Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

شام!!
ماہ تاب کی پکار پر اس نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔وہ لیپ ٹاپ پر کچھ کام میں مصروف تھا۔وہ آج جلد لوٹ آیا تھا۔
عاہن کو وہ شارف کا سراغ لگانے کا کہہ چکا تھا۔
ایک بات پوچھوں۔؟”
وہ انگلیاں چٹخائے بولی۔
سب کچھ پوچھ سکتی ہو۔اسے قریب بٹھاکر حصار میں مقید کیے سرچومے گویا ہوا۔
دیبا کون ہیں؟”
اس کے سوال میں بے اعتمادی تھی۔شام کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“وہ میری پارٹنر ہے۔”
وہ مجھےبھی پتہ ہے پارٹنر ہے لیکن کیسی پارٹنر؟” وہ زچ ہوئی۔شام کی مسکراہٹ مزید بڑھی۔
“پارٹنر تو پارٹنر ہی ہوتے ہیں “۔
وہ لاپرواہ بنا لیپ ٹاپ پر متوجہ رہا۔جبکہ ماہ تاب اس کے سینے پر سررکھے نیم دراز تھی۔
مجھے سچ بتائیں۔فضول میں گھمارہے ہیں۔اس دن بھی یہی کیا تھا۔” وہ سرجھٹکتی زچ ہوتے بولی۔تو شام نے اس کا سر دوبارہ سینے پر رکھا۔
“جیسے معیز تمہارا مسیحا بنا تھا۔ویسے ہی دیبا میری مسیحا ہے۔وہ میرے لیے بڑی بہن ماں خالہ غرض سب رشتوں کا درجہ رکھتی ہے۔مجھے کامیابیوں کی بلندیوں پر پہنچانے والی دیبا مستحسن ہے۔مجھے ماڈلنگ کی دنیا میں انٹروڈیوس کروانے والی وہی ہیں ۔
غرض میری ترقی کی پہلی حق داروہی ہیں”۔
ماہ تاب چپ سی اس کی مسیحائی کی داستان سنتی رہی۔
“جب میں لاہور سے یہاں آیاتھا ۔تو کیفے میں جاب کرنے لگا تھا۔شام کو ٹیوشنز پڑھاتا تھا۔غرض زندگی مشکل تھی۔لیکن آسانیاں بھی ساتھ ساتھ تھیں۔
دیبا کی ماڈلنگ ایجنسی ہے۔تو انہیں ہر روز نئے چہروں کی تلاش ہوتی ہے۔بس انہیں میرا بھی یہ سانولا ادھورا سا چہرہ پسند آیا تو انہوں نے مجھے فورس کیا۔ان دنوں ان کی ایجنسی کی ساکھ خراب ہورہی تھی۔وہ کچھ الگ چہرے چاہتی تھیں۔ایک ڈیل کے تحت انہوں نے مجھے اپنے ساتھ جوڑ لیا۔
مختلف شوٹ ہوتے گئے اور کامیابی ہمقدم ہوتی گئی۔
کچھ عرصہ پہلے ہم دونوں نے پارٹنرشپ کرلی۔اپنا نیو برانڈ انٹروڈیوس کروایا۔ایجنسی کی بھاگ دوڑ بھی انہوں نے میرے ہاتھ میں دے دی۔
معاذ کی پیدائش کو بھی وہ میری خوش بختی سے مشروط کرتی ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے وہ مستحسن صاحب کے ساتھ عمرہ کے لیے گئی تھیں۔وہی معاذ کی پیدائش ہوئی۔
جانتی ہو وہ سمجھتی ہیں میں ان کے لیے خوش بخت ہوں حالانکہ میں تو عام ہوں۔کچھ خاص نہیں ہے۔”
وہ اس کا سر سہلائے بول رہا تھا۔جبکہ وہ ساکت سی سن رہی تھی۔
“کس نے کہا آپ ادھورے ہیں۔خوبصورت نہیں ہیں۔ایک مرد کی خوبصورتی سے زیادہ اس کا تحفظ اہم ہوتا ہے۔جو مجھے آپ کی صورت میسر ہے۔آپ کانام ہی مجھے تحفظ کا احساس دلاتا ہے۔مجھے خوف سے نجات دلاتا ہے۔
اور آپ کیسے یہ سوچ سکتے ہیں کہ آپ خوبرو نہیں ہیں۔یا آپ میں بہت سی کمی ہیں۔کمی تو ہر ایک میں ہے۔میری سفید رنگت خوبصورت نقوش ایک عرصے تک میرے لیے عذاب کی مانند تھے۔میں ادھوری تھی شام لیکن آپ مکمل ہیں کیونکہ آپ میرے لیے بنائے گئے ہیں۔آپ کی یہ بھوری براؤن سی آنکھیں آپ کی یہ سمٹی سی مسکراہٹ آپ کے یہ بھاری بڑھے ہوئے بال اور یہ گندمی سی رنگت آپ کو سب سے ممتاز بناتی ہے۔اگر آپ ادھورے ہوتے تو آج ماڈل نہ ہوتے۔
