Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

کال بیل سنتا وہ موبائل کی جانب متوجہ ہوا جہاں ان نون نمبر نمایاں تھا۔
معیز رؤف کی سیاہ آنکھیں مسکرا اٹھیں۔
“مسٹر معیزرؤف بات کررہے ہیں۔”
“جی مسٹر معیز رؤف ہی بات کررہا ہے۔آپ اپنا تعارف کروانا پسند کریں گے؟”
وہ کاؤچ سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گیا۔
“تم نہیں بدلے۔”
شام آنکھ کا کونا رگڑتا بڑبڑایا تھاجبکہ دوسری جانب یہی عمل معیز رؤف نے بھی یہ عمل دہرایا تھا۔
“میں بدل بھی نہیں سکتا تھا۔ہاں تم بدل کر راہ بھی بدل گئے۔”
لبوں پر امڈتے شکوے کو وہ بمشکل کہتا لب بھینچ گیا۔
“حالات نے مجبور کردیا تھا۔”
پیشانی سہلاتے اس نے وضاحت کی تھی۔
“حالات یہ نہیں کہتے کہ کسی اچھے دوست کو چھوڑ جاؤ اس انسان کو چھوڑ جاؤ جو تمہارے سہارے کی چاہ کیے بیٹھا ہے۔جسے تمہارا سہارا سب کچھ دے سکتا ہے۔”
“معاف نہیں کرو گے؟”شام جھنپتے ایک بار پھر آنکھ کا کونا رگڑے بھاری آواز میں بولا۔
ناجانے کیوں اس کی چند لفظی باتیں دل کو تڑپا گئی تھیں۔اپنی تکلیف میں وہ اپنے مسیحا کو بھول گیا تھا ۔اس دوست سے رابطے ختم کردیے تھے جسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
“معافی ۔۔۔ہاہ کیسی معافی مسٹر شام علوی!! آپ تو ٹاپ ماڈل ہیں اور سکرین پر چمکتے ستارے معافی نہیں مانگتے۔”
تم شرمندہ کررہے ہو۔ “ْ وہ پرشکوہ ہوا۔
تمہیں شرمندہ ہونا بھی چاہیے۔”
تو میں شرمندہ ہی ہوں “ْ
وہ باضابطہ بولا تو معیز کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“ویسے اپنی امانت کو پالینے کی مبارکباد ایک بار پھر قبول کرو۔تمہاری شب ِیقین تو قائم ہوگئی ناجانے اس دل کی شبِ یقین کب مکمل ہوگی۔”
لہجے میں سمٹی بےبسی پر اس نے مٹھی بھینچ کر لبوں پر ٹکائی۔
“جیسے یہ مقام آیا ہے ناں کہ شام اور معیز پھر سے روابط میں ہیں ایسے ہی ایک اور مقام آئے گا جب ہر یقین کی شب تم سے جڑ جائے گی۔”
“اب چاہ بھی تو نہیں رہی۔”
تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا معیز ۔۔۔”
“اور تمہیں یقین رکھنا نہیں آیا تھا۔”
اس کی پریقینی پر اس نے سرخ آنکھیں میچی۔
“کیوں شام۔۔ایک بار تو ذکر کیا ہوتا کیوں اپنے دوست کو اکیلا کرگئے ۔جانتے ہو تمہاری سب سے زیادہ ضرورت ہی مجھے تھی۔میں سچ بتانے ہی والا تھا۔لیکن۔۔۔”
معیز!! شام کو سمجھ نہیں آئی وہ کیا بولے؟
“خیر چھوڑو۔۔میں نے تمہیں کہا تھا ناں تم ایک دن ٹاپ ماڈل بنو گے۔میری یقین بھری بات دیکھو سچ ثابت ہوگئی “
اپنی اندرونی درد کو قابو پاتے وہ مسکرایا تھا۔
“اور مجھے یہ بھی یقین ہے اگلا ٹاپ ماڈل معیز رؤف کہلوایا جائے گا۔اب تم مجھے میری طرح ٹوک مت دینا”۔
“نہیں میں شام علوی نہیں ہوں کیونکہ شام علوی جیسے ہیرے دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔”
“تم معیز رؤف ہو جو دوسروں کی حفاظت کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔اور پھر وہ اپنے کام میں سرخرو ہو جائیں تو اللہ انہیں انعام سے نوازتا ہے اور تمہیں تمہارا انعام ملنے والا ہے۔
اس کی پریقینی پر” علیہ بیگم” کا چہرہ آنکھوں میں سمٹ آیا جن کی تلاش میں وہ پچھلے چھ سال سے پاگل ہوچکا تھا۔
میں اب تمہیں کال کرتا رہوں گا اور بار بار کرتا رہوں گا ۔شام کی خوشگوار آواز پر وہ آسودہ سا مسکرایا تھا۔


“آج دیبا کی طرف جانا ہے شام تک ریڈی رہنا۔”
نوالہ اس کے منہ کی جانب بڑھائے وہ لاپرواہی سے بولا ۔
ماہ تاب کو بے ساختہ ہچکی آئی۔
وہ خوبصورت سی عورت ناجانے ماہ تاب کو خطرے کی گھنٹی لگتی تھی۔
شام طنزیہ سا مسکرایا۔
ڈرتی کیوں ہو؟”
نن نہیں ڈرتی نہیں ہوں۔”
“میرے اللہ نے جسے میرے لیے بنایا تھا وہ مجھے مل چکی ہے۔اس سے زیادہ کی مجھے تمنا نہیں ہے۔”
وہ ناچاہتے ہوئے بھی وضاحت کرگیا۔ماہ تاب کے چہرے پر ایک سایہ سا آکر گزرا۔
میں داغ دار ہوں شام۔۔آپ کے قابل نہیں ہوں”
شام علوی کا نوالہ حلق میں اٹکا۔حیرت سے اس نے ماہ تاب کو دیکھا۔
“کیا کہہ رہی ہو؟ہوش میں ہو تم؟” وہ سختی سے بولتا بازو تھام گیا۔
“میری زبان شام۔۔میراوجود شام۔۔جس پر کئی غلیظ مردوں کے لمس ہیں۔میرا چہرہ شام جسے کئی بار شارف ابدال نے اپنے ہاتھوں سے چھوا ہے۔
میں داغ دار ہی تو ہوں۔اور آپ ایک شفاف آئینہ۔۔”
بھیگی سیاہ آنکھوں سے شام کے چہرے کو نہارتی وہ اذیت کی انتہا پر تھی۔
شام نے چپ چاپ نوالہ اس کے منہ کی جانب بڑھایا۔اس کی خاموشی اور اس کے چہرہ جھکانے پر وہ تڑپ اٹھی تھی۔
“پر۔۔مم۔میں نے شام اپنی حفاظت بھی بہت کی تھی۔میں سچ کہہ رہی ہوں۔میں کبھی بھٹکی نہیں ہوں شام۔۔میرایقین کریں میں آپ کی امانت تھی شام۔۔مجھے کبھی مت چھوڑئیے گا۔”
اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتی وہ بے ساختہ سسکی۔
شام علوی نے ایک بار پھر نوالہ اس کے منہ کی جانب بڑھایا۔
شام۔۔”وہ نوالہ دور کرتی چیخی۔
“میرا دل چاہ رہا ہے میں تمہارے منہ پر ایک زور دار تھپڑ ماروں۔اور اس تھپڑ کی شدت تمہارے دماغ کے سارے بن دروازے کھول دے۔”
اس کی سخت سفاکیت پر ماہ تاب کا چہرہ سفید ہوا۔
وہ خوف سے بے ساختہ پیچھے کھسکی۔
“اب کیوں دور ہورہی ہو ۔بہت ہمت والی ہو ۔میرے سینے سے جب بےباکی سے لگتی ہو میرے بالوں میں اپنی نرم انگلیاں پھیرتی ہو تب کیوں نہیں ڈرتی۔”
اسے بازو سے دوبارہ پاس کھینچے نوالہ زبردستی اس کے منہ میں ڈالا۔
ماہ تاب کو گلے میں پھندا اٹکتا محسوس ہوا۔
“میری طرف دیکھو ماہ تاب۔۔غور سے دیکھو مجھے۔
تم چہرے پڑھنے کا ہنر رکھتی ہو۔ میں یہ بات اس وقت سے جانتا ہوں جب تمہیں علم بھی نہیں تھاکہ تم میں کیا خاص ہے۔تم ڈبیٹیر بننا چاہتی تھی بلاتکان بولنا چاہتی تھی۔تمہاری یہ خواہش کس نے سب سے پہلے پہچانی تھی۔میرا چہرہ دیکھ کر بتاؤ کیا اس پر کہیں بے اعتباری ہے۔؟”
ماہ تاب اس کی غیرمتوقع باتوں پر حیران ہوئی۔
“جانتا ہوں میں ماضی دہرارہا ہوں لیکن ان باتوں کےمطلب اخذ کرو گی تو تمہیں اپنے التجا پر شرمندگی ہوگی۔
میں نے اگر تمہیں چھوڑنا ہوگا تو ایک غلطی کو نشانہ بناکر پل میں چھوڑ دوں گا۔ تم میری جتنی مرضی منتیں کرو۔ میرے پاؤں میں گرجاؤ اپنی عزت نفس روند دو میں تب بھی تمہیں چھوڑ دوں گا۔اپنے آپ کو اتنا مضبوط بناؤ کہ کوئی تمہیں چھوڑ کر چلا جائے تم تب بھی سر اٹھا کر جیو۔پھر بے شک وہ تمہارا من پسند شخص ہی کیوں نہ ہو۔یہ بات مجھے کافی دیر بعد سمجھ آئی تھی لیکن آچکی ہے۔”
“لیکن میں آپ کو آپ کی چاہ کے مطابق بھی نہیں چھوڑنا چاہتی۔میں اللہ سے شدت سے مانگتی رہی ہوں پھر میں اپنی سسکیوں آہوں کو کیوں رائیگاں جانے دوں۔”
“تو پھر یہ بھی اطمینان رکھو کہ اللہ نے مجھے تمہیں تمہارے آنسوؤں التجاؤں سسکیوں کے بدلے نوازا ہے۔”
اس کی پیشانی کو چومتے وہ سینے سے لگاتے بنا کسی اظہار کے بنا کسی خاص الفاظ کے اسے ایسا گہرا اطمینان دے گیا۔کہ سب غم کے بادل چھٹ سے گئے تھے۔
ماہ تاب سسکتی اس کے گرد بازو حائل کرگئی۔
اس کا سر چومتے خوشبو کو سانسوں میں بھرتے آسودہ سا مسکرایا۔
دیبا کے حوالے سے اس نے وضاحت اب بھی نہیں کی تھی اور یہ پھانس جیسے سینے میں اٹک سی گئی۔
“میں کیسے کہہ دوں ماہ تاب علوی۔۔۔کہ تم مجھے سانس سانس میسر رہو۔تم میری نگاہ سے کبھی دود نہ جاؤ۔کیسے بتادوں کہ جانان کا سفر پھر سے شروع ہوگیا ہے۔کیونکہ میں ڈرتا ہوں تمہیں کھونے سے کہیں میرا ادھورا سا اظہار بھی تمہیں میری نظر سے دور نہ کردے۔کیونکہ چھ سال پہلے بھی میرے اظہار نے ہمیں دور کردیا تھا۔
ایک ڈر ایک خوف میرے اندر سرایت کرگیا ہےکہ کہیں پھر سے ہم دونوں کے درمیان ہجر کی طویل تر پرخار راہ نہ آجائے۔”
اس کی پشت سہلاتا وہ اپنی سوچوں پر بھی کڑا پہرہ بٹھاگیا تھا۔
“شام کو ریڈی رہنا۔میں ڈریس بجھوا دوں گا۔بیوٹیشن بھی آجائے گی”۔
اسے نرمی سے دور کیے وہ چہرہ ہاتھوں میں بھرگیا۔
مم میں حجاب۔۔۔”
“جو تمہارا دل چاہے وہ کرو۔میری جانب سے بے فکر رہو کہ میں تمہیں اس گلیمرس کی دنیا میں انٹروڈیوس کروانے کے لیے بے حجابی پر فورس کروں گا۔یا اپنی مرضی تم پر تھوپ دوں گا۔
اس دن ڈریسز بھی اسی لیے منگوائے تھے کیونکہ آخری بار اس طرح کے لباس میں تمہیں دیکھا تھا۔
تمہاری چوائس کا اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا۔”
اس کی وضاحت پر وہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔
“آپ واقع ہی میرے لیے اللہ کا انعام ہیں میری یقین کی شب ہیں۔”
وہ فرطِ جذبات سے اس کے سینے سے دوبارہ لگی تو دل کو کئی لمحے راحت کے نصیب ہوگئے۔


اشرف مجھے معیز کی ایک ایک پل کی رپورٹ دو۔وہ کہاں جارہا ہے کیاکررہا ہے۔اور علیہ کی سکیورٹی بڑھادو۔اور میں کچھ تصویریں بھیج رہا ہوں اسے سیٹ کرواؤ زرا اپنے سٹائل میں۔۔”
جی سر!! میں آپ کو کچھ دیر میں اپڈیٹ کرتا ہوں۔
وہ نئی ماڈل نیہا کا کیا بنا؟”
“سر ایک شوٹ تھی ان کا کنفرم ہوگیا ہے۔
ایک دو دن میں شروع بھی ہوجائے گا۔۔پر سر آپ کب واپس آئیں گے۔مسٹر چارلی کی کئی کالز آچکی ہیں”
“بس کچھ دن مزید۔ تم بس سب دھیان رکھو۔
معیز اگر احد کو کہیں لے کر بھی جاتا ہے تو بھی مجھے بتاؤ۔”
جی سر۔۔”
وہ فون کاٹتے سامنے لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوئے۔
جہاں کھلی ویب سائٹس ان کی توجہ کی مرکز تھی۔
پچھلے بارہ سال سے وہ اس کام سے منسلک تھے۔
فرانس سے لاہور کا سفر ان کے لیے آسان نہیں تھا۔
ان ویب سائٹس پر وہ لوگوں کی ڈیمانڈنگ ویڈیوز اپلوڈ کرکے دگنا پیسہ کمارہے تھے۔
آر جیکٹس کی ساتویں منزل میں نہایت قبیح کام فخر سے ادا کیے جاتے تھے۔
دا رئیل جیم کے نام سے بنی ویب سائٹ ہر ممالک میں ٹاپ وزٹ پر تھی۔اس کام کو وہ زوار علوی سے خفیہ رکھ کر نہایت تیزی سے پھیلارہے تھے۔
ہر مہینے کروڑوں روپے ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجاتے۔جو ان میں کام کے لیے مزید اشتیاق پیدا کرتے۔
آر جیکٹس محض ایک بہانہ تھا۔جس کی آڑ میں وہ پورنوگرافی کو تشکیل دیتے آسمان کی بلندیوں کو چھورہے تھے۔
اس ساتویں منزل میں یہ فحش کام زور زبردستی کے بجائے اپنی مرضی سے کیا جاتا تھا۔
شارف ابدال کے منفرد سفاک ذہن نے ہمیشہ منفرد کام ہی سوچا تھا۔
کئی لڑکے اور لڑکیاں خوشگوار طریقے سے تمام کام سنبھال رہے تھے۔
شارف ابدال لوگوں کے دماغ سے کھیلتے تھے۔ساتویں منزل کا پرسکون ماحول دیدہ زیب آرائش ہر برانڈ کی شراب کی سہولت سکون فراہم کرنے والی کئی ڈرگز ، غرض کئی شیطانی راہیں تھیں جو لوگوں کو اس کام کے لیے اکساتی تھی ان میں تحریک پیدا کرتی تھی۔
پورن دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ پاکستان میں دیکھاجاتا ہے۔اس شرمناک حقیقت سے لوگ منہ موڑکر پردہ ڈال لیتے ہیں۔لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے شاید کوئی قبول نہیں کرتا۔تبھی انہوں نے یہاں اس کی بنیاد رکھی تھی۔ یہاں ان کا کام آسانی سے اور نہایت تیزی سے پھیلا تھا۔


مشل کو اپنے کمرے میں دیکھتی وہ خوشگوار حیرت کا شکار ہوئی۔
دودن میں وہ پہلی مرتبہ تھا وہ کمرے میں آئی تھی۔
مشل!!” نرمی سے اس کے ہاتھ تھام کر وہ مسکرائی تھی۔
مشل نے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے۔
تم اتنا بڑا دھوکہ کیسے کرسکتی ہو؟”
“نن نہیں میں نے کوئی دھوکانہیں کیا۔میری بات سنو مشل۔۔”اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر اس نے دوبارہ اسے قریب کیا۔
“مشل میرا نکاح نہیں ہوا تھا۔معیز نے بس اس راز کی حفاظت میں میرا ساتھ دیا تھا۔
جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے”۔
“میں کچھ نہیں سمجھنا چاہتی لیکن ایک بات کہنا چاہتی ہوں تم نے دھوکہ کرکے اچھا نہیں کیا۔شارف بہت ڈپریس تھے۔”
“وہ جھوٹا آدمی ہے مشل تم کیوں یقین نہیں کرتی؟”
ماہ تاب چیختی اسے جنجھوڑ گئی۔جو بے تاثر چہرے کے ساتھ ماہ کو دیکھ رہی تھی۔
یقین کس پر کروں ؟” پاپاپر کروں تم پر کروں کس پر کروں بتاؤ مجھے۔اتنے سال میرے نکاح کی حقیقت مجھ سے چھپا کررکھی گئی۔اور بھی کئی باتیں ہیں جن کا مجھے علم ہی نہیں ہے۔تو کیسے کرلوں اعتبار؟
اب میرا کسی پر اعتبار کرنے کو دل نہیں کرتا”۔
“عاہن پر اعتبار کرلو وہ تمہیں کبھی دھوکا نہیں دے گا۔”
اس کی آنکھوں میں جھانکتی وہ مدھم سا بولی ۔
“تم اس شخص کو بھی نہیں جانتی جو دو دن سے مجھے ذلیل کرنے کی ٹھان چکا ہے۔پرسوں وہ میرے ناخن کاٹنے کے لیے ناجانے کہاں سے پلاس لے آیا تھا تبھی میں نے اس کی بازو پر کاٹا تھا۔اور کل رات وہ گھر بھی نہیں آیا۔منہ کے زاویے بگڑے تھے۔”
اس کی شکوہ سے پُر وضاحت پر ماہ مسکرائی تھی۔
“مشل اللہ پر یقین رکھو اور خود اپنی دل کی آنکھوں سے عاہن کو اپنے محرم کو دیکھو تو تمہیں اس شخص سے اچھا کوئی بھی نہیں لگے گا۔”
اس کے بال سنوارتی وہ نرمی سے پیشانی بھی چھو گئی۔
مشل اس کے عمل سے کانپ اٹھی تھی۔اتنی زیادتیوں اتنی دھتکار کر بعد بھی وہ اسے کیسے گلے لگارہی تھی۔
“مم میں چینج کرلوں ان ہیوی ڈریسز میں مجھے الجھن ہورہی ہے۔ ناجانے عاہن کب آئے گا ۔چچی نے کہا تھا یہ پہن لوں۔۔”
اس سے ہاتھ چھڑواتی وہ کمرے سے نکل گئی تھی۔
ماہ تاب آسودہ سی مسکرا کر ڈریس دیکھنے لگی جو کچھ دیر پہلے اجی رکھ کر گئی تھی۔


پہلو میں براجمان بلیک ساڑھی پہنے سر پر خوبصورت سا حجاب باندھے وہ شام کی دھڑکن بڑھا رہی تھی۔
نکھرا سا سراپا اس کی توجہ کا طالب بنا کئی سرد پڑے جذبات کو بھڑکانے کا موجب بنا۔
خود وہ بلیک پینٹ کوٹ پہنے بالوں کو ایک جانب جمائے اپنی دلفریب مسکراہٹ سے ماہ تاب کی آنکھوں کو سرور بخش رہا تھا۔
گاڑی میں پھیلی بھرپور مردانہ پرفیوم کی خوشبو جیسے ماہ تاب علوی کو سکون کی گہری رمک فراہم کی۔شام کی نگاہ بھٹک بھٹک کر اس ماورائی چہرے پر جانے لگی جو کسی کا بھی ایمان ڈگمگادیتی تھی۔
شام کے سائے بڑھنے لگے تھے۔
“وہاں تم بالکل بھی پریشان مت ہونا۔دیبا اچھی انسان ہیں۔تمہیں کسی بھی طرح اکیلا نہیں ہونے دے گی۔ایون تم دیبا کی کمپنی کافی انجوائے کروگی۔”
وہ کچھ بھی نہیں بولی۔اس کا دل دیبا کے نام سےویسے ہی بے قرارہوجاتا تھا۔
وہ اپنی کیفیت خود ہی نہیں سمجھ پارہی تھی۔
شام نے اس کا حسن بکھیرتا بے تاثرچہرہ دیکھ کر لب پھیلائے۔
کچھ دیر میں گاڑی ایک خوبصورت گھر کے سامنے رکی۔کئی اربعے پر پھیلا سبزے سے ڈھکا گھر جدید آرائشی روشنیوں سے روشن تھا۔
گاڑی پارک کیے وہ ماہ تاب کا ہاتھ جکڑےاندر کی جانب بڑھا۔
اندر محفل بقعہ نور بنی ہوئی تھی۔ایک چھوٹی سی گیٹ ٹو گیدر میں بھی شادی سا سماں تھا۔
کئی ستارے گروہ کی صورت باتوں میں مصروف محفل کا لطف لے رہے تھے۔
وسیع سبززار روشنیوں سے متعین سجے کئی ٹیبلز اور ان پر سجے لوازمات گویا ہر چیز نہایت شاندار تھی۔
رنگ وبو کی یہ محفل توجہ کی طالب تھی۔
شام نے نرمی سے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے پاس کیا تو وہ سانس روکتی ساتھ چپکی۔
ویلکم شام۔!!”
دیبا اپنے نازک سراپے سیاہ ساڑھی پہنے ہائی جوڑے اور خوبصورت میک اپ میں سہج کر چلتی ان کی جانب آئی۔
اس کا ملکوتی حسن دیکھتی ماہ تاب حیران ہوئی۔وہ میچور لیڈی تھی لیکن اس کا حسن اس کا سراپا کم عمر لڑکیوں کو بھی مات دیتا تھا۔کچھ اس کا خوشگوار میٹھا انداز۔”
شام دلفریبی سے مسکرا کر ان سے ملا۔
ویلکم ماہ تاب!!” دیبا نے اسے گلے سے لگایا تو وہ مسکراتی آگے ہوئی۔
“میرے چیف گیسٹ اتنی لیٹ آئے ہیں۔باقیوں سے میں کیا شکایت کروں۔؟”
میٹھا سا شکوہ سنتا شام کا قہقہ گونجا۔
ماہ تاب نے حیرت سے اس کا مسکرانا دیکھا جو کبھی اس کے سامنے قہقہ تو کیا مسکرانا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔
دل کی جھلستی حالت پر وہ بمشکل قابو رکھ پائی۔
اسے خود اپنی کیفیت سمجھ نہیں آرہی تھی۔
شام کی ہمراہی میں آگے بڑھتی وہ کئی فلمی ستاروں کی دنیا میں خود کو نامکمل محسوس کرنے لگی۔
“اپنا ازلی اعتماد بحال کرو ماہ تاب۔۔تم میرے ساتھ ہو”۔اس کی پشت پر رکھے ہاتھ اور کان میں سرگوشیوں پر ایک سرد سی لہر ماہ تاب کے وجود میں دوڑ گئی۔
“آؤ تمہیں کچھ لوگوں سے ملواتا ہوں اسے لیے وہ ایک جانب بڑھنے لگا۔
کئی لوگوں سے ملتی وہ اپنی بداعتمادی پر قابو پاچکی تھی۔
شام کو پروٹوکول دیتے لوگ ماہ تاب کو کچھ دیر کے لیے ساری پریشانیوں سے آزاد کرگیا۔
“تم یہاں بیٹھو میں ابھی آتا ہوں”۔اسے ایک جانب بٹھا کر وہ دیبا کی جانب بڑھا۔جہاں وہ کچھ مردوں کے نرغے میں کھڑی اسے بلارہی تھیں۔
شام ماہ کو وہاں نہیں لے کر جانا چاہتا تھا تبھی اسے یہاں بٹھایا تھا۔
ماہ تاب نے اسے روکنا چاہا لیکن دل مسوس کرتی وہ بیٹھی رہ گئی تھی۔


دیبا سے گفت وشنید میں مگن شام علوی کی نظر بھٹک کر ماہ تاب کی جانب اٹھی۔تو وہ بے ساختہ اسے دیکھتا رہ گیا۔لیکن فقط چند لمحے ،۔کیونکہ اس کی نگاہ شام پر ہی تھی۔
اس کی گود میں معاذ تھا جس کے گال چوم کر اس نے ملازمہ کے حوالے کردیا۔
شام کو اکثر لگتا تھا کہ ماہ تاب اسے بیش بہا دیکھتی ہے۔ان چند دنوں کی رفاقت میں وہ کئی بار نگاہوں کی تپش خود پر محسوس کرچکا تھا۔
وہ یہ راز جانتا تھا کہ ماہ تاب علوی اسے بنا پلک جھپکے چوبیس گھنٹے بھی دیکھے تو بھی سیر نہیں ہوپائے گی۔لیکن وہ ہر مرتبہ جھٹلاتا رخ موڑ لیتا تھا۔
وہ دیوانی سی ماہ تاب اس کی سردنگاہوں کو بھی امرت کا میٹھا دریا سمجھتی خوشی سے مسکرادیتی تھی ۔
“شام تم خوش قسمت ہو۔۔اور مجھے لگتا ہے تم عنقریب دیوانے بن جاؤ گے۔”
دیبا کی ذومعنی مسکراہٹ پر شام خفگی بھری نگاہ سے انہیں دیکھتا تنبیہہ کرنے لگا۔
“جانتے ہو اس وقت میرے ذہن میں ایک شعر شدت سے گردش کررہا ہے۔”
“دیبا یہ شعر اگر آپ مستحسن سر کے گوش گزاریں گی تو زیادہ اچھا رہے گا۔وہ آپ سے جیلس ہورہی ہے”۔
بھینچے لبوں سے بولتا وہ دیبا کے قہقے کا موجب بنا تھا۔
“نہیں یہ شعر تم پر اور ماہ تاب پر جچتا ہے۔اور کچھ دیر جیلس ہونے دو۔پتہ ہے جیلسی میں جذبات ابھر کر زیادہ نکھرتے ہیں۔تمہاری یہ سڑی ہوئی شکل دیکھ کر وہ جب تم پر چیخے گی کہ مجھےدیکھ کر کیوں نہیں مسکراتے مجھے کیوں نہیں دیکھتے پھر اسے بتانا کہ میں تمہاری کیا ہوں۔؟
شام نے دیبا کو دیکھا۔
“اسے بتانا کہ میں تمہاری بڑی بہن جیسی ہوں تم میرے لیے میرے چھوٹے بھائی جیسے ہو جسے میں اپنا بیٹا کہنے سے بھی گریز نہ کروں۔”
دیبا یہ منہ بولے رشتے۔۔۔”
” نہیں شام اپنی نیت کو شفاف رکھو دنیا تو سگوں کو نہیں بخشتی ۔۔بہرحال مجھے ماہ تاب کی میٹھی سی جلن کافی اٹریکٹ کررہی ہے۔۔”
ماہ تاب نے بے ساختہ پہلو بدلا۔
شام کی کسی سے طویل تر گفتگو دل میں ایسی بے چینیاں لائی تھیں کہ وہ لاکھ سنبھلتی لاکھ پردے ڈالتی لیکن اس کا چہرہ عیاں کررہا تھا کہ وہ اضطراب میں ہے۔شام کا کسی کے قریب ہونا اسے بے چین کررہا ہے۔
اچھا شعر تو سنو،، “
دوسری جانب موجود دیبا نے ماہ تاب کی نظروں کی تپش محسوس کرتے مزید گوہر افشانی کی۔
ارشاد !! “
شام نے ہاتھ کو ایک ادا سے سر سے لگایا تو دیبا مستحسن کے قہقے پھوٹ پڑے تھے۔
ماہ تاب علوی غیرارادی طور پر اٹھ کر ان کی جانب بڑھی۔ہوش تو تب آیا جب شام نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔خفت زدہ سی وہ اپنے عمل کی وضاحت بھی نہیں کرپائی۔
لیکن اطمینان سے اس کی بازو کو تھام لیا۔
“چلو اب تو ماہ تاب آگئی ہے۔شعر کیا پوری غزل ہوجائے تو کیا ہی بات ہے؟”
دیبا کو جیسے موقع مل گیا تھا۔شام نے لاکھ آنکھیں دکھائی۔لاکھ پہلو بدلا لیکن وہ بھی دیبا مستحسن تھی۔
ماہ تاب کے وجود کا روم روم سماعت سا بن گیا۔شام نے اس کا قریب ہونا کافی نوٹ کیاتھا۔لیکن محض خاموشی کا لبادہ اوڑھے رکھا۔
دیبا اب کچھ فاصلے پر جا کر کھڑی ہوئیں۔
مستحسن صاحب اپنی طرح دار سی بیوی کو دیکھتے ان کی طرف بڑھ آئے تو محفل زعفران زار بنتی جیسے لمحوں کو قید کررہی تھی۔
“کیا ہوا لگتا ہے دیبا کی شاعرانہ روح پھڑپھڑارہی ہیں”۔
مستحسن صاحب کی درست نشاندہی پر دیبا مدھم سا مسکرائی وہی ماہ تاب بھی ہلکا سامسکرادی۔اس کی ہلکی سی مسکراہٹ بھی مسمرائز کرنے والی تھی۔
شام کی نظروں نے بغاوت کرڈالی تھی کہ اس چاند چہرہ سے نگاہ ہٹانا ناممکن ہے۔پل بھر میں دونوں کی میٹھی نگاہیں ایک دوسرے میں جذب ہوتی دونوں کی ہی ماحول سے ماورا کرگئی۔
ہوش تو تب آیا جب غزل کی پہلی لائن کی ادائیگی بڑی ساز بھری آواز میں کی گئی۔
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کر دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کر دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کے خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں۔
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اسکی
سو ہم بھی اس گلی سے گزر کر دیکھتے ہیں
سنا ہے اسے ہے شعرو شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کر دیکھتے ہیں
سنا ہے دن میں اسے تتلیاں ستاتی ہیں۔
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کر دیکھتے ہیں
دیبا کی ساز بھری آواز کا سکوت ٹوٹا تو روئے زمین پر بکھرے باشندوں کے ہاتھوں کے ساز گونج اٹھے۔
وہ دونوں ہی جیسے اس بن موسیقی سے سجی غزل کے فسوں میں کھوئے تھے۔
گہری بھوری سی نگاہوں میں جذبات کے ستارے تھے تو مقابل کی گہری سیاہ غزال آنکھوں میں ان جذبات کو خوش امدید کہنے کو چاند اتر آیا تھا۔
ماہ تاب نے گھبرا کر نظر پھیری تو جمود ٹوٹتا شام علوی کو بھی تمام تر منظر سے بیزار کرگیا۔
ایک اس کاچہرہ ہی حسین تھا یاپھر شام علوی کو اس کے چہرے کے علاوہ ہر منظر ہی پھیکا سا لگنے لگا تھا۔
وہ سمجھ ہی نہیں پایا تھا۔
محض دیبا کی شوخ بھری نگاہ اور ذومعنی مسکراہٹ تھی جو شام علوی کو چھینپنے کا اشارہ دے رہی تھی۔
“یہ غزل ایک پیارے سے کپل کے نام تھی”۔ان دونوں کا ہاتھ تھامتی وہ سبزازار پر پھیلی عوام کے سامنے کرتی گویا ہوئیں۔
ماہ تاب نے ہزاروں نظروں کو خود پر محسوس کیے بے ساختہ شام علوی کا ہاتھ جکڑا۔
حجاب کے ہالے میں لپٹی ماہ تاب علوی کا ہاتھ شام نے مضبوطی سے تھام کر اس وقت اپنے ساتھ کا یقین نہایت بردبار طریقے سے دلوایا تھا۔
ریلکس ہوجاؤ میں یہی ہوں۔۔ “
اپنے ساتھ کا احساس دلاتا کندھے پر ہاتھ پھیلاکر قریب کھینچا تو وہ بالکل شام علوی کے ساتھ چپکی۔
“شام تم ماہ تاب کو گھر دکھاؤ۔اب تو یہاں آنا جانا ہوتا رہے گا۔”
دیبا نے ایک بار پھر شرارت کی تھی۔
دیبا کی گہری بات پر وہ اس نے پرشکوہ سا شام کو دیکھا جو مسکرارہا تھا۔ماہ تاب کے چہرے پر پھیلی سرخی اس کے دل میں کئی شوریدہ جذبات کو دہکا گئی تھی۔
اس کاہاتھ تھامے وہ اندر بڑھنے لگا۔
ماہ تاب نے ہاتھ جھٹکنا چاہا لیکن شام نے گرفت مضبوط کی تھی۔
خوبصورت آرائشات سازوسان سے سجا وہ گھر شام کے گھر کے مقابلے میں تھا۔
اندر گہری خاموشی تھی۔
“ہاتھ چھوڑدیں شام میں چل سکتی ہوں۔”
اس کی ٹھنڈی سی آواز پر وہ سمٹا سا مسکرایا۔
میں جانتا ہوں وہ آگے بڑھنے لگا مگر ماہ تاب تھم گئی تھی۔
پل بھر میں اسے دیوار سے لگاتے وہ اس کے قریب ہوا تو ماہ کا سانس سینے میں اٹکا۔پیشانی پر پسینہ ابھر آیا۔
ہم۔۔کک کسی کے گھر۔۔۔”وہ منمنائی تھی۔
وہ قدرے قریب جھکتا اس کی رہی سہی ہمت بھی ختم کرگیا۔ماہ تاب نے ججھکتے ہوئے اس کا کندھا تھاما۔
“جب تم دیبا سے جیلس ہوکر بے چین ہوتی ہو۔ تو اس دل کو ایک راحت سی محسوس ہوتی ہے۔کہ کچھ سلگنے کا حق تم بھی تو رکھتی ہو۔
کیونکہ پچھلے چھ سال سے میرا دل بھی بار بار تڑپا تھا یہ سوچ کر کہ ماہ تاب علوی کسی اور کو میسر ہوگی۔کسی اور کے پہلو میں سرشار سی براجمان ہوگی۔یہ سوچیں میرے زخموں پر نمک پاشی کا کام کرتی تھیں۔
اور اس دن تمہیں شارف ابدال کے کمرے میں دیکھ کر میری ہر امید دم توڑ گئی۔اور میرے ضبط کی طنابیں بھی ایسے ہی بکھرنے کو تیار تھیں جیسے آج تمہارا یہ خوبصورت سفید چہرہ ضبط کی سرخی کی غمازی کررہا ہے۔ “
اس کی کان کی لو کو لبوں سے چھوئے وہ ایک برقی سے ماہ تاب کے وجود میں دوڑا گیا تھا۔
وہ بہک رہا تھااس کا نازک سراپا شام علوی کے دل پر بجلیاں گرارہا تھا۔اپنے جذبات پر قابو رکھ پانا شام علوی کے لیے مشکل بن رہا تھا۔
شش شام۔۔۔،، وہ کندھے سے اسے دور ہٹانے لگی جب وہ خمارپن میں الجھا کان سے تھوڑا نیچے اپنے لمس کی تاثیری پر ماہ تاب کی رہی سہی ہمت بھی ختم کرگیا تھا۔
وہ سانس کھینچتی اسے خود سے دور دھکیل گئی ۔
جبکہ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنی خماری پر شرمندہ ہوا تھا۔


جاری ہے