No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“ابو کم ازکم آپ تھپـڑ تو نہ مارتے جانتےہیں وہ آپ کی ڈانٹ برداشت نہیں کرپاتا کجا کہ تھپـڑ۔”
“اور وہ جو بھائی صاحب کے بارے میں کہہ رہا تھا اس کے بارے میں کیا کہو گے۔شکر کرو ابا جان نے نہیں سنا۔ورنہ آج وہ ہاتھ پکڑ کرگھر سے نکال دیتے”۔
سعادت صاحب نے فوراً سامنے کھڑے شہرام کو ٹوکا تھا۔
ابو !! “تائی امی بھی ناانصافی کرجاتی ہیں وہ بچہ ہے۔کم ازکم وہی لحاظ کرلیں۔لیکن شاید انہیں بھی عادت ہے بدتمیزی کرنے کی”۔
وہ باوجود ضبط کے بول اٹھا۔
شہرام!! “بھابھی کو میں کیا کہوں؟؟ تم عاہن کو سمجھایا کرو وہ ابھی رشتے کی نوعیت نہیں جانتا۔تبھی اتنی بدتمیزی کرجاتا ہے۔ویسے بھی اسے زیب نہیں دیتا کہ اتنی بدتمیزی کرے۔اور تم بھی زرا اس کی سائیڈ لینا کم کرو۔ہمیشہ اس کی حمایت میں آجاتے ہو۔اگر اسے ڈانٹتا ہوں تو کسی غلطی پر ہہ ڈانٹتا ہوں”۔
انہوں نے مصنوعی خفگی سے شہرام علوی کی جانب دیکھا جو قد میں ان سے بھی لمبا لگنے لگا تھا۔”سعادت صاحب اگر یہ حمایت نہ کریے تو آپ تو اسے دھنک کر رکھ دیں”۔
سعدیہ بیگم کی نروٹھی سی آواز فضا میں ابھری تھی۔
“لوجی ایک اور حمایتی آگیا۔جاؤ بلا کر لاؤ۔آپ کے چھوٹے سپوت سے میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیتا ہوں “۔
سعدیہ بیگم نے محض سر جھٹک کر خفگی کا اظہار کیا تھا۔
“رہنے دیں معافی کے بہانے آپ نے اسے مزید رگیدنا ہے”۔ سعدیہ بیگم کی منطق پر انہوں نے شہرام کو دیکھا جیسے کہہ رہےہوں کہ دیکھ لو معافی کی بھی قدر نہیں ہے۔
شہرام محض کندھے اچکا کر رہ گیاتھا۔
💖💖💖
ماہ تاب!!” چاچو نے تھپڑ کتنا اچھا مارا۔ہائے مجھے بڑا مزا آیا۔ایسے ہی روز اس عاہن کو تھپڑ پڑیں تو تیر کی طرح سیدھا ہوجائے”۔
ماہ تاب حیران کن نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
کیا وہ اتنی سفاک تھی۔کہ باپ سے ایک بچے کوتھپڑ پڑوا کر مسکرا رہی تھی لطف اندوز ہورہی تھی۔
بولو بھی کچھ!! مشل کی آواز پر اس نے دوبارہ اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔جو اس وقت کسی بھی اینگل سے چھوٹی سی بچی کا نہیں لگا۔ اسے وہ چہرہ اپنے پاپا کے چہرے کی طرح سفاک لگ رہا تھا۔
مم مشل!! “تت تم ہنسو تو مت!! چاچو نے۔۔کک کافی زور سے مارا ہے۔۔اا اور یہ بھی تم جانتی ہو کہ۔۔مم ماما نے بھی عاہن کو بہت غلط بولا تھا”۔
اے!! “بھیں بھیں مت کرو۔تم سے تو بات کرنا فضول ہے”۔
کمال بدتمیزی کا مظاہرہ کرتی وہ ماہ تاب کو ٹوک کر کھڑی ہوئی۔
” ویسے وہ سچ کہہ رہا تھا۔تم پروموٹ تو ایسے ہی ہوئی ہو”۔ماہ تاب کے درست انکشاف پر مشل کے ماتھے پر تیوری نمایاں ہوئی تھی۔
تو !!”اگر ہوبھی گئی پروموٹ تو تمہیں کیا مسئلہ ہے۔زیادہ میرے ساتھ زبان درازی نہ کیا کرو ورنہ بابا کو شکایت لگادوں گی کہ شہرام بھائی کے ساتھ تم چھپ چھپ کر جاتی ہو”۔