آپ جاناں کے شام ہیں۔جاناں کی نگاہ سے دیکھیں تو یہ چہرہ ماہ تاب کے لیے آخری نایاب ،خوبرو دل پسند چہرہ ہے۔”
اس کے داڑھی والے گال پر ہاتھ رکھے وہ دلفریبی میں ڈھلی تھی۔
شام سمٹا سا مسکرایا۔وہی ازلی مسکراہٹ جو سامنے والے کو متوجہ کرلیتی تھی۔
“آج کے بعد مت کہیے گا کہ شام ادھورا سا ہے۔سفید رنگ کچھ نہیں ہوتا۔جانتے ہیں خوبصورتی کے پیراہن میں سیاہ رنگ آج بھی پہلے نمبر پر ہے لیکن دنیا اس حقیقت کو قبول کرنے سے گھبراتی ہے۔اور آپ سیاہ نہیں سفید اور اجلے ہیں۔میرے شام ہیں۔جو میرے لیے ایک سکون کی انوکھی رمز ہے۔”
اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ شام علوی کی سماعت مہکارہی تھی۔
“اب تو سکون ہے ناں کہ دیبا میری کیسی پارٹنر ہیں؟”۔گال پر انگوٹھے کا لمس بکھیرے وہ چہرے کی جانب جھکا۔
ماہ نے جھینپ کر سرجھکایا۔
“میں صرف اور صرف تمہارا ہوں۔میں تمہارے بعد اپنا بھی نہیں رہا۔”
اس کا سر چومے وہ کئی سکون آمیز لمحے اس کے حصے میں دیتا مسکرایا۔
جی پتہ چل گیا۔وہ منمنائی تھی۔
“جب تم شرما کر چہرہ جھکاتی ہو تو دل ایک الگ خماری شوخ پن کی جانب گامزن ہوتا ہے”۔
گردن اور چہرے کے گرد مضبوط ہاتھ حائل کرکے اس نے ماہ کا چہرہ بلند کیا۔وہ سرخ پڑتی پلکیں جھپکے اس کی جانب متوجہ ہوئی جو آنکھوں میں کئی محبت کے دیپ جلائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
دونوں کی نگاہ الجھتی انہیں ماحول سے ماورا کرنے لگی۔
وہ دھیرے سے جھکتا گال چھوئے سیدھا ہوا۔
“فکر مت کیا کرو۔تمہارے اور میرے دشمن کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔شکنجے میں جلد پھنسنے والا ہے۔وہ بنا دیکھے اس کی سوچوں کا رخ جان چکا تھا۔”۔
“شام !! شارف بابا کو نقصان پہنچا دیں گے۔وہ جیسے بھی ہیں میرے بابا ہیں۔انہیں شارف سے بچالیں معیز کو بچالیں شام۔۔”
“کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔معیز کی مام بھی اسے مل گئی ہے اور تمہاری دوست عبیحہ مراد۔۔بھی”وہ خاموش ہوا۔
“کیا ؟ عبیحہ مل گئی۔؟ شام وہ کہاں ہے؟وہ ٹھیک ہے آپ کو یہ سب کیسے پتہ چلا؟”
وہ بےقرار سی استفسار کرتی سیدھی ہوئی۔
“مجھے معیز نے ایک ایک حقیقت بتائی ہے۔اس پر بیتی جانے والی اذیت تم پر ہوئے ستم عبیحہ کی گناہ کی کہانی غرض سب مجھے معیز بتاچکا ہے۔”
وہ تفصیلاً جواب دیتا غیرئی مرئی نقطے کو گھورنےلگا۔
جاناں دم سادھے بیٹھی رہی۔جبکہ شام ہنوز اسے حصار میں لیے ہوئے تھا۔
“تم عبیحہ سے کبھی نہیں ملو گی۔”
شام کچھ دیر بعد بولا تو ماہ تاب نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔
شام۔۔”
جاناں مجھے ضد نہیں سننی۔”
“آپ اب مجھ سے ناراض ہوگے سختی کریں گے؟”
وہ منہ بسورے سوں سوں کرتی شام کی سارا غصہ پل بھر میں ختم کرنے کا موجب بنی۔
“کبھی نہیں لیکن فلحال میں اس لڑکی کو تم سے دور ہی رکھنا چاہتا ہوں۔جو تمہارے لیے نقصان کا باعث بنی تھی۔”
تو کیا احد سے بھی نہیں ملنے دیں گے؟” وہ فکر سے گویا ہوئی۔
نہیں ۔۔”
کیوں ؟”وہ جھٹپٹا گئی۔
کیونکہ اسے سنبھالنے کے لیے عبیحہ معیز ہے۔ہم اپنے گلاب کی تیاری کرلیتے ہیں۔”
اس کی ذومعنی گہری سی بات پر وہ شرم سے سینے پر ہاتھ مار کر رہ گئی۔


شاپنگ مال میں اینٹر ہوکر اس نے اردگرد نگاہ دوڑائی۔
مسٹر عاہن علوی بہت ہلکا سمجھ لیا ہے۔تم کرکے دکھانا کسی ایری غیری لڑکی کے ساتھ شوٹ”
وہ اب بھی بڑبڑاتی مختلف شاپس چھان رہی تھی۔
مشل کے ناقص دماغ کی چالاکیاں عاہن جان جاتا تو شاید توبہ ہی کرتا۔
وہ جیولری شاپ کی جانب آئی۔
“آپ یہاں کھڑے ہوں میں ابھی آتی ہوں۔”
گارڈ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
وہ دکاندار کو آرڈر دیتی مڑی تو سامنے اسد کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔
اسد؟ تت تم یہاں کیسے؟”ْ
“ہاں میں تم سے ملنا چاہتا تھا۔”
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرے پرمدھم سا بولا۔
“اسد تم نے وہ فوٹو فریم بھیج کر اچھا نہیں کیا۔میں اب شادی شدہ ہوں۔تمہیں سوچنا چاہیے کہ میرے ہسبنڈ کیا سوچیں گے؟۔ایٹ لیسٹ ہماری دوستی کا ہی خیال کرلیتے۔”
ؤہ چاہ کر بھی اپنا لہجہ نرم نہیں رکھ پائی۔
“مشل میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔تم میرے ساتھ ایسے نہیں کرسکتی۔تم نے مجھے بتایا بھی نہیں کہ تمہارا نکاح ہوچکا ہے۔ہم عنقریب شادی کرنے والے تھے۔”
“میں اس حقیقت کو خود بھی نہیں جانتی تھی۔”
وہ دوبدو بولی۔
“اب جان چکی ہو تو اس سے طلاق لے لو۔”
واٹ ؟” آر یو میڈ وہ میرا ہسبنڈ ہے اور ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں۔آج کے بعد یہ سوچ بھی اپنے دماغ میں مت لانا۔”
وہ سختی سے گویا ہوئی مڑی۔جبکہ محبت کی نشاندہی پر اس کا دل بھی شدت سے دھڑکا تھا۔
“جس سے محبت کی دعویدار ہورہی ہو۔وہ ایک قاتل ہے اس نے تمہارے بابا کو ماردیا ہے۔”
مشل کے سامنے زمین و آسمان گھوم سے گئے۔
“کک کیا کہہ رہے ہو ؟ جھوٹ بول رہے ہو پاپا تو شارف کے ساتھ ہیں۔اور تم میرے شوہر پر الزام نہیں لگاسکتے۔”
“نہیں ہیں تمہارے ڈیڈ ان کے ساتھ۔عاہن علوی ایک غنڈا ہے جس نے سرِ عام گھر میں گھس کر تمہارے بابا کو بے رحمانہ طریقے سے مارا اپنی محرومیوں کا بدلہ لیا ہے۔اور شارف ابدال کو بھی بری طرح زودوکوب کیا۔
اور پھر تمہارے ڈیڈ کو لے کر ناجانے کہاں غائب ہوگیا”۔
“تت تم جھوٹ بول رہے ہو۔میرے پاپا ٹھیک ہیں۔”
مشل چونکی تھی۔اسے وہ رات یاد آئی جب وہ بے ہوش ہوئی تھی۔اور عاہن اگلے دن واپس آیا تھا۔یعنی اسد سچ بول رہا تھا۔
“شارف کہاں ہیں۔اور پاپا کا کچھ پتہ چلا۔؟”
وہ نم ہوتی آنکھوں پر بمشکل قابو پائے بے قرار ہوئی۔
“وہ ٹھیک نہیں ہیں۔وہ تمہیں عاہن علوی کی حقیقت بتانا چاہتے تھے لیکن انہیں لگتا ہے تم یقین نہیں کرو گی۔”
