Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
دادا !!”ماہ سچ بول رہی ہے اس کا کوئی نکاح نہیں ہوا۔میں نے پچھلے چھ سات سال کے سارے ریکارڈ چیک کروائیں ہے ۔معیز نامی شخص اور ماہ تاب کا کوئی نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں ہے”۔
اگلے دن عاہن علوی کی کال سنتے ہی دادا کو یکلخت سکون میسر آیا تھا۔
ماہ تاب سامنے ہی موجود تھی۔جس کے چہرے پر پھیلا اضطراب گواہ تھا کہ وہ اب بھی سہمی ہوئی ہے۔
ماہ تاب کی نگاہ دادا سے ملی تو وہ نظر جھکا کررہ گئی۔
“یہ سب کیا ہے؟ زوار کو اس بارے میں کچھ علم ہے۔اور وہ خود کہاں ہے جو تمہاری زندگی ایسے بگاڑ کر رکھ د”ی۔
وہ سختی سے گویا ہوئے تو وہ ایک بار پھر پھوٹ کرروئی۔
“دادا !!! وہ کہنے کو تو میرے باپ ہیں لیکن اللہ نہ کرے ایسا باپ کسی کا ہو ۔اور ایسی ماں اللہ کسی کو دے۔ماں باپ تو ایک انعام ہوتے ہیں۔لیکن شاید ہم دونوں بہنوں کی قسمت میں شاید یہ سکھ نہیں تھا۔
انہیں دولت کی لالچ نے اتنا اندھا کردیا تھا کہ وہ اپنی اولاد کو بیچنے پرآگئے تھے۔
دادا آپ جانتے ہیں جس شخص کے نام سے میں اتنے سال جھوٹ گزار آئی ہوں وہ شخص اگر نہ ہوتا تو شاید میری لاش کے ٹکرے بھی آپ سب کو نہ ملتے”۔
“ایسے نہیں کہتے۔۔”انہوں نے آگے بڑھ کر ماہ کو سینے سے لگایا تھا۔ ان کا دل تڑپ گیا تھا۔
دادی الگ پریشان سی بیٹھی تھیں۔
سعادت اور زوار محض دو اولادیں تھی۔لیکن دونوں کا زمین آسمان کہنا الگ نہیں تھا۔
ماضی۔۔۔!!!
شام کے جاتے ہی بے ہوش ہوئی ماہ تاب کو ہوسپٹل لائے تھے۔
“آپ کی بیٹی شوگر کی پیشنٹ ہے۔پچھلے تین ماہ سے وہ اس بیماری سے لڑ رہی ہے۔حیرت کی بات ہے آپ نے چیک اپ کروانا ضروری نہیں سمجھا۔شوگر اٹیک ہوا ہے اسے۔شکر کریں وہ بچ گئی ہے”
ڈاکٹر کے انکشاف پر زوار علوی شاک کے عالم میں کھڑے ہوئے جبکہ شبنم بیگم بھی حیران تھی۔
ایک تو زبان کا داغ اوپر سے یہ بیماری زوار علوی کو ماہ تاب پر افسوس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوا۔
شبنم بیگم کا دل تھوڑا پسیچ گیا تھا۔وہ ماہ تاب کا کافی خیال کرنے لگی تھی۔
مشل علوی کی اپنی الگ ہی دنیاتھی۔
اگلے کئی روز وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ رہی تھی۔
نہ عبیحہ ملنے آئی تھی اور نہ ہی شارف ابدال کی کچھ خبر تھی۔
دس دن بعد اسے ڈسچارج کردیا گیا۔
کمزور اور نقاہت کی وجہ سے وہ بستر سے اٹھنے سے قاصر تھی۔
ماہ تاب گھر آئی تو عبیحہ اس سے ملنے آئی۔اس کے چہرے پر ماہ کے لیے ہلکی سی ہمدردی تھی۔جبکہ
شارف ابدال کی ہمراہی میں وہ کافی کھلی کھلی سی تھی۔
اور وہ چہروں کا ہنر رکھنے والی عبیحہ کی کھلتی سرشاری کا راز کیسے نہ سمجھ پاتی ۔
کئی دعائیہ حصار اس نے عبیحہ پر پھونک دئیے۔لیکن جن کی گمراہی طے ہوجائے وہ کسی کی دعاؤں کے حصار بھی توڑ دیتے ہیں۔جیسے عبیحہ مراد نے حدود توڑ کر کیاتھا۔
شارف نے اس کا حال احوال دریافت کیا تو وہ محض بڑبڑا کررہ گئی۔
زوار علوی نے شبنم کو منع کیا تھا کہ شہرام کے بارے میں گھر میں کوئی بات نہیں ہوگی۔وہ معاملہ وہ فلحال شارف سے بھی اوجھل رکھنا چاہتے تھے۔وہ نئے نئے بزنس پارٹنر تھے۔گھریلو چپقلش کام بگاڑ سکتی تھی۔
کالج ،پڑھائی ماہ تاب کی بیماری کے باعث سب ختم ہوگیا تھا۔وہ بستر پر دم سادھے لیٹی رہتی۔ایک تو ہجرِ یار اور دوسرا مرضِ زندگی،،وہ الجھ کر رہ گئی تھی۔
