہے وہ!! مشل کو اب بھی یقین نہیں تھا۔ “ہاں مرگئی۔ماردی میں نے۔اب تم بھی دفعہ ہو۔تیزی سے اس کی جانب آکر اس نے باؤل اٹھا کر مچھلی والا پانی مشل کے سر پر پھینکا،،
یخخ!!آہ!! ماما۔۔
مچھلی کی بو والا پانی اپنے اوپر محسوس کرتی وہ یکدم جھٹپٹائی تھی۔یکدم ابکائی محسوس کرتی وہ روتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھی۔
چھت سے یہ منظر عاہن علوی دیکھتا ایک بار پھر ہنستا چلا گیا تھا۔
پہلے سیاہ پالش اور اب مچھلی والے پانی سے نہلا کر بھی اسکے جلتے دل کو سکون نہیں آیا تھا۔
**“””
اگلے دن بنا کسی اختلاف کے اسے جم جانے کی اجازت مل گئی۔
خوشی سے وہ شہرام علوی کے گلے لگا۔
“سب کہتے ہیں بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے۔لیکن اگر بھائی آپ جیسا ہوتو دشمن کوئی کیسے بن سکتا ہے۔آپ جیسے بھائی تو ہمت ہوتے ہیں۔
مشل اور ماہ تاب کو دیکھ کر مجھے گمان ہوتا ہے کہ وہ اصلی بہنیں ہے بھی یا نہیں، جیسے پاگلوں کی طرح لڑتی ہیں حیرت ہوتی ہے مجھے۔، لیکن آپ کو دیکھ کر مجھے محض رشک آتا ہے۔اللہ آپ جیسا بھائی سب کو دے۔
جذبات سے آواز قدرے بوجھل سی ہوئی تھی۔
میرا دل نہیں تھا کہ میں تمہارا جم میں ایڈمیشن کرواتا۔کیونکہ پھر ایک گندی حرکت کرکے تم نے تائی امی کے عتاب کو آواز دی ہے۔
شہرام نے اسے ٹوکنا ضروری سمجھاتھا۔
بھائی !! میں صرف مچھلی دیکھ رہا تھا۔مجھے کیا پتہ تھا وہ پھسل جائے گی۔وہ سیاہ تاروں میں ہاتھ پھیرے رخ موڑے بولا تھا۔
“تم دیکھ رہے تھے یا پھر اس کا قتل کرنے والے تھے”۔
“بھائی میں فرائی کرنے کی سوچ رہا تھا۔پر اس بدتمیز نے مہلت ہی نہیں دی۔یہ مشل فشل بہت ہی بدتمیز ہے”۔
مقابل عاہن علوی تھا ڈھیٹوں کا سردار،،
جو آسانی سے نہیں مانتا تھا۔
شٹ اپ!! وہ ہلکا سا پنچ کندھے پر مارتے اسے گھور کررہ گیا۔
کسی بھی بات کا اثر لیے بغیر وہ دوبارہ گلے سے لگاتھا۔
اگین تھینکس،،
شہرام بھی ہلکا سا تھپڑ مارے بازو حائل کرچکا تھا۔
💗💗💗
تم!! سیونتھ سٹینڈرڈ میں پرموٹ ہوگئی۔مبارک ہو لگتا ہے تایا ابا نے اچھے خاصے پیسے پرنسپل کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروائے ہیں۔ہاں وہ توکروا سکتے ہیں آخر میڈیکل سٹور ہے ان کا پیسہ تو بارش کی طرح برسے گا”
کچن میں کام کرتے تائی امی کے ہاتھ تھمے۔
ہنڈیا میں چمچ زور سے پھیرا گیا۔شور کی آواز سن کر وہ طنزیہ مسکرایا تھا۔
عاہن کے جلتے دل پر ٹھنڈی سی پھوار پڑی تھی۔
ماہ تاب!! تم اتنی لائق ہو۔ہر وقت پڑھتی ہو۔ کچھ اس کو بھی سکھادو گی تو تمہارا کیا جائےگا؟”
مشل نے دانت کچکچائے تھے۔
مشل اور ماہ تاب خلاف توقع آج اپنے پورشن کے لاؤنج میں موجود تھیں۔تبھی آج عاہن کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملاتھا۔
“تمہیں کیا مسئلہ ہے اگر اس کے باپ نے پیسے دے ہی دئیے۔تمہاراباپ تو یہ بھی نہیں کرپایا کہ کم ازکم پیسے لگاکر تمہارا ایڈمیشن کسی اچھے کالج میں کروادے۔
وہی سستا گورنمنٹ کا کالج وہی گندی سی وردی اور وہی تمہاری گندی سی شکل”۔