“اسد مجھے میرے بابا سے ملنا ہے۔پلیز تم مجھے ان سے ملوادو۔شارف کو کہیں کہ انہیں ڈھونڈیں۔مم میں عاہن سے پوچھتی ہوں۔اس نے ایسا کیوں کیا؟”
وہ بیگ کھولے بے اختیار ہوئی۔جبکہ اسد کے چہرے پر سایہ آکرگزرا۔ لیکن اس کے پاس تو فون ہی نہیں تھا۔اتنے دن سے وہ بنا فون کے رہ رہی تھی۔عاہن کی ہمراہی میں اسے سب کچھ بھول گیا تھا۔
“تت تم مجھے اپنا فون دو میں اس سے پوچھتی ہوں۔”
“تو اس نے تمہیں فون بھی نہیں دیا؟”۔
اسد کی طنزیہ نظروں پر اس نے نگاہ چرائی۔
“تم شارف سے ملنا چاہتی ہو؟”
اسد نے ایک اور پتہ پھینکا۔
اس نے فوراً اثبات میں سرہلایا تھا۔
“وہ نیچے کیفے میں ہیں ۔تم چلو شاید وہ زوار انکل کو ڈھونڈنے میں مددکریں۔”
“ہاں چلو ۔۔۔”
وہ دکاندار کی جانب مڑی جو ایک اینولیپ اس کی جانب بڑھارہا تھا۔
مشل نے وہ لے کر بیگ میں ڈالا ۔
ؔ”میں گارڈ کو بتاتی ہوں وہ باہر ہی کھڑا ہے”۔
وہ جانے کے لیے مڑی جب اسد نے اس کی کلائی جکڑ لی۔
“نہیں وہ عاہن کو بتادے گا۔تم میرے ساتھ آؤ۔”وہ اسے کھینچ کر دوسری جانب سے لے جانے لگا۔
“اسد میرا ہاتھ چھوڑو”۔اس نے جھٹکے میں اپنا ہاتھ چھڑایا۔
سوری۔”وہ لب بھینچے فاصلے پر ہوا۔جبکہ مشل نے قدم آگے بڑھائے۔


مشل!! شارف ابدال آگے بڑھے تو مشل نے ہاتھ کھڑا کیے انہیں قریب آنے سے روکا۔
“شارف کیسے ہیں آپ؟”وہ سرد سا بولی تھی۔ لہجے میں کوئی فکر نہیں تھی۔
“تمہارے سامنے ہوں۔ماہ تاب کے بعد تمہارے اس نام نہاد شوہر نے بھی دھوکا بازی کی ہے۔ابھی تو نکاح والا معاملہ نہیں سنبھلا تھا کہ وہ لڑکا زوار کو لے کر ناجانے کہاں گیا ہے۔اس نے تم سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں چھوڑا۔اور تم نے بھی دوبارہ کوئی فون کال نہیں کی کہ تمہیں تمہارے باپ کے بارے میں بتاسکتا”۔
ان کے لہجے میں سمٹی اداسی پر مشل بھی جیسے افسردہ ہوئی۔
“شارف عاہن اچھا ہے۔آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔پاپا کہیں اور ہوں گے۔اور وہ نہیں چاہتا کہ میں آپ سے بات کروں۔اور مجھے اس کی بات ماننا اچھا لگتا ہے”۔
“تم بہت بھولی ہو گڑیا۔ایک چھوٹی سی پری ہو۔جو سب کی باتوں میں آجاتی ہو”۔
شارف ابدال آگے آئے تو وہ چند قدم پیچھے کھسکی۔
“شارف میں پاپا کو ڈھونڈوں گی آپ پریشان مت ہوں۔عاہن ایسا نہیں کرسکتا وہ ضرور مجھے بتادے گا۔”۔
وہ چند قدم پیچھے ہوئی جب شارف ابدال نے اس کی کلائی جکڑ کر قریب کھینچا۔۔
“تم نہیں میری پرنسز کو وہ سب تمہیں ڈھونڈیں گیں۔بہت عیش کرلیا۔ماہ تاب علوی نے بہت سکون بہت خوشیاں دیکھ لی۔اب بس وہ میرا قہر دیکھے گی۔
میں بتاؤں گا کہ شارف ابدال لوگوں کا سکون کیسے برباد کرتا ہے۔”
مشل کی کلائی سختی سے جکڑے وہ دانت پیسے غرائے۔
کک کیا مطلب؟” ان کے لفظوں کی وحشت سے اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔اس نے اسد کو دیکھا ۔جو ہاتھ باندھے طنزیہ مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہاتھا۔
