Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

“تمہاری صرف یہ والی وارڈروب ہے اس کےعلاوہ اگر تم نے کسی کبرڈ کو ہاتھ لگایا تو میں نے تمہارا ہاتھ جلا دوں گا۔”
بیڈ سے دو سٹیپ نیچے کھڑا کرکے اس نے ایک چھوٹی سی کبرڈ کی جانب اشارہ کیا۔
مشل نے اس کی نگاہ کے تعاقب میں دیکھا
مصنوعی رعب سے بولتا اب تک کلائی سہلارہاتھا۔
اتنی ہمت ہے کہ تم میرا ہاتھ جلاؤ۔پہلے اپنی کلائی کا علاج تو کرلو۔اور یہ اتنی سی وارڈروب؟؟”
شٹ اپ۔۔۔” وہ غرایا تو مشل کا قہقہ گونجا۔
“خیر منہ دکھائی تو تم نے دینی نہیں ہے اس لیے میں چینج ہی کرلیتی ہوں۔”
وہ منہ بناتی ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی جب دروازہ لاک دیکھ کر وہ طیش سے مڑی۔
اب اسے کیوں لاک کیاہے؟” کھولو اسے۔”
میرا کمرا میری مرضی۔۔” وہ گردن اکڑائے بولتا اس کی جانب بڑھا۔
مشل کی دھڑکن بڑھی تھی۔عاہن دروازہ کھولو مجھے اس ڈریس سے الجھن ہورہی ہے وہ چلا کر بولی۔
منہ دکھائی تو لے لو۔پھر اس کے بعد کی کچھ رسم و رواج نبھالیں گے پھر بے شک چینج کرلینا۔
وہ چہرے پر انگلی سے لکیر کھینچتا ذومعنی انداز اپنائے گویا ہوا۔
تو مشل نے آنکھ پھیلا کر اسے دیکھا۔
بہت ہی بدتمیز انسان ہو۔چھوڑو۔اس نے تھپڑ اس کے ہاتھ پر مارا۔
عاہن نے سختی سے اس کے دونوں ہاتھ جکڑے۔درد سے مشل کی سسکی نکلی تھی۔
اب اگر تم نے ان ہاتھوں سے مجھے دوبارہ مارا تو میں یہ ہاتھ توڑ دوں گا۔
مت بھولو میں ایسا کر گزروں گا۔بچپن کی کچھ یادیں تو تمہارے ذہن میں تازہ ہوچکی ہوگی۔
مشل کے دماغ میں یکلخت وہ مناظر گھومے جس میں
وہ اس بری طرح پیٹ رہاتھا۔
وہ جھرجھری لے کر دور ہوئی۔تو عاہن کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔
اس نے ایک دم اس کا ڈوپٹہ کھینچا تو مشل کی گردن پیچھے ڈھلکی۔لب نیم واہ سے ہوئے جبکہ کئی بال پنز کی وجہ سے کھینچ گئے تھے۔
پاکٹ سے اس نے سبزرنگ ڈائمنڈ نیکلس نکال کر اس کی گردن کی زینت بنادیا۔
مشل پل بھر میں سمجھ ہی نہیں پائی کہ یہ ہوا کیا ہے؟”
“یہ اصلی ڈائمنڈ ہے جو تمہاری آنکھوں سے مشابہہ ہے۔
چاہو تو ٹیسٹ کرکے چیک کرسکتی ہو۔”
عاہن نے وہ چین نما لاکٹ ہلکا سا کھینچ کر اس کی نگاہ کے سامنے کیا تو نازک چین سے گردن پر خراش آئی تھی۔
مشل نے لب دبا کر اس لاکٹ کو دیکھا جس میں چمکتا ڈائمنڈ آنکھوں کو خیرہ کررہا تھا۔
“ہاں تم تو چاہتے ہو میں مرجاؤں۔۔”وہ خفگی سے بولتی لاکٹ تھام چکی تھی۔
چمکتا گہرے سبز رنگ کا وہ ڈائمنڈ مشل علوی کی آنکھوں کے رنگ جیسا تھا۔
“اور کیا مجھے دوسری من پسند شادی کا موقع آسانی سے مل جائے گا۔”وہ کندھے اچکاتا مشل کو حددرجہ زہر لگا۔
حسرتیں۔۔۔”
“ویسے ایک بات بتاؤ۔۔”وہ لاکٹ دیکھ کر گردن سیدھی کیے گویا ہوئی۔
بکو۔۔۔”
مشل نے اسے گھورا۔ اب بولو بھی۔۔۔”
“تم نے میری آنکھوں کو اتنے غور سے دیکھا تھاجو اسی کلر کا ڈائمنڈ لیا۔”
وہ لجائی سی بولتی عاہن کے دل کا راز جان گئی تھی۔
“میرا دماغ نہیں خراب جو تمہاری یہ گھاس جیسی آنکھیں دیکھوں۔تمہیں بس یہ احساس دلانا تھا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔خوش فہم لڑکی۔۔۔”
وہ استہزائیہ بولا تو مشل نے منہ بنا کر رخ موڑا۔
“مجھے چینج کرنا ہے ۔جانے دو مجھے لاک کھولو۔”
“تمہارا ڈریس تمہاری وارڈروب میں ہے وہاں سے لو اور واش روم میں اپنا یہ مضحکہ خیز چہرہ دھو کر چینج کرو۔”
عاہن نے وارڈروب کی جانب اشارہ دیا۔
وہ پاؤں پٹکے اس جانب بڑھی تو اندر گنتی کے دس ڈریس تھے۔جو سب ڈیزائنر کے بھاری کام سے آراستہ تھے۔
“میں یہ کیسے پہن لوں۔یہ بہت بھاری ہیں۔اور بس یہ اتنے سے ڈریسز۔۔”
“میرے کمرے میں میری مرضی سے رہنا ہوگا۔اور یہ دس بھی کم نہیں ہیں۔میرا آدھا بجٹ خراب ہوگیا۔”
وہ سر جھٹکتا بولا تو مشل کا دل چاہا ایک بار پھر اس کے بال نوچ لے ۔جو اتنا امیر ہونے کےبعد بھی فقیروں کو مات دے رہا تھا۔
“ِْکسی فقیر سے پالا پڑا ہے میرا۔وہ دوسری وارڈروب کھولنے لگی تو وہ بھی لاک تھی۔”
عاہن نے ابرو سکوڑ کر ہاتھ باندھے۔اور استہزائیہ مسکرایا۔
“تم ایک سنکی آدمی ہو۔ایک تو یہاں اتنی وارڈروبز اور اوپر سے ہرکسی کو لاک۔کیا میں تمہیں چور نظر آتی ہوں۔؟”
اپنے بکھرے سے حسن میں وہ لاپرواہ سی عاہن کی توجہ نہایت دلفریب طریقے سے اپنی جانب مبذول کروارہی تھی۔
بالوں کے جوڑے میں آراستہ پھول خوشبو کا حسین جادو کمرے میں جگا چکے تھے۔