ماہ تاب کا رنگ یکدم فق ہوا۔
“میں چھپ کر نہیں جاتی۔میں ماما کو بتاکرگئی تھی”۔
وہ جیسے اس الزام پرتڑپ سی گئی تھی۔اپنے کردار پر وہ جیسے چھوٹا سا چھینٹا بھی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔
“تم چھپ کر ہی گئی اور اگر پاپا کو میں نے بتادیا تو تم پھر روتے ہوئے سانس لینا بھول جاؤ گی۔
وہ عاہن اسی لائق ہے کہ اسے تھپڑ پڑیں۔آئندہ اگر اس نے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تو میں بھی لحاظ بھول جاؤں گی”۔
ہاتھ میں تھاما ٹیب وہ سامنے کرتی مکمل اس میں غرق ہوئی۔
لیکن ماہ تاب گویا سن سی رہ گئی تھی۔وہ کیا انکشاف کررہی تھی ،ماہ تاب علوی کو جیسے سمجھنے میں دقت ہوئی تھی۔وہ کئی ثانیے مشل کا معصوم چہرہ دیکھتی رہی تھی۔
💖💖💖💖💖
کیسے ہو عاہن؟”۔ٹھیک تو نہیں لگ رہے تم؟”
عاہن کو اتنے دن بعد سامنے دیکھتی مشل کی شرارتی رگ پھڑکی تھی۔بھرپور مذاق بناتی وہ ہنسی تھی۔
اس دن کے تھپڑ کے بعد دونوں کا سامنا کم ہی ہوتا تھا۔
صبح کالج سے ڈائریکٹ انسٹیوٹ اور پھر شام کو جم کے بعد وہ لیٹ ہی گھر آتا۔تاکہ تایا کی فیملی سے کم ہی سامنا ہو۔
بیزاریت نے گویا عاہن علوی کے اندر ڈیرا سا جمالیا تھا۔
وہ اس کی فضول گوئی کو نظر انداز کیے آگے بڑھا کہ وہ فوراً سامنے آئی۔
کیا ہوا گال میں درد ہے ؟؟ گہری سبز آنکھوں میں اس وقت واضح تنفر تھا۔
عاہن نے لب سختی سے بھینچ کر اس کی جانب دیکھا۔
ویسے تھپڑ بڑا مزے کا تھا۔
عاہن کو اس وقت وہ ایک سفاک چڑیل لگی تھی۔
تمہارے رشوت خور باپ نے تمہیں آگے پروموٹ تو کروادیا لیکن یہ نہیں جانتے کہ تم جاہل ہو جاہل ہی رہو گی”۔
اس کی پونی کو کھینچ کر وہ دور دھکیلتا آگے بڑھا۔ مشل دھم سے زمین پر گری۔
“اب بھاں بھاں کرکے رونے مت لگ جانا کیونکہ تمہیں عادت ہے چھوٹی سی چھوٹی بات پر تماشہ کرنے کی”۔
اس کے گرنے بھرپور لطف لیتا وہ اندر کی جانب بڑھ گیا۔
مشل گالیاں دیتی آج پھر ماں سے اس کی شکایت کرنے والی تھی۔ایک نئی جنگ کا آغاز پھر سے ہونے والا تھا۔ اور اس جنگ سے بیزاریت کا مزید پہلو عاہن علوی کی ذات میں نمودار ہونے والا تھا۔
💗💗💗💗💗
کیا ہوا؟؟ “کچھ دن سے دیکھ رہا ہوں کترائی سی پھررہی ہیں۔:
وہ ابھی اکیڈمی سے لوٹا تھا۔جہاں وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ پڑھاتا بھی تھا۔
شام!!” میرا ہاتھ چھوڑو”۔ مکمل جملہ ایک سانس میں بول کر ہاتھ جھٹکا۔
اسے بھی شاید اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہوا تھا۔آئی ایم سوری!! “مجھے آپ کا ہاتھ نہیں پکڑنا چاہیے تھا۔پر اتنے دن سے آپ کہیں نظر نہیں آرہی تھیں لیکن صد شکر آج یہیں مل گئی”۔
شام!! “ہمارا رشتہ اتنا مضبوط نہیں کہ میں تم سے جہاں چاہوں مل سکوں۔آئندہ میرا ہاتھ نہیں پکڑنا”.
