Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode

Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode

ہمان دھیرے سے دروازہ کھول کہ اندر آیا۔وہ اداس سی بیڈ پی گود میں کشن رکھے بیٹھی تھی۔وہ اس کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔ہے کنچن۔ناراض ہو۔تو کیا نہیں ہونا چاہیے۔نگاہ اٹھا کر سوال پوچھا۔ام ہمممم۔بالکل بھی نہیں اپنوں سے ناراض نہیں ہوتے۔پر میں ہوتی ہوں۔پر ناراضگی کی وجہ تو بتاٶ۔آپ جانتے تو ہیں پھر بھی پوچھ رہے ہیں۔
تم ابھی تک اتنی چھوٹی سی بات کو لے کر بیٹھی ہو۔پری کا منہ کھل گیا۔ہا آپ کو یہ چھوٹی سی بات لگتی ہے۔ہمان گڑبڑا گیا۔ن۔نہیں چھوٹی نہیں یہ تو واقع بہت بڑی بات ہے کہ تمہارے پاس دو دو ماٸیں ہیں۔ممتا چاچی اور انجی۔
پری ان سے پوچھو جن کی ماں نہیں ہوتی۔تمہیں تو پھر اللہ نے دو دو ماٶں سے نوازہ ہے۔
آپ کی بھی تو مامانہیں ہیں نا۔ہمان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی وہ دانستگی میں بول گٸی۔آٸی ایم سوری۔وہ کان پکڑ کر گردن تھوڑی سے ساٸیڈ پر بچوں کی طرح جھوکا کر بولی ہمان ہنس دیا۔چلو تم اپنے شوہر کی مثال لے لو۔
ناراض نہ ہو یار ماما سے اور انجی سے۔
میں ناراض نہیں ہوں اب۔ وہ کشن پہ لکھتی ہوٸی بولی اچھا پتا کیسے چلے کہ تم ناراض نہیں ہو۔مجھے کیا پتا بھلا۔ہمان ہنس دیا۔جھلی۔چلو نیچے چلیں۔کیوں وہ پوچھ بیٹھی کیونکہ سب نیچے ہی بیٹھے ہیں۔ہم بھی چلتے ہیں۔
ہممم۔وہ سر ہلاتی اٹھ گٸی۔ہمان نے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ وہ دروزے کے قریب جا کر رک گٸی۔کیا ہواہمان نے پلٹ کر پوچھا۔میں بہت کنفیوزڈ یوں۔وہ واقع کنفیوزڈ نظر آتی تھی۔
کیوں بھلا۔اس نے اچھنبے سے پوچھا۔مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا۔ماما کو ماما بولوں یا انجی کو ماما بولوں۔ہمان کا چھت پھاڑ قہقہہ لگا تھا اور وہ پری کا ہاتھ پکڑ کے نیچے لے آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب نیچے بیٹھے تھے۔ماحول کافی خوشگوار تھا۔نین بھی آگیا تھا پر تھوڑا اداس تھا۔زین کو وہ مکمل طور پر اگنور کر رہا تھا۔پری اور ہمان نیچے آۓ ہمان نے کنفیوزڈ سی پری کو انجی کے پاس بیٹھادیا۔
آپ ہم سے ناراض ہیں کیا۔انجی نے اس کے ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا۔نہیں بھٸی یہ اداس نہیں بلکہ کنفیوز ہے کہ یہ اب آپ کو ماما بولے یا چاچی کو ماما بولے۔
پری نے گھور کر اسے دیکھا۔انجی جھوٹ بول رہے ہیں۔
ہمان انجی نے تنبیہہ کی۔اوکے اوکے۔وہ ہاتھ کھڑا کرتا بری الذمہ ہوگیا۔
آپ ہمیں انجی ہی بلایا کریں۔آپ ہمیں ماما کہیں یا نہ کہیں۔آپ تو ہماری بیٹی ہی رہیں گی نہ۔انہوں نے مسکر اکر اسے خود سے لگایا اور اس کا سر چوما۔
