Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
“مون ایکٹ اکیڈمی کہاں ہے؟جہاں ایکٹنگ سکھائی جاتی ہے؟”
سیاہی میں لپٹے شخص نے قدرے مدھم سی آوازسے مقابل اونچے لمبے شخص سے استفسار کیا،۔
مقابل شخص نے سانولے سے لڑکے کو غور سے دیکھا،۔
ایکٹنگ سیکھنا چاہتے ہو؟” اور کس نے بھیجا ہے تمہیں ؟” سیگریٹ سلگاتے شخص نے راز داری سے اس سے استفسار کیا،۔
مجھے زاہد بٹ نے بھیجا ہے،۔
زاہد بٹ؟؟” مقابل شخص ابرو کھجاتا بڑبڑایا،۔
وہ مشہور ڈائریکٹر؟”
مقابل لڑکے نے اثبات میں سرہلایا تھا۔
“چلو آؤ میرے ساتھ،۔راستے میں مجھے باقی تفصیل بھی بتاتے رہنا “،۔
وہ شخص اس کے ساتھ چلنے لگاتھا،۔
“نام کیا ہے تمہارا اور تم زاہد بٹ کے پاس کیسے پہنچ گئے وہ تو آسانی سے کسی کے ہاتھ نہیں آتا”
سوالیہ انداز سے اس نے ساتھ چلتے شخص سے استفسار کیا،۔
“میرا نام عزیر ہے، اور ان سے ملاقات ایک سیٹ پر ہوئی تھی،۔میں ایکٹنگ دیکھنے گیا تو وہ شوٹ مکمل کرکے اپنے گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے،۔میں نے ہی انہیں روکا تھا،۔کافی نیک آدمی ہیں۔، اللہ انہیں خوش رکھے، انہوں نے کہا کہ میں ایکٹنگ کی بیسکس سیکھ لوں تو میرا کام بن جائے گا، کسی ڈرامے میں مجھے چھوٹا موٹا رول دلوادیں گے.، صاحب مجھے ایکٹنگ کا بہت شوق ہے، آپ پلیز ان سے ایک بار میری سفارش کردینا”،۔
“ہاں ہاں کیوں نہیں ، مگر تمہاری یہ شکل کچھ ،، خیر کوئی بات نہیں تمہیں کسی موالی کا رول دلوادوں گا”،۔
“صاحب میں جانتا ہوں میں پیارا نہیں ہوں مگر پھر بھی مجھے بہت شوق ہے، بس ایک چانس دلوادو”،۔
مقابل لڑکا اپنی پہچان جانتا تھا تبھی صاف گوئی سے بولا۔
اچھا اچھا چپ کر،یہ بتا آئی ڈی کارڈ بنا ہوا ہے تیرا؟”
مقابل نےنفی میں سرہلایا تو وہ شخص بھی مسکرایا تھا،۔
“کیوں نہیں بنوایا؟” ایکٹنگ سیکھنے تو یہاں آرہا ہے اور آئی ڈی کارڈ ہی نہیں بنوایا؟”
“صاحب پیسے نہیں تھے تو بنوایا نہیں، لیکن آپ کہو گے تو بنوالوں گا”،۔
تیرے سے چارپانچ سوکا آئی ڈی کارڈ نہیں بن سکا تو باقی تو کیا کرے گا،۔
گدی پر ایک تھپڑ مارے وہ مضحکہ پن سے مسکرایا۔
خیر یہ بتا جیب میں اس وقت کتنے نوٹ ہیں؟”
گلی کا موڑ مڑ کر اس نے ایک اور سوال کیا،
“صاحب انہوں نے کہا تھا بیس ہزار کا انتظام کرنا ہوگا،۔
پر میں دس ہزار ہی لا پایا ہوں۔”
دلگیر سا اس نے بوسیدہ سی جیکٹ سے آنسو پونچھے،۔
“ابے روتا کیوں ہے،دس ہزار بھی بہت زیادہ ہیں، بس تو نے چپ چاپ آفس میں بیٹھے شخص کو پکڑانے ہیں،۔
بولنا کچھ نہیں ہے،”
ٹھیک ہے صاحب میں کچھ نہیں بولوں گا پر مجھے چانس کب ملے گا؟،”
“پہلے ایکٹنگ تو سیکھ لے ، پھر چانس بھی مل جائے گا،۔وہ شخص پھر سے گدی پر تھپڑ مارتا مسکرایا تھا۔
صاحب بس پیسے ادھار لیے ہیں تو ڈر بھی لگتا ہے کہیں یہ بھی ضائع نہ چلیں جائیں۔”
کس سے ادھار لیا ہے پیسہ؟”
“صاحب ابا سے لیا تھا بہت مشکل سے دئیے میں نے کہا ایک مہینے بعد واپس کردوں گا ، ابا جی بھی بھلے مانس ہیں فوراً دے دئیے اب دگنا کرکے انہیں واپس کروں گا”،۔
“بالکل تیرے باپ کا حق ہے کہ دگنا کرکے ہی واپس ملے،
دگنا ہی ملے گا لڑکے اگر کام من پسند ہوا۔”
مون ایکٹ اکیڈمی کابورڈ دیکھ کر وہ شخص رکا تھا۔جبکہ عزیر بھی رک سا گیا،۔