کچھ دن وہ اٹھنے کے قابل ہوئی تو گھر میں ہوتی تبدیلیاں اسے حیران کرنے لگی تھی۔
غیر مردوں کا گھر میں آنا جانا۔شبنم بیگم کا بے باکی سے ان سے باتیں بگھارنا ماہ تاب کے لیے یہ برداشت کرنا مشکل تھا۔اور یہ انکشاف رونگھٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی تھا کہ وہ گھرانا ابلیس کا ٹھکانا بن چکا ہے۔
مشل کا وہ غیر جانبداری سے خیال رکھنے لگی۔وہ اس سے کافی چڑتی تھی لیکن ماما کے دوستوں کے آنے پر وہ مشل کے کمرے کا دروازہ بند کرکے خود بھی بند ہوجاتی۔
شام کے انکشافات یاد آئے تو وہ ان چیزوں پر غور کرنے لگی۔اور جو بھیانک حقیقت اس کے سامنے منہ اٹھائے کھڑی تھی وہ قبول کرنا ایک اعصابی بوجھ جیسا تھا۔
شارف ابدال دوبارہ اس سے ملنے آئے تو وہ کچھ پریشان تھے۔
زوار انہیں اپنے کمرے کی جانب لےگئے۔
ان کے پرفیوم ہاؤس میں پولیس ریڈ ہوئی تھی۔جس کی وجہ سے وہ فلحال سیل کردیا گیا تھا۔
وہ چند دن میں فرانس جانے والے تھے۔معیز کو وہ آر جیکٹس کی ذمہ داری سونپ کر جانا چاہتے تھے۔
دوسری جانب شام کی یونیورسٹی سے غیر حاضری محسوس کرکے معیز بھی فکر مند تھا۔
کئی مختلف ذرائع سے اس نے پتہ لگوانے کی کوشش کی لیکن خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
زندگی ایک دم الجھ کر رہ گئی تھی۔
اسی دوران عبیحہ مراد سوجی آنکھوں اور متورم چہرے کے ساتھ ماہ سے ملنے آئی۔
ماہ تاب اس کا چہرہ دیکھتی سہمی تھی۔
ماہ تاب۔۔۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ماہ کے گلے لگی۔
“ماہ شارف ابدال اچھا انسان نہیں ہےوہ درندہ ہے۔اس نے مجھے برباد کردیا۔”
کیا کیا ہے اس نے بتاؤ مجھے؟؟”
ماہ تاب کی آنکھیں حیرت سے واہ ہوئی۔
“میں پریگننٹ ہوں اور وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔وہ کہتا ہے ابارشن۔۔۔ ماہ تاب میں اس کے بغیر کیسے ۔بابا کو پتہ چلا تو۔۔وہ مجھے جان سے ماردیں گے۔”
ماہ کا ہاتھ اس کے منہ پر اٹھا تو وہ ساکت رہ گئی۔
“اسی لیے روکتی تھی۔عبیحہ وہ شخص مجھے پہلی نظر میں ہی ایک درندہ لگا تھا جو آنکھوں سے ہی نوچ لیتا ہے۔ جو سب تباہ کرنا چاہتا تھا۔اور تم نے اپنی تباہی خود خریدی تھی۔
خدا کے لیے یہاں سے چلی جاؤ۔دوبارہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔”
عبیحہ ایک بار پھر سسکی تھی۔
“ماہ پلیز ایسے مت کرو۔تم تو ان کے کافی حد تک قریب ہو۔ان سے کہو مجھے اپنالیں۔کم ازکم اپنا نام ہی دے دیں۔”
وہ ہاتھ جوڑے بولی تو ماہ تاب کا دل کیا اس کا گلہ دبادے جو اب بھی اس شخص کا ساتھ چاہتی تھی۔
“تم ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہو جس کی غلاظت ناجانے کتنے شفاف آئینوں کو آلودہ کرچکی ہے۔
وہ درندہ ہے۔جانتی ہو اس نے میرے بابا کو بھی درندہ بنادیا۔اس نے ہماری زندگی میں ایسا زہر گھول دیا ہے کہ میرے ماں باپ اس رب کو بھول گئے ہیں۔اور تم کہتی ہو کہ میں اس شخص سے تمہیں اپنانے کی بھیک مانگوں۔
جاؤ عبیحہ مراد ۔ماہ تاب مرگئی تمہارے لیے دوبارہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔”
اس کا منہ موڑنا عبیحہ مراد کے لیے ایک طمانچے کی صورت ہی تھا۔
ہاں مجنوں بھائی !! پیسہ مل گیا تھا؟۔ تیری طبعیت اب کیسی ہے؟
