Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“برو آج تو لوگوں کو دکھانے کادن تھا تم تو منظر پر آنے سے پہلے ہی اوجھل ہوگئے”۔
ہاسٹل میں داخل ہوتے ہی معیز رؤف اسے سامنے ہی نظر آیا۔جیسے اسی کے انتظار میں تھا۔
کیا مطلب؟؟ میں سمجھانہیں،” قدم آگے بڑھاتے وہ بولا تھا۔معیز اس کے ہم قدم ہوا۔
آج یہ تمہاری خوبصورت لک ہی تو لوگوں کو تمہارا دیوانہ بنانے والی تھی۔جانتے ہو وہ حسینہ بھی تمہارا پوچھ رہی تھی”۔
اس نے آج پھر ذکر چھیڑا تھا،
پلیز تم ٹاپک چینج کرسکتے ہو، شہرام زچ سا تھا۔
شیور، لیکن تم بہت ہی ہینڈسم لگ رہے ہو، اففف میں کیا کروں ،”
اس کی چمکتی جلد کو دیکھ کر معیز کی شرارت کی رگ پھڑکی تھی۔ایک بار پھر وہ اس کا گال کھینچ کر چند قدم آگے کھسکا۔
“یہ چھچھوری حرکت اگلی بار کی تو ٹانگ مار کر اپنے روم سے باہر پھینک دوں گا”۔
اسے ہلکا سا دھکا دے کر وہ اوپر کی جانب بڑھا جہاں اس کا کمرہ تھا۔
معیز شرٹ کو ٹھیک کرتا کھلنڈرا سا ہنس کر اس کے برابر آیا۔
“یار اتنی چکنی جلد تو لڑکیوں کی بھی نہیں ہوگی۔جتنی تمہاری محض ایک فیشل اور ٹریٹمنٹ سے ہوگئی ہے۔سوچ لو اگر اگلی بار تمہیں مزید سنوارنے کے لیے لے گیا تو شاید میں اور میرا دل دونوں بےقابو ہوجائیں”۔
تم مجھے زچ کررہے ہو یہ نہ ہو کہ میں یہ ہوسٹل ہی چھوڑ جاؤں۔
“تو دھرتی پہ چاہے جہاں بھی رہے گا تجھے تیری خوشبو سے پہچان لوں گا۔”
معیز کی غیرمتوقع ردِ عمل پر شہرام کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
اور میعز اس کی ہنسی دیکھ کر جیسے کچھ ریلکس ہوا۔
یار کیاہو تم؟؟ “ایسے تم لگتے نہیں جیسے تم حرکتیں کررہے ہو۔میری پہلی کبھی تم پر نظر نہیں پڑی۔نہ کلاس میں نہ گراؤنڈ میں؟ پھر اب تم کونسے کونے سے نکل کر آئے ہو؟”
برو!! “میں پہلے یونی غیر دلچسپی سے آتا تھا۔لیکن پھر مجھے ایک دلچسپ شے مل گئی تو میں تمہارے پاس چلا آیا۔قصہ تمہیں پھر کبھی سناؤں گا ابھی چلو ناں بابو”
ایک بار پھر آخر میں لہرا کر بولتا وہ بازو شہرام کی گردن کے گرد حائل کرگیا۔
شہرام نے مزید کریدنا ضروری نہیں سمجھا۔کیونکہ اسے بھی شاید اس کی فطرت کا اندازہ ہوچکا تھا۔کہ وہ رفتہ رفتہ حقیقت سے اگاہ کرنے والا شخص تھا۔
اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے وہ آگے بڑھتا چلا جارہا تھا۔
💗💗💗💗
دن بند مٹھی ریت کی طرح پھسلے۔وقت کی رفتار بڑھنے لگی،سوئیاں آگے بڑھتی وقت کے تھال میں یادیں قید کیے اب بھی آگے کی جانب ہی گامزن تھیں۔پیچھے کا رخ گھڑی نے کبھی بھی کرنا نہیں سیکھا۔
سعادت صاحب دکان سے گھر اور گھر سے دکان میں مصروف تھے۔زوار صاحب کی بھی یہی زندگی تھی۔
گھر میں آج کل خلاف توقع خاموشی تھی۔
شہرام نہیں آیا تھا فلحال اس نے آنا بھی نہیں تھا۔وہ اس لڑکی کو شرمندہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔
لیکن شاید ماہ تاب اس حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتی تھی۔
مشل علوی کی وہی شب وروز پڑھائی سے زیادہ ماہ تاب سے لڑائی ضروری ہوتی تھی۔وہ دونوں بہنیں جیسے مشرق اور مغرب تھیں۔
فرسٹ ائیر کے پیپرز دے کر وہ چند دن پہلے ہی فارغ ہوئی تھی۔جبکہ مشل علوی مرمر کر خلاف توقع ایٹ سٹینڈرڈ میں پہنچ چکی تھی۔
عاہن علوی، نے گویا اس گھر کو دیکھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔جہاں مشل ہوتی وہاں اس کا رخ اب کم ہی ہونے لگا تھا۔
