No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
وہ سچ میں چلاگیاتھا۔صبح اٹھتے ہی پہلی خبر تھی جو ماہ تاب نے سنی تھی یعنی وہ اپنے عہد کا سچا نکلا تھا۔اس نے دھتکار دیا تھا۔نہیں دھتکارا نہیں شاید اس کے وقار کو سلامت رہنے دیا۔اسے خود سے نظر ملانے کے قابل رہنے دیا۔کیونکہ اگر وہ سامنے رہتا تو اس کی افسوس کرتی نگاہیں ماہ تاب کو خود سے نگاہ ملانے کے قابل نہیں چھوڑتی۔
“چلو اچھا یے ایک بلا تو ٹلی۔ ورنہ صبح شام اس لڑکے کو دیکھ کر مجھے تمہاری زبان کا غم کھائے جاتا تھا”۔
اس کا کمرہ سمیٹتی شبانہ بیگم گویا اپنی زبان کے جراثیم بھی کمرے میں بکھیر رہی تھیں۔جاناں کو وہ جراثیم ہی لگے۔آنکھوں کے سامنے کمرے میں ناچتے بدرنگ سے کیڑے۔جو اس کی ماں کے منہ سے نکل رہے تھے۔
جاناں کا دل چاہا وہ کانوں پر ہاتھ رکھ لے۔اپنی ماں کی یہ آواز کبھی نہ سنے جو وہ شہرام علوی کی شان میں بلند تھی۔
مشل سکول جاچکی تھی۔اس نے طبعیت کا بہانہ بنا کر چھٹی کی تھی۔
جلدی اٹھو!! ناشتہ تیار ہے آجاؤ !!
وہ بنا اس کا سفید بے تاثر سا چہرہ دیکھے کمرے سے نکل گئی تھیں۔
ان کے لیے بچوں کی اعلی خوراک اعلیٰ رہن سہن اہم تھا۔ان کے لیے یہ اہم نہیں تھا کہ بچوں کے دماغ میں کیا فتور پل رہا ہے۔؟
کسلمندی سے اٹھتی وہ پاؤں میں چپل اڑسے لاؤنج کی جانب بڑھ گئی۔
اب اتنی بھی سہولت اس گھر میں موجود نہیں تھی کہ ہر کمرے میں ملحقہ واش روم ہوتا۔
*“”””
چچی!! شہرام اتنی جلدی ہوسٹل میں شفٹ بھی ہوگئے۔مل کر بھی نہیں گیا،”
ناجانے کیوں دل کی تصدیق کے لیے وہ چچی کے پورشن میں چلی آئی تھی۔
اس حصے میں قدم رکھتے ہی خالی پن کا احساس تو اسے شدت سے ہوا۔لیکن ناجانے کیوں سب جھٹلاتی وہ چچی سے پوچھ بیٹھی۔
“بیٹا وہ کافی دن سے کہہ رہاتھا کہ یونیورسٹی دور پڑتی ہے پھر مزید کسر وہ ٹیوشنز نے پوری کردی۔اس لیے وہ چلا گیا”
مصروف سی وہ ماہ تاب کا چہرہ نہیں دیکھ سکی جس کا سفید چہرہ دل کے خالی پن کا عکاسی تھا۔
وہ دیکھتی بھی کیسے ؟؟ وہ سادہ سی خاتون نہیں جانتی تھی کہ شہرام علوی کے جانے کی وجہ ماہ تاب علوی ہی تھی۔
وہ اسے نظر اٹھا کر جینے کے قابل چھوڑ کر چلا گیا تھا۔شاید اس نے احسان کیا تھا۔لیکن اب تو دل درد و یاسیت میں ڈوبا تھا۔ابھی شاید اسے اس احسان کا احساس نہیں ہوپاتا۔
چچی!! آنسو کو اندر دھکیلتی وہ بے ساختہ پکار کر قریب ہوئی۔
کیا ہوا؟؟ انہوں نے سادگی سے مسکرا کر چہرے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
چچ !! چچی مجھے اب کون پڑھائے گا؟”روہانسی سی وہ بولی تھی۔
انہوں نے بے ساختہ اس کی پیشانی چوم کر سینے سے لگا،
چچی میری پڑھائی، وہ پھر سے وہی الفاظ دہراتی آنسو حلق میں اکٹھے کرنے لگی تھی۔دل امڈ امڈ کر آرہا تھا۔
دل کے درد کو اپنی ازلی پریشانی میں لپیٹ کر وہ جیسے سدرہ بیگم کے حوالے کرنا چاہ رہی تھی۔
“ویک اینڈ پر آیاکرے گا۔پھر پڑھ لیا کرنا۔جانتی تو ہوتمہارے لیے وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے”۔
ان کے لفظ تو عام تھے۔لیکن جاناں کو وہ لفظ برچھی کی مانند لگے۔
وہ کر گزر گیاتھا ۔وہ چلاگیا تھا۔لیکن جاناں شاید یقین نہیں کرنا چاہتی تھی۔وہ جھٹلاناچاہتی تھی کہ وہ ابھی لوٹ آئے گا۔
💗💗💗💗💗💗
اپنی کلاس لے کر وہ بیگ کندھے پر لٹکائے ابھی باہر ہی نکلا تھا کہ سامنے آتے لڑکے سے ٹکرایا۔
وہ قریباً بائیس تئیس سال کا لڑکا تھا۔خوش شکل سا اونچے قد کاٹھ کا حامل تھا۔
دھیان سے برو، کس کے خیالوں میں گم تھے؟ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے سہارا دے کر بچایا
شہرام نے تعجب سے اسے دیکھا۔جس کا اچھا لباس ظاہر کررہاتھا کہ وہ کسی اچھے گھرانے سے ہے۔
یہ ایلیٹ کلاس کا لڑکا اس سے کیسے اتنے اچھے طریقے سے بات کررہا تھا؟”
شہرام کی حیرت بجا تھی۔کیونکہ غربت کی ہلکی سی بو تو اس کے کپڑوں سے ظاہر ہو جاتی تھی۔
مزید کسر اس کی گندمی سی رنگت پوری کردیتی تھی ۔
“غربت کی ایک خاص بوہوتی ہے جسے امیر لوگ پل بھر میں پہچان جاتے ہیں۔غریب شخص اس بو کا اتناعادی ہوجاتاہے کہ اسے اس بو کا احساس بھی باقی نہیں رہتا۔لیکن شہرام علوی یہ بو ہر روز سونگ کر اپنی حیثیت کو یاد رکھنا چاہتاتھا۔”
میں کافی دن سے دیکھ رہا تھا۔سوچا تم سے بات کرلوں۔لیکن پھر تمہارا یہ سنجیدہ چہرہ دیکھ کر میری ہمت نہیں ہوئی کہ میں اس شیر کو چھیڑ دوں ۔
خوش اخلاقی کا شدید مظاہرہ کرتا وہ شہرام علوی کو اچھا لگا۔
اوپس !! میں اپنا نام بتانا تو بھول گیا۔
مقابل نے اس کی ابھرتی آنکھوں میں سوال کو فوراً پڑھا۔
“میرانام معیز رؤف ہے۔میں بھی تمہاری طرح میڈیا کا ہی سٹوڈنٹ ہوں”۔
ویسے کوئی خاص وجہ اس فیلڈ کے انتخاب لیے ؟” اس نے ابرو اچکائے شہرام کو دیکھا۔
شہرام اس کا حوالہ سمجھ چکا تھا۔
“برو برا مت ماننا ،، میں بندہ زرا صاف گو ہوں یونو منہ پر بات کرنے والا۔ میں تمہیں برا نہیں کہہ رہا ، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ یہ تمہاری شخصیت سے میچ نہیں کررہا۔تم اچھے خاصے ہو لیکن زرا بھی ورسٹائل نہیں ہو”۔
شہرام کے چہرے پر تعجب ہی تعجب تھا۔
اسے کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ ان کی پہلی اچانک سی ملاقات ہے۔
شہرام کو حیرت اسے اپنا اچھا خاصہ کہنے پر ہوئی تھی۔
“آؤ کینٹین چلتے ہیں وہاں مل کر بات کریں گے”۔
اس کا کندھا تھپتپاتا وہ ساتھ چلتا کینٹین کی جانب بڑھ گیا تھا۔
💗💗💗💗💗
تم نے تو اب تک مجھے اپنا نام بھی نہیں بتایا؟” معیز رؤف کی آواز پر گہری براؤن سی آنکھیں سامنے اٹھیں۔
میرا نام شہرام علوی ہے”
شہرام کی بھاری آواز پر معیز نے ایک بھرپور نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
“تمہارا نام بہت پیارا ہے مگر تمہاری شخصیت سے میچ نہیں کرتا”:۔معیز نے ایک بار پھر صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔
“میری شخصیت کیا ہے کیا نہیں میں بہتر جان سکتا ہوں”۔شہرام کے ضبط نے جیسے آخری حد پار کی تھی۔
معیز قدرے مسکرا کر ہاتھ اٹھا چکا تھا۔جیسے جتانا چاہ رہا ہو کہ کول ہوجاؤ۔
“تم بہت خوبصورت ہو۔لیکن تم اپنی قدر نہیں کرتے شہرام علوی”۔
وہ کھلنڈراسا خوش شکل لڑکا ناجانے کیسےاس کی ذات کا تجزیہ کرتا جارہا تھا۔شہرام کو حیرت کے ساتھ ساتھ ہلکا سا طیش بھی آیا۔
“میں نے کسی کو اجازت نہیں دی کہ میری ذات کا کوئی گہرا تجزیہ کرے”۔دوٹوک انداز میں کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔لیکن معیز نے بازو تھام کر اسے دوبارہ بٹھایا تھا۔
“دوستی کے آغاز میں لڑائی ہونا دوستی کو مزید مضبوط بناتا ہے۔کیونکہ آپ ہمیشہ ان سے لڑتے ہیں جو آپ کےدل کے قریب ہوں”۔
معیز کی گہری بات پر جاناں کا عکس تصور کی سکرین پر لہرایا ۔چہرے پر جیسے فرحت بخش سا تاثر ابھرا تھا۔اسے سوچ لینا بھی شہرام علوی کو پرسکون سا کردیتا تھا۔
“ہماری دوستی کب ہوئی؟”
شہرام کی حقیقت پسندی پر اس نے عنابی لبوں کو ہلکا سا پھیلایا۔
“جب میں نے تمہیں بازو سے پکڑ کر روکا تو سمجھ لو ہماری دوستی ہوگئ۔اب تم سمجھو یا نہ سمجھو”۔کندھے اچکائے وہ اسے لاجواب کرگیا۔
تم” دی ون” ہاسٹل میں رہائش پذیر ہو ناں۔؟”وہ لڑکا شاید اس کے بارے میں تمام معاملات کی جانکاری رکھتا تھا۔
شہرام نے بلا تعجب اثبات میں سرہلایا۔
“اپنے ساتھ والا بیڈ خالی کروالو کیونکہ اب میں تمہارے ساتھ رہنے آرہا ہوں”۔
اس کی غیر متوقع بات پر شہرام علوی محض اس دیکھ کر رہ گیا۔لیکن وہ انجان بنتا سینڈوچ کی بائیٹ لینے میں مشغول ہوا تھا۔
❤❤❤❤❤❤
” بھائی کے بـغیر گھر کتنااداس سا ہے”۔عاہن کی آواز پر ماہ تاب کے ہاتھ کے ساتھ دل بھی رک کر دھڑکا تھا۔
اس کا ذکر آئے اور ماہ تاب کی دھڑکن نہ تھمے ناممکن سی بات تھی۔
“مجھے تو کوئی اداسی نظر نہیں آرہی۔بلکہ تمہارے گھر میں رش کم نظر آرہا ہے”۔
ازلی دشمن مشل علوی نے بالوں کی پونی جھٹک کر آنکھیں گھمائے عاہن کی جانب دیکھا۔
مشل کو دیکھتے ہی منہ حلق تک کڑوا ہوا۔وہ بہت کم اس سے سامنا کرتا تھا۔اس دن سے تو بہت کم ہی ہوگیا تھا۔جب اس نے راکھ والا پانی اس پر پھینکا تھا۔
اس پانی کے وجہ سے جو نقصان بہرام علوی کا ہوا تھا۔ وہ کوئی نہیں جان سکتا تھا۔اور پھر باپ سے تھپڑ کھا کر وہ مزید متنفر ہوگیا تھا۔
اس کی عزت نفس مجروح ہوئی تھی۔اس کے وہ خاص دوست جو اس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے وہ اس سے روابط ختم کرچکے تھے۔اس سے بڑھ کر نقصان کیا ہوتا کہ وہ کالج میں تنہا رہ گیا۔اس کے چار دوستوں کا الگ گروپ بن گیا تھا۔اور وہ تنہا ، ایک جانب رہ گیا۔
اور تنہائی انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جانے والا کام کرتی ہے۔
“تم سے میں نے بات کی جو تم میرے منہ لگ رہی ہو؟” کاٹ دار لہجے میں وارن کرتا وہ دوبارہ ماہ تاب کی جانب متوجہ ہوا۔
جو پژمردہ سی تھی۔جس کےسفیدگال مزید سفیدی میں ڈھل رہے تھے۔گویا اس شخص کا جانا ماہ تاب علوی کا خون نچوڑ رہا تھا۔
وہ اس کی محبت کا جواب محبت سے دے کر نہیں گیا تھا۔اس سے بڑھ کر ماہ تاب کے لیے اذیت کیا ہوتی؟۔
وہ شخص جو کبھی اسے ایک سخت نظر سے بھی نہیں دیکھتاتھا وہی شخص اسے نکل جانے کا کہہ کر گیا تھا۔یعنی وہ اپنی عزت نفس گنوا چکی تھی۔
“ماہ تاب نے تو اداس ہونا ہی ہے۔اس کا پارٹنر جو چلا گیا جو اسے ہرجگہ لے کر گھومتا تھا۔جس سے ماہ تاب چھپ چھپ کر ناجانے کیا پڑھتی تھی”
وہ فطرتاً ماں کی کاپی تھی۔تبھی انہیں کی زبان استعمال کرتی تھی۔وہ لاکھ لاابالی سہی لیکن اس کی فطرت میں دوسروں کو ایضا پہنچانا ہی تھا۔جیسے وہ عاہن کو پہنچاتی تھی جیسے اس وقت ماہ تاب کو دے رہی تھی۔
ماہ تاب کا خون ان لفظوں پر خشک ہوا۔تنفر تو عاہن کی نظر میں بھی ابھر آیا تھا۔
تمہیں تمیز نہیں ہے؟ کیا چھپ چھپ کر ملتی ہے یہ کیابول رہی ہو؟”۔
عاہن کی آنکھیں کچھ زیادہ ہی سیاہ ہوئی تھی۔
“تم سے میں نے بات کی جو بکواس کررہے ہو۔اپنی اوقات میں رہا کرو”،۔ رکو تمہیں میں بتاتا ہوں کیا اوقات ہے میری،
آگے بڑھ کر اس نے مشل کو دھکا دیا۔وہ جھٹکا کھائے نیچے گری کہ ماہ تاب کی چیخ ابھری۔
ماہ تاب بھی گھبرائی سی اٹھ کھڑی ہوئی، مشل کو اٹھائے اس نے عاہن کو گھورا تھا۔
میرے بھائی کے بارے میں زبان چلانے سے پہلے اپنی یہ چوٹ یاد رکھنا ، بازو پر لمبی سی خراش کی جانب اشارہ کیے وہ ایک اور دھکا مار کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
مشل علوی سے نفرت دن بہ دن بڑھتی چلی جارہی تھی،ناجانے اس نفرت کی انتہا کیا ہوتی؟”
مشل نے اس کی پشت کو سبز گیلی آنکھوں سے گھورا تھا۔
““””
اگلے دن معیز رؤف اس کے کمرے میں موجود تھا۔
شہرام نے بالکل بھی تعجب ظاہر نہیں کیا کیونکہ وہ اس کی فطرت کو کل ہی سمجھ چکا تھا وہ سرپر سوار ہونے والا انسان ہے۔
برو!! “شام کو میرے ساتھ سیلون چلنا، کچھ ضروری کام ہے”۔بیڈ پر دراز ہوتا وہ بے تکلفی سے گویا ہوا۔
شہرام جانتا تھا وہ کیوں ایسی بات کررہا ہے۔
“مجھے اپنی شکل وصورت اور اپنی شخصیت کو نکھارنے کےلیے مصنوعی سہاروں کی ضرورت نہیں ہے۔میں جیسا ہوں ویسا ہی رہوں گا”.
شہرام کے دو ٹوک انداز پر وہ چت لیٹا۔
میری آنکھ پتہ ہے کیا دیکھ رہی ہے؟ “ابرو اچکائے اس نے شہرام کو دیکھا۔جو بیزار سا تھا۔
شہرام علوی عنقریب ٹاپ ماڈل بننے والے ہیں۔نہ تم نہ ایکٹر بنو گے نہ کوئی اور شعبہ جوائن کرو گے۔تم ماڈل بنو گے۔ٹاپ ماڈل۔اور جانتے ہو تمہیں اپنی شخصیت کو نکھارنے کے لیے مصنوعی سہاروں کی ضرورت شدت سے محسوس ہوگی۔”
“تمہیں کس نے کہا کہ میں نے یہ فیلڈ اس لیے جوائن کی کہ مجھے ماڈل ایکٹر یا پھر نیوز کاسٹر یا بلا بلا بننا ہے”۔
بک سائیڈ پر رکھتا وہ تلخی سے گویا ہوا۔
“مجھے کچھ نہیں بننا مجھے عام انسان رہنا ہے۔جو کہ میں ہوں”۔
شہرام تم میں ناامیدی نہیں ہے لیکن تم ناامیدی اپنے اندر پیدا کرنے چاہتے ہو۔تم۔خود کو ناامیدی کے دائرے میں قید کرلینا چاہتے ہو”۔
اس کی گہری سی بات پر شہرام نے نظر کا رخ پھیرا۔
شام کو ریڈی رہنا میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا۔اگر نہ گئے تو اٹھا کر لے جاؤں گا”۔
دھمکی دیتا وہ روم سے باہر نکلتا چلا گیا۔سرجھٹکتا وہ دوبارہ بک کی جانب متوجہ ہوا۔جیسے اس سے ضروری کام اس کے لیے کوئی نہ ہو۔
اس کی بلا سے معیز بھلے بولتا ہی رہے،وہ تو اپنی دھن کا پکا شخص تھا۔
💗💗💗💗💗
“میرے پاس اتنے فالتو پیسے نہیں ہیں۔تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے۔وہ ساتھ چل تو رہا تھا لیکن زبان بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی”۔
اس نے اپنا کہا سچ کردکھایاتھا۔
سپورٹس کار کا دروازہ کھول کر اس نے قدرے جھک کر اسے بیٹھنے کااشارہ دے کر کورنش بجالایا۔
شہرام نے ایک گھوری اس پر ڈالی۔
وہ سرخ رنگ کی سپورٹس کار اس کی حیثیت سے بہت اونچی تھی۔معیز رؤف بھی اس کی حیثیت سے کافی بلند شخص تھا۔لیکن وہ بلند ترین شخص ناجانے کیوں ایک کم حیثیت لڑکے سے دوستی بڑھالینا چاہتا تھا۔
“تم کیوں مجھ پر زبردستی مسلط ہورہے ہو۔مجھے تم پر اعتبار نہیں ہے”، قدرے زچ ہوتا وہ گیٹ پر ہاتھ مارے مڑاتھا۔
” اعتبار وقت دلائے گا اور میں مسلط نہیں ہوتا۔بس جو لوگ مجھے اچھے لگتے ہیں میں ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔سمجھ لو تم مجھے اتنے اچھے لگے ہو کہ میں تمہارے لیے بہت کچھ کرسکتا ہوں۔لیکن میری صرف ایک شرط ہے کہ تم مجھ سے دوستی کرلو”۔معیز کی گہری دلکش سے الفاظ شہرام علوی کی سماعت کو ایک میٹھی سرگوشی کی مانند لگے۔
“یہ تو احسان ہوا”۔وہ سانس خارج کرتا محض یہی کہہ پایا۔
تصیح برو!! احسان نہیں یہ میرا تمہارے لیے خاص پیار ہے۔ایسا پیار جو میں ہر کسی پر نہیں جتاتا۔”
کندھے اچکائے وہ بولتا شہرام کو ناجانے کیوں مشکوک سا لگا۔
گہری براؤن آنکھوں نے اوپر سے نیچے لے کر اس کا جائزہ لیا کہ وہ سر ہلکا سا پیچھے گرائے ہنستا چلا گیا۔
“بہت دور کا سوچ لیتے ہو۔میں لڑکا ہی ہوں ،”کندھے پر ہاتھ رکھتے اس نے برابر آنکھوں میں دیکھا۔
شہرام نے پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں کو جانچا تھا۔
وہ عاہن کی طرح سیاہ آنکھوں کا حامل دلکش سا شخص تھا۔جس کے مسکراتے لب الگ ہی داستاں رقم کررہے تھے۔
ناجانے کیوں عاہن کی یاد شدت سے آئی۔وہ بھی تو ایسے ہی اس کے قریب آجاتا تھا۔
تمہیں میرے سیاہ رنگ سے الجھن نہیں ہوتی”۔
گہرا ضبط کرتا وہ خود ہی اپنی ذات کے بخیے ادھیڑے بولا
معیز کی گرفت یکلخت ڈھیلی ہوئی۔آنکھوں میں طیش نمایاں ہوا۔گویا اس کی بات ناگوار گزری ہو۔
“تم سیاہ نہیں گندمی ہو۔اور تم انسان ہو کوئی غلیظ جانور نہیں جس سے الجھن محسوس کی جائے”۔
کل سے لے کر آج پہلی بار وہ شخص کھردرا سا بولا تھا۔
“تم میرے دوست ہو اور میں تمہیں بھی یہ حق نہیں دوں گا کہ تم میرے دوست کے بارے میں یہ بکواس کرو۔
تمہاری وجاہت ، خوبصورتی سب چھپی ہوئی ہے۔جسے نکھارنے ہی آج میں تمہیں ہیر ڈریسر کے پاس لے کر جارہا ہوں۔
یقین کرو، تمہارا نقصان ہرگز نہیں ہوگا”۔
وہ ایک بار پھر اس کے قریب آیا ۔اس کے وجود سے اٹھتی مہنگے ترین پرفیوم کی مہک شہرام علوی کو اس وقت اس کے وجود جیسی دلفریب لگی تھی۔وہ یقیناً منفرد شخص تھا۔
وہ محض سر اثبات میں ہلائے گاڑی میں سوار ہوا۔
معیز اس کی فطرت شاید جان چکا تھا۔یقیناًآگے جاکر اسے ڈیل کرنا آسان ہونے والا تھا۔
💗💗💗💗
آہ !! ظالم،،مار ڈالا، کیا لگ رہے ہو برو؟؟سینے کو دبوچے وہ قدرے جھکا تھا۔
معیز کی مبالغہ آرائی کی حد پر اس نے آنکھیں گھمائی۔
“قسم سے دل لٹو ہورہا ہے ؟کوئی ایک دھلائی میں اتنا بھی نکھر سکتا ہے؟”
اس کے قریب آتا وہ شرارت پر آمادہ ہوا۔
شہرام نے جنجھلا کر قدم پیچھے لیے تھے۔
ارے!! “مجھ سے کیاڈر رہے ہو برو،؟”
آنکھ دبائے وہ ایک ادا سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرے بولا ۔شہرام جھرجھری لیے چند قدم پیچھے ہوا تھا۔
اس کے واضح پیچھے ہونے پر معیز کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
افف شرمیلے لڑکے،،
دوگھنٹے کے طویل انتظار کے بعد ایک نیا شہرام علوی معیز رؤف کے سامنے تھا۔
ایک ترتیب سے سجی ہلکی پھلکی سی داڑھی۔گندمی رنگت اس وقت فرحت بخش سا روپ دے رہی تھی۔
گہری براؤن آنکھوں کی چمک واضح ہوئی تھی۔بالوں کو شیمپو اور بلو ڈرائے کرکے اوپر کی جانب سیٹ کیے وہ مڈل کلاس شہرام علوی سے بالکل الگ تھلگ ایک ایلیٹ کلاس لڑکا لگ رہا تھا۔اور یہی معیز رؤف چاہتاتھا۔وہ شہرام علوی کوبدل دینا چاہتا تھا۔
وہ پچھلے چھ ماہ سے اس کا پیچھا کررہا تھا۔اسے اس شخص سے ناجانے کیوں انسیت سی ہوئی تھی۔کئی مرتبہ چاہا کہ اس سے بات کرے لیکن اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر معیز رؤف کے اندر کی ہمت مقفود ہوجاتی تھی۔
لیکن کل کے ٹکراؤ میں اس نے ساری ہمت کو جمع کرکے زبردستی شہرام علوی کو قابو کیا تھا۔
چکنے گھڑے!! معیز نے دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ اسے ایک نام دیا تھا۔
شہرام نے گھور کر اسے دیکھا۔اس کی گھوری کا بھرپور لطف لیے وہ ایک بار پھر ہنستا چلا گیا تھا۔
مجھے وجہ بتاؤ، تم کیوں مجھے سنوارنا چاہتے ہو؟”وہ اب بھی اسی سوال پر رکا تھا۔
“کیونکہ مجھے ایک بھائی کی ضرورت تھی۔ایک دوست کی ضرورت تھی۔مجھے اس دوست کی ضرورت تھی جو اپنی ذات میں گم اپنے سپاٹ چہرے کے ساتھ بھی دوسروں کو متوجہ کرلیتا ہے۔
سمجھ لو میرا دل بھی تمہاری جانب متوجہ ہوتا چلاگیا،اور جانتے ہو وہ منہا بھی تمہیں دیکھتی ہے۔اب تو کہیں دل ہی نہ ہار جائے؟”
اپنے دل پرہاتھ رکھے وہ ہلکاساجھکا۔
کون منہا؟” شہرام متجسس تھا۔
ارے وہی ،اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ کی ہے۔کافی دلکش لڑکی ہے”۔اس نے خاطر خواہ معلومات میں اضافہ کیا تھا۔
تو دیکھنے دو،اس نے ناک سے مکھی اڑائی تھی۔
ارے وہ تو کیا دیکھے گی میری نگاہ ہی اس خوبروئی سے نہیں ہٹ رہی ،کیا کوئی اتنا بھی نکھر سکتا ہے۔،
میں کیا کوئی لڑکی ہوں؟؟ شہرام نے چڑ کر پوچھا۔
“تم میرے چکنے گھڑے ہو جو ہاتھ سے کپ پھسل جائے پتہ بھی نہیں چلے”۔
اس کے دونوں گال کھینچ کر معیز نے اسے مزید چڑایا تھا۔
اب چلو!! اس زبردستی کھینچتا وہ باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
ابھی وہ پیسوں کی بابت کے بارے میں استفسار نہیں کرسکتا تھا۔لیکن شہرام علوی اپنے اصولوں میں اٹل تھا۔ یہ قرض بھی وہ وقت آنے پر چکانے والا تھا۔
💗💗💗💗💗💗
کیسی لگی ایپی اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجیے ،،
خوش رہیے ❤
