Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
مشل۔۔” وہ فرطِ جذبات سے مشل کے گلے لگی۔جو دلہن کے حسین لباس میں سجی خوبصورتی کے تمام ہتھیاروں سے لیس تھی۔
مشل نے تعجب سے اس کا چہرہ دیکھا۔جس پر چمکتی سرخی اور شادابی اسے اس ماہ سے بہت الگ بنارہی تھی جو وہ علوی ہاؤس میں تھی۔
وہ سیاہ لباس میں بھی رنگ بکھیرے چہرے کے ساتھ پرکشش لگ رہی تھی۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔”
مشل کی جبین تھامے وہ بولی۔
شام نے بنا کچھ کہے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
وہ یک ٹک اسے دیکھی جارہی تھی۔جبکہ عاہن کی بھٹکتی نگاہ اس چہرے سے ہٹنے سے قاصر تھی۔
فلیٹ میں اس نے مشل کو جان بوجھ کر اگنور کیا تھا۔وہ اس کے باپ کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ یہ فیصلہ محض ایک جبری فیصلہ ہے۔
لیکن اب سجی سنوری مشل علوی اپنے چمکتی سبز رنگ آنکھوں کو دو آتشہ کیے اسے دہکا رہی تھی۔
اس کے دل کی کیفیت اس لڑکی کا چہرہ دیکھ کر بدل رہی تھی۔
سدرہ چچی کی خوشی دیدنی تھی۔آج ان کا برسوں کا خواب پورا ہوکر حقیقت میں ڈھل کر ان کے سامنے تھا۔
مٹھائی کاایک ٹکرا انہوں نے ماہ کی جانب بڑھایا تو شام جلدی سے آگے آیا۔
“مام ماہ کے لیے دوسری پلیٹ میں ہے۔”
” میں بھول گئی تھی۔میں ابھی اپنی بیٹی کو کھلاتی ہوں۔”
ماہ تاب نے حیرت سے شام کو دیکھا جو ہلکی سی مٹھاس بھی اس کے لیے نقصان دہ سمجھ رہا تھا۔
شوگر فری مٹھائی کا آدھا پیس انہوں نے ماہ تاب کے منہ میں ڈالا جبکہ آدھا شام نے کھایا تھا۔
“ویسے ڈیڈ آج تو آپ کو مجھے ڈھیر سارا پیار اور شاباش دینی چاہیے کیونکہ آج میں نے بہت نیکی کا کام کیا ہے۔ایک کالی سبز آنکھوں والی چڑیل کو اپنے آؤل روم کا حصہ بنانے والا ہوں۔”
عاہن کی شرارتی رگ پھڑکی تھی۔مشل نے دانت پیس کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔لبوں پر کھلتی کمینگی بھری مسکراہٹ مشل کو خطرے کی گھنٹی کا احساس دلا رہی تھی۔
“خوش فہمی میں جینا اچھا ہوتا ہے جیتے رہو۔”
سعادت علوی نے تیکھے چتون لیے اسے گھورا تو شام بھی ایک جانب کی مسکراہٹ اچھالے باپ کا ہمراہی ہوا۔
عاہن نے منہ کا زاویہ بگاڑا تھا۔
لاؤنج میں محفل بقعہ نور بنی ہوئی تھی۔بدر علوی اور ان کی زوجہ بے ساختہ رب کے شکرگزار ہوئے تھے۔
بھاری جوڑے اور زیور نے اس کی نازک جان کو الجھا کر رکھ دیا تھا لیکن عاہن کے کمرے میں جانا ناجانے کیوں اسے دہلا رہا تھا۔
ایک سنسنی تھی جو وجود پر طاری تھی۔
“آؤ بیٹا تمہیں روم میں چھوڑ آؤں۔ عاہن کی زبان کے آگے تو خندق ہے۔”سدرہ بیگم عاہن کے سر پر چپت رسید کیے شرارت پر آمادہ ہوئی۔
“جی بھابھی جی آپ نے صحیح کہا۔عاہن بھیا تو لگتا ہے بولنے میں عورتوں کو بھی مات دے دیتے ہیں۔
ہمیں لگتا تھا اجیّ کی زبان ہی زیادہ چلتی ہے لیکن عاہن بھیا تو سب کے باپ ہیں ۔”
آج اجو نے بھی جیسے دل کی بھڑاس نکالی تھی۔
بھولو مت اجوّ تمہیں کام مجھ سے پڑ جائے گا۔”۔عاہن بھڑکا تھا۔
مشل کے آسودہ لب بھی مسکرانے لگے۔
ان کا اتفاق بھرا ماحول خوش گفتاری اس کی ساری تفکرات کو بھلا گئی تھی۔
اس کی تھکن کا خیال کیے سدرہ چچی اسے روم کی جانب لے جانے لگی جب عاہن جھٹ سے کھڑا ہوا۔
“مام یہ بیوی میری ہے تو روم میں بھی مجھے لے جانا چاہیے۔آخر یہ میرا شرعی حق ہے۔”
اس کی بےباکی پر ماہ تاب کے لب واہ ہوئے جبکہ مشل کے قدم زمین پر جم سے گئے۔
“یہ مجھے میری اولاد نہیں لگتی۔”
