No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
نہیں ماہ تاب!! میری بات سنو، وہ نفی میں سرہلائے پیشانی رگڑتا آگے بڑھا تھا۔لیکن ماہ تاب ہاتھ اٹھا کر اسے روک چکی تھی۔
میرے قریب بھی مت آئیے گا۔آپ کی وجہ سے آج میرے بابا اذیت میں ہیں۔، آپ نے رشتوں کے تقدس کو پامال کردیا۔
آپ نے جتلا دیا کہ آپ اسی چھوٹے محلے کے اوباش لڑکے ہیں جو رشتوں کا احترام بھول جاتے ہیں۔
چلیں جائیں شہرام ، ورنہ میں پولیس کو کال کردوں گی۔نکلیں ہمارے گھر سے ،انگلی اٹھائے وہ اسے گھر سے نکلنے کا حکم دے رہی تھی۔
شہرام کی سماعتوں میں محض چند لفظ گونج رہےتھے،
وہ معصوم پری کب سفاکیت کا روپ دھار کر ظالم پری بنی شہرام کو سمجھنے میں مشکل ہوئی تھی۔
وہ ماہ تاب ہی تھی یہ گمان اس کے لیے نہایت اندوہناک تھا۔
وہ چند قدم پیچھے لیے محض ماہ تاب کو دیکھ رہا تھا جو اب بھی مکمل سپاٹ سی کھڑی تھی۔
چہرے پر کوئی تاثر نمایاں نہیں تھا۔۔اگر کوئی تاثر تھا تو محض نفرت کا تاثر تھا جو اول مسند پر براجمان تھا۔
زوار علوی گریبان ٹھیک کیے صوفے پر دراز ہوئے۔وہ سارا تماشہ اب آرام سے دیکھنا چاہتے تھے۔
اس لڑکے کی اکڑ اب وہ ماہ تاب علوی سے تڑوانا چاہتے تھے۔اپنے جلتے دل پر وہ مازوار علوی گریبان ٹھیک کیے صوفے پر دراز ہوئے۔وہ سارا تماشہ اب آرام سے دیکھنا چاہتے تھے۔
شیطانیت لیے ہوئے۔
میں مزید کچھ نہیں کہوں گا۔لیکن ایک بات میں تمہیں بتانا چاہوں گا۔جس دن تم اپنے باپ کی اصلیت جان گئی تمہارے پاس خسارے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔
تمہیں اذیت کا احساس اس دن ہوگا جب تم اپنے باپ کا اصلی چہرہ دیکھ لو گی۔تم شبانہ تائی کا شبنم بننے کا سفر جان لوگی۔تم چہرے پڑھ لینے کا ہنر رکھتی تھی۔لیکن آج شاید تم نے اس ہنر کو چھپادیا تھا۔تم نے سچائی کے بجائے جھوٹ کو چن لیا۔وہ جھوٹ تو تباہی لاتا ہے۔،
اور تباہی تو آچکی ہے۔
تمہاری آنے والی زندگی میں تمہیں کئی کٹھنائیاں ملیں گی ،لیکن اس وقت تمہارے پاس کوئی سہارا نہیں ہوگا کوئی زادِ راہ نہیں ہوگی۔
مجھے میری اوقات بتانے کے لیے تمہارا بہت بہت شکریہ،”
وہ بنااسے دیکھے بنا آخری نگاہ میں وہ پری چہرہ بھرے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا،وہ آخری نگاہ بھی شاید نہیں چاہتاتھا۔اس کا دل ٹوٹ کر کئی ٹکروں میں بکھرا تھا۔
وہ ماہ تاب کا سفید پڑتا چہرہ بھی نہیں دیکھ پایا تھا وہ تو یہ بھی نہیں دیکھ پایا تھا کہ وہ سانس لینے میں دقت محسوس کررہی ہے۔
یہاں وہ لاؤنج سے نکلا تھا اور وہاں ماہ تاب علوی پورے قد سے زمین بوس ہوتی چلی گئی تھی۔
زوار علوی پھیکا چہرہ لیے اس کی جانب بڑھ رہے تھے۔شبنم تائی کی چیخ بھی فضا میں گونج اٹھی تھی۔
ایک طرف تباہی کا آغاز ہوچکا تھا جبکہ دوسری جانب تباہی کا اختتام ہونے کو تھا۔
اور یہ دوسری تباہی کہاں متوقع تھی۔یہ بھی چند ساعتوں میں پتہ چلنے والا تھا۔
ایک ہفتہ پہلے!!!