لاؤنج میں داخل ہوتے ہی وہ آج خلاف توقع رونق دیکھ کر ٹھٹھکا۔
اس نے بے ساختہ آنکھیں مسل کر لاؤنج کا منظر دوبارہ دیکھا تھا۔
زوار صاحب کے لاؤنج میں سعادت صاحب سدرہ خاتون دادا دادی گول میز کے گرد بیٹھے تھے۔
عاہن قدم لیتا آگے آیا۔
آؤ عاہن !! کھانا کھاؤ۔تائی امی نے خلاف توقع اسے پکارا وہ واش بیسن سے ہاتھ دھوتا لاؤنج میں آگیا ۔بنا کسی پر نظر ڈالے وہ بھی چئیر کھسکائے بیٹھا۔
اباجی!! “ایک ضروری بات کرنی تھی”۔زوار صاحب نے بات کا آغاز کیا تو کھانا کھاتے سعادت اور سدرہ بھی رکے۔
ہاں بولو زوار؟ بدر علوی صاحب بھی سیدھے ہوئے۔
اباجی!!” پچھلے ایک سال سے میں گھر بنانے کی تگ و دو میں تھا۔میں جانتا ہوں میرا اچانک فیصلہ آپ کو ناگوار گزرے گا۔لیکن میں اس محلے سے اب جانا چاہتا ہوں۔میں اپنی بچیوں کو کسی اعلی کالج میں پڑھانا چاہتا ہوں اس لیے میں نے چند سال پہلے ایک پوش ایریا میں پلاٹ خریدا تھا۔اور اس پر تعمیراتی کام بھی شروع کروادیا تھا۔اب وہ گھر مکمل ہوگیا ہے تو میں وہاں شفٹ ہوناچاہتا ہوں”۔
ٹرے میں گلاس لاتی جاناں کے ہاتھ جیسے کپکپائے۔چہرہ سفید پڑا۔ نینوں میں بے یقینی ابھری،پاپا یہ کیا کہہ رہے تھے۔؟ اسے شاید سننے میں غلطی ہوئی لیکن نہیں وہ اب بھی بول رہے تھے۔
غیر یقینی تو سب کے چہروں پر ابھری۔لیکن سعادت صاحب نے ہی سب سے پہلے مبارکباد پیش کی۔
بدر علوی بھی ان کے گلے لگے۔یہ خبر تو ان کے لیے خوشی کا باعث تھی کہ ان کی اولاد ترقی کی راہوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔کم ازکم ان کی طرح سسک کر زندگی نہیں گزار سکتے تھی۔لیکن وہ شاید منتظر تھے کسی خاص چیز کے جو شاید زوار کو دینی چاہیے تھی۔
لیکن زوار صاحب تومبارک سمینٹنے میں مگن تھے۔انہیں پرواہ نہیں تھی کہ ان کے والد صاحب کیا سننا چاہتے تھے۔
انہیں تو یہ بھی احساس نہیں تھا کہ اس خبر سے ان کی حساس بیٹی کا رنگ متغیر ہوچکا تھا۔
وہ چہرہ پڑھ لینے والی لڑکی اس وقت جیسے سب چہروں کو دیکھ کر بھی پہچان نہیں پارہی تھی۔اس نے نظر گھما کر مشل کی جانب دیکھا جس کی گہری سبز سی آنکھوں میں ایک غرور تھا۔ایک فتح مندی تھی وہ عاہن کو دیکھ رہی تھی اور عاہن مدھم چہرے کے ساتھ ساکت لبوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا جیسے یقین کرلینا چاہتا ہو کہ مشل علوی اس کی زندگی سے جانے والی تھی۔اور وہ پرسکون ہونے والا تھا۔لیکن کیا وہ پرسکون ہوپاتا یہ تو وقت نے طے کرنا تھا۔
پر ہاں وہاں کچن کے دروازے میں ایستادہ ہاتھ میں گلاس کی ٹرے تھامے کھڑی لڑکی کا سکون برباد ہوچکا تھا۔اور شاید مکمل ہی برباد ہوچکا تھا۔
“””””
عبیحہ !! مم میں نہیں جانا چاہتی۔۔مم میں شام کے بغیر۔۔پھپک کر روتی وہ ضبط کے سارے بندھن توڑ گئی۔
عبیحہ مراد!! جاناں کی اکلوتی سہیلی، جو اس کی لکنت زدہ زبان کو آسانی سے سمجھ لیتی تھی۔آج بھی ماہ تاب علوی اس کے در پر آئی تھی۔
“اس نے تو کوئی امید کا دیا نہیں تھمایا تھا جو تم اس طرح رو رہی ہو”۔
“مجھے امم امید کے دئیے کی ضرورت نہیں تھی۔مم میں جان گئی تھی۔۔۔وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں لیکن اعتراف نہیں کرتے وہ مجھ سے اب سے نہیں بچپن سے محبت کرتے ہیں۔میں ان کے چہرے کو حفظ کرچکی ہوں۔تم کہتی ہو امید کا دیا۔؟”