سعادت علوی کی بڑبڑاہٹ پر اس نے دانت نمایاں کیے انہیں دیکھا سیاہ بالوں کو بے ساختہ سہلاکر اس نے باپ کو دیکھ کر آنکھ دبائی۔
“میں آپ کی ہی اولاد ہوں ڈیڈ۔۔۔”
“اچھا تم لے جاؤ۔پر آپ دونوں لڑنا مت۔۔” سدرہ بیگم نے ہتھیار پھینکے ۔
ان کی جنگِ عظیم ہر دومنٹ بعد شروع ہوجاتی تھی۔
عاہن فخر سے مشل کے ہمراہ ہوا اور اس کا ن نرم و نازک ہاتھ تھام کر زور سے دبایا۔
سس۔۔وہ بے ساختہ کراہ اٹھی۔تو تعجب سے شام نے اسے دیکھا اور تنبیہہ نگاہ سے اسے کچھ بھی سخت کرنے سے روکا۔
وہ محض کندھے اچکا کر رہ گیا۔
مشل کے ساتھ اوپر کی جانب بڑھتے اسے کے چہرے کے تاثرات ناقابل فہم ہوتے جارہے تھے۔
ماہ نے کئی دعائیں کئی ہدایات دل میں مشل علوی کے لیے مانگی تھیں۔
“یہ سب میڈیسنز ہیں۔آج سے کوئی میٹھی چیز تم مجھے بتائے بغیر نہیں کھاؤ گی۔اور اگر کبھی کچھ بھی دل کرے تو مجھے بتاؤ میں خود تمہیں شوگر فری لاکر دوں گا۔
اور انسولین بھی میں تمہیں لگایا کروں گا۔”
“آپ ۔۔کک کیسے؟” ماہ تاب ججھکی تھی۔
“جیسے تم خود لگاتی تھی میں نہیں چاہتا کہ کچھ بھی تمہارے لیے نقصان دہ ہو۔”
شام کا لہجہ عام تھا۔لیکن اس میں چھپی فکر ماہ تاب کے دل کو راحت دے رہی تھی۔
ڈائٹ چارٹ اس نے ٹیب سے وارڈروب کے دروازے کے اندرونی جانب چسپاں کیا۔
اور میڈیسن باکس میں رکھ کر انسولین کو روم کی منی فریج میں رکھ دیا۔
ماہ کاؤچ پر دراز تھی۔میٹھی نگاہوں سے وہ شام کو اپنے لیے فکر مند دیکھتی وہ اپنے رب کی شکرگزار تھی۔
اپنے رشتے کے حوالے سے وہ بے اعتنائی برتتا تھا۔اسے جاناں کہہ کر اپنی محبت سے نہیں نوازتا تھا لیکن اس کا فکرسے بھرپور رویہ تو جاناں کہنے سے بھی زیادہ پرسکون تھا۔اس کی فکر جانان کہنے جیسا ہی تو احساس دلواتی تھی۔
کچھ کھاؤ گی؟”
شام سب چیزیں اپنی جگہ پر رکھتا اس کے قریب آیا تو ماہ نے نفی میں سرہلایا۔
ریسٹورنٹ میں بھی اس نے تھوڑا سا ہی کھانا کھایا تھا۔۔
“میں تمہارے لیے دودھ منگواتا ہوں۔تم ڈیلی رات کو دودھ پیا کرو گی۔”
“پر مجھ سے پھیکا دودھ نہیں پیا جاتا ۔”
وہ منہ بسورے بولتی شام کے لبوں پر مسکراہٹ لائی۔
“تو میں یہ ٹیبلٹ اسی لیے تو لایا ہوں۔”
ایک چھوٹی سی ڈبیا ٹیبل سے اٹھا کر اس نے سامنے کی تو اس کا مزید دل خراب ہوا۔
“یہ اتنی بکواس ہوتی ہیں میں نے یوز کی تھی۔سب چیزوں کا ٹیسٹ خراب کردیتی ہے۔پھر میں نے دوبارہ شوگر یوز کرنا شروع کردیا تھا۔”
“تبھی شوگر لیول اتنا ہائی ہوا ہے۔اور یہ ٹیبلٹس کا فلیور میں پوری ڈیٹیل جان کر لایا ہوں۔بالکل شوگر جیسا ذائقہ آتا ہے۔”
“پھر آپ پی لیں۔۔”وہ منہ بناتی کاؤچ سے اٹھنے لگی۔
“اگر میں یوز کروں گا تو کیا تم بھی کرو گی۔”
شام اس کے مقابل ہوئے پوچھنے لگا۔
“جی کرلوں گی۔۔”وہ اطمینان سے بولی تو انٹرکام سے اس نے دو گلاس ود آؤٹ شوگر دودھ کے لیے کہا تھا۔
“شام آپ کیوں؟ نہیں آپ نہیں یہ ٹیبلٹس یوز کریں گے میں کوشش کروں گی کہ ایسے ہی سادہ پی لوں گی۔”
“تم شاید بھول رہی ہو کہ میں ماڈل ہوں اور مجھے اپنی فٹنس اپنی باڈی کے لیے جم ڈائیٹ سب کرنا ہوتا ہے۔”
ماہ تاب نے اس کا ٹراؤزر شرٹ میں لمبا چوڑا سراپا جانچا جو متناسب تھا۔چوڑے شانے اور بازؤں کے مسلز نمایاں تھے۔اس کا جسم ماڈلز کے لحاظ سے ایک آئیڈیل جسم تھا۔
تو کیا آپ پھیکا کھانا کھاتے تھے؟”
“نہیں بس احتیاط کرکے کھاتا ہوں۔”وہ دانستہ جھوٹ بول گیا تھا۔
“لیکن تم مٹھاس سے محروم کیوں رہو۔ ایون یہ ٹیبلٹ میں نے ڈاکٹر سے کنفرم کی ہے کہ اس کا فلیور آرٹیفیشل نہ ہو۔۔بے شک تمہیں یہ موذی مرض ہے لیکن میں نہیں چاہتا تم تاعمر اس حسرت میں رہو۔کہ تم مٹھاس کے لیے ترستی رہی ہو۔کیونکہ خواہشات کا ادھورا رہ جانا بہت اذیت ناک ہوتا ہے۔”
وہ نگاہ چرائے رخ موڑ گیا تھا۔
“آپ مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں۔”
شام نے حسبِ معمول دل کی تڑپ کو نظرانداز کرکے لب بھینچ لیے۔
“ان سب میں محبت کہیں نہیں ہے کیونکہ میں نے تمہیں شاید بتادیا تھا کہ محبت تو میں اس سفید محل کی دیواروں میں دفن کرآیا ہوں۔”
وہ آج پھر ماہ کا دل کی حسرتیں مسل گیا۔
“اگر اُس سفید محل میں محبت کی قبر ہے تو اِس سفید محل میں وہ قبر آزاد کرکے محبت کو آباد کردوں گی۔”
شام خاموش رہا۔دروازے پر ہوئی دستک پر وہ دونوں چونک اٹھے۔
اجو دو گلاس دودھ لیے کھڑا تھا۔
گلاس لیے وہ اندر آیا اور ٹیبلٹس دونوں کے گلاس میں ڈال کر اس نے گلاس اس کی جانب بڑھایا تو ماہ تاب نے منہ کے زاویے بگاڑے۔
شام نے تیز نگاہ سے اسے گھورا۔
مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق اس نے گلاس لبوں سے لگایا۔
شام علوی کو دودھ کبھی پسند نہیں رہا تھا لیکن آج وہ اپنی جانان کے لیے وہ بھی پی گیا تھا۔
ہاں اسے ابھی محبت کو عیاں نہیں کرنا تھا تھوڑا شکوہ تو وہ چند عرصے تک رکھنا ہی چاہتا تھا۔اتنا تو وہ چھ سالوں کی اذیت کا حق رکھتا ہی تھا۔
دروازے پر لکھا آؤل روم دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔
عاہن کی گرفت میں اس کا ہاتھ اب درد کرنے لگا تھا۔سب کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی اس نے ہاتھ چھڑوانا چاہا لیکن عاہن نے مزید سختی سے جکڑا۔
“عاہن میرے ساتھ بدتمیزی مت کرو میں سچ کہہ رہی ہوں میں بہت برا پیش آؤں گی۔”
وہ چلائی تھی۔۔عاہن ڈور ان لوک کرتا چابی پاکٹ میں ڈال کر اندر داخل ہوا۔اور اسے بھی ساتھ کھینچا۔
تم کچھ بھی نہیں کرسکتی مشل علوی ۔۔”
وہ آرام سے بولا۔
مشل اس کے ہر عمل پر حیران تھی پہلے اس کا خود اپنے روم کی جانب لانا جو آخری کونےپر تھا۔اور پھر چابی سے لاک کھولنا غرض ہر کام اس شخص کا عجیب تھا۔
وہ اندر داخل ہوا تو ہر جانب مختلف وارڈوربز تھیں۔
کارپٹ سے سجا روم سرمئی رنگ کا تھا۔سرمئی رنگ فرنیچر اور دیواروں پر سجا سرمئی وال پپیر۔۔کمرا کسی بھی آرائش سے پاک تھا۔
ہیڈ بورڈ بیڈ پر سفید چادر بچھی تھی اور کنارے پر کمبل تھا۔
ایک جانب سلور ویلوٹ کاؤچ تھا۔
عاہن نے عین درمیاں میں لاکر اسے کھڑا کیا اور خود ایک وارڈروب کی جانب بڑھا۔
چابی سے لاک کھول کر اس نے مشل کو مزید حیران کیا تھا۔
ایک سلور باکس نکال کر اس نے سینٹرل ٹیبل پر رکھا تو مشل کا سانس رکا۔
“تت تم کیا کرنے والے ہو۔”
وہ سلور سٹیل کا باکس تھا۔
“وہی جو مجھے بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔”
اس کی کاٹ دار سرد سی آواز پر حلق میں گلٹی سے ابھر کر معدوم ہوئی۔
ہاتھوں میں لرزش سی اتر آئی وہ تو اس کی بدزبانی کی منتظر تھی کسی بے رخی کی امید لگائے بیٹھی تھی۔لیکن وہ توقع کے برعکس ردعمل دے رہا تھا۔
وہ اب پاسورڈ سے سلور باکس کھول رہا تھا۔
اور مشل کی جان حلق میں اٹک رہی تھی وہ قدم پیچھے کھسکاتی دروازے کی جانب بھاگی۔جب وہ پھرتی سے باکس چھوڑتا مشل کو کمر سے جکڑ کر رخ موڑے اپنی گرفت میں قید کرگیا۔
“اتنی جلدی کہاں بھاگ رہی ہو۔بہت شوق تھا ناں رخصتی کا اب عاہن علوی کی زندگی میں شامل ہونے کا کچھ تو حق ادا کرو۔”
اس کے شدید عمل پر مشل کی پیشانی نم ہوئی اس کی گرفت و حصار سے آزاد ہونے کے لیے مچلی تھی۔
سبز نگاہ جیسے پھیل کر سہمی۔
چچ چھوڑو مجھے بدتمیز انسان۔۔”
اس نے عاہن کے ہاتھ میں ناخن گاڑے۔لمبے ناخن کی خراشیں ہاتھ پر لگتی اسے لب بھینچنے پر مجبور کرگئی۔
جنگلی آتما۔۔” وہ گرفت سخت کرتا بڑبڑایا۔
اب وہ ایک ہاتھ سے مشل کو جکڑے اور دوسرے سے باکس کھول کر اس میں سے ایک پلاس نکال چکا تھا۔
مشل کو لگا وہ آج اس کے ناخن اکھاڑے گا کیونکہ جیسا وہ باریک قینچی نما پلاس تھا مشل کو یہی گمان ہوا تھا۔
“مم مجھے چھوڑدو۔۔میں نے کیا کیا ہے پلیز ایسا مت کرنا۔۔۔پلیز عاہن۔۔سوری غلطی سے لگ گئے تھے”۔
وہ اپنے مٹھیاں بند کیے چیخی تھی۔ناخن اس نے مٹھی میں مکمل طور پر چھپالیے ۔اور آنکھیں بھی میچ لیں۔
عاہن اس کے عمل پر بمشکل ہنسی ضبط کرپایا ۔۔وہ شاید زیادہ ہی ڈر چکی تھی۔
“کیوں تم نے مجھے ان لمبے نوکیلے ناخنوں سے زخمی کیا ہے کچھ سزا تو تمہیں ملنی چاہیے۔۔”
وہ ہاتھ جکڑے پراسرار سا بولا تو ایک آنسو بہہ کر گال کی جانب رواں ہوا۔
“پلیز ۔۔۔چھوڑو عاہن مجھے درد ہورہا ہے “
وہ روہانسی ہوئی بولی تو عاہن نے اس کی کلائی سامنے کی جہاں وہ بریسلٹ چوڑیوں کے نیچے ہوچکا تھا۔
عاہن نے اسے سامنے کیا اور ہاتھ سختی سے تھام لیا۔
سبز رنگ ڈائمنڈ کا وہ بریسلٹ دراصل ایک خفیہ کیمرہ تھا۔
بریسلٹ میں چمکتا وہ سبز رنگ جو ڈائمنڈ کے مشابہہ تھا۔دراصل ایک چمکتا خول تھا جس کے اندر منی کیمرہ تھا۔جس کی رنگت بھی سبز تھی۔جس سے دونوں رنگ مل کر کچھ ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔
عاہن نے اس کی سائیڈ کی سلور موٹی چین میں پلاس کا منہ رکھا تو مشل نے ہاتھ جھٹکا۔
“یہ کیا کررہے ہو یہ ڈائمنڈ بریسلٹ ہے اس کی قیمت بھی تم جانتے ہو۔”
رعونت بھرے انداز پر عاہن نے لب سکوڑے۔
“ہاں یہ سستا بازار سے تمہیں ڈھائی تین سو کا مل جائے گا۔”
واٹ کیا بول رہے ہو۔؟”
مشل دھاڑی تھی ۔اس نے ایک جھٹکے میں پلاس سے دباؤ ڈال کر اس کی سلور چین کاٹ دی۔بریسلٹ نیچے گرا تھا۔
مشل کا دل جیسے حلق میں آیا۔یہ شارف ابدال نے نہایت عقیدت سے اسے دیا تھا۔اور عاہن نے اسے توڑ دیا تھا۔
“یو عاہن میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔”
سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ وہ اس پر جھپٹی لیکن عاہن نے اسے ایک بار پھر گرفت میں لیا اور جھک کر بریسلٹ اٹھایا۔
“یہ جس الو کے پٹھے ٹھرکی بڈھے نے تمہیں دیا تھا ناں اسے کہنا کہ عاہن علوی کوئی عام شے نہیں ہے۔عاہن کو سمجھنے کے لیے اس کی سوچ کو پڑھنا پڑھتا ہے۔جو وہ قطعی نہیں پڑھ سکتا۔اور مشل علوی میری دسترس میں آچکی ہے۔اسے کہنا الٹی گنتی گننا شروع کردے۔۔”
اس نے سٹون کے اوپر پلاس سے دباؤ ڈالا تو وہ خول ایک سیکنڈ میں ٹوٹا اور اندر سے منی کیمرہ باہر نکل آیا جس کا سائیز ایک عام نگ جیسا تھا۔
عاہن نے وہ نازک کیمرہ مشل کی نگاہ کے سامنے کیا تو وہ اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی۔
یہ۔۔۔” اس نے چھونے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو عاہن نے انگوٹھے اور انگلی کو دبا کر ایک جھٹکے میں اس کے توڑ دیا۔
مشل یکلخت اچھلی تھی۔اس کے چہرے پر نمایاں حیرانگی اور تفکر عاہن کے لبوں پر مسکراہٹ لایا۔
“کوئی اتنا بے وقوف بھی ہوسکتا ہے مجھے اندازہ نہیں تھا۔”
مشل اب بھی فق چہرے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“اس کا مطلب سمجھتی ہو۔وہ ہماری پرائیویٹ باتیں پرائیوسی کے سارے حالات جاننے میں دلچسپی رکھتا تھا۔”
عاہن کی گہری بات پر اس کا چہرہ سرخ ہوا۔لیکن وہ حقیقت بیان کررہا تھا۔
“مم میرا تمہارا رشتہ ایسا نہیں ہے جہاں پیاری بھری باتیں ہوں۔اور میں شارف سے پوچھوں گی کہ انہوں نے یہ حرکت کیوں کی؟”
“تم اس کی جانب دیکھ کر دکھاؤ تمہیں میں آنکھوں سے محروم کردوں گا۔”
اس کا کاٹ دار لہجہ اور شدت پسندی سے بازو جکڑ کر قریب کرنا مشل کا دل حلق میں لایا۔
“عقل کی اندھی لڑکی دل کررہا ہے تمہارے سر پر ایک تھپڑ ماروں تاکہ تمہاری عقل ٹھکانے آجائے۔جو ناجانے کہاں گھاس چرنے گئی ہے۔ان پڑھ نکمی تو تم پہلے ہی تھی اب عقل سے پیدل بھی ہوچکی ہو۔اتنی بے وقوف ہو کیا؟”
وہ دانت پیسے غرایا تو مشل کی سوچ کے در واہ ہونے لگے۔
پہلے اس کے کمرے میں کیمرہ اور پھر اس کے بریسلٹ میں۔اگر وہ سوچتی تو کئی بھیانک نتائج اس کے منہ پر تھپڑ کی طرح آکر لگتے۔جس کے بعد وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہتی۔اور شارف ابدال کی حقیقت سمجھ جاتی۔
وہ فق چہرے کے ساتھ ساکت کھڑی رہی۔
“اب تمہارے نیلز کی باری ہے جس سے تم نے میرا ہاتھ زخمی کیا ہے۔”
فلحال وہ شارف ابدال کو اس کی سوچوں میں سوار ہونے نہیں دینا چاہتا تھا تبھی اس کا دھیان بٹاتا پلاس سامنے لایا۔
نہیں ۔۔” وہ چیخ کر دور ہوئی تھی۔
بنا دلہناپے کا خیال کیے وہ بیڈ پر چڑھی۔
“رکو زرا تم۔۔آج تو میں تم سے گن گن کر بدلے لوں گا۔تم نے بچپن سے ہی مجھے بہت ستایا ہے۔اور میرے ڈیڈ سے بلاوجہ مجھے مار پڑوائی۔مجھے گھر سے بے گھر کردیا۔آج اس کمرے میں تمہاری قبر کھود کر تمہیں دفناؤں گا۔”
وہ بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔
مشل کا چہرہ خوف سے سفید پڑا اس کے لہجے کی پراسراریت اسے سہما رہی تھی۔
وہ عین درمیان میں تھی۔جبکہ عاہن ابھی کنارے پر تھا۔پلاس ہنوز ہاتھ میں تھا۔
وہ پلاس لیے اس کی طرف آیا جبھی مشل نیچے جھکی۔
نرم خو بیڈ پر پاؤں کا توازن برقرار نہ رکھ پانے پر وہ نیچے گرا ۔اور مشل کی بازو کو جکڑا کر قریب کیا۔
اسے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آئی۔
یکلخت مشل نے اس کی کلائی میں دانت گاڑے۔
آؤچ۔۔۔۔”اے لڑکی۔۔”
“مشل۔۔۔فشل چھورڑو۔۔میرا بازو۔۔” تکلیف سے کراہتا چیخ اٹھا۔
یکدم سمجھ ہی نہیں آیا تھا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔
پوری شدت سے اس نے کلائی پر دانت گاڑ کر اس نے عاہن کی جان ہی نکال دی تھی۔
ایک جھٹکے میں اس نے مشل کو دور دھکیلا۔تو وہ پیچھے ہوئی۔
ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ نمودار کیے وہ پھدکتی ہوئی دھپ سے صوفے پر اچھلی۔
عاہن کا ہاتھ بے ساختہ کلائی پر گیا۔۔جہاں شدت سے دانت گاڑے گئے تھے۔۔اور جلد خطرناک حد تک سرخ تھی۔۔بلکہ ہلکی سی خون کی بوند ابھری۔
عاہن کو یقین کرنا مشکل لگا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے؟
“پاگل لڑکی۔۔یہ کیا کیا اففف مام۔۔”چیختا ہوا وہ صوفے کی جانب آیا۔
لیکن مشل زبان نکالتی تیزی سےاچھل کر بیڈ پر چڑھ گئی۔بھاری لہنگے جیولری میں بھی وہ ایسا ریلکس تھی جیسے اس نے عام ٹی شرٹ ٹراؤزر پہن رکھا ہو۔
“تم کیا ہو پاگل لڑکی۔۔اوہ گاڈ اب مجھے چودہ انجیکشن لگیں گے۔۔”
آہ۔۔۔درد سے وہ اب بھی بازو سہلا رہا تھا۔درد تھا کہ اس کی جان ہی نکال گیا تھا۔
اس بیچ مشل بس طنزیہ مسکراہٹ لیے بس بیڈ پر کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
لیکن چودہ انجیکشن کی بات پر اس کے ماتھے پر بل نمایاں ہوۓ۔
تم کیا بکواس کررہے ہو؟؟ تم مجھے کتی کہنا چاہ رہے ہو۔”
تیکھے چتون لیے وہ بیڈ کے کنارے پر آئی۔
“عاہن میں تمہارا منہ توڑ دوں گی۔”
اگر مجھے کتی کہا۔ عاہن کو بھی یکدم سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ گیا ہے۔ لیکن جب مشل کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھا تو ناجانے ہاتھ کی جلن کم ہوتی محسوس ہوئی۔۔اور دل کو گویا ٹھنڈک ملی۔۔کیونکہ کچھ نہ کہتے ہوۓ بھی وہ مشل کو تاؤ دلا گیا تھا۔۔ “ہاں۔۔تم ہو۔۔کیونکہ اب مجھے چودہ انجیکشن لگے گے۔” اس نے” کت*ی “کا لفظ دانستہ نہیں کہا تھا۔۔
اففف ۔۔۔درد سے بلبلاتا وہ دروازے کی جانب بڑھا۔
لیکن ایک بار پھر درد سے چیخا۔۔مشل۔ایک جھٹکے میں بیڈ سے اترتی اس کے بال پیچھے سے پکڑ چکی تھی۔
“چڑیل۔۔چھوڑو ورنہ آج میں تمہیں نہیں بخشوں گا”۔گردن یکدم پیچھے کی جانب مڑی تھی۔
تم سوری کرو۔۔تم نے کتی کہا مجھے۔
آہ۔۔۔ظالم چھورؤ۔۔۔میں نے نہیں کہا۔۔۔تم نے خود فرض کیا ہے”
عاہن کی تو گویا حالت خراب ہوچکی تھی۔
مشل ایک بلا کی طرح اس پر پوری طرح قابض ہوچکی تھی۔
جلدی بولو۔۔۔”
بالوں کو مزید شدت سے کھینچا کہ عاہن کی چیخ نکلی تھی۔
“یار میں نے نہیں کہا تم خود سے فرض کرچکی ہو۔میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔چھوڑدو۔ورنہ میرے سارے بال اتر جائیں گے۔”
اپنے بالوں سے اسے خاص محبت تھی۔
شدت گریہ سے بولتا وہ مشل کے ہاتھ بھی بالوں سے ہٹارہا تھا۔
“رکو تم ایسے نہیں مانو گی۔”
وہ بل کھاتا مڑ کر ایک جھٹکے میں اسے گرفت میں جکڑ گیا۔
مشل کے ہاتھ بالوں سے نکلے اور بمشکل فاصلہ بنانے کے لیے وہ سینے پر ہاتھ جما گئی۔
اس کا چہرہ مکمل سرخ ہوا۔
جبکہ عاہن کی آنکھوں میں طیش امڈ آیا۔
“آج کے بعد اگر میرے ساتھ ایسی حرکت کی ناں مشل علوی میں تمہارا وہ حال کروں گا کہ تم منہ چھپاتی پھرو گی۔”
اس کی ذومعنی سرگوشی پر وہ جی جان سے کانپی۔
اور بے ساختہ دراز پلکیں لرز گئیں۔
سر میں ٹیسیں اٹھنے لگی لیکن اس کا چیرہ اسے بہکانے لگا تھا۔
اس کا گلابی چہرہ سرخی سے سجے لب سبز رنگ آنکھیں ، غرض حسن کے مکمل ہتھیاروں سے لیس وہ دل شدت سے دھڑکا گئی۔
قربت کی جھلستی خاموشی میں وہ دونوں بھی جیسے کچھ دیر کے لیے ایک دوسرے کو دیکھتے سیر ہوئے۔
عاہن نے ہاتھ بڑھا کراس کا گلابی گال چھوا۔
کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ اس لڑکی کو اتنے قریب سے اتنی نرمی سے چھولے گا۔اسے تو نفرت تھی مشل عوی سے۔۔پھر یہ قربت کی سرشاری تھی یاپھر پاکیزہ بندھن کی خوشبو جو دونوں کو مہکا رہی تھی۔
مشل کو نہ آج بو کا احساس ہوا نہ ہی کوئی کراہیت محسوس ہوئی۔ بلکہ ایک روح پرور سکون تھا جو رگوں میں تھا۔
اس کی بندیا سے سجی پیشانی کو نرمی سے چھو کر اس مجسم ساز ساحرہ کو محسوس کیے وہ بے ساختہ مسکرایا۔
مشل کو اپنی پیشانی سلگتی محسوس ہوئی۔
عاہن کی نگاہ میں یکلخت بچپن کے مناظر گھومے تو اس نے جھٹ مشل کو آزاد کرکے دور دھکیلا۔
وٹ دا ہیل۔۔۔” شارف ابدال نے لیپ ٹاپ ایک جھٹکے میں دور اچھالا تو وہ کئی ٹکروں میں بٹ کر بکھرا۔
زوار علوی دوسرے کمرے سے نکل کر باہر آئے۔
کیا ہوا شارف؟ سب ٹھیک ہے؟”
جاؤ یہاں سے زوار۔۔”
وہ چئیر پیچھے گرا کر زوار علوی پر غرائے۔
ان کی سرمئی سرخ آنکھوں میں لپکتی آگ پر زوار علوی بھی حیران ہوئے وہ کافی ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے۔لیکن آج اتنے سالوں میں پہلی مرتبہ وہ غصے سے دھاڑ اٹھے۔
زوار لیو میں آلون۔۔۔” وہ دوبارہ دھاڑے تو زوار اہانت کے احساس سے باہر نکل گئے۔
“بہت دکھادی میں نے تحمل مزاجی۔اب میں بتاؤں گا بلکہ دکھاؤں گا کہ شارف ابدال میں کتنی غلاظت کتنی سفاکیت ہے۔”
اپنے بال جکڑ کر انہوں نے لب بھینچے۔
خون میں ابال اٹھنے لگا تھا۔
سائیڈ پاکٹ سے میڈیسن نکال کر انہوں نے زبان کے نیچے رکھی۔
دل چاہا ماہ تاب علوی کا چہرہ مسخ کردیں جس کی بدولت یہ سب فساد ہوا تھا۔
نہ وہ یہاں کراچی آتے نہ یہ عذاب ان کی زندگی میں آتا۔
انہوں نے شام علوی کو کبھی غور سے نہیں دیکھا تھا ورنہ ایک ملاقات میں ہی اسے پہچان لیتے نہ کبھی زوار علوی نے زیادہ ذکر کیا تھا۔
اب سر سے پانی اونچا ہورہا تھا۔اور جب پانی اونچا ہوجائے تو اس پر بندھ باندھنا ضروری ہوجاتا ہے۔
“ماہ تاب علوی یہ چند دن اپنے نام نہاد شوہر کے ساتھ بہت عیاشی کرلی۔تمہاری اسی عیاشی کو سوشل میڈیا کی زینت بنا کر تمہیں خود کی جان لینے پر مجبور نہ کردیا تو میرا نام بھی شارف ابدال نہیں۔
تمہارا یہ خوبصورت چہرہ صرف میرے فائدے کے لیے بنایا گیا ہے جب یہ میرے پاس نہیں رہا تو پھر میں اسے کسی کے قابل کیسے رہنے دوں۔اپنے ہاتھوں سے یہ خوبصورت چہرہ بگاڑوں گا۔۔”
معیز کو وہ کل سوشل میڈیا پر ویڈیو ریکارڈ کرکے اپلوڈ کرنے کا میسج کرتے وارڈروب کی جانب بڑھے۔
جہاں ترتیب سے برانڈڈ شراب کی بوتلیں موجود تھیں۔
ایک بوتل اٹھا کر انہوں نے گلاس میں محلول انڈیلا تھا۔
ماہ تاب؟؟” اس کی بے چینی بھانپتا وہ یکلخت اٹھا جو نیند میں سر پٹک رہی تھی۔
نن نہیں۔۔پپ پاس نہین ۔۔۔”وہ بازو مسلتی ناخن سے جلد کریدنے لگی تو شام کو اس کے عمل نے دہلایا وہ تیزی سے قریب ہوتا اسے بازؤں میں جکڑ گیا۔
“ماہ آنکھوں کھولو۔۔میں ہوں ادھر دیکھو ماہ۔۔۔”وہ اس کا چہرہ تھپتپائے بے حال ہوا۔
وہ شاید گہری نیند میں تھی۔خنکی بھرے ماحول میں بھی اس کے چہرے پر پسینہ چمکا تھا۔
جاناں۔۔۔”وہ بے اختیار ہوتا اسے پکار اٹھا تھا۔
شام مجھے شارف کے پاس نہیں جانا۔مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے وہ چھین کر لے جائے گا وہ ظالم شخص ہے۔وہ مجھے ۔۔۔”
اس کی شرٹ جکڑے وہ کپکپاتے لبوں سے بولتی شام کی دماغ کے کئی در واہ کرگئی تھی۔
“کوئی نہیں لے کر جائے گا تمہارا شام ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے۔”
نرمی سے اسے بانہوں میں سموکر سر تھپکنے لگا۔
جبکہ وہ اب بھی بڑبڑارہی تھی۔
اس کی شرٹ کو جکڑے وہ اس کے سینے میں سمٹ رہی تھی۔
ان چھ سالوں میں شاید ماہ تاب علوی کو دماغ جسمانی اذیت اس حد تک دی گئی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اپنے ڈر پر قابو نہیں پاسکتی تھی۔
ماضی۔۔۔”
گھر میں داخل ہوتے وقت اس نے مدد طلب نظر سے معیز کو دیکھا جو تھکا ہوا سا تھا۔لیکن ماہ تاب کو حوصلہ دئیے وہ اندر داخل ہوا۔
زوار علوی جو لاؤنج میں ہی بیٹھے تھے۔
ماہ تاب کو الجھے بکھرے حلیے میں دیکھ کر غضب ناک تاثرات سجائے اس کی جانب بڑھے۔
ایک زور دار تھپڑ انہوں نے ماہ کو مارا ۔
وہ چیختی ہوئی زمین بوس ہوئی۔معیز نے آگے بڑھ کر فوراً اسے اٹھایا۔
انکل آپ اسے ہاتھ نہیں لگاسکتے یہ میری بیوی ہے۔
وہ قدرے بلند سا بولا تو زوار علوی کو لگا کسی نے ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی گئی
کیا بکواس کررہے ہو؟ یہ تمہاری بیوی کیسے ہوسکتی ہے؟”
ہم نے نکاح کرلیا ہے۔وہ اطمینان سے بولا تھا۔زوار علوی کو شدت سے انہونی کا احساس ہوا جبکہ شبنم بیگم ساکت رہ گئیں۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ سب کرنے کی۔کس کی اجازت سے یہ سب ہوا۔”
انکل ہم دونوں بالغ ہیں اور ہمارے پاس یہ حق محفوظ ہے۔
ماہ تاب بھیگی نم آنکھوں کو رگڑتی اکڑ کر سیدھی کھڑی ہوئی۔
“جب آپ میرا دگنی عمر کے آدمی سے نکاح کرنے کی ٹھان چکے تھے تو میں کیوں اپنی زندگی بچانے کے لیے یہ نکاح نہ کرتی۔”
ماہ تاب ۔۔” وہ دانت پیس کر غراتے اس کی جانب آئے۔ایک اور تھپڑ پوری شدت سے اس کے منہ پر مارا تو شبنم بیگم نے اسے تھاما تھا۔
“چھوڑیں مجھے آپ سب میری خوشیوں کے قاتل ہیں۔نہیں رہنا مجھے یہاں۔۔ “
اپنی پوری قوت سے چیختی وہ ہذیاتی ہوئی تھی۔
“نکاح نامہ دکھاؤ مجھے۔”
زوار علوی اس کی پکار کو نظرانداز کرتے معیز کے قریب ہوئے۔
“ہاں دکھاؤ انہیں پیپر ان جیسے ظالم باپ کو بھی احساس ہو کہ وہ اپنی بیٹی کی زندگی تباہ کرنے والے تھے۔جب بیٹی نے اپنی مرضی کا فیصلہ کیا تو اسے مار کر خاموش کروانا چاہتے ہیں۔”
زوار علوی کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے۔اس کا گستاخ لہجہ زوار علوی کا خون کھولا رہا تھا۔
معیز نے پیپر ان کی جانب بڑھاکر ماہ کو اشارہ دیا۔
“اچھے سے دیکھیے گا ڈیڈ۔اور دنیا والوں کو بتانا کہ میری بیٹی نے مجھ سے ڈر کر اپنے ہونے والے منگیتر سے چھپ کر شادی کرلی۔دنیا کو بھی تو پتہ چلے کہ جب باپ زوار علوی جیسے سفاک ہوجائیں تو بیٹیوں کو اپنی عزت محفوظ رکھنے کے لیے یہ کام کرنے ہی پڑتے ہیں۔ان کی اپنے گھر میں بھی عزت کا سودا نہایت اطمینان سے کیا جاتا ہے۔”
وہ انہیں طیش دلاتی چیخ رہی تھی شبنم بیگم سے اسے سنبھالنا محال ہوا۔
یکلخت انہوں نے پیپرز کے ٹکرے کرکے ہوا میں اچھالے اور ماہ تاب کے منہ پر تین چار تھپڑ مارے۔
شبنم بیگم چیخی تھیں۔جبکہ ماہ تاب درر سے زمین پر گری۔
تم جیسی اولاد کو مرجانا چاہیے۔جسے باپ کی عزت باپ کے مرتبے کا نہیں پتہ۔
شبنم بیگم بچاؤ کے لیے ہلکان ہوتی ماہ تاب کو بمشکل سنبھال پارہی تھیں۔
میں اس نکاح کو نہیں مانتا یہ نکاح نہیں ہوا۔شارف ابدال کو آنے دو تم اسی قابل ہو۔اور معیز رؤف عرف زی تمہیں کچھ شرم آنی چاہیے تمہارے باپ کی ایمانداری اور شرافت کا تم نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ گریبان جکڑ کر وہ آنکھیں پھیلائے غرائے تھے۔
معیز کی جیسے مراد بر آئی تھی اپنے غصے کے ہاتھوں ہی وہ بےبوقوف بن چکے تھے۔
“انکل یہ نکاح نامہ کے پیپر کاپی تھے۔جو آپ نے پھاڑے ہیں۔اصلی پیپر میں محفوظ کرچکا ہوں۔”
وہ گریبان سے ہاتھ چھڑوائے کچھ دور ہوتے اطمینان سے بولا۔
“میں چاہوں تو آپ پر کیس کرسکتا ہوں کہ آپ نے میری بیوی پر بے جا تشدد کرکے سچ چھپانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں ایسا کروں گا نہیں۔کیونکہ آپ اور شارف ابدال سفاک بن سکتے ہیں کم ازکم میں اتنا شیطانیت میں غرق نہیں ہوسکتا۔
اچھا ہوا شارف ابدال یہاں نہیں ہیں انہوں نے میرا کام بہت آسان کردیا یے۔”
وہ ماہ کی طرف آیا اور اسے کھڑا کیا۔
“میری بیوی کو اب ہاتھ بھی مت لگائیے گا۔کیونکہ اب سارے اختیارات میرے پاس ہیں۔
میں جلد آؤں گا ماہ تاب اپنا خیال رکھنا۔”
اس کا سرخ چہرہ دیکھتا وہ نگاہ سے اسے اشارہ دیتا وہاں سے نکلا تھا۔
“اسے میرے سامنے سے لے جاؤ۔ورنہ میں اسے ماردوں گا۔شارف کے آتے ہی میں اس کی رخصتی کرتا ہوں۔مشل کو اس سارے معاملے کی خبر نہیں ہونی چاہیے۔”
شبنم بیگم کے ساتھ وہ زبردستی قدم اٹھائے اوپر کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