مشل نے اردگرد نگاہ دوڑائی تو پورا کیفے خالی ہوچکا تھا۔
مشل کے جسم میں خوف کی لہر دوڑی۔پھٹی آنکھوں سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اس نے نفی میں گردن ہلائی۔
جب شارف ابدال کا خوفناک قہقہ گونجا۔یہ قہقہ یہ جارحانہ انداز ان سالوں میں پہلی مرتبہ مشل علوی نے دیکھا۔ان کا یہ روپ کسی خونخوار درندے سے کم نہیں تھا۔
“تم میرے ساتھ چلو گی ۔میری دنیا میں۔جہاں میں تم اور اسد رہیں گے۔”
وہ پراسراریت سے اس کے قریب جھکے گویا ہوئے۔
چچ چھوڑیں مجھے۔آپ ایسا کیوں کررہے ہیں۔؟عاہن۔”۔وہ چیخی لیکن سننسان کیفے میں اس کی آواز گونج کر رہ گئی۔
“کوئی نہیں آئے گا۔تمہارا عاہن اتنی جلدی نہیں پہنچے گا۔اسے میں نے ایسی جگہ پھنسایا ہے۔جب ہم یہاں سے بہت دور چلےجائیں گے تب وہ یہاں پہنچے گا۔
بہت تڑپایا ہے۔بہت خوار ہوا ہوں۔تمہارا یہ دہکتا حسن مجھے پل پل تڑپاتا تھا۔اب اس تڑپ کو سود سمیت حساب ہوگا۔”
وہ ٹریپ ہوچکی تھی اور اسے خبر نہیں ہوئی۔
شارف ابدال نے پاکٹ سے رومال نکال کر اس کے منہ پر دبایا۔وہ بن پانی مچھلی کی طرح تڑپ گئی۔اپنے ناخن سے اس نے ہاتھ پاؤں زخمی کیے۔لیکن بے سود۔
“فکر مت کرو۔میں تمہاری سب چیزیں سنبھال کررکھوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں جو میرا منی کیمرہ آسانی سے توڑ سکتا ہے وہ کتنا شاطر ہے۔اسے وہی تک تو لانا ہے جہاں تک میں نے پلان کیا ہے۔اپنی بہن کو بچانے میری سنہری نازک چڑیا ضرور آئے گی۔کیونکہ وہی تو تھی جو اتنے سال تمہاری حفاظت کرتی رہی۔”
رومال میں لگا کلوروفام اس کے حواس چھین رہا تھا۔چند لمحوں میں وہ آخری الفاظ سنتی شارف کی باہوں میں جھول گئی۔
“میری نازک پری”۔اس کا گال اپنے گال سے سہلاتے وہ اسے بانہوں میں بھرے پچھلی طرف سے باہر بڑھے ۔کچھ دور موجود اپنے پرائیویٹ جیٹ میں مشل کو لٹائے وہ بھی قریب دراز ہوئے ۔
مشل کا بیگ بھی انہوں نے احتیاط سے ایک جانب رکھا۔
“گارڈ کو چھوڑ دو۔ہمارا کام ہوچکا ہے۔”اسد کو اشارہ دے کر انہوں نے اپنا موبائل نکالا جہاں ایک نیا میسج ان کی پریشانی کا باعث تھا۔
وٹس اپ پر عبیحہ احد علیہ بیگم اور معیز کی خوشگوار تصاویر موجود تھیں۔شارف ابدال نے ہونٹ بھینچ کر بمشکل ضبط کیا چہرے پر چھائے سفاکیت کے تاثرات مزید گہرے ہوئے۔
“بہت اڑان بھر لی سب نے۔اب شارف ابدال بتائے گا کہ وہ لوگوں کے پر کیسے کاٹتا ہے۔ “
انہوں نے اشرف کا نمبر ڈائل کیا۔
“ہائے مسٹر شارف ابدال!! تصاویر تو آپ نے دیکھ لی ہوگی۔تو مزید جاننا بھی چاہیں گے۔اشرف کو میں نے ماردیا ہے۔اور پچھلے کچھ دنوں سے فون میرے پاس ہی تھا۔آپ نے ماما کو ڈھونڈنے میں میری بہت مدد کی۔اس کے لیے میں آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔”
معیز کی پراعتماد شوخ سی آواز پر شارف ابدال محض مسکرائے جبکہ کانچ سی گرے آنکھوں میں ایک لالی چمکی۔