اردگرد دیکھ کر وہ آگے بڑھا، بڑے سے گیٹ کے دو دروازے تھے۔
چھوٹا دروازہ دھکیل کر وہ دونوں اندر آئے،۔
اندر ایک سنسان سی راہداری تھی،۔عزیر نے اردگرد گہری سی نگاہ ڈالی اور اس شخص کی پیروی میں آگے بڑھا،
“صاحب یہ تو کوئی بڑی سنسان جگہ ہے،۔
یہ اکیڈمی ہی ہے ناں صاحب؟” عزیر کی آواز دیواروں سے ٹکراتی انتشار کا باعث بنی تھی۔
“اوئے لڑکے چپ کر، یہاں بہت خاموشی اور نظم و ضبط سے کام سیکھایا جاتا ہے،اور تو اور ایکٹنگ کی ڈگری بھی دی جاتی ہے، اگر تو ایک مہینہ میں ایکٹنگ سیکھ گیا تو یہیں سے تجھے پیسہ بھی ملے گا، بلکہ دس ہزار سے زیادہ ہی ملے گا،”
مقابل شخص مدھم سا بولا تو عزیر نے حیرت سے اسے دیکھا،۔
“ارے حیران مت ہو، یہاں کا جو ہیڈ ہے وہ بہت دریا دل ہے۔آج کے جدید دور میں کام بہت مشکل سے ملتا ہے،۔ وہ ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ موبائل کے ڈرامہ پر کام کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔وہاں تجھے چانس آسانی سے مل جائے گا”۔
“صاحب؟ یہ کیسا ڈرامہ ہوتا ہے۔ میں سمجھا نہیں۔
ابے سمجھ جائے گا، صبر تو رکھ آجا اندر،”
وہ اسے لیے اندر کی جانب بڑھا تو تبریز بھی سانس بحال کیے آگے بڑھنے لگا۔
راہداری کے ختم ہوتے ہی ایک لائن میں تین کمرے اسے نظر آئے ،
یہ دو منزلہ اکیڈمی تھی، زینے عقبی رخ پر تھے،۔
وہ شخص دروازہ ناک کرتا اندر بڑھ گیا، عزیر کو اس نے رکنے کا اشارہ دیا تھا،۔
میکانکی انداز میں اس کی گردن بائیں جانب مڑی، وہ ایک ایک حصے کو اپنی نگاہ میں ازبر کرنے لگا،۔
چند منٹوں بعد ہی اسے اندر بلایا گیا، وہ سرجھٹکتا اندر کی جانب بڑھا،۔
ٹیبل کے اس پار سربراہی کرسی پر ایک کریہہ صورت والا شخص براجمان تھا۔
اس کی لال آنکھیں دیکھ عزیر کو جھرجھری لے کر رہ گیا،۔
اس شخص نے بنا کچھ کہے ہاتھ آگے بڑھایا تو عزیر نے اپنے ساتھ آئے شخص کو دیکھا جس نے آنکھ کے اشارے سے اسے پیسے دینے کو کہا،
بوسیدہ سی جیکٹ کی جیب سے دس ہزار روپے اس شخص کی جانب بڑھائے۔
چئیر پر بیٹھے شخص نے بدلے میں ایک رسید اس کی جانب بڑھائی،
“کل سے رات آٹھ بجے تم آجایا کرنا”،
وہ سرخ آنکھوں والا شخص اس پورے عمل کے دوران بھاری سی آواز میں بولا ،
صاحب !! “کک کام ملے گا ناں،۔”
وہ ناچاہتے ہوئے بھی بول اٹھا تھا،۔مقابل شخص نے انگارہ آنکھیں اس پر ٹکائی، جبکہ ساتھ کھڑے شخص نے بازو سے عزیر کو جکڑا تھا،۔
عزیر نے ڈرتے ڈرتے مقابل شخص کو دیکھا اور سوالیہ ابرو اچکائی،۔
“چلو یہاں سے کل رات آٹھ بجے آجانا کلاس کا وقت آٹھ بجے سے نوبجے تک ہوتا ہے”،۔
وہی شخص اسے بازو جکڑے وہاں سے لے کر نکلتا چلاگیاتھا،۔
❤❤❤❤❤❤
مری کی سڑکوں پر دوڑتی شارف ابدال کی گاڑی فل سپیڈ میں تھی۔
احد کو وہ راستے میں ہی معیز کے حوالے کرچکا تھا،۔ماہ تاب نے ایک بار بھی معیز کی جانب نہیں دیکھا،
ماہ تاب!! مسٹر چارلی کے ساتھ اچھے سے بات چیت کرنا، اوپس بات چیت کہہ رہاہوں ،
ؤہ پیشانی مسلتے رکے،
“میرا مطلب ہے اپنے چہرے کے زاویے ٹھیک رکھنا،
اور کوشش کرنا انہیں اپنی جیکٹس اور کوٹ کے یونیک پیس ہی دکھانا”۔
وہ ان کا مطلب اچھے سے سمجھ چکی تھی،
سپاٹ چہرہ لیے وہ باہر ہی دیکھتی رہی،
گاڑی ایک لگژری ہوٹل کے سامنے رکی تو ماہ تاب بھی ہینڈ بیگ اٹھاکر سیدھی ہوئی۔