کیاہوا؟؟ اتنااوور ری ایکٹ کیوں کررہی ہیں؟”۔
شہرام کی حیرت یقینی تھی۔
“عاہن اگر ممم مشل کو کہیں لے بھی جائے گا تو تب بھی کسی کو برا نہیں لگے گا۔کیونکہ وہ اس کی منکوحہ ہے بےشک وہ چھوٹی ہے اسے حقیقت کا ادراک نہیں لیکن مم م میرا اور آپ کا رشتہ اتنا مضبوط نہیں ہے”۔
شہرام نے تعجب سے اس کی جانب دیکھا جو ناجانے کس جانب اس کی توجہ دلوارہی تھی۔
“آپ کیا کہنا چاہتی ہیں۔کیاہمارے دل میں چور ہے یا پھر ہم ایک دوسرے کے لیے مکمل اجنبی ہیں؟
جاناں ہم کزنز ہیں۔اور کزنز میں بے تکلفی عام ہوتی ہے
۔میں نے کیا کبھی آپ سے اخلاق سی گری بات کی یا کوئی ایسی حرکت جس سے کسی کو اعتراض ہو۔آپ میرے لیے میرا تایا ابو کی بیٹی اور میری کزن ہیں۔یہ بات دماغ میں رکھیں اس سے زیادہ سوچنے سے گریز کریں”۔
وہ آج پہلی بار سختی سے بولا تھا۔
ماہ تاب شکوہ کناں ہوئی گویا احساس دلانا چاہا ہو کہ تم شاید اب بھی نہیں سمجھے۔
شہرام نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائی۔
آپ میرے کزن ہیں مم میں۔ مان لیتی ہوں
لیکن کیا کزنز کو موٹر بب بائیک پر بٹھایا جاتا ہے؟؟کیا ان سے چھپ کر ملا جاتا ہے؟”۔
شہرام کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے۔
“واٹ ڈو یو وانٹ ٹو سے؟”(کیا کہنا چاہتی ہیں)”
“کس نے یہ خناس بھرا ہے۔بتائیں ؟؟ کس سے دوستیاں بڑھا رہی ہیں جو آپ کے دماغ میں یہ فتور بھر رہاہے”۔
شہرام کی اونچی آواز پر جاناں نے مٹھیاں بھینچی۔
مم میرے دماغ کے خناس سس سے پہلے تمہیں اپنی سوچ کا تجزیہ کرنا چاہیے۔کس حق سے جاناں کہتے ہو”،
وہ قدرے سختی سے بولی کہ شہرام محض اسے دیکھ کررہ گیا۔
“کل کالج آکر دیکھتاہوں کہ کیسی لڑکیوں میں آپ کا اٹھنا بیٹھناہے۔آپ بہت بگڑ رہی ہیں۔وہ جاناں والی بات نظرانداز کرتا مزید سختی سے بولا تھا۔
آپ میرے باپ یاشوہر نہیں ۔۔۔جج جو مجھ پر حکم چلائیں گے۔یاپھر میرا کالج وغیرہ چیک کریں گے”۔
ماہ تاب!! وہ قدرےسختی سے بولا جبڑے گویا تن سے گئے تھے۔
جاناں کو لفظوں کی سنگینی کا احساس شدت سے ہوا۔
اس,سے پہلے وہ کچھ بولتی شہرام ایک تندہی سی نظر اس پر ڈالتاراہداری سے گزر کر اندر بڑھ گیا۔
آنسو یکلخت گال پر بہہ کر بے مول ہوئے۔
شام!! “کچی عمر کی پکی محبت انسان کو وقت سے پہلے تباہ کردیتی ہے ۔سمجھ لیں میری تباہی بھی شروع ہوچکی ہے۔”شہرام کے کمرے کا بند ہوتادروازہ جیسے جاناں کو دل پر ایک ضرب کی مانند لگاتھا۔
❤❤❤❤❤