“میں احسان کرتا ضرور ہوں۔لیکن اس احسان کو سودسمیت واپس بھی لیتا ہوں۔تمہاری جھوٹی نام نہاد منکوحہ کی بہن کو لارہا ہوں اپنی رکھیل بنانے۔اور وہ سنہری چڑیا جانتی ہی نہیں کہ وہ اپنے کیے کا کیا بھگتان بھگتے گی۔فکر مت کرو لائیو وڈیو تمہارے ساتھ بھی شئیر کروں گا۔سالی پر کچھ حق تو تم بھی رکھتے ہو۔اتنے سال نکاح نامہ چھپائے رکھا۔اوپس جھوٹا نکاح نامہ۔۔اب اس کا بھی کچھ صلہ ملنا چاہیے۔مشل رشتے میں تو تمہاری سالی ہی لگتی ہے۔”
شارف۔!!! اسے چھوڑدو۔۔”وہ چیخا تھا۔
آواز مدھم رکھو۔بچوں کو زیب نہیں دیتاوہ باپ سے اونچی آواز میں بات کرے۔
فلحال کچھ وقت انجوائے کرو اپنے نام نہاد دوست کو بھی اطلاع کردو۔شاید اپنی سالی کو بچالے۔اسے کہنا ماہ تاب کو ساتھ ضرور لائے”۔
شارف۔۔” معیز کی دھاڑ پر وہ طنزیہ مسکرائے ۔فون کاٹ کر انہوں نے سیٹ سے ٹیک لگاکر گہرا سانس کھینچا۔اور ایک گہری سی نگاہ مشل پر ڈالی۔


“عاہن کہاں ہو۔؟ مشل کہاں ہے۔؟”
شام بالکونی میں آکر بے چینی سے گویا ہوا۔اسے ابھی معیز کی کال آئی تھی۔
“بھائی میں ایک شوٹ میں بزی تھا۔میں جانتا تھا وہ گھر سے نکلی ہے۔میں بھی یہاں سے نکلا تھا تاکہ اس تک پہنچ سکوں۔مجھے شک تھا کہ شارف ابدال مشل کی تاک مین یے۔
میں جلدی نکلا تھا لیکن ٹریفک میں پھنس گیا۔دو گاڑیاں میری گاڑی کے اردگرد آکر کھڑی ہوئی۔
سگنل بھی ڈاؤن ہوگئے تھے۔اور پھر جب کراچی کی سڑکوں پر لوگ کسی ایکٹر کو دیکھ لیں تو۔۔۔”
اس کی آواز میں بے قراری تھی۔
“وہ گھٹیا شخص مشل کو ساتھ لے گیا ہے۔۔۔ماہ تاب کو ابھی نہیں پتہ جلدی کچھ کرو۔”
“جی بھائی میں ائیرپورٹ ہی جا رہا ہوں۔آپ پریشان مت ہوں۔اس کی لوکیشن مجھے شو ہورہی ہے۔اسے کچھ نہیں ہوگا۔”
پیچھے کھڑی ماہ تاب کے ہاتھ سے گلاس چکنا چور ہوا۔
جمے قدموں اور پھیلی آنکھوں سے اس نے شام کو دیکھاجو مضطرب تھا۔
وہ۔۔وہ لے گیا۔نن نہیں ۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔شام۔۔وہ مشل کو ماردے گا۔شام ۔۔میں نے مشل کو منع کیا تھا۔وہ لے گیا ناں میں کہتی تھی کچھ کریں۔لیکن آپ۔۔۔۔”
اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ چیخی۔جبکہ شام نے بمشکل اسے قابو کیا۔
“کچھ نہیں ہوگا۔ہم خود لے کرآئیں گے۔تم پریشان مت ہو۔میں خود مشل کو لے کر آؤں گا۔تم خود کو س سنبھالو۔”
اسے نرمی سے پچکارتے وہ مضطرب ہوا۔
“مم میں بھی جاؤں گی۔میں شارف کے پاس چلی جاؤں گی۔اسے کہے میری بہن کو چھوڑ دے۔۔مم میں خود۔۔۔شارف۔۔۔وہ ماما پاپا کو۔تکلیف دے گا۔وہ میرے دھوکے بازی کا بدلہ سب سے لے گا۔وہ معیز احد کو ماردے گا۔
ممم میں جاؤں گی اس کے پاس۔۔”
وہ نفی میں سرہلائے گویا ہوئی۔
“خبردار جو کچھ الٹا بولا۔”
شام نے سختی سے اس کا چہرہ جکڑا جو سرخ ہورہا تھا۔سیاہ آنکھوں میں خوف اور آنسو سمٹے تھے۔
“اپنے شام پر یقین نہیں ہے؟” وہ فوراً نرم پڑا
شام میری۔۔۔بہن۔۔۔” وہ پھوٹ پھوٹ کرروئی۔
شام نے اسے سینے میں بھینچ لیا۔
“مجھ پر یقین رکھو ماہ تاب۔۔میں تمہاری بہن کو صحیح سلامت لاؤں گا وہ میری بھی بہن ہے۔میرے بھائی کی امانت ہے”۔
اسے سینےمیں بھینچے وہ پرشدت ہوا۔
“مم میں جانتی ہوں شام وہ اسے کہاں لے کر گیا ہوگا۔
آپ مجھے وہاں لے جائیں۔پلیز ۔۔۔شام۔۔لے جائیں مجھے”۔
وہ تڑپی فریاد گو ہوئی شام نے اثبات میں سرہلایا تھا۔


مشل کی گمشدگی نے پل بھر میں جیسے پرسکون ماحول میں ایک طوفان بدتمیزی مچایا۔
خبر پھیل چکی تھی۔ دادا دادی سعادت سدرہ سب مضطرب تھے۔
عاہن سیدھا ائیرپورٹ روانہ ہوا۔۔ارجنٹ ٹکٹ وہ کچھ دیر پہلے ہی بک کرواچکا تھا۔
مشل کی لوکیشن فلحال شو نہیں ہورہی تھی۔
“اس لڑکی کی کوئی حرکت سیدھی نہیں ہے۔اسے میں چھوڑوں گا نہیں۔پاگل عورت بنا مجھ سے کنفرم کیے چلی گئی۔تم ہو ہی جنگلی آتما۔ایک بار میرے ہاتھ لگو تمہیں میں بتاؤں گا۔ہر بار مجھے اپنے پیچھے خوار کروایاہے۔”
مضطرب سا وہ ڈرائیونگ کررہا تھا۔سوچوں میں مشل کا پہرہ تھا۔دل کی دھڑکن اس کے نام سے ہی رک رہی تھی۔ناجانے شارف ابدال جیسا دردندہ اس کے ساتھ کیا کرتا۔
“شارف ابدال تمہیں میں چھوڑوں گا نہیں۔میری زندگی کو تکلیف دی تو میں تمہیں موت سے بدتر سزادوں گا”۔
وہ تیزی سے ائیرپورٹ کی جانب بڑھا۔
“بھائی جلدی نکلیے گا۔میں بس اندر جارہاہوں۔”
وہ فون کان سےلگائے شام سے گویاہوا۔
جو ماہ تاب کے ساتھ گاڑی میں تھا۔ابھی انہیں فلیٹ سے ماہ تاب کا پاسپورٹ بھی لینا تھا۔


نیم بے ہوش مشل کو اس نے بانہوں میں بھر کر گاڑی میں بٹھایا۔اسد اس وقت ایک روبورٹ کی طرح شارف کا غلام تھا۔
یہ لاکٹ۔۔”ْ شارف نے طنزیہ مسکان سے وہ لاکٹ ہلکا سا کھینچا۔
سبز ڈائمنڈ کا نفیس سا لاکٹ دیکھنے میں ہی سب کو مبہوت کرتا تھا۔کچھ اس کی نازک گردن میں سجا وہ لاکٹ نہایت نایاب تھا۔
شارف نے جھٹکے سے وہ لاکٹ کھینچا۔اور اسے گاڑی میں ہی پھینک دیا۔
وہ شکار کو جال تک لانا اچھے سے جانتے تھے۔
وہ کوئی نئے شکاری نہیں تھے جو دشمن کی چال نہ سمجھتے۔
اس دلدل میں تو وہ برسوں سے اپنی حکومت قائم رکھے ہوئے تھے۔
آجاؤ ماہ تاب تمہیں پانے کے لیے دل بے قرار ہورہا ہے۔ایک گہری خماری سی وجود میں امڈی تھی۔۔
مشل کی گردن پر آئے کٹ کو انگلی کی پور سے سہلاکرو انہوں نے ہنکارا بھرا۔
رات کی وجہ سے آر جیکٹس بلڈنگ نیم اندھیرے میں ڈوبی تھی۔لیکن اس کی ساتویں منزل پر تو روشنی کا سماں تھا۔وہاں کے لوگ تو غلاظت میں لتھڑے لذت میں ڈوبے تھے۔
اسے بانہوں میں بھرتے وہ لفٹ سے اوپر کی جانب آئے۔ساتویں منزل پر پہنچ کر کوڈ ڈال کر وہ مشل کو اٹھائے اندر آئے اور اسے لاؤنج میں موجود ایک کرسی پر بٹھایا۔
آٹومیٹک لاک سے اس کے ہاتھ کلپ سے بندھے اور سر پیچھے کی جانب ڈھلکا۔
“کم۔آن مشل۔ویک اپ !! بہت وقت ہوگیا ہے۔اب سونے کا نہیں جاگنے کا وقت ہے۔”
اس کے گال تھپتپا کر اسے ہوش دلاتے وہ جنونی ہوئے۔اسد روم میں جاچکا تھا۔جہاں وہ کیمرہ سیٹ کررہا تھا۔
وہ نیم بے ہوشی میں تھی۔جب گالوں پر کسی کے کھردرے سخت ہاتھ محسوس ہوئے۔
وہ مندھی آنکھوں بھاری ہوتے سر سے بمشکل حواس قائم رکھ پائی۔
اردگرد دیکھتی وہ چونک کر سہمی۔مساموں سے پسینہ پھوٹ پڑا۔وہ تو وہاں کیفے میں تھی۔پھر یہاں کیسے۔۔؟” دیواروں پر لگے برہنہ پوسٹرز اردگرد وحشیانہ ماحول ایسا لگا وہ جہنم میں آگئی ہو۔
اس کی ساری حسیات جیسے پل بھر میں بیدار ہوئی۔
وہ آزادی کےلیے مچلی۔لیکن ہاتھ اور پاؤں پوری طرح قید تھے۔
شارف !! شارف۔۔” یہ سب کیا ہے ۔یہ کہاں اور کیسے لوگ ہیں۔۔؟”
وہ خوف وہراس میں ڈوبی بمشکل بول پائی۔
“فائنلی مشل علوی تم جاگ گئی۔دیکھو کتنا پرسکون ماحول ہے۔اپنے شہر میں آکر ایک سکون کی سانس آئی ہے۔
وہ حیران پریشان ان کو دیکھے گئی۔
اس کی نگاہ کا مفہوم وہ پل بھر میں سمجھ گئے تھے
“یہی تو میری دنیا ہے جہاں میں ماہ تاب کو لانا چاہتا تھا۔وہ تو نہیں آئی لیکن تم آگئی۔دیکھو کتنا پرسکون ماحول ہے۔”
وہ اس کے قریب جھکے بولے تو مشل نے سر پیچھے کرکے فاصلہ قائم کیا۔جبکہ چہرے پر نفرت کی دبیز لہر پھیلی۔
“کم آن مشل !! یہ بہانے بازی نہیں چلے گی۔تم ایسے ہی میرے قریب آؤ جب بنا کہے میرے سینے سے لگتی تھی فرمائشیں کرتی تھی”۔
شارف کے لفظوں میں چھپی بو کو مشل نے باضابطہ محسوس کیا۔دل دھڑکتا خوف میں ڈوب رہا تھا۔
وہ کسی کی سازش کا شکار اپنی بے وقوفی سے ہی بن گئی تھی۔
عاہن۔۔۔” وہ چیخی تو شارف ابدال کا قہقہ گونجا۔
وہ یہاں ابھی نہیں آئے گا۔تمہاری پیاری سی مووی دیکھ کر آئے گا۔اور تمہیں خود میرے حوالے کرکے جائے گا۔کہ اس گند کو تم ہی سنبھالو۔سو بی ریلکس میری جان۔۔” اس کا گال سہلاتے وہ قریب جھک آئے۔
اس کے کھردرے لمس پر وہ کانپتی ہاتھ ہٹانے کے لیے جھٹپٹائی۔
“تم سچ میں معصوم سی نازک گڑیا ہو۔لیکن اب تم نازک نہیں رہوگی۔”
پلیز شارف مجھے یہاں سے آزاد کریں۔آپ جانتے نہیں ہیں عاہن کیا کرے گا۔؟”
گلابی چہرہ خوف و ہراس سے سفید ہوچکا تھا۔لیکن وہ سختی سے گویا ہوئی۔
مشل علوی!!! اٹس نارمل۔۔بلکہ تم انجوائے کرو گی تو بیٹر فیل کرو گی۔۔”
اس کا گال تھپتپاتے وہ اپنی ازلی نرمی سے بولتے مشل کو آج پہلی مرتبہ برے لگے تھے۔
پپ پلیز۔۔۔شارف۔۔۔عاہن میرا ویٹ کررہا ہے۔مجھے یہاں سے نکالیں پلیز۔۔”
ہر جانب چکاچوند روشنیاں کھلے عام بے راہ روی تھی۔ایسا تو اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔
کون عاہن؟” اب کوئی عاہن نہیں ہوگا مشل۔۔اب شارف ابدال ہوگا۔اب شارف ابدال تم پر اپنا حصار بنائے گا۔چھ سال انتظار کیا ہے اس دن کا چھ سال میں پل پل تمہیں قرب کے لیے ترسا ہوں ایک تمہارا سراپا مجھے چھ سال تک میرے وحشی دل کو روکتا رہا۔”
مشل کی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں۔
وہ شخص کیا کہہ رہا تھا۔وہ اسے کیا سمجھتی رہی اور وہ کیا نکلا تھا۔
مم میرے پاس مت آنا۔گھٹیا دھوکے باز انسان تم کیا تھے اور میں تمہیں کیا سمجھتی رہی۔آئی ہیٹ یو۔۔۔عاہن۔۔۔”
وہ چیخ کر تڑپی تھی۔آنسوگالوں پر بہنے لگے۔
دل ان مناظر سے اوب گیا تھا۔
وہ قریب آتا مشل کی جان حلق میں اٹکا گیا تھا۔ایسا لگا تھا وہ دوسرا سانس نہیں لے پائے گی۔
یکلخت قہہ کی صورت اس نے سب زہر باہر اگل دیا تھا۔


آخری قسط