Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
وہ تھک ہار گیا تھا۔ہر کمرا چھان لیا تھا۔ہر جگہ دیکھ چکا تھا۔ لیکن علیہ بیگم کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔سارا دن گزر گیا۔لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔احد کو کھانا کھلا کر وہ ایک بار پھر لاؤنج میں آیا۔
لاؤنج میں کھڑا وہ گہرے اضطراب میں تھا۔
کہاں ہوسکتی ہیں مام؟”
اپنی پیشانی رگڑے وہ اردگرد بھی دیکھ رہا تھا۔دو ملازم جو ہمہ وقت گھر میں ہوتے تھے وہ بھی کھانا بناکر اپنے کوارٹرز میں جاچکے تھے۔اب وہ اکیلا آسانی سے ماں کا سراغ ڈھونڈ سکتا تھا۔
شارف ابدال کاکمرا لاک تھا۔اس نے کئی بار کھولنے کی کوشش کی لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔
پرسوچ سا وہ کچن کی جانب آیا۔کیبن سے چاقو اور ایک پیچ کس لیے وہ شارف ابدال کے روم کی جانب آیا۔
مختلف حیل و حجت سے اس نے لاک کھولا تھا۔نیم اندھیر کمرے نفاست سے سجا تھا۔
اردگرد طائرانہ نگاہ ڈال کر وہ آگے بڑھا۔ان چند سالوں میں وہ منٹ یا دو منٹ کے لیے شارف ابدال کے کمرے میں آیا تھا۔
اشرف کی موجودگی اس کے لیے ایک لٹکتی تلوار کی مانند تھی۔
ہر وارڈروب کو ہر فرنیچر کے سامان کو اردگرد کرکے وہ دیکھتا خوار ہورہا تھا۔لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔
آپ کہاں ہیں مام؟؟” وہ وہیں تھک کر بیڈ پر ٹکا۔
لہجے میں اس وقت ناامیدی تھی۔
سانس بحال کیے وہ ایک بار پھر کھڑا ہوا۔۔
دیدہ زیب واش روم میں داخل ہوکر اس نے اردگرد نگاہ دوڑائی۔
نیچے جانے کا راستے کی آخری جگہ یہی ہوسکتی تھی۔یا پھر وہ پھر ہار جاتا۔
دو مرر ڈور والی وارڈوروب کو دھکیل کر اس نے جگہ جگہ ٹھونک سے چیک کیا۔دل کی دھڑکن واضح بڑھ رہی تھی۔
دل جیسے اطمینانی کی جانب گامزن تھا۔
دوسرا سلائڈ کھولا ۔تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اندر کی جانب ایک اور دروازہ تھا۔
سفید رنگ کا دروازہ وارڈروب کے اندرونی رنگ جیسا ہی تھا۔
دروازے پر ہینڈل کے ساتھ چھوٹے چھوٹے ریک بنے ہوئے تھے۔جس پر کم ہی سازو سامان تھا۔یعنی یہی راستہ تھا جو نیچے جانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
وارڈروب کا سائز اتنا تھا کہ وہ اندر جا سکتاتھا۔تو شارف کیوں نہیں جاسکتا تھا۔
معیز نے اس ہینڈل کو کھینچا تو سب چیزی زمین بوس ہوگئیں۔
اسے تعجب ہوا۔ایک بار پھر اس نے ہینڈل کو کھینچا تو دروازہ واہ ہوا۔
معیز کی دھڑکن بڑھی جبکہ چہرے پر ایک الگ چمک تھی۔دل میں رب تعالیٰ کا ور کیے وہ قدم آگے بڑھانے لگا۔
دروازے کے پار جیسے ایک اور دنیا تھی۔
اندر کی جانب جاکر چند سیڑھیاں تھی۔وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوکر نیچے بڑھا۔
سامنے ہی کچھ فاصلے پر چھوٹا سا کمرا تھا جس کی چھت چھوٹی تھی۔معیز کولمبے قد کی وجہ سے جھکنا پڑا۔
سامنے ایک چھوٹا سا سنگل بیڈ اور چئیر اور کچھ سازوسامان تھا جیسے کسی کی رہائش ہو۔لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔
مام۔۔” اس نے بلند آواز سے پکارا تھا۔دل جیسے حلق میں دھڑک رہا تھا۔
آواز گونجتی واپس کانوں میں ٹکرائی۔
وہ آگے بڑھا۔
مام!! پکار ایک بار پھر بڑھی تو بیڈ کی دوسری طرف حرکت ہوئی۔
معیز کی پیشانی پر پسینہ چمکا جبکہ مدھم قدم لے کر وہ دوسری طرف آیا۔جہاں علیہ بیگم کا ناتواں وجود گرا ہوا تھا۔
ماما۔۔” وہ چیختا آگے آیا اور انہیں سیدھا کیا۔
ماما۔۔میں معیز ماما آنکھیں کھولیں ماما۔۔۔”
وہ بے اختیار انہیں پکار رہا تھا۔
ان کو گود میں بھرتا وہ بمشکل انہیں اوپر واپس لاپایا۔
ماما !!
اس نے علیہ بیگم کو بیڈ پر لٹایا اور ان کے ہاتھ مسلے۔دل کی بڑھتی دھڑکن آنکھ سے بہتے آنسو وہ اس وقت دہری کیفیت میں تھا۔آج اتنے سالوں بعد اس نے انہیں چھوا تھا دیکھا تھا۔وہ اسے مل گئی تھیں۔ماں کو دیکھنا ہی سکون آمیز تھا۔
وہ بے ساختہ ان کو بانہوں میں بھرتے سینے سے لگاگیا۔
“ماما!! آپ کا معیز دیکھیں ماما۔۔میں ہوں آپ کا بیٹا آپ کو لے آیا ماما ۔۔آپ مجھے مل گئی۔اللہ تیرا شکر ہے۔”
ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں وہ سمجھ ہی نہیں پارہا تھا کیا کہے؟وہ اب بھی نے یقین سا انہیں دیکھ رہا تھا کہ وہ واقع اسے مل گئی تھی۔
“ماما!! شارف ابدال سے ایک ایک تکلیف کا بدلہ سود سمیت لینے کا وقت ہوگیا ہے۔آپ میں عبیحہ مراد احد اب شارف ابدال کو تڑپا تڑپا کر دردناک موت دیں گے۔میں اب قاتل بھی کہلایا جاؤں تو مجھے غم نہیں ہوگا”۔
عہد بھرے انداز میں کہتا وہ ماں کو سیدھا لٹائےایک بار پھر سسکا تھا۔
شام۔۔”
ماہ تاب نے دھیرے سے اسے پکارا اور آج پھر بیڈ کے کنارے پر ٹک کر توانا بازو پر سر رکھا۔
گیلے شیمپو کی مہک سے نکھرے حسین بال شام علوی کے چہرے پر بکھرتے اسے گہری نیند کی وادیوں سے زندگی کی حسین خوشی کی جانب لائے۔
جاناں۔۔”
وہ گھمبیر سا خمار بھری آواز میں بولا۔
شام۔۔”
جاناں۔۔”
دونوں نے ایک تسلسل سے پکار پر لبیک کہا۔۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو۔اتنی پیاری کہ دل ایک بار پھر تمہاری ہمراہی چاہ رہا ہے۔دل چاہ رہا ہے تمہیں دیکھتا رہوں اور بس دیکھتا رہوں۔”
آنکھیں بند کیے اس نے آسودہ سانس کھینچ کر کہا۔
“آپ نے تو ابھی مجھے دیکھا ہی نہیں تو پھر کیسے پتہ چلا۔۔
وہ اس کا ہاتھ تھامتی شکوہ کناں ہوئی۔
نگاہ صرف بینائی کی نہیں ہوتی۔میری نگاہ کا ذریعہ لمس دل و دماغ سب ہے۔میں بنا دیکھے بنا محسوس کیے جان جاتا ہوں ماہ تاب علوی میرے قریب تر ہے۔”
شام نے اس کا ہاتھ لبوں سے لگایا تو وہ لجائی سی گرفت سے ہاتھ آزاد کروانے کے لیے مچلی۔
شام نے گرفت مضبوط کی ۔
“تم وفا ہو جاناں۔۔
تم سکون ہو جاناں
تم دل کا اطمینان ہو جاناں
تم میری بینائی کا من پسند منظر ہو جاناں۔
تم میری سماعت میں گونجتی ساز آواز ہو جاناں۔
تم ہی تم ہو جاناں۔ہر جگہ ہر مکاں ہر سمت میری جاناں۔محبت کی انتہا ہو جاناں ۔”
اس کی دلربائی پر وہ رشک سے مسکرائی۔
“جاناں کو عزیز ہے شام۔جاناں کے سفر کا یقین ہے شام۔
جاناں کی زندگی میں ٹھنڈی پھوار ہے شام۔
شام کی ہمراہی ایک تحفظ ہے غرض شام کی ہر ادا کی کمال ہے۔شام ہے تو جاناں ہے۔”
محبت کی پذیرائی ماہ تاب کی جانب سے بھی ہوئی تھی۔
واہ۔۔” وہ ہنوز نیند میں بڑبڑایا تو ماہ تاب نے اٹھنا چاہا۔
شام نے اسے جھٹکے میں سیدھا کیے سینے پر گرایا۔
کھلکھلاتی وہ سینے پرپیشانی ٹکائے سرخ پڑی۔
“اپنی اداؤں سے تم مجھے رفتہ رفتہ گھائل کررہی ہو۔عنقریب یہ دیوانہ تمہیں بھی دیوانگی کی حدود میں داخل کردے گا۔”
اس کے بالوں میں انگلیاں گھمائے وہ گھمبیر بھاری آواز میں بولا۔
اس کا لمس فرحت بخش تھا۔روح کی راحت تھا۔
“چھوڑدیں۔صبح کے گیارہ بج رہے ہیں۔آپ پہلے جیسی میری کئیر نہیں کرتے۔۔”
وہ نروٹھے پن سے بولی تو شام نے خفیف سی نگاہ اس پر ڈالی جو اسے ہی دیکھتی دبا دبا سا مسکرا رہی تھی۔
“سراسر الزام ہے۔”شام نے آنکھیں گھمائی۔
جاناں سچ بولتی ہے ۔”ْ وہ اترائی تھی۔
“ہاں جاناں سچ ہی بولتی ہے لیکن شام پر الزام لگاکر جرم سنگین کی مرتکب ہورہی ہے۔
اس کی چمکتی پیشانی پر لبوں کی مہر جمائے وہ سیدھا ہوا اور اسے بھی پاس کھینچ لیا۔
گہرے آتشی رنگ میں وہ گلابی ہوئے چہرے سے گلاب کا پھول ہی لگی۔
ماہ تاب نے سیاہ آنکھوں سے اس کے بھورے براؤن ارتکاز جانچے۔ان میں مقید شوریدہ جذبات محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دل دھڑکا رہا تھا۔
گلاب۔۔” اس نے بے ساختہ اسے ایک نام دیا۔تو وہ گھنیری پلکیں جھپکتی مسکرائی۔
شام کی گلاب۔۔” وہ دوبدو بولی۔
نہیں!! عنقریب کھلنے والا گلاب۔”
اس کی دور اندیشی پر وہ کانوں کی لوؤں تک سرخ پڑتی اس کے حصار میں چھپی تھی۔
بہت ہی کوئی۔۔” وہ فرطِ جذبات سے کچھ بول ہی نہیں پائی۔
دو گلاب چاہیے مجھے” شام مزید شرارت پر آمادہ ہوا۔جبکہ ماہ تاب نے ایک پنچ دل کے مقام پر مارا۔اور شرم سے دہری ہوئی۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔ اس میں کوئی ردو بدل نہیں ہوگی۔”وہ مزید گویا ہوا۔
شام۔۔۔!!وہ چڑتی مزید اس میں سمٹی ۔
جاناں۔۔۔”اس کی نقل اتارے شام نے اسے بکھرے موتیوں کی مانند ایک دم سمیٹ لیا تھا۔
میگزین پٹک کر اس نے ٹی وی کی جانب دیکھا۔جہاں عاہن علوی ایک ہیروئن کے ساتھ نظر آرہا تھا۔
آنے والے نیو سیریل میں وہ دونوں ساتھ دکھنے والے تھے۔تبھی شوبز نیوز میں بتایا جارہاتھا۔
میگزین میں ان دونوں کی ہی تصاویر تھیں۔جس میں وہ کافی حد تک قریب کھڑے تھے۔مشل کے گال غصے سے تپ گئے جبکہ سبز نگاہیں دہک سی گئیں۔
اپنی حالت وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔
اسے کل رات یاد آئی۔جب عاہن نے وہ وال فریم غصے سے چکنا چور کیا تھا۔
اسد کا لایا گفٹ دیکھ کر وہ بھی دنگ تھی۔لیکن عاہن کا غصہ بھی دیکھنے لائق تھا۔
کل کا سوچتی وہ ایک بار پھر متفکر ہوئی۔لیکن لب شرم سے کھلے۔
شاپنگ بیگ جس میں اسد گفٹ دے کرگیا تھا۔عاہن نے باکس کھولا تو اس میں تین چینز والا وال فریم تھا۔جس میں اسد اور مشل کی کئی تصاویر تھیں۔
عاہن کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوا جبکہ مشل کا رنگ فق ہوا۔
یہ اسد۔۔میں نے نہیں۔آئی ایم سوری۔۔” وہ بوکھلائی تھی۔
عاہن نے پوری قوت سے وہ وال فریم دیوار پر مارا کہ کانچ کے ٹکرے اردگرد بکھر گئے۔
وہ چیختی فاصلے پر ہوئی۔
“تم صرف میری ہو۔تم پر میرا حق ہے۔تمہارا ہر منظر میرے ساتھ قید ہونے کے لیے ہے۔ناکہ کسی اور کے ساتھ تم یہ لمحات گزارو۔آج کے بعد اگر تم نے اسد سے ملنے کی کوشش کی یا پھر اس سے رابطہ کیا تو میں تمہاری جان لے لوں گا۔”
اسے دیوار سے لگائے وہ جنون خیزی سے گویا ہوا۔
مشل دہل سی گئی۔اس کا یہ سفاکانہ جنونی روپ اسے سہمارہا تھا۔
لیکن اس کے لفظوں میں چھپی دیوانگی پر وہ بڑھتی دھڑکن کے ساتھ دھیما سا مسکرائی۔
“اتنا پیار کرنے لگے ہو مسٹر عاہن۔۔”
ایسا کچھ نہیں ہے لیکن وہ کوئی حق نہیں رکھتا ۔اس نے نگاہ چرائی۔
مشل کا دیوانہ عاہن۔۔واؤ کیا اچھی میٹھی سی فیلنگ آرہی ہے۔”
وہ ایک ادا سے قریب ہوئے بانہیں گردن میں حائل کرتی مسکرائی۔
عاہن کو اپنی بے اختیاری کا احساس شدت سے ہوا۔لب بھینچ کر اس نےتیز نگاہ سے اس کے ہاتھ جھٹکے تو وہ کھلکھلائی تھی۔
“اففف !! عاہن علوی مشل سے نفرت کا دعویدار ہائے محبت کر بیٹھا ہے۔میں پاگل ہوجاؤں گی۔۔۔”
چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ عاہن کو چڑاتی حددرجہ پیاری لگی۔
مشل!!” عاہن نے تنبیہہ کی۔لیکن وہ شرارتی چڑیا بنی اسے چڑا رہی تھی۔
“ایسی دیوانگی دیکھی نہیں کبھی۔۔اففف عاہن علوی مشل کا دیوانہ۔۔یقین نہیں آتا۔”
اچھلتی کودتی وہ سرخ ہوتے چہرے سے بولی۔
شٹ اپ۔۔۔!! ایسا کچھ نہیں ہے”۔وہ سرد سا بولا۔
ایسا ہی ہے عاہن ڈارلنگ۔۔”
وہ آگے آتی ایک بار پھر گھومتی مسکائی۔عاہن نے اس کی کلائی جکڑ اسے قریب کیا۔
“خوشفہمی پال کر جو مرضی کرو آئی ڈونٹ کئیر”۔
وہ دانت پیسے بولا لیکن نگاہ کچھ اور ہی داستان سنا رہی تھی۔
“تیری آنکھوں میں مجھے پیار نظر آتا ہے۔تو ہی عاشق تو ہی دلدار نظر آتا ہے۔”
وہ مزید ایک گانا اس کے گوش گزارتی کھلکھلائی۔
“تم نے سونگز میں پی ایچ ڈی کی ہے کیا؟”
عاہن اس کی موقع کی مناسبت سے گانا گانے پر دنگ ہوا۔
“نہیں آپ کا حسین چہرہ دیکھ کر یہ گانے یاد آرہے ہیں۔”
وہ شریر پن سے اس کا گال کھینچے بولی۔
بہت ہی بے شرم لڑکی ہو۔ہسبنڈ کے گال کون کھینچتا ہے۔؟”
ون اینڈ اونلی مشل علوی۔” اس نے ایک بار پھر عاہن کا گال کھینچا۔
آؤچ۔۔۔” بدتمیز لڑکی۔نشان پڑ جائے گا۔جانتی ہو کل میرا شوٹ ہے۔”
اوہ مائے گاڈ تم تو نازک لڑکیوں کی طرح بیہیو کررہے ہو۔ کیا اتنی شرم آرہی ہے۔؟اللہ میرا ہبی تو بڑا شرمیلا ہے۔لڑکیوں کے ساتھ سین ناجانے کیسے کرتا ہوگا۔؟”
اس کے سرخ ہوتے گال سے قیاس آرائی کرتی وہ عاہن کی دھڑکنیں بڑھا رہی تھی۔جو حسین روپ میں ایک تو اتنے نزدیک تھی اور دوسرا شرارت پر شرارت کرکے اسے بھی شرارت پر اکسا رہی تھی۔
“میں بتاتا ہوں میں لڑکیوں کے ساتھ سین کیسے کرتا ہوں۔بلکہ کچھ دنوں میں تمہیں لائیو دکھادوں گا۔”
اس کی کمر جکڑے مزید قریب کھینچ کر پراسراریت سے گویا ہوا۔
مشل کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑی۔جبکہ چہرہ حددرجہ سرخی میں ڈھلا۔
وہ دھیرے سے چہرے کی جانب جھکا۔جب مشل نے ایک ہاتھ سینے پر اور ایک آنکھوں پر رکھا۔
اس کی دلربا سا شوخ پن ادائیں عاہن کو اس کی جانب مائل کررہی تھی۔
“اب کیوں شرمارہی ہو۔مقابلہ کرو۔۔”
مجھے نہیں کرنا مقابلہ۔۔۔”
وہ بوکھلائی سی بولی۔
“کل میگزین دیکھنا۔پھر بتانا کون شرماتا ہے کون جلتا ہے۔”ْ اس کے کان میں سرد سے الفاظ کہہ کر وہ سیدھا ہوا۔
مشل چونکی سیدھی ہوئی۔
“پھر تم بھی دیکھنا میں کیا کرتی ہوں۔مشل علوی کو ہلکا مت سمجھنا۔ “
سینے پر کہنی رکھ کر وہ مزید اس کی جانب جھکی آنکھوں میں دیکھے پراعتماد تھی۔
لیٹس سی۔۔”
عاہن آنکھیں گھمائے اس کی جانب مکمل جھکا تھا۔
اس کے شوخ پن وہ گھبرائی شرمائی اس کے سینے میں سمٹی تھی۔
چچی!” وہ سدرہ بیگم کو پکارتی کچن کی طرف آئی۔جہاں سدرہ چچی مصروف تھیں۔
کیا ہوا مشل؟”
“چچی مجھے شاپنگ پرجانا ہے ۔وہ مجھے عاہن کا گفٹ لینا ہے۔”
وہ انگلیاں چٹخائے بولی۔تو سدری چچی مسکرائی تھی۔
“ضرور جاؤ۔گارڈ کو ساتھ لے جاؤ گاڑی بھی پورچ میں کھڑی ہے۔”
اس کا گال چھوتی وہ نرمی سے بولی تو وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھی۔
تھینکیو۔چچی آئی لو یو۔”
سدرہ بیگم شادابی سے مسکرائی۔
“مسٹر عاہن علوی اب میں آپ کو بتاؤں گی کہ مشل کیا چیزی ہے۔میں بھی دیکھوں گی کہ تم کیسے اس کے ساتھ وہ رومینٹک سین کرتے ہو۔؟میں مشل علوی ہوں تمہاری اکلوتی بیوی ۔تمہیں ناکوں چنے نہ چبوادئیے تو میرا نام بھی مشل عاہن علوی نہیں۔۔”
گارڈ کے ساتھ وہ باہر کی جانب بڑھی تھی۔
کچھ فاصلے پر کھڑی گاڑی نے بے ساختہ اس کا پیچھا کیا تھا۔
ماما!! یہ دیکھیں آپ کی بہو اور آپ کا پوتا۔۔”
علیہ بیگم کو دوبارہ ہوش آیاتو سامنے دو اجنبی چہرے تھے۔
معیز۔۔۔” وہ بدقت بولی تو معیز نے بھیگی آنکھوں سے سر اثبات میں ہلایا۔
“ماما میں آپ کا معیز ہی ہوں۔یقین رکھیں آپ کو چھوڑ کر اب کبھی نہیں جاؤں گا۔”
رات کو وہ انہیں کئی بار یقین دلاچکا تھا کہ وہ ان کا معیز ہی ہے۔دونوں ماں بیٹا آدھی رات کو تڑپتے سسکتے ایک دوسرے کا غم ہلکا کرتے رہے۔ان کی گود میں سر رکھے اس نے طویل تر داستان نہایت تکلیف سے ان کے گوش گزاری تھی۔
معیز کو لگا تھا آج اس کی ہر تکلیف ہر درد کا مداوا ہوگیا ہو۔
ماں کا آنچل ماں کی نرم گرم گود نے ہر غم کا ازالہ کرڈالا تھا۔
علیہ بیگم نے ایک عرصہ شارف ابدال کے ظلم و ستم سہےتھے پھر وہ کیسے اپنے بچے کی تکلیف سمجھ پاتی۔
اس کا ماتھا چومتے وہ روتی جاتی اور شکوے بھی کرتی جاتی ۔غرض بے اختیاری دونوں ماں بیٹے میں سمٹی تھی۔
انہوں نے عبیحہ کو قریب بلایا تو وہ ججھکتی آگے آئی۔
علیہ بیگم نے سفید ناتواں ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔ وہ سسک اٹھی۔
ایک طویل تر تکلیف دہ مراحل کے بعد آج ایک پرشفقت لمس اس کے بھی احساسات بدل گیا تھا۔۔معیز نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سہارا دیا۔
“ماما میں آپ کے لیے کچھ کھانے کو منگواتا ہوں۔
احد دادو کے پاس بیٹھو میں ابھی آتا ہوں۔دادو کو بور نہیں کرنا۔”
احد کے نرم گال چومے اس نے درخواست کی ۔
“بالکل بھی نہیں پاپا میں تو ایک گڈ بوائے ہوں۔دادو کو میں خوب انٹرٹین کروں گا۔”
وہ ان کے بیڈ پر قریب بیٹھے اس نے ان کا کمزور ہاتھ تھامے کہا۔
معیز مسکراتا عبیحہ کے ساتھ باہر نکلا تھا۔
ماما کے سامنے رونا مت۔وہ برداشت نہیں کرپائیں گی۔میں جانتا ہوں تم اب بھی وہ سب یاد رکھتی ہو۔”
اس کی بھیگی آنکھوں کو پوروں سے رگڑے وہ پرمدھم ہوا۔
“بابا کی یاد آگئی تھی۔میرے گناہ کی وجہ سے سب ۔۔”
معیز نے اس کے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا۔
“آج کے بعد ہمارے درمیان اس گناہ کا ذکر بھی نہیں آنا چاہیے۔
“تم صرف میری ہو میرے لیے بالکل الگ عبیحہ مراد ہو۔جس کا کوئی دردناک ماضی نہیں ہے “
“معیز میں احد کو سینے سے لگانا چاہتی ہوں۔لیکن۔”ْ وہ ایک بار پھر سسکی۔
معیز نے نرمی سے اسے خود سے لگایا۔
“تم احد کو ایک ماں کا پیار بھی دو گی۔وہ تمہارا بیٹا ہے وہ معیز کا بیٹا ہے۔وہ کسی شارف ابدال کو نہیں جانتا۔اس کے رشتے ہم خود بنائیں گے۔”
اس کی نازک کمر سہلائے وہ اپنے ساتھ کا احساس دلفریبی سے دے رہا تھا۔
“معیز مجھے معاف کردو۔ میں فرق نہیں سمجھ پائی۔ایک بار کہو تم نے مجھے معاف کردیا۔”
معیز نے اسے سیدھا کیا اور اس کی پیشانی کو چھوا۔ایک بار کئی بار چھوا تو وہ گلابی پڑتی اس کے لمس پر سمٹی تھی۔
“بیوی کی پیشانی پر بوسہ دینا ہر معافی ہر ناراضگی ختم کرنےکا اشارہ ہوتا ہے۔اور میں نے تو کئی بار تمہیں اس لمس سے نواز دیا ہے۔اب خود جان لو کہ ناراضگی اور معافی کہاں باقی ہے۔ اب تو محبت ہی محبت ہے جو تم مجھ سے کرو گی اور میں تم سے کرنا چاہتا ہوں۔”
اس کے لفظوں کی بازگشت سے وہ لرزتی پلکوں ہتھیلیوں میں امڈتی نمی کو بمشکل چھپاپائی۔
“تمہاری یہ دلفریب حرکات مجھے بہکا رہی ہیں عبیحہ مراد۔۔”
وہ سب سوچیں جھٹک کر مکمل اس کی جانب جھکا تو وہ سرخ ہوتے چہرے سے مزید چہرہ جھکاتی اس کی نگاہ سے بچ پائی ۔
“اب مجھ سے بچنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے”۔
وہ گھمبیرتا سے کہتا اس کے چہرے پر جھکا تھا۔دونوں کے درمیان محبت کے میٹھے لمحات ٹھہر گئے تھے۔
جاری