بے کیف سے دن گویا جاناں کو بھی بےکیف کررہے تھے۔شہرام کی ناراضگی یکدم بڑھی تھی۔نہ اس کے بعد وہ سامنے آیا نہ جاناں اس کے کمرے کی جانب گئی۔
شاید مشل کی باتیں گویا جاناں کے ذہن کو جکڑ گئی تھیں۔
وہ ایسی ہی تھی۔کسی بھی چھوٹی بات پر جکڑ جانے والی۔سوچوں میں گھر کر خود کوہلکان کردینے والی۔اپنے کردار کو صاف شفاف رکھنے والی۔وہ اجلے چہرے والی ماہ تاب تھی۔جس کا دل بھی اس کے چہرے کی طرح اجلاتھا۔لیکن کچھ لوگ شاید اس کی اپنی ہی بہن اس میلا کردینا چاہتی تھی۔حالانکہ وہ چھوٹی تھی۔لیکن اس کی بات چھوٹی نہیں تھی۔”
بھیں بھیں”یہ ہوم ورک کردو۔میں چچی سے مل کر آتی ہوں”۔
کاپی اس کے آگے پھینک کر حکم نامہ جاری ہوا تھا۔
پرسوچ سی جاناں چونک کر سیدھی ہوئی۔
“مم میرا ٹیسٹ ہے۔اور تت تمہارا ہوم ورک ہے خود کرو”۔
کاپی دور دھکیل کر سپاٹ انداز سے اس نےمشل کو دیکھا۔
مشل کی گہری سبز سی آنکھیں طیش زدہ ہوئیں ۔جاناں کے ہاتھ میں تھامی بک کو اس نے ایک جھٹکے میں اٹھا کر دور پھینکا۔
تمہیں میں نے جب کہا کہ میرا کام پہلے تو پھر اس بکواس کا مقصد؟؟
جلدی سے کرو۔ورنہ ماما کو بتادوں گی کہ شہرام بھائی۔۔۔
ازلی دھمکی دیتی وہ جاناں کو ایک بار پھر سے دہلا گئی تھی۔
یہ چند لفظ تھے جو جاناں کو جکڑ لیتے تھے۔
اپ اپنی بکواس بند کرو۔۔وہ۔۔مم میرا کزن ہے میں کیوں چچ چھپ کر ملوں گی۔تمہاری وجہ سے وہ ناراض ہوگیا ہے۔وہ طیش سے کھڑی ہوئی
“اچھا ہوا ناراض ہوگیا ہے۔
اب میرا ہوم ورک کردو کسی کو نہیں بتاؤں گی”۔مشل نے کندھے اچکائے۔
کیا بتاؤ گی ؟تم مجھ سے چھوٹی ہو تو چھوٹی رہو،
حیرت کا مقام تھا۔اپنے کردار کی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ سولہ سالہ لڑکی ایک بارہ سال کی لڑکی سے ڈر رہی تھی۔
ہوم ورک کرو مجھے تمہاری زبان نہیں سننی،،
بیزاریت کے سنگ بولے وہ عقبی دروازہ عبور کرگئی تھی۔
شایدوہ حددرجہ حساس تھی۔یاپھر دل میں اگتی محبت کی کونپل نے شاید ماہ تاب علوی کو اپنی جگہ چور سا بنادیا تھا۔
💗💗💗💗💗
آئینے کے سامنے بال سنوارے شہرام علوی نے نظر اپنے چہرے پر ڈالی۔دل میں گویا دھک سے کچھ چھباتھا۔
سانولا سا ہلکی داڑھی والا چہرہ کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ نہیں کرتا تھا۔
یہ محض اس کی سوچ تھی کوئی ماہ تاب علوی سے شہرام کے بارے میں پوچھتا تو وہ بتاتی کہ وہ شخص کتنا قیمتی ہے۔