عاہن بہکے سے قدم لیے آگے آیا۔اور اسے وارڈ روب سے لگایا۔
مشل کا حلق خشک ہوا جبکہ دراز پلکیں لرز کر سایہ فگن ہوئی۔
اس کا حسین چہرہ نکھرتا حسن گلے میں اس کا پہنایا گیا لاکٹ اور پہنا چوڑی پٹی والا ہار ہر چیز عاہن کو اس کی ذات کے لیے پرفیکٹ لگی تھی۔
عاہن نے تھوڑی جکڑ کر ہلکا سا اس کا سر بلند کیا۔تو مشل کی مٹھیاں نم ہوگئی۔
اس کے چہرے پر چھائے بے باک سے تاثرات شوریدہ جذبات سے دہکتی آنکھیں مشل کا پور پور جیسے جھلسارہی تھی۔
“دل تو چاہ رہا ہے تم اسی بھاری لباس میں رات گزارو۔تاکہ میرے لائے جوڑے کی کچھ قیمت ادا ہوجائے۔آفٹر آل میرے حق حلال کی کمائی سے آیا ہے”۔
فسوں خیزی کا دور ٹھک سے ختم ہوا تو مشل نے ناسمجھی سے اسے دیکھا لیکن جب اس کی بات سمجھ میں آئی تو دل چاہا اپنا ہی سر پھوڑ لے۔
“اگر تمہیں اتنا ہی اپنی کمائی جانے کا دکھ ہے تو مجھے میرے گھر سے ہی میرے ڈریسز لانے دیتے۔”
وہ چیخی تھی۔اس کی بے تکانہ سی بات پر مشل کا دماغ گھوم گیا تھا۔
ایک تو شام سے پہنا یہ ڈریس اوپر سے اس کی فقیری کو مات دیتی باتیں اس جیسی شاہ خرچ لڑکی کا پارہ ہائی کرنے کے ساتھ دماغی تھکن کا بھی موجب تھی۔
“واش روم میں ڈریس ہینگ ہے جاؤ۔وہ پہنو اور آکر چپ چاپ بائیں طرف لیٹ جانا۔
کشن میں پہلے ہی سیٹ کردیتا ہوں۔”
وہ بولتا ہوا دوسٹیپ چڑھ کر اوپر آئے بیڈشیٹ کو ٹھیک کرکے کشن درمیان میں رکھنے لگا۔
“بڑے ہی کوئی ڈرپوک انسان ہو۔ایک لڑکی سے ڈر گئے۔دی گریٹ ایکٹر عاہن علوی۔”
وہ ہنستے ہوئے واش روم میں بھاگ گئی۔عاہن دانت پیسے اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔


ناشتے پر آج خاصی چہل پہل تھی۔گہرے گلابی فراک میں نکھری سجی سی مشل عاہن کی توجہ بھٹکا رہی تھی۔
“یہ تمہارے ہاتھ پر کیا ہوا ہے؟”شام کی نگاہ اس کے ہاتھ پر گئی ۔
گلاس کے لیے بڑھا ہاتھ اس کا وہی رک گیا اور ایک تیکھی نگاہ مشل پر ڈالی جو ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں سرجھکائے ناشتے میں مگن ہوئی۔
“کتے نے کاٹ لیا تھا۔”وہ سنجیدگی کا الم بنا گویا ہوا۔مشل کو اچھوکا لگا۔
کیا کیسے؟” بدر علوی کے ساتھ سعادت علوی باقی افراد کا ناشتہ کرتے ہاتھ تھم گیا۔
کیا ہوا بچے؟” سدرہ چچی نے بے ساختہ اس کی کمر مسلی۔
شام نے متعجب ہوکر عاہن کو دیکھا تھا جبکہ ماہ تاب بنا جانے سمجھ چکی تھی کہ عاہن کی کلائی پر مشل کی کارستانی ہے۔
“بتاؤ عاہن یہ کیا ہوا ہے؟ کل تک تو ایسا کوئی نشان نہیں تھا”۔
نیلی ہوئی کلائی پر واضح گول دائرہ بنا تھا۔
شام شاید اب تک نہیں سمجھا تھا۔
ماہ تاب نے شام کا ہاتھ جکڑ کر اسے روکا۔مشل کا خفت گلابی پڑتا چہرہ واضح جتا رہا تھا کہ شام کو روکو۔
شام نے حیرانگی بھری نگاہ ماہ تاب کے چہرے پر ڈالی جو ججھکتے ہوئے اسے آنکھوں سے اشارہ دے رہی تھی۔
وہ ناسمجھی سی کیفیت میں ماہ کو دیکھنے لگا۔
ماہ تاب کو اس کے بھول پن پر آج ترس ہی آیا تھا۔
جسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ مشل نے اس کی بازو پر کاٹا ہے۔
جبکہ سدرہ چچی بھی معاملہ سمجھ چکی تھیں۔دبی دبی ہنسی سب کے لبوں پر تھی۔
“چچی میں نے ناشتہ کرلیا ہے۔میں روم میں چلی جاؤں۔۔”
سجی سنوری سے مشل نے بات کا رخ بدلنا چاہا جب شام نے اس کی جانب دیکھا۔
ایک نگاہ اس نے دوبارہ ماہ تاب پر ڈالی جو اب ناشتہ کرتی انجان بنی۔اس کا نظر چرانا وہ سمجھ چکا تھا۔
کہ عاہن کے ہاتھ پر کیا ہوا ہے؟”
عاہن کو دیکھ کر اس کے سکڑے لب مسکرائے تھے۔
تو اس نے آنکھیں گھما کر بھائی کی ہنسی کو برداشت کیا۔
جبکہ ماہ تاب اس کے شدید عمل پر دنگ تھی۔جس نے نہایت برے طریقے سے عاہن کی بازو زخمی کی تھی۔


ایجنسی جانے کے لیے تیار ہوتا وہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا جب نو ٹیفیکیشن دیکھتا چونکا تھا۔
اسے شاید ٹیگ کیا گیا تھا۔موبائل کی سکرین اس نے سامنے کی تو وہاں ایک ویڈیو تھی۔سامنے معیز رؤف اپنی شاندار شخصیت کے ساتھ موجود تھا۔
شام کو شاید اب بھی یقین نہیں آیا کہ وہ معیز رؤف یے۔
چھ سال بعد وہ شخص نگاہ کو میسر آہی گیا تھا لیکن اتنا عرصہ وہ کہاں تھا وہ سمجھ نہیں پایا۔
ویڈیو میں اسے شادی کی مبارکباد دی گئی تھی۔اور دعائیہ کلمات کے ساتھ اسے غیر محسوس طریقے سے چکنا کہا گیا ۔
وہ مسکراتا شخص شام علوی کی آنکھوں میں نمی نمایاں کرگیا۔
اسی ویڈیو کے نیچے اس کے مداحوں نے بھی اسے کافی وشز دی تھیں۔
شام کو حیرت بھی ہوئی کہ اتنے سالوں بعد اس نے کیوں رابطہ کیا۔