آنسواندر دھکیلتی وہ جیسے ضبط کررہی تھی۔
“امید کا دیا ضروری ہوتا ہے۔یہ امید کادیا انسان سے وہ کام کروادیتا ہے جو کوئی بھی نہیں کرواسکتا۔میں تمہارے لیے دعا کروں گی کہ وہ تمہیں امید کا دیا ضرور تھمائے۔کیونکہ تمہارے لیے یہ دیا بہت کام آئے گا”۔
عبیحہ کی بامعنی سے باتیں فلحال ماہ تاب کے لیے بے معنی تھیں۔
“عبیحہ میں کیسے رہوں گی۔؟ بابا نے یہ فیصلہ اچانک کیسے کرلیا انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا”۔نمزدہ سی سانس فضا کے سپرد کرتے وہ ہاتھوں کو دیکھنے لگی،
۔گلابی ہتھیلیاں ماہ تاب علوی کوایک ویران سی حویلی کی مانند لگی تھیں۔
“تمہارے پاپا نے تم دونوں بہنوں کے فیوچر کے لیے یہ فیصلہ لیا ہے۔تم اپنے کالج کا سٹینڈرڈ دیکھو اور اپنے محلے کا سٹینڈرڈ بھی دیکھو۔کیا تم اس محلے میں رہنے لائق ہو؟”
بلکہ تمہارے بابا نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔تمہاری جگہ میں ہوتی تو فوراً مان جاتی ، اس سڑے محلے سے نکلنے کے غم میں ، میں ایسے پھوٹ پھوٹ کر نہیں روتی،
“دفعہ ہوجاؤ تم مجھے تم سے بھی کوئی بات نہیں کرنی۔نہیں جاننا مجھے سٹینڈرڈ۔،”
مجھے سچی محبت چاہیے جو شام کےعلاوہ کوئی نہیں دے سکتا”۔
“وہ تمہاری محبت کو بچپنا کہہ کر جاچکا ہے۔اور پلٹ کر نہیں آیا۔اس سے زیادہ حقیقت کیا ہوگی۔شہرام کی جاناں صاحبہ،”عبیحہ نے ایک پنچ اس کے کندھے پر جڑا۔
مجھے کچھ نہیں سننا،، کانوں پر ہاتھ رکھ کر وہ جیسے ہر حقیقت کو جھٹلادینا چاہتی تھی۔
“میری بلا سے نہ سنو، لیکن وہ تمہارے قابل نہیں ہے۔اللہ نے تمہارے لیےکچھ الگ ہی سوچا ہے،بس تمہیں انتظار کرنا ہے”
عبیحہ مراد محض ہمت ہی دے سکتی تھی جو وہ کافی عرصے سے اسے دیتی آئی تھی۔
ماہ تاب علوی ایک بار پھر سسکی تھی۔
“”””

کیا ؟؟ “شفٹنگ کب کررہے ہیں۔؟”۔سینے میں جیسے چھبن سی محسوس ہوئی تھی۔
کافی پھینٹتے ہاتھ بھی جیسے رکے ۔
معیز نے اس کا” کیا “بہت غور سے سنا، لیکن وہ اب بھی اپنے موبائل میں مگن تھا۔
” میں کل کوشش کروں گا۔ہاں آجاؤں گا۔بابا کو نہ بتانا” چند مزید باتیں کرکے وہ بیڈ پر آکر بیٹھ گیا۔
پھینٹی ہوئی کافی سیاہ پڑنے لگی۔چکمتا گندمی سا چہرہ سرد سا ہونے لگا تھا۔گہری براؤن آنکھیں بے یقین تھیں۔
معیز نے سیدھا ہوکر بغور اس کا چہرہ دیکھا۔
برو!!” لڑکی کی رخصتی ہورہی ہے کیا؟”
معیز کی غیر متوقع بات پر اس نے سرد نگاہ اس پر ڈالی۔
فضول گوئی مت کرو۔
“صاف سیدھا بتادو بابو،، قسم خدا کی کوئی بک بک نہیں کروں گا”۔اپنے ازلی کھلنڈرے سے انداز پر وہ شہرام کے برابرآکر بیٹھا۔
گہرے سبز رنگ کی ہائی نیک شرٹ میں وہ چمکتے چہرے والا شہرام علوی آج معیز کو کچھ ہٹ کر لگا۔
“وہ جارہی ہے”۔گردن جھکاکر لبوں کو سکوڑے وہ محض یہی کہہ پایا۔آنکھوں میں یاسیت ابھر آئی،
“جانے والے لوٹ کر واپس ضرور آتے ہیں۔شاید وہ بھی اپنا چارجر لینے آجائے۔”،
شہرام نے ایک زور دار پنچ اس کے منہ پر مارا۔اوندھا گرتا وہ ہنسا تھا۔
“تمہارے یہ فالتو جوکس مجھےبالکل بھی مسکرانے پر مجبور نہیں کرتے”
ابے یار!!” شکل پر نہ مارا کر، پتہ بھی ہے کہ میں اپنا یہ خوبصورت چہرہ گلیمرس کی دنیا میں لے جانا چاہتا ہوں۔اور تو ہر بار اسے ہی نشانہ بنادیتا ہے”۔