لیکن اسے کچھ بھی تو خاص نہیں لگتا تھا اس شخص میں نہ رنگ نہ روپ !! عاہن کو ہمت دینے والا شہرام علوی اس وقت اپنی شکل دیکھ کر اذیت میں تھا۔
اردگرد خوبصورتی کو دیکھتا وہ کبھی کبھی شکوہ کناں ہوتا۔لیکن خدا کا خوف آڑے آتا جیسے ہر شکوہ وہ پسِ پشت ڈال دیتا ۔
گہری براؤن سی آنکھیں ایک بار پھر چہرے کا بھرپور جائزہ لے رہی تھی۔
اس وقت وہ یونیورسٹی کے لیے ریڈی تھا۔
چیک دار گہری بلیو شرٹ اور بلیک جینز پہنےوہ کمرے سے باہر نکلا جہاں جاناں خلاف توقع تخت پر موجود تھی۔
شہرام نے ایک نظر ڈال کر کچن کی جانب رخ پھیر کر سدرہ بیگم کو ناشتے کے لیے پکارا تھا۔
مقابل کی بے رخی پر جاناں نے جیسے لب کاٹے۔
شش شہرام!! مم مجھے تم سے ایک چیپٹر کلئیر کرنا تھا۔
ہمت مجتمع کیے وہ آخر بول ہی بیٹھی۔
آپ تایاابو کو کہیں کہ کسی اچھے ٹیوٹر کا انتظام کرلیں۔وہ آپ کو اچھے سے سکھادیا کرے گا
میری یونیورسٹی کا مسئلہ ہے۔اور پھر مجھے ٹیوشنز کے لیے بھی جانا ہوتا ہے”۔
شہرام !!” کیا ہوگیا ہے۔ایک چیپٹر کی بات ہے سمجھادینا”۔
سدرہ بیگم نے فوراً اس کی حمایت کی ۔
امی !! “آپ جانتی ہیں۔کہ مجھے فرصت نہیں ملتی پھر بھی آپ ؟” وہ دانستہ بات ادھوری چھوڑ کر جاناں کو دیکھنے لگا۔
جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔جس کی بھنورا سی آنکھوں میں شرمندگی کی گہری رمق تھی۔
کوئی بات نہیں !! “شروع سے تم سے پڑھتی آئی ہے۔تو ظاہر ہے اب بھی تمہیں کہے گی”۔
سدرہ بیگم ناشتے کی ٹرے تخت پر رکھتی اسے بھی آنے کا اشارہ دیتں دوبارہ کچن میں بڑھیں۔
مضبوط قدم لیتا وہ تخت پر بیٹھا۔
سس سوری!! جاناں کی مدھم سی آواز پر ہاتھ تھما تھا۔
اٹس اوکے!!شام کو سمجھادوں گا پریشان مت ہو،
چاہ کر بھی وہ ناراضگی برقرار نہیں رکھ پایا۔اور نہ ہی کوئی پچھلی بات دہرائی تھی۔
جاناں کے معاملے میں شاید اس کا دل ازلی نرمی لیے وقوع پذیر ہوا تھا۔
مزید کھائے پیے وہ کندھے پر بیگ لٹکائے وہاں سے نکلا تھا۔دل کا بوجھ قدرے ہلکا محسوس کرتی وہ جیسے مطمئن ہوچکی تھی۔
*””””
شہرام!! جاناں کی پکار پر اس نے سراٹھا کر سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
بولیں؟؟ کیا سمجھ نہیں آیا؟”
جاناں نے نفی میں سرہلایا۔کوئی بات نہیں دوبارہ ٹرائی کرو۔
وہ پین سے دوبارہ لکھنے کے لیے جھکا ہی تھا کہ جاناں نے بےساختہ اس کے مضبوط ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
شہرام بے ساختہ چونکااور ہاتھ غیر ارادی طور پر دور ہٹایا۔