ماہ تاب نے حیرت سے شام کودیکھا جو ویڈیو دیکھتا اردگرد سے بالکل ہی غافل تھا۔
ماہ تاب دھیرے سے چلتی اس کی جانب آئی۔تو سامنے معیز کو دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔
معیز۔۔۔” ماہ تاب کی خوشی سے لبریز آواز سنتا وہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔۔
تم جانتی ہو ؟” اس نے حیرت سے استفسار کیا۔
“یہی تو میرا مسیحا ہے۔”
وہ بے ساختہ بولی۔شام علوی کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔اور جھٹکے سے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
یہ ۔۔۔تمہارا شوہر”ْ آئی مین ۔۔۔وہ سمجھ نہیں پایا وہ کیا کہے؟
“شام یہ صرف میرا مسیحا ہے۔اگر یہ شخص نہ ہوتا تو شاید ماہ تاب علوی کی لاش بھی آپ کو نہ ملتی۔”
وہ بہتی آنکھوں سے بولتی شام کا دل تڑپا گئی۔شام نےبے ساختہ سینے سے لگا کر بازو کا حصار باندھا وہ سسکتی اس ویڈیو کو دیکھنے لگی۔
اس شخص کی چمکتی سیاہ آنکھیں جس میں درد باضابطہ طور پر دیکھا جاسکتا تھا۔دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ وہ اپنی محبتوں کی کئی الفاظ ان دونوں کو نواز رہا تھا۔
شام علوی نے کئی بار وہ پانچ منٹ کی ویڈیو دیکھی۔ماہ تاب اس کے حصار میں کھڑی رہی۔
“شام یہ شارف ابدال کا بیٹا نہیں ہے۔یہ ان کے بھائی کا بیٹا ہے۔شام وہ تکلیف میں ہے۔میرے ہمدرد مصیبت میں ہیں۔انہیں آپ رہائی دلوادیں۔”
وہ درد بھرے انداز میں بولتی آنکھیں میچ گئی۔شام کا کندھے پر رکھا ہاتھ تھوڑا سا ڈھلکا تھا۔
ماہ تاب نے اس کی گرفت ہلکی دیکھ کر سر اوپر اٹھایا۔
جیسے وہ دور ہونا چاہ رہا ہو۔
“تمہارے ہر ہمدرد کا محافظ شام علوی بنے گا۔تمہیں درد پہنچانے والے کا قاتل بھی شام علوی کہلائے گا۔۔
تم پر ہوئی ہر زیادتی کا حساب میں سود سمیت لینے کی ٹھان چکا ہوں۔اب تم دیکھو میں کیا کرتا ہوں؟”
ماہ کی بھیگی پلکیں مسکرائیں۔
اس نے نرمی سے بھیگی آنکھوں کی نمی چرالی۔
شام۔۔میں مم ۔۔۔۔بب بہت۔۔۔میں آپ کو سچ۔۔۔”
اس کی مہک بھری تاثیری پر لفظ ڈگمگانے لگے تھے۔
“ما تاب میں سچ بھی جاننا چاہتا ہوں لیکن میرا دل و سماعت اس تلخ دور کی آواز کو برداشت نہیں کرپائیں گی۔کیونکہ میں ماضی کی آگہی کا ایک قطرہ بھی اپنی موجودہ زندگی میں برداشت نہیں کرسکتا۔”
“شام کچھ سچ آپ جان جائیں گے تو آپ کے لیے اچھا ہوگا۔
میں آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہوں پلیز ایک بار سن لیں”۔
وہ دونوں ہاتھ اس کے سینے پر مان سے رکھتی بلند گردن سے گویا ہوئی تو شام علوی نے ان سیاہ نینوں کو دیکھا۔
نگاہ بھٹکتی اس کی دھڑکنیں بڑھا گئی ۔وہ نگاہ ہمیشہ اسے کمزور بناتی تھی۔
شام نے نفی میں سرہلایا۔تو ماہ تاب کا مان ٹوٹا۔وہ ہاتھ ہٹاتی پیچھے ہونے لگی جب اس نے پشت پر دونوں ہاتھ باندھ کر اسے قید کرلیا تھا۔
“تم جانتی ہو۔میں اب کسی سچ کسی فریب کیس محبت بھرے لفظ پر یقین نہیں کرنا چاہتا۔ایسا نہیں ہے کہ مجھے تم پر اعتبار نہیں ہے۔اس دنیا میں میرے لیے اعتبار کا لفظ ہی ماہ تاب علوی ہے۔لیکن کچھ معاملوں میں بے اختیاری بھی اچھی ہوتی ہے۔”
شام میری محبت۔۔۔” وہ پھر اس کی ادھوری سے بات کاٹ گیا تھا۔
“جب تم محبت بھری سرگوشی کرتی ہو۔ میرا دل تڑپ جاتا ہے اس دل میں درد پھیل کر رگوں کو کاٹنے لگتا ہے۔مجھے وہ تھپڑ شدت سے یاد آتاہے۔مجھے وہ اذیت یاد آتی ہے تو کیا اچھا نہیں تم وہ بات نہ ہی کرو۔”
شام کی آخری بات پر ماہ نے فوراً اس کے گال پر نرم گلابی ہتھیلی رکھ کر بہتی آنکھوں سے نفی میں سرہلایا۔
شام نے اس کے ہاتھ کو ہٹانے کے لیے ہاتھ بڑھایا جب ماہ تاب نے ایک بار پھر سر نفی میں ہلا کر اسے روک دیا۔
مم مجھے کہنے دیں ناں شام۔۔۔ایک بار پلیز۔۔۔”
کبھی وقت آیا تو ضرور موقع دوں گی۔فلحال مجھے اپنے اہم مسیحا کو جواب دینا ضروری ہوچکا ہے۔نرمی سے اس کا گال تھپک کر وہ آج پھر ادھورے عذاب میں مبتلا کیے کمرے سے نکل گیا۔


“میرا اہم سین ہے میں شام تک لوٹ آؤں گا۔میری بات دھیان سے سنو۔ اگر میرے کمرے کی کسی بھی چیز میں تم نے اپنی مرضی چلانے کی کوشش کی تو میں تمہیں۔۔۔۔”
وہ بازو پیچھے باندھتا مصنوعی رعب سے بولا۔
کیا میں تمہیں ؟اور یہ ہاتھ تو آگے کرو۔۔۔”مشل شیرنی بنتی اس کی بازو تھامنے جھکی جب عاہن پیچھے کھسکا۔
ڈرپوک ۔۔”وہ ہاتھ پرہاتھ مارتے ہنستی چلی گئی۔