نیلی جینز پر سفید شرٹ پہنے وہ شارف ابدال کی ہمراہی میں علوی ہاؤس میں داخل ہوا۔
چہرے پر مکمل بیزاری تھی، شارف صاحب کے ساتھ وہ یہاں آ تو گیا تھا لیکن اسے ماہ تاب علوی یا پھر کسی زوار میں زرا برابر بھی دلچسپی نہیں تھی،
اپنے منہ کے زاویے ٹھیک رکھنا “۔ ان کے نرم لہجے میں بھی تنبیہہ تھی،
“آپ مجھے دھمکایا مت کریں ، میں آپ کی حقیقت اچھے سے ازبر کیے ہوئے ہوں، اگر میں خاموش ہوں تو مجھے خاموش رہنے دیا جائے ، کیونکہ اب آپ کو مجھ سے مطلب ہے نہ کہ مجھے آپ سے،” وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے ان سے چند قدم آگے ہوچکا تھا،
گیراج میں اپنی دوست کے ساتھ بیڈ منٹن کھیلتی مشل بھی اس خوبرو سے لڑکے کو دیکھ کر ٹھٹکی،
چودہ سالہ مشل علوی بھی اب گھر میں نئے آتے چہروں کے بارے میں تجسس رکھنے لگی تھی، وہ کچھ بولتی نہیں تھی، لیکن شعور کی جانب بڑھتی مشل کی لامتناہی سوچیں اسے متوجہ کرنے لگی تھیں۔
پرانے گھر میں ان کی زندگی اتنی ایڈوانس نہیں تھی، لیکن اس گھر میں آکر اس نے جانا تھا کہ باہر ایک دنیا ہے جو رنگ برنگی ہے،
یہ کون ہے مشل؟” اس کی دوست نے بھی مشل سے استفسار کیا،
سنہری پونی کستی وہ نفی میں سرہلائے اسے رکنے کا اشارہ کرتی پورچ کی جانب آئی جہاں شارف اندر کی جانب بڑھ رہے تھے۔،
سیاہ مرسڈیز وہ آج خلافِ توقع باہر کھڑی کرچکے تھے،
ہیلو شارف!! ہاتھ آگے بڑھا کر اس نے مقابل شخص کو دیکھا، جو چہرے پر مکمل بیزاری لیے کھڑا تھا،
اس کا شارف کہنا معیز کو کھٹک سا گیا،
ہیلو پریٹی گرل!! اس کا ہاتھ معیز نے جھٹکے سے تھام لیا، جبکہ شارف صاحب کا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا،
آپ انہیں شارف کیوں کہہ رہی ہیں ؟” معیز ساری بیزاری چھپائے قدرے خوشگواری سے بولا۔
مشل نے گردن تھوڑی سی پیچھےکیے تعجب سے معیز اور پھر سوالیہ انداز میں شارف کو دیکھا،
پریٹی گرل!!! “مجھ سے بات کریں،۔میرا نام معیز ہے لیکن میں آپ کے شارف کے لیے زی ہوں،۔لیکن اب آپ مجھے بتاؤ آپ انہیں شارف کیوں کہہ رہی تھیں؟”
زی لیودس ٹاپک !!! زوار اندر ویٹ کررہا ہے۔
مشل آپ اندر جاؤ گڑیا،”
اس کا گال تھتپا کر وہ اسے اندر جانے کا اشارہ کرچکے تھے،معیز کو ان ٹلتا انداز واضح محسوس ہوا۔
اوکے شارف!! وہ سر اثبات میں ہلاتی اندر کی جانب بڑھ گئی،
معیز تاسف سے شارف اور پھر مشل کو دیکھ کر رہ گیا، جو نہایت ادب سے شارف کی بات مان چکی تھی،
یعنی شارف کی حکمرانی نے اس گھر کی راہ دیکھ لی تھی،
“میں تمہیں وارن نہیں، محض نصیحت کروں گا زی!! کہ میرے معاملات میں ٹانگ مت اڑانا، تم اگر میرے کام آؤ گے تو میں تمہارے کام میں آسانی کردوں گا،تم مجھے خود کی جانب سے لاپرواہ سمجھنا چھوڑ دو، جس لڑکے پر تم پیسہ لگاچکے ہو، اس کی سلیکشن میں نے ہی روکی تھی،تمہارے پاس میرے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے، ہممم !! “
وہ قدرے آرام سے بولے لیکن معیز رؤف کا چہرہ یکلخت سرخ ہوا، اسے شہرام کا زرد سا چہرہ شدت سے یاد آیا جس کے چہرے میں یاسیت تھی، ایک اور خسارہ ایک اور رشتے کی تباہی معیز کی مقدر بن گئی تھی،
ناجانے کیوں شہرام کی یاد اسے شدت سے آئی تھی،
وہ گہرا سانس لیے تنفر کو بحال کرنے لگا،
بنا کچھ بولے وہ اندر کی جانب بڑھا تھا،
لیکن برا ہو وقت کا کہ وہ سنبھل بھی نہیں پایا تھا، کہ آندھی طوفان بنی سفید لباس پہنے لڑکی کھلکھلاتے ہوئے باہر کی جانب آئی اور تیزی سے معیز سے ٹکرائی،
آؤچ!! یکلخت سر اس کے سینے پر لگاتھا، دونوں کی کراہ بے ساختہ تھی،
جبکہ شارف بھی اپنی جگہ ٹھٹک سے گئے،
سامنے عبیحہ مراد تھی، جو کھلے بالوں ، سفید پلازو کے ساتھ سفید ہی شرٹ پہنے کافی دلکش لگ رہی تھی،۔شارف نے ایک گہری سی نگاہ عبیحہ مراد پر ڈالی جو سر مسلتی سیدھی ہورہی تھی جبکہ۔معیز نے اسے کندھوں سے تھاما،،
یو سٹوپڈ مین!! مقابل خوبرو سے لڑکے کو دیکھ کر وہ ماتھے پر بل لیے چیخی لیکن چند فاصلے پر کھڑے شارف کو دیکھ کر وہ ساکت ہوئی،
بلیک سوٹ میں ملبوس اپنی ازلی خوبصورتی کے ساتھ ایک ہاتھ پینٹ میں ٹکائے کھڑے دھیما سا مسکرا کر عبیحہ کو ہی دیکھ رہے تھے،
عبیحہ مراد کے ماتھے کے بل شفاف ہوگئے جبکہ سرخ چہرہ کھلتے گلاب کی مانند شگفتہ ہوا،
ہائے شارف!! “آپ کب آئے، آپ تو آؤٹ آف سٹی تھے ناں”،
اس لڑکے کو نظر انداز کیے وہ شارف ابدال کی جانب
آکر بے ساختہ ان کے سینے سے لگی،
معیز کے لیے شاید آج جھٹکوں کا دن تھا، وہ خوبصورت سی لڑکی کیسے کسی غیر مرد کے گلے لگ سکتی تھی؟
شارف نے باور کرواتی نگاہ معیز پر ڈالی جو پھیلی آنکھوں سے یہ بے باکی ہضم کررہا تھا، بے ساختہ اسے بانہوں کے نرغے میں لیتے اس کا بازو سہلائے سیدھا ہوئے تھے،
کیسی ہیں آپ عبیحہ!! گھر میں سب کیسے ہیں ؟”
نرم گفتار سالہجہ سنتی عبیحہ سرشار ہوئی، اسی نرم لہجے اور خوش گفتاری سے ہی تو وہ شخص دوسروں کو اپنا دیوانہ بناتا تھا،۔جیسے عبیحہ مراد بن گئی تھی۔
شارف یہ کون ہیں ؟” وہ سب سوال نظر انداز کرتی معیز کی جانب مڑی،
اپنے سوالات کی نظر اندازی پر ان کا چہرہ سپاٹ ہوا،
عبیحہ خاموشی محسوس کیے مڑی، شارف کا سرد سا چہرہ دیکھ کر وہ کانپی تھی،۔
آ آئی ایم سوری!! میں ٹھیک ہوں ، بابا بھی ٹھیک ہیں،
آپ بتائیں آپ کیسے ہیں؟”
وہ الوہی مسکراہٹ سجائے بولی تھی،۔
ہممم گڈ!! گال تھپتپا کر انہوں نے معیز کی جانب دیکھا جو چہرے پر ناگواری سجائے شارف کو ہی دیکھ رہا تھا،۔
یہ میرابیٹا ہے “زی” زی یہاں آؤ، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے معیز کو اپنی جانب بلایا، انداز حکمیہ سا تھا،۔
وہ لب بھینچے آگے آیا،
ہائے مسٹر زی!! عبیحہ نے بھی ہاتھ آگے بڑھایا تھا، معیز نے بمشکل وہ نرم ملائم نیل پالش لگا ہاتھ تھاما،۔
ہلکا سا چھوکر وہ آزاد کرچکا تھا،۔
شارف !! نوڈاؤٹ،، ہی از آ ہینڈسم بوائے!! وہ چھوٹی سی لڑکی اس وقت اسے کوئی بڑی سی خاتون لگی،۔
شارف اس کی بات پر نفی میں سرہلاتے مسکرائے تھے،۔
ہمیں دیر ہورہی ہے، وہ زچ ہوئے بولا تھا،۔
آؤ اندر چلتے ہیں ، عبیحہ کی بازو تھپتپا کر وہ اندر بڑھے،
ہاؤ روڈ!! ناک سکوڑے وہ محض یہی کہہ پائی، وہ لڑکا اسے پہلی نظر میں ہی اکڑو لگا تھا،۔
❤❤❤❤❤
ہائے” زی” ویلکم مائے سن !!