کیا ہوا ہے ؟” اس کی حرکت ناگواری کے باوجود وہ نظر انداز کرگیا۔
شہرام۔۔مم میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔آواز معمول سے زیادہ لڑکھڑائی سی تھی۔
“اگر چیپٹر کے متعلق ہے تو ضرور کہو لیکن کوئی فضول گوئی نہیں چلے گی”۔
شہرام !! آئی لویو!! وہ جیسے ضدی بنی ہر بات نظرانداز کرکے اپنی محبت کا اظہار پل بھر میں کرگئی۔
لمحہ تو لگاتھا اسے اس کی بات کو سمجھنے کے لیے۔
ماتھے پر بل نمایاں کرکے اس نے پین زور سے پھینکا اور کاؤچ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
فوراً سے پہلے کمرے سے نکل جائیں۔ورنہ آج میں سب لحاظ بھول جاؤں گا”۔
رخ موڑتا وہ پیشانی مسلے مضطرب تھا۔چہرے پر پسینہ نمودار ہوا۔
شہرام !!” مم میں محبت۔۔۔کک کرتی ہوں”۔
آنسو قطار در قطار بلامقصد گال پر بہے۔
شٹ اپ!! جسٹ شٹ اپ !! عمر دیکھیں اپنی اور اپنی حرکت دیکھیں”۔
اس لیے اس دن آپ نے بحث کی تھی؟ کونسا مضبوط رشتہ جوڑنا چاہتی تھیں۔
یہ غلیظ رشتہ؟؟ بتائیں ؟؟
وہ چاہ کر بھی ناگواری نہیں چھپاپارہا تھا۔
“ش شہرام مم میری بات سنو”۔
آپ سولہ یا سترہ سال کی ہی ہیں۔
لیکن آپ کے یہ غلیظ لفظ ایک میچور لڑکی والے بھی نہیں ہیں”۔
وہ اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ گیا۔
میں نے کیا کہا تھا؟ آپ میری کزن ہو۔۔”تایا کی بیٹی۔” اس سے بڑھ کر کونسا رشتہ بنانا چاہتی ہیں؟”
طیش سے گویا سانس بھی پھولی تھی۔
شہرام مم میں کیاکروں۔۔مم مجھے تمہارےسوا۔۔۔کک کوئی اچھا نہیں لگتا۔۔۔مم مجھے لگتا ہے مجھے تت تم سے۔
ماہ تاب !! “یہاں سے جائیں۔آج کے بعد اپنی شکل بھی مت دکھائیے گا۔اور سب سے اہم بات بچیوں پر ایسی باتیں سوٹ نہیں کرتی۔چار یا پانچ سال آپ سے بڑا ہوں ہمیشہ ایک کزن کی حیثیت سے بڑھ کر میں نے آپ کے بارے میں کچھ نہیں سوچا۔آپ بھی اپنی تعلیم اور اپنی کیرئیر پر توجہ دیں”۔
اس کے لفظوں نے ماہ تاب کو مزید ضددلائی۔
میری زبان کے ساتھ مم مجھے اور کون اپنائے گا اس بات کا جواب بھی دو۔؟
شہرام جھٹکےسے مڑا تھا۔
گہری براؤن آنکھیں غضب کا شکار تھیں تو سیاہ بھنورا سی آنکھوں میں محبت کا ہلکورے لیتا درد تھا۔
یعنی!! اپنی زبان کی لڑکھڑاہٹ کی وجہ سے آپ مجھ سے غلط رشتے کی شروعات چاہتی ہیں۔؟؟۔وہ اس کی نفسیات سمجھ چکا تھا۔
جاناں نے جیسے نظر جھکائی۔
“آپ میری محبت کو غلیظ نہیں کہہ سکتے”۔وہ جھٹپٹائی گویا اپنے عیب کو خوبصورت ریپر میں لپیٹ دینا چاہتی ہو۔