بس کام شروع کرواؤ۔ان کا کچھ اتا پتہ ہے؟؟ اچھا ہوا وہ سنپولہ خود چلا گیا۔ورنہ میں اسے خود کچل دیتا۔ ابو امی بھی سعادت کے ساتھ ہی ہوگے ۔اس سے اچھا ماں باپ کی توجہ حاصل کرنے کا موقع اسے کہاں سے ملتا۔ میں کچھ دن تک چکر لگاؤں گا۔
دوسری جانب سے ناجانے کہا گیا کہ وہ قہقہ لگاتے سفاکیت کی انتہا کرگئے تھے۔
وہ باپ سے کالج جانے کے لیے پوچھنے آئی تھی ۔لیکن ہونے والا انکشاف اس کی جان نکال گیا۔
بقیہ سچائی بھی اتنی جلدی منہ پرتھپڑ کی طرح آ کر لگنی تھی اسے یقین نہیں آیا۔
شام علوی کی ماضی کی درد بھرے لفظ اس کے دماغ میں ہتھوڑے برسانے لگے۔
اس نے کہا تھا کہ خسارہ ہی ہوگا اور آج ماہ تاب خالی دامن خالی روح کی مانند خساروں میں تھی۔
دیوار کا سہارا لیے وہ بمشکل کھڑی رہی۔
آنسو بہتے گال بھگونے لگے۔در و دیوار اسے جیسے ہنستے ہوئے محسوس ہوئے۔شام کی ایک ایک بات اسی طرح سچ ثابت ہوئی تھی۔تو یہ ثابت ہوا تھا کہ شام علوی سچا انسان تھا۔باقی سب تو فریب تھا۔اور وہ فریب میں جیتی رہی تھی۔
اس کی محبت سچی تھی۔لیکن وہ اپنی محبت پر عین وقت پر یقین نہیں کرپائی۔۔وجود میں ہوتی توڑ پھوڑ ماہ تاب کی جان بے دم کرگئی۔
وہ تھپڑ یاد آیا تو وہ بوجھ بمشکل سہارتی وہی ڈھے گئی۔
زوار علوی چونکتے باہر آئے تو ماہ تاب کو دیکھ کر پہلے گھبرائے اور پھر ماتھے پر بل نمایاں کیے انہوں نے ماہ کو سامنے کھڑا کیا۔
میں تمہیں زندہ درگور کرنے میں وقت نہیں لگاؤں گااگر تم نے یہ سچائی کسی کے سامنے عیاں کی ۔۔
شبنم۔۔۔!!! ان کی دھاڑ پر وہ مزید سہمی تھی۔
بابا آپ میرے سگے بابا ہیں۔۔؟” اس کا سوال زوار علوی کو ساکت کرگیا۔۔
“مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ میرے سگے باپ ہیں کوئی باپ اتنا سفاک ہوسکتا ہے۔کوئی بھائی اتنا ظالم ہوسکتا ہے۔اور کوئی بیٹا اتنا بے رحم ہوسکتا ہے۔؟
آپ نے ایک ہنستابستا گھر اجاڑ دیا۔آپ پھر بھی مطمئن ہیں۔کسی کی چھت چھین کر آپ شاندار چھت کے نیچے بھی دولت کی ہوس میں خوار ہیں۔
ناجانے دادا دادی کہاں ہوں گے کس حال میں ہوگے۔؟
اور شام۔۔۔شام مجھے کہتا رہا تھا کہ تمہارے بابا جھوٹ بول رہے ہیں۔۔لیکن میں۔میں ہی یقین نہیں کرپائی اور بدلے میں اسے تھپڑ۔۔الزام کوسنے ناجانے کیا کیا نواز دیا۔”
لفظوں کی مالا ٹوٹ کر لبوں سے ادا ہورہی تھی۔ایسی ہی ٹوڑ پھوڑ تو دل میں مچی تھی۔
اس تھپڑ کی حقدار تو میں تھی۔میں خود کو مارتی تو کم ازکم آج اس انکشاف پر میں خود کی نظروں میں نہ گرتی۔۔کیوں !! ۔۔کیوں نہیں کیا میں نے یقین۔۔اپنے منہ پر کئی تھپڑ مارتی وہ ہذیاتی انداز میں چلائی تو شبنم بیگم کو اسے سنبھالنا مشکل ہوا تھا۔
“شبنم اسے لے کر یہاں سے دفعہ ہوجاؤ۔یہ میرا بنا بنایا کام بگاڑے گی تو کیا میں اسے زندہ چھوڑ دوں گا۔”وہ دھاڑے تو ماہ تاب پھر سسکی تھی۔
“زندہ ہی تو نہیں رہی بابا میں۔۔مرگئی ماہ تاب علوی اپنی ذات کی شرمساری کے ساتھ ہی ماہ تاب علوی ختم ہوگئی۔میں چپ نہیں رہوں گی میں دادا کے پاس جاؤں گی۔میں نہیں رہوں گی یہاں۔۔”
شبنم بیگم کے حصار کو توڑتی وہ دوبارہ ہذیاتی ہوئی تو زوار صاحب کا ہاتھ اٹھ کراس کا گال سرخ کرگیا تھا۔
“بکواس بند کرو۔کل شارف آتا ہے تو تمہارا نکاح کرواتا ہوں۔ایک تو تمہاری زبان اور دوسرا یہ بیماری۔ایک وبالِ جان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو۔اور ایسی اولاد کا انسان کیا کرے جو کوئی فائدہ نہ دے۔”
ان کے ہونٹوں سے نکلتے سفاک اور درناک الفاظ ماہ تاب کا دل ٹکروں میں کاٹ رہا تھا۔اسے یقین کرنا مشکل لگا تھا کہ وہ اس کا سگا باپ ہے۔
شبنم بیگم کے ساتھ گھسیٹ کر کمرے تک جاتی وہ مڑ کر تب تک باپ کا سفاک چہرہ دیکھتی رہی جب تک باپ کا سفاک چہرہ نگاہ سے اوجھل نہیں ہوپایا تھا۔
حال۔۔”
خلافِ توقع وہ شام کو دیکھ کر حیران ہوئے لیکن وہ اپنے جذبات قابو کرنا اچھے سے جانتے تھے۔
کمرشل کے بارے میں کافی دیر ڈسکشن کرتے رہے دیبا بھی گفتگو میں شامل رہی تھیں۔
جیکٹس کا شوٹ بھی جلد ہی سٹارٹ کرنے والے تھے۔
“آج آپ کی بہو نظر نہیں آرہی ؟؟” شام نے سوال کیا تو شارف ابدال چونکے اور بد قت مسکرائے۔
“دراصل ان کی سسٹر یہی رہتی ہے۔وہ میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لیے میرے ساتھ آئی تھی پھر یہ کمرشل کا فیصلہ ہوگیا۔تو وہ کافی اکتا گئی تھی۔اس لیے وہ اپنی سسٹر کی طرف چلی گئی۔”
اوہ۔۔۔” اپنے دونوں ہاتھ جکڑ کر وہ محض اوہ کہہ پایا۔گہری براؤن سی آنکھوں میں اس وقت تلخی اور ضبط موجود تھا۔ان کے جھوٹ سچ کی آمیزش نے ماہ تاب کی سچائی پر مہر لگائی تھی۔
وہ ماہ تاب سے لاکھ ناراض سہی لاکھ بے اعتنائی برت لیتا وہ اپنے اوپر ہوئےستم کا حساب الگ رکھنے والا تھا۔لیکن جن لوگوں نے اس کی جاناں پر ستم ڈھائے تھے وہ انہیں بخشنے والا نہیں تھا۔
دیبا پل پل اس کا ضبط دیکھتی اسے بمشکل نگاہ سے ہی تھامے ہوئی تھی۔
محض ان کی نگاہِ تنبیہہ کا بھرم رکھ کر ہی وہ خاموش بیٹھا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ ہوٹل سے باہر نکلا تو چہرہ ضبط سے سرخ تھا۔
بال مٹھی میں جکڑ کر اس نے بمشکل اشتعال قابو کرپایا تھا۔دل تو چاہا کہ اس شخص کے سینے میں گولی آرپار کردے
“ماہ تاب تمہاری جاناں ہی ہے۔؟اور وہ تمہارے پاس ہی ہے ؟”
دیبا کی آواز پر وہ مڑتا انہیں دیکھنے لگا جن کی آنکھوں میں شکوک و شہبات تھے۔
“میں پچھلے پانچ سال سے آپ کے ساتھ ہوں۔اور آج آپ نے پہلی بار مجھ سے سوال کیا ہے؟ کیا آپ مجھ پر یقین کرتی ہیں؟”
وہ گاڑی میں سوار ہوتا گویا ہوا۔
“میں تم پر کبھی شک نہیں کرپاؤں گی ایون تم کچھ غلط بھی کرو۔پھر بھی میں تم پر یقین کروں گی اور تمہارا ساتھ دوں گی۔”
“تو بس اطمینان رکھیں کہ شام علوی کچھ غلط نہیں کرے گا اور شارف ابدال نہایت ہی کوئی گھٹیا اور سفاک درندہ ہے جس سے شاید شیطان بھی پناہ مانگے۔کیونکہ جس طرح کل ماہ تاب پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی جس طرح کل اس نے حقیقت کا انکشاف کیا میرا دل چاہ رہا ہے میں اس شخص کا قتل کردوں۔”
“کیا ہوا ہے؟ سب خیریت ہے؟” دیبا گھبرائی تھیں۔وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھاتا رخ گھر کی جانب موڑ گیا تھا۔
“دیبا جب تک ہمارے کاروباری معاملات شارف ابدال کے ساتھ ہیں تب تک ہمیں نارمل رہنا ہوگا۔ہمیں ماہ تاب کی حقیقت کا ایک پہلو بھی عیاں نہیں ہونے دینا۔بلکہ انہیں یہ یقین دلوانا ہے کہ ماہ تاب کی غیر موجودگی ہمیں خاصی محسوس ہورہی ہے”۔
“اطمینان رکھو شام اسے بالکل محسوس نہیں ہوگا۔
اب بتاؤ ہوا کیا ہے؟”
“وہ تو مجھے بھی نہیں پتہ لیکن جو بھی ہے حقیقت بہت تلخ ہے اور جس نے میری جاناں کو تکلیف دی ہے اسے میں نہایت دردناک موت دوں گا۔”
اس جیسے دھیمے بردبار مزاج آدمی کی آنکھوں میں بڑھتی سرخی اور غراہٹ کو دیکھتی دیبا بھی حیران ہوئی تھیں۔
تم اب بھی اس سے اتنی محبت کرتے ہو؟”
دیبا دبا دبا سا مسکاتی شام کی جانب دیکھتی اسے چونکا گئی تھیں۔
آہ۔۔۔”محبت ۔۔۔” وہ سانس کھینچتا ٹھہرا تھا۔
“محبت تو آج بھی وہی ہے۔میں نے زندگی میں محض ایک لڑکی کو چاہا ہے اور آگے بھی اسے چاہتا رہوں گا۔وہ میری دسترس میں نہ بھی ہو تو تب بھی وہ شام کی جانان شام کی محبت رہے گی۔شام علوی نے اپنی زندگی اسی کے لیے وقف کی۔وہ لاکھ دھتکارے لیکن یہ میرا دل اسی لڑکی کے لیے دھڑکتا ہے۔”
اس کے برملا اظہار پر دیبا فرطِ جذبات سے نم ہوتی آنکھ سے مسکرادی ۔
“اس کی دھتکار اس کی نفرت کے باوجود بھی میں میرا دل اس کی ذات سے ایک جذبہ ہی رکھ پایا ہے۔
اور وہ ہے ۔بیش بہا محبت بنا کسی غرضکھ۔بنا کسی اجر کے وہ شام علوی کی پہلی اور آخری محبت ہے۔وہ شام کی جانان ہے۔اس کے علاوہ شام کے دل کو کوئی بھی عزیز تر نہیں ہے۔”
اس کے دلفریب اظہار پر دیبا کا مان مزید بڑھا تھا۔
“میں حیران ہوتی ہوں شام کہ کوئی شخص کسی سے اتنی سچی محبت بھی کرسکتا ہے۔مردوں کی محبت بڑی کم عرصے والی ہوتی ہے۔لیکن تمہیں دیکھ کر مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ مرد جب سچی محبت کرتا ہے تو پھر وہ تاعمر نبھاتا بھی ہے۔
میں دعا کروں گی کہ ہر مرد تم جیسی محبت کرنے والا بن جائے۔”
وہ دھیما تلخ سا مسکرایا تو دیبا نے اس کا ہاتھ دبایا۔
“اللہ پاک نے اگر وہ لڑکی تم تک اس طریقے سے پہنچائی ہے تو اس میں بھی کوئی مصلحت ہے۔صبر رکھو اللہ سب بہتر کرے گا۔
شاید اللہ بھی تمہیں انعام سے نوازنا چاہتا ہے۔”
ان کی پریقینی پر اس نے محض اثبات میں سرہلایا تھا۔
واٹ !! آپ کیا کہہ رہے ہیں دادا؟؟”
وہ گھر میں داخل ہوا تو آگے الگ ہی حکم نامہ اس کے لیے تیار تھا۔
دیبا بھی بدر علوی کے فیصلے پر انگشتِ بدنداں ہوئی۔
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔آپ شاید زوار علوی کو نہیں جانتے۔یا پھر آپ آج پھر ایک خودغرضانہ فیصلہ کرنا چاہتے ہیں؟”۔
شام !!” تہذیب مت بولو۔ابوجی کا حکم میرے لیے آج بھی سر آنکھوں پر ہے۔اور میں نے پوری تفصیل جان کر ہی یہ فیصلہ کیا ہے۔”
سعادت علوی کی گھمبیر سخت آواز پر وہ انہیں خفگی بھری نگاہ سے دیکھتا سر جھٹک گیا۔
ایک جانب کھڑی ماہ تاب اب بھی کل والے حلیے میں تھی۔لیکن چہرے پر اب میک اپ نہیں تھا اور نہ ہی ہائی ہیلز تھیں۔
سادہ چہرے کے ساتھ پژمردہ سی تھی۔
دیبا اس کا حسین چہرہ دیکھتی اشتیاق میں تھی۔اس جیسی خوبصورتی انہوں نے انڈسٹری میں بھی نہیں دیکھی تھی۔
وہ سادگی میں بھی بلا کا حسن رکھتی تھی۔اس کی بڑی سیاہ آنکھیں گلابی لب سرخی بھرے گال غرض ایک شاعر کی حسین شاعری ایک مجسمہ ساز کی ایک حسین مورت کہلائی جاسکتی تھی۔
دیبا کی نگاہ خود پر محسوس کرتی وہ ججھک گئی۔
“اس لڑکی نے آپ کے دماغ میں یہ جو ناقص خیال ڈالے ہیں اسے کوئی یاد دلوادے کہ اس نے شام کو خود دھتکارا تھا۔”
وہ ماہ کی جانب بڑھا تو وہ سدرہ کے پہلو میں چھپی۔
وہ دیبا کی موجودگی میں کچھ زیادہ ہی گھبرائی تھی۔
اس کا گھر میں موجود ہونا ماہ کو ناجانے کیوں دہلا رہا تھا۔
وہی رکو۔۔۔”
“میرے فیصلے سے انحراف کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے آج کے بعد میں کبھی حق نہیں جتاؤں گا۔
تم آج بھی اس غلطی کی پاداش میں مجھے معاف نہیں کرسکے ہو۔تو ٹھیک ہے۔جو جی میں آئے کرلو۔”
بدر علوی ازلی ہتھیار آزماتے اس کی کمزور رگ کو اچھا خاصہ دباگئے۔
سعادت علوی اس سنجیدگی بھرے ماحول میں بمشکل ہنسی ضبط کرپائے۔
پرانی باتیں دہرانے کا مقصد؟؟”
شام جنجھلایا تھا۔”
پرانی باتیں نہیں ہے اگر میرا فیصلہ قبول نہیں تو آج کے بعد میری شکل آکر مت دیکھنا۔”
دادا پلیز۔۔۔” شام علوی کی ہمت جواب دے گئی تھی۔
پھر مانو گے میرا فیصلہ۔۔۔”ْ بدر علوی نے ایک اور کمزور وار کیا تو اس نے سخت نگاہ ماہ پر ڈالی جو ڈری سہمی سے انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
تنے جبڑوں کے ساتھ وہ سرہلاکر رہ گیا تھا۔
عاہن جو مولوی صاحب کو لینے گیا تھا۔آج پھر نیا تماشہ دیکھ کر دروازے میں ایستادہ رہ گیا۔
“ایک تو یہ دادا کو فلم انڈسٹری میں ہونا چاہیے تھا۔اتنی ایموشنل ایکٹنگ کرتے ہیں کہ اگلا انسان ان کے دو موتی دیکھ کر پگھل جائے۔
پہلے مجھ جیسا بیچارہ عاہن علوی اب بڑے بھیا شہرام علوی۔”
وہ آنکھیں گھماتا بڑبڑایا تھا۔
نکاح کے بعد اسے مشل کے ہوش ٹھکانے لگانے جانا تھا۔
جس نے قسم کھائی تھی کہ۔وہ اس کی زندگی اجیرن کرکے رہے گی۔
آناً فاناً آیا دیبا کی بوتیک سے سنہری جوڑا پہنے انہیں سے تیار ہوکر وہ حسین مورت کی مانند سجی اپنا عکس آئینے میں دیکھتی اب بھی حیران تھی۔اپنی حسین صورت چھوتی وہ کئی بار خود کو یقین دلاگئی تھی کہ وہ آج شام علوی کی قسمت میں لکھ دی جائے گی۔
آج شام کی جانان حق سے کہلائی جائے گی۔
دیبا خاموشی سے اسے تیار کرتی رہیں۔فلحال وہ ماہ کو کچھ نہیں بتانا چاہتی تھیں کہ وہ کون ہے اور اتنے حق سے گھر میں کیوں موجود ہے۔۔
اسے لیے وہ مین ہال میں آئی جہاں وہ سیاہ شلوار سوٹ پر کوٹ پہنے گھنے بالوں اور گھنی داڑھی کے ساتھ خوبروئی میں تمام مردوں کو مات دیتا حسین لگ رہا تھا۔اس کے گندمی رنگت میں بھی ایک کشش تھی۔جو مقابل کو اپنی جانب کھینچ لیتی تھی۔
ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھتی مسکائی تو ماضی کے کئی درد ناک لمحے روح کو جنجھوڑ کر رکھ گئے۔
معیز کی یاد شدت سے آئی جس نے ایک اچھے دوست ہونے کی ہر رمز باخوبی نبھائی تھی۔
دل ہی دل میں وہ معافی کی طلبگار ہوئی تھی۔
شام اسے سیڑھیوں میں کھڑا دیکھ کر نگاہ نہیں پھیر پایا۔۔دل یکلخت دھڑک کر اعتدال پر آیا جیسے وہ اس حسین مورت کو دیکھ کر ایک دم اچھلا ہو۔
دیبا کے ہاتھوں سے اس کا حسن مزید نکھرتا دلفریبی میں سمٹ آیا تھا۔
بمشکل وہ نظر پھیر پایا کل تک جو اس کی دسترس سے دور تھی آج وہ مکمل حق سے اس کی زندگی میں شامل ہونے والی تھی۔
کچھ دیر میں نکاح کی رسم نبھائی گئی تو وہ کانپتے ہاتھوں سے تمام تر اذیت تمام تر شارف ابدال کے غلیظ لمس کی حدت تمام تر دنیا کی غلاظت کو جھٹکتی تن من سے شام علوی کے ہمراہی کے لیے سائن کرتی چلی گئی تھی۔
محض ایک سائن سے اسے روح کا بوجھ کم ہوتا محسوس ہوا تھا۔اس ایک شخص کو پانے کے لیے ناجانے کتنی مرتبہ وہ تڑپی تھی اب تو حساب کرنا بھی اس کو مشکل لگتا تھا۔اور آج جب وہ اس کا ہوا تو حسین مجسم سی ماہ تاب علوی کا روم روم رب کا شکر گزار ہوا تھا۔
شام نے بنا کس تاثر کے سائن کیے ۔
خوشیوں کی بارات جیسے آج علوی ہاؤس میں ڈیرہ جمائے ماہ تاب اور شام کے بخت روشن کرگئی تھی۔
دیبا شام کے چہرے کو دیکھتی شدت گریہ سے مسکرائیں اور عقیدت سے ماہ تاب کی روشن پیشانی چومی تھی۔
صبح سے شام اور پھر رات ہوئی۔ماہ تاب کا کچھ پتہ نہیں چلا۔اس اجنبی شہر میں وہ کسی کو نہیں جانتے تھے۔
اپنے زرائع استعمال کرکے انہوں نے ہر جگہ سراغ لگایا لیکن ماہ تاب کو شاید زمین نگل گئی تھی یا آسمان کھا گیا تھا۔
دماغ کی رگیں سن ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔وہ چھٹانک بھر کی لڑکی ان کے ہاتھ سے نکل کیسے گئی۔آخر وہ گئی کہاں تھی۔
وہ اپنے پارنٹرز کو بھی اس حقیقت کا ادراک نہیں دے سکتے تھے۔
دیبا شام کو مطمئن کرنا انہیں مشکل تو لگا لیکن یہ بھی ان کے لیے ناممکن نہیں تھا۔
لیکن اب پانی سر سے اوپر ہوتا محسوس ہوا تو آخر کار انہوں نے زوار سے رابطہ کرنے کی ٹھانی تھی۔
پیشانی مسلتے انہوں نے زوار کا نمبر ملایا۔
دوسری جانب سے کال اٹھالی گئی تھی۔
وہ کمرے میں آیا تو ماہ کاؤچ پر بیٹھی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
اس کمرے میں پھیلی شام کی خوشبو کو محسوس کرکے اس نے کئی بار خود کو یقین دلوایا تھا۔۔
سانسوں کو معطر کرتی اس کی غیر موجودگی میں ہی وہ اس کے عکس کو تلاشتی رہی تھی۔
“مل گیا سکون،؟ کرلیا نکاح اب زرا مجھے تفصیل بتانا پسند کروگی کہ تم نے دادا کو کیسے بلیک میل کیا تھا؟”
سجی سنوری سے ماہ تاب پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر وہ کوٹ اتارتا آگے آیا،
وہ جھٹکے سے کاؤچ سے کھڑی ہوئی ،لیکن آگے نہیں بڑھی جبکہ شام اب بھی بیڈ کے کنارے کے قریب کھڑا تھا،
بولو ماہ تاب علوی؟؟ خاموش کیوں ہو دادا کے سامنے تو زبان ایک پل کے لیے بھی نہیں رک رہی تھی، اور خواتین کا ازلی ہتھیار آنسو ،مزید کام آپ کے ان نین کٹوروں کے ساون نے کردیا،”
کرتے کے اوپری بٹن کھول کر وہ سانس بحال کیے پھر سے محوِ گفتگو ہوا،
ماہ تاب علوی کے چہرے پر اس وقت شام کو زرا برابر بھی ڈر خوف یا پھر کوئی پشیمانی نمودار ہوتی نظر نہیں آئی ،اور یہ چیز شام کو مزید حیرت طلب لگی،
“ماہ تاب !! میں کچھ پوچھ رہا ہوں خدارا میرا سر پھٹ جائے گا،” لہجے میں اب بھی کہیں نہ کہیں نرمی کی رمق موجود تھی، اس لڑکی کے سامنے وہ چاہ کر بھی اپنا لہجہ سخت نہیں رکھ پاتا تھا، اور آج بھی تو ایسا ہی ہوا تھا،
بھوری مائل نگاہ کا ارتکاز اس نے ایک بار پھر ماہ تاب علوی کے چہرے پر جمایا،
ایسا لگا وہ مسکرارہی تھی،کبھی گمان تھا کہ وہ ماہ تاب علوی کو مسکراتا دیکھے اور اب وہ سچ میں مسکرا رہی تھی،
شام یک ٹک اسے دیکھے گیا،
وہ قدم آگے بڑھاتی شام کی جانب بڑھی،قدموں میں مضبوطی تھی ایک سرشاری تھی۔ سنہری کانچ کی چوڑیاں چھنک چھنک گئی جبکہ شرٹ پر لگے باریک شیشوں میں روشنی منعکس ہوکر دیوار پر نقش و نگار بنانے لگی،
ایک روشنی کی کرن شام کی آنکھوں میں چھبن پیدا کرتے گزری تو اس نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولیں،
ماہ تاب علوی اس کے روبرو کھڑی تھی، سر اونچا کیے وہ بے تاب نگاہ اس شخص کے چہرے پر ٹکاتی ہولے سے مسکائی،۔
بوجھل سا سانس فضا کے سپرد کرکے اس نے ٹھنڈا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس شخص کے چہرے پر رکھا،
شہرام کی آنکھیں حیرت سے کھلیں، نازک جان کی بے باک حرکت تھی۔
وہ اسے بنا ڈرے چھورہی تھی، شام نے اس کا ہاتھ جھٹکنا چاہالیکن جیسے ہاتھ پہلو میں گرے رہے،
میں نے ایک دعا مانگی تھی شام” وہ زرا توقف کے لیے رکی، شام ہمہ تن گوش ہوا تھا،۔
“جس دن آپ مجھے ملے جس شب شام علوی کا ساتھ ماہ تاب علوی کو میسر ہوگا وہ یقین کی شب کہلائے گی ۔
وہ میری شب ہوگی شام!! دیکھیں ناں شام! شبِ یقین آ پہنچی ہے، شام ڈوب کر شب کی جانب رواں دواں ہے میری دعائیں میری فریاد سب آج اس شبِ یقین کے محور میں ہیں ،یہ شبِ یقین ہی تو ہے،
آج میں شاید اس روئے زمین پر سب سے خوش قسمت لڑکی ہوں ، جسے اپنی محبت مل گئی جسے اپنی سچی چاہت مل گئی، جسے اس کی ساری لگن مل گئی۔”
نرم ٹھنڈی سی ہتھیلی اب بھی شہرام علوی کے گال پر جمی تھی، اور وہ ساکت تھا، روم روم جیسے سماعت میں ڈھل سا گیا تھا، اس کا نرم سا لمس جیسے اس گال پر امرت کی دھار ثابت ہوا تھا۔
ماہ تاب!! لب واہ کیے اس نے بولنا چاہا لیکن ماہ تاب نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا،
“مم میں بولوں گی، پھر چاہے آپ ساری عمر مجھے اپنے قدموں میں بٹھالینا، افف نہیں کہوں گی، کیونکہ ماہ تاب علوی کے ساتھ شہرام علوی کا نام جڑ جانا ہی ساری تکالیف کا خاتمہ ہے، میں اونچے سنگھاسن پر آج براجمان ہوچکی ہوں ، اب چاہے شام علوی کے قدموں کی خاک بھی میسر آئے تو میرے لیے نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی،
ممم میں نے چھ سال، ہاں چھ سال ہی شام،”
وہ نفی میں سرہلاتے پھر سے بولی،
“چھ سال دعاؤں میں مانگا ہے، جس دن چھوڑ کر گئے تھے، اس دن بھی شام دعاؤں میں تھا, جس دن حقیقت عیاں ہوئی اس دن بھی شام علوی دعاؤں میں تھا،اس دن روم میں ملے تھے تب بھی شام ہی تھا، اور آج تو شام علوی روم روم میں بس گیا یے، سچ کہوں تو شام علوی ماہ تاب سے کبھی جدا نہیں ہوا تھا،”
ماہ تاب علوی کے لبوں سے نکلتے لفظ لفظ موتی جیسے شہرام علوی کے دل پر لگے برسوں کے زخم مندمل ہونے کا موجب بنتے گئے،سرخ لہو سے بہتے زخموں کے منہ سلنے لگے،
وہ دھیرے سے مزید قریب ہوئی تھی، بازؤں کا حصار اس کی کمر کے گرد باندھ کر دل پر سر رکھ دیا ، دھڑکنوں کاردھم جیسے موسیقی کی خوبصورت دھن بن کر ماہ تاب علوی کی سماعت کو مٹھاس بخشنے لگا،
شام ساکت رہ گیا، اس عمل کی توقع تو اس نے تصور میں بھی نہیں کی تھی،کہ وہ ایسے اس کے قریب آکر سینے پر سر رکھ کر پل پل دھڑکتے دل کی دھڑکن سن لے گی ، اسے قربتوں سے نواز دے گی،وہ قرینے سے شام علوی کی منتشر ذات کو سمیٹ چکی تھی،
“میں نے یہ بھی دعا کی تھی شام کے جس دن میں اور شام علوی پاکیزہ بندھن میں بندھیں گے اس دن اس کے سینے پر سر رکھ کر خود کو تحفظ کا احساس دلاؤں گی،خود کو باور کرواؤں گی کہ دیکھو ماہ تاب علوی تم خود کو ایک بدقسمت لڑکی سمجھتی تھی لیکن تم بدقسمت نہیں ہو،تم تو شاہ زادی ہو جو محبوب کے قرب سے نواز دی گئی ہو۔
دیکھو ناں شام !! آج مجھے میرا تحفظ مل گیا،میں مضبوط حصار میں آگئی ہوں۔” وہ بازو کستی مزید گویا ہوئی تو شام علوی ہوش میں لوٹا، ماتھے پر بل نمایاں کیے اسے خود سے دور دھکیلنا چاہا ، لیکن قسمت شاید نہیں چاہتی تھی، کہ شام علوی حصار توڑ دے ، یا محبت کو محرم بن کر چھولینے سے پہلے وہ ماہ تاب کو دور دھکیل دے،
نرمی سے اس نے ماہ تاب علوی کو حصار میں قید کیا،
وہ ہولے سے مسکائی من نے رب تعالیٰ کا ورد کیا تھا، وہ اسے خود میں سموئے چند پل کھڑا رہا ،۔
آنکھیں موندے وہ محبت کے دیوان لکھنے میں زیادہ تو نہیں چند لمحے کے لیے دنیا سے ماورا ہوئے تھے۔
جاری ہے۔۔