سیاہ شلوار سوٹ میں ملبوس بارعب سے چہرے والے زوار علوی خوشگواری سے آگے بڑھ کر معیز کے گلے لگے تھے،
معیز بدقت ان کی بانہوں کے نرغے میں سمٹا،
کیسے ہو؟” شارف سے تمہارا بہت ذکر سنا تھا، ماشاءاللہ تم تو سوچ سے بھی زیادہ ہینڈسم ہو،،”
ْ”بیٹا بھی تو شارف ابدال کاہے”،
کاؤچ پر شارف پھیل کر بیٹھے رعونت سے بولے، شارف ضبط کرتا مٹھیاں بھینچ گیاتھا،
بالکل شارف ابدال کی وجاہت کا تو کوئی مقابلہ۔ہی نہیں کرسکتا”۔
“ماہ تاب کو تو بلاؤ”۔ملازمہ کے ہاتھ سے مشروب کا گلاس لیتے وہ بولے،
ہاں آرہی ہے ماہ تاب بھی پہلے شبنم سے تو ملیں،۔ شبانہ بیگم کی آواز پر معیز نے مزید بیزاری سے گردن موڑی،۔وقفے وقفے سے اس سے کوئی نہ کوئی نمونہ ٹکراہی رہا تھا،ان سب میں اگر کوئی اسے معصوم لگی تھی تو وہ محض مشل تھی، لیکن شارف ابدال کی ہمراہی میں شاید وہ بھی نہ رہ پاتی،
گداز سراپے پر سجی سرخ ساڑھی میں بجلیاں گراتی شبنم کو شارف ابدال نے بغور دیکھا، ان کی گہری سی نگاہ پر وہ لب کا کونا دباتی معیز کی جانب آئیں،
لیکن شارف ابدال کی جانب آنکھ کا کونا دبا کر بھی دیکھا تھا،۔
کیسے ہو زی بیٹے،،!!
انہوں نے ادا سے معیز کے گال پر ہاتھ رکھا، ناجانے کیوں اسے ان کا لمس عجیب سی غلاظت میں لتھڑا لگا، وہ چند قدم پیچھے کھسکا تھا،۔
زی !! گھبراؤ مت،!! یہ تمہاری ساس ہیں،۔
ماہ تاب کی ماں”۔شارف ابدال کے تعارف پر اس نے شبنم کو دوبارہ دیکھا، جو مسکرارہی تھیں۔
وہ عورت اگر اتنی بے باک تھی،جو لڑکی اسے باہر شارف کے گلے لگے ملی تھی وہ اس حد تک بے راہ روی میں مبتلا تھی پھر ناجانے ماہ تاب علوی کیسی حیسن اور بے باک بلا ہوتی،۔
معیز کو اس ماحول سے کوفت ہونے لگی تھی،۔گھٹن نے جیسے سانسوں کی راہ دیکھ لی تھی،
اس نے بے ساختہ شرٹ کا پہلا بٹن کھول دیا،۔
شارف ابدال وقتاً فوقتاً شبنم کو دیکھتے اس پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے،۔
ماہ تاب کو بلاؤ شبنم!! شارف ابدال نے ایک بار پھر ماہ تاب کو بلانے پرزور دیا؟۔
فوزیہ جاؤ زرا ماہ تاب کو بلا کر لاؤ۔
چائے کے لوازمات ٹیبل پر سجاتی ملازمہ کو حکم دیا اور شارف ابدال کی جانب مڑیں۔
معیز نے پہلو بدلا، ناجانے کیوں اسے ماہ تاب کو دیکھنے میں زرا سی بھی دلچسپی نہیں تھی، وہاں موجود چند لوگ ہی اس کی طبعیت پر گراں گزر رہے تھے، ماہ تاب علوی نہ جانے کتنا بیزار کردیتی،
کچھ دیر میں ڈرائنگ روم میں دستک ہوئی، معیز کی نظر بے ساختہ گلاس ڈور کی جانب گئی جہاں چھوٹی سی لڑکی کھڑی تھی،
زوار کے ہنکارہ بھرنے پر وہ اندر آئی،۔
سیاہ لباس کے ہالے میں چمکتا سفید گول سا چہرہ بڑی بڑی سی بھنورا آنکھیں ، جن میں مکمل اداسی تھی،۔پھیلے سے گلابی لب جنہیں بمشکل اس نے متورم چہرے پر پھیلا رکھا تھا، گلابی عارض جیسے کشمیری سیب کی مانند تھے،۔وہ لڑکی کافی حسن لیے ہوئے تھی،۔وہ واقع ہی ماہ تاب تھی،
کھلے پلازو کے نیچے گلابی پاؤں میں پہنی دوپٹی چپل نے جیسے پاؤں کی نازک خوبصورتی کو مکمل بیاں سا کردیا تھا،۔
معیز کو وہ لڑکی اس ماحول میں سب سے الگ اور پاکیزہ سی لگی،۔
اسے کیا چیز منفرد بنارہی تھی،معیز وہی چیز جانچ رہا تھا،۔اور کچھ دیر بعد وہ مکمل اسے جانچ چکا تھا۔
اسے منفرد اس کا شانوں پر پھیلایا گیا ڈوپٹہ بنارہا تھا،۔
یہ ماہ تاب ہے میری بیٹی!! زوار علوی نے آج پھر ماہ تاب کے گرد بازو پھیلایا جبکہ شبنم بھی برابر آ کر کھڑی ہوئیں،۔
معیز یک ٹک اس لڑکی کو دیکھے گیا، ایک نظر اس نے شبنم پر بھی ڈالی جو انہیں کسی اینگل سے اس خوبصورت باوقار پری کی ماں نہیں لگی ،۔
معیز نے سرجھٹک کر رخ بدلا، دھیرے سے سلام کیے وہ کاؤچ پر بیٹھ چکا تھا۔
ماہ تاب مدھم قدم لیتی معیز کے سامنے موجود قیمتی کاؤچ پر دراز ہوئی، ہتھیلیاں سیدھی پھیلا کر گود میں رکھیں۔
ہیلو ایوری ون!! اس سے پہلے بات آگے بڑھتی ، عبیحہ مراد اندر آئی،
معیز کے ماتھے پر دوبارہ بل نمایاں ہوئے، وہ لڑکی اسے ناجانے کیوں ناگوار گزر رہی تھی،۔