“آپ کی زبان میں ہلکی سی لغزش ہے۔آپ چاہیں تو اس پر قابو پاسکتی ہیں۔لیکن اس عیب کے ساتھ آپ کم از کم اپنی ذات کا وقار خراب مت کریں”۔گہرا سانس لیے وہ رکا تھا۔
جائیے یہاں سے!! “کچھ دن میں ویسے بھی میں یہاں سے جارہا ہوں۔لیکن جب تک میں یہاں موجود ہوں میرے سامنے مت آنا”۔
دوٹوک انداز میں وہ اسے جانے کا کہتا کمرے سے خود ہی نکل گیا۔کیونکہ شاید مزید وہاں رکنا اسے سانس رک جانے جیسا لگ رہاتھا۔
💗💗💗💗
چھت پر تیز قدموں سے آتا وہ جیسے خود کو اس دنیا سے چند پل کے لیے اوجھل کرلینا چاہتا تھا۔
یہ ماہ تاب نے کیا انکشاف کیا تھا؟”
کیا وہ لڑکی اتنی دلیر ہوگئی تھی۔؟ کیا اس نے شہرام کی گہری براؤن آنکھوں کا راز جان لیا تھا۔
لیکن اس نے تو کبھی مکمل آنکھ بھر کر بھی اس کی جانب نہیں دیکھا تو پھر وہ کیسے راز جان گئی؟ کیا وہ چہرے پڑھنا جانتی تھی۔کیا تھی وہ لڑکی؟ شہرام کو اس وقت وہ ایک پہیلی کی مانند لگی۔
“میں یہ نہیں چاہتاتھا۔میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا”۔وہ بے سر نفی میں ہلائے جیسے ہر حقیقت جھٹلا دینا چاہتا تھا۔
مجھے اپنی حیثت ازبر ہے “جاناں” شاید آپ نہیں جانتی کہ میں وہ دیکھ چکا ہوں جو شاید آپ نے نہیں دیکھا۔
میں تایا ابا کی آنکھوں کی ناگواری کو محسوس کرسکتا ہوں۔
تائی امی کی کڑوی کسیلی سرگوشیاں روز میری سماعت سنتی اور میری آنکھیں دیکھتی ہیں۔
آپ کی زبان کی لڑکھڑاہٹ کا الزام میرے سر پر ایک تلوار کی مانند لٹکتا ہے۔جو روز میری پیشانی پر نوک کی مانند چھبتی ہے۔
میں مجرم ہوں اور مجرم کو کبھی انعام نہیں ملا کرتے انہیں سزائیں دی جاتی ہیں”۔
ایک گہری تھکن زدہ سی سانس ہوا کے سپرد کرتا وہ جیسے اندر کی کھولن کو کم کردینا چاہتا تھا۔
اسے یہاں سے جانا ہی تھا۔اب وہ یہاں نہیں رہ سکتا تھاوہ اس لڑکی کو روگ لگتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
وہ ابھی کامیابی کی دہلیز پر قدم جمارہی تھی۔وہ اسے قدم جمانے سے پہلے ہی لڑکھڑاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔اسے یہاں سے چلے جانا ہی بہتر لگا تھا۔
وہ آج اس کمرے سے نکلتے ہوئے شاید عہد کرآیا تھا کہ وہ جاناں کے سامنے اب نہیں آئے گا۔
اسے کامیابی کی انوکھی مسند پر بیٹھے دیکھ کر ہی لوٹنے کا عہد کرچکا تھا۔لیکن کچھ عہد ٹوٹ جاتے ہیں انہیں ہم توڑنا نہیں چاہتے لیکن وہ ٹوٹنے کا موجب بن جاتے ہیں۔
💗💗💗💗💗
تھکے قدم لیے وہ کمرے سے نکل تو آئی لیکن شاید اپنا دل وہی چھوڑ آئی تھی۔اور دماغ میں بس ایک لفظ لیے واپس آئی تھی۔
اپنی ذات کا وقار خراب مت کریں” یعنی وہ خود اپنی عزت نفس اپنی ذات کا وقار اس بے مہر شخص کے قدموں میں روندھ آئی تھی۔
وہ سولہ سال کی تھی۔کیا سولہ سالہ لڑکی کو یہ زیب دیتاتھاکہ وہ اپنے کزن کو اتنی دیدہ دلیری سے پرپوز کرے۔جس نے ہمیشہ اس سے ایک فاصلہ رکھا تھا۔جس نے ہمیشہ ایک بچی کی مانند سلوک کیا تھا۔جس نے ایک استاد کی مانند اس کی رہنمائی کی تھی۔لیکن وہ اس کی رہنمائی اس کے شفقت بھرے سلوک کو محبت کا نام دے بیٹھی۔
دل نےگویا اسے تنبیہ کی تھی کہ تھم جاؤ قدم روک لو۔لیکن دماغ کہہ رہا تھا وہ گھومنا پھرنا وہ اسے ہر چیز کے لیے پکارنا وہ کیا تھا؟ کیا وہ محبت نہیں تھی ؟کیا وہ ٹائم پاس تھا۔ کیا تھا وہ سب ؟؟ سوچیں تھی کہ اسے الجھارہی تھیں۔
خوبصورت دو بیڈ والا کمرہ اسے ایک زندان کی مانند لگ رہا تھا۔کمرے کی رنگین تتلیوں سے سجی دیواریں اسے سانسیں تنگ کرتی برف کی سل کی مانند محسوس ہوئی۔
ٹھنڈک سی وجود میں ڈیرہ جمانے لگی۔وہ ٹھنڈک جو اداسی لارہی تھی۔
اس نے بے ساختہ مشل کی جانب دیکھا جو بے فکری سے بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹی خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
اس کے چہرے پر الوہی سکون تھا جو شاید ماہ تاب کے چہرے سے روٹھ کر مشل کے پاس چلا گیا تھا۔
اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ایسے کبھی شہرام علوی سے اظہار کردے گی۔
لیکن یہ اظہار کروانے کی وجہ اگر کوئی تھا تو وہ تھی مشل علوی۔”
ہاں وہ بارہ سالہ مشل علوی جس کی چھپ چھپ کر ملنے والی بات اس کے دل میں جیسے کھب سی گئی تھی۔اس ایک چھپ کر ملنے والی بات کو وہ محبت سمجھ بیٹھی تھی یعنی یہ محبت ہی تھی جو شہرام اسے ہر جگہ لے جاتا تھا۔اس کے ہر معاملے کی خبر رکھتاتھا۔
لیکن شہرام نے تو کچھ اور کہا تھا۔اس نے تو کہا تھا اپنی وقار کو بے وقعت مت کرے۔یعنی اس کی محبت کو وہ بھاڑ میں جھونک گیا تھا۔
ماہ تاب کا دل کیا وہ بارہ سالہ مشل علوی کا سکون برباد کردے اسے جنجھوڑ کر اٹھائے کہ تم تو کہتی تھی ماما کو بتاؤں گی شہرام سے چھپ چھپ کر ملتی ہو۔اس کے ساتھ بہانے بناکر باہر جاتی ہو۔کیا یہ محبت میں ہوتا ہے؟ کیا وہ محض کزن سمجھتا تھا۔
تو کیا مشل جھوٹی تھی یا پھر مشل کی بچگانہ بات کو اپنی طریقے کا مطلب اخذ کرچکی تھی۔
💗💗💗💗💗
