Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode05
Pari By Shanzey Rajpoot Episode05
ینگ پارٹی نے اپنے پلان کے مطابق خوب ہلا گلا کیا گانا بجانا موج مستی”۔
” اس سب میں ہمان کی ناراضگی بھی ہوا ہوگٸی نین نے ہی ہمان کو منا یا اور ہمان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اسے فنگشن میں گھسیٹ لایا” ۔
“فنگشن ختم ہوا سب بہت تھک چکے تھے ممتا بیگم پری کے کمرے میں آٸیں اور پری کو آگاہ کیا پری بیٹا تمھاری دواٸی کا ٹاٸم ہوگیا ہے”۔۔
“چلو یہ دوا جلدی سے لو اور چینج کر کے سوجاٶ” ۔
ممتا بیگم نے دواٸیں اور پانی کا گلاس پری کے ہاتھ میں تھمایا” ۔۔
“پری بےزار سی میڈیسن لے کر چینج کرنے چلی گٸ “
“عین اس وقت عالی کمرے میں آٸی “
“چچی جان پری کدھر جلدی سے اسے بھیج دیں ٹیرس پہ سب اس کا ویٹ کر رہے ہیں “۔
” دروازے کی دیہلیز پہ کھڑی ایک ہی سانس میں وہ سب لچھ ایک ساتھ بول گٸی
“اور ممتا بیگم اس کے اس انداز پہ مسکرادیں “
“دب کچھ وہاں کھڑے کھڑے ہی بول دوگی کیا اندر اجاؤں
“عالی اندر آگٸی “۔۔۔”پری ابھی آتی ہے” ۔۔۔۔چینج کرنے گاٸی ہے”۔۔۔”ممتا بیگم عالی کے چہرے کی اتاہٹ دیکھ کر
بولیں”۔
“پر زیادہ دیر تک مت جگراتہ کرنا
“اسے عادت نہیں ہے نیند کی کچی ہے میری پری”
“انہوں نے ممتا سے چور لہجے میں کہا”
“عالی نے پیچھے سے ممتا بیگم کے گلے میں بانہوں کا ہار بنایا”۔۔۔”اوفوو !!!۔۔۔۔” میری پیاری چچی جان۔۔۔۔ “آپ کیوں فکر کرتی ہیں”۔۔۔
“جیسا آپ کہیں” ۔۔
“آپ کا حکم سر آنکھوں پر” ۔
“وہ کھلکھلا کے ہنس دی”۔
“چل بدماش کہیں کی” ۔
“ممتا بیگم نے اس کے سر پر ایک چپت لگاٸی”۔
مگر یہ ینگ پارٹی ۔۔۔۔اففف یہ بھی بھلا کبھی تھکی ہے”۔۔
“نہیں نہ تو بس پھر”۔
“ان کی بیٹھک آج ٹیرس پر تھی “۔
“ماہر، رافع نین ،زین ،عالیہ ،عاٸیشہ، پری، ہمان سب ٹیرس پر آمنے سامنے قطار بناۓ بیٹھے تھے”۔۔۔۔
” زین نے عالی کی ناراضگی محسوس کرلی تھی”۔۔
” زین پورا دن شادی کے کاموں میں گھم چکر بنا ہوا تھا”۔
اسے وقت ہی نہیں ملا کہ عالی سے اس دن کے بارےمیں ایکسکیوز کر سکے “۔۔
“اور دوسری طرف عالی کے دل میں بھی غلط فہمی گھر کر چکی تھی”۔
“اس نے سوچ لیا تھا وہ عالی سے صبح بات کرے گا “۔۔
” ہمارے ہمان صاحب کی تو پری سے ہی نظر نہیں ہٹ رہی تھی جو اس سب باتوں سے انجان نین کے کندھے سے سر ٹکاۓ اس کا بازو اپنے ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی”۔۔
“ایک نظر اٹھا کے ہمان کو دیکھتی تو وہ مسکرا کر سر جھکا جاتا اور پری ہلکا سا مسکرادیتی “۔
“چاند آسمان پہ بادلوں سے اٹکیلیا کرتا ان دونوں کو دیکھ مسرارہا تھا “
” رات دیر تک سب انتطاق شری کھیلتے رہے”۔
“پھر تھک ہار کر الٹے سیدھےگرتے پڑتے اپنے کمروں میں نیند کو گلے لگانے پہنچے” ۔۔۔
“رات کا اندھیرا چار سو پھیل چکا تھی آسمان میں لٹکا ماہ کامل مسکرار کوٸی نوید سنا رہا تھا”
_______________
” ملک ولا کی صبح خوب ہری بھری ہوٸی
“کل سارہ کی بارات ہے اور پورا گھر ایک منڈے مارکیٹ معلوم ہورہا تھا ہر کوٸی اپنے اپنے کام میں لگا ہوا تھا “۔۔۔
“ملازم ادھر سے ادھر بھاگتے دیکھاٸی دے رہے تھے” ۔۔
“کسی کو اپنے کپڑوں کی پڑی تھی تو کسی کو جوتوں سینڈلز”۔۔۔ “شادی والا گھر تھا”۔۔۔۔”تو پھر کیسے کوٸی چیز ٹاٸیم پر ملتی”۔۔۔۔
“یہ دیکھو ذرا ۔۔۔۔”ارے تو ادھر کیا کر رہی ہے ملکہ عالیہ”۔۔۔ ہادیہ بیگم کب سے عالیہ کو ڈھونڈ رہی تھیں جو وارڈروب می گم تھی اور اب وہ عالی کو سخت سست سنانے کے موڈ میں تھیں”۔۔۔۔
افوو کیا ہو گیا ہے مما کیوں اتنا شور ڈالا ہوا ہے”۔۔۔
“وہ الماری میں منہ گھساۓ ہی بولی شاید کچھ ڈھونڈ رہی تھی” ۔
“پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا ہینگ کپڑے تو کہیں شوز تو کہیں گفٹ پیک سب الماری سے باہر”۔۔۔
ہادیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گٸیں” ۔۔۔”اس لڑکی کا کچھ نہیں ہو سکتا” ۔۔۔۔
” ارے عالی میں تجھ سے بات کر رہی ہوں ان دیواروں سے نہیں “۔۔۔۔” وہ شدید جھنجھلا گٸی تھیں”۔۔۔۔
“مجھے پتا ہے مما میں کانوں سے ہی سنتی ہو ں آپ آگے بھی تو کچھ کہیں” ۔
” وہ تھک ہار کے منہ بسور کر بیڈ پر بیٹھ گٸی جیسے مطلوبہ شے نہ ملی ہو”۔۔۔۔
“بولیں کیا بول رہی تھیں آپ”۔۔۔۔
“اس نے اپنے کھلےبالوں کو ٹوٸسٹ کر ک کیچر کی زینت بنادیا”۔۔۔۔
“ہاں تو میں یہ بول رہی تھی کہ تو ذرا کچن دیکھ لے عاٸیشہ کو تو سارہ نے اپنے کام سے بلایا ہے تو وہ تو فارغ نہیں” ۔۔۔
“انجی اور ممتا کل بارات کی تیارویوں میں لگی ہیں “۔۔۔۔
“ہمممم” ۔۔۔
“وہ پتہ نہیں مطلوبہ شے نہ ملنے پہ اداس تھی یا زین کی وجہ سے یہ تو وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی “۔۔۔
“عالی بیزار سی اٹھ کر کچن کی طرف چلدی “۔۔۔۔۔
“وہ ابھی کچن کے دروازے پہ ہی تھی اسےاحساس ہوا جیسے اندر کوٸی ہے”۔۔۔
“جیسے ہی اس نے قدم اندر رکھا وہ غصے سے لال ٹماٹر ہو گٸی اور واپس پلٹ گٸی”۔۔۔۔
“زین جو شادی کے انتظامات دیکھ کر ابھی گھر آیا تھا” ۔۔۔۔
“وہ عاٸیشہ کے کمرے میں گیا تھا بولنے کہ اسے ایک کپ کافی بنا کر لادے”۔۔۔۔
“پر جب وہ کمرے میں نہ ملی تو اس نے خود ہی کچن کا رخ کیا”۔۔۔۔
” وہ مگ میں کافی ڈال رہا تھا جب اسے سامنے والی دیوار میں لگی ٹاٸیلز میں عالی کا عکس دیکھا”۔۔۔۔۔
“زین نے موقع غنیمت جان کر اس آواز دی”
”عالی “ ورنہ کہاں اسے شادی والےگھر میں اکیلے بات کرنے کا موقع ملتا”۔۔۔
عالی کے قدم تھم گۓ ۔۔۔۔
“دل میں امید کی ایک کرن جاگی” ۔۔۔۔۔
“ہونٹو ں پہ مدھم سی مسکراہٹ نے احاطہ کیا”۔۔۔۔۔
” پر اگلے ہی پل اس کے ماتھے پہ بل پڑے چہرہ غصے سے لال ہو گیا”۔۔۔
“اسے وہ دن یاد آیا جب زین بری طرح سے اس سے لڑا تھا بھلا عالی کیسے اتنی آسانی سے بھول جاتی”۔۔۔۔
“عالی وہ میں ،۔، میں تم سے وہ اس دن جو ہوا”۔۔۔۔
“زین کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے شوروع کرے کیا کہے”۔۔۔۔
“الفاظ جیسے تیسے ترتیب دیے”۔۔۔۔
“عالی کیا ہم کچھ دیر بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں” ۔۔۔۔
“جب عالی کافی دیر تک زین کی طرف نہیں پلٹی تو اس نے بیٹھ کر بات کرنے کا سوچا”۔۔۔۔۔
“عالی اس کی طرف پلٹی” ۔۔۔۔
“پہلی بات مجھے پچھلی باتیں یاد کرنے کا خاصا شوق نہیں”۔۔
” اور دوسری بات میرے پاس کسی ایہرے گہرے نتھو گہرےکے لیے ٹا ٸم نہیں”۔۔۔۔۔
“وہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے بہت رعب سے ایسےاس بول رہی تھی”۔۔۔۔۔
“جیسے ایک بادشاہ اپنے غلام سے مخاطب ہو”۔۔۔۔
“زین تو اس کے انداز پہ ششدھ رہ گیا اسے تو لگا تھا عالی رونا دھونا کرے گی کہ تم نے میری اتنی بےعزتی کی مجھے اتنا برا بھلا کہا فلاں فلاں” ۔۔۔۔۔
“مگر یہاں تو دور دور ایسا کوٸی تک سین نہیں تھا “۔۔۔۔۔
” عالی میں کوٸی ایہرا گیرا نہیں ہوں بلکہ میں تو “۔۔۔
” عالی نے زین کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی” ۔۔۔۔
“تم تو میرے کزن ہو یہ ہی نہ معلوم ہے” ۔۔۔
“کوٸی نٸی بات کرو”۔۔۔۔
” عالی یہ تم کیسے بات کر رہی ہو “۔۔۔
“بالکل تمھارے جیسے “۔۔۔
“عالی نی اپنی طرف سے کرارہ جواب دیا”۔۔۔۔
“زین کا دماغ بھگ سے اڑا تھا”۔۔۔۔
“عالی کیا ہم بیٹھ کر دو منٹ تمیز سے بات نہیں کر سکتے”۔۔۔۔
“زین اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا بولا “۔۔۔
“ورنہ غصہ تو اسے اتنا آرہا تھا عالی کی باتو ں پہ کہ اسے ابھی اٹھا کہ باہر پھینک آۓ”۔۔۔
” کیسے اس نے اسے پل بھر میں نتھو بنادیا”۔۔۔۔
نہیں بلکل نہیں “۔۔۔
“عالی نے صاف منع کردیا “۔۔۔۔
” میں تم سے کوٸی بات نہیں کرنا چاہتی” ۔۔۔”بیٹھنا تو بہت دور کی بات ہے مسٹر زین شاہ” ۔۔۔۔
” آنکھوں کو چھوٹا کیے وہ زین کی باتوں کا ترقی بہ ترقی جواب دے رہی تھی”۔۔۔
“آٸی ہاپ سو کہ تمہیں میری بات اچھی طرح سمجھ آگٸی ہو گی”۔۔۔
“وہ انگلی اٹھا کر بولی” ۔۔۔
“انڈرسٹینڈ دیٹ، یو بیٹر انڈرسٹینڈ “۔۔۔
“وہ داٸیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو ناک کے نیچے رگڑتے ایک ادا سے بولی تھی” ۔۔۔
“آنکھوں میں غصہ اور مغرور لیے وہ ابھی پلٹی ہی تھی کہ زین نے ایک جست لگا کر اس کی کلاٸی پکڑی” ۔۔۔۔
“کیا کہہ رہی تھیں تم ذرا پھر سے ارشاد کرو”۔۔۔
“وہ عالی کی طرف قدم بڑھاتے ہوۓ بول رہا تھا “۔۔۔
” وہ شدید غصے میں تھا عالی کے فل ایٹیٹیوڈ موڈ نے اس کے غصے کو ہوا دی تھی اور اب وہ اپنے جلالی روپ میں آ چکا تھا” ۔۔۔
“عالی اپنا ہر قدم پیچھے لیتی دیوار سے جا لگی تھی” ۔۔۔۔
“بولو اب بولتی کیوں بند ہو گٸی تمہاری”۔۔۔۔
“میں یہاں تم سے سوری کرنے کے پر طول رہا ہوں اور تم ہو کہ” ۔۔۔”تمہارے تو نخرے ہی نہیں لیے جا رہے”۔۔۔۔
“عالی اور زین کے بیچ صر چند انچ کا فاصلہ تھا “۔۔۔۔
“عالی زین کی اس حرکت پہ ایک دم گھبراگٸی کیونکہ اگر کوٸی بھی انہیں اس حالت میں دیکھ لیتا تو” ۔۔۔
“کچھ غلط بھی اخذ کرلیتا”۔۔۔۔
“اس کی حالت غیر ہو رہی تھی زین کبھی عالی کے اتنا قریب نہیں آیا تھا”
” پر پھر بھی اس نے اپنی پل بھر بدلتی حالت پہ جلد ہی قابو پالیا”۔۔۔۔
” ورنہ کیا بھروسا تھا زین کا کہ وہ پھرسے اس کا مذاق اڑاتا۔اس لیے اس نے بات بدلنا چاہی” ۔۔۔۔
” کب کہا تم نے سوری”۔۔۔
آج چوتھا دن ہے زین تمھیں اب خیال آرہا ہے” ۔۔۔
“وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی روہانسی ہو رہی تھی”۔۔۔
“زین اس کی رونی صورت دیکھ کر نرم پڑا” ۔۔۔
” ہاں نہیں کہا سوری”۔۔۔۔ “پر اب کہہ رہا ہوں “۔۔۔۔میں نے اس دن بہت غلط کہا مجھے تم سے اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی”۔۔۔
” آٸی ایم سوری عالی” ۔۔۔
“اس نی اپنا ایک کان پکڑ کر سوری کہا”۔۔۔۔
” دوسرے ہاتھ میں ابھی بھی عالی کی کلاٸی قید تھی”۔۔۔۔
“ہمممم تمہاری سوری ایکسیپٹ کی جاتی ہے “۔۔۔
“مگر ایک شرط پر”۔۔۔۔”عالی جھٹ بولی”۔۔ “چہرے پر شرارتی مسکان لیے “۔۔۔
“کونسی شرط”۔۔۔۔ “زین کو کھٹک گٸی کہ اس کی فرماٸشیں شوروع “۔۔۔۔
“تم اتنا گھبراٶ مت میری شرطیں اتنی مہنگی نہیں ہوتیں”۔۔۔
“وہ تو مجھے پتا ہے کتنی سستی ہوتی ہیں”۔۔۔۔۔”وہ بھنا کر بولا”۔۔۔۔
“عالی کا چہرہ پھر اداس ہوگیا “۔۔۔” اچھا بولو کیا شرط ہے تمہاری” ۔۔۔
“زین ہار ماننے والے انداز میں بولا”۔۔۔۔
“سچ تو یہ تھا عالی سے ناراض تو وہ خود بھی نہیں رہ سکتا تھا اور اس کی اداسی اسےبری طرح کھلتی تھی “۔۔۔
“عالی تو خوشی سے نیہال ہو گٸی”۔۔۔۔
“مناسب وقت میں تم سے اپنی قیمتی شرط منواٶں گی اور پھر اس وقت تمہیں میری شرط ماننی پڑے گی” ۔۔۔۔۔
“مطلب”۔۔۔۔
“عالی کی باتیں زین کے سر پہ گزر رہی تھیں” ۔۔
“اس لیے ایک آٸیبرو اچکا کر پوچھا “۔۔۔۔
“مطلب آج کے لیے اتنا کافی ہے کہ تمہاری سوری خالی خولی قبول کرلی”۔۔۔
” جاٶ معاف کیا تمہیں بچے” ۔۔۔۔
“عالی ایک ہاتھ اٹھا کر بزرگوں کی طرح ایکٹنگ کرتے ہوۓ بولی”۔۔۔۔
“جس پر پہلے تو زین نے اسے گھورا”۔۔۔۔
“پھر دونوں ایک ساتھ زور سے ہنس دیے۔۔۔۔
*********************************
“پتا نہیں نین بھیا کہاں چلے گۓ “۔۔۔۔
“کب سے ڈھونڈ رہی ہوں” ۔۔۔۔۔
“پری پورے گھر میں نین کو دیکھنے کے بعد واپس اپنے کمرے کی طرف چلدی”۔۔۔۔
“فون بھی نہیں ریسیو کر رہے پتا نہیں کہاں ہیں”۔۔۔۔
” پری اپنی ہی سوچوں کے بھنور میں تھی کہ اچانک اس کا مباٸل رنگ ہوا”۔۔۔۔
“اس نے فون دیکھا تو چہرے پہ مسکراہٹ نے گھیرا ڈال لیا”۔۔۔۔۔
“اسکرین پر نین کا نمبر جگمگا رہا تھا”۔۔۔۔
“پری نے فوراَ سے بیشتر کال ریسیو کی” ۔۔۔۔
“ہیلو بڈی ۔۔۔۔
“نین پیار سے پری کو بڈی بولتا تھا”۔۔۔
“بقول نین کے پری اس کی سب سے اچھی دوست ہے اس لیے وہ اسے بڈی بلاۓ گا” ۔۔۔۔
“ہیلو نین بھیا آپ کہاں ہیں میں کب سے آپ کو فون کر رہی ہوں آپ فون نہیں اٹھا رہے میرا”۔۔۔۔
“جاٸیں مجھے آپ سے بات نہیں کرنی”۔۔۔۔
” اف میری جان ، میرا بچاَ آٸی ایم رٸیلی رٸیلی سوری بڈی”۔۔۔۔۔
“میں ذرا کسی کام سے باہر آیا ہوں۔۔۔”اور فون گاڑی میں ہی رہ گیا تھا اس لیے فون پک نہیں کیا”۔۔۔۔
“اٹس اوکے”۔۔۔۔
“پری تھی ہی اتنی معصوم جھٹ سے مان گٸی” ۔۔۔
“ویسے کیا کام تھا پری۔۔۔۔
“طبیعت ٹھیک ہے تمھاری ۔۔وہ متفکر سا بولا”۔۔۔۔
“جی میری طبیعت تو ٹھیک ہے”۔۔۔
“مجھے چاکلیٹ چاہیے بھیا اور میں بہت بور ہو رہی ہوں میرادل نہیں لگ رہا” ۔۔۔۔
“اور سب اپنے اپنے کام میں بیزی ہیں”۔۔۔
“پری تو کدی کو یاد ہی نہیں”۔۔۔
“ہاہا پری میرا جان ایسا نہیں ہے میں ہوں نہ مجھے یاد ہے میری پری “۔۔۔
“اچھا میں واپسی پہ اپنی پری کے لیے چاکلیٹ لے آٶں گا”۔۔۔۔
“اور تم سارہ کے پاس چلی جاٶ وہ تمہاری ساری بوریت دور کردے گی “۔۔۔
“انفیکٹ ایک کام کرو بلکہ تم اسے خوب چھیڑو کل اس کی بارات ہے نہ خوب مزہ آۓ گا اور تمہاری بوریت بھی ختم ہو جاۓ گی”۔۔۔
“زین نے اسے اپنے طور سے ایک اچھا آٸیڈیا دیا تھا©۔۔۔۔
“ویری بیڈ نین بھیا”۔۔۔۔۔
“سارہ کو ستانا بری بات ہے”۔۔۔
” افففف!!!۔میری ماں ٹھیک ہے مت ستاٶ اسے۔ تمہیں جو ٹھیک لگے وہ کرو او کے”۔۔۔۔
“جی”۔۔۔
گڈ۔باۓ پری۔۔۔
” فون رکھ کےوہ سارہ کے پاس چلی گٸی”۔۔۔۔
“اس نے دروازہ نوک کیا”۔۔۔
” آجاٶ بھٸی جو بھی ہے”۔۔۔۔
“پری دروازہ کھول کر اندر آٸی”۔۔۔۔
“پری تم”۔۔۔
” وہاں کیوں کھڑی ہو ادھر آٶ میرے پاس”۔۔۔۔
جاری ہے