شٹ اپ!!” وہ جارہی ہےاور تو اپنی بکواس کررہا ہے”۔شہرام کا ضبط کا پیمانہ بھی لبریز ہوا۔سر ہاتھوں میں تھامتا وہ قدرے جھک سا گیا تھا۔
میری بکواس میں بھی مطلب ہوتا ہے۔پر شاید آپ کو غور کرنے کا شوق نہیں ہے میرے شہرام بابوعرف چکنے گھڑے،، اس کے دونوں گال کھینچ کر وہ شہرام کو کراہنے پر مجبور کرچکاتھا۔
کل جانا، مل کر آنا وعدے وعید بالکل نہیں کرنا۔ورنہ بہت برا پچھتاؤ گا۔ابھی تمہیں اپنی منزل کا تعین کرنا ہے۔جب منزل ملے گی تو چھوکری بھی مل جائے گی۔
چھوکری بولے تو جاناں” ایک گہرا انکشاف کرتا وہ اپنی آنکھوں کو سکوڑ گیا۔
شہرام نے تعجب سے اسے دیکھا۔”تم جاناں؟؟جاناں کا نام کیسے جانتےہو؟”
“میں سب جانتا ہوں۔ کیسے جانتا ہوں ، یہ تو آپ کو قطعی نہیں بتاؤں گا۔کیونکہ آپ میری فطرت اور میں آپ کی فطرت اچھے سے جان چکا ہوں”۔
شانے اچکا کر وہ ٹیبل کی جانب آیا جہاں پھینٹی کافی اب برباد ہوچکی تھی۔
یقیناًمعیز رؤف کو ہی کافی بنانے کا تردد کرنا تھا۔بقول معیز کے شہرام بابو اس وقت گہرے صدمے میں تھے۔لیکن اس کی باتیں زہن کی پرتوں میں چھپ رہی تھی۔
وہ سیدھا لیٹے چھت کو گھورے کل گھر جانے کا ارادہ کرچکا تھا۔
“””””
وہ لوٹ آیا تھا۔ماہ تاب علوی کو یقین کرنا مشکل لگا کہ شہرام علوی آگیا ہے۔اس گھر کی فضا میں اس کی خوشبو نے احاطہ کرلیا ہے۔
وہ کافی عرصہ بعد لوٹا تھا۔اور یہ طویل تر عرصہ جاناں کی شرمندگی کے لیے کافی تھے۔اب وہ شاید سر اٹھا سکتی تھی۔وہ اس سے بے اعتنائی کا حساب مانگ سکتی تھی۔
ادھر ان کی شفٹنگ جاری تھی تو دوسری جانب وہ شخص لوٹ آیا تھا۔
وہ مکمل بدل گیاتھا۔سانولی سی رنگت چمکتی گندمی رنگت میں تبدیل ہوگئی تھی۔
گہری براؤن آنکھوں میں نئے خوابوں کی چمک تھی۔ہلکی سیاہ داڑھی میں وہ جیسے کچھ الگ سا لگا۔پرانے شہرام علوی سے بہت الگ،،
ایک ترتیب سے سمٹے بال اوپر کو جمے تھے۔ کشادہ پیشانی مزید روشن تھی۔
جاناں کو یقین کرنا مشکل لگا کہ یہ وہی شخص ہے ؟ اس نے پلکیں جھپک کر دو چار بار خود کویقین دلایا۔
کیسی ہیں ماہ تاب؟”لہجے میں اب بھی احترام شفقت موجود تھی۔
وہ مسکرا کر اس کے قریب آیا۔وہی ازلی مسکان جو جاناں کے لیے اس کے لبوں پر امڈ آتی تھی۔لیکن کچھ بدلا ساتھا۔جاناں کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا۔اس نے جاناں نہیں کہاتھا۔اس نے ماہ تاب کہاتھا۔اور اس وقت اسے ماہ تاب نام حددرجہ ناگوار گزرا۔
“مم میں ٹھیک نہیں ہوں”۔وہ سردوسپاٹ سی سچ عیاں کرگئی۔
اتنی صاف گوئی کی شہرام کو امید نہیں تھی۔
“کیوں کیا ہوا؟” وہ شرٹ کو قدرے سیدھا کرتا تخت پر بیٹھا۔چہرے پر نرمی نمایاں تھی۔
جاناں بھی فاصلے پر سمٹ سی گئی تھی۔
“ہجر کا عرصہ کسی بھی شخص کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوتا۔اتناتو تمہیں اندازہ ہی ہوگا”۔
وہ بلا تردد بولی۔شہرام نے لب بھینچے۔
“آپ کی سٹڈی کیسی جارہی ہے؟”
بات کا پلٹنا ماہ تاب کو واضح محسوس ہوا۔
اسے وہاں بیٹھنا محال لگاتھا۔سانس رکنے لگا تھا۔وہ بے اعتنائی برتتا چلاجارہا تھا۔
وہ جھٹ سے اٹھی۔”تم میرے ساتھ اچھا نہیں کررہے میں بھی وقت آنے پر تمہارے ساتھ اچھا نہیں کروں گی۔میں آج اس گھر سے ہمیشہ کے لیے جارہی ہوں۔تم اپنی جاناں کو آج ہمیشہ کے لیے کھو دو گے”۔
“میں جاناں کو کھو چکا ہوں ، میں نے آج آپ کو ماہ تاب کہہ کر پکارا تھا۔شاید آپ نے غور نہیں کیا؟”.
شہرام ہلکاسا مسکرایا۔اس کی ہلکی سادہ سی مسکراہٹ جاناں کو استہزائیہ سی لگی۔
“آپ پھر ماہ تاب کو بھی کھوچکے ہیں ماہ تاب بھی اب کبھی نہیں آئے گی”۔
گلابی نم آنکھیں اس کٹھور شخص پر اٹھیں جو اب بھی پرسکون تھا۔لیکن اس کا دل موجدار سمندر بنا ہوا تھا۔
تم سے آپ کا سفر طے ہوکر شہرام کو اپنی حیثیت واضح کرگیا۔
“میں ماہ تاب کے لوٹ آنے کا انتظار کروں گا۔نئے گھر کی نئی زندگی کی بہت بہت مبارک ہو”۔
وہی میٹھی مسکان تھی وہی اندازتھا۔لیکن ماہ تاب کے لیے اجنبی تھا مکمل اجنبی!!
اور اجنبیوں کے پاس رک جاناناممکنات میں سے تھا۔
وہ قدم آگے بڑھاتی شہرام کے لفظوں کا بوجھ سہارتی روتی چلی گئی تھی۔اور وہ اچٹتی نگاہ مقابل پر ڈال کر سرجھٹک کر تخت پر سیدھالیٹ گیا تھا۔
اور وہ چت لیٹے دور آسمانوں راز کھوجتا دعا گو تھا، وہ ماہ تاب علوی کو مانگ رہا تھا اسے رلا کر وہ اسے ہی مانگ رہا تھا۔
“”””“”””
بائے بائے عاہن ،،تم رہنا اس ڈربے نما گھر میں ،، میں جارہی ہوں اپنی ڈزن یلینڈ میں،شکر ہے وہاں تمہاری گندی شکل نہیں دیکھنی پڑے گی”۔
بازو گھماتی وہ سفید فراک پہنے کندھے تک آتے سنہری بالوں کو پونی میں جکڑے عاہن کے سامنے تھی۔
وہ انسٹیٹیوٹ کے لیے نکل رہا تھا۔
لیکن مشل علوی آخری بار اسے آرام سے جانے دیتی ناممکن سی بات تھی۔
آج ہی تو اس نے سارے حساب مکمل کرنے تھے۔آج آخری دن تھا۔کیا پتہ پھر موقع ملتا یا نہیں ،
عاہن آج خلاف توقع کچھ بھی نہیں بولا۔وہ گول گھومتی یکدم تھمی۔
کیا ہوا زبان ادھار دے آئے ہو؟؟
تھوڑا قریب آئے وہ طنزیہ سا بولی۔
میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کتنی بکواس کرسکتی ہو۔
کندھےپر لٹکا بیگ ہلکاسا سیدھا کرکے وہ بازو سینے پرلپیٹ گیا۔
شٹ اپ عاہن !! اس کے چند لفظوں نے ہی مقابل کو پتنگے لگائے تھے۔
یو جسٹ شٹ اپ!!اینڈ تھینکس!! “کہ تم یہاں سے دفعہ ہورہی ہو۔اور میں بتا نہیں سکتا میں آج کتنا خوش ہوں تم جانتی ہو ، مسجد میں جاکر شکرانے کے نفل ادا کروں گا کہ اللہ نے بلا میرے سر سے ہٹادی،
تم بھی پڑھ لینا ، کیونکہ تمہارے گناہ کم ہوجائیں گے”،
مشل علوی کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا۔لب کپکپائے تھے۔
تمہیں میں چھوڑوں گی نہیں ، آگے بڑھ کر اس نے عاہن کے بال نوچے تھے۔
آہ!! اس اچانک حملے پر وہ چیخ کر رہ گیا تھا،
ایک جھٹکے میں اس نے مشل کو دور دھکیلا،زمین بوس ہونے سے پہلے ہی شبانہ بیگم نے اسے تھاما تھا،
گوار کے گوار ہی رہنا ، صد شکر ہے کہ ہم جارہے ہیں، جلد ہی آزادی کا پروانہ تمہاری جانب روانہ کروں گی اپنی بچی کو اس بوجھ سے میں آزاد کروا کر رہوں گی،”
اسے شبانہ تائی کی باتیں سمجھنے میں دشواری ہوئی وہ کونسے پروانے کی بات کررہی تھیں۔
ٹھٹک تو مشل بھی گئی تھی وہ کیا کہہ رہی تھیں؟”
آپ یہاں سے چلی جائیں گی یہی ہماری آزادی کا انعام ہوگا،”
اچٹتی سی نگاہ وہ مشل علوی کے سرخ چہرے پر ڈالے باہر کی جانب بڑھا تھا۔جبکہ اس کے الفاظ بمشکل برداشت کرتی تائی کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
“””””**
چلی گئی !! شکر ہے جان چھوٹی۔عاہن کی فضول گوئی سنتا شہرام سیدھا ہوا۔شام کو گھر خالی دیکھ کر عاہن نے گہرا سکون محسوس کیا تھا”
شٹ اپ عاہن!!
“بھائی آج نہ روکیں آج تو انجوائے منٹ کا دن ہے”۔
جوس کا بڑا سا گھونٹ بھر کر اس نے شہرام کی بات ہوا میں اڑائی۔
کل اسے یہاں سے چلے جانا تھا۔وہ ماہ تاب سے ملنے آیاتھا۔اور کس جبر سے ملنے آیایہ اس کا دل اور دل کے مکین ہی جان سکتے تھے۔
کیا تم اسے یاد نہیں کرو گے؟؟ شہرام دل کے جذبات پر قابو پاتا پرمزاح سا بولا۔
بالکل بھی نہیں بھائی!! “مجھے اس لڑکی سے بہت نفرت ہے۔اتنی کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتامیں کبھی نہیں چاہوں گا کہ میرا اور اس کا کبھی سامنا ہو۔اس نے پاپا سے مجھے تھپڑ پڑوا کر اپنے لیے نفرت کی وجہ دے دی ہے کہ اس نفرت کو میں سالوں نبھاؤں گا۔”
عاہن کے کاٹ دار لہجے میں شہرام کو نفرت کی واضح رمق محسوس ہوئی۔ناجانے کیوں اسے دھڑکا سا لگا۔
“اور اگر ساری عمر کے لیے اس کا ساتھ مل گیا تو کیا کرو گے؟
“بھائی میں جنگل میں شیر کےساتھ اپنی جان خطرے میں ڈال کر رہ سکتا ہوں لیکن اس لڑکی کے ساتھ محل میں رہنے کی بھی حامی نہیں بھروں گا۔”۔
اس کی عجیب و غریب مثال پر لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔
“کوئی اگر اس سے پوچھ لیتا کہ وہ جاناں کے ساتھ ایک جھونپڑی میں تاعمر گزار سکتےہے ؟
تو وہ بلاتامل ہاں کہہ دیتا۔اس لڑکی سے انسیت سی تھی۔ایسی انسیت جس کو وہ کبھی نام نہیں دے پایا۔
اس کانام دھڑکن کی وجہ تھا۔اس کا عکس گہری براؤن آنکھوں کو روشن کردیتا تھا۔روم روم میں سکون کی لہر دوڑا دیتا تھا۔
اس کی مسکراہٹ دل کی ساری کثافت کو دور کردیتی تھی۔وہ چھوٹی سی لڑکی دل کی بہت بڑی مسند پر براجمان تھی۔لیکن اس مسند کا راز شہرام علوی نے کڑے پہروں کے ساتھ چھپا کر فلحال اس کے حوالے آنسوؤں کو کردیا تھا۔وہ نہیں چاہتاتھا کہ وہ لڑکی محبت کے روگ لیے نیم پاگل ہوجائے۔کیونکہ یہ چھوٹی عمر کی محبت انسان کو تباہ و برباد کردیتی ہے۔
بھائی!! “آپ کوپتہ ہے موحد بتارہا تھا کہ ایک ایجنسی ہے جہاں وہ ایکٹنگ کی بیسکس سکھاتے ہیں۔تو کیا میں وہ جوائن کرلوں؟”
بہرام کی آواز پر تعجب سے اس نے دیکھا۔
کونسی ایجنسی؟؟ اور یہ موحد کون ہے؟” یکلخت چہرے پر سنجیدگی نمایاں ہوئی۔
“بھائی وہ میرا دوست ۔ویڈیوز بناتا ہے۔تو اسے میں نے اپنے شوق کے بارے میں بتایاتھا۔”
ناجانے کیوں وہ سہم سا گیا۔شہرام کے چہرے کے تاثرات بہت کم سنجیدگی میں ڈھلتے تھے۔
عاہن !!” میری بات کان کھول کر سن لو، اگر تم نے کسی شارٹ کٹ کا انتخاب کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔
اور یہ ایجنسی کہاں ہے مجھے زرا ایڈریس دو میں خود چیک کروں گا۔اور موحد کی ڈیٹیل بھی مجھے بتاؤ”۔
“نہیں بھائی وہ اچھالڑکا ہے۔اور آپ جانتے ہیں ہماری دوستی کافی گہری ہوگئی ہے”۔
“بہرام میری ایک بات یاد رکھنا، کبھی لوگوں کی میٹھی باتوں پر یقین نہیں کرنا۔کیونکہ یہ میٹھی باتیں انسان کو ایسے نقصان سے دوچار کرتی ہے کہ کڑواہٹ سے بھی ہمیں نفرت ہونے لگتی ہے”
تم یہ انٹر کمپلیٹ کرو انشاءاللہ میں تمہارا کسی اچھی اکیڈمی میں ایڈمیشن کرواؤں گا”۔
لیکن اس سے پہلے نو کمپرومائز ، تنبیہی لہجے میں باور کرواتا وہ عاہن کو خاموش کرواگیا۔
“”””
ماہ تاب کی نظر سامنے اٹھی۔ٹیکسی کے شیشے سے اس نے آنکھیں بڑی کیے سامنے دیکھا۔
وہ دومنزلہ سفید محل تھا۔سفید دیواریں سفید پلر اس سفید محل کی خوبصورتی کو مزید نکھار ان دیواروں سی لپٹی بیل نے کیا۔
ماہ تاب کے ذہن میں کچن کی وہ بیل گھوم گئی جو سدرہ چچی نے بہت محنت سے لگائی تھی۔
چھوٹاساپورچ جہاں فلحال گاڑی موجود نہیں تھی۔لیکن ایسالگتاتھا۔گاڑی بھی چند دن میں آجائے گی۔
اسے شدید حیرانگی ہوئی تھی کہ اس کے بابا نے اتنا پیسہ کب جمع کیاتھا کہ اتناشاندار محل نماگھر تعمیر کروالیاگیا۔
اس نے تعجب سے فرنٹ سیٹ پر موجود اپنے باپ کو دیکھا۔جن کاچہرہ چمک رہا تھا۔
سفید محل کی روشنی گویا منعکس ہوکر ان کے چہرے پر پڑرہی تھی۔
ناجانے کیوں ان کے چمکتے چہرے پر بھی ماہ تاب کو سیاہی نظر آئی۔
وہ سچ میں چہرے پڑھ لیتی تھی۔اس کے لیے یہ مشکل کام نہیں تھا۔
اسے پاپا کے چہرے پر شیطانیت کی ہلکی سی لہر نظر آئی تھی۔
اس نے بے ساختہ جھرجھری لے کر خیال کو جھٹکا۔
نظر کا رخ پھیر کر مشل اور شبانہ بیگم کودیکھا جن کے چکمتے چہرے فلحال شفاف سے تھے۔یعنی سفاکیت یاپھر اور کوئی تاثر مکمل نہیں ابھرا تھا۔
جاناں کادل چاہا وہ بھاگ جائے اس محل سے دور چلی جائے وہ سفید محل اسے قبر ستان کی مانند لگ رہا تھا۔جو اسے دفن ہونے کے لیے اپنی جانب پکار رہا تھا۔
آنسو ٹوٹ کر سفید قمیض کے دامن میں جذب ہوا۔
سفیل محل کی شہزادی سفید محل میں دفن ہونے کے لیے سفید لباس پہن کرآئی تھی۔
واؤ پاپا!! اففف”آپ جانتے ہیں وہ ڈزنی لینڈ میں ایسے ہی گھر ہوتے تھے۔یہ تو بالکل ویسا ہی ہے۔
چھوٹا ہے پر بہت پیارا ہے”
۔جاناں نے تعجب سے مشل۔کو دیکھا جو ونڈو کے ساتھ چپکی حسرت سے وہ گھر دیکھ رہی تھی۔
اس اس سفید محل کو چھوٹا کہنے پر حیرت ہوئی۔یعنی مشل علوی کی سوچیں ابھی بہت سی بلندیوں پر تھی۔
چلو آجاؤ!!”سمجھ لو آپ کا ڈزنی لینڈ کا خواب پورا ہوگیا”۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ نیچے اترے۔اس گھر سے وہ اپنے ضروری سامان کے علاوہ کچھ نہیں لائے تھے۔
کوئی فرنیچر کچھ بھی سازوسامان نہیں تھا۔
یعنی وہ سفید محل پہلے ہی سازو سامان سے آراستہ تھا۔
مین گیٹ سے چھوٹے دروازےتک آتے ماہ تاب کے قدم زبان کی طرح ہی لکنت زدہ تھے۔
وہ دونوں شہزادیاں آج اس سفید محل میں قدم رکھنے کے لیے سفید لباس زیب تن کیے تھیں۔
شیشم کا بنا بھاری دروازہ دھکیل کر زوار صاحب آگے بڑھے۔
سفید ٹھنڈی سی ٹائلز پر چمکتا سنہری فانوس کا عکس جیسے ان ٹائلز کو مزید چمک عطاکیے روشن تھا۔
لاؤنج میں سجے سفید براق صوفےان پر ترتیب سے سجے ملٹی کشنز نے گویا ان کی زینت میں اضافہ کیا۔
دیواریں سجاوٹ سے بھرپورتھیں تو کارنرز کیسے خالی رہ جاتے۔اس گھر کو سفید محل کہا جانا ہی شاید ماہ تاب کو ضروری لگا تھا۔
“یہ سچ میں ہی ہمارا گھر ہے۔مشل کو اب بھی یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا۔بالکل یہ آپ کا ہی گھر ہے”۔زوار صاحب نے اس کے بال نرمی سے سہلائے۔
پاپا!! دادا دادی بھی یہاں رہیں گے؟”
ماہ تاب کی زبان بے ساختہ پھسلی۔
مشل کے بال سہلاتے ہاتھ یکلخت تھمے چہرے پر سختی ابھری۔لیکن زوار علوی سختی کو چھپانے کا ہنر اچھے سے جانتے تھے۔
وہ سعادت کے ساتھ رہیں گے ان کو یہاں رہنے میں دقت ہوسکتی ہے۔”
جواب شبانہ بیگم کی جانب سے آیا تھا۔
ماہ تاب کو ان کے کاٹ دار لہجے نے مزید کچھ کہنے ہی نہیں دیا تھا۔
❤❤❤❤❤❤
مختلف رنگوں سے سجا وہ شاندار کمرہ جاناں کی آنکھوں کو خیرہ کردینے کے لیے کافی تھا۔دیوار پر جگہ جگہ باربی ڈولز کے کئی پوسٹرز سجے تھے، سنہری تتلیوں سے سجی وارڈروب کے آئینے میں ماہ تاب نے اپنی خالی روح سا عکس دیکھا۔ایک الگ سی بے چینی روح میں سمٹ آئی تھی۔
ماما مشل کا بیڈ کہاں ہے؟”جہازی سائز بیڈ دیکھتی وہ ماں سے سوال کیے مڑی۔جو ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔
اس کا روم الگ سیٹ ہے اور اب خود کو زرا اس گھر کے مطابق ڈھال لینا۔ نیو سوسائٹی میں موو آن کرنے کے لیے ہمیں بہت سی چیزوں کا اپنانا پڑتا ہے۔جو شاید ہمیں ناگوار گزرتی ہیں۔تمہیں بھی چند چیزیں ناگوار گزریں گی، لیکن تمہیں اپنانا ہوگا”۔
شبانہ بیگم کے لب و لہجہ کی تبدیلی نے ماہ تاب علوی کو باور کروایاتھا کہ اس کی ماں نے سوسائٹی کے رنگ ڈھنگ اپنانے کی تیاری مکمل کرچکی ہیں۔
“کل شاپنگ پر چلیں گے۔اور ہاں اب اس گھر سے رابطے رکھنے کی کوشش کم ہی کرنا۔چچی کی محبت میں دوڑی مت چلی جانا”۔
ماما آپ کیا کہہ رہی ہیں میں کیا کبھی پہلے گئی ہوں؟” اس الزام پر اس کی تڑپ یقینی تھی۔
ماہ تاب!! “میں تمہاری ماں ہوں تمہاری رمز کو میں اچھے سے پہچانتی ہوں”۔
نظر پھیر کر لب کا کونا دانتوں میں دباتی وہ جیسے ماں کے لفظ ضبط کرگئی تھی۔
“وارڈروب دیکھو اپنی تمہارے بابا نے ہر چیز سیٹ کروائی ہے۔تمہیں خوش ہونا چاہیےکہ تمہارے پاپا کو تمہاری کتنی فکر ہے۔لیکن تمہارے چہرے کی بیزاری نہیں جارہی۔اپنی شکل کی طرح اپنا معیار بھی اونچاکرو”۔
ماما ایک بات پوچھوں۔؟” وہ تمام باتیں نظرانداز کرتی جیسے مدعے کی بات پر آئی۔
ہاں پوچھو؟”وہ کمرے میں گھومتی جیسے ہر چیز کا معائنہ کررہی تھیں۔
“ماما پاپا کے پاس اتنے پیسےکہاں سے آئے سعادت چچا بھی تو یہی کام کرتے ہیں لیکن پھر پاپا کے پاس؟”
شبانہ بیگم کی گھوری نے جیسے باقی لفظ منہ میں ہی رہنے دئیے تھے۔
“سعادت کی پرچون کی دکان تھی جبکہ تمہارے پاپا کا میڈیکل سٹور ہے۔اور میڈیکل سٹور پر ادویات مہنگی ہوتی ہیں۔تو ظاہر ہے تمہارے باپ نے بھی محنت کرکے ہی اتنا پیسہ کمایاہے۔اور ماہ تاب ایسا سوچتے ہوئے بھی تمہیں شرم آنی چاہیے”۔
ان کا لہجہ حددرجہ تیز ہوا۔ماہ تاب سمٹ سی گئی تھی۔
مم ماما۔۔میں تو ایسے ہی۔۔وہ منمنائی تھی۔
“آج کےبعد شک کرنےسے پہلے سوچ لینا کہ وہ تمہارا باپ ہے۔اپنی زندگی کو سنوارو ، دادی اماں مت بنوایک ماڈرن لڑکی بنو۔آج کے جدید دور کی لڑکی۔جس کی سوچ سب سے الگ ہوتی ہے۔
اپنی زبان کی وجہ سےتم خود کو کم تر مت سمجھاکرو۔تم خاموش رہ کر بھی سب کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی ہو۔تو کوشش کرنا خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھال لو۔
میں زرا باقی گھر بھی دیکھ لوں۔اتنا وقت ضائع ہوگیا میرا”۔
ماہ تاب کے لب استہزائیہ سے مسکرائے۔
اسے احساس ہوچکا تھا کہ آئندہ زندگی میں اس کی ماں کے پاس ان کے لیے وقت نہیں ہوگا۔انہیں خود کو ڈھال لینا تھا۔انہیں اپنی مشکلات خودحل کرنی تھی۔انہیں اس ہائی سوسائٹی کی ہائی سٹینڈدڑ لڑکی بننا تھا۔پھر بے شک اس زندگی کو اپنانے کے لیے بےشک انہیں جتنی بھی تگ و دو کرنی پڑتی کرنی ہی تھی،
ماہ تاب علوی کی زندگی کا سفر آج سے رواں دواں ہوچکا تھا۔وہ نازک سی لڑکی شہرام علوی کے انکار کو اس کی دھتکار کو دل میں دبا کر ناجانے اب شعور کی کتنی منزلیں طے کرنے والی تھی ۔
❤❤❤❤
جاری ہے۔