یہ تین منزلہ اعلیٰ قسم کا ہوٹل تھا۔
“کم آن ماہ تاب موڈ ٹھیک کرو، میں اگر نرمی برت ہی لیتا ہوں تو کم ازکم مجھے اچھا رسپانس دیا کرو”،
ان کا انداز ایسا تھا جیسے وہ کوئی دل پسند کپل ہوں۔
وہ بنا کچھ بولے باہر نکل آئی،
شارف نے آگے بڑھ کر اسے بازو کے حصار میں لینا چاھا، وہ تڑپ کر فاصلے پر ہوئی،
“ماہ تاب علوی اپنی حیثیت مت بھولو،،آئندہ اگر میرا ہاتھ جھٹکا تو میں ہاتھ توڑنے میں وقت نہیں لگاؤں گا”
شارف نے کرسٹل آنکھیں بڑی کیے اسے گھوری سے نوازا۔
جبکہ وہ آنکھیں جھپکتی آنسو اندر اتارتی آگے بڑھی،
ریسپشن سے چابی لیے دونوں نے اوپر کی جانب قدم بڑھائے۔
تم نے اپنی میڈیسن رکھی تھی؟”
شارف علوی کو اس کا خیال آہی گیاتھا۔
اس نے نفی میں سر ہلایا،۔
“میں ڈرائیور سے کہتا ہوں وہ لادے گا، اوراگر ناغہ کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”،۔
ماہ تاب نے سر اثبات میں ہلایا تو
شارف صاحب ہنکارہ بھرتے اپنے کمرے کی جانب بـڑھ گئے۔
وہ بھی تھکے قدم لیے اپنے کمرے کی جانب آئی،۔
آنسوؤں نے آج پھر ان گالوں کا راستہ دیکھ لیا تھا۔
❤❤❤❤❤
“بریلینٹ شام!! کیا کمال پوز دئیے تم نے؟” آئی سویئر کسی جلاد کے چہرے پر بھی اتنا سپاٹ پن نہیں ہوتا جتنا تم لے آتے ہو، مسٹر کیا ایکسپریشن ہوتے ہیں۔ ، کیا سٹائل تھا۔قسم سے تم کسی ڈرامہ یا فلم میں کام کرو تو ہر پروڈکشن کمپنی ،ہر ڈائریکٹر تمہیں اپنی فلم میں کاسٹ کرنا چاہے گا۔اور میں تو کہتی ہوں تم خود کو انٹرنیشنل لیول پر لاؤ ،۔اففف اففف شام میں ہر بار تمہاری فین ہوجاتی ہوں”۔
دیبا کی پرجوش سی آواز پر وہ سمٹا سامسکرایا،۔
حال ہی میں لانچ ہوئے نیو برانڈ ، جو چند مہینوں میں ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا تھا۔دیبا کے ساتھ کانٹریکٹ سائن کرچکا تھا۔
اسی شوٹ کے سلسلے میں وہ آج کافی مصروف رہا تھا۔
اور اب وہ سیدھا دیبا کے پاس آیاتھا۔
ویسے شام تم شلوار قمیض میں کافی خوبصورت لگتے ہو،
“اٹس ٹو مچ دیبا!! بس کریں،” وہ کاؤچ پر لیٹنے سے کے انداز میں بیٹھا ،۔
“آئی سوئیر شام!! میری گرتی ساکھ کو جیسے تم نے بحال کیا تھا ناں.۔ میں ساری عمر بھی تمہارا قرض نہیں چکا سکتی،۔اب دیکھو ناجانے کتنے ماڈلز ، ایکٹرس کو میں انٹروڈیوس کروایا ، لیکن جو کام تم نے کیا وہ کوئی بھی نہیں کرپایا،۔اور نہ تم مجھے چھوڑ کر آگے بڑھے،”
“دیباپلیز ایموشنل مت ہوا کریں۔میں اپنے کام کے ساتھ مخلص رہنا چاہتا ہوں”۔
کاٹ میں لیٹے معاذ کو دیکھ کر وہ اسی کی جانب آیا،۔
ویسے یہ مستحسن صاحب کہاں ہیں کافی دن سے نظر نہیں آئے،۔
“وہی جہاں ہوتے ہیں، “دیبا آنکھ رگڑتی مسکرائی،۔
ایز یوزیل اپنے روم میں، ناجانے ان کے ذہن میں اتنے یونیک آئیڈیاز آتے کہاں سے ہیں؟”۔
ہمیشہ کی طرح دیبا شروع ہوچکی تھی،۔
“جیسے آپ کے دماغ میں آتے ہیں ، کہ کس ڈیزائنر کو اپروچ کرنا ہے کس نے آپ کو اپروچ کرنا ہے۔کس فوٹوگرافر سے رابطے بحال کرنے ہیں کس انسان کو گلیمرس کی دنیا میں انٹروڈیوس کروانا ہے۔”وہ تفصیلاً بولتا معاذ کو اٹھا چکا تھا۔
اس بچے سےاسے خصوصی لگاؤ تھا۔
شام شادی کرلو،۔۔”
معاذ میں اس کی دلچسپی دیکھتی وہ آج بھی خود کو کہنے سے روک نہیں پائی تھیں۔