ماہ تاب نے قدرے بے بسی سے عبیحہ کو دیکھا جو اس کی جانب متوجہ بھی نہیں تھی۔
وہ شارف کے ساتھ رکھی چئیر پر دراز ہوئی اور ایک جانچتی نگاہ معیز پر ڈالی جو اسے ہی گھور رہا تھا،۔عبیحہ نے اس کا گھورنا واضح محسوس کیا لیکن سر جھٹک گئی،۔
زوار علوی بھی مسکرا کر نشست سنبھال چکے تھے۔
شارف اگلے ویک انگیجمنٹ کا چھوٹا سا فنکشن رکھ لیتے ہیں۔
زوار علوی نے بات کا آغاز کیا تو ماہ تاب نے پہلو بدلا،۔
آنکھیں جھپکتی وہ آنسو اندر اتارنے لگی،۔
وائے ناٹ!! جیسے تمہیں مناسب لگے،۔لیکن ویک اینڈ پر میں بزی رہوں گا،۔انہوں نے بات کرتے ہوئے رخ موڑ کر عبیحہ کو دیکھا جو گلابی پڑتی نظریں جھکا گئی تھی۔
سنڈے نائٹ بیسٹ ہے،۔کیوں معیز آپ کیا کہتے ہو؟”
زوار علوی نے معیز سے تائید چاہی،۔
ایز یو وش !! وہ عبیحہ کو آخری طیش بھری نگاہ سے دیکھتا بھاری آواز میں بولا۔
اس پورے عمل کے دوران عبیحہ نے اس شخص کے منہ سے محض یہی دو لفظ سنے تھے، جبکہ ماہ تاب بھی ویران آنکھوں سے معیز کو دیکھا تھا۔
❤❤❤
حال!!
دوسری تباہی کا اختتام عبیحہ مراد کی زندگی سے مشروط تھا،
ہوٹل روم کی جانب بڑھتے قدموں میں آج الگ ہی تازگی سی تھی۔اپنی ساحرانہ شخصیت کا فسوں بکھرائے وہ راہداری سے گزر کر آگے بڑھتے جارہے تھے۔۔
آج جیت کانشہ خمار بن کر وجود میں بھی سرشاری بھر رہا تھا۔
پری نہیں لیکن پری کی ہمزاد چنگل میں پھنس چکی تھی۔
وہ زور زبردستی کا قائل نہیں تھا۔، نہ اس کی شخصیت سے یہ سب میچ کرتا تھا۔وہ اپنا فرنٹ شفاف آئینے کی مانند رکھتا تھا۔لیکن اس کا دل وجود ابلیس کی مانند تھا۔
اور اندر کس نے جھانکا ہے؟ یہ مقولہ تو اسے منہ زبانی ازبر تھا۔
کارڈ سے لوک کھول کر وہ ناب گھمائے اندر داخل ہوا۔اپ
شاندار پرتعیش کمرہ سنہری سفید رنگ سے سجا تھا۔
کیمل کلرفرنیچر اور سفید بیـڈ شیٹ کا حسین امتزاج طبعیت پر کافی گہرا اثر چھوڑنے لگا،۔
فائنلی عبیحہ مراد، تم قفس کی پنچھی بننے والی ہو،
میں نے تو تمہیں فورس قطعی نہیں کیا تھا۔
مکروہ محلول کو لبوں سے لگائے وہ فاتح بنے بیڈ نما کاؤچ پر دراز ہوئے۔یک بادشاہ کی مانند وہ اپنی ساحرانہ شخصیت کے ساتھ وہاں ایستادہ تھے۔۔
دروازے پر دستک ہوئی، وہ گلاس رکھے سیدھے ہوئے۔ لیکن اپنی جگہ سے نہیں اٹھے۔آج چاہ انہیں نہیں تھی۔بلکہ مقابل کو تھی۔
اور جب چاہ مقابل کو ہوتو مغرور ہونا بنتا بھی تھا۔
ہائی ہیل کی آواز کمرے میں گونج اٹھی،
وہ ٹیک لگا کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بازو گردن کے پیچھے رکھ کر نیم دراز ہوچکے تھے۔
عبیحہ مراد کے قدم انہیں سیاہ خوبصورت لباس میں شاہانہ انداز میں بیٹھے دیکھ کر لڑکھڑائے تھے۔
دھڑکنوں کا شور کانوں میں سنائی دینے لگا، جبکہ ہتھیلیاں نم سی تھیں۔
سرد سی لہر ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرچکی تھی۔وہ لہر اسے احساس دلانا چاہتی تھی کہ وہ گمراہی میں جارہی ہے لیکن وہ اس لہر کو جھٹلائے آگے بڑھتی گئی۔
کاؤچ پر اس کے برابر تھوڑی سی جگہ پر دراز ہوئے وہ سرخ تراشیدہ لبوں سے مسکرائی۔
شارف صاحب کے لب بھی مسکراہٹ میں ڈھلے وہ ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
یقین نہیں تھا کہ ان کا یہاں پہلا شکار اتنی جلدی قرین آجائے گا،۔چند دنوں میں ہی عبیحہ مراد سدھ بدھ بھلائے شارف پر دل ہار بیٹھی تھی۔
وہ کئی ساعت اس کے سراپے پر نگاہ جمائے کھڑا رہا۔
عبیحہ مراد محض لجائی سی سامنے تھی۔
فائنلی عبیحہ مراد نے شارف ابدال کے دل پر دسترس حاصل کرلی، تبھی دلنشین انداز یہ مہکتا سراپا جو آج سجا ہے مجھے کسی خطا کی جانب اشارہ دے رہا ہے۔
یہ بھی مت بھولیں کہ میں آپ سے دگنی عمر کا ہوں۔پھر بھی آپ کی دلچسپی جتا رہی ہے کہ آپ سب کچھ نظر انداز کردینا چاہتی ہیں۔
کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے۔”
ؤہ شاندار سا مرد سامنے ایستادہ تھا۔کمرے کی فسوں خیزی میں اس کی آواز نے تاثر سا جمادیا۔
“مجھے آپ کی عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔،محبت میں عمروں کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا ۔یہ جذبہ تو بصارت سماعت حواس کو گمراہ کردیتا ہے۔بس یاد رہتا ہے محبوب اور محبوب کی دلکشی”۔
وہ قدرے قریب آتی محسور کن سا بولے ان کے کوٹ پر ہاتھ رکھ چکی تھی۔
شارف نے ایک گہری نگاہ مقابل پر ڈالی۔بلاشبہ وہ خوبصورت لڑکی تھی۔
“آپ غالباً قریب آنا چاہتی ہیں ؟” شارف نے اس کے نرم و ملائم ہاتھ جکڑے اور دباؤ بڑھایا۔
“میں قریب سے بھی قریب تر آنا چاہتی ہوں۔بشرطیکہ قربت قائم و دائم رہے”۔
کوٹ کو سہلاتی وہ خمار آلود سا بولی ۔سیاہ نگاہ میں اس وقت شوریدہ جذبات کی خماری تھی۔
وہ خماری کہیں سے بھی پاکیزگی نہیں رکھتی تھی۔خماری تو نام ہی سدا گمراہی کا تھا۔
“قربت قائم رکھنا عورت کے ہاتھ میں ہوتاہے۔وہ اپنی اداؤں کی دلفریبی کا جادو اچھے سے چلاسکتی ہے”
اس کی آوارہ لٹ کو سہلائے وہ گھمبیر سا بولے،
“مرد آپ کی طرح شاندار ہوتو عورت ایسی قربت سے کبھی راہِ فرار نہیں چاہے گی”۔
وہ اس کے سینے پر سر رکھے مکمل خود سپردگی دے چکی تھی۔
شارف صاحب کے چہرے پر سیاہ سایہ نمودار ہوا تھا وہ سیاہ سایہ تباہی کا تھا۔شیطانیت کا تھا۔
وہ بھول بیٹھی کہ وہ اس بندکمرے میں اپنی عزت نیلام کرکے اپنے باپ کا سر ہمیشہ کے لیے جھکادے گی۔ وہ یہ بھی بھول بیٹھی تھی کہ وہ اپنی ہی دوست کے اعتبار کو تباہ وبرباد کررہی تھی۔وہ اس کے لیے اندیکھی کھائی کھود رہی تھی۔اور یہ بھی کہ وہ کھلی گمراہی میں جارہی تھی۔
لیکن اس نے وہ گمراہی خود چنی تھی۔اور یہ گمراہی اسے خوار کرواتے ہوئے ناجانے کن راہوں پر لے جانے والی تھی۔
یہ تھی دوسری تباہی جس کا آغاز کے ساتھ ہی اختتام بھی ہوا تھا۔
اختتام کیا ہوا تھا۔اس پر ابھی پردہ ہی رہنا تھا۔اور وہ پردہ ہٹنے میں کئی لمحے کئی دن یا پھر کئی سال لگنے والے تھے۔
√√”””””*”””””””√√ سرخ ہوتی نگاہ سے اس نے گھر کا آہنی دروازہ دیکھا۔ آج اپنی محبت کو قبرمیں دفناآیا تھا۔وہ ماہ تاب علوی سے اپنی حیثیت کا تعین کرآیا تھا۔ بائیک سے اتر کر اس نے اندر قدم بڑھائے۔ سرد فضا میں سکوت سا تھا۔دھوپ کی ہلکی تمازت بھی سرد پن کو کم نہیں کرپارہی تھی۔ وہ چھوٹی سی راہداری سے گزر کر آگے آیا۔ایک نگاہ اس بند پورشن پر ڈالی جو اب ویران سا مسکرا رہا تھا۔ شہرام کو وہ مسکراتا ہوا ہی لگا جو اس پر ہنس رہا تھا۔ سر جھٹکتا وہ جبڑے بھینچے آگے آیا۔لیکن اپنے صحن کو دیکھتے ہی وہ ٹھٹک سا گیا۔ ایک خوف وجود میں سرایت کرتا محسوس ہوا۔ تیز قدموں سے وہ اندر کی جانب بڑھا۔ ایک جھٹکے میں اس نے سعادت علوی کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ زندگی کی تمام تر اذیت آج اس لمحے شہرام کو ایسے محسوس ہوئی جیسے وہ آخری سانس کے لیے تڑپ رہا ہے جبکہ وہ سانس فرشتہ کھینچ رہا ہے۔ سامنے وہی غنڈا “مجنوں بھائی” سدرہ بیگم کے ڈوپٹے کی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا۔سعادت علوی ایک جانب بیہوش پڑے تھے۔جبکہ سدرہ بیگم کی آنکھیں لہو ٹپکاتی محسوس ہورہی تھیں۔ وہ چیل کی طرح مجنوں بھائی پر جھپٹا تھا۔ بازو میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ گھٹیا آدمی!! وہ دھاڑا تھا۔ “تیری ہمت کیسے ہوئی میری ماں کو چھونے کی”۔ پے درپے کئی گھونسے اس کے منہ پر جھڑتا وہ دھاڑا تھا۔ مجنوں بھائی جیسا خاصہ ڈیل ڈول والا شخص بھی اس کی جنوں خیزی کے آگے ڈھے سے گیا۔ غصہ ،نفرت، اذیت،دھتکار،بے وفائی کا غم گویا سب ہاتھوں میں سمٹ آیا تھا۔ وہ اسے پاؤں کی ٹھوکروں پر لیتا کئی ساعت چیختا رہا۔اپنی اندر کی ساری کھولن وہ مجنوں بھائی کو لہولہان کرتے نکالتا رہا۔ سدرہ بیگم زمین پر ساکت بیٹھی اپنے بیٹے کا یہ سفاک روپ دیکھ رہی تھیں۔ بب بھائی؛؛ عاہن دوڑتاہوا اندر آیا۔اور بمشکل شہرام کو پکڑ کر اس سے دور دھکیلا، بھائی کیا ہوا ہے ؟ چھوڑیں۔وہ مرجائے گا۔ مرجانے دو اسے مرنا ہی ہے، اس نے امی کو اذیت دی، میں اسے چھوڑوں گا نہیں ، سرد موسم میں نم ہوتی پیشانی نم آنکھیں شہرام علوی کی بے بسی کی گواہ تھیں۔ وہ اب تک رویا نہیں تھا۔آنسو ضبط کرلیے گئے تھے۔لیکن دل ،، دل تو خون کے آنسو بہارہا تھا۔دل پر تو تڑپ کی کھٹنائیاں کھل گئی تھیں۔ بب بھائی چھوڑیں ، بابا کو دیکھیں وہ تکلیف میں ہیں۔ وہ باپ کی جانب توجہ دلواتا شہرام کو روک رہا تھا۔ وہ ساکت ہوتا مڑا جہاں سعادت علوی اب بھی بے سدھ پڑے تھے۔ وہ مجنوں بھائی کو ٹھوکر رسید کرتا سعادت علوی کی جانب آیا۔ مجنوں بھائی گھومتے سر کے ساتھ کئی پل اٹھ ہی نہیں پایا۔منہ سے خون نکلتا تھوڑی پر بہا سر پر گہرا زخم ابھر آیا تھا۔ “جاؤ عاہن دادا کو دیکھو میں بابا کو اٹھاتا ہوں” ، “بھائی یہ سب کیا ہوا ہے؟ آپ مجھے بتائیں یہ کیسے اور کیونکر ہوا؟اور یہ آدمی کون ہے؟” عاہن سوال مت کرو ، دادا کو دیکھو، ججی بھائی میں جاتا ہوں۔اس کی چیخنے پر وہ لڑکھڑایا سے پچھلی جانب بڑھا تھا۔جہاں بدر علوی کا کمرہ تھا۔ سعادت علوی کے منہ پر پانی کے چھنیٹے مار کر وہ انہیں جنجھوڑ بھی رہا تھا۔ سدرہ بیگم کی آہیں آنکھوں کی سرخی بڑھارہی تھیں۔وہ بے بس ہوچکا تھا۔آج اسے احساس ہوا تھا کہ وہ بے بسی کی آخری سیڑھی پر آن کھڑا ہوا ہے۔جہاں کوئی امید کوئی یقین باقی نہیں رہا، رنج والم کی فضا نے اس گھر کا راستہ پوری طرح دیکھ لیا تھا۔لیکن اب تو یہ گھر بھی شہرام علوی کا نہیں رہا تھا یہ چھت بھی پرائی ہوچکی تھی۔ “”””“”””“””” لاہور ریلوے اسٹیشن!! ٹرین کے انتظار میں کھڑے کئی افراد اس وقت سخت کوفت زدہ تھے۔ٹرین تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ خوانچہ فروشوں کا شور ، اردگرد بھاگتے شرارتی بچے قلقاریاں بھرتے ماں باپ کو بھی زچ کردیتے تھے۔ کلی کی سامان اٹھانے کی آواز بچوں کی آواز میں گڈمڈ ہوکر معدوم ہوجاتی تھی۔سپیکر سے وقتاً فوقتاً کئی اعلان گونج رہے تھے۔ غرض پورے اسٹیشن پر افراتفری کا عجب سا عالم تھا۔ لیکن ان سب شور اور آلودہ فضا سے پرے چند افراد دوبینچ پر لائن میں براجمان تھے۔ کسی ایک کا چہرہ بھی مسکراتا نہیں تھا۔ بینچ پر شہرام علوی سپاٹ چہرے کے ساتھ براجمان تھا۔بازو پر پٹی ہنوز بندھی تھی لیکن اب پٹی چھوٹی ہوچکی تھی۔ شہرام کے ساتھ عاہن علوی براجمان تھا جس کے پاؤں کے پاس ایک نڑا نیلا سا بیگ موجود تھا۔ سعادت علوی کے کندھے پر سر رکھے سدرہ بیگم رنج و غم میں اٹی تھیں۔پلکیں بار بار بھیگ سی جاتی تھیں۔ سبز جوڑے پر کتھئی چادر کے کونے سے وہ بار بار آنکھیں رگڑدیتیں۔، لیکن آنکھوں میں جیسے جھرنا بن گیا تھا۔ قریب ہی رکھے دوسرے بینچ پر بدر علوی اور ان کی زوجہ براجمان تھیں وہ قدرے الگ تھلگ بیٹھے تھے۔، وہ الگ تھلک کیوں بیٹھے تھے؟ اس کی وجہ شاید زہن میں یہی آتی ہے کہ شہرام نے انہیں الگ بٹھایا ہے، نہیں قطعی نہیں ، بلکہ وہ احساسِ ندامت میں گھرے بیٹھے ہیں وہ احساسِ ندامت جس کا اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔ قریب دوگھنٹے سے وہ یہاں براجمان تھے۔کئی لوگ جگہ پر قبضہ جمانے کی وجہ سے انہیں گھور بھی رہے تھے۔لیکن اس وقت وہاں بیٹھے چندافراد کا قافلہ ان تمام گھوریوں سے ماورا تھے۔ ان کی دنیا لٹ چکی تھی۔ان کی چھت چھین لی گئی تھی۔اب یہ تیز نگاہیں انہیں ہر جگہ محسوس ہونی تھی۔ ٹرین کی سیٹی دور سے سنائی دینے لگی تو سدرہ بیگم کی ہچکی بندھی۔ سعادت علوی نے مضبوط بازو کو ان کے گرد پھیلا کر کھڑا کیا۔ شہرام بھی کندھے پر بیگ لٹکائے سپاٹ چہرے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ عاہن علوی کے چہرے پر غیر محسوس سی حسرتیں سمٹ آئیں۔ شہرام نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہمت بندھائی نگاہ اب بھی سامنے ہی تھی۔یہ تھپکی ہمت بھری تھی کہ تمہاری ہر خواہش پوری کرنے کی ذمہ داری تمہارے بھائی کی ہے۔تمہارے ادھورے خواب ضرور پورے ہوگے۔ان خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے وہ ہر حد تک جائے گا۔” چھ لوگوں کا یہ قافلہ تیز قدموں سے چلتا ٹرین کی جانب بڑھ رہا تھا۔ان کے سفر کا آغاز کچھ منٹوں میں ہونے والا تھا۔ سب کو آگے روانہ کرکے وہ پیچھے تھا۔وہ اب ان کا سربراہ بن رہا تھا۔قدموں میں ہلکی سی لغزش آئی لیکن وہ گہرا سانس لے کر اس لغزش پر بھی قابو پائے آگے بڑھنے لگا۔ گلے میں غم کی ابھرتی گلٹی کو حلق سے ہی نیچے اتارا تھا۔ من میں کئی بازگشتیں گونجی تھیں۔ بھوری آنکھوں میں درد کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔جبکہ کرچیوں میں بٹا دل سسک رہا تھا۔ وہ ٹرین میں چڑھ چکا تھا۔اس شہر سے وہ اچھی سے زیادہ بری یادیں سمیٹ کر لے جارہا تھا۔ وہ اپنی خوشبو اس شہر میں چھوڑے جارہا تھا۔ اس شہر میں زیادہ تو نہیں لیکن چند لوگ اسے یاد رکھنے والے تھے۔کئی لوگ اس کی کھوج میں نکلنے والے تھے تو کئی لوگ اسے یاد کرکے سسکنے والے تھے۔ لیکن وہ پیچھے کی کھوج میں نہیں آگے کی کھوج میں بڑھنے والا تھا۔ وہ اپنا درد ناک ماضی بھلا کر اپنا مستقبل روشن کرنے اس شہر سے جارہا تھا۔ شاید کبھی نہ آنے کے لیے یا پھر لوٹ کر کسی کی ادھوری ذات کو سمیٹنے کے لیے۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھ چکا تھا۔کہنی وہ کھڑکی میں جمائے بھاگتے مناظر دیکھنے لگا ۔ٹرین کی رفتار بڑھنے لگی ۔منزل رواں دواں ہوئی تھی۔ اور سوچیں بھی جیسے کسی اندیکھی راہوں میں بھٹکنے لگی۔ وہ عہد کررہا تھا کہ وہ اپنی زمین لینے واپس کبھی نہ کبھی ضرور لوٹے گا۔اپنی محبت کی دھتکار کا حساب لینے کبھی نہ کبھی ضرور ان فضاؤں میں سانس لے گا۔ ؎؎ ابھی کچھ دن لگیں گے دل ایسے شہر کے پامال ہو جانے کا منظر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے جہان رنگ کے سارے خس و خاشاک سب سرو و صنوبر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے تھکے ہارے ہوئے خوابوں کے ساحل پر کہیں امید کا چھوٹا سا اک گھر بنتے بنتے رہ گیا ہے وہ اک گھر بھولنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے مگر اب دن بھی کتنے رہ گئے ہیں بس اک دن دل کی لوح منتظر پر اچانک رات اترے گی مری بے نور آنکھوں کے خزانے میں چھپے ہر خواب کی تکمیل کر دے گی مجھے بھی خواب میں تبدیل کر دے گی اک ایسا خواب جس کا دیکھنا ممکن نہیں تھا اک ایسا خواب جس کے دامن صد چاک میں کوئی مبارک کوئی روشن دن نہیں تھا۔ ابھی کچھ دن لگیں گے (افتخار عارف) “”””“”””””
کراچی شہر!!
وہ چھ لوگوں کا قافلہ اپنے اندر کا اندھیرا چھپائے اس روشنیوں کے شہر میں سانس لینے آ پہنچے تھے۔
کیا یہ شہر یہ ہوائیں یہاں انہیں سانس لینے دیتی اس کا تعین وقت نے کرنا تھا۔
وہ آدھے دن کی خواری کے بعد ایک نچلے درجے کے ہوٹل میں دو کمرے لے چکے تھے۔
شہرام انہیں چھوڑے خود سڑکیں چھاننے نکل گیا۔
وہ بیٹھ نہیں سکتا تھا۔کیونکہ اس کے پاس وقت نہیں تھا،
تین دن مسلسل وہ بھاگتا دوڑتا خوار ہوتا رہا تھا، کراچی کے راستے وہ مختلف بسوں کے زریعے ازبر کرتا رہا کیونکہ اب یہی اس کا گھر اس کا شہر تھا۔
ضروری تو نہیں جہاں پیدائش ممکن ہو وہ دھرتی ہی اپنی مانی جائے بلکہ وہ زمین بھی آپ کی ہوسکتی ہے جو آپ کا پناہ دے بانہیں پھیلائے آپ کو خوش آمدید کہے ، شہرام علوی کو بھی اس زمین نے اس شہر نے خوش آمدید کہا تھا۔
اور آج تین دن کی محنت طلب جستجو کے بعد وہ نچلے درجے کا دو کمروں والا ذاتی فلیٹ خریدنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔
پرچون کی دکان بیچنے کے عوض ملی آدھی رقم سے وہ فلیٹ خرید کر اپنی زندگی کے اہم ستونوں کو دوبارہ کھڑا کرچکا تھا۔
گندمی پتھر سے بنا یہ فلیٹ بس کچھ صفائی چاہتا تھا
عاہن سعادت علوی اور سدرہ بیگم نے شکرادا کیے یہ کام بھی خوشی خوشی کیا تھا۔
کام کرتے ہوئے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوپایا تھا۔اب بارہ بجے وہ سب چٹائی پر بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے۔
امی میں رات کو دیر سے گھر آؤں گا،چابی میرے پاس موجود ہے۔بے فکر ہوکر سوجائیے گا۔
شہرام کی سپاٹ آواز پر سعادت علوی کا ہاتھ رکا تھا۔
اتنی رات گئے کہاں جانا ہے؟”سعادت علوی بھی سختی پر آمادہ ہوئے۔
اس کی سرد آنکھیں وہ تین دن سے دیکھ رہے تھے۔جن میں تین دن سے نمی نہیں چمکی تھی۔
وہ سمجھ چکے تھے کہ وہ کہاں جائے گا، لیکن پھر بھی وہ اسے ٹوک چکے تھے۔
“جلد آجاؤں گا کچھ ضروری کام ہے”۔وہ پانی پی کر اٹھ کھڑا ہوا،
عاہن نے اس کی مضبوط پشت کو گھورا جبکہ دادا اور دادی مجرم سے بنے کھاناکھانے میں مگن رہے۔
شہرام قدم اٹھاتا باہر نکل آیا تھا،
سعادت علوی نے دعاؤں کا حصار باندھا جبکہ سدرہ بیگم شکرادا کرتی کھانے پر جھک گئیں۔وہ چوتھے فلور سے اتر کر سڑک پر آگیا تھا۔
وہ چلتا جارہا تھا۔فضا میں مدھم سی خنکی تھی۔آدھی آستین کی شرٹ ہوا سے پھڑ پھڑا رہی تھی۔
سرد سی آنکھیں نم ہونے لگی، ضبط کی طنابیں ٹوٹنے لگی تھی۔وہ آگے بڑھتا جارہا تھا۔چہرے پر سرخی امڈ آئی اور پھر وہ بھاگنے لگا تیز اور تیز،،
لیکن پھر وہ رک گیااور فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔وہ زندگی سے ہار کر بیٹھ گیا تھا۔
وہ اپنے گھر والوں کو سکون دینے سے پہلے رونا بھی نہیں چاہتا تھا۔لیکن آج اس کی سرد آنکھوں نے جواب دے دیا تھا۔وہ برسنا چاہتی تھیں۔
وہ بھوری نگاہیں اب بس بھار اٹھانے سے قاصر ہوچکی تھیں۔
اور پھر سسکیاں ابھرنے لگیں۔، آنسو داڑھی میں جذب ہونے لگے۔
آہہہہ!!! ایک دھاڑ سی بلند ہوئی تھی،، وہ چہرہ آسمان کی جانب کیے چیختا چلا گیا۔
وہ اللہ کو پکارتا رو رہا تھا۔وہ کئی لمحے چیختا رہا ،اپنی بے بسی پر آنسو بہاتارہا تھا۔
سڑک ویران سی تھی۔دورکسی دوسری سڑک سے چند ساعتوں بعد ٹرک گزرنے کا شور بلند ہوتا اور پھر معدوم ہوجاتا،
وہ روتا رہا آستین سے آنکھیں رگڑتا رہا تھا۔
وہ آئندہ زندگی کا تصور بھی کررہا تھا کہ اب اس کی منزل کیا ہوگی۔
اس کی سسکیوں کو چلتی ہواؤں نے بھی سناتھا۔ان سسکیوں نے ہواؤں کو بھی بے چین کیا تھاکہ وہ تیز ہوتی سوئے درختوں کو بھی جگانے لگی تھی کہ اٹھو،رونے والوں کو سہارا دو۔،
فلک بھی جیسے سرخ ہونے لگا ۔
وہ اپنے ہی تایا کی سفاکیت کاشکار ہوچکا تھا۔وہ اپنی محبت کے ہاتھوں خوار ہوگیا تھا۔وہ خونی رشتوں سے ڈس لیا گیا تھا۔بھلے ہی ان کے ڈسنے پر موت نہیں آئی تھی۔لیکن زندگی ڈگمگا تو گئی تھی،اور جب زندگی ڈگمگا جائے تو ہر چیز نئے سرے سے ترتیب دینی پڑتی ہے۔اسے بھی تو دینی تھی۔
اس زندگی سے تو موت آسان ہوتی ہے اس کے بعد خاموشی چھاجاتی ہے کہ ختم ہوا سب ،، جان چھوٹ گئی۔ بس صبر کرلو،
لیکن زخموں سے چور چور ہوکر جیناتو موت سے بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوجاتا ہے۔ہر لمحہ زخموں پر مرہم رکھنا انہیں دوبار ادھڑنے سے بچانا پڑتا ہے۔کہ کوئی انہیں کرید نہ پائے،،
شہرام علوی آج بہت سارا رولینا چاہتا تھا۔لیکن آج وہ اکیلا نہیں رویا تھا۔فلک بھی جیسے برس کر غم میں شریک ہونے لگا۔تڑ تڑ موٹی بوندیں سیاہ تارکول کی ٹوٹی پھوٹی سڑک پر گرنے لگی۔
کراچی میں بارش ہونا ناممکنات میں سے تھا،،لیکن آج شاید کسی کارونا فلک کو بھی رولا گیا تھا۔
وہ اس بارش میں بھیگ کر آنسو رگڑ رہا تھا۔جل تھل مینہ زمین پر پانی کی صورت جمع ہونے لگا تھا،
یہ آخری مرتبہ رو کر دل کو صبر دینا چاہتا تھا۔اس کے بعد تو آغاز تھا ، کسی نئی منزل کی کسی نئے سفر کی جستجو کی۔،کئی مسافتیں طے کرکے اسے آگے بڑھنا تھا۔ اسے اب بھی مسکرانا تھا ، اسے اپنے بھائی ،اپنے بابا اپنی ماں کے لیے پھر سے جی اٹھنا تھا پھر سے مسکرادینا تھا۔لیکن اس سے پہلے وہ بہت زیادہ رولینا چاہتا تھا۔
ٕٕ؎؎؎
آنکھ سے دور نہ ہودل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
اتنے مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی
تو کبھی خود کو دیکھے گا تو ڈر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پر اتر جائے گا
زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تیری دہلیز پر دھر جائے گا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مرجائے گا
(احمد فراز)
❤❤❤
