Shab E Yakeen By Hadia Mughal Readelle50175 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
کانپتے قدموں سے وہ مشل کے کمرے کی جانب بڑھی۔اس وقت اسے کسی سہارے کی تلاش تھی۔
مشل بیڈ پر بے سدھ لیٹی تھی۔
وہ تیزی سے آگے آئی اور اسے جنجھوڑا۔
مشل!! ماہ تاب کی پکار پر اور جنجھوڑنے پر اس کے ساکت وجود میں جنبش ہوئی۔
ماہ۔۔ماہ تاب۔۔وہ عاہن۔۔قق قاتل ہے۔اس نے اسے مار دیا۔
مار دیا اس نے۔۔”
وہ کانپتی ہوئی ماہ تاب کے گلے لگی تھی۔
“کس کا قتل؟ کیا ہوا مشل ؟ اور عاہن اور شام ناجانے کہاں چلے گئے ہیں۔”
ماہ تاب کی بھیگی آنکھوں اڑے حواس دیکھتی وہ سہمی تھی۔
“دیکھا وہ چلا گیا۔ماہ وہ شارف کو ماردے گا۔ماہ تم نہیں جانتی اس نے بہت بری طرح قتل کیا ہے۔وہ خونی ہے ماہ تاب۔”
ماہ ساکت ہوئی تھی۔
شارف کا ذکر اس کا سانس دبوچ لیتا تھا۔
“کیا ہوا ماہ تاب؟”
“چچی وہ عاہن۔۔عاہن نے اسے ماردیا۔وہ قاتل ہے۔”
مشل آگے بڑھتی سدرہ بیگم کے گلے لگتی سہمی۔
ماہ تاب کی حیرت اب بھی بجاتھی۔آخری عاہن نے کس کا قتل کیا تھا ؟اور مشل کبھی بھی اتنا کسی سے ڈرتی نہیں تھی۔
“مشل اس نے کچھ نہیں کیا وہ بس تمہیں ڈرا رہا تھا۔جانتی ہو ناں وہ ایک ایکٹر ہے۔پھر تم کیوں اس کی باتوں میں آگئی۔”
سدرہ چچی اپنے تاثرات چھپائے مسکرائی۔مشل نے حیرت سے ان کا چہرہ جانچا جہاں صرف مسکراہٹ تھی۔
چچی کہہ تو سچ ہی رہی تھیں کہ وہ ایکٹر تھا۔مطلب اس نے اسے بےوقوف بنایا تھا۔
عاہن۔۔۔” دانت پیستی وہ جنجھلائی تھی۔
“واؤ سر آج دونوں بھائی ایک ساتھ۔۔لیکن ہسپتال میں؟” کئی مداح تھے جو اتنی رات کو بھی ان دونوں بھائیوں کو اکٹھے دیکھ کر حیران تھے۔
شام مسکرایا جب عاہن نے بھی اس کی تائید کی۔
زوار علوی کو آئی سی یو میں لے جایا گیا تھا۔سر پر گہرے وار کی وجہ سے کچھ سکرین کے ٹکرے پیشانی پر چبھ گئے تھے۔
سر دیوار پر لگنے کی وجہ سے دماغ پر دباؤ آیا تھا۔
ایس پی کو کال کی؟”
“ہممم متین سب سنبھال لے گا۔ادھر زاہد بٹ کی موت کا شور بلند ہے میں کام تو پورا کرکے آیا تھا۔لیکن جو چھوٹے موٹے ثبوت ہیں اب متین کی ذمہ داری ہے۔”
مشل کو تو نہیں ڈرایا ؟”
شام اس کی رمز اچھے سے جانتا تھا۔تبھی بے ساختہ پوچھا۔
“جب آپ کو پتہ ہے تو پوچھ کیوں رہے ہیں ؟” گردن سہلائے وہ منمنایا تو شام نے ایک زور دار پنچ اس کی کمر میں جڑھا۔
“پاگل وہ تمہاری بیوی ہے۔اب اگر اسے تایا کے ساتھ حادثے کا پتہ چلا تو اس پر کیا اثر پڑے گا۔؟”
“بھائی اس نے شارف کا کال کی تھی۔پاگل لڑکی گھر کی ساری روٹین اسے بتارہی تھی۔”
“وہ نادان ہے اسے پیار سے مناؤ۔اسے سمجھاؤ اسے شارف کی سچائی بتاؤ”۔
“بتایا تھا لیکن اس جنگلی آتما نے مجھے کاٹ لیا”۔
بازو پر اب بھی مدھم سا نشان تھا۔
“تم دونوں کا کچھ نہیں ہوسکتا۔”وہ سرجھٹکتا سامنے دیکھنے لگا۔
جہاں سے ایس پی متین ان کی جانب آرہا تھا۔
ہیلو مسٹر شام۔۔”ہیلو عاہن۔۔”
“شارف ابدال اپنے فلیٹ میں ابھی تک نہیں لوٹے۔
ہاں جانتا ہوں اسے ابھی پکڑنا نہیں ہے بس اس پر نظر رکھو۔”
عاہن کی ہدایت پر متین نے سر ہلایا تھا۔
فجر کی ساعت ہونے میں کافی وقت باقی تھا۔احد کو لیے وہ گھر سے نکلا تو اشرف نے ریلنگ سے اسے جاتے دیکھا۔
کل ناجانے وہ کہاں گیا تھا اشرف کو سمجھ نہیں پایا تھا۔
اس نے تہہ خانے میں علیہ بیگم کو بھی چیک کیا تو وہ وہاں بے سدھ تھیں۔
وہ چپ چاپ اوپر آتا معیز کے پیچھے نکلا ۔ لیکن وہ کل اسے دھوکا دے کر کسی اور ہی گلی میں چلا گیا تھا۔
آج بھی وہ چھپتے ہوئے اس کے پیچھے بڑھنے لگا۔
اس نے شارف ابدال کا نمبر ڈائل کیا تاکہ انہیں اطلاع کرسکے۔لیکن شاید وہ سورہے تھے۔
اشرف آج بائیک پر اس کی جانب بڑھنے لگا۔
احد نے بیک مرر سے اپنے پیچھے بائیک دیکھی تو لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سمٹ آئی۔
وہ چپ چاپ آج اپنی راہ پر جارہا تھا۔جہاں آج یقینی تھی۔آج عبیحہ مراد اسے مکمل ملنے والی تھی۔
کل وہ محض منہا سے ملا تھا۔یہ یقین کرنے کے لیے کہ وہ عبیحہ مراد ہی ہے ناں۔
منہا نے عبیحہ کو معیز کے بارے میں اگاہ نہیں کیا تھا۔
عبیحہ پچھلے دو ڈھائی سال سے منہا کے ساتھ تھی۔وہ رہتی اسی محلے میں تھی ۔لیکن وہ منہا کی کئی خفیہ انفارمیشن لانے میں روپ بدل کر مدد فراہم کررہی تھی۔
وہ دونوں بھی ایک حادثے کی صورت ہی ملی تھیں۔
اسے ایک نجی ہوسپٹل میں ہوئے زیادتی کیس میں مدد درکار تھی۔
عبیحہ مراد کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اس واقعی کی چشم دید گواہ تھی۔
اپنے نقاہت زدہ وجود کی وجہ سے وہ اس لڑکی کو بچا نہیں پائی تھی۔لیکن منہا کو اس نے سب باتیں بتائی تھیں۔
ان چھ سالوں میں عبیحہ مراد نے اس کی گناہ کی پاداش پر بہت کھٹنائیاں جھیلی تھیں۔
سڑکوں پر گزرتی راتوں میں وہ اپنی بچی کھچی عزت کی حفاظت کے لیے کئی ساعت جاگتی رہتی۔چھوٹی سی عمر میں ایک بڑی عورت کا روپ دھارے وہ عبیحہ مراد معاشرے کے سارے ناسور جان چکی تھی۔
مختلف گھروں میں کام کرتی رہی۔غرض گناہ کی سزا بہت گہری تھی جوبھگت رہی تھی۔لیکن منہا داؤد نے اسے اپنی خفیہ انفارمیشن کے لیے اپنے ساتھ جوڑا تھا۔
اپنی ساکھ چھپاتے ہوئے وہ تھکنے لگی تھی۔لیکن یہ اطمینان بھی تھا کہ وہ اب محفوظ تھی۔انسانیت کی زیادہ تو نہیں تھوڑی خدمت والی تھی۔انصاف کی راہوں میں سچائی کی ہم قدم تھی۔
اشرف کی بائیک پیچھے ہی تھی جب اس نے سنسان سڑک پر گاڑی روکی۔
اشرف نے بھی اچانک بریک لگائی تھی۔
وہ گاڑی سے اترے اس کی جانب بڑھا۔اسے خطرے کی گھنٹی کا شدت سے احساس ہوا تھا۔
وہ بائیک کو موڑنے لگا۔جب معیز اس پر جھپٹا۔
“کاش میں یہ ہمت اس وقت کرلیتا جب میں کمزور تھا۔کاش میری بزدلی اسی وقت ختم ہوجاتی جب تم میرے پیاروں کو تکلیف دے رہے تھے۔”
دو چار بھاری مضبوط ہاتھوں سے گھونسے مار کر اس نے آج اپنی کھولن بھی مقابل پر انڈیلی۔
“میرے بچے کو تکلیف دینا چاہتے تھے۔میں تو یہ تکلیف برداشت کرچکا ہوں۔لیکن اب کسی بچے کو یہ نہیں کرنے دوں گا۔معیز رؤف آج اپنی بزدلی کا خاتمہ تمہارے وجود سے کرے گا۔”
بالوں سے کھینچ کر اس نے اشرف کو زمین پر پھینکا۔
اشرف کو اس نے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا تھا۔
پتھریلی سڑک پر گرنے کی وجہ سے اس بھاری پتھر اس کے سر پر لگا تھا۔
دو چار ٹھوکریں مار کر اس نے اشرف کو سڑک کے اطراف میں بنی جھاڑیوں میں دھکیلا۔اور اس کا موبائل قبضے میں لیا تھا۔تاکہ وہ شارف سے رابطہ نہ کرسکے۔
احد صبح ہونے کی وجہ سے ابھی گہری نیند میں تھا۔
اس نے سرخ ہوتی آنکھیں آستین سے رگڑی۔
“اللہ !! اللہ تو نے مجھ جیسے بزدل مرد کو آج ایسی بہادری عطا کی ہے کہ میں تیرا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔کاش یہ ہمت یہ جرات پہلے نصیب ہوتی۔لیکن میں جانتا ہوں ہر شے کا تو نے وقت مقرر کیا ہے۔بعض اوقات چیزیں ہماری نگاہ کے حصار میں بھی اوجھل رہتی ہیں۔اور کچھ اوجھل ہوکر نگاہ کے حصار میں آجاتی ہیں۔ اور مجھے آج تیری حکمت پر دل و جان سے یقین آچکا ہے کہ میری جرات و بہادری کا وقت بھی آج مقرر تھا۔”
وہ بہتی آنکھوں سے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔
لمبا چوڑا سراپا اس وقت کپکپاہٹ کا شکار تھا۔
کچھ دیر بعد وہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا۔
منہا کو اس نے میسج کردیا تھا۔
“عبیحہ مراد !! میں نے پانچ سال تمہارے لیے سفر کیا ہے۔پانچ سال تمہیں تلاشا ہے۔لیکن تم میری دسترس سے بہت دور تھی۔
لیکن آج میں تمہیں خود سے دور نہیں کروں گا۔تم اگر چاہو گی بھی تو تب بھی یہ نہیں کرنے دوں گا۔”
آپ یہاں بیٹھو میں بس پانچ منٹ میں آتا ہوں۔”
احد گاڑی میں بے چین ہونے کی وجہ سے وہ جاگ چکا تھا۔
معیز سے مختلف سوالات کرتا وہ اسے آدھے راستے ہنساتا آیا تھا۔
لکڑی کا دروازہ کھٹکا کر اس نے ایک نظر اطراف میں ڈالی۔چھوٹی سی گلی میں مکمل سناٹا تھا۔گھر چونکہ گلی کی شروعات میں ہی تھا۔
اس نے گلی کے سامنے ہی گاڑی کھڑی کی۔ تاکہ احد پر نظر رہے۔
فجر ہونے میں کچھ وقت تھا۔
وہ تہجد کے نوافل ادا کرتی دستک پر چونکی۔سفید حجاب درست کرتے وہ باہر آئی۔منہا اکثر اس کے گھر رات کو ہی آتی تھی۔
کون!!
تسلی کے لیے اس نے پھر بھی پکارا۔
خاموشی طاری رہی تو اس نے دروازہ کھول دیا۔
سامنے موجود شخصیت کو دیکھتی وہ خوف سے سفید پڑی دل جیسے اچھل کر حلق میں آیا۔
پھٹی آنکھوں سے وہ چند قدم پیچھے کھسکی۔
“میں جانتا تھا تم مجھے پہچان لو گی۔ کیونکہ تمہارے علاوہ مجھے کوئی بھی نہیں پہچان پائے گا۔”
معیز رؤف یہاں۔؟ایسا تو خیال میں بھی نہیں سوچا تھا۔
وہ تلخ سا بولتا اگے بڑھا تو وہ رخ موڑتی سر نفی میں ہلائے اندر بھاگی۔
عبیحہ رک جاؤ۔”
یکلخت اس نے کلائی جکڑ کر اسے روک دیا۔
نن نہیں چچ چھوڑو۔۔۔”
اس کی کلائی پر گرفت مضبوط تھی۔اس کے لمس پر وہ تڑپی تھی۔
سفید حجاب سے چہرہ ڈھکتی وہ اندر بند ہونے میں سرگرداں تھی۔جس شخص کی نظروں میں نہ آنے کے لیے اتنے سال سفر کیا تھا وہی آج سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
“اتنی بے حسی عبیحہ مراد۔۔ اپنے پیاروں کی بھی تم نے قدر نہیں کی۔”
وہ سسک اٹھی۔اور نفی میں سرہلایا۔
نہیں۔۔پپ پلیز۔۔ایسا نہیں کہو۔تم سچ نہیں جانتے۔۔”
مجھے سچ جانناہے اسی لیے یہاں آیا ہوں۔لیکن اس سے پہلے تم میرے ساتھ چلو گی۔
نہیں معیز پلیز۔۔”
“کیوں نہیں عبیحہ!!میں نے چھ سال تمہیں تلاشا ہے چھ سال ہر دن ہر رات ہر صبح تمہیں یاد کیا ہے تو کیا میں تمہاری الجھی ادھوری جھلک کو بھی نہ پہچان پاتا۔”
وہ قدم لیتا اس کے مقابل آگیا۔ کلائی چھوڑ کر چہرے پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔
عبیحہ کی آنکھیں بہتی گزرے سالوں کی اذیت اجاگر کرتی داستان نو کا آغاز کررہی تھیں۔
معیز کا دل چاہا وہ ان آنسوؤں کو سمیٹ دے۔لیکن ابھی حق حاصل نہیں تھا۔
جبکہ وہ نہ دیکھ کر بھی جان چکی تھی۔کہ مقابل کی آنکھوں میں کتنے شکوے ہیں۔
ہلکی گندمی سی رنگت وہی سیاہ رنگ بھنورا سی آنکھیں وہی نقوش تھے۔وہی عبیحہ مراد تھی۔معیز رؤف کی یقین کی شب بھی جیسے آج پوری ہوئی تھی۔
معیز کے دل کو جیسے راحت نصیب ہوئی۔
برسوں کی سلگتی دل کی زمین پر ٹھنڈک آگری۔
وہ باہر کی جانب بھاگی۔تاکہ اس شخص کی دسترس سے دور ہوسکے۔
عبیحہ۔۔سٹاپ۔۔۔” وہ چیختا اس کے پیچھے لپکا۔
وہ دروازے سے باہر ہوئی جب ایک بار پھر معیز نے اسے کھینچ کر اپنی جانب کیا۔وہ سہارا لیتی دبا سا چیخ کر تھمی۔
“پلیز۔۔معیز۔۔میری راہیں تم تک نہیں آسکتی۔کوئی ایسی ڈیمانڈ مت کرنا جو میں پوری نہیں کرپاؤں۔”
“آج میں ڈیمانڈ نہیں کروں گا آج جو بھی ہوگا سچ ہوگا۔دیدہ دلیری سے ہوگا۔منہا کے فلیٹ میں سب انتظامات ہوچکے ہیں۔تم نکاح کے لیے فوراً حامی بھرو گی۔ورنہ میں خود تمہیں اپنے ہاتھوں سے مارڈالوں گا۔بہت صبر کیا ہے میں نے لیکن اب بالکل بھی نہیں۔۔”
دبے لہجے میں غراتا وہ اپنی سیاہ آنکھوں سے اس کی جانب جھکا جو اس کے کندھے کا سہارا لیے بمشکل کھڑی تھی۔
“نہیں میں تم یہ نہیں کرسکتی۔خدا کے لیے مجھے جانے دو۔تم کیوں اپنی زندگی تباہ کرنے چاہتے ہو۔”
وہ سینے پر ہاتھ جما کردور ہوئی اور بے ساختہ ہاتھ جوڑ کر سسکی۔
“میں اپنی زندگی تباہ کرنے کو تیار ہوں لیکن میں اس پانچ سالہ بچے کی زندگی تباہ نہیں کرسکتا جو ماں کے لمس کے لیے اتنے سال تڑپا ہے۔جس کی ماں ایک جرم کی پاداش میں اسے بے یارو مددگار چھوڑ گئی تھی۔”
معیز۔۔۔چچ چھوڑا نہیں تھا۔”
وہ پھٹی آنکھوں سے چند قدم پیچھے کھسکی۔
“اگر تم نے نکاح کے لیے حامی نہیں بھری تو میں سچ کہہ رہا ہوں۔احد کو میں شارف ابدال کے حوالے کردوں گا۔پھر بے شک وہ کسی اندھیر نگری کا حصہ بنے یا پھر کسی دلدل میں دھنسے۔میں بھی خود غرض بن کر اسے اندیکھی کھائیوں میں دھکیل دوں گا۔”
اس کی سفاکیت بھری دھمکی پر عبیحہ نے تڑپ کر نفی میں سرہلایا تھا۔
میرا بیٹا۔۔۔احد۔۔۔”
“ہاں تمہارا بیٹا احد۔۔۔وہی بدنصیب بچہ جسے تم نے دنیا کےرحم و کرم پر چھوڑا تھا۔”
معیز اسے لیے باہر آیا۔اور گاڑی کی جانب اشارہ کیا جہاں وہ شیشے سے چپکا معیز کو ہی دیکھ رہا تھا۔
اس کی چمکتی گرے آنکھوں کو دیکھتی وہ لرز اٹھی۔اس کی شکل ہوبہو شارف ابدال جیسی تھی۔
شش شارف۔۔۔” سرسراتی آواز سنتا وہ لب بھینچ گیا۔
“یہ احد معیز رؤف کا بیٹا ہے۔اسے میں نے پالا ہے۔اسے میرے نام سے پکارا اور بلایا جائے گا۔”
اٹل لہجے میں کہتا وہ عبیحہ کو لے کر آگے بڑھا تھا۔
“معیز!!۔پلیز ضد مت کرو۔مجھے میری دنیا میں رہنے دو میں تمہاری دنیا میں گئی تو سب تباہ ہوجائے گا”۔
ہونے دو ان چھ سالوں میں تباہی میری مقدر بنی ہے۔اب ایک اور تباہی کو گلے لگالوں تو مضائقہ نہیں ہے۔
احد آپ پیچھے جاؤ آگے یہ نیو ماما بیٹھیں گی۔
دروازہ کھول کر اس نے احد کو پیچھے جانے کا کہا۔
وہ گرے چمکتی آنکھوں سے پیچھے جا کر بیٹھا۔
عبیحہ کو اس نے سیٹ پر بٹھایا۔اور خود اس کے گھر کا دروازہ بند کرکے واپس آیا تھا۔
واؤ نیو ماما۔۔۔” وہ اشتیاق سے بولا تو اس کےلفظ پر دل نے جیسے برچھی چلائی تھی۔
آنٹی آپ میری نیو ماما ہو؟ماہ ماما کہاں گئی؟”
وہ سیٹ کے درمیان کھڑا ہوتا مکمل عبیحہ کی جانب مڑا۔جس کی سرخ ہوتی آنکھیں اس بچے کو دیکھنے سے گریز برت رہی تھی ۔
اس بچے کی آواز اسے سکون کے ساتھ ایک بے قراری بھی دے رہی تھی۔دل چاہ رہا تھااسے سینے سے لگاکر پھوٹ پھوٹ کر روئے۔چیخے چلائے اسے بتائے کہ مجھے معاف کردو۔
“ماہ ماما اپنے گھر چلی گئی ہیں۔یہ والی ماما اب ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گی۔”
معیز کا جواب سن کر اس نے ایک بار پھر التجائی نگاہ سے معیز کو دیکھا۔جو وہ نظرانداز کرچکا تھا۔
“اوہ تو یہ ماما ہمیشہ ساتھ۔۔تھینکیو معیز پاپا میں ان کے ساتھ بھی جلدی فرینڈشپ کرلوں گا”۔
“بالکل آپ کرسکتے ہو۔کیونکہ آپ اچھے بچے ہو”۔
اس کا گال چومے اس نے سپیڈ بڑھائی۔
گاڑی اس نے فلیٹ کی بلڈنگ کے سامنے روکی ۔
“معیز پلیز۔۔مت کرو۔میں نہیں چاہتی تم اپنی زندگی برباد کرو۔تم مجھے ڈیزرو نہیں کرتے۔”
وہ خاموشی سے گاڑی سے اترگیا۔
عبیحہ کا دل چاہا وہ کسی طرح خود کو ختم کرلے۔وہ شخص کیوں ضد پر آگیا تھا۔
اس کی جانب آئے اس نے کلائی جکڑ کر احد کا دروازہ کھولا۔
احد چہکتا ہوا باہر نکل آیا ۔
جبکہ وہ اس کو تھامے اوپر بڑھنے لگا۔
ڈاکٹر وہ کیسے ہیں؟” شام ڈاکٹر کو دیکھ کر آگے بڑھا۔
فلحال انڈر ابزرویشن ہے۔ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے۔
عاہن متین کو ہدایات دیتا ڈاکٹر کی جانب آیا جس کے لفظوں نے ان دونوں کو فکر مند کیا تھا۔
بھائی ہمیں سیکیورٹی بڑھانی ہوگی۔شارف ابدال کا فلحال کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں گیا ہے؟
عاہن مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی آخر اس شخص کی دوستی تایا ابو کیسے ہوگئی؟اور زوار تایا کو اس نے کیونکر نقصان پہنچایا؟”
شام کافی الجھن میں گھرا تھا۔
عاہن لب بھینچے خاموش رہا۔وجہ وہ بھی نہیں جانتا تھا۔صد شکر یہ تھا کہ اس نے مشل کے فلیٹ میں کیمرہ فکس کیا تھا۔
یہ کام وہ پہلی ملاقات میں ہی کرچکا تھا۔اینٹرس کی ساتھ والی دیوار میں مختلف سینریز کے درمیان وہ منی خفیہ کیمرہ بنا مشل کو سمجھ آئے لگا آیا تھا۔
رات بھی مشل کی بے ہوشی کے بعد اس نے موبائل پر وہاں کے حالات دیکھنے کے لیے ہی سکرین آن کی تھی۔
لیکن وہاں کمرے کے وہ آدھے ادھورے ہی دیکھ کر ہی سمجھ گیا کہ کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔
اس نے زوار علوی کو گرتے دیکھا تھا۔
اور کچھ دیر بعد شارف ابدال بکتے جھکتے اسے باہر جاتے نظر آئے تو وہ پل بھر میں سارا معاملہ سمجھ چکا تھا۔
“بھائی آپ گھر چلے جائیں ماہ تاب پریشان ہوگی۔میں متین سے کہہ کر حوالدار کی یہاں ڈیوٹی لگاتا ہوں۔
شارف ابدال کو اب زوار تایا کی جھلک بھی نہیں ملنی چاہیے۔”
شام کو بھی ماہ کی فکر تھی تبھی اس نے جانا ہی مناسب سمجھاتھا۔
فلیٹ کی بیل بجا کر اس نے عبیحہ کا چہرہ جانچا جو ہلکا سا سوجن زدہ سرخ سا تھا۔
معیز نے ایک ہاتھ میں احد کا ہاتھ تھاما تھا۔
منہا نے ایک بیل پر ہی دروازہ کھولا۔ان دونوں کو ساتھ دیکھتی وہ مسکرائی۔
اندر سب انتظامات کیے جاچکے تھے۔عبیحہ نے مدد طلب نظروں سے منہا کو دیکھا جس کی آنکھوں میں ایک اطمینان تھا۔
“عبیحہ تم آؤ میرے ساتھ۔”وہ معیز کو دیکھتی عبیحہ کو کمرے کی جانب لے گئی۔
میم پلیز۔۔۔میرے ساتھ یہ سب مت کریں۔آپ جانتی ہیں ناں پلیز اسے روک دیں۔آپ نے کیوں اسے میرا پتہ دیا۔آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
وہ کمرے میں آتے ہی سسک اٹھی۔
“عبیحہ مجھ پر بھروسہ رکھو۔معیز ایک اچھا شخص ہے۔اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا۔تم اپنے گناہوں کی بہت گہری سزا کاٹ چکی ہو۔اور شاید یہ اب اللہ کا انعام ہے کہ معیز تمہیں مل رہا ہے۔مجھ پر یقین رکھ کر اس نکاح کی حامی بھرلو”۔
اس کے دونوں ہاتھ تھامے وہ متانت سے بولی تھی۔
پرمیم!!
“کچھ مت سوچو اللہ پر چھوڑ دو۔وہ اگر اس شخص کی ہمراہی تمہیں دے رہا ہے اس میں بھی مصلحت ہے۔کیا پتہ اس کے زریعے تم شارف ابدال کو اس کے کیفرکردار تک پہنچا سکو۔
وہ معصوم بچہ تمہارے لمس کا منتظر ہے۔اسے نواز دو اپنے لمس سے۔وہ معصوم تو حقیقت سے ناآشنا ہے۔اس سے پہلے کہ وہ اس ظالم سفاک دنیا میں اپنی ادھوری پہچان سے شیطانیت کا روپ دھارے اسے معصوم ہی رہنے دو۔
یہ لباس بدلو۔معیز نے خاص طور پر تمہارے لیے لیا ہے۔ بس اب تم نے رونا نہیں ہے۔اللہ ہر شخص کو ایک موقع فراہم کرتا ہے۔دیر مت کرو۔اسے واپس بھی جانا ہے”۔
گولڈن وائٹ فراک دیکھ کر کئی آنسو آنکھوں سے بہتے چلے گئے۔
اس کا گال تھپتپائے وہ باہر نکلی تھی۔
لرزتے قدموں دھڑکتےدل کے ساتھ وہ کاؤچ کی جانب بڑھی تھی۔
لاؤنج میں موجود چند لوگوں کی موجودگی میں اس نے کانپتے ہوئے قبولیت کو یقینی بنایا تو کئی مناظر آنکھوں کے گرد گھوم گئے۔اذیتوں ایک طویل تر وقت دونوں نے ساتھ ہی بھگتا تھا ۔مقام الگ تھا لیکن تکالیف شاید دونوں کی ایک ہی رہی تھی۔
منہا اس فلیٹ میں اپنی ماں باپ دو بھائیوں اور دادا کے ساتھ رہتی تھی۔
اپنے پیشے کی وجہ سے اس نے اس گھر میں سکونت اختیار کی تھی۔
اس خوبصورت لباس میں متورم چہرے کے ساتھ وہ معیز کے دل میں اتر رہی تھی۔قبولیت کے درجے پر دونوں کا دل شدت سے دھڑکا کہ معیز کو اپنی دھڑکن کی دھن کانوں میں محسوس ہوئی تھی۔جبکہ وہ سوجن زدہ آنکھوں لب کاٹتی روم روم کانپ گئی۔
کب سوچا تھا کہ وہ اتنا اچھا انعام پائے گی۔اس جیسی گناہگار لڑکی کے حق میں اتنا بہتر فیصلہ؟ سمجھ سے بالاتر تھا۔
لیکن یہ تو رب کے فیصلے ہیں جسے چاہے عطاکردے۔وہ چاہے تو گناہ گاروں کو بھی عطا کردے اور پرہیزگاروں سے لے کر امتحان کا درجہ دے ۔
یہ تو اس رب کی مصلحت تھی جو سمجھ سے بالاتر تھی۔
احد کاؤچ پر دوبارہ سوچکا تھا۔
عبیحہ کو دیکھتا وہ شارف ابدال کے عکس میں کھویا۔آج اس نے اپنی منزل پالی تھی۔آج وہ شارف ابدال کو برباد کرنے کے لیے ایک قدم مزید آگے آچکا تھا۔شارف ابدال کی تباہی میں عبیحہ مراد بھی اس ہمقدم ہونے والی تھی۔
دعا کے لیے اٹھے ہاتھوں میں اس نے عہد بھی کیا تھا کہ وہ عبیحہ مراد کو برباد کرنے والے کو نہایت دردناک موت دے گا۔
دعا ختم ہوئی تو فضا میں فجر کی اذانیں گونج رہی تھیں۔
معیز آسودہ سا مسکراتا اپنے رب کا شکر بجالایا۔اتنی مبارک ساعت میں مبارک کام یقیناً خیر کی خبر لانے والا تھا۔
وہ رخ موڑے انگلیاں مسل رہی تھیں جب معیز دروازہ بند کرتا اندر داخل ہوا۔
ایک پھندا سا گلے میں اٹک کر اس کا سانس روک رہا تھا۔معیز کے سامنے کی ہمت باقی نہیں تھی۔
وہ بھاری قدم لیتا اس کی جانب بڑھا۔
خنک زدہ کمرے میں بھی اس کی پیشانی نم سی تھی۔
معیز نے دونوں شانوں کو تھام کر اس کی پشت سینے سے لگائے آسودہ سا سانس کھینچا۔
اس کی بےباکی پر پاکیزہ لمس پر وہ آنکھیں میچتی کپکپائی۔
ایک بازو اس کے گرد پھیلاتا وہ مکمل اسے حصار میں لے گیا تھا۔آسودگی سے آنکھیں موند کر اس نے آج روح سے عبیحہ مراد کو مجسم محسوس کیا۔
دونوں ہاتھوں میں چند چوڑیاں سادہ سے دلہن کے لباس اور لبوں پر سجی مصنوعی گلابی پن میں ہی وہ نکھر کر سولہ سنگھار کی گئی دلہن کو مات دے رہی تھی۔
“جانتی ہو اس لمحے کا شدت سے انتظار کیا تھا۔مجھے آج بھی وہ پہلا ٹکراؤ یاد ہے۔جب تم مجھ پر بھڑکتی میرا دل بے چین کرگئی تھی۔کسی کی نک چڑھی طبعیت نے پہلی مرتبہ معیز رؤف کے دل کو مٹھاس بخشی تھی۔”
عبیحہ کو وہ لمحات یاد آئے تو کئی آنسو بہتے گال پر اپنے نشان چھوڑنے لگے۔
معیز نے بنا دیکھے وہ آنسو نرمی سے مضبوط انگلیوں کی پوروں سے مٹائے۔۔وہ اس کے حصار میں مقید کندھے سے سر لگائے جیسے مضبوط پناہ میں تھی۔
“اس پل کا مجھے کبھی یقین نہیں رہا تھا کہ تم مجھے مل جاؤ گی میں تمہارے مل جانے کی دعا کرتا تھا۔لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ تم مجھے میری محرم کے روپ میں ملو۔”
اس کے چند میٹھے لفظ اس نے میچی آنکھوں دھڑکتے دل کے ساتھ سنے۔
معیز نے آنکھیں کھول کر رخ موڑے اسے مقابل کیا۔
سرخ چوڑیوں والا ہاتھ اس نے استحقاق سے لبوں سے لگایا۔اس کی انگلیوں کو چھوکر معتبری کا پہلا درجہ عبیحہ مراد کے حوالے کیا۔
“فجر کی مبارک ساعتوں میں ہوا یہ نکاح بہت مبارک ہے عبیحہ۔کیونکہ تم آج مکمل میری ہوگئی ہو۔۔کل تک تم بھی ادھوری تھی۔اور میں بھی ادھورا ساتھا۔آج ہم دونوں کو اللہ پاک نے ایک کرکے مکمل کردیاہے۔ عنقریب میں تمہارے دل سے سب درد سب تکالیف کا خاتمہ کردوں گا۔”
چمکتی پیشانی پر اپنے عنابی لب جمائے وہ کئی پل اپنے لمس سے مہکائے وہ عبیحہ کی دل کی دنیا تہہ وبالا کرگیا۔
جلد تمہیں اپنے ساتھ اپنی دنیا میں لے جاؤں گا۔جہاں کوئی غم کوئی فکر وپریشانی نہیں ہوگی۔ جہاں احد میں اور تم اور ہماری خوشیاں ہوں گی۔
تمہاری گزشتہ حیات کی داستان میں اپنے پہلو میں تمہیں بٹھا کر اپنا حصار دیکھ کر اطمینان سے سننا چاہتا ہوں۔اور اس داستان کی کٹھنائیوں پر جب تم گھبرا جاؤ اپنے ہونے کا احساس دلا کر میں وہ تمام غم سمیٹنا چاہوں گا ۔
اپنا خیال رکھنا عبیحہ معیز!! اب تم میری امانت ہو۔رو کر خود کو تکلیف دے کر میری امانت میں خیانت مت کرنا۔
ہاتھوں کے پیالے میں چہری بھر کر اس نے وہ سرخ متورم آنکھوں کو چھولیا۔
لرزتی ٹانگوں سے بمشکل معیز کے سہارے کھڑی رہ پائی۔
عبیحہ مراد کو اپنی قسمت پر رشک آیا تھا۔کیا وہ اس قابل تھی کہ اسے معیز جیسا فرشتہ صفت انسان ملتا۔
کچھ دیر اسے سینے میں سموئے وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا۔اپنی خوشبو اپنا عکس کا اہم حصہ وہ عبیحہ کے گرد لپیٹ گیا تھا۔
جبکہ عبیحہ اب بھی اس کی مضبوط پناہوں کو محسوس کرتی آج اتنے برسوں میں پہلی بار خود کو محفوظ تصور کررہی تھی۔
جاری ہے