“میں تمہیں دیوار کے ساتھ چھپکلی کی طرح چپکانے میں منٹ نہیں لگاؤں گا۔ اور میں تم سے ڈر نہیں رہا۔میں نہیں چاہتا کہ میں تمہیں دوبارہ وہ لفظ کہوں۔”
مشل کی پیشانی پر بل نمایاں ہوئے۔
شٹ اپ۔۔۔” وہ دھاڑتی سٹیپ چڑھتی بیڈ کی جانب بڑھی۔
رات کافی دیر اسے نیند نہیں آئی تھی۔اس وقت وہ بھرپور نیند لینے کی خواہش مند تھی۔
عاہن اس کی توجہ بھٹکتی محسوس کرتا تیسری وارڈروب کی جانب آیا۔
آج اسے ہر حال میں زاہد بٹ کا کمزور پہلو جاننا تھا۔وارڈروب سے منی چاقو ٹیپ اور ضروری سامان لیتا وہ ہڈی کی پاکٹ میں خفیہ طور پر ڈال چکا تھا۔
مشل بیڈ کے کنارے پر بیٹھی اس کی کاروائی کو مشکوک نظروں سے دیکھتی متجسس ہوئی۔اسے شارف ابدال کو آج کسی بھی طرح کچھ اپڈیٹ دینی تھی۔
کچھ وارڈ روب کے دروازے اور کچھ عاہن کے لمبے چوڑے قد کی وجہ سے وہ مکمل اسے دیکھ نہیں پارہی تھی
اپنا سامان لے کروہ مڑا جب مشل کو اپنے قریب کھڑا دیکھ کر وہ چونکا۔
اس کی آہٹ کو وہ محسوس کرچکا تھا لیکن بظاہر انجان بنا مگن رہا تھا۔تاکہ اسے محسوس نہ ہو۔
تم یہاں کیا کررہی ہو؟”
میں تمہاری جاسوسی۔۔۔” وہ پراسراریت کے سنگ سبز آنکھیں پھیلائے اس کے قریب جھکی تو عاہن نے سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھا۔اس وقت اس کا جانا ضروری تھا۔
“پھر کیا ملا میری جاسوسی کرکے؟”وہ ابرو اچکائے وارڈورب سے ٹیک لگاتا گویا ہوا۔۔
مشل نے غیرارادی طور پر اپنا ہاتھ اس کی ہڈی کی پاکٹ کی جانب بڑھایا۔
عاہن نے جھٹ سے اس کی کلائی پکڑی۔
“اپنی حد میں رہو مشل علوی۔۔ میں نہیں چاہتا کہ میں تم جیسا جاہل بن کر تم پر تشدد کروں۔میں آج پھر تمہیں یہ باور کروانا چاہتا ہوں کہ یہ فیصلہ محض دادا کی وجہ سے کیا ہے۔میں زوار علوی کی بیٹی کو کبھی اپنی زندگی میں نہیں لانا چاہتا تھا۔محض دادا اور ڈیڈ کے فیصلے نے مجھے مجبور کیا ہے۔ورنہ تم جیسی لڑکیاں محض دل لبھانے کے لیے ہوتی ہیں جو غیر مردوں کی بانہوں میں جھول کر ویڈیوز اپلوڈ کرتی ہیں اور ترقی کے لیے آگے بڑھنے کے لیے گھٹیا ترین کام کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔”
کلائی پر گرفت مضبوط کیے وہ اپنے لفظوں کا زہر مکمل مشل علوی پر انڈھیل گیا۔
سبز بھیگی آنکھوں میں ابھرتی بے یقینی نے ناجانے کیوں عاہن کے دل کو زک پہنچائی تھی۔
وہ اس سے امید لگابیٹھی تھی جو اسے قطعاً نہیں لگانی چاہیے تھی۔
“اب اس نمی کا کیا فائدہ مشل علوی۔۔کبھی اپنا احتساب کرنا کہ تم کیا کرنے والی تھی اور تم کیا کرچکی ہو؟ تم نے کب کب مجھے اذیت پہنچائی ہے۔پھر بھی تم چاہتی ہو کہ میں تم سے نرمی برتوں تو یہ غلط سوچ اور نہایت پرفریب توقعات ہیں جو تم مجھ سے لگابیٹھی ہو۔”
دل کی بڑھتی ہمک کو وہ پاؤں تلے مسل گیا۔
آنسو بہتے گال بھگونے لگے جسے مشل نے سختی سے رگڑ کر رخ موڑنا چاہا۔
“رخ موڑ بھی لو تو تمہارے یہ آنسو سب ظاہر کررہے ہیں کہ تم بہت جلد مجھ سے ہارنے والی ہو۔”
طنزیہ سا مسکرا کر اس نے سرگوشیانہ مشل کی سماعت کو دہکایا۔
“ہاری نہیں ہوں میں۔سوچنا بھی نہیں کہ میں تم سے توقعات لگاؤں گی۔”
وہ انگلی اٹھاتی چیخی۔
گلابی چہرے پر امڈتی ضبط کی سرخی اور سبز نم سی آنکھیں دیکھتا عاہن بے اختیار ہوا تھا۔
جھٹکے سے کمر جکڑے اس نے پاس کھینچا۔
مشل نے دونوں ہاتھ سینے پر جما کر فاصلہ قائم کرنا چاہا لیکن وہ یہ کوشش بھی ناکام کرگیا۔
زبان گویا تالو سے جا چپکی تھی۔
“تمہیں قریب لاکر کسی شدید نقصان سے دوچار کرنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔۔”
وہ پراسراریت سے کہتا دھیرے سے کان کی جانب جھکا جب مشل نے جھٹ آنکھیں موندھی۔
کسی دل پسند لمحے کے حصار میں سمٹنے کے لیے وہ دھک دھک کرتے دل سے منتظر ہوئی جب عاہن علوی نے سارے خیالات ساری خواہشات پر کھولتا پانی انڈیلا۔
“کیا اسد کی ہمراہی میں بھی ایسے ہی تاثر ابھرتے تھے؟کیا وہ بھی ایسے ہی قریب کرکے تمہارے ساتھ ویڈیوز بناتا تھا۔یا پھر شارف ابدال کی بانہوں میں ایسے ہی آنکھیں موندھ کر آسودگی میں ڈھلتی تھی۔”
اس کے زہر زہر لفظ نے مشل علوی کی ذات کو چھلنی کیا۔وجود میں کھڑے ہوتے رونگھٹے ایک سرد پن مشل علوی کو سہما سا گیا۔
کئی لمحات اس کی آنکھوں میں گھوم گئے جس میں وہ بنا کسی خاص تاثر کے ان کے گلے لگی تھی۔اس کی نیت میں فتور نہیں تھا لیکن یہ دیکھنے والی آنکھ جانتی تھی کہ ان فتور بھرے لمحات کو وہ کیسے برداشت کرپایا تھا۔
مشل نے کپکپاتے لبوں بہتی آنکھوں سے نفی میں سر ہلانا چاہا جب عاہن نے اس کی تھوڑی جکڑ کر آنکھوں میں سردپن حائل کیے اس کی کوشش ناکام بنادی۔
“مجھے جھوٹے لوگوں سے ایک خاص قسم کی انسیت ہے۔وہ جھوٹ بہت صفائی سے بولتے ہیں کہ ان کی آنکھیں ان کا چہرہ بھی اس جھوٹ کو سچ بنادیتا ہے۔جیسے تمہارا یہ حسین چہرہ جھوٹ کو سچ میں بدلنے کا ہنر رکھتا ہے۔”
جبین کو سختی سے دبوچے وہ قریب جھکا۔اور سیاہ نینوں سے اس سبز چمکتی نگاہوں کو دیکھا جن میں درد ہلکورے لے رہا تھا۔
بھنوؤں کی درمیانی جگہ پر اپنے عنابی لب رکھے وہ مشل کا دل حلق میں لایا اس کا دہکتا لمس اور اس پر دلفریب نرم گرم سی قربت مشل علوی کی ہتھیلیاں بھگو گئی تھی۔
“یہ تمہارے اس جھوٹے فریبی چہرے کو انعام بخشا ہے۔کہ تم جھوٹ بڑی دیدہ دلیری اور اطمینان سے بولتی ہو۔”
انگوٹھے سے وہ درمیانی بھنوؤں کی سطح سہلاکر اس نے جھٹکے سے مشل کو آزاد کردیا۔
ایسا لگا جیسے اس نے لمس عطا کرکے اس کی تاثیری چھین لی ہو۔اور یہ لفظوں سے زیادہ تکلیف دہ عمل تھا۔
“میری چیزوں سے دوررہنا ورنہ تمہیں دنیا سے دور کردوں گا۔”
انگلی اٹھائے تنبیہہ کرتا وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا۔وہ حق دق سی کھڑی اب بھی بے یقینی کے لمحات میں سمٹی تھی۔


“سر نیہا نامی ایک نیو ماڈل ہے۔وہ ہمارے برانڈ کے لیے کام کرناچاہتی ہیں۔وہ پرسنلی آپ سے بھی ملنا چاہتی ہے۔”
مینجر کی کال پر وہ پرسوچ ہوا۔
“اس سے ڈیٹیل پوچھی ہے کہاں سے آئی ہے۔کس کے ریفرنس سے؟”
سر اس کے پاس “پاس” موجود ہے۔
اور وہ ” ایس ٹی ” ایجنسی سے آئی ہے۔”
“اس ایجنسی کے مینجر سے بات کرو اور ڈیٹیل پوچھو اور پھر اسے سکس فلور پر بھیجنا۔سکس پر کام ٹھیک کرے گی تو ساتویں منزل پر جائے گی۔
فلحال اسے اچھی طرح جانچ لو۔اگر اپنی مرضی سے کام کرنا چاہتی ہے تو ٹھیک ورنہ اپنا اصول تم جانتے ہو۔
ہاں اور نیو ڈیزائن مجھے سینڈ کرو۔میں سلیکٹ کرتا ہوں۔”
زوار علوی کو دیکھتے وہ بات کا رخ بدل گئے ۔کچھ معاملات انہوں نے زوار علوی سے پوری طرح اوجھل رکھے تھے ۔
سیونتھ فلور کا راز ماہ تاب کے علاوہ چند ایک لوگ ہی جانتے تھے۔
“آئی ایم سوری کل میں کافی تلخ رویہ اختیار کرگیا۔”
فون جیب میں رکھتے وہ زوار علوی کی جانب متانت سے بڑھے۔
“اٹس اوکے۔۔کیا ایسے ہی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے؟”
“تم شارف ابدال کو ابھی سمجھ نہیں پائے زوار۔وہ اپنی چیزوں کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑتا۔اور ماہ تاب نے میرے ساتھ دھوکا کیا ہے میرا لاکھوں کا نقصان کروایا ہے۔میں نے اس کی عزت کی ہر لمحہ حفاظت کی کیونکہ ایسے کاموں میں عزت کا سودا عام سی بات ہوتی ہے۔رابطے بڑھانے کے لیے بہت کچھ کیا جاتا ہے۔لیکن اس نے اپنی عزت کی حفاظت کے لیے میری ساکھ کو برباد کردیا میری عزت کو دوٹکے کا کردیا۔
سوشل میڈیا پر اس کی تصویریں دیکھ کر اس کی شادی کا سن کر کئی لوگ مجھ سے سوال کرچکے ہیں۔کہ وہ تو آپ کی بہو تھی نکاح پر نکاح کیسے کرسکتی ہے ایسے کئی سوالات سے میرا انباکس بھرا ہوا ہے۔اور میری ہمت دیکھو کہ میں سب چیزوں کو نظرانداز کرکے خاموشی سے اسے واپس لانا چاہتا ہوں۔تاکہ تمہاری عزت پر حرف نہ آئے۔”
زوار علوی نے ندامت سے سرجھکایا۔
مجھے ماہ سے ایسی امید نہیں تھی۔کاؤچ پر دراز وہ ہاتھ جکڑے شکست خوردہ تھے۔
“وہ بے شک تمہاری بیٹی ہے لیکن وہ اب میری بزنس پارٹنر تھی۔اور اس نے مجھے دھوکا دے کر میرے کام سے غداری کی ہے میں نے اسے ہر سہولت دی اس کے ساتھ مخلصی سے چلتا رہا لیکن شاید اسے عزت راس نہیں تھی۔
اب میں اسے بتاؤں گا کہ غداری کرنا کیا ہوتا ہے۔؟معیز آج ویڈیو اپلوڈ کرنے والا ہے۔”
میسج نوٹیفکیشن نے ان کی توجہ کھینچی تو وہ موبائل کی سکرین گھورنے لگے جہاں شام علوی کا میسج موجود تھا۔
“مسٹر شارف ابدال آپ کا بیٹا عرف ماہ تاب کا نام نہاد شوہر تو مجھے مبارکباد پیش کررہا ہے اور آپ مجھ پر کیس کرنا چاہتے تھے۔زرا اپنے بیٹے سے پوچھیں کہ وہ کیا چاہتا ہے؟” ویسے اس کی دعائیں میرے بہت کام آنے والی ہیں۔”
تھینکیو سومچ”
شارف ابدال کو انہونی کا احساس شدت سے ہوا۔
انسٹا پر موجود معیز کی ویڈیو اوپن کرتے دل کی دھڑکن ہلکی سی معدوم ہوئی۔
پانچ منٹ کی ویڈیو میں اس نے نکاح کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔بلکہ مختلف دعائیہ کلمات سے نوازکر وہ انہیں نکاح کی مبارکباد دے رہا تھا۔
زی۔۔۔ ” اس کو نام لے کر انہوں نے دانت پیسے