تائی امی کی فراٹے بھرتی زبان نے گویا عاہن علوی کے خون میں شرارے دوڑائے۔
میرے پاپا نے کم ازکم تایا ابا کی طرح رشوت خوری نہیں کی۔ہمارے حصے پر بھی قبضہ جماکر بیٹھ گئے”۔
عاہن !! اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا کہ سعادت علوی کی آواز پر وہ یکلخت مڑا۔
ایک زور دار تھپڑ مار کر انہوں نے عاہن کے گال سرخ کیا تھا۔ماہ تاب اور مشل اپنی جگہ سے اچھلے۔
تائی امی کے چہرے پر بھی شاطرانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔جیسے انہوں نے اس تھپڑ کا بھرپور لطف لیا ہو۔
“آئندہ بھائی صاحب کے بارے میں الٹا سیدھا بولا تو میں ہر لحاظ بھول جاؤں گا”۔
عاہن سن چہرے کے ساتھ سرخ نگاہ لیے انہیں دیکھتا رہا۔
جاؤ یہاں سے ،اس سے پہلے کے میں مزید تمہارا حال بگاڑ دوں۔
سدرہ بیگم بھی شور سنتی باہر آئی۔
عاہن نے شکوہ کناں سا انہیں دیکھا۔جیسےکہہ رہا ہو کہ میرا قصور کیا ہے۔
وہ ماں تھیں۔عاہن کی سیاہ آنکھوں کو شکوہ کیسے نہیں جان پاتیں۔؟
سعادت!! “آپ غصہ مت کریں۔بچہ ہے میں سمجھاؤں گی۔آپ پلیز بیٹھ جائیں “وہ انہیں وہیں تخت پر بیٹھنے کا کہتی کچن کی جانب بڑھی۔
سعادت صاحب نے گردن بلندکرکے سامنے پورشن کی جانب نظر دوڑائی۔
تخت پر بیٹھ کر انہیں گردن ہلکی سی بلند کرکے وہ پورشن دیکھنا پڑتا تھا۔
کہنے کو تو وہ گھر ایک ہی تھا۔لیکن ایک گیٹ میں دوگھر آباد تھے۔
وہ چھ مرلے کا لمبا سا گھر دو حصوں میں بٹا ہوا تھا۔
ایک حصہ جیسے کسی محل کا ٹکرا لگتا جبکہ ایک حصہ جیسسے کسی غریب کی کوٹھری۔
دو کمرے بدر علوی نے وقت رہتے سعادت کے حصے میں دئیے تھے۔
جبکہ دو کمرے اور ڈرائنگ روم بڑے اور لاڈلے بیٹے کے حصے میں آئے تھے۔اپنے لیے انہوں نے بالکل پیچھے ایک کمرہ منتخب کیاتھا جو سعادت کے حصے میں ہی آتاتھا۔
زوار علوی نے وقت کے ساتھ اپنا پورشن اس انداز میں سنوارا تھا کہ براؤن گیٹ سے اندر آتا شخص بھی ٹھٹک جاتا کہ یہ محلے کا ہی لوہے کا براؤن گیٹ والا گھر ہے۔زوار کے لاؤنج میں صوفے اور ٹیبل سجے تھے دیواریں سفید پینٹ سے سجی تھیں جبکہ سعادت کے حصے میں عام سا تخت جس پر پھول دار چادر بچھ کر اس تخت کے ٹوٹے حصوں کو چھپاچکی تھی۔
اور چند کرسیاں تھیں۔
سعادت بقول دادا کے منحوس تھا۔اس کی قسمت چھوٹی تھی۔تبھی وقت نے انہیں ترقی نہیں دی تھی۔
جبکہ زوار بلندی کا نام تھا۔تبھی آج ایک میڈیکل سٹور کے زریعے وہ دونوں ہاتھوں سے بیٹھے بیٹھے کمارہا تھا۔جبک سعادت کے حصے میں پرچون کی چھوٹی سی دکان تھی جو بدرعلوی نےاحسان کے طور پر انہیں عنایت کی تھی۔
تائی امی عاہن کا لال چہرہ دیکھ کر پرسکون ہوچکی تھی۔تبھی واپس کچن میں جاکر اطمینان سے کھانا بنارہی تھی۔جبکہ مشل علوی بھی جیسے اس تھپڑ کا لطف لیتی آرام سے صوفہ پر پھیل کر لیٹی تھی۔
ان سب میں جو گھبرائی سی وہ تھی وہ ماہ تاب تھی۔جسے یہ سب عجیب لگتا تھا۔جسے ماں کا رویہ حیران کرتا تھا۔جسے باپ کی سخت گیری دہلاتی تھی۔جسے مشل علوی سے بڑے ہونے کے باوجود بھی خوف سا آتا تھا۔
❤❤❤❤❤❤
جاری ہے؛؛❤