وہ یکلخت تھم سا گیا،۔اور ایک اچٹتی نگاہ دیبا پر ڈالی ، جو کہنیاں ٹیبل پر ٹکائے آگے ہوکر بیٹھی تھیں۔
“دیبا لیودس ٹاپک!! میں یہاں فریش ہونے آیا ہوں”۔
وہ سپاٹ سا جبڑے بھینچے بولا۔
“کیا اسے ڈھونڈنا نہیں چاہتے؟” وہ اب بھی خاموش نہیں ہوئی تھیں۔
“شام چھ سال ہوچکے ہیں۔، چھ سال کم عرصہ نہیں ہوتا نہ تم آگے بڑھنا چاہتے ہو نہ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہو،تنہا یہ سفر نہیں کٹے گا”۔
دیبا!!” آپ جانتے بوجھتے میرے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہیں، کیا آپ نہیں جانتی کہ میں نے کتنا سفر کیاہے”۔
خلافِ توقع وہ آج پھٹ پڑا تھا،۔
“میں اسی لیے تو کہتی ہوں کہ کسی اچھی لڑکی سے شادی کرلو، کب تک اکیلے رہو گے، ماشاءاللہ انتیس کے ہوچکے ہو،۔
ایک بڑی بہن ہونے کی حیثیت سے میں تمہارا گھر بسا ہوا ہی دیکھنا چاہوں گی، تمہارے بچوں کی پھپھو بننا چاہتی ہوں۔میری سادگی دیکھو میں کیا چاہتی ہوں۔”
آخری الفاظ پر پرمزاح تاثر دئیے وہ ماحول کی سرد مہری کو کم کرنا چاہتی تھیں۔
“یہ حسرت آپ کی شاید حسرت ہی رہے”،۔
“نہیں شام!! تم ماڈل نہیں بننا چاہتے تھے۔لیکن آج تم ایک ٹاپ ماڈل ہو، یہ بھی تو قسمت کا فیصلہ ہے،اور شادی انسان کو بہت سی لایعنی سوچوں برائیوں سے بچالیتی ہے”،۔
“دیبا کیا اسے میری یاد نہیں آتی”،۔زبان سے شکوہ پھسل ہی گیا تھا۔
وہ معاذ کو واپس کاٹ میں لٹا کر سیدھا ہوا۔ایک لمبی سانس کھینچتا وہ اندر کی تلخی کو کم کرنا چاہ رہا تھا۔
دیبا کو یکلخت اس پر ترس آیا، اس کی پُرسوز سی آواز نے ناچاہتے بھی دیبا کی آنکھ نم کی تھی،۔”ایک بار تو پکارتی ایک بار تو مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کرتی، لیکن شاید وہ بے حس بن گئی تھی یا پھر اس کی محبت اسی کی طرح فریب تھی،۔ دیبا کیا کسی کے لیے اتنا آسان ہوتا ہے چھوڑ جانا، کیا اس کا دل نہیں تڑپا تھا؟ْمیں بڑھنا چاہتا تھا اس کی جانب لیکن وہ ان تین دنوں میں بھی میرے پاس نہیں آئی،وہ تین دن میں پل پل اذیت میں تڑپتا رہا،۔میری امید دم توڑ رہی تھی۔ کم ازکم وہ یہی بھرم رکھ لیتی کہ ہمارا برسوں کا ساتھ تھا۔ایک اٹوٹ بندھن تھا جو کبھی نہیں ٹوٹ سکتا،۔لیکن ٹوٹ گیا تھا ، سب ختم ہوگیا،۔امید ہی ختم ہوگئی۔۔اب کبھی وہ ان راہوں میں مل بھی گئی تو میں منہ موڑ کر نکل جاؤں گا۔میں جان کر بھی انجان بن جاؤں گا”۔
وہ اپنے اندر پکتی کٹھنائیوں کوآج پل بھر میں اگل گیا تھا۔
دیبا چئیر پیچھے گھسیٹے اٹھ کھڑی ہوئی۔
شام!!” آئی ایم رئیلی سوری،، میں جانتے بوجھتے تمہارے زخم کرید دیتی ہوں۔لیکن میں تمہیں اکیلا بھی نہیں دیکھ سکتی، ایک بار پھر اس کی تلاش میں نکل جاؤ کیاپتہ وہ منتظر ہو؟”
“نہیں دیبا، میں نے اس رات عہد کیا تھا جب میں ویران سڑکوں پر رویا تھا، میں نے عہد کیا تھا کہ میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھوں گا”۔
وہ زرا توقف سے بولا
وہ تمہارا ماضی نہیں ہے شام!! وہ شاید تمہارا مستقبل ہے۔
دیبا پلیز!!” کچھ اور بات کریں”۔
“اوکے کرلیتے ہیں پر پہلے اپنا یہ پھولا منہ بحال کرو”،۔
اپنی خوش گفتاری کو بحال کرتی وہ شام کی مسکراہٹ بھی بحال کرنا چاہتی تھیں۔
❤❤❤❤❤
کیسے ہو زوار!! دل لگ رہا ہے ناں “
فون کان سے لگائے وہ بیڈ پر ٹیک لگاکر دراز ہوئے۔
شارف میرے یار!! “تم نے تو مجھے شاید جنت میں بھیج دیا ہے، یہ تمہارا “پرفیوم ہاؤس “کیا شاہانہ اور خوبصورت جگہ ہے۔ویسے مجھے حیرت ہوتی ہے تم یہ خوبصورت جگہ چھوڑ کر پاکستان جیسے نچلے ملک میں کیوں آ بسے ہو؟”
ان کی ازلی گفتگو سنتے شارف تمسخرانہ مسکرائے۔
وہ پچھلے دو سال سے فرانس میں مقیم تھے،۔
وقتاً فوقتاً وہ چکر لگاتے رہتے تھے، لیکن شارف انہیں کم ہی یہاں رکنے دیتے۔
شارف نے زوار علوی کو پرفیوم ہاؤس کا مکمل اختیار دے دیا تھا،
شارف ماہ کیسی ہے؟”
آج ناچاہتے ہوئے بھی انہیں ماہ کا خیال آیاتھا،
ہاں وہ ٹھیک ہے ، مری آنے کی ضد کررہی تھی، ایک میٹنگ بھی تھی میری تو سوچا اسے بھی ساتھ لے آتا ہوں۔” انہیں تفصیل بتاتے بالکنی کی جانب آئے،۔
تم کتنے اچھے ہو شارف!! ماہ کی اتنی بڑی بڑی غلطیاں کیسے نظرانداز کردی،۔میں ہوتا تو شاید کبھی معاف نہیں کرپاتا،۔
“زوار وہ مجھے عزیر ہے، بیٹیوں جیسی عزیز کہہ لو، اب تو معیز کے حوالے سے وہ میری بہو ہے، تو سزا کیا دوں اسے،”
وہ متانت سے بولتے ہاتھ میں تھامے گلاس میں سے گھونٹ بھرنے لگے،۔
ان کے چہرے پر درج شیطانیت سے ماحول بھی سہما سا تھا۔
ویسے وہ نیو پرفیوم کب مارکیٹ میں لاؤ گے، کافی عرصہ ہوگیا ہے،۔
زوار نے ہی بات کا رخ بدلا تھا۔
نیکست منتھ اسی پر کام کرنے والا ہوں۔بے فکر رہو، اس بار ڈبل پرافٹ چاہتا ہوں اسی لیے پرفیوم کی ڈیزائن میں تھوڑی ردو بدل کروانا چاہ رہا ہوں۔
جیسے تمہیں مناسب لگے، لیکن میں اگلے ماہ واپس آنا چاہتا ہوں۔
یکلخت ان کی پیشانی پر سختی نمایاں ہوئی، لیکن گہرا سانس لے کر انہوں نے چہرے پر ازلی مسکراہٹ بحال کی،۔
ابھی وہاں رہو، نیکسٹ منتھ میں نیو پرفیوم لانچ کرنے والا ہوں۔پھر آجانا، آدھا پرافٹ تمہارے حصے میں ہوگا،۔
جیسے تمہاری مرضی شارف!! بس گھر والوں کی یاد آرہی تھی،۔
ویسے وہ احد کہاں ہے؟” اب کے ان کے لہجے میں ناگواریت سی تھی۔
شارف ابدال کا چہرہ بھی سپاٹ ہوا۔
وہ معیز کے پاس ہے، تم فکر مت کرو وہ بہت کم تمہارے گھر جاتا ہے”،۔
شارف اسے ہر طرح سے مطمئن کرنا جانتے تھے،۔
شارف میں تمہارے احسان کا بدلہ چاہ کر بھی نہیں چکا سکتا،۔ماہ تاب پر بھی مجھے حیرت ہوتی ہے بجائے اپنا گھر سنبھالنے کے
ناجانے کس کی گندی اولادکو وہ پال رہی ہے،
کول ہوجاؤ زوار !! ماہ تاب میں اچھے طریقے سے ہینڈل کرلیتا ہوں۔
اب تو وہ کافی حد تک میٹنگز کے اصول سمجھ چکی ہے،۔
یہ کام تم نے اچھا کیا ہے، نیکسٹ منتھ ہی میں ماہ تاب کی رخصتی کرتا ہوں،۔
بالکل اب یہ نیک کام بھی ہوجانا چاہیے، میں بھی اپنے گھر میں اب خوشیاں دیکھنا چاہتا ہوں۔، شارف کے جواب پر زوار علوی بھی مطمئن ہوئے تھے،۔
بالکنی میں کھڑے وہ کئی ساعت پلینگز میں مگن رہے تھے،۔
❤❤❤❤❤
ول یو میری می مشل!! “
خوبرو سا شخص ایک گھٹنے کے بل مشل علوی کے سامنے خوبصورت سی رنگ لیے دراز تھا۔
مشل نے بے ساختہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھے، ہاتھ بے ساختہ آگے بڑھایا، چہرے پر تاثرات اب بھی بے یقینی تھی،۔
رنگ پہنا کر اسی شخص نے مشل کو گول گھمایا،۔دونوں روبرو ہوئے منظر میں کھوچکے تھے۔
شوٹ مکمل ہوچکا تھا،۔
پرفیکٹ مشل!!
اس کی ساتھی دوست نے بے ساختہ کہا تھا۔
بالکل عریشہ صحیح کہہ رہی ہے۔
“تم اتنے جاندار تاثرات دیتی ہو، ناں کہ کبھی کبھی میں بھی دنگ رہ جاتا ہوں۔”
پچس سالہ” اسد ” مسکراتے ہوئے ماہ تاب کے ہم قدم ہوا تھا۔
وہ دو سال سے ریلیشن میں تھے،۔
اکٹھے پڑھتے رہے تھے اور اکٹھے ہی ویڈیوز بھی بنانے لگے تھے،۔
وہ شارف کے دوست کا بیٹا تھا،۔
دوستی کا ہاتھ بھی اسد نے ہی بڑھایا تھا،۔دیر سے ہی سہی لیکن وہ مشل کی جانب سے دوستی کا ہاتھ تھام چکا تھا۔
ویسے کسی دن میں تمہیں سچ میں پرپوز کرنے والا ہوں۔،۔
وہ گراؤنڈ سے نکلتے اب پتھریلی روش پر چلنے لگے تھے۔
“اور میں اس دن کا شدت سے ویٹ کروں گی”۔
قدرے کھلکھلاتی اس نے انگلیوں کی پوروں سے بالوں کو سمیٹا تھا۔
لہجہ عام سا تھا نہ کوئی کھنک نہ کوئی اشتیاق،،
سفید جینز مہرون ہائی نیک شرٹ پہنے وہ اسد کو متوجہ کرنے کا سارا حسن رکھتی تھی،۔
“ویسے آج تم۔کافی خوبصورت لگ رہی ہو”،۔
یو مین ہاٹ !! مشل بے باکی سے کہتی عریشہ کو دیکھنے لگی ، جو اپنے موبائل میں مگن تھی،۔
اس کا کچھ نہیں ہوسکتا،۔
نفی میں سرہلاتی وہ نقرئی ہنسی ہنستے اسد کو دیکھنے لگی، جو آنکھوں میں خمار لیے سینے پر بازو باندھے ہلکی سی گردن ترچھی کیے مشل کو ہی دیکھ رہا تھا ،۔
مشل نے ابرو اچکا کر سوالیہ انداز اپنایا تو اس نے نفی میں سرہلایا،۔
“تم مجھے ویسے بھی اپنی جانب متوجہ کرلیتے ہوتو پھر یہ کام کیونکر کرتے ہو”،۔
اس کی بازو پر تھپڑ مارتی وہ دوبارہ بازو میں اپنا بازو حائل کیے چلنے لگی ،۔بے ساختہ سر شانے پر ٹکایا، لیکن یہ عمل بھی چند لمحوں میں محیط رہا،بے ساختہ جھرجھری لیتے وہ دور ہٹ گئی،۔دل یکلخت تیزی سے دھڑکا تھا،۔
کیا ہوا مشل آر یو آل رائٹ؟”
اسد نے بھی اس کی بے چینی شدت سے نوٹ کی،
نن نہیں !! میں ٹھیک ہوں ، گھر چلتے ہیں۔
وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی تھی، جبکہ اسد محض اس کی پشت دیکھ کر رہ گیا تھا۔
❤❤❤❤
اگلے دن ٹھیک آٹھ بجے وہ اکیڈمی میں موجود تھا، گارڈ نے اسے ایک کارڈ دیا تھا، جس کی بدولت اب وہ روز یہاں آسانی سے آ جاسکتا تھا۔،
طویل راہداری سے گزر کر وہ اندر آیا ، چھوٹی سی چئیر پر ادھیڑ عمر شخص زینوں کے پاس براجمان تھا،۔
کیا لینا ہے؟” وہی شخص قدرے کرختگی سے بولا تو عزیر کے چہرے پر خوف نمایاں ہوا۔
“وہ مم میں ایکٹنگ سیکھنے کے لیے آیا ہوں، آج میرا پہلا دن ہے،”
جاؤ اوپر، اور تیسرے کمرے میں چلے جانا، وہاں کلاس ہوتی ہے،۔
عزیر سر اثبات میں ہلاتا تیز قدموں سے اوپر کی جانب بڑھا،
نیچے کے پورشن کے برعکس اوپر کا پورشن مکمل روشنیوں سے ایستادہ تھا،
نیچے والے پورشن کو بوسیدہ مکان اور اوپر والے پورشن کو ایک محل نما پورشن کہنے میں کوئی عار نہیں تھی،۔
دیواروں پر ایکٹرز کی کئی تصاویر چسپاں تھیں۔
کچھ تصویریں رومانوی ماحول کی عکاسی کررہی تھیں۔
کوریڈور میں جابجا کمرے تھے۔
وہ تیسرے کمرے کی نشاندہی کرتا آگے آیا،۔
دروازہ دھکیل کروہ اندر داخل ہوا،۔
وہاں چند لڑکے موجود تھے، تعجب سے گردنیں اس لڑکے کی جانب مڑی،۔
عزیر بے ساختہ جھینپا تھا،۔
آجاؤ لڑکے، اتنا وقت نہیں ہوتا، ایکٹنگ ٹیچر جو کے سامنے کھڑا تھا اسے اجازت نامہ دیا،۔
وہ کرسی سنبھالے بیٹھا تھا،۔
جبکہ کئی لڑکے غیر محسوس طریقے سے دور ہوکر بیٹھے تھے۔
کچھ دیر میں وہ ایکٹنگ کے رموز سمجھنے میں مگن ہوا تھا،۔
❤❤❤❤
صبح تک کئی طرز کے ملبوسات اس کے کمرے میں موجود تھے،۔وہ تمام لباس موقع کی مناسبت سے بےحیائی کو اچھا خاصہ ترجیح دے رہے تھے،۔
ماہ تاب کی پلکیں نم سی ہوئی جبکہ فضا میں سانس لینا بھی مشکل لگا،۔
کئی ڈریسز کے تو آستین بھی نہیں تھیں۔
ایک ویلوٹ ڈریس کانپتے ہاتھوں سے سامنے کیا،۔
یہ کپکپاہٹ تو ماہ تاب علوی کی پچھلے چھ سال سے ساتھ تھی،۔
ڈریس اٹھائے وہ واش روم کی جانب بڑھی،۔
فریش ہونے کے بعد جس وقت وہ باہر آئی دروازے پر دستک جاری تھی،۔
آگے بڑھ کر اس نے دروازہ کھولا۔سامنے ہی بیوٹیشن موجود تھی،۔ماہ تاب کو حیرت نے گھیرا، سوالیہ انداز سے اس نے سامنے کھڑی ایک خوبصورت سی لڑکی کو دیکھا،۔
“میم شارف سر نے مجھے بھیجا ہے، “وہ بنا بولے اثبات میں سرہلاتی دروازہ واہ کرچکی تھی،۔
کچھ دیر میں وہ مکمل تیار تھی،۔اپنے خوبصورت ابھرے نقوش دیکھ کر آج اسے کراہیت ہوئی،۔اسے وہ لمحہ یاد آیا جب اس روپ کو دیکھ کر وہ شخص یاد آیا تھا جس کے سامنے جانے کی وہ خواہش کر بیٹھی تھی، جس کا بھگتان وہ چھے سال سے بھگت رہی تھی،۔
آج دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ اس روپ میں اس کا سامنا کبھی بھی شہرام علوی سے نہ ہو،۔مصنوعی پلکیں جھپک کر اس نے بمشکل آنسو ضبط کیے۔گردن کو ابھارنے کے لیے بیوٹییشن نے جوڑے کو تھوڑا سا بلند کیا تھا،۔
گہرا گلہ دیکھتی وہ سسکی،۔
“لل لسن!!! یی یہ جوڑا کھول دیں ، بب بال دونوں اطراف میں کردیں”۔
بوکھلائی سی وہ بولی تو بیوٹیشن نے حیرت کی زیادتی سے آنکھیں پھیلائی۔ہمیشہ کی طرح ماہ تاب علوی نے لب بھینچ لیے،۔
“اوکے آپ بیٹھیں”،۔
اس نے جوڑا کھول کر بالوں کو کرل دے کر دونوں اطراف میں پھیلادیا تھا،۔
کچھ حد تک مطمئن ہوتی وہ کھڑی ہوئی۔
دروازے کے باہر ہی شارف ابدال موجود تھے،۔
ایک تنقیدی گہری سی نگاہ ماہ تاب پر ڈال کر انہوں نے گال سہلایا،۔
ان کا بے باک انداز ماہ تاب کی جان ہلکان کردیتا تھا۔،
“میں ویسے ہی تمہیں اپنی کامیابی کی چابی نہیں سمجھتا،۔تم جیسی خوبصورتی اگر ساری دنیا بھی گھوم کر ڈھونڈی جائے تو نہیں مل سکتی،”۔
اس کلائی تھام کر اپنے غلیظ لمس کا جادو جگارہے تھے۔
“مم۔میٹنگ کے لیے دد دیر ہورہی ہے”،۔
یاہ!! دیر ہی ہوگئی، وہ ذومعنی سا بولتے لبوں کے کونے پھیلائے ماہ تاب کے گال سے لٹ پیچھے کرنے لگے،۔
وہ بے جان مورت بنی ساکت کھڑی رہی،۔
“چلوآجاؤ،!! ورنہ معیز کی امانت میں خیانت ہوجائے گی”۔
اس کو حصار میں لیتے وہ آگے بڑھ رہے تھے، جبکہ تڑپتے دل کی پکار کو نظر انداز کیے ماہ تاب تلخ سا مسکرائی تھی،۔یہ اس کے کرموں کی سزا تھی، جو اسے اب تاعمر بھگتنی تھی،۔
💞💞💞
مری کے مرکز میں بنا یہ شاندار سا تین منزلہ آفس شارف ابدال کی ملکیت تھا،۔
یہاں بیرون ملک سے آئے ڈیزائنرز،ماڈلز اور اپنے کسٹمرز سے پرسنلی ڈیلنگ کرتا تھا،۔
لفٹ سے اوپر آتے شارف مکمل ماہ تاب کو ہدایات دے رہے تھے۔ آفس روم میں داخل ہوتے ماہ تاب نے ساری تلخیوں کو روح میں سمیٹ کر خود کو گہرے خول میں مقید کیا،۔ایک مومبنی وہ
ہائے مسٹر چارلی،!!
شارف ابدال آگے بڑھ کر مسٹر چارلی سے ملے،
جبکہ ماہ تاب پیچھے ہی موجود رہی، وہ پینتس چالیس سال کا شخص تھا جس کے دونوں اطراف دو دو گارڈز موجود تھے،۔
شارف کے اندر آتے ہی اس نے چاروں گارڈز کو باہر جانے کا اشارہ دیا،۔وہاں شارف چارلی اور چارلی کے ساتھ ایک شخص موجود تھا۔
بلیک ویلوٹ لونگ ڈریس میں ملبوس ماہ تاب علوی کھلے بال دونوں اطراف میں بکھرائے گہرے گلے کے ساتھ شعلہ جوالہ بنی آگے آئی۔
بلیک سموکی میک اپ نے نقوش کو مزید ابھار سادیا تھا،۔لبوں پر سجی بلڈ لپسٹک ان دو مردوں کو بار بار اپنی جانب متوجہ کررہی تھی،۔
میٹ ہر شی از مائے پرسنل اسٹٹنٹ!!
شارف نے اس کا تعارف کروایا تو ماہ تاب جھجکتی مزید آگے آئی۔
مسٹر شارف!! ایشین بیوٹی کی سپیشلٹی ہی یہی ہے، یہ ہر ڑوپ میں پیاڑھی لگتی ہیں۔(ایشین خوبصورتی کی یہی تو خاص بات ہے کہ وہ ہرروپ میں پیاری لگتی ہے)۔
“شی از سو گارجیس،،!! اینڈ ایبسلیوٹلی ہاٹ!!
اگر آپ کی اسٹنٹ اتنی خوبصورت ہے تو ناجانے آپ کے جیکٹس کوٹ کے ڈیزائنز کتنے یونیک ہونگے”۔
چارلی نے بے ساختہ ماہ تاب کا ہاتھ جکڑ کر اسے اپنے برابر بٹھایا،۔
بماہ تاب علوی کی سانس رُکی تھی،۔اس نے التجائیہ انداز سے شارف کو دیکھا،۔
شارف دیکھ کر بھی انجان بنے،۔
اپنے بازو پر چارلی کا ہاتھ رینگتا محسوس کیے وہ ججھکتے اٹھ کھڑی ہوئی،۔
شارف کے گرے آنکھوں سے اسے گھورا،۔لیکن وہ بھی سخت تاثرات چہرے پر نمایاں کیے نظرانداز کرگئی۔
شو سم ڈیزائنز مسٹر شارف!! چارلی کافی خوش مزاج شخص تھا،۔تبھی انہوں نے ماہ تاب کا جھجکنے پر کوئی تاثر نہیں دیا،۔
ماہ تاب نے پراجیکٹر آن کیا،۔سکرین پر طرح دار حیسنائیں، ابھرتی ہوئی نئی ماڈلز نیم برہنہ لباس کے اوپر کوٹ پہنے کھڑی تھیں،۔ان کے نمایاں ہوتے نشیب و فراز نے چارلی کے ہونٹوں کو سکوڑا،۔
وہ بے تاثر نگاہ سے سکرین کو دیکھتی رہی،۔
وہ ان لڑکیوں کے بارے میں کیا کہتی وہ خود بھی تو اس دلدل میں دھنسی ہوئی تھی،۔
دس ون!! چارلی نے ایک تصویر کی جانب اشارہ دیا،۔
ریڈ امپورٹڈ کوٹ پہنے ایک خوبصورت بے باک سی لڑکی چئیر پر نہایت بے ترتیب حلیے میں دراز تھی،۔
ماہ تاب نے نگاہ پھیر لی،۔ بنت حوا اپنی ہی ہمزاد کو دیکھ کر شرما رہی تھی یا پھر سیاہ نین یہ منظر ازبر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے،۔
گال جیسے تپ سے رہے تھے،۔گھٹن بڑھ کر ماہ تاب کی پیشانی نم آلود کرگئی،۔
چارلی نے وہ ڈیزائن پسند کرلیا تھا، شارف نے ماہ تاب کو اوکے کا اشارہ دیا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی سائڈ چئیر پر دراز ہوئی،
گہرے کٹ سے برہنہ پنڈلی سامنے نمایاں ہونے لگی۔
چارلی کی تیز نگاہ مکمل ماہ تاب علوی پر جم چکی تھی،۔
وہ معاملات طے کرتا ایک آدھ نگاہ ماہ تاب پر بھی ڈال رہا تھا۔
مسٹر شارف!! میں ماہ تاب کے ساتھ کچھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتا ہوں۔،
اس کی غیر متوقع بات سنتی ماہ تاب علوی ساکت ہوئی،۔آنکھیں غیر ارادی طور پر پھیل سی گئیں۔
اس نے تڑپ کر شارف ابدال کو دیکھا اور نفی میں سرہلایا،۔
جھلملاتی آنکھوں کو دیکھے شارف نے محض کندھے اچکائے تھے۔
💞💞💞💞
جاری ہے۔