جبکہ زوار علوی حیرت سے اس کا چہرہ دیکھنے لگے جہاں پھیلا اضطراب اور سپاٹ پن انہیں دہلا گیا تھا۔


معیز!!” تمہیں میں نے کیا کہا تھا اور یہ تم نے کیا اپلوڈ کیا ہے؟”
وہ فون پر دھاڑے جبکہ ان کا دل چاہا رہا تھا وہ معیز رؤف کو جان سے ماردے۔
شارف آپ نے ویڈیو ریکارڈ اپلوڈ کرنے کا کہا تھا۔اور ویسے بھی ماہ تاب علوی اب محفوظ ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے تو میں اسے دعا ہی دے سکتا ہوں۔
معیز کی اطمینان بھری آواز پر وہ ٹھٹکے تھے۔
پیشانی پر دو انگلیاں پھیرتے انہوں نے معیز کا بدلا انداز نہایت گہرائی سے جانچا۔
معیز کیا ایک کمزوری جانے سے تم اپنی باقی کمزوری کو بھول چکے ہو؟”
اپنے ازلی اطمینان کو بحال کرتے وہ کاؤچ پر پھیلے۔
نہیں بھولا نہیں ہوں لیکن کسی کی بہادری نے مجھ جیسے بزدل انسان کو بھی عقل فراہم کردی۔
اوہ تو یہ ماہ تاب علوی کی بدولت ہوا ہے لیکن کیا تم جانتے ہو تمہاری مام کے گرد ہر وقت چار چار آدمی گھومتے ہیں۔
جن کی سرخ آنکھیں سیاہ بھاری ہاتھ ہر وقت اس ڈھلتی خوبصورتی کو چھونے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔
انگوٹھا اور انگلی مسل کر انہوں نے معیز کی کمزور نبض کو پوری طرح مسلا۔
معیز کا چہرہ سفید ہوا۔لیکن آج اسے ہارنا نہیں تھا۔
“ماہ تاب کی عزت کا کئی بار آپ سودا کرتے رہے لیکن اسے یقین تھا کہ وہ رب اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے وہ آپ سے ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی ہمت ہارتی تھی پھر اٹھ جاتی تھی۔سمجھ لیجیے میری مام کی حفاظت بھی میرا رب کرنے والا ہے۔”
“میرے ایک حکم پر تمہیں تمہاری ماں کا عکس بھی نہیں ملے گا۔پھر اکڑ کس بات کی ہے؟”
اور میں میڈیا میں احد کو آپ کا ناجائز بیٹا اناؤنس کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا۔”
“جانتے ہیں آپ کی بچھائی گئی بساط کیسے پل میں الٹ دی جائے گی۔آپ کے نام نہاد کارناموں کو میں نے ان چھ سالوں میں پوری طرح جذب کیا ہے۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میں آپ کا کمزور پہلو نہیں جانتا؟
میں ماہ تاب کی حفاظت کے لیے اب تک خاموش تھا۔وہ محفوظ ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے جہاں آپ کا سایہ بھی نہیں پڑ سکتا۔اور ہاں چھ سال پہلے زوار انکل نے اپنی کم عقلی سے پیپرز دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیے تھے۔
آپ جاننا چاہتے تھے ناں کہ ماہ تاب کا نکاح ہوا ہے یا نہیں اور محض اسی وجہ سے زوار انکل نے ماہ تاب کی حدود مقرر کی تھیں۔
آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا نکاح نہیں ہوا تھا جیسے آپ زوار انکل کو میرے پاپا کو میری ماں کو دھوکا دیتے رہے اسی طرح میں آپ کو دھوکا دیتا رہا ہوں۔
ماہ تاب کا ایک قدم مجھے گہری ہمت فراہم کرگیا ہے۔شارف ابدال اللہ نے آپ کی رسی دراز کی تھی۔اب اس رسی کا شکنجہ آپ کے گرد کسنے لگا ہے تو آپ بلبلارہے ہیں۔عنقریب آپ اسی رسی سے موت کے گہرے عذاب میں جانے والے ہیں۔”
فون کال کٹ چکی تھی۔
شارف ابدال کا چہرہ اب بھی پرسکون تھا۔نفیس سے پینٹ کوٹ میں وہ سرمئی کانچ سی آنکھیں ایک نکتے پر رک کرساکت تھے۔ذہن میں مختلف سوچیں حائل ہونے لگی تھیں۔
یقیناً ان کا سفاکیت بھرا دماغ کچھ کرگزرنے میں غرق ہوا تھا۔
یہ اچھا نہیں کیا بلکہ بالکل بھی اچھا نہیں کیا۔ زی اب انجام بھگتنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔”
ان کے لہجے میں حائل سرد پن سادہ لفظوں میں چھپی برچھیاں یقیناً معیز رؤف کی ذات کو چھلنی کردینے والی تھی یا پھر قدرت کا کوئی اہم فیصلہ معیز رؤف کی تقدیر پر حاوی ہونے والا تھا۔


“میرا رات میں ایک شوٹ ہے فلحال میں سونا چاہتا ہوں پلیز مجھے ڈسٹرب مت کیجیے گا۔”
ماہ تاب نے حیرت سے اس کا چہرہ جانچا۔جہاں کوئی تاثر نہیں تھا۔
وہ سدرہ چچی کے ساتھ لاؤنج باتوں میں مشغول تھی۔ جب وہ تھکا ہارا سا لوٹا تھا۔
ہاں سوجاؤ۔۔”اطمینان سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ خوشگواری سے گویا ہوئی۔
سدرہ چچی اس کی عادات سے واقف تھیں۔لیکن ماہ تاب کا اس کا دن میں سونا کچھ تعجب آمیز تھا۔
چچی شام کی طبعیت تو نہیں خراب؟”
وہ بےقرار ہوئی۔
“نہیں وہ ٹھیک ہے دراصل رات کو وہ کم ہی سوپاتا ہے۔شاید نیندوں نے اس سے ناطہ توڑ لیا ہے۔اکثر بے سکون ہوکر وہ ٹیرس میں ٹہل کر وقت گزارتا تمہیں سوچتا تھا۔”
ماہ کی پلکیں لرز گئیں۔
چچی ۔۔۔میں۔۔”
“پریشان مت ہو۔کچھ دیر بعد کمرے میں چلی جانا۔اسے اپنے ہونے کا احساس دلواؤ اس کے لیے خود کو سنوارو۔اس کا دل بہت نرم ہے جلد تمہاری طرف پلٹ آئے گا۔”
مان سے اس کا گال تھامتی وہ پیشانی چومتے اس کی ساری فکر رفع دفع کرگئیں۔
“آؤ تمہیں کچھ کھلادوں ورنہ نواب میری جان کو آئے گا ماہ تاب کو کچھ کھلایا نہیں۔اسے میڈیسن نہیں دی۔”
ماہ تاب جھینپتی نگاہ جھکا گئی تھی۔


سفید کمفرٹ میں ہی وہ دبکاگہری نیند میں تھا۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوئی۔
ایک صرف وہ تھی جو مجسم سیاہ رنگ تھی۔بقیہ ہر چیز تو سفید بے رونق سی تھی۔
ماہ نے آج خاص نگاہ کمرے میں دوڑائے دھیمی سفید روشنی میں وہ سفید رنگ کمرہ مکمل سفیدی سے اٹا تھا۔مشل کو علوی ہاؤس یاد آیا جو سفید رنگ کا تھا۔
بھاری بوجھل آنکھیں تھکاوٹ کی وجہ سے آج کھلنا گویا ناممکنات میں سی تھی۔تبھی وہ اس کی آہٹ کو محسوس نہیں کرپایا۔
وہ مدھم قدم لیتی اس کی جانب بڑھی۔
“ایک بار حقیقت سن لیں گے تو سب فاصلے سب کدورتیں سب تفکرات سمٹ جائیں گے۔”
بیڈ پر اس کے قریب دراز ہوئے من پسند چہرہ دیکھ کر اس نے دل کو ٹھنڈک پہنچائی۔
اس کے چہرے پر تھکاوٹ کا گہرا تاثر دیکھتی وہ چوڑی پیشانی کو انگلیوں سے ہولے سے دبانے لگی۔
تھکن زدہ اعصاب گویا نرمی میں ڈھلنے لگے ۔قربت کے حسین لمحات میں یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اس کا چہرہ نرمی میں ڈھلا جاناں کی ہجر زدہ سی آنکھؤں کی رونق بھی جیسے بحال ہونے لگی۔
دل کی تڑپ شدت اختیار کرگئی۔
ہلکا ساجھکتی وہ نرم لب پیشانی پر رکھ کر سیدھی ہوئی۔اسے چھولینے کی خواہش آج جیسے پایہ تکمیل پہنچی تھی۔
لمس کی تاثیری تھی یاپھر دھڑکنوں کا شوریدہ شور
بوجھل سی سرخ آنکھیں وا کیے برابر بیٹھی جاناں کو تعجب سے دیکھا۔
مقابل کی نظر جیسے ہی ان لال ڈوروں میں الجھی شرم جھجھک گویا مکمل عود کر آئی۔
“کچھ خواہشیں لاحاصل رہتی ہیں”۔وہ نرمی میں ڈھلا شخص تھا۔ماہ تاب سے سختی کیسے برت سکتا تھا۔
لیکن وہ نرم لہجے میں لفظوں کی سفاکیت کو مکمل طور پر ڈھال دینا چاہتاتھا۔
مم میں خواہش کے حصول کے لیے ایک طویل پرخار راہ کاٹ کر آئی ہوں تو اب خواہش کا حصول ممکن ہے۔
پیشانی پر انگلیاں اب بھی دباؤ ڈالتی حرکت میں تھی۔
“بعض اوقات ہزاروں پرخار راہیں بھی خواہش کے حصول کو ممکن نہیں بناتی”۔
مضبوط ہاتھ اوپر کرکے وہ بنا کسی تاثر کے اس کا ہاتھ اپنی پیشانی سے ہٹاکر رخ موڑ گیا۔
اس کا رخ موڑنا جتاگیاتھا کہ وہ کبھی اسے حاصل نہیں کرسکتی۔نگاہ ہٹی تھی کہ دل تڑپ سا گیا تھا۔
بنا کچھ کہے وہ نرمی سے جھک کر توانا بازو پر گال ٹکاتی بازو بھی حمائل کرچکی تھی۔
شہرام نے اس کا بےباک انداز بمشکل ہضم کیا۔دل میں سلگتے جذبات ایک گرم بھٹی کی مانند سلگے۔
“میں صرف حاصل کرنے کی جستجو میں نہیں ہوں۔میں اب جیت جانے کی جستجو میں ہوں۔اور مجھے لگتا ہے میری جیت ناممکن نہیں ہے۔”
لہجے کی رکاوٹ میں آج کوئی دشواری نہیں تھی۔شہرام کے دل میں گویا مکمل جملہ سن کر نرم ٹھنڈی سی پھوار نے دستک دی۔لیکن یہ دستک وہ فلحال نظرانداز ہی کردینا چاہتا تھا۔
وہ ہنوز بازو پر گال ٹکائے جھکی رہی۔جیسے منتظر ہو کسی خاص لفظ کی کسی خاص چاشنی کی، کسی خاص سے اظہار کی۔
لیکن خواہش ، حق ہا خواہش ہی رہی۔
میسج رنگ پر اس نے جاناں کو نظرانداز کیے موبائل سامنے کیا۔
مقابل کی تمام حسیات بھی جیسے جاگی۔
غیردانستہ طور پر نظر موبائل کی چوڑی سکرین پر گئی ۔دیبا نام سکرین پر چمچمایا۔
جاناں تھوڑا سا ٹھٹک کر سیدھی ہوئی۔
ون کافی ود دیبا”
سکرین پر بڑا سا میسج اور ایک سمائلی ایموجی موجود تھا۔
شہرام کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے جبکہ وہ سن سی میسج دیکھتی رہ گئی۔
شہرام نے آنکھ ترچھی کیے اسے دیکھا۔
اور ڈن لکھ کر ایک دل کے ساتھ سینڈ کیا۔
میسج کے سینڈ ہوتے ہی وہ یکدم اٹھی۔امید نہیں تھی کہ وہ ڈن کردیتا لیکن اس نے کیا تھا۔
اس کے اٹھتے ہی وہ سیدھا ہوا۔اور بازو سے جکڑ کر دوبارہ قریب بٹھایا۔
وہ تڑپ کر قریب گری تھی۔
سنہری بال بے ساختہ اس کے چہرے پر فرحت بخش تاثر پھیلا گئے۔
قدرے سنبھل کر وہ سیدھی ہوئی۔لب جیسے سل سے گئے تھے۔
“دیبا کافی اچھی لڑکی ہے ایون کافی بھی بہت اچھی بنالیتی ہے۔”
چت لیٹے اسے کہنی سے تھام کر نمک پاشی کا کام اچھے سے انجام دئیے وہ لب دبائے بولا تھا۔
“میں نے وضاحت نہیں مانگی۔شاید آپ کو دیر ہوجائے کافی کے لیے۔مس دیبا بھی ویٹ کررہی ہونگی”۔
قدرے چبا کر بولتی وہ جیسے دیبا کو دانتوں کے نیچے پیس دینا چاہتی تھی۔
شہرام کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔لیکن گھنی مونچھوں نے یہ راز بھی عیاں نہیں ہونے دیا۔
کیا کچھ جل رہا ہے۔”
ہلکاساسیدھا ہوئے وہ کان میں سرگوشیانہ بولا۔لہجے کی فسوں خیزی نے سلگتے کوئلوں سا کا کام کیا ۔
“دل جل رہا ہے۔اور شدت سے جل رہا ہے”۔
ناک سکوڑتی وہ گھورتی آنکھوں سے بولی۔
“چھ سال کی جلن کے آگے یہ ایک لمحے کی جلن تو کچھ بھی نہیں ہے۔”
ماہ نے اسے گھورا تھا۔
جلو اور جلتی رہو۔، وقت کبھی نہ کبھی ٹھنڈی پھوار ضرور برسائے گا”۔
وہ ساحر تھا سحر پھونکناجانتا تھا۔اب بھی جلا کر سحر پھونک رہا تھا یعنی جلن کے ساتھ مرہم بھی ساتھ فراہم کیا جارہا تھا۔کہ یہ مرہم کبھی نہ کبھی زخموں کو ٹھنڈک بخش دے گا۔
وہ ہنوز سن سی بیٹھی رہی۔شہرام کہنی کے بل لیٹے اس کے بکھرے سیدھے گیسؤؤں کو دیکھ کر آنکھوں کو تاثیری بخشتا رہا۔چھونے کی جرات وہ قطعی نہیں کرسکتا تھا۔
پشت پر اس کی نظریں محسوس کرتی وہ غیرارادی طور پر سمٹی چہرے پر گلال امڈ آیا ۔
دل کی سپیڈ سو تک بڑھی۔دماغ نے بھاگ جانے کی خواہش کی لیکن وہ ہر آواز کو ان سنا کرتی وہی جمی رہی ۔ وہ ڈٹ جاناچاہتی تھی۔
دل سے ضد باندھ بیٹھی تھی کہ وہ ستم گر مزید فسوں طاری کرے وہ مزید سلگنے کی وجہ دے گا۔ لیکن وہ شخص بھی ماہ تاب کی ہررمز سے واقف تھا۔
ماہ تاب کے بالوں کو کان کے پیچھے سرکائے وہ سیدھا بیٹھا۔
کان پر مضبوط انگلیوں کا لمس بکھر کر سرور طاری کرگیا۔اس کا ہلکاسا چھولینا بھی مقابل کو معطر سا کردیتاتھا۔
اس نے دھیرے سے کان کی لو کو چھوا۔
سماعت گویا کچھ سننے کے لیے بے تاب ہوئی پلکوں نے سیاہ نینوں کو ڈھانپ لیا لیکن خاموشی ہنوز طاری رہی۔
لب پھیلنے کو بے تاب ہوئے لیکن سارے خواب پل بھر میں چکنا چور سے ہوکر آنکھوں کے سامنے بکھر گئے۔
سفید وارڈروب کے سامنے کھڑا وہ شخص اپنے ہینگ شدہ کپڑوں میں سے کوئی شرٹ سلکیٹ کررہا تھا۔
گھنے سے بال جو نئے شوٹ کے لیے بڑھائے گئے تھے۔گردن کو ڈھانپے ہوئے تھے۔
ایک موتی ٹوٹ کر بےمول ہوا۔سسکی بھرتی وہ جھٹکے سے بیڈ سے اٹھی۔
سنو!! “شرٹ سلیکٹ کرجاؤ میں نے سنا ہے ماہ تاب زوار علوی کی چوائس بہت اچھی ہے”۔
لہجہ کسی بھی طنز سے عاری تھا لیکن جاناں سے کوئی پوچھتا اس کا ماہ تاب علوی کہنا اسے کتنا بے سکون کردیتاتھا۔
دیبا سے پوچھ لیں وہ آپ کو اچھے سے بتادے گی۔”
کپکپاتے لبوں پر قابو پاتی وہ درشتگی سے بولی۔
تیر نشانے پر لگا تھا۔شام کا دل چاہا گردن پیچھے گرا کر زور دار قہقہ لگائے لیکن ہائے حسرت ناتمام!!
اوہ !!” تم واقعی ہی سمجھدار ہو چلو میں دیبا سے ہی پوچھ لیتا ہوں۔”
کندھے ہلکا سےاچکا کر وہ بیڈ کی جانب آیا۔
سفید موبائل تھام کر میسج ٹائپ کرتے وہ کن اکھیوں سے ماہ تاب کو بھی دیکھ رہا تھا۔
آہہہ!! غصیلا ساسانس خارج کیے وہ بیڈ کے قریب آئی ایک منٹ میں موبائل کو ہاتھ سے چھین کر دور پھینک کر اسے دیکھا۔
آنکھوں میں بھرپور طیش جبکہ گلابی لب ضبط سے سکڑے تھے۔شہرام کندھے اچکاکر سوالیہ انداز,سے دیکھا۔
کہ کیاہوا؟ یہ کیا حرکت ہے؟”
وارڈروب سے گرے ڈاٹس والی شرٹ بیڈ پر پھینکی
سیاہ ہڈی جو دوسری وارڈروب کی جانب تھی وہ بھی نکال کر بیڈ پر پھینکی۔
مقابل ہونٹوں پر دونوں شہادت کی انگلیاں جمائےچمکتی آنکھوں سے یہ سارا منظر ملاحظہ کررہا تھا۔
مکمل گھریلو سی وہ شہرام علوی کے دل کے تار بڑی شدت سے چھیڑ چکی تھی۔
براؤن بالوں میں انگلیاں گھماتا وہ گہرا سامسکرایا۔
“شوز، ساکس بھی بیڈ پر رکھ دو میں فریش ہوکر آتا ہوں کہیں دیر نہ ہوجائے۔ دیبا شدت سے ویٹ کررہی ہوگی”۔
وہ مزید چڑاتا واش روم کی جانب بڑھا۔
لیکن کمر پر نرم سی چیز کو محسوس کرتا وہ یکلخت مڑا تھا۔وہ ساکس کا جوڑا تھا۔جو جاناں نے فائر کی طرح مقابل کو مارا تھا۔
وہ پل پل اس کے ضبط کو آزماتی حددرجہ پیاری لگ رہی تھی۔
ساکس بیڈ پر رکھنے کا کہاتھا۔
“نن نہیں رکھوں گی۔۔۔کک کبھی نہیں رکھوں گی۔”
منہ بسور کر آنسو رگڑتی وہ دبا دبا سا چیخی تھی۔
“عجیب مخلوق ہو،، مرضی ہے میں کیا کہہ سکتا ہوں
“افف دیبا ویٹ کررہی ہوگی۔”
بالوں میں انگلیاں گھماتا وہ آخری کاری وار کیے واش,روم میں بند ہوا۔
جبکہ وہ منہ بسورے کاؤچ پر ٹکی تھی۔