زین نے پری کو آواز لگاٸی تھی پری۔پری نے زین کی طرف دیکھا۔پری اٹھ کر اس کے پاس جانے لگی۔اس سے پہلے کے پری اس کے پاس بیٹھتی۔ نین بول اٹھا پری میرے پاس آٶ۔پری نین کے پاس چلی گٸی۔نین نے اسے خود سے لگایا۔پھر الگ کیا اور زین کی طرف دیکھا۔
یہ میری بہن ہے سمجھے خبردار جو تم نے پری کو اپنی بہن بنایا۔ یہ میری پری ہے۔میں جب چھوٹا تھا تو ماما میرے لیے لاٸی تھیں پری کو۔وہ خوامخواہ روہانسی ہوگیا۔
زین اس کے پاس چلا آیا۔لو بھٸی میں نہیں چھینتا تمہاری بہن۔ یہ تمہاری پری ہے۔بس تم خوش رہو یار۔پری ساٸیڈ پر ہو گٸی تھی۔نین زین کے گلے گا تھا اور دونوں ہنسنے لگے۔تھے دوستی بحال ہوچکی تھی۔
پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو میری بہن کو اپنی بہن بنا لے۔نین کی بات پہ سب کا قہقہہ لگا تھا۔
سب ٹھیک ہوچکا تھا ۔سب لوگ خوش تھے۔ آپس میں خوش گپیاں کر رہے تھے۔میسم صاحب اٹھ کر جانے لگے تھے۔
کہ پری کی آواز پہ ان کے قدم برف کے ہوگۓ۔
تایا جان۔میسم صاحب پلٹے تھے۔ ماحول میں سکوت چھا گیاتھا۔ ایک لمحے کو۔آپ کہاں جا رہے ہیں۔یہیں بیٹھیں ہمارے پاس بڑوں کے بنا محفل ادھوری لگتی ہے۔
پری کی بات پہ میسم کا دل کیا زمین پھٹ جاۓ اور وہ اس میں سما جاۓ یہ وہ لڑکی تھی جسے وہ اپنے گھر کی بہوبنانے کے روداد نہ تھے۔وہ قدم قدم چلتی ہمان کے پاس آٸی اور بازو سے پکڑتی میسم کے پاس لے گٸی ۔ہمان کا موڈ بگڑا تھا۔اور میسم کے ہاتھ پر ہمان کا ہاتھ رکھا سب نے قدرے حیرانی سے یہ منظر دیکھا۔
اپنوں سے ناراض نہیں ہوتے۔خاص کر پاپا سے تو بالکل بھی نہیں۔ جو باپ کم دوست زیادہ ہوتے ہیں۔ان سے پوچھیں جن کے پاپا نہیں ہوتے ان کے ہر خواب پورے کرنے کے لیے۔آپ کو تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ آپ کے پاس پاپا ہیں۔
پری خاموش ہو چکی تھی اور ہمان اس کا تو مانو دل ہی پسیج گیا۔آنکھوں میں نمی اتر آٸی تھی۔ اس نے آہستہ سے ہاتھ میسم کے ہاتھ پہ سے ہٹایا اور ایک قدم پیچھے ہو کر میسم کے گلے لگ گیا۔
میسم نے اسے اپنے اندر سمیٹ لیا کتنے ہی دنوں بعد وہ دونوں اسطرح ملے تھے۔پری کو احساس تھا۔بھلا وہ کیسے باپ بیٹے کو ناراض رہنے دیتی ۔وہ تو رشتوں کو جوڑنے والی تھی۔کیسے یہ باپ بیٹے کا رشتہ ٹوٹتے دیکھتی۔
میسم نے اسے خود سے الگ کیا پھر پری کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور دونوں بچوں کو اپنے ساتھ لگاۓ وہ پر سکون ہوگۓ۔
بھٸی پری تو میری ہے بلکہ میرے بیٹے کی۔ وہ بول تو سب کو رہے تھے۔ پر شرارت سے نین کے طرف دیکھ رہے تھے۔نین بچارہ خجل سا ہوا۔تایا جان آپ بھی نا یار مزاق بنادیامیرا۔نین بچوں کی طرح منہ بسور کر بولا۔
تو سب کا فلک شگاف قہقہہ لگا۔ارے نہیں بھٸی برخردار ہماری کیا مجال کے اپنے بیٹے کا مزاق بناٸیں کیوں بھٸی فواد۔انہوں نے فواد کو مخاطب کیا۔وہ صلاح صفاٸی کی غرض سے مخاطب کر بیٹھے۔فواد نے آگے بڑھ کر میسم صاحب کا کاندھا تھپکا۔
بڑے ہیں آپ اور بڑے بھاٸی باپ کی جگہ ہوتے ہیں۔وہ ڈھکے چھپے الفاظوں میں بہت کچھ کہہ گۓ تھے۔میسم صاحب مسکرادیے۔
اتنے میں حماد بھی آگیا۔ہمان نے سب سے پہلے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔
افففف گھر آیا میرا پردیسی۔
عید ہوٸی میری اکھین کی۔
زویا نے سارہ کو کہنی ماری۔وہ حقیقتاً شرما بھی گٸی تھی۔
ہاۓ میں صدقے اس شرماہٹ پہ۔زویا کی سرگوشی پہ وہ پیچ و تاب کھا کر رہ گٸی۔تھی بھی تو بھابھی کہتی بھی تو کیا۔سارہ بےچاری ابلا ناری۔
وہ سب کچھ جانتا تھا ۔بے شک حماد نہ بھی بتاتا۔کٸی آنسو ہمان کا کندھا بھیگو گۓ۔حماد نے بروقت آنکھیں صاف کیں اور ہمان سے الگ ہوا۔بی بریو حماد یہ مقافاتِ عمل ہے۔ جیسی کرنی ویسی بھری۔حماد نے اثبات میں گردن ہلاٸی۔
وہ آگے بڑھ کر سب سے ملا۔سواۓ پری کے۔
پری نے یہ چیز شدت سے محسوس کی۔وہ خود حماد کے پاس چلی آٸی۔میرے سر پر تو آپ نے ہاتھ رکھا ہی نہیں۔بڑے بھاٸی سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔حماد کے آگے پری نے سر جھکایا۔حماد جی بھر شرمندہ ہوا۔پری اس کی تواقع کے غیر مطابق تھی۔جو کچھ علی نے اس کے ساتھ کیا تھا ،حماد کو لگا تھا، اس کے بعد تو شاید پری اس کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرے۔ پر۔ایسا بلکل بھی نہیں تھا۔
اس نے پری کے سر ہر ہاتھ پھیرا۔خوش رہو۔اللہ تمہیں ہر بری نظر سے بچاۓ۔جب تک تمہارا بھاٸی ہے۔کوٸی تمہیں میلی آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتا۔نرم لہجے میں بولتا وہ آخر میں علی کی موت کے بعد پہلی دفع مسکرایا تھا۔
ہمان نے علی والی باے نہ بتا کر اس کا پردہ رکھا تھا۔ اورباقی بھی کٸی باتیں وہ گول کر گیا تھا۔ نہ ہی گھر والوں نے اس سے پوچھنے کی کوشش کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام ریکارڈنگز اور لیپ ٹاپ ڈیٹا اور وہ ویڈیو وہ انسپیکٹر سے پہلے ہی لے چکا تھا اور سارا ڈیٹا وہ کاپی کر کے نین کو ی میل کر چکا تھا۔فون کر کے اس نے نین کو ساری باتیں سمجھادی تھیں۔پھر نین نے ہمان کے کہے کے مطابق ہی وہ سب ریکارڈنگ چلاٸی تھیں۔۔
وہ سب لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔جب ڈور بیل بجی اور زین اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا۔پوسٹ مین ایک لیٹر اس کے ہاتھ میں تھما گیا۔
اس نے دروازہ بند کیا اور لیٹر کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔پھر ایک جگہ رک گیا۔لیٹر پر عاٸیشہ کا نام لکھا تھا۔
کیا ہے زین۔ میسم نے پوچھا تھا۔ لیٹر ہے میسم ماموں ۔
کس کا۔عا۔عاشی۔کا۔
وہ خاموش ہو گۓ۔کہنےکو کچھ نہ تھا۔
سب کے منہ یک دم عاشی کے نام پر اتر سے گۓ۔
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔جلدی سے لفافہ چاک کر کے اندر سے کاغذ نکالا۔
اسلام علیکم۔
بہت کچھ غلط کیا میں نے پری کے ساتھ ۔سب کے جزباتوں کو پیروں تلے روند ڈالا۔آپ سب کی محبتوں کا کوٸی صلہ نہیں دیا میں نے۔دیتی بھی کیسے میں اس خاندان کا خون جو نہیں تھی۔ خیر پھر بھی آپ لوگوں سے میں نے بہت پیار اور محبت سمیٹا ہے۔شاید ہی دنیا میں مجھ جیسی کوٸی لاوارث لڑکی ہوگی ،جو اتنی خوش قسمت ہو ،جسے اتنے اچھے اور محبت کرنے والے لوگ ملے ہوں۔زین جیسا بھاٸی، عالی جیسے دوست انجی جیسی ماں اور نین جیسا دوست شاید اب کبھی زندگی میں نہ ملیں۔ملیں گے بھی کیسے میں ان سب کی حقدار نہیں۔جنہیں رشتوں کی قدر نہ ہو اس کے لیے ان رشتوں سے محروم رہنا ہی بہتر ہے۔اسی لیے میں آپ سب سے دور، بہت دور جارہی ہوں۔میں یہاں سے اپنے ساتھ کچھ بھی لے کر نہیں گٸی۔میرا ان پر حق نہیں تھا۔
مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کیجیے گا۔
عاشی۔
اللہ حافظ۔
زین نے بہت مشکل سے آنسو ضبط کیے تھے۔جو بھی تھا ۔وہ اس کی بہن تھی۔ بچپن سے ایک عرصہ اس کے ساتھ گزارا تھا زین نے۔اسے دکھ تھا۔ تکیلف ہوٸی تھی۔ پر وہ سنبھل گیا۔ اسے انجی اپنی ماما کو بھی سمنبھالنا تھا۔ وہ تو بھاٸی تو اتنی تکلیف ہوٸی تھی اس کے اس قدم پر ۔وہ تو پھر ماں تھیں۔
انجی کی آنکھیں نم تھیں۔پری انجی کے پاس آ کر ان کے قریب ہی بیٹھ گٸی۔کوٸی بات نہیں انجی۔ آپ روٸیں مت بلکہ عاشی کے لیے دعا کریں۔ اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اسے نیک ہدایت دے۔آپ روٸیں مت۔ تو کیا ہوا جو عاشی نہیں ہے۔ میں تو ہوں نہ آپ کے پاس۔پری نے پیار سے کہتے انجی کے آنسو صاف کیے۔
عجیب امتحان تھا اوپر والے کا۔ ایک دعا قبول کر کے ایک بیٹی دی تھی تو ایک لے لی تھی۔اس کی حکمت وہی جانتا۔کس چیز میں کیا بھلاٸی رکھی ہے۔
آپ سچ میں پری ہیں۔ پری۔رشتوں کو جوڑنےوالی روتوں کو ہنسانے والی۔ایک انسان میں تو ہر گز اتنی سکت نہیں ہوتی جتنی آپ میں ہے۔میری بچی بڑی ہی صابر اور شاکر ہے۔معصوم سی ۔جب میرے پاس میری پری ہے تو پھر مجھے کیا پڑی ہے رونے کی یا غم منانے کی ۔دیکھو نہیں رو رہی میں۔چپ ہوں۔ کیونکہ میری پری میرے پاس ہے۔
انجی مسکراٸی تھیں ساتھ ہی پری بھی۔
خوشیاں پھر سے آٸیں تھیں۔ جھوم کر ۔وقت رکتا نہیں چلتا رہتا ہے۔اچھا وقت اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہوتا ہے برے وقت میں صبر کرنے کا۔سو جو لوگ صبر کر جاتے ہیں اچھاٸی پالیتے ہیں۔اور جو نہیں کرتے وہ مزید خوار ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کا وقت تھا ہلکی سرد ہواٶں کا راج تھا آسمان پر سرمٸی بادلوں کا پہرہ تھا ہوا کے ساتھ ہلکی ہلکی بوندہ باندی ہو رہی تھی۔ پری مگن سی کھڑکی سے جھانکتی سارے نظارے دیکھ رہی تھی۔لان میں لگی کرسیوں پہ زویا عالی اور سارہ بیٹھی تھیں۔نیچے گھاس پہ نین اور زین بیٹھے تھے زین عالی کےساتھ لگا ہوا تھا۔کبھی اس کا دوپٹہ کھینچتا تو کبھی پیچھے سے بال۔پر عالی ٹس سےمس نہ ہوٸی تنگ آ کر وہ کرسی گھسیٹ کر اس کے بالکل برابرمیں بیٹھ گیا۔
میسنی!!! آخر کب تک چپ رہنے کا ارادہ ہے۔نکاح کے بعد چپ رہنے کی کوٸی منت مانی تھی کیا۔وہ بھی زین تھا۔ انےنام کا ایک ۔آج تو اس نے عالی کو بلوا کر ہی چھوڑنا تھا۔عالی نے کان تک نہ دھرے اور اٹھ گٸی۔میں چاۓ اور پکوڑے بنالاتی ہوں موسم بھی اتنا اچھا ہے۔
وہ کنی کترا کر اندر چلی گٸی۔زین بھی پیچھے ہو لیا۔امم میں بھی بس ابھی ہیلپ کروا کر آتا ہوں۔ وہ سارہ کو دیکھ کر خجل سا ہو کر بولا۔ہیلپ کروا کر آتے ہو یا پرٸیویسی چاہتے ہو۔سارہ نے اس کی ٹانگ کھینچی اور وہ مسکراتا اندر چلا گیا۔
کیا کر رہی ہو۔وہ اچانک ہی کچن میں آیا تھا اور عالی کا ہاتھ پکڑے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔ک۔کچھ۔ب۔بھی ت۔تو ن۔نہیں۔یہ میرے سامنے بولتی کیوں بند ہوجاتی ہے تمہاری۔پہلے تو پٹر پٹر چلتی تھی۔زبان۔وہ بھی زین تھا کہاں باز آتا۔پہلے بات اور تھی زین۔ اب بات اور ہے۔اچھا اب کیا بات ہے۔اور پہلے کیا بات تھی۔
عالی زرا سا مسکراٸی تھی۔ راستہ دو مجھے۔ام ہم۔نہیں دیتا۔اب تو راستے مجھ تک آتے ہیں۔مجھے باہرجانا ہے۔وہ پھر سے بولی۔چلو ہنی مون پر چلتے ہیں سوٸٹزرلینڈ۔میری فیورٹ جگہ ہے۔ہنی مون کے نام سے ہی عالی کے پسینے چھوٹے تھے اور وہ چہرہ جھکاگٸی تھی ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم پھیلا تھا۔
زین نے غور سے اسے دیکھا۔اوۓ ہوۓ کوٸی شرما رہا ہے بھٸی۔وہ ہنستے ہوۓ بولا۔زین پلیزززز۔
اوکے بابا ۔جسٹ کیڈینگ ود یو۔خوش ہو نہ تم۔ہممم خوش ہوں۔ بہت خوش ہوں۔اس سے پہلے کے زین کچھ بولتا اس کےکان پہ سرسراہٹ ہوٸی تھی۔
کیا رازو نیاز ہورہے ہیں سارہ اچانک آٸی تھی او زین کے بالکل کان کے پاس بولی تھی۔وہ اچھل کے پڑا تھا۔
اوۓ جاسوس تمہیں چین نہیں پڑتا۔نہیں پڑتا چین جب تک چھاپے نہ مارلوں۔وہ منہ چڑاتی کچن کے اندر گھس گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا اکیلی بیٹھی تھی۔ماہیر کی کار مین گیٹ سے اندر آتی دیکھاٸی دی۔وہ شرٹ کہنیوں تک موڑے اسی طرف آرہا تھا۔
کیسی ہیں آپ ۔دن کیسا گزرا آپ کا۔میں ٹھیک ہوں دن بھی اچھا گزرا۔ماہیر جی آپ نے تو روز کا معمول بنالیا یہ پوچھنا جیسے بہت دور سے بہت دنوں بعد آۓ ہوں۔
وہ مسکرایاتھا۔چھوڑیں۔میں سوچ رہا تھا کہیں گھومنے چلتے ہیں زہن فریش ہوجاۓ گا۔ہیں یہ آپ ہی ہیں نہ جن کے پاس مجھے مارکیٹ تک لے جانے کا وقت نہیں ہوتا تھا۔ہاں بابا میں ہی ہوں۔بس سوچ رہا تھا تھوڑا وقت اپنے رشتے کو بھی دینا چاہیے تھوڑی پراٸویسی ہوجاۓ گی۔
زویا زور سے ہنسی تھی اوہ ماہیر جی آپ یہ سب باتیں کر رہے ہیں مجھے یقین نہیں آرہا وہ منہ پہ ہاتھ رکھے ہنسنے لگی۔ماہیر اسے ہنستا دیکھے گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان اور حماد سٹڈی روم سے فارغ ہوۓ تھے ۔حماد تو نیچے چلا گیا۔جبکہ ہمان اپنے کمرے میں۔وہ دھیرے سے دبے پاٶں اندر آیا اور پیچھے سے پری کو اپنے حصار میں لے لیا۔وہ جو انہماک سے سب نظارے دیکھ رہی تھی چونک گٸی۔
ہمان۔جی چندہ۔ آپ کب آۓ۔بس ابھی ابھی۔ جب تم بہت مگن تھیں۔وہ ہمان کی بات کہاں سن رہی تھی ۔وہ تو کچھ اور ہی سوچ رہی تھی۔پری نے دھیرے سے بازو ہمان کے گلے میں ڈال دیے۔ہمان حیران نہیں ہوا۔وہ ایسی ہی تھی۔پر وہ سمجھ چکا تھا محترمہ کچھ نہ کچھ ڈیمانڈ کرنے والی ہیں۔
ہمااان ۔جی ہمان نے دھیرے سے اس کے چہرے پہ جھولتی شریر لٹیں ہٹاٸیں۔
مجھے جرمنی جانا ہے۔اب واقع ہمان حیران ہوا تھا۔وہ کیوں۔ ایک آٸبرو اچکا کر پوچھا۔کیونکہ مجھے جرمنی دیکھنا ہے۔ بہت خوبصورت ہے جرمنی۔تمہیں کس نے بتایا۔وہ شرارت سے بولا۔میں نے نیٹ پر دیکھا۔اوہ تو سوشل ہوگٸی ہو آج کل ہاں۔نہیں ۔سارہ نے دیکھایا تھا۔اوہ اچھا۔
چلتے ہیں بلکہ تم کہو تو ابھی اور اسی وقت چلتے ہیں۔ وہ پری کے دونوں گال چومتا ہوا بولا پھر باری باری اس کی آنکھیں چومیں۔پری کی بولتی بند ہو گٸی تھی۔
ہمان نے اسے دیکھا وہ نظریں جھکا گٸی۔حیا کے سات رنگ وہ زیرِ لب بولا تھا۔پھر اس لیے نیچے آگیا۔
سارہ کچن میں چاۓ بنارہی تھی۔ حماد بھی وہیں آگیا۔کیا کر رہی ہے میری جاسوس بیوی۔وہ شوخی سے بولتا اس کے ہاتھ سے کپ لے کر سلیب پر رکھ چکا تھا۔
ح۔حم۔ماد کیا کر رہے ہیں۔حماد اس کے چہرے پہ آٸی لٹ کو پھنوک سے اڑاتا اس کی حالت سے لطف اٹھا رہا تھا۔م۔مجھے چاۓ ب۔بنانی ہے۔پلیز آپ جاٸیں یہاں سے۔نہیں میں تو نہیں جاتا۔پلیز جاٸیں نا ورنہ مجھ سے چاۓ نہیں بنے گی۔ایک شرط پر۔مجھے ہر شرط منظور ہے۔بولیں۔مجھے آٸی لوو یو بولو۔آ نہیں کبھی نہیں۔ تو پھر ٹھیک ہے چلو چھوڑو چاۓ کوٸی نہیں پیے گا چاۓ۔ باہر چلو میرے ساتھ۔ وہ اسے لیے باہر لان میں آ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لوگ کرسی ایک طرف رکھے گھاس پر آلتی پالتی مارے بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔کبھی کسی بات پہ ہنستے تو کبھی کسی بات پر۔کبھی زین سارہ کو چھیڑ دیتا۔ تو کبھی سارہ زین کی کھنچاٸی کرتی۔وہ سب ایسےہی تھے ہر مسٸلے کے بعد مل بیٹھنے والے۔ہنسنے مسکرانے والے۔خوشیاں بانٹنے اور بکھیرنے والے۔وہ سب بہن بھاٸی کزنز تھے۔اور سب کزنز بہن بھاٸی۔
نین تھوڑا اداس تھا صبح اس کی کینیڈا کی واپسی کی فلاٸیٹ تھی۔وہ ایک بار پھر سب سے الگ ہونے جارہا تھا۔بزنس تھا وہاں۔واپس تو جانا تھا۔زین نے اور ماہیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہمان نے ہانگ لگاٸی۔
ہم ساتھ ساتھ ہیں۔ چاہے جہاں بھی ہوں۔جس حال میں بھی ہوں۔ہمیں کوٸی الگ نہیں کر سکتا۔
ہم ساتھ ساتھ ہیں۔ہمان سمیت سب نے زور سے کہا تھا۔
پھر وہ لوگ سب کھڑے ہوگۓ ۔گول داٸیرہ بناکر آپس میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہ گنگنا رہے تھے شروعات زین نے کی تھی۔
پھولوں میں خوشبو ہے۔
اس دل میں ایک تو ہے۔
جنموں کے ساتھی ہم ساتھ ساتھ ہیں۔
زین گنگنایا تھا۔
جنموں کے ساتھی ہم ساتھ ساتھ ہیں۔
نینو میں جوتی ہے۔
سیپی میں موتی ہے۔
جنموں کے ساتھی ہم ساتھ ساتھ ہیں۔
”عالی اور زین ہم آواز ہو کر گارہے تھے۔“
جیسے ہنسوں کے سنگ ہنسنی۔
جیسے چندہ میں ہو چاندنی۔
”ہمان کی آواز نے بھی سر بکھیرے تھے۔
جیسے کلیوں میں ہو بھاونا۔
جیسے من میں کوٸی کامنا۔
جیسے دیا اور باتی،ہم ساتھ ساتھ ہیں۔
”پری کی آواز کانو میں رس گھولنے لگی تھی۔“
جیسے آنکھوں میں ہو شوخیاں۔
جیسے ہونٹو پہ ہو سرخیاں۔
”ماہیر بھی گنگنانے لگا تھا“
جیسے ساون میں جھومے جیا۔
جیسی سجنی کے سنگ ہو پیا۔
”زویا نے بھی ماہیر کا ساتھ دیا“
دیا اور باتی ،ہم ساتھ ساتھ ہیں۔
جنموں کے ساتھی ہم ساتھ ساتھ ہیں۔
پھولوں میں خوشبو ہے۔
اس دل میں ایک تو ہے۔
جنموں کے ساتھی ہم ساتھ ساتھ ہیں۔
جنموں کے ساتھی ہم ساتھ ساتھ ہیں۔ اب کے سب نے مل کر کہا تھا۔
ہم ساتھ ساتھ ہیں
سب نے یک زبان ہوکر ہاتھ کا مکہ بنا کر ہوا میں اوپر کی جانب لہرا کر نعرہ لگایا۔
واقع وہ سب ساتھ ساتھ تھے ہنسی میں ،خوشی میں، غم میں، دکھ میں ،سکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ ۔کزنز صرف کزنز نہیں ہوتے بلکہ بہن بھاٸی ہوتے ہیں۔ دوست ہوتے ہیں۔ان میں تیر میر نہیں ہوتی۔وہ سب بھی ایسے ہی تھے۔ شوخ چنچل۔ خوش مزاج تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والے۔ مصیبت کے وقت کام آنے والے۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے۔
جواٸنٹ فیمیلی ایسی ہی ہوتی ہیں مل جل کر ررہنے والیں۔جہاں تلخیاں منٹوں میں دھل جاٸیں۔ جہاں دوریوں کا نامو نشان نہ ہو۔ وہ سب مثال تھے لوگوں کے لیے۔
دی اینڈ
🍁 the End 🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *