Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode01

Pari By Shanzey Rajpoot Episode01

” ٹپ💧☁ ،ٹپ💧☁، ٹپ
“عالی!۔۔ہممم۔۔ یہ آواز تمہیں کچھ جانی پہچانی سی نہیں لگتی” ….،
“پری جو کافی دیر سےاپنے خوبصورت سے بیڈ پہ اوندھے منہ تکیہ پہ اپنے دونوں ہاتھوں کا حصار بنائےلیٹی تھی” ٹپ ٹپ کی آواز سن کر عالی سے پوچھ بیٹھی “
” ہاں!!!!۔۔۔ لگتی تو ہے “عالی جو نیل آرٹ کر رہی تھی پہلے تو سر اٹھا کر شرارت بھری نظروں سے پری کو دیکھا” اور حامی بھری”۔۔ ” ہا ں آ تو رہی ہے “مجھے بھی ۔۔۔
“عالی اپنی گول گول کتھٸی آنکھیں مٹکاتے ہوۓ بولی۔۔۔یہ ایک شرارتی انداز تھا” ۔۔۔۔
پھر بتاؤ ناکس چیز کی آواز ہے یہ۔۔،پری بڑے ناز بھرے انداز سے بولی ۔۔۔
اس کے پوچھنے کا انداز ہی اتنا معصوم سا لگا عالی کو۔۔۔ ایک دفعہ تو عالی کا دل کیا کہ ””اس کانچ کی پری کو بتا دے ““
پر اس وقت وہ فل شرارت پر آمادہ تھی
“کیا بتاؤں”وہ نیل آرٹ مکمل کر چکی تھی بس فاٸنل ٹچ دے رہی تھی۔۔۔
” تم خود دیکھ لو ” ۔۔۔”دیوانی”۔۔۔ عالی نے مسکراکر ایک آنکھ بند کر کے اسے چھیڑا “۔۔۔
“عالی ہمیشہ ایسے ہی پری کو اس کی نرالی حرکتوں کی وجہ سے دیوانی کہتی تھی وہ تھی بھی تو ایسی ہی
” رنگوں کی دیوانی“
“قدرت سے اسے عشق تھا”
“پھول🌺🌻🌹🌷🌸 پودے🌳🌲🌴🌾🌿 ہریالی سبزہ🍃🌵🌿🌱۔۔۔۔” سب بہت پسند تھا اسے
“وہ ہمیشہ ان چیزوں سے مانوس ہوجاتی تھی ” ۔۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ پری ہمیشہ اپنے تخیل میں رہتی تھی اور بہت کم گو تھی”۔۔
“کہنے کو تو وہ خود بھی قدرت کا بہت خوبصورت شاہکار تھی “۔۔۔۔”اس کی تو اپنی ایک الگ ہی دنیا تھی”۔۔۔
” جہاں صرف وہ اور اس کی معصوم خواہشات ہوتی تھیں”
“ دسمبر کی ٹھٹھرتی راتیں اسے بہت بھلی لگتی تھیں” ۔۔۔ٹھنڈی ہواٸیں اس کی سہیلیاں تھیں۔۔
“کبھی اس کی گھنیری زلفوں سے کھیلتیں تو کبھی اس کے آنچل سے اٹکیلیاں کرتیں ۔۔۔سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ چاند🌙 اس کا دیوانہ ہے۔۔۔۔یا پھر وہ چاند🌜 کی۔۔۔۔ کیوں کہ وہ اکثر چاند سے باتیں کیا کرتی”۔۔۔
چاند اس کا بہترین دوست تھا
“راز دان ۔۔راز رکھنے والا ”💐
” جب وہ کسی سے ناراض ہوتی یا کوٸی اس کی بات نہیں سنتا تو وہ اپنی شکایتوں کا پٹارہ چاند کے سامنے کھولا کرتی”۔۔۔۔
” پورے دن کی روداد سناتی ۔۔۔اور بدلے میں وہ ۔۔وہ ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اس کے سپرد کرتا ۔پری ۔۔۔وہ تو بس اتنے میں ہی خوش ہوجاتی”۔۔۔
“ہماری پری کے تو شوق ہی نرالے تھے““ 💐کچھ ایسی ہی ہے ہماری پری“🌷
“وہ کیسے، پری نے اپنی ایک آئبرو اوچکا کے پوچھنا چاہا، اب وہ باقاٸدہ اٹھ کر بیٹھ گٰئ تھی”۔۔۔
اور موبائل ہاتھوں میں لیے اسے گھومانے لگی ۔۔۔
“نظریں ہنوز اپنے کام پر تھی جو وہ کر رہی تھی لیکن دھیان عالی کی باتوں پر ۔۔۔۔،” عالی اب فارغ ہو چکی تھی اپنے کام سے “۔۔۔
عالی پری کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ بظاہر لگ تو نہیں رہا تھا کے وہ جواب سننے کے لیے کافی بے چین ہےمگر تھا تو کچھ ایسا ہی” ۔۔۔
” وہ تھوڑا رکی” ۔۔۔
“چل کر بیڈ پر پری کے عقب میں بیٹھ گٸی ۔۔۔ پھر تھوڑا پری کی جانب جھکی “۔۔۔۔
“ایک لمبی سانس کھینچی “۔۔۔
“ہنسی کو کنٹرول کیا ” ۔۔
“وہ پری کا ری ایکشن دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔پھر!! پھر!! پھر !!کیا تھا۔۔۔۔ جو تھا بتا دیا۔۔۔۔۔😂😂
“تمہیں پتہ ہے کہ “۔۔
جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا ۔۔
” اسے پتا تھا کہ پری اس بار میری طرف ضرور دیکھے گی۔۔۔۔اور واقع ایسا ہی ہوا”۔۔۔
پری نے چونک کر اس کے طرف دیکھا چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے پوچھنا چاہ رہی ہو۔۔۔ ””کیا پتا ہے کہ““
آخر کار عالی کو پری پہ ترس آ ہی گیا اور اس نے بتا دیا۔۔۔
”” تمہیں پتا ہے کہ““
” کیا ” پتا ہے”۔۔۔بتا بھی دو عالی۔۔۔پری نے تقریبا جھنجھلا گٸی تھی”
“باہر رحمتِ☔☁ آٸی ہے”
سچچچچچچچ پری نے تقریبا چیخ نے کے انداز میں پوچھا ۔۔ہاں! ہاں! ہاں …
“تم سچ کہ رہی ہو “۔۔۔ہاں!!
“بھلا میں جھوٹ کیوں بولوں گی “بس پھر تو عالی کے بولنے کی دیر تھی،
پری اپنے کمرے سے نکل کر کسی آندھی طوفان کی طرح بھاگتی چلی گئی،،، ” چھن چھن کا شور مچاتی”۔۔ “پیروں میں پائل” ۔۔لمبے گھنے آبشار”
“کمر سے کبھی ادھر جھولتے تو کبھی اودھر”
“سنووائٹ سا رنگ “۔۔۔۔ “نشیلے نین “۔۔۔۔”اس پہ تضاد سایہ فگن پلکیں”۔۔۔۔”شانو سے ڈھلکتا سرخ آنچل”۔۔۔۔” جو آدھے سے زیادہ سنگ مرمر ۔۔۔۔”کے بنے ماربل کے فرش کو چھو رہا تھا”۔
“پنڈلیوں سے اوپر تک آتی سفید قمیض اور سفید چوڑی دار پاجاما پہنے وہ اپنے کمرے کی باہر جانے والی راہداری سے ہوتی ہوئی کوریڈور میں موجود پلرز کے ساتھ جھولتی بل کھاتی طوفان کی طرح سیڑھیاں عبور کر گٸی “
اور لائونج سے ہوتے ہوئے باہر گارڈن میں آئی اور ایک ہاتھ سینے پہ رکھ کر لمبی سانس ہوا کے سپرد کی”
لان کا پورہ منظر اودھے بادلوں سے برستی بارش میں نکھرے نکھرے سے پودے ایک پر افسوں ماحول بنا ہوا تھا”۔۔۔” کوٸی اس منظر کو کیوں دیکھے ۔۔۔اس بارش کو کیوں دیکھے۔۔۔ اس نکھری سے ہریالی کو بھی کیوں دیکھے ۔۔۔
”دیکھنا ہے تو پری کو دیکھے جس کے چہرے پہ قدرت کا یہ دلنشین منظر خوبصورتی کہ ہزاروں رنگ لیے ہوے تھا“
”معصوم لوگ دل کے صاف ہوتے ہیں“
”خاص کر جو قدرت کے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ انہیں موسم کا ہر رنگ پیارا لگتا ہے“ کوٸی پری سے پوچھے کہ وہ ان لمحات کو کیسے جیتی ہے “
”تو لوگوں کو جینے کا مقصد پتا چلے کہ خلق خدا سے محبت ہی عبادت کی اصل روح ہے“ یوں ہی تو نہیں وہ قدرت سے مانوس تھی”
“اپنے آپ سے تو ہر انسان محبت کرتا ہے ” اس خدا کی قدرت کو سراہو تو بات بنے”
“بارش کو دیکھ کر تو اسے دونوں جہاں کی خوشیوں کا گمان ہوتا تھا “
“پری اپنے دونوں بازو پھیلائے چہرا آسمان کی جانب کر کے آنکھیں بند کیں اور بارش کو محسوس کرنے لگی وہ گول گول گھومنے لگی سفید پاوٶں پر بارش کسی ننھے ننھے موتیوں کی طرح گر رہی تھی ” بارش کے قطرے ہیروں کی سی چمک رکھتے تھے “
یہ موسم تو اچھٕے اچھوں کو مدہوش کر دیتا ہے یہ تو پھر ہماری دیوانی تھی”
گول گول گھمتے وہ مدہوش سی گیت گنگنا نے لگی تھی….”
*دل یہ بےچین وے*
*رستے پہ نین وے*
*جیندڑی بے حال ہے*
*سر ہے نہ تال ہے *
* آ جا سانوریا آ آ آ آ *
*تال سے تال ملا ہو وو *
*تال سے تال ملا *
“پری اپنے موسم میں مگن تھی جب عالی کی آواز آٸی”
بس ! کرو پری۔۔ “زیادہ بارش بھی صحت کے لیے اچھی نہیں،تم بیمار پڑ جاٶ گی لڑکی اندر آجاٶ”
لائنج کے دروازے پہ کھڑی عالی نے اسے باور کرایا ، وہ اس کے لیے فکر مند تھی کے کہیں وہ بیمار نہ پڑ جائے” پر پری نے تو جیسے کچھ سنا ھی نھیں “
وہ تو جیسے بارش سے عشق کر بیٹھی تھی جو چھوڑے سے بھی نا چھوٹے،
کچھ نہیں ہوتا! بلکہ میں تو کہتی ہوں تم بھی بارش میں بھیگو آٶ دیکھو کتنا مزہ آ رہا ہے ،
“پری! ایک ہاتھ آسمان کی طرف کیےجس بر بارش کی بوندیں گر رہی تھیں ۔ رخ موڑ کر ایک ہاتھ کے اشارے سے اسے وہاں آنے کا اشارہ کر رہی تھی”. ۔۔۔”بارش اب قدرے کم ہو چکی تھی “
ارے نہیں بھئی !!۔۔۔۔یہ عشق تمہیں راس ہے مجھے نہیں کہ کر عالی اندر چلی گئی،
************************************************
شام ڈھلے کہیں جا کر بارش بند ہوئی تو کچن سے بھی طرح طرح کی خوشبوئیں آنے لگیں،
“کیا بن رہا ہے پھپھو! عالی نے چیہکتے ہوئے برتنوں میں جھانک کر پوچھا، وہ ایک ایک ڈش کا ڈھکن اٹھا کر کھانوں کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتارنے لگی”۔۔۔۔
“بہت کچھ بنا یا ہے ہم نے آپ جا کر کھانا لگائیں ٹیبل پر ” جب تک ہم کچن سمیٹتے ہیں انجی پلیٹس ہاتھ میں لیے عالی کو کہ رہی تھیں پھر عالی بھی کام پہ لگ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اک خوبصورت بلیک کار شاہ ہاؤس کا مین گیٹ عبور کرکے پورچ میں داخل ہوئی”
زین نے گاڑی کو بریک لگایا اور اگنیشن سے چابی نکالی کار کا دروازہ بند کر کے اندر کی جانب قدم بڑھائے” لیدر کی بلیک جیکٹ اور نیلی جینس میں ملبوس بالوں کو جیل سے سٹائیل دیئے بلیک شوز پہنے سیدھے ہاتھ کی شھادت کی انگلی میں چابی گھوماتے ہوئے زین دروازے سے اندر داخل ہوا”
” اسالام علیکم “
“ماما۔۔ زین نے انجی کو سلام کیا”
” واعلیکم اسلام “
“کہتے ساتھ ہی انجی کچن کی جانب چلدیں، زین کی نظر عالی پہ پڑی تو اس کے پاس آیا”
“تم آج پھر آگٸیں ۔۔۔تمھاری اس بات سے میں کیا مطلب سمجھوں”
“جو تم سمجھنا چاہو “۔۔۔”وہ سمجھو” ۔۔۔”ویسے بھی تم ہو ہی ناسمجھ “۔۔۔
“زین نے اسے بولنے پر اکسایا” ۔۔۔”اسے تنگ کرنا زین کے پسندیدہ مشغلوں میں سے ایک تھا”
“پر اب کی بار عالی نے خاموشی پر ہی اکتفا کیا”۔۔۔
اب کی دفعہ زین نے بھی کچھ تمیز کا مظاہرہ کیا “
“کیسی ہو۔۔ زین نے عالی سے پوچھا”
“ٹھیک ” یک لفظی جواب آیا”
” کب آئیں تم “۔۔۔”جب تم آوارا گردی کر رہے تھے “۔۔۔” تڑاخ سے جواب آیا”
” تم اتنا غصہ کیوں” ۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ عالی پھر سے کچھ کہتی”۔۔۔ “عائیشہ نے دونوں کے بیچ آ کر سلام کیا”۔۔” آہاں…. کیا ہو رہا ہے”
_____________
“آہاں”۔۔” کیا ہورہا ہے”۔۔۔۔” ہممم “۔۔۔۔”عالی نے شوخ نظروں سے دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا اور چئیر پر اپنی جگہ سنبھالی”
” عالی جو تھوڑی دیر پہلے غضہ کر ر ہی تھی”۔۔
” ہڑبڑا —کر عائیشہ کو دیکھا جو مسلسل عالی کو ہی گھور رہی تھی اس کے گھورنے میں بھی معنی خیزی چھوپی تھی”
“پھر جلدی سے بات سنبھالی ک.. ک.. کچھ بھی تو نہیں، تم بتاؤ ۔۔ ہو گئ تمہاری آؤٹنگ”۔۔۔۔” عالی بھی چئیر کھینچ کر بیٹھ گئی”۔۔۔
“اتنے میں رافع , ماہیر اور سارہ بھی آفس سے آگئے وہ لوگ بھی سلام کہ بعد اپنی اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے “
****************************
“انجی چار بھاٸیوں میسم سب سے بڑے اور فواد منجھلے اور ابرار سب سے چھوٹے بھاٸی کی اکلوتی بہن اور ان سب سے چھوٹی ہیں”۔۔۔
“عالیہ(عالی) اور رافع انجی کے سب سے چھوٹے بھائی ابرارکے بچے ہیں “۔۔۔۔”جو اکثر شاہ ہاؤس میں ہی پائے جاتے ہیں”۔۔۔۔”
” جبکہ ماہیر اور سارہ بڑے بھائی میسم کے بچے ہیں”۔۔۔۔ “پریشا (پری) اور حسنین منجھلے بھائی فواد(افی )کی بچےہیں وہ اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا میں مقیم ہیں”۔۔۔۔
********************************
“پری کچھ دن پہلے ہی اپنی پھپھو انجی کے ساتھ پاکستان آئی تھی”۔۔۔۔” انجی فواد بھاٸی کے پاس کینیڈا ملنے گٸ تھیں”۔۔۔۔”وہ پری کے ساتھ ڈھیروں باتیں کرتیں اور پری بھی ان کے ساتھ کافی اٹیچ ہو گٸی تھیں”۔۔۔۔
” ویسے تو فواد صاحب ہر دو سے تین سال بعد پاکستان ضرور جاتے تھے”۔۔۔۔” لیکن پچھلے کچھ عرصے سے وہ کام میں اتنا الجھ گۓ کہانہیں پاکستان جانے کا موقع ہی نہیں ملا” ۔۔۔
“انجی کا بھی کافی حد تک پری سے دل لگ گیا تھا اور ہوتا بھی کیوں نہ وہ تھی ہی اتنی پیاری اور سب سے چھوٹی سب کی لاڈلی” ۔۔۔
“پاکستان جاتے وقت وہ بری طرح سے روٸی تھیں” ۔۔۔۔۔ “فواد بھاٸی کے پوچھنے پہ انھوں نے کہا کہ وہاں جا کر میرا دل نہیں لگے گا پری کے بغیر”۔۔۔۔
” اتنے دن یہاں میری اس کے ساتھ اتنی اچھی یادیں بن گٸی ہیں”۔۔۔۔
“اس لیے میں آپ سے کچھ منگنا چاہتی ہوں”۔۔۔”بھیگی آنکھوں میں آس کی روشنی لیے وہ اپنے بھاٸی سے پہلی بار کچھ مانگ رہی تھیں”۔۔۔
“بھاٸی آپ کچھ دن کے لیے پری کو میرے ساتھ بھیج دیں” ۔۔۔”انجی کے بولنے کی دیر تھی کہ ممتا بیگم کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا”۔۔۔۔
“ممتا بیگم کو لگا جیسے انہوں نے کچھ غلط سنا ہو”۔۔۔”لیکن نہیں” ۔۔۔”انہوں نے بالکل ٹھیک سنا تھا”۔۔۔۔
” انہوں نے سارے لحاظ بلاۓ طاق رکھ کر پری کو ان کے ساتھ بھیجنے سے صاف انکار کردیا” ۔۔۔”انجی بس اپنی بھابھی کو دیکھ کر رہ گٸیں” ۔۔۔
“یہ وہ بھابھی تھیں جو کبھی اپنی قیمتی سے ویمتی شے دینے سے بھی گریز نہیں کرتی تھیں “۔۔۔
“ممتا بیگم نے جلدی سے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا انہوں نے بہت ضبط کا مظاہرہ کیا تھا ان دونوں نند بھابھی میں ہونے والی یہ پہلی تلخ گفتگو تھی جس میں پری موضوع بحث تھی”۔۔۔
“ممتا اور فواد کی شادی سے لے کر اب تک دونوں میں سہیلیوں کا سا رکھ رکھاٶ تھا”۔۔۔”انجی کے دل میں چھن سے کچھ ٹوٹا تھا “۔۔۔
“افی صاحب نے انجی کو حوصلہ دیا”۔۔۔” ان کے سر پر ہاتھ رکھا” شاید وہ کہنا چاہتے تھے کہ تم فکر نہ کرو انجی میں تمھاری خواہش ضرور پوریکروں گا لیکن شاید ممتا بیگم نے کہنے کو باقی کچھ چھوڑا ہی کہاں تھا”۔۔۔
“افی اپنی بہن کو ایک نظر دیکھ وہاں سے اٹھ کر چلے گۓ۔۔۔ کمرے میں آۓ تو ممتا بیگم زارو زار رونے میں مشغول تھیں” ۔۔۔”
وہ اپنی شریک حیات کے دکھ کو اچھی طرح سمجھ سکتے تھے”۔۔۔۔” پر مجبور تھے پہلی دفعہ بہن نے کچھ مانگا تھا”۔۔۔ وہ بھی اس بہن نے جو تین بھاٸیوں کی اکلوتی بہن تھی” اور فواد کی لاڈلی تھی”۔۔۔
“انہوں نے ممتا بیگم کو بہت سمجھایا مگر وہ ان کی کوٸی بات سمجھنے کو تیار نہ تھیں”۔۔۔۔
“میں کیسےبھیج دوں اپنی پری کو خود سے اتنی دور سات سمندر پار بتاٸیں مجھے”۔۔۔”وہ کبھی میرے بنا کہیں نہیں گٸی فواد میں نہیں بھیج سکتی پری کو”۔۔۔۔
“مجھے معاف کردیں فواد میں انجی کی یہ خواہش چاہ کر بھی پوری نہیں کرسکتی ہوں “۔۔۔۔وہ بولتے بولتے سسک اٹھیں”۔۔۔
“اس سے کہیں کہ وہ کچھ اور مانگ لے ۔۔روتے ہوے بے بسی سے ممتا بیگم کی ایک ہی گردان جاری تھی کہ پری کو نہیں بھیجوں گی”۔۔۔
“مگر ممتا آخر اس میں کیامسلہ ہے اگر وہ پری کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہے تو لے جانے دو”۔۔۔۔
” بس کچھ دن کی ہی تو بات ہے پھر میں خود جا کے پری کو لے آٶں گا “۔۔۔۔”نہیں میرا جواب اب بھی نہ ہی ہے”۔۔۔۔ “آپ جو مرضی کرلیں”۔۔۔۔
” ممتا کیا ہوگیا ہے آپ کو”۔۔۔۔”آپ اتنی پتھر دل کیسے ہوسکتی ہیں”۔۔۔۔ وہ بھی انجی کے معاملے میں”۔۔۔۔
“ہاں ٹھیک ہے ہوں میں پتھر دل”۔۔۔۔
“وہ رخ موڑ گٸیں”۔۔۔” ممتا آپ انجی کے احسان کو کیسے بھول سکتی ہیں”۔۔۔۔”آپ بھول گٸیں ہیں کہ کتنا بڑا احسان ہے ہم پر انجی کا”۔۔۔۔اس کی جگہ اگر کوٸی اور ہوتا نا ممتا تو آج آپ یہاں زندہ سلامت نہ ہوتیں”۔۔۔۔
” کیا آپ واقع ہی احسان فراموش ہیں” ۔۔۔”انہوں نے ممتا کو دونوں کندھوں سے تھام کر روخ اپنی طرف کیا”۔۔۔۔”نہیں فواد میں احسان فراموش نہیں ہوں “۔۔۔۔
“میں ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوں”۔۔۔۔”
ایک مجبور ماں ہو ں”۔۔۔۔” آپ اسے احسان فراموشی تو نہ کہیں”۔۔۔۔
“تو اور کیا کہوں ممتا” ۔۔۔۔۔
“ممتا آخر اس مجبوری کا علم مجھے بھی تو ہونا چاہیے”۔۔۔ “آپ اچھی طرح جانتے ہیں” ۔۔۔۔
“اگر انجی نے اس احسان کا بدلا مانگ لیا تو۔۔۔اگر اس نے پری کو واپس نہ بھیجا تو” ۔۔”آپ نے سنا نہیں کیا کہا تھا انجی نے کہ اس کو عادت ہو گٸی ہے پری کی” ۔۔۔
“آپ نے دیکھا وہ پری کے لیے صرف اس کے لیے آنسو بہا رہی تھی اتنی اٹیچ ہو گٸی ہے وہ ان تھوڑے سے دنوں میں پری کے ساتھ” ۔۔۔۔
” اگروہ پری کو اپنے ساتھ لے گٸ تو اس کی یہ عادتیں کہیں شدت نہ اختیا کر جاٸیں”۔۔۔۔
“مجھے ڈر ہے”۔۔۔۔” وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کے رودیں”۔۔
“مجھے ڈر ہے انجی کی پری سے بڑھتی قربت کا” ۔۔۔۔
“فواد نے آج اتنے سالوں بعد ممتا کے چہرے پہ خوف کے ساۓ لہراتے دیکھے “۔۔۔۔
“پر پھر بھی وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹے”۔۔۔۔۔ “اگر وہ ایک اچھے شوہر تھے تو ایک اچھے بھاٸی بھی تھے”۔۔۔۔۔
“انہوں نے ممتا کو خوب سمجھایا انہیں کٸی تسلیاں دیں “
“اس سب کا اثر یہ ہوا کہ ممتا پری کو انجی کے ساتھ بھیجنے پر آمادہ تو ہوگٸیں لیکن انہوں نے فواد سے وعدہ لیا کہ وہ سب پاکستان جاٸیں گے اور ساتھ پری کو بھی واپس لے آٸیں گے “۔۔۔۔
“انجی کو جب پتا چلا تو انکے چہرے کی رونق قابل دید تھی “۔۔۔۔۔پری انہیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی”۔۔سب بچوں میں سب زیادہ پیار سمیٹنے والی۔۔یوں انجی پری کو اپنے ساتھ پاکستان لے آٸیں ۔۔۔ وہاں سب کزنز کے چہرے خوشی پری کو دیکھ کر کھل اٹھے تھے”۔۔۔۔ “*****************************”
سب تو آگئے یہ پری کہاں رہ گئیں کھانا نہیں کھانا ہے کیا انہوں نے”۔۔۔۔ ۔
“انجی نے فکرمندی سے پوچھا”۔۔۔۔ نہیں پھپھو وہ آلریڈی کھا چکی ہے”۔۔۔ عالی نے کہا”۔۔۔” اچھا”۔۔بھلا کب”۔۔۔ارے پھپھو وہ میں نے جب بارش ہورہی تھی تو اس ہی کی فرماٸیش پر پکوڑے بناۓ تھے عالی نے پلیٹ میں چمچ چلاتے ہوۓ جواب دیا”۔۔۔
“تو شاید اسی سے پیٹ بھر گیا ہو گا”۔۔۔اتنے سے پکوڑوں میں بھی بھلا کبھی پیٹ بھرا ہے یہ پری بھی نہ ہم بلا کے لاتے ہیں اسے “انجی آپ بیٹھیں میں بلا لاتی ہوں “۔۔۔
عالی کہتے ہوے اوپر پری کو بلانے چلی گٸی”۔۔۔
” لو آگٸی پری اب مما کا پری نامہ شروع ہو جاۓ گا “۔۔۔ “عاشی نے بیزاری سے سوچا”۔۔۔اور کھانے میں مصروف ہو گٸی”۔۔۔۔
“کھانے کے دوران ہلکی پھلکی باتیں ہوئیں “۔۔۔ماہیر اور سارہ تو ملک ہاٶس چلے گۓ”۔۔۔۔رافع اور عالی شاہ ہاٶس میں ہی روکے تھے”
” سب اپنے اپنے کمرے میں سونے چلے گئے”۔۔۔
“ہر سچرڈے نائیٹ ایسا ہی ہوتا تھا” ۔۔۔۔”تمام کزنز شاہ ہاؤس انجی کے گھر جمع ہوتے یا پھر ملک ہاؤس میسم کے گھر ڈیرا ڈال لیتے ،اور رات گئے تگ یہ ینگ پارٹی مل کر خوب ہلاگلا کرتی” ۔۔۔۔
****************************
“صبح ہوتے ہی ناشتے کی ٹیبل پہ انجی نے سب کو مخاطب کیا” ۔۔۔۔ “میسم بھائی کا فون آیا تھا” ۔۔۔”تو کیا کہا انہوں نے”۔۔۔
سب نے یک زبان ہو کر کہا”۔۔۔۔”کیوں کہ ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ انجی میسم بھاٸی کے فون کی اطلاع اس طرح سب کو دیں”۔۔۔
“سب ہی نے حیران و پریشان کن تاثرات سے انجی کو دیکھا “۔۔۔۔ارے۔۔ ارےےے ۔۔ “آپ لوگ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ہمیں “۔۔۔۔” کیا کہ رہے تھے ماموں” ۔۔۔”عاشی نے پوچھا”۔۔۔۔ “انہوں نے سب کو ملک ہاؤس بلایا ہے سارہ کی شادیکے بارے میں کچھ ڈسکس کرنا چاہ رہے ہیں بہترہےکہ سب وہاں موجود ہوں “۔۔۔۔”
“انہوں نے یہ بھی کہا کہ سارہ کی شادی تک ھم سب وہیں رہیں گے”۔۔۔
“واٶوووو۔۔۔پھر تو بہت ہی مزہ آنے والا ہے “۔۔۔۔عالی نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوۓ کہا”۔۔۔۔
“ہاں بھٸی سارہ کی شادی مطلب فل انٹرٹینمنٹ”۔۔۔۔ رافع نے بھی ہنستے ہوۓ اپنی بہن کی تاٸید کی”۔۔۔کافی لمبےعرصے بعد ملک ولا میں کوٸی فنکشن آرہا “۔۔۔”زین نے جوس کے سپ لیتے ہوۓ کہا”۔۔۔۔ فنکشن نہیں اوکیشن “۔۔۔عالی نے تصحیح کی”۔۔زین نے اسے گھورا “‘۔۔۔”مطلب صاف تھا تم تو چپ ہی رہو”۔۔۔
” پری تم کیوں چپ ہو ” تم بھی کچھ بولو “۔۔۔”زین نے پری کےنہ بولنے یا شاید کم بولنے پہ چوٹ کی”۔۔۔۔ “میرا ایک ہی منہ ہے “۔۔۔۔”جس سے میں یا تو کھالوں یا بول لوں “۔۔۔
“اب میں ایک منہ سے ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتی ہوں ” ۔۔۔۔۔”پری نے معصومیت سے جواب دیا” ۔۔۔۔”نظریں ہنوز نیچے پلیٹ پر ہی تھیں” ۔۔۔۔
“پری کے اس جواب پر عالی اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔جبکہ زین کے لٹکے چہرے کو دیکھ کر باقی سب نے مشترکہ قہقہہ لگایا “۔۔۔۔۔”اچھا”۔۔۔ ،” چلیں”—” بہت ہو گیا ہنسنا ہنسانا اب سب ملک ہاؤس چلنے کی تیاری کریں” ۔۔۔ ورنہ میسم بھاٸی کا دوبارہ فون آجاۓ گا”۔۔۔
“تھوڑی ہی دیر میں یہ قافلہ ملک ہاؤس میں موجود تھا “۔۔ ساتھ ہی ابرار صاحب اور ان کی بیگم نادیہ بھی آ گئیں “۔،، “رسمی علیک سلیک کے بعد میسم صاحب نے سارہ کی شادی کےحوالے سے سب کو بتایا “۔۔۔فواد صاحب کو وہ پہلے ہیشادی کی سب تفصیل کے بارے میں بتا چکے تھے”۔۔۔ اب بس ان کے آنے کا انتظار تھا “۔۔۔
***********************
“ایک سفید چمچماتی ہنڈا سویک ملک ہاؤس کے پورچ میں آ کر رکی”۔۔
” لیجیے پاپا آ گایا ملک ہاؤس”۔۔۔۔۔
“نین نے کہتے ساتھ گاڑی کو بریک لگایا”۔۔۔۔” افی صاحب اپنی بیگم کے ہمرہ گاڑی سے نکلے “۔۔۔”ایک نظر ملک ولا پرڈالی”۔۔۔۔”آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر آٸیں اور ہونٹوں پہ مدھم سی مسکراہٹ نے گھیرا ڈالا “۔۔۔۔کتنے سالوں بعد وہ پاکستان اپنے آباٸی وطن آۓ تھے”
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *