Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
گھر کی فضا ہلکی سی سوگواری میں لپٹی محسوس ہوئی تو عاہن علوی کو بھی باوثوق ذرائع سے خبر مل چکی تھی۔
نٹ کھٹ سے عاہن علوی اس وقت خونخوار شیر کا روپ دھارے سرد انداز میں کھڑا تھا۔
“مم آپ نے اسے گھر میں آنے کیسے دیا؟” عاہن نے قریب چوتھی بار سوال دہرایا تو سعادت علوی نے اسے غصے سے گھورا۔مقابل کان کی لو کھجا کر رہ گیا۔
“تمہاری اتنی سنجیدہ ایکـٹنگ ٹی وی پر ہی اچھی لگتی ہے”۔
وہ بھرپور سنجیدہ ماحول میں بھی طنز کرنے سے باز نہیں آئے۔سدرہ بیگم کا سر پیٹ لینے کو دل چاہا۔
“ڈیڈ آپ خود دیکھیں وہ ہمارے گھر آئی۔مام کو پیپر دئیے دادا کا ہاتھ بھی چوما سرپر پیار بھی لیا اور میڈم پیپر تھما کر چلتی بنی۔اور میری سدا کی بھولی ماں نے خوب آؤ بھگت کا سوچ لیا تھا”۔
خفگی بھری نگاہ سے ماں کو دیکھتا وہ اب تھوڑا دلبرداشتہ تھا۔عاہن کی نظر انہیں واضح محسوس ہوئی۔
“میں سوچ رہی تھی اس بارے میں شام کو نہیں پتہ چلنا چاہیے”۔ان کی غیر متوقع بات پر عاہن نے دانت پیسے۔
“آپ کہہ رہی ہیں۔سامنے دریا ہو۔شام بھائی وہاں سے آنکھیں بند کرکے گزرجائیں اور انہیں خبر نہ ہو کہ دریامیں پانی نہیں تھا۔”
“تم اپنی طرح بکواس باتیں ہی کہنا۔” سعادت علوی کی زبان میں کھجلی ہوئی۔
“مام وہ پیپر مجھےدیں میں ابھی سائن کرتا ہوں شکر ہے میری جان چھوٹ جائے گی۔اور سلینہ جو مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ایون وہ جو اس کی سویٹ سی ممی کی مجھے گھر داماد بنانے کی خواہش ہے وہ بھی پوری ہوجائے گی”۔
سعادت علوی کو باور کرواتا وہ کمرے میں نظر دوڑائے لاپرواہ سا بنا۔
“عاہن مجھ سے تھپڑ مت کھالینا۔”
سعادت علوی کی دھاڑ پر اس نے ماں کو مدد طلب نظروں سے دیکھا جو اب اسے نہایت وحشت ناک طریقے سے گھور رہی تھیں۔
عاہن نے کندھے اچکا کر معصومیت کا لبادہ اؤڑھا۔
دیکھو عاہن!!” میں جانتی ہوں تم اس وقت دلبرداشتہ ہو۔میری بات تمہیں سمجھ میں نہیں آئے گی۔وہ بچی جب یہاں آئی اس کے چہرے پر جیسے حسرتوں کا جہان آباد تھا۔جس طرح وہ ابو جی سے ملی مجھے حیرت ہوئی تھی۔
چھ سال عاہن بلکہ چھ سال کہاں آٹھ سال وہ ابوجی سے نہیں ملی تھی۔گیارہ بارہ سال کی تھی جب وہ اپنے گھر شفٹ ہوئی تھی۔اب واپس آئی تو ابوجی سے ایسے ملی کہ جیسے بہت عرصے سے انہیں جانتی ہو۔
تم اسی سے اندازہ لگالو کہ وہ رشتوں کو ترسی ہوئی ہے۔بھابھی نے ہمیشہ بچوں کو سہولیات دینے کی کوشش کی تھی۔کبھی سہولیات سے ہٹ کر پیار نہیں دیا۔اب تو وہ کافی بڑی ہوگئی ہے۔ماشاءاللہ حسن میں وہ حوروں کو بھی مات دے رہی تھی”۔
انہوں نے بات کا پینترا بدلہ تو عاہن نے ترچھی نگاہ پر ڈالی۔نگاہ میں واضح تھا کہ آیا آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں؟
“تم ماشاءاللہ سمجھ بوجھ رکھتے ہو۔تحمل سے کوئی بھی فیصلہ کرنا ۔ابو جی نے بڑی خوشی سے یہ نکاح کروایا تھا۔میں نہیں چاہتی اتنے غم دیکھنے کے بعد بھی انہیں خوشی نصیب نہ ہو۔تو ہم لوگوں کا جینے کا کیا فائدہ؟”
سدرہ بیگم کی درست نشاندہی پر عاہن پیشانی مسل کر رہ گیا۔سنہری بھوری سی تاریں اب بھی ماتھے پر بکھری تھیں۔
نیلی شرٹ شکن زدہ تھی۔وہ ملگجے سے حلیے میں بھی کافی خوبرو لگ رہا تھا۔ان چھ سالوں میں عاہن علوی نے اپنی شخصیت کو انتھک محنت کے بعد ایسا نکھارا تھا کہ کوئی جان نہیں پاتا تھا کہ یہ گلی محلے کا عام سا عاہن علوی ہے۔
سدرہ بیگم میٹھی نظروں سے بیٹے کو نہار کر کئی دعائیں اس پر پھونک ڈالی۔
“ٹھیک کہہ رہی ہو سدرہ۔میں یہی چاہتا ہوں کہ مشل اس گھر میں ہی آئے۔اور پوری عزت مان مرتبے سے آئے۔اور ابو کو بھی کم ازکم ایک پوتے کی خوشی نصیب ہوجائے”۔
“یعنی میں گلے میں ہڈی پھنسالوں۔”
دونوں ہاتھ اپنی طرف موڑے وہ تڑخ کر بولا۔سعادت علوی نے نگاہ سے اس فٹے منہ کہا۔
” آپ کا جو فیصلہ ہو مجھے بتادیجیے گا اس مورت کو کب لاکر گھر میں سجانا ہے مجھے اطلاع کردینا ۔میں عزت مان مرتبے کے ساتھ ان مہان ہستی کو لے آؤں گا۔”
تن فن کرتا وہ کمرے سے باہر نکلا۔
سدرہ بیگم پرتفکر بل ماتھے پر سجائے سعادت علوی کو دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
خلع نامہ وہ دے تو آئی تھی۔لیکن اب طبعیت خود کی بھی بے چین تھی۔ناجانے عاہن علوی کا کیا ردِ عمل ہوتا۔
کچھ دیر وہ ساکت سی بیڈ پر لیٹی رہی۔لیکن اسے اب اسے ایک جگہ بیٹھ کر سوچنا نہیں تھا۔
وہ لیپ ٹاپ گود میں رکھ کر مختلف ویب سائٹس پیجز کنگالنے لگی۔جہاں وہ اپنا پورٹ فولیو بھیج سکتی تھی۔
ایک جنون ایک خواب تھا جو آنکھوں میں سمٹ آیا تھا۔اسے عاہن علوی کو دو طریقوں سے مات دینی تھی۔
ایک اس سے طلاق لے کر دوسرا اس سے اونچا مقام لے کر۔
لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ وہ اردگرد سے مکمل بےخبر تھی جب اس کا فون تھرتھرایا تھا۔
شارف کا نام دیکھ کر وہ تنے اعصاب بحال کرتی کال پک کرچکی تھی۔
کیسے ہیں شارف؟؟”
وہ قدرے خوشگواری سے بولتی بیڈکراؤن سے ٹیک لگاگئ۔
میری ایک ڈائریکٹر سے بات ہوگئی ہے۔تم بس وہاں چلی جانا تمہیں سائن کردیا جائے گا۔
شارف کی تفصیلی اطلاع پر اس نے دانت پیسے تھے۔
شارف میں خود کچھ بننا چاہتی ہوں ۔میں چاہتی تو آپ کو وہی لاہور میں ہی بتادیتی۔
مشل !! میں آپ کو اتنی دور بھیجنا نہیں چاہتا تھا لیکن وہاں بھیج دیا یہ مت سوچیں کہ آپ پر میری نظر نہیں ہے۔
شارف پلیز۔۔” وہ بمشکل کہہ پائی۔
کل چلی جانا تمہارا کام آسانی سے ہوجائے گا۔ایڈریس میں سینڈ کرتا ہوں۔
وہ کال کٹ کرتے وہ مشل کو جنجھلا چکے تھے۔
وہ بیڈ سے کھڑی ہوتی اردگرد چکر کاٹنے لگی۔ایک ہاتھ کمر پر تھا تو دوسرا بالوں کو سہلارہا تھا۔
یکلخت اس کی نظر بھٹکی۔۔آنکھیں چھوٹی کیے وہ کونے میں دیکھتی رہی تھی۔
وہاں ایک چھوٹا سا کیمرہ لگاہوا تھا۔
“سوری شارف”ْ
اس نے موبائل اٹھا کر شارف کو میسج بھیجا تھا۔
شارف کی چھٹی حس چوکنا ہوئی انہوں نے بے ساختہ لیپ ٹاپ کو سامنے کیا تو سامنے شرٹ ٹراؤزر پہنے مشل علوی کیمرے کو ہی گھور رہی تھی۔
اوہ مائے گاڈ۔۔۔ماہ تاب تم نے یہ اچھا نہیں کیا ۔۔۔۔” وہ دانت پیستے ماہ تاب کو بھی جیسے مسل دینا چاہتے تھے۔
لیپ ٹاپ کی سکرین ایک دم بلیک ہوچکی تھی۔
انہوں نے غصے سے لیپ ٹاپ دور پھینکا۔
کیز اور سن گلاسز اٹھا کر وہ آفس سے نکلے تھے۔
شارف کی اس حرکت پر اس کا خون تو کھولا تھا لیکن وہ ضبط کرگئی تھی۔چاہتی تو وہ اس سے بازپرس کرسکتی تھی۔لیکن وہ محض خاموش رہی تھی۔کیونکہ وہ آج بھی ان کے لیے عزت کے رتبے پر تھے۔
بھوک کی کیفیت محسوس کرتی وہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھی تھی جب باہر ہوتی بیل سے وہ چونک گئی۔
ذہن میں ڈرائیور کو سوچتی وہ بال جوڑے میں لپیٹے دروازے کی طرف آئی۔ہول سے اس نے باہر دیکھا لیکن باہر کوئی نہیں تھا۔
اس نے کچھ دیر ویٹ کرکے دروازہ کھولا تھا۔
دروازے کے فریم میں ابھرتا عاہن علوی کا عکس اسے ساکت کرگیا۔
اسے وہ نگاہ کا فریب لگا تھا۔پلکیں جھپک کر اس نے یقین کو شک میں بدلنا چاہا ہے۔لیکن اس کا شک ہی یقین میں بدل چکا تھا۔
اسلام علیکم!!! وہ نہ چاہ کر بھی آداب نبھا چکا تھا۔لیکن اس کے لبوں پر کھلتی طنزیہ مسکراہٹ مشل علوی کو اپنی سنگین غلطی کا احساس دلاچکی تھی۔
اس کی آج بھی وہی شیطانی چمکدار سی مسکراہٹ تھی۔
مشل نے گھبرا کر دروازہ بند کرنا چاہا لیکن وہ پوری قوت سے دروازے پر ہاتھ رکھ کر اسے بند کرنے سے روک چکا تھا۔
ڈارک مہرون ہڈی اور جینز میں اس نے چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا جو اب تھوڑی پر اٹکا تھا۔
پہچانا۔۔۔” اس نے آنکھ دبا کر اپنی جانب اشارہ دیا تو مشل کی زبان کنگ ہوئی۔
اس کی پراعتمادی اس کا طنزیہ مسکرانا ناجانے کیوں اسے خطرے کی گھنٹی کا احساس دلا رہا تھا۔
تم ۔۔۔۔” تم یہاں کیوں آئے ہو؟؟” وہ چیخ کر بولتی اردگرد بھی دیکھ رہی تھی۔
ارے واہ مشل علوی کو عاہن علوی کی ذات پوری طرح ازبر ہے تبھی ایک جھٹکے میں پہچان لیا۔داد دیتی پرتپش نگاہ اس کے چہرے پر ٹکائے وہ بولتا مشل علوی کو آج بھی زہر لگا تھا۔
“مسٹر عاہن علوی۔تمہاری بدصورت ذات اور بدصورت شکل کو میں لاکھوں میں پہچان سکتی ہوں۔ کیونکہ مجھے تم سے بے انتہا نفرت ہے۔”
وہ بازو سینے پر لپیٹتی اپنا خوف پوری طرح زائل کرچکی تھی۔
عاہن کا قہقہ بے ساختہ تھا۔اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ ہنستا چلا گیا۔
مشل کو وہ کوئی نفسیاتی انسان لگا۔
پل بھر میں وہ سپاٹ ہوتا اسے بازو سے پکڑ کر اندر کرتا خود بھی اندر ہوا اور دروازہ بند کیا تھا۔
مشل کا سارا اعتماد ہوا ہوتا محسوس ہوا۔فق ہوتے چہرے کے ساتھ وہ مقابل کی یہ حرکت بمشکل برداشت کرپائی تھی۔
یہ کیا حرکت ہے تم اندر کیوں آرہے ہو؟؟”
دروازے سے ٹیک لگاتا وہ مشل علوی کو اپنی طرف کھینچ چکا تھا۔
“میں اپنی ہونے والی بیوی کے گھر آیا ہوں جو بد قسمتی سے میرے نکاح میں بھی ہے”۔
کان میں سرگوشیانہ بولتا وہ مشل کو دہکا گیا تھا۔
مشل بمشکل اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی فاصلہ بنائے تھمی۔
اس کے چوڑے مضبوط جسامت کے سامنے وہ دبلی پتلی مشل علوی پوری طرح چھپ سی گئی تھی۔
کلون کی تیز مہک محسوس کرتی وہ اس کی چوائس کی گرویدہ ہوئی۔
“میں تو سمجھتا تھا تم چند سالوں میں ہی حقیقت جان جاؤ گی۔لیکن تم نے تو اتنے سال لگادئیے۔کیا میرا اور اپنا یہ مضبوط رشتہ اتنا عزیز تھا جو اسے ختم کرنے میں اتنا وقت لیا۔”
ایک بار پھر قدرے قریب جھکے گھمبیر سی سرگوشی میں وہ مقابل کا خون پوری طرح جلا چکا تھا۔
شٹ عاہن ۔۔” وہ چیخی تھی۔
“تصیح مشل علوی۔۔۔اب میں عام عاہن علوی نہیں ہوں جو آپ کی فضول کی بکواس فضول کی چیخ و پکار برداشت کرے گا۔
میں فیمس ایکٹر عاہن علوی ہوں۔جو لوگوں کو جھکانا جانتا ہے۔”
اپنے قدموں کی جانب اشارہ دیتا وہ مشل کو تضحیک کے شدید احساس سے دوچار کرگیا تھا۔
“تم اگر ایکٹر ہو تو میں بھی مشل علوی ہوں۔کامیابی تو میرے قدموں کی دھول ہے۔تم سے کامیاب ایکٹر بننے ہی تو یہاں آئی ہوں۔
اور تمہیں زیر کرکے ہی تمہارے منہ پر طمانچہ نہ مارا تو میرا نام بدل دینا۔۔” اہانت کے شدید احساس سے وہ پھٹ پڑی تھی۔
واٹ آ جوک!!! وہ مشل کی جانب اشارہ کیے قہقہ لگاتا دوہرا ہوا تھا۔
“ویسے وہی ٹیڑھی کی ٹیڑھی کھیر ہو۔مجھے لگا تھا کچھ ادب و آداب سیکھ گئی ہوگی۔لیکن تم وہی ان پڑھ جاہل گنوار ہو۔”
اس کی بے باک ہنسی پر دانت پیستی وہ اسے دور دھکیلے اندر بڑھنے لگی۔
مقابل کے ایک بار پھر کلائی پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔نازک کلائی پر اس کی سخت گرفت محسوس کرتی وہ سسکے بنا نہ رہ پائی۔
“تمہارے لب و لہجے اور ایٹیٹیوڈ نے ثابت کردیا ہے کہ تمہارے باپ نے رشوت دے کر ہی تمہیں بی اے پاس کروایا ہے۔چلو کوئی بات نہیں میرے پاس جب آؤ گی تو میں تمہیں بنا رشوت لیے پڑھادوں گا۔”
لبوں پر چمکتی طنزیہ مسکراہٹ اور آنکھوں یں ذومعنی جذبات دیکھتی وہ کلائی چھڑواتی اسے مارنے کو دوڑی تھی۔
“سچ کڑوا ہوتا ہے دیکھو زرا تمہارے چہرے پر سچائی نظر آرہی ہے مشل علوی کو پیسے کے بل پر جنگ جیتنا پسند ہے۔”
اس کی سبز آنکھوں میں دیکھتا وہ مشل علوی کو اچھا خاصہ زچ کرچکا تھا۔
“عاہن دفعہ ہوجاؤ یہاں سے ورنہ میں سیکیورٹی کو بلالوں گی”۔
وہ طیش سے چیخی تھی۔
“سیکیورٹی کو میں تمہارے والے طریقے سے ہی پٹا کر آیا ہوں یعنی رشوت دے کر۔
خیر بحث تو آئندہ زندگی میں چلتی رہے گی۔”
وہ زرا توقف کے لیے رکا۔
“میں نے لہنگا پسند کرلیا ہے تم میرے لیے بلیک شیروانی لینا ۔کیونکہ سب کہتے ہیں سیاہ رنگ جچتا ہے عاہن علوی پر۔
سو بلیک شیروانی ہی لینا۔لہنگا تمہیں بہت پسند آئے گا۔کیونکہ میری چوائس ہر چیز میں اچھی رہی ہے سوائےتمہارے۔۔”
اس کی حسین صورت پر وہ چوٹ کرنے سے باز نہ آیا تھا۔
“آئندہ پندرہ دن تک میں تمہیں پوری رواجوں کے ساتھ رخصت کروا کر لے جاؤں گا۔”
اس کی پراعتمادی اس کا استحقاق بھرا انداز مشل علوی ہو ساکت کرگیا تھا۔چہرے پر نمو ہوتی سرخی کو عاہن نے بھرپور انجوائے کیا تھا۔
“میری جوتی بھی تمہارے ساتھ رخصت نہیں ہوگی۔”
وہ تڑخ کر بولی تھی۔
“جوتی اوپس ہیل تو تم پاؤں میں پہنو گی۔رخصت میں بانہوں میں بھر کر کرلوں گا۔”
مقابل کی بے باکی پر آنکھیں پھیلاتی وہ بمشکل اس کا انداز ہضم کرپائی۔
کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ اتنے عرصے بعد وہ مل رہے ہیں۔
میں پہلی بار تمہارے گھر آیا ہوں کچھ کھانے کو تو پوچھو۔”
عاہن کا پل پل بدلتا روپ اسے حیران پریشان کررہا تھا۔
مشل اس کے چہرے کے تاثرات سے بھی اندازہ نہیں لگاپارہی تھی کہ اس شخص کے دل وماغ میں چل کیا رہا ہے۔
وہ حددرجہ بے باک ہوچکا تھا۔اس کی سیاہ آنکھوں میں روشن الاؤ اس کو ڈگمگارہے تھے۔
“مجھے پتہ تھا تم جاہل تھی جاہل ہی رہو گی۔۔خیر شادی کے بعد میں تمہیں سب سکھادوں گا۔آفٹر آل تم میرے لیے صبح صبح ناشتہ بنایا کرو گی”۔
اسے خاموش دیکھ کر وہ پھر شروع ہوا تھا۔مستقبل کی حسین پلینگ کرتا وہ کچھ دور ہٹا۔
مشل کی سانس میں سانس آئی تھی۔
لیکن مقابل نے بازو سے پکڑ کر ایک بار پھر اسے قریب کیا۔
پوری تیاری کے ساتھ آؤں گا۔اگر زرا بھی ہوشیاری کی تو میرا وہ روپ دیکھو گی جو میں بہت کم لوگوں کو دکھاتا ہوں۔
اس کے لہجے میں پنپتی واضح دھمکی پر وہ خوف سے پہلی بار سفید پڑی۔
نرمی سے دو انگلیاں لب سے لگاکر اس نے مشل کے گال پر مس کی۔
مشل علوی اس کی جرات پر دنگ رہ گئی تھی۔
سی یو سون۔۔۔” ہاتھ سلیوٹ کی طرح ماتھے تک لے جاکر وہ ساکت کھڑی مشل علوی کو چھوڑتا باہر نکل گیا تھا۔
چہرے پر امڈ آتی سرخی اورتپش کو محسوس کرتی وہ دروازے کا سہارا لیے کھڑی تھی۔
💫
اگلے دن وہ بنا کسی تاثر کے سامان پیک کیے ریڈی تھی۔
شارف کا ڈرائیور باہر کھڑا تھا۔
چپ چاپ گاڑی میں بیٹھتی وہ باہر کے مناظر میں مگن ہوئی۔
” ایسا لگ رہا ہے یقین کی شب قریب آرہی ہے۔شام علوی کا سایہ میسر آنے والا ہے۔لیکن ایسا لگتا ہے کچھ کھو بھی جائے گا۔کھو تو میں چکی ہوں۔
مشل کو عاہن مل سکتا ہے تو مجھے شام بھی ضرور ملے گا۔”
تخیل کی دنیا میں یقین کی مہر جماتی وہ پشت سے ٹیک لگاکر آنکھیں موند گئی تھی۔
ائیرپورٹ سے ضروری کاروائی کے بعد وہ جہاز میں بیٹھے تھے۔۔
شارف ابدال نے اس کی خاموشی اس کا پرسوز سا حسن بمشکل برداشت کیا۔
“شائن لائک آ سٹار ” ماڈلنگ ایجنسی سے میں نے کنٹریکٹ سائن کیا ہے۔
“پرفیوم کے بیسٹ شوٹ کے لیے میں ماڈل بھی سلیکٹ کرچکا ہوں۔بس تم نے اسے اپنی باتوں سے اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔
ویسے وہ ماڈل کچھ الگ طبعیت کا ہے۔
تمہارے لیے تھوڑی مشکل ہوگی لیکن میں جانتا ہوں تم اسے ہینڈل کرلو گی۔۔”
اس کے سرخ گالوں کو دیکھتے وہ تفصیل سے اسے اگاہ کررہے تھے۔
__💫💫💫
“ْکل کی میٹنگ تمہاری فکس ہے۔پہلے میں سوچ رہی تھی انہیں پرسنلی انوائیٹ کرلوں۔لیکن ناجانے ان کی نیچر کیسی ہو تو جس ہوٹل میں وہ ٹھہر رہے ہیں وہی تفصیلی بات کرلینا۔
چلو معاذ رو رہا ہے۔میں پھر بات کرتی ہوں۔”
دیبا کی فون کال اٹیند کرکے وہ ونڈو کی جانب آیا۔
باہر کے مناظر دیکھتا وہ آج پھر چھ سال پیچھے چلا گیا تھا۔
ماہ تاب کی یاد شدت سے ابھری تو آنکھ کا کونا نم ہونے لگا۔
سدرہ بیگم اسے بتاچکی تھیں۔مشل کا آنا اور پھر خلع کے پیپرز وہ کچھ الجھا ساتھا۔
عاہن کی نیچر بھی وہ اچھے سے جانتا تھا۔کچھ سوچ کر اس نے عاہن کو کال ملائی۔
بھائی دیبا کو کہیے گا۔لہنگا ایک دم پرفیکٹ ہونا چاہیے۔کال پک ہوتے ہی عاہن کی کھنکتی آواز سنائی دی تو وہ پیشانی مسل کر رہ گیا۔
“عاہن پریشان ہو۔” دوسری جانب ڈرائیونگ کرتے عاہن علوی کی سٹیرنگ پر گرفت مضبوط ہوئی تھی۔
“بھائی اپنے دشمنوں کو ایک بار پھردیکھنا۔اور اسی دشمن سے گہرا تعلق ہونا آسان بات تو نہیں ہے۔لیکن عاہن علوی چھوٹے موٹے معاملات ہینڈل کرناجانتا ہے۔”
اس کے لہجے میں پنہاں پراعتمادی ہی شہرام کے لیے کافی تھی۔
کل میں کافی بزی رہنے والا ہوں۔شاید رات لیٹ گھر آؤں آج میں اپارٹمنٹ میں ہی رکوں گا۔
ٹھیک ہے بھائی۔مجھے بھی آج زرا ایک ضروری کام سے جانا ہے۔
شام سمجھ چکا تھا وہ کہاں جانے والا ہے۔
“بیسٹ آف لک میرے گم نام ستارے۔۔”
یو ٹو بھائی۔۔۔کال کٹ کرکے اس نے سپیڈ بڑھائی تھی۔
جاری ہے
