Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode24
Pari By Shanzey Rajpoot Episode24
سارہ اس میں جو مہرون والا ڈریس ہے وہ کل پری کو پہنے کے لیے دینا اور ہاں میں نے بیوٹیشن سے اپوٸینٹمینٹ لے لی ہی وہ کل آکر پری کو تیار کر جاۓ گی۔ تم اس کے پاس ہی رہنا۔ اور ہاں ہوسکے تو اسے صبح مہندی بھی لگوادینا اگر اسے ایلرجی نہ ہو تو۔ ۔سب ہونقوں کی طرح ہمان کو سن رہے تھے ۔ وہ اٹھ کر جانے لگا پھر جاتے جاتے پنجوں کے بل مڑا چہرے پہ شرارتی مسکان لیے وہ سارہ کی طرف بڑھا۔ جو بالکل سن کھڑی تھی۔ “
”ایکچولی وہ کیا ہے نہ کہ کل پری سے میرا نکاح ہے تو براٸیڈ اچھی لگنی چاہیے۔“
” وہ بولتے ساتھ ہی سیٹی کی دھن بجاتا یہ جا وہ جا ہوا۔ پیچھے سب کو حیرت میں چھوڑ گیا ۔اتنی جلدی نکاح وہ بھی مجھے بنا بتاۓ میرے دونوں بھاٸی کھسک گۓ ہیں یا اللہ انہیں ہدایت دے سارہ نے جھولی اٹھا کر دعا مانگی اور میانکی انداز میں شاپنگ بیگز ہمان کے کمرے میں سیٹ کیے ۔
“عالی اور عاشی کا بھی یہیں حال تھا نین کو تو ممتا بیگم پہلے ہی سب بتا چکی تھی بس شاپنگ والی بات اسے نہیں پتا تھی۔ وہ بہت خوش تھا۔ اپنی بہن کے لیے کوٸی اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے تیار ہے اس سے محبت کرتا ہے سب کچھ جانتے بوجھتے جس قدر ہمان نے پری کا ساتھ پانے خواہش کی تھی نین اگر چراغ لے کر بھی ایسا انسا ن ڈھونڈتا تو نہ ملتا۔
اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہوگۓ عالی اور عاشی کی نظر نین پہ گٸی۔ کیا ہوا نین ۔کچھ نہیں پری کا سوچ کر آنکھ بھر آٸی ۔ تم پاگل ہو نین ۔تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ پری کو ایسا لاٸیف پارٹنر مل رہا ہے۔ جو اسے لمحے بھر کے لیے اکیلا نہیں چھوڑتا۔
دیکھا تم نے کیسے وہ پری خود اپنی نگرانی میں شاپنگ کرواکر لایا ہے وہ بھی بے بہا۔ہمیں تو اس نے آج تک آفر نہیں کی۔پری بہت لکی ہے۔ وہ ہنستے ہوۓ وہاں سے چلی گٸ ۔نین اور زین بھی اٹھ کر کمرے میں چلے گۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اففف کتنے کام رہتے ہیں۔ ایک تو ماہیر اور زویا کی مہندی اوپر سے پری اور ہمان کا نکاح بھی ہے ۔۔ہم تو تھک گۓ ہیں کام کرتے کرتے ۔تو تمہیں کس نے کہا ہے صبح سے لگی رہو میں کہہ رہی تھی نہ کہ رہنے دو۔ تھک جاٶ گی جان دیکھو اور اپنے کام دیکھو۔ ارے نہیں ہادیہ بھابھی۔ بسسس اب تو ہوگیا ۔زویا کو بھی ہم نے بلوالیا تھا نین کے ہاتھوں۔ ابھی بیوٹیشن کو لگا کر آٸیں ہیں ہم زویا کو تیار کرنے کے لیے۔ اور یہ لڑکیاں پتا نہیں تیار ہوٸیں کہ نہیں۔ارے ان کی تم فکر مت کرو ہو گٸیں تیار عالی اور سارہ پری کے روم میں ہیں اسے تیار کروارہی ہیں۔ ممتا بھی تیار ہورہی ہے تم بھی تیار ہوجاٶ اور میں زرا ایک نظر ماہیر اور ہمان کو دیکھ آٶں۔
اچھا ٹھیک ہے۔ انجی اتنی تھکان کے بعد بھی مسکرادیں ہم بہت خوش ہیں آج ہمارا خواب پورا ہوا پری ہم نے ہمیشہ سے آپ کو ہمان کے ساتھ دیکھنے کی آرزو کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری تیار ہو چکی تھی۔ پچھلے دو گھنٹے سے بیوٹیشن بیچاری کھپ رہی تھی کبھی سارہ کو لپ شیڈ پسند نہیں آتا تو کبھی عالی کو آٸی میک اپ ۔۔۔ایک پری تھی جو بےچاری خاموش بیٹھی تھی۔ سارہ نے اسے خبردار کر رکھا تھا۔کہ وہ ایک انچ بھی نہ ہلے۔ ورنہ سارہ میک اپ خراب ہوجانا ہے۔ آخر کار جیسے تیسے کر کرا کے پری کا میک اپ پورا ہوا۔ تو اس نے بھی شکر کی سانس لی۔ سارہ نے خوبصورتی سے اس کے سر پر کام دار دوپٹہ اوڑھایا۔ اسے نوزپن پہناٸی ۔
“اب پرفیکٹ ہے۔”
عالی اور سارہ نے ہم آواز ہو کر کہا۔
پری کی نظریں جھکی ہوٸی تھیں ۔وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔سارہ نے پری کے کان کے پاس ہوکر کہا۔
“پری خود کو آٸینے میں دیکھو ۔کتنی پیاری لگ رہی ہو۔ میرا بھاٸی تو گیا کام سے۔ تم تو کوٸی اپسرہ ہو”
۔کہیں میری ہی نظر نہ لگ جاۓ تمہیں۔ وہ بول چکی تو پری نے لرزتی پلکیں اٹھاٸیں تو اپنا آپ دیکھ کر وہ متحیر رہ گٸی ۔ وہ واقع بہت پیاری لگ رہی تھی۔ سرخ وسفید رنگت ,سموکی آٸیز, ڈیپ ریڈ لپ شیڈ ,آڑی مانگ کے پف پہ سجی ماتھا ,پٹی ہرنی جیسی آنکھیں وہ اپنا آپ پہچان نہ سکی۔ خود کو آٸینے میں دیکھ کر وہ مزید خود میں سمٹ گٸی۔ نظریں پھر سے جھک گٸیں۔ ہونٹوں کو شرمیلی سی مسکان چھو گٸی۔ اس نے شرما کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپالیا۔
عالی اور سارہ اسے دیکھ کر مسکرادیں۔
اور دونوں نے اسے پیچھے سے ہگ کرلیا۔ انجی اور ممتا کمرے میں آٸیں تو دونوں کی زبان سے ایک ساتھ بے اختیار ۔ماشاللہ نکلا۔ کتنی پیاری لگ رہیں پری ۔کہیں آپ کو نظر نہ لگ جاۓ۔ انہوں پیار سے اس کا ماتھا چوما ممتا نے اسے اپنے سینے میں چھپا لیا۔ پھر دھیرے سے الگ کیا ۔چلو انجی زویا کو دیکھتے ہیں ۔
ہاں بھابھی چلیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماشاللہ ماشاللہ اللہ تم دونوں بچوں کو نظر بد سے بچاۓ۔ بہت پیارے لگ رہے ہیں میرے دونوں بچے ۔ہادیہ بیگم ہمان اور ماہیر کی بلاٸیں لیتی بولیں۔
ماہیر بہت ڈیسینٹ لگ رہا تھا کاٸی کلر کے کرتے پر سفید شلوار اور گلے میں چنری کا پٹکا ڈالے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔ اگر ہماری پری کوٸی اپسرہ لگ رہی تھی تو ہمان کون سا کم تھا سفید چیکن کی کڑھاٸی والے کرتے پاجامہ پہنےگلے میں پچرنگی پٹکا ڈالے۔ ہاتھ میں برانڈ گھڑی پہنے بالوں کو جیل کی مد د سے سلیقے سے سیٹ کیے وہ بہت ہی دلکش اور دل دھڑکادینے کی حد تک خوب رو اور وجیہ لگ رہا تھا۔ اگر لڑکیاں اسے دیکھ لیتیں تو عش عش کر اٹھتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں تیار ہوکر نیچے چلے گۓ۔ کوریڈور میں آکر اس کی نظر پری کے کمرے پہ پڑی تو قدم خود بہ خود اس طرف اٹھے ۔ پھر وہ خود ہی رک گیا۔ اور دو قدم پیچھے ہو کر نفی میں گردن ہلاٸی۔ پاگل ہوگیا ہے ہمان۔تو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نیچے آیا تو سب باتوں میں مصروف تھے۔ میسم نے دونوں بیٹوں کو دیکھ کر نظر اتاری ۔انجی سلور ساڑھی پہنے بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔ وہ زین کے پاس آٸیں نین زین ہماری بات کھان کھول کر سن لیں آپ دونوں ۔ جب پری نیچے آٸیں گی تو اس کے سرپر لال چنر کا سایا کریں گے ایک طر ف سے آپ پکڑیں گے دوسری طرف سے زین۔ اور پیچھے عاشی اورافع پکڑ لیں گے۔ سمجھ گۓ نہ ہماری بات انہوں نے تاٸید چاہی ۔جی جی افکورس انجی ہم سمجھ گۓ جاٸیں ہھر لے آٸیں پری کو نکاح ہوجاۓ ہھر ماہیر اور زویا کی رسمیں بھی کرنی ہے مہمان انتظار کر رہے ہیں ۔
وہ دونوں اوپر پری کے کمرے میں چلے گۓ ۔ آگۓ تم لوگ ۔ عالی وہ چنر نکالنا زرا جو میں نے تمہیں پکڑاٸی تھی ۔ نین نے پری کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔ ارے یااااار بڈی یہ تم ہو ۔
I cant believ this pari
you lOoking gorjous such as a princes.
نین نے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا اسے کھڑا کر کے اپنے ساتھ لگا۔ آج لگ رہا ہے واقع بڑی ہوگٸی ہے پری ۔ مجھے تو پتا ہی نہیں لگا کب میری پری بڑی ہوگٸی۔ لگتا ہے جیسے کل کی ہی بات ہے بھاٸی کی انگلی پکڑ کر چلا کرتی تھی۔ میرے کاپیز بکس پر پینسل سے آڑی ترچھی لکیریں لگانے والی اس نے نم آنکھوں سے پری کی ناک دباٸی ۔ چلو زین نیچے چلیں ورنہ انجی نے اوپر ہی آجانا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاٶنج میں گھر کے سب لوگ جمع تھے ممتا بیگم تو آج بے حد خوش تھیں۔ ماہیر اور ہمان آپس میں کچھ ڈسکس کر رہے تھے جب ہمان کی نظر سامنے سے آتی پری پہ ٹہر گٸی ۔ عالیہ اور سارہ نے اسے پکڑکر سہارہ دے رکھا تھا۔ زین نین عاشی اور رافع نے اس کے سر کے اوپر لال چنر کا سایہ کر رکھا تھا۔ جس کے ساۓ تلے وہ سہج سہج کے قدم اٹھاتی نیچے آرہی تھی ۔
پری کا چہرا نیٹ کے دوپٹے کے گھونگٹ میں تھا۔ ہمان ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلی بار اتنا سجی تھی ۔نظر لگ جانے کی حد تک وہ بے حد خوبصورت آسمان سے اتری کوٸی اپسرہ معلوم ہوتی تھی۔ سارہ نے اسے ہمان کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھا دیا۔ پھر جلدی سے عالی اور سارہ نے دونوں کے درمیان نیٹ کا بڑا سا دوپٹہ حاٸل کر دیا تا کہ دونوں کے درمیان پردہ رہ سکے۔ ہمان نے گھور کر سارہ کو دیکھا تو وہ شرارت سے منہ چڑا گٸی۔ حماد سارہ کی حرکتیں ملاحظہ فرمارہا تھا۔ اور ساتھ ہی اس کی ہنسی بھی چھوٹ رہی تھی۔ پورہ پیس تھی وہ ۔
”عالی زرا دھیان سے مضبوطی سے پکڑنا کہیں چھوٹ نہ جاۓ ۔“۔۔۔”وہ کیا ہے نہ کہ لوگوں کی نظریں بڑی خراب ہیں بھٸی۔“ اس نے ترچھی نظر سے ہمان کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ کوٸی اور وقت ہوتا تو وہ خوب جواب دیتا سارہ کو بے چارہ۔ پری کے ایک طرف نین بیٹھا تھا ۔ دوسری طرف مولوی صاحب بقول ہماری پری کے( ٹوپی والے انکل۔ ) ہمان کے برابر میں ماہیر اور میسم بیٹھے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا تو سب نے سروں پہ دوپٹہ برابر کیا ۔
پہلے پری سے پوچھا گیا۔
”پریشے بنتِ فواد آپ کا نکاح ہمان ملک ولد میسم ملک سے حق مہر 50 لاکھ سکہ راٸج الوقت طے ہونا قرار پایا ہے“
”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔“
قبول ہے ۔پری کی ہلکی سی آواز نکلی۔
مولوی صاحب نے دوسری بار پوچھا۔
”پریشے بنتِ فواد آپ کا نکاح ہمان ملک ولد میسم ملک سے حق مہر 50 لاکھ سکہ راٸج الوقت طے ہونا قرار پایا ہے “
”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔“
قبول ہے اب کے بار اس کی آوز بامشکل نکلی تھی۔
تیسری بار پوچھا گیا تو اس کی آواز رندھ گٸی ۔
”پریشے بنتِ فواد آپ کا نکاح ہمان ملک ولد میسم ملک سے حق مہر 50 لاکھ سکہ راٸج الوقت طے ہونا قرار پایا ہے “
”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔“
قبول ہے
پھر ہمان سے پوچھا گیا۔
”ہمان ملک ولد میسم ملک آپ کا نکاح پریشے بنتِ فواد سے طے ہونا قرار پایا ہے“
”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔قبول ہے۔“
مولوی صاحب نے نکاح کے پیپرز پہ ہمان کے سگنیچر لیے پھر پری کی باری آٸی ۔
نین اس کے پاس بیٹھا اسے بتاتا جارہا تھا کہ کہاں ساٸن کرنا ہے ۔ پری ایک دم اداس ہوگٸی ۔ ہر چیز سے اس کا دل اچاٹ ہوگیا تھا۔ رنج و غم کی کیفیت دل میں سرایت کر گٸی۔ دل بوجھل ہونے لگاتھا ۔آنکھیں پل بھر میں نم ہوگٸیں تھیں ۔آخری سگنیچر کرتے وقت اس کی آنکھوں میں ٹہرے آنسو گالوں پہ لڑھک گۓ۔وہ بے دم سی ہوگٸی۔ بے جان سی جیسے اس میں جان ہی باقی نہ رہی ہو ۔ نکاح ہوچکا تھا ۔ ہر طرف مبارک باد کی سداٸیں گونج رہی تھیں ۔
ہمان بے حد خوش تھا۔سارہ سب کو نکاح کے چھوارے بانٹ رہی تھی عاشی نے ایک چھوارہ عالی کو دیا ۔ عالی نے اسی اسہفامیہ نظروں سے دیکھا ۔ کھالو ۔کھانے کے لیے دیا ہے۔ عالی نے کھالیا۔ سنا ہے نکاح کے چھوارے کھانے سے شادی جلدی ہوجاتی ہے۔ عالی کا چھوارہ حلق میں ہی اٹک گیا۔ گھر میں اگر مہمان نہ ہوتے تو اچھے سے اس کی خبر لیتی ابھی تو بس گھورا گھاری سے ہی کام چلانا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پاس بیٹھے نین کے کندھے سے سر ٹکا دیا۔ نین اپنے کنھے سے لگی پری کو دیکھا تو اس کے گرد بازو پھیلا کر اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ بھاٸی کا لمس پاتے ہی اسکے آنسوںٶں میں روانی اور رونے میں شدت آگٸی۔ وہ ایک دم سسک اٹھی تھی۔ ایک دم سب کا دھیان روتی ہوٸی پری پہ گیا۔ ہمان کا دل کیا وہ پری کا ہر ہر موتی چن لے ۔پر وہ ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ اسے نین کے پیار پہ کوٸی شک نہیں تھا۔ بلا شبہ نین بھی اس سے اتنا ہی پیار کرتا تھا جتنا ہمان ۔ اس لیے ہمان بھی پر سکون تھا۔نین اسے اپنے ساتھ لگاۓ بیٹھا تھا۔ نین نے اسے چپ نہیں کروایا وہ جانتا تھا وہ کیوں رو رہی ہے۔ اپنوں سے دور ہونے کا دکھ تھا اسے وہ ان سے دور جانے کے غم میں ہی نڈھال ہورہی تھی ۔ بے شک ابھی صرف نکاح ہوا تھا پر وہ کسی اور کے نام لکھ دی گٸی تھی۔اس کے تمام تر حقوق اب کسی اور کے پاس تھے۔
جب وہ کافی دیر تک چپ نہ ہوٸی تو فواد اس کے پاس آۓ اور اسے اپنے سینے سے لگالیا۔ وہ ایک بار پھر زور زور سے رودی۔ وہ نین سے زیادہ اٹیچڈ تھی یہی وجہ تھی کہ وہ افی سے کم ہی بولا کرتی تھی ۔ ممتا اسے چپ کروانے کے لیے آگے بڑھی تھیں کہ انجی نے انہیں روک لیا۔ بھابھی اگر آپ برا نہ مانیں توآپ کہ جگہ ہم پری کے پاس چلے جاٸیں۔ ممتا نے انجی کی آنکھوں میں بہت سی امیدیں دیکھی تھیں۔ وہ منع نہ کرسکی۔ انجی نے پری کو کسی نایاب موتی کی طرح اپنی بانہوں کی سیپ میں چھپالیا۔
وہ ایک دم چپ ہوگٸی ۔بالکل چپ ۔ پرسکون۔ ممتا نے سب کو باہر لان میں بھیجا جہاں مہندی کی رسم کے انتظامات کیے گۓ تھے۔
سب لوگ باہر جا چکے تھے سواۓ انجی اور ہمان کے۔ انجی آپ جاٸیں میں ہوں پری کے پاس۔ ٹھیک ہے آپ ان کے پاس بیٹھیں ہم زویا کو دیکھ لیں۔ وہ پری کو خود سے دور کرتی اٹھنے لگیں تو پری نے زرو سے ان ہاتھ پکڑ لیا جیسے کھو دینے کا ڈر ہو ۔انجی نے اسے سمجھایا اور اٹھ کر وہاں سے چلی گٸیں ۔اب وہاں صرف پری اور ہمان تھے۔ پری اب بھی گھوگٹ کی اوٹ میں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان اس کے پاس بیٹھ گیا ۔ہاتھ بڑھاکر اس کا گھونگٹ اٹھایا۔
”واللہ قیامت تھی۔ خوبصورت حسین دلکش ہمان کو لگا دنیا کا حسین ترین منظر ہے یہ جو اس کے سامنے ہے ۔ قاتل حسینہ ہتھیاروں سے لیس ۔ ہمان کی جان پہ بن آٸی۔ اسے لگا جیسے جنت کی کوٸی حور راستہ بھٹک گٸی ہو۔ کوہِ کاف سے کوٸی سچ مچ کی پری اتر آٸی ہو۔ خوشبو کا جہاں لیے یہ لڑکی سولہ سنگھار کیے ہمان کا صبر آزما رہی تھی۔ وہ اس کا حسن دیکھ کر مسمراٸز ہوگیا۔
”کیا ٹوٹ کے روپ چڑھا تھا اس پر۔“
وہ تو ارد گرد بھلاۓ بس ایک ٹک اسے دیکھے گیا۔ پری تو پہلے ہی بوکھلاٸی ہوٸی تھی۔ ہمان کی نظروں نے اسے مزید کنفیوزڈ کردیا۔وہ دیکھ ہی ایسے رہا تھا جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو۔ حیا کے مارے اس کی گرتی اٹھتی پلکیں۔نو عمری کا حسن ہمان کو مدہوش کر رہا تھا ہمان نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا وہ اس کے سحر میں جکڑا گیا تھا۔ یہ لڑکی ساحرہ تھی۔ اس نے خوب بس میں کیا تھا ہمان کو ۔۔ اسے ڈر تھا کہ وہ کوٸی خطا نہ کر بیٹھے۔ پر وہ دل کا کیا کرتا جو اس کی طرف حمق رہا تھا۔اب تو وہ پورا پورا حق رکھتا تھا اسے چھونے ۔وہ اسے اپنے نام لکھوا چکا تھا۔ایک پاکیزہ رشتہ جو اس کی روح تک میں گھل چکا تھا۔ وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ وہ پری کی طرف جھکا اس سے پہلے کے وہ کوٸی گستاخی کرتا ۔
سارہ نے عین موقع پہ دھاوا بول دیا۔ وہ اتنی عجلت میں آٸی تھی ۔جیسے کوٸی طوفان آیا ہو۔ چلو پری باہر ماہیر بھاٸی کی رسم ہورہی ہے۔ وہ اس کے ہاتھ پکڑ کے اسے وہاں سے لے گٸی۔ ہمان بس ایک ٹھنڈی آہ بھر کے رہ گیا۔ ہمان بھی باہر آگیا باہر کافی ہلا گلا شور شرابا ہورہا تھا۔ ایک طرف میوزک بج رہا تھا دوسری طرف یہ کزنز شور کر رہے تھے ۔ پری اور ہمان بھی رسم کر چکے تھے۔ پری کو سارہ اپنے ساتھ لیے کھڑی تھی ۔ ہمان حماد لوگوں کے پاس چلا گیا۔ بھٸی مبارکاں جی مبارکاں۔ کہنے والا حماد تھا۔ ہمان مسکرا کے رہ گیا۔ وہ سب اس کی ٹانگ کھینچنے میں لگے تھے ۔
ارے او لڑکوں کوٸی رنگ ونگ ہی لگادو محفل کو ۔ سارہ نے بے چارگی سے کہا تو زین میدان میں کود پڑا۔ ہم تو کب سے تیار بیٹھے ہیں۔ تھوڑا تعاون تم کوجی لڑکیوں کی طرف سے بھی تو ہونا چاہیے۔
اس نے عالی کو چڑانے کے لیے بولا تھا۔ اور یہ ہی ہوا وہ شدید چڑ گٸی۔ اس کا تیر نشانے پہ لگا تھا۔ تم ہونگے کوجے ۔وہ ناک چڑھا کر بولی۔
ارے بس اب تم دونوں لڑنا نہ شروع کردینا ۔ سارہ نے صلح جوٸی سے کام لیا۔ اور ڈیجے والے کو اشارہ کر کے سونگ پلے کروایا۔
”مہندی نی مہندی ,مہندی نی مہندی“
”مہندی نی مہندی, مہندی نی مہندی“
شرمانا ایسے بنوری ,گھر جانا ہے تجھے اپنے ساجن کے
چلیں گے ہم بھی سنگ تیرے گھر دہیج میں تیرے سنگ ساجن کے۔
”تجھ کو ہی دلہن بناٶں گا ,ورنہ کنوارہ مر جاٶں گا۔
تجھ کو ہی دلہن بناٶں گا, ورنہ کنوارہ مر جاٶں گا۔“
جاتے جوگن بن جاٶں گی, سنگ تیرے نہ میں آٶں گی۔
سب سے میں یہ کہہ جاٶں گی,
تجھ کو نہ تجھ کو نہ دلہا بناٶں گی۔چاہے کنواتی مر جاٶں گی۔
زین اپنے چھچھورے انداز میں عالی کو اس گانے کے ذریعے اپنے دل کے ارمان بتارہا تھا۔
اور وہ بھی اسے گانے کے بول کے مطابق جوتے کی نوک پہ رکھے ہوۓ تھی۔
”تیرے لیے لاٶں کا بندیا چاند ستاروں کی ۔“
”پہناٶں گا چنر میں تجھ کو نٸی بہاروں کی ۔“
”جارے کنوارے مجھ پہ ڈورے ڈال نہ تو ایسے ۔“
”میرے آگے پیچھے تو پھرتے ہیں تیرے جیسے۔“
”نخرے نہ کر دیوانی, اب مان بھی بھیجاٶ رانی۔“
”نا بنے کی تیری کہانی ,چل چھوڑ دے یہ یہ من مانی۔“
”نہ سیج نہ سیج تیری سجاٶں گی, چاے کنواری مر جاٶں گی۔“
”تجھ کو ہی دلہن بناٶں گا ورنہ کنوارہ مر جاٶں گا۔
تجھ کو ہی دلہن بناٶں گا ورنہ کنوارہ مر جاٶں گا۔“
”جاتے جوگن بن جاٶں گی, سنگ تیرے نہ میں آٶں گی۔“
”سب سے میں یہ کہہ جاٶں گی“
” تجھ کو نہ تجھ کو نہ دلہا بناٶں گی,چاہے کنواری مر جاٶں گی۔“
ڈانس ختم ہوا تو سب نے خوب تالیاں بجاٸیں ۔
اب باری نین کی تھی۔
اس نے انگلی سے ماہیر کی طرف اشارہ کیا
This is specially for you my bro.
”ڈی جے نو بلوادو ساڈے ویرے دی ویڈنگ اے
بوتلیں کھلوادو ساڈے ویرے دی ویڈنگ اے۔
او ٹیوٹر پہ ہے ٹرینڈگگگگگگگگ۔
او ٹیوٹر پہ ہے ٹرینڈنگ ساڈے ویرے دی ویڈنگ اے
ویرہ پوچھیا مینو کہ آزادی کا کیا ہوگا
میں کیا ڈیڈی کا جو حال تیرے وہ تیرا حال بھی ہوگا۔
بھاٸی تیری جوڑی نو نظر نہ لگے ۔
رب کرے تینوں بھابھی سے کبھی ڈر نہ لگے۔
گڈ لک تو کروادو کروادو ۔
اوۓ گڈ لک تو کروودو ساڈے ویرے دی ویڈنگ ہے ۔
بوتلیں کھلوادو ساڈے ویرے دی ویڈنگ اے۔
ڈی جے نو بلوادو ساڈے ویرے دی ویڈنگ اے
بوتلیں کھلوادو ساڈے ویرے دی ویڈنگ اے۔“
نین نے اپنے سپیشیل پنجابی اسٹاٸل پہ پرفورم کیا۔
نین کی باری پہ تو سب نے ہوٹنگ کی تھی موقع کی مناسبت سے اسنے اچھا سنگ چوز کیا تھا ۔ماہیر سٹیج پہ بیٹھا صرف مسکرانے پہ اکتفا کر رہا تھا۔
بھٸی تم کیوں پیچھے ہو تم بھی میدان میں کود پڑو حماد نے ہمان کے کندھا تھپتھپا کے شرارتاَ بولا تو وہ گھور کر نفی میں سر ہلاگیا۔ یار تھوڑا بہت تو۔۔۔!!!
آفٹرآل آج تمہارہ بھی تو نکاح تھا۔ اسی خوشی میں دو چار ٹھمکے مارلو ۔یار تم اگر فوجی ہو تو میں بھی تو فوجی ہوں مانتا ہوں ہمارا ادارہ ڈانس کی اجازت نہیