No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
وہ تمہارے باپ کی عمر کا ہے ، کچھ شرم ہے؟ آویزے اتارتے اس نے آئینے میں سے ہی اس کو تنبیہہ کی تھی۔
لیکن عبیحہ مراد مزے سے بیڈ پر لیٹی اسی ساحر کے خیالوں میں مگن رہی ۔ وہ شاید ان گرے آنکھوں پر دل ہار بیٹھی تھی،
ماہ تاب نے سر جھٹک کر ایک طائرانہ نگاہ اس نے اپنے سراپے پر ڈالی۔وہ کافی خوبصورت لگ رہی تھی۔یہ خیال تھا یا درست تجزیہ؟
وہ نہیں جانتی تھی۔لیکن شہرام علوی کاعکس آنکھوں میں نمایاں ہوا تھا۔دل چاہا ایک بار وہ پریوں کی طرح اوجھل ہوکر اس شخص کے سامنے چلی جائے۔اور وہ ہاتھ تھام کر اسے پہروں اپنے ساتھ کھڑا رکھے۔
اس کے حسن کو لفظوں میں ڈھال کروہ ماہ تاب علوی کو مغرور بنادے۔
ان لفظوں کی چاشنی تاعمر ماہ تاب سے لپٹی رہے۔۔لیکن وہی حسرت ناتمام،ایسی حسرت جو کبھی ممکن نہیں ۔
دل کی دھڑکنیں اس شخص کانام لے کر اس وجود کو ہلکان کرنے لگی۔سفیدی میں سرخی گھلنے لگی۔اس شخص کا سوچنا بھی گویا ماہ تاب علوی کی سماعت کو گویائی کو بینائی کو مہکا سا دیتا تھا۔
وہ پری سوچتی بھی اس شخص کو تھی جس کی حیثیت بقول اس کی ماں کے ایک ٹکے کے برابر بھی نہیں تھی۔
“تم بھی اس شخص کے عکس میں کھوگئی ہوناں”۔عبیحہ کی آواز پر نیکلس پر جما ہاتھ یکلخت حرکت میں آیا اس نے تعجب سے عبیحہ کو دیکھا۔
اس کےکندھے پر تھوڑی ٹکائے وہ شرارت پر آمادہ تھی۔
“میری چوائس اتنی بری نہیں ہے”۔
“انکل کو اگر میں نے بتادیا ناں کہ عبیحہ ایک انکل میں انٹرسٹ لے رہی ہے تو کالج جانا بند اکیڈمی جانا بند غرض سب کچھ بند ہوجائے گا”۔
دہکتی نگاہوں نے آئینے میں سے ہی وار کیا تھا۔ لاپرواہ بنی وہ مصنوعی حسن کو صاف کرنے لگی۔
جیلس لوگ!!” تم جیسی لڑکی کو کیا پتہ ہے کہ وہ انکل نہیں شارف ہیں۔ آ ہینڈسم مین!! جس کی ساحرانہ شخصیت پر میں دل ہار بیٹھی ہوں”۔
عبیحہ کی نوٹنکی شروع ہوچکی تھی۔ماہ تاب علوی کو مزید کچھ کہنا فضول ہی لگا تھا۔
❤❤❤
آج میرے ساتھ چلنا ہے۔اور میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا۔معیز کی دھمکی پر اس نے کتاب سے سر اٹھایا۔
کہاں چلناہے؟؟ اور انکار کی صورت میں کیا ہوگا۔؟ ابرو اچکائے اس نے معیز کا چہرہ جانچا۔
آج تمہارا فوٹو شوٹ ہے۔سمجھ لو تمہاری کامیابی کی پہلی سیڑھی۔
معیز!! تم مجھےزبردستی ماڈلنگ میں کیوں لے جانا چاہتے ہو۔تم جانتے ہو میرے اتنے وسائل نہیں ہیں۔میں کبھی بھی اس فیلڈ کا انتخاب نہیں کرتا اگر مجھے عاہن زبردستی نہ کرتا۔اسے شوق تھا کہ اس کا بھائی بھی اس کی طرح میڈیا میں انٹرسٹ لے۔ورنہ میں جانتا ہوں نہ میری شکل ایسی ہے نہ میری حیثیت،،میں نے تھک ہار کر اپنے بابا کی دکان ہی سنبھالنی ہے”۔
دو ٹوک انداز میں اسے باور کرواتا وہ دوبارہ کتاب سامنے کرتا مگن ہوا۔
تم اگر اپنی شکل کو غور سے دیکھو تو شاید تمہیں میرا چہرہ بھی پھیکا لگے۔
تمہارے سانولے رنگ کے پیچھے ایک خوبصورتی کا جہان ہے۔اور اب تو یہ سانولا بھی نہیں رہا پھر بھی تم اتنی ناامیدی پر ہو”۔
تم مجھے ماڈلنگ میں کیوں لانا چاہتے ہو؟؟ اس کا جواب مجھے آج تم دے ہی دو۔ ؟
شہرام بک سائیڈ پر رکھے اس کے برابر براجمان ہوا۔
“کیونکہ میں تنہا نہیں رہنا چاہتا مجھے تمہارے جیسے سہارے کی شدت سے ضرورت ہے”۔صاف گوئی کا مظاہرہ کرتا وہ شہرام کو چونکا گیا۔
تم تنہا کیسے ہو؟ تمہارے پاس تو سب کچھ ہے۔اور ہم تو دوست بھی ہیں۔پھر یہ کیسے کیونکر ممکن ہے کہ تم تنہا ہو۔؟”
معیز رؤف کے چہرے پر تلخ سی مسکراہٹ آکر معدوم ہوئی جو شہرام علوی کی نظر سے قطعی اوجھل نہیں رہی تھی۔
“پیسہ دھن دولت سب کچھ نہیں ہوتا،،کچھ رشتے بھی ضروری ہوتے ہیں سمجھ لو میں ان رشتوں کے معاملے میں حددرجہ غریب ہوں”۔
اس کے کندھے پر سر رکھتا وہ دلفریب سا بولا۔
“تم میرے ساتھ ماڈلنگ میں قدم رکھو سچ کہہ رہا ہوں اس کے بعد تمہارااس کام سے پیچھے ہٹنے کا دل نہیں کرے گا۔تم نے کردکھانا ہے۔میں کچھ لوگوں کی آنکھوں میں تمہارے حوالے سے حیرانگی دیکھنا چاہتا ہوں۔میں دکھانا چاہتا ہوں کہ ہر شخص طاقت وہمت رکھتا ہے۔ہر شخص کمزور نہیں ہوتا”۔
بات مان لو میری،، بس ایک فوٹو شوٹ ہے۔جس سے تمہارے قدم جم جائیں گے”۔
اس کے بعد تم مجھے فورس نہیں کروگے ۔شہرام نے دوٹوک بات کی۔
“ٹھیک ہے اس کے بعد دیکھیں گے لیکن آج شام ریڈی رہنا”۔ہمیشہ کی طرح گال کھینچ کر اس نے شہرام کو چڑایا تھا۔اس کی بیہودہ حرکت پر محض اسے گھور کر رہ گیا تھا۔
❤❤❤❤❤
ایک طویل فوٹو شوٹ کے بعد وہ دونوں ریسٹورنٹ سے کھانا کھاکر ہوسٹل لوٹے تھے۔
قریباً چالیس پچاس کے قریب اس کی مختلف انداز میں تصاویر لی گئی تھیں۔فوٹو گرافر نے ہزاروں پوز بنوا کر شہرام کے وجود میں تھکاوٹ انڈیل دی تھی۔
فوٹو گرافر کا منہ دیکھا تھا ؟؟ شہرام نے چھبتی نگاہ معیز پر ڈالی جو آتے ہی بیڈ پر گرسا گیا تھا۔
ہاں دیکھا تھا۔ٹکلو کافی پیارا لگ رہا تھا۔اور کیمرے کو دیکھتے ہوئے اس کے منہ کے زاویے بہت پیارے بن رہے تھے جسے دیکھ کر میری ہنسی آؤٹ آف کنٹرول ہورہی تھی”
شٹ اپ یار!!”میں وہ نہیں کہہ رہا، وہ میری طرف ایسے دیکھ رہا تھا جیسے میں کوئی عجیب مخلوق ہوں”۔
“ہاں عجیب مخلوق تو ہو۔، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔تم عجیب سے عجیب تر ہو پر پھر بھی مجھے عزیز سے عزیز تر ہو،” معیز رؤف کے لیے سیریس ہونا ناممکن کاموں میں سے ایک تھا۔
اسے حیرت ہورہی تھی کہ میں ایک عام سا شخص کس دنیا میں داخل ہونے کے خواب دیکھ رہا ہوں۔تلخ حقیقت ظاہر کرتا وہ تلخ ہی مسکرایا تھا۔
مجھے پتہ تھا تم یہی بکواس کرو گے۔
لسن بات سنو،، غصہ نہیں کرنا۔ ، شہرام دوبارہ اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔
سناؤ!! معیز چت لیٹا موبائل میں مگن ہوا۔
“تم کہتے ہو میں خوبصورت ہوں۔لیکن مجھے کیوں اپنی خوبصورتی نظر نہیں آتی۔؟”
معیز اس کے سوال پر چونکا مگر پھر مسکرایا تھا۔
شہرام !! “ناشکری، ناشکری انسان کو بدصورت بناتی ہے۔ہر شخص کو اپنے اندر برائی ڈھونڈنے کی عادت ہوتی ہے۔تم آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر گھنٹوں اپنے نقوش کو کھوجتے رہو تم اپنی خوبصورتی دیکھنے کے بجائے بدصورتی تلاش کرو گے۔اور پھر اس بدصورتی کو کھوج کر سوچوں میں ناامیدی لاؤ گے،تم تمنا کرو گے کاش یہ نقش ایسےہوتے ویسے ہوتے۔لیکن تم شکرادا نہیں کرو گے کہ اللہ پاک نے انسان کو مکمل بنایا ہے۔کیونکہ انسان فطری ناشکرا ہے وہ زیادہ کی چاہ میں تھوڑے کو کھودینا چاہتا ہے۔”
معیز رؤف بظاہر لاپرواہ سا شخص ،اتنی گہری سوچ رکھتا تھا شہرام کے لیے یہ تعجب کی بات ہی تھی۔
“تم کسی بھی ایکٹر ماڈل یا کسی بھی فیمس شخص کی ہسٹری نکال کر پڑھ لو، کوئی بھی سونے کا نوالہ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوا سب نے محنت کی کسی نے باپ کا نام استعمال کیا لیکن قدم جمانے کے لیے کچھ نہ کچھ بدلے میں دیا بھی ہے ۔اور یہ جو خوبصورت چہرے سکرین پر نظر آتےہیں؟؟ کیا انہیں ایسے ہی حسن سے نواز دیا گیا۔قطعی نہیں ، فیشل، انجیکشن ،سرجری ، کئی طرح کے ٹریٹمنٹ کے بعد خوبصورتی ان کے حصے میں آئی ہے۔
شوبز میں سو میں سے اسی فیصد لوگوں کی خوبصورتی مصنوعی ہے۔ کیا وہ گھبرائے کبھی؟” انہوں نے اس بارے میں کچھ بتایا ؟؟ قطعی نہیں کیونکہ یہ اٹل حقیقت ہے جو سب جانتے ہیں، یہ میڈیا نام ہی جھوٹ کا ہے، یہاں اگر اچھے لوگ ہیں تو برے لوگ بھی ہیں ۔خوبصورت ہیں تو بدصورت بھی ہیں۔بس اپنی ہمت حوصلے اور لگن کی بات ہوتی ہے ، تم اپنے اندر ہمت پیدا کرلو تم خود کو مضبوط بنالو۔، دنیا کو اگر جھکانا چاہتے ہو تو تمہیں سربلند کرنا ہوگا”۔
شہرام کی ساری حسیات گویا اس شخص کے لفظوں نے چھین لی تھی۔
کل ایک ٹریٹمنٹ ہے بارہ بجے تک ریڈی رہنا، اب مجھے ڈسٹرب نہیں کرنا، اس کو سن سا بیٹھا دیکھ کر معیز رخ موڑ گیا تھا۔
جبکہ شہرام ہوسٹل کی کھڑکی کے پاس آتا بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا ،
معیز نے لفظ بہ لفظ حقیقت بیان کی تھی جسے شہرام علوی چاہ کر بھی نہیں جھٹلا سکتا تھا۔
کھڑکی سے آتی سرد ہوا کا ٹکراؤ دل و دماغ کو بھی فرحت بخش کر خیالات کی رو کو بھٹکارہا تھا۔اور آج بھی اس اندھیری رات میں ماہ تاب علوی کا عکس چاند کی میٹھی کرن جیسا ہی تھا۔
❤❤❤❤❤
چھ منزلہ ایلومیینم کی بنی یہ عمارت اپنی دیدہ زیب خوبصورتی اور ڈیزائن سے مکمل اپنی جانب متوجہ کرنے کا ہنر رکھتی تھی،
یہ دیدہ زیب عمارت کے پہلے تین فلور پر خاص میٹریل سے بنے جیکٹس اور کوٹ ڈیزائن کیے جاتے تھے،
جبکہ فرانس میں موجود ” آر پرفیوم ہاؤس” شارف ابدال کا ابتدائی بزنس تھا، فرانس میں بہترین خوشبو کی اماہ جگا اگر کسی کو کہا جاتاتھا تو وہ آر پرفیوم ہاؤس تھا، خوشبو تو الگ بات ان کی نازک کانچ کی مختلف اشکال میں ڈھلی بوتل اور بوتل میں رنگا رنگ محلول ہی مقابل کو اپنی جانب کھینچ لیتا تھا، بلاشبہ انہوں نے پرفیوم کا نیا شاہکار ہی ہر مرتبہ متعارف کروایا تھا۔
فرانس کی سب سے مشہور خوشبو اور دیدہ زیب پرفیوم ” آئس ڈیور “جس کی خوشبو کئی عرصے تک مارکیٹ میں مشہور رہی تھی ، آر پرفیوم کی ہی مرہون منت تھی،
شارف ابدال نام ہی ترقی کا تھا، کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں قدرت نے ایسا مخصوص ہنر رکھا ہوتا ہے کہ وہ پانی کو بھی چھولیں تو وہ بھی سونا بن جائے ،
جیسے شارف ابدال بھی اسی ترقی کا نام تھا پانی کو چھو کر سونا بنادینا،
چند عرصہ پہلے خوشبوؤں کی دنیا چھوڑ کرشارف ابدال نے پاکستان کا رخ کیا،جہاں اپنی عقل اور ہنرکو بروئے کار لاکر انہوں نے دیدہ زیب ڈیزائن کے کوٹ اور جیکسٹس کا کاروبار شروع کیا، اعلیٰ ذہنی صلاحیت کے کارن یہ کام کم عرصے میں ہی بلندی پر پہنچا کہ کئی بیرون ممالک میں ان کے ڈیزائن کو پسند کیا جانے لگا ،
ہر ہفتے ایک خاص سٹاک بیرون ممالک درآمد کیا جاتا تھا ۔
چوتھے فلور پر ان کا آفس موجود تھا، جہاں اس وقت وہ زوار علوی کے ساتھ محوِ گفتگو تھے،
گلاس ٹیبل اور ان پر رکھی چند فائلز، جن میں کئی خاکے موجود تھے، ایک جانب گرے کاؤچ جبکہ سینٹر میں ایک ٹیبل پر سفید کرسٹل واز موجود تھا۔
شیشے کی دیواروں سے بناوہ کیبن نماآفس ان شیشوں میں ہزاروں راز مدفن کیے ساکت تھا۔
“میں نے بات کی تھی لیکن وہ مانتا ہی نہیں ہے۔پر تم پریشان نہ ہو میں نے اسے دوبارہ اسی کام کے سلسلے میں بلایا ہے۔اس مرتبہ اسےبات ماننی پڑے گی۔”
شارف میں اتنی جلدی بھی نہیں چاہتا لیکن مجھے اندازہ ہے جس دن ابو کا مجھ سے سامنا ہوگیا انہوں نے وہ خواہش فوراً ظاہر سامنے رکھنی ہے۔اور میں انکار نہیں کرپاؤں گا،
“مجھے صرف ماہ تاب کے اٹھارہ سال کا ہونے کا انتظار ہے۔اس عرصے میں قطعی نہیں چاہتا کہ ابو کا یا میرا آمنا سامنا ہو”۔
زی” مانتا نہیں ہے ورنہ میں دیر نہیں کرتا۔لیکن خیر اس مرتبہ میں ضرور دباؤ ڈال کر کچھ کرتاہوں”۔
کرسٹل آنکھیں چمکتے گلاس پر تھیں۔جس میں موجود محلول کو وہ گھونٹ گھونٹ حلق سے اتاررہے تھے۔
“کاش تم تھوڑے سے کم عمر ہوتےتو میں ماہ تاب کو تمہارے حوالے کردیتا”۔
قدرے شوخ سے لہجے میں کہتے وہ کندھے پر تھپکی بھی دے گئے۔
“میں ابھی بھی جوان ہوں۔،شاید تمہاری نظر کمزور ہے”۔
مونچھوں تلے لب ہلکے سے مسکائے تھے۔
“ہاں شاید میری نظر کمزور ہے۔لیکن دنیا داری بھی دیکھنی پڑتی ہے”۔
دنیا کی پرواہ کروگے تو اپنی پرواہ کرنا بھول جاؤ گے۔بہرحال” زی “کو آنے دو پھر معاملات دیکھتےہیں۔
اس پر تھوڑا ذہنی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ فوراً مان جاتا ہے”۔
“میں انتظار کروں گا کہ وہ ذہنی دباؤ تمہارے بیٹے کے لیے کارآمد ثابت ہو”،
“پریشان نہ ہو،” زی “کی کمزور نبض کو دبانا میں اچھے سے جانتا ہوں۔
فلحال انجوائے کرو اور انجوائے کرنے دو”۔کاؤچ پر قدرے پھیل کر بیٹھے شارف صاحب نے گلاس لبوں سے لگایا تھا۔
زوار صاحب کانچ کی میز پر پاؤں جماتے گہرے کش لینے لگے۔آفس کی پرسکون فضا میں سفاکیت کا دھواں دھیرے دھیرے پھیلنے لگا تھا۔عنقریب وہ دھواں سارےماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔
❤❤❤❤❤
کالج سے باہر قدم رکھتے ہی وہ یکلخت ٹھٹکی۔
یہ اتفاق تھا یا نظر کا دھوکہ ؟؟ ماہ تاب کو یقین کرنا مشکل لگا۔
سامنے وہ شہرام علوی ہی تھا۔جو ماہ تاب کے کالج کے باہر موجود تھا۔نکھرا نکھرا خوبرو سا شہرام علوی ،عام سے شہرام علوی سے قدرے مختلف،
گردن کے گرد لپٹا ڈوپٹہ اس نے بےساختہ سیدھا کیا۔وہ آہستہ قدم چلتے اس کی جانب ہی آرہا تھا۔
قدموں کی دھمک جیسےدل پر محسوس ہوئی۔گال مقابل کو سامنے پاکر تپ اٹھے تھے۔
آج اتنے عرصے بعد وہ شخص سامنے آیا تھا۔ماہ تاب کو لگا وہ خواب تھا جو چھونے سے ٹوٹ جائےگا۔
آنکھوں میں ہجر کی کرچیاں جیسے وصل کے پھولوں میں بدلنے لگی تھیں۔
سنہری رنگت اس شخص کو سامنے دیکھ کر ہی دہک اٹھی۔
مقابل کی حالت بھی مختلف نہیں تھی۔سفید لباس میں ملبوس وہ پری پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوچکی تھی یا پھر یہ محبوب کی نظر کا کمال تھا۔
کیسی ہیں ماہ تاب؟”
آواز کا فسوں خواب کی کیفیت کو توڑ گیا۔وہ مجسم حقیقت بنا سامنے تھا۔
چہرے کی بےیقینی پر سنجیدگی امڈ آئی تھی۔
آپ یہاں کیا کرنے آئےہیں ؟”
وہ اردگرد دیکھتی سپاٹ سا بولی۔
“کیا اتنی اجنبیت ہمارے درمیان حائل ہوچکی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے؟”۔
“آپ میرے کزن ہیں ،چچا کے بیٹے۔اور کزنز کبھی راہ میں ملنے نہیں آتے”۔
لفظ بہ لفظ شہرام علوی کو لوٹایا حساب برابر کیا گیا تھا۔
“ہاں چچا کے بیٹے راہوں میں ملتے اچھے نہیں لگتے لیکن جب حیثیت اونچی ہوجائے تو احیتاط کرلینی چاہیے”۔
لبوں پر پرمدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی۔
اس مسکراہٹ کو دیکھنے کے لیے اس نے ناجانے دل نے کب سے امیدیں باندھی تھیں۔
“مم میری حیثیت تو آج بھی وہی ہے شہرام، میں تو آج بھی آپ کی توجہ کی طلبگار ہوں۔میرا دل تو آج بھی آپ کو پکارنے کے لیے سدا بےقرار رہتا ہے۔میری کتابیں تو آج بھی شہرام علوی کالمس ڈھونڈتی ہیں۔ “
کایا پلٹ ہوئی تھی شہرام کو لگتاتھا وہ لڑکی کٹھور بن جائے گی لیکن وہ تو آج بھی اسی مقام پر رکی تھی جہاں وہ اظہار کرکے گئی تھی۔
شہرام کی نگاہوں میں سرد مہری سی ابھر آئی تھی۔
ماہ تاب!!
“جاناں کہیں ،، ایک بار جاناں کہہ دیں۔اس کے بعد کوئی خواہش کوئی ضد نہیں کروں گی۔
اس نام کو سن کرشاید ماہ تاب پھر سے جی اٹھے”۔لہجے کی فریاد پر دل تڑپ اٹھا تھا۔
“ماہ تاب جی رہی ہے۔، شہرام بھی تو جی رہا ہے”۔پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے وہ گردن جھکائے بولا۔لب سکڑ سے گئے تھے۔
آپ ایک بار پھر دل کے زخم ہرے کرنے آئے تھے ؟؟ مبارک ہو آپ کامیاب ٹھہرے “
میں بس حال پوچھنے آیا تھا۔
صفائی مت دیں ،، آپ دل کا درد بڑھانے آئے تھے بڑھا لیا اب جائیں۔میرے لیے آپ کی یہ یاد کافی ہے۔میں آپ کی دیوانی ہوں ہمیشہ رہوں گی تاعمر رہوں گی ،، آپ چاہیں میری محبت کو دھتکاریں ،،یا مجھے جان سے بھی مار دیں لیکن میں آپ سے محبت کرتی ہوں سچی محبت جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔”
داسی بنی وہ لڑکی شہرام علوی کو زمین میں گاڑ دینے کے لیے کافی تھی۔
اپنی معصومیت تباہ کررہی ہو۔ یہ عمر آپ کے کچھ بن جانے کی ہے۔، اس فضول گوئی سے جان چھڑوا لو گی تو شاید اپنی منزل کا تعین کرلو گی۔
“جو میں بننا چاہتی تھی وہ اس زبان نے بننے نہیں دیا۔اب کوئی حسرت باقی نہیں ہے۔ایک آپ کی تمنا ہے جو تاعمر رہے گی۔بس ایک مرتبہ مجھے پکار لیجیے گا میں سب بندھن توڑ کر آؤں گی ،،
ہارن کی آواز پر یکلخت وہ سفید پڑی تھی۔
بب بابا!! ماہ تاب کی آواز پر شہرام بھی پیچھے مڑا۔
سیاہ چمچماتی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر کوئی اجنبی براجمان تھا۔حلیے سے وہ ڈرائیور ہی لگ رہا تھا۔
شہرام نے منہ موڑ کر ماہ تاب کا چہرہ دیکھا جس پر اب ہوائیاں کم ہی تھی۔
“اپنا خیال رکھنا اور یقین رکھنا ماہ تاب سے جاناں بننے کا سفر شاید دوبارہ شروع ہوجائےگا”۔
ذومعنی سا انداز تھا لیکن آج بھی ماہ تاب علوی کے حواس اپنی جگہ پر نہیں تھے تبھی دھیان نہیں دے پائی۔
اس آنے والے اجنبی نے ماہ تاب علوی کی ساری توجہ کھینچ لی تھی شہرام علوی کی بات کیاخاک سمجھ پاتی۔
اس کو چپ دیکھ کر ایک نگاہ الوداع ڈالتا واپس مڑ چکا تھا۔جب کہ ماہ تاب علوی سانس بحال کرتی گاڑی کی جانب بڑھی تھی۔
❤❤❤❤❤❤
ریجیکٹ!! ہاہ،،یہی ہونا تھا۔
گہری سانس فضا کے سپرد کرتا وہ بیڈ پر چت لیٹا تھا۔لبوں پر تلخ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
معیز !! ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں کے حصے میں ریجیکشن ہی آتی ہے۔تم یہ پورٹ فولیو جس بھی ماڈلنگ یا ایڈ ایجینسی کو سینڈ کرو گے سب کی جانب سے ریجیکشن ہی ملے گی۔
کیوں؟؟ کیونکہ ہم عام لوگ ہیں ہمارا اس دنیا میں کوئی مقام نہیں یہ دنیا امیروں کی ہے۔،،اب تمہارا شوق بھی پورا ہوا اور میری ذمہ داری بھی۔
تم نے کہا تھا ،تم دوبارہ مجھے فورس نہیں کروگے،تو یاد رکھنا دوبارہ بالکل بھی فورس نہیں کرنا۔کیونکہ مجھے ایک اور جگہ سے جاب کی آفر آئی ہے۔میں اپنا علم ہی دوسروں تک پہنچانے کا زریعہ بنوں گا”۔
معیز آنکھوں کو سکوڑے لبوں پر مٹھی جمائے گہری سوچ میں تھا۔
!! ہمت مرد مددِ خدا، سرد ساانداز تھا لیکن شہرام علوی کو چونکا گیا تھا۔
پہلی مشکل پر ہی ہار جانے والوں کو کبھی منزل نہیں ملتی۔اب وہ ایک ہاتھ کی مٹھی بنائے دوسری ہاتھ کی ہتھیلی پر مار رہا تھا۔
شہرام نے واضح اس کی حرکت دیکھی۔یکلخت اس نے مٹھی کو زور سے ہتھیلی پر مارا تھا۔
تھپڑ مارنے جیسی آواز شدت سے ابھری تھی۔
معیز نے ایک بار پھر ہاتھ پوری شدت سے مارا۔
کیا بدتمیزی ہے؟”
اسے بازو سے جکڑ کر وہ برابر کھڑا کرچکا تھا۔
بدتمیزی نہیں زندگی جی لینے کا ایک اصول سکھارہا ہوں۔
اس گتھی کو سلجھالو، اس ٹرک کو آزماکر دیکھو سمجھ میں آجائےگی۔
چلتا ہوں برو!! ڈیڈ نے ایک بار پھر بلایا ہےاس مرتبہ شاید چند مہینوں بعد لوٹوں”۔
تمہاری سٹڈی؟؟ اس کا کیا بنے گا۔
میں نے سمسٹر فریز کروالیا ہے۔فکر ناٹ ،،
I’ll be back soon
ہمیشہ کی طرح وہ گلے لگ کر گال پر شرارت کرتا کمرے سے تیزی سے نکلاتھا۔
آج شہرام علوی نے اس کی کسی حرکت پر ردِعمل نہیں کیا تھا۔
کیونکہ وہ ایک الجھی ڈور اس کے ہاتھ میں تھماکر فرار ہوچکاتھا۔
❤❤❤❤❤
آج ناجانے کتنے عرصے بعد لبوں پر مسکراہٹ نے احاطہ کیاتھا۔
آج وہ سیاہ آنکھیں مزید روشن تھیں۔آج محبوب کادیدار نصیب ہواتھا۔بھلے محبوب نے اقرار نہیں کیاتھالیکن انکار بھی تو نہیں تھا۔
آج شہرام کی جاناں ہوا کی سرگوشیوں کو سن رہی تھی۔جو میٹھے گیت سناکر محبت کے سندیسے دیتی جھوم رہی تھیں۔
چھوٹے سے گیراج میں ڈوپٹے کو لہراتی وہ خوشنما سے قہقے لگاکر اپنی خوشی کو بیان کرتی دیوانی ہوئی تھی۔
مشل علوی نے اسے عجیب و غریب انداز,سے دیکھا۔ہمیشہ کی طرح سرجھٹکتی وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
بوا!! نیلا آنچل لہراتی وہ بوا کو بھی گھماتی چہچہائی تھی۔
اس گھر میں واحد ماہ تاب علوی تھی جس سے بوا(جمیلہ)چند لفظ کہہ لیاکرتی تھیں۔اور ماہ تاب علوی اس سے دل کی باتیں کرلیتی تھی۔
بوا آج میں بہت خوش ہوں آج کچھ میٹھابنائیں۔
جائیں ناں بوا کھیر یاپھر ڈیزرٹ بنائیں۔یا پھر کیک بس میٹھا ہونا چاہیے ،
ضرور گڑیا!!
آپ کے لیے تو میں سب بناسکتی ہوں۔اس کا گال سہلاتی وہ اندر کی جانب بڑھیں۔
جبکہ وہ گول گول کھلے سنہری بالوں کے ساتھ گھومتی مسکرائی تھی۔
یکلخت گھومتی وہ کسی چٹان سے ٹکرائی۔خود کو گرنے سے بچانے کے لیے مقابل کے کندھے پر ہاتھ جماکر خود کو گرنے سے بمشکل بچایا۔
جبکہ مقابل نے حصار دے کر اسے تھام لیا تھا۔
شارف صاحب کو دیکھتی وہ سہمی تھی۔مسکراہٹیں سمٹ کر اوجھل ہوئی۔چمکتی آنکھوں پر اوس گری۔
سب رنگ پھیکے پڑے سیاہی میں ڈھل گئے۔
کندھے سے ہاتھ ہٹاتی وہ سنبھلی جبکہ اس شخص نے بھی حصار توڑا۔
آ۔۔۔آئی ایم سس سوری!!
شش !! مقابل نے بےباکی سے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔
ماہ تاب تڑپ کر فاصلے پر ہوئی۔اور تعجب سے اس شخص کودیکھا۔
چہرے پر شدید ناگواری نمودار ہوئی جبکہ وہ ساحرانہ شخصیت کا حامل شخص کرسٹل گرے آنکھوں سے ماہ تاب کے چہرے کو جذب کرنے کی کوشش میں سرگرداں تھا۔
ماہ تاب نے اردگرد نظر ڈالی لیکن سیاہ آنکھوں کی بینائی میں جیسے سیاہی اتر آئی ہو، اس شخص کا چہرہ سیاہ لگنے لگا تھا۔
وہ اب بھی سامنے ایستادہ تھا۔
آپ؟؟ اندر کیسے آئے ؟؟ چہرے کی ناگواری سرخی میں ڈھلی تھی۔
آیا تو میں گاڑی میں تھا لیکن اندر میں قدموں سے چل کر آیا ہوں۔اور آپ غالباًآج کافی خوش ہیں؟”
شائستہ سی آواز پر اس نےدوبارہ اس کی جانب دیکھا۔
اس کی آواز میں سحر تھا۔جو جکڑ لیتا تھا۔
“نہیں بس ایسے ہی،، آپ بیٹھیں میں بابا کوبلاتی ہوں”۔
کین کی کرسیوں کی جانب اشارہ کرتی وہ اندر کی جانب بڑھی۔لیکن وہ شخص اسے روک چکاتھا۔
یہ رنگ کافی خوبصورت لگ رہاہے۔، اس کے نیلے آنچل کو تھام کر ایک اور حد پار کی۔
“آپ بابا سے ملنے آئے ہیں تو کوشش کیجیے آپ ان سے ہی باتیں کریں۔اور یہ رنگ روپ کی باتیں آپ کے منہ سے زیب نہیں دیتی”۔
تندہی سے بولتی وہ پلو جھٹک کر اندر کی جانب بڑھی۔لیکن وہ پھر بھی ہاتھ پکڑنے کی جسارت کیے اسے روک چکے تھے۔ماہ تاب کا دل اچھل کر حلق میں آیا،
کلائی کو ہلکا سا مروڑے انہوں نے ماہ تاب کا رخ اپنی جانب کیا،
وہ تڑپ کر مڑی ۔اور کلائی جھٹکتے سرخ پڑی،سیاہ نینوں میں ڈر ہلکورے لینے لگا،
“ضروری نہیں آپ کے پاپا سے ہی ملنے آؤں ، کبھی کبھی آپ سے بھی مل سکتا ہوں”۔ان کی گھمبیر آواز کانوں سے ٹکرائے کئی راز عیاں کرگئی تھی۔
آپ میرا ہاتھ چھوڑیں ، کلائی کو جھٹکنے میں سرگرداں وہ بازو سرخ کرواچکی تھی۔
ضبط کی سرخی رخساروں پر نمایاں تھی۔
شارف نے ہلکے سے لب پھیلا کر کلائی کو دبایا اور پھر چھوڑ دیا،
ماہ تاب کانپتی جبیں شعلہ بار نگاہوں سے انہیں تنبیہہ کرتی اندر کی جانب بھاگی تھی۔
جبکہ شارف صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
ماہ تاب علوی کے نگاہ سے اوجھل ہونے تک وہ وہی کھڑے رہے تھے۔
💗💗💗💗💗
“عجیب شخص ہے۔اپنی عمر کا بھی لحاظ نہیں ہے۔بدتمیزی کی بھی حد ہوتی ہے. بابا نے بھی ناجانے کیسے دوست بنائے ہیں” ۔
چیزیں پٹکتی وہ جیسے شارف کا غصہ ان چیزوں پر نکال رہی تھی۔
“کس کی کمبختی آئی ہے؟؟ جو ماہ تاب علوی ان خوبصورت چیزوں پر غصہ نکال رہی ہے”۔
عبیحہ کی آواز پر وہ طیش سے مڑی۔
نکھری سی عبیحہ مراد گہرے گلابی رنگ میں ملبوس دروازے پر موجود تھی۔
ایک نظر دیکھ کر وہ بیڈ پر موجود ہینگرز اٹھا کر وارڈروب کی جانب بڑھی۔
عبیحہ نے بمشکل اس کا انداز ہضم کیا۔
“مس ماہ تاب علوی!! مانا کے آپ حسین پلس مغرور ہیں۔نخرہ آپ پر جچتا بھی ہے۔لیکن ہم بھی کم خوبصورت نہیں ہیں۔جلدی سے وجہ بتاؤ کیا ہوا ہے۔؟؟”
ہینڈ بیگ بیڈ پر رکھتی وہ وارڈروب کے درمیان ہی ایستادہ ہوئی۔۔
وہ شارف انکل!! “آہ لڑکی انکل نہیں کہو دل پر ہاتھ پڑتا ہے”۔عبیحہ یکلخت چیخی جبکہ ماہ تاب نے ایک تھپڑ کندھے پر مارا تھا۔
“وہ اچھا انسان نہیں ہے۔عبیحہ تم مذاق میں بھی ایسے باتیں مت سوچو۔کیونکہ بعض اوقات مذاق ہمیں بھاری پڑجاتا ہے”۔
سیاہ آنکھیں مقابل پر ٹکا کر وہ سنجیدہ سا بولی تھی۔
“دل پر اختیار نہیں صاحب ہم نے لاکھ اسے سمجھایا ہے۔،
آنکھوں میں خواب ناکی بھرتی وہ چٹکلا چھوڑ گئی۔
ویسے شارف نیچے ہی ہیں۔؟؟
متعجب سی ماہ تاب اس کی دیوانگی دیکھتی آخری سوال پر چونکی۔
اس کا ایک عدد بیٹا بھی ہے۔” سماعت پر بم پھوڑتی ماہ تاب علوی سفید پردے برابر کرنے بڑھی۔جو ہوا سے لہرا رہے تھے۔
واٹ!! “شارف جی کا بیٹا۔،، یقینا دس بارہ سال کا ہی ہوگا۔چلو کوئی بات نہیں میں کمپرومائز کرلوں گی”۔
خود کو بہلاتی وہ آئینے کی جانب آئی۔
خوبصورت آئینے میں ماہ تاب کا سرخ چہرہ ابھرا ،
کیا ؟؟ “ہاں کیا دیکھ رہی ہو؟؟ وہ شخص تمہیں اچھا نہیں لگاتو میں کیا کروں۔؟”
“شارف انکل کا بیٹا تئیس یا چوبیس سال کا ہے”۔
عبیحہ کے ہاتھ سے لپ سٹک زمین بوس ہوئی۔جو لبوں پر لگانے کے لیے اس نے اٹھائی تھی۔
اس کی گم صم حالت دیکھ کر ماہ تاب کا قہقہ فضا میں گونجا۔نقرئی ہنسی ہنستی وہ بیڈ پر چت لیٹی۔
“ماہ تاب میں تمہارا گلا دبادوں گی۔تم نے یہ حقیقت مجھ سے کیوں چھپائی”۔روہانسی ہوئی وہ بیڈ پر چڑھی۔لیکن وہ کھسکتی دوسری جانب سے اٹھی تھی۔
“سٹینڈرڈ بھی کوئی چیز ہوتی ہے مس عبیحہ مراد،اور تمہارا سٹینڈرڈ بہت ہی لو ہے۔دل بھی آیا تو ایک بڈھے پر،،”
ماہ تاب ہنستی چلی گئی۔
“تمہارے اس شہرام سے تو لاکھ گنا ویل سیٹلڈ اور ڈیسنٹ شخص ہے۔جسے نہ سٹینڈرڈ کا پتہ ہے نہ ہی کلاس کا”،
عبیحہ مراد نے حساب بے باک کیا لیکن ماہ تاب کا چہرہ یکلخت دہکاتھا۔
چند ثانیے وہ سپاٹ چہرے کےساتھ ساکت رہی۔
شام!! کے بارے میں ایسی زبان استعمال کرنے سے گریز کرنا ،میں لحاظ نہیں کروں گی۔
لہجے کی شدت پسندی پر عبیحہ کو اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہوا۔
آ۔۔آئی ایم سوری!!
“شارف انکل نیچے ہی ہیں جاؤ مل آؤ”۔اس کی بات کاٹتی وہ رخ موڑ گئی۔
ایک نظر اسے دیکھتی وہ نیچے کی جانب بڑھی۔جانتی تھی کہ ماہ تاب علوی کا غصہ اتنی جلدی ٹھنڈا نہیں ہوگا۔
❤❤❤❤❤
آپ کا بیٹا بھی ہے؟؟ عبیحہ مراد کی زبان قابو میں رہنا ناممکنات میں سے تھا۔
لاؤنج سے باہر گیراج میں آتی ماہ تاب کی پہلی سوچ یہی تھی۔
جی !! شارف صاحب نے مختصر سا جواب دے کر کپ لبوں سے لگایا۔
سر ویسے آپ کی شخصیت دیکھ کر لگتا نہیں ہے کہ آپ کا چوبیس سال کا بیٹا بھی ہوسکتا ہے۔آپ کے چہرے کی تازگی ، خوبصورتی آپ کو ایک کم عمر مرد ظاہر کررہی ہے”۔
عبیحہ مراد کا چاشنی سے لبریز لہجہ ماہ تاب نے کڑوی گولی کی طرح برداشت کیاتھا۔
شارف صاحب مسکرائے تھے۔،
ماہ تاب!!” آئیں آپ بھی ہمیں جوائن کریں”۔
شارف صاحب نے ماہ تاب کو لاؤنج کی سیڑھیوں پر کھڑے دیکھ کر پکارا۔
نہیں انکل!!” آپ عبیحہ سے باتیں کریں۔میرا ٹیسٹ ہے میں زرا بزی ہوں”۔
اس کا انکل کہنا دونوں کے گلے میں پھندے کی مانند لگا۔عبیحہ کی چائے تو حلق سے اتر گئی لیکن شارف صاحب یکدم سپاٹ ہوئے۔۔”میرا نام شارف ہے۔ آپ مجھے شارف کہیں گی تو مجھے اچھا لگے گا۔
اور مس عبیحہ میرا بیٹا، چوبس سال کا نہیں بائیس سال کا ہے۔
زوار کو کہنا میری ضروری میٹنگ تھی۔کوشش کرے کے رات میں مجھ سے ضرور ملے۔
کوٹ کے بٹن کو بند کرتے وہ کھڑے ہوئے۔اپنی گرے آنکھیں انہوں نے ماہ تاب کے چہرے پر ڈالی۔جو گڑبڑائی سی ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔
اس کا دبنگ سا انداز عبیحہ مراد کی بولتی بھی بند کرگیا تھا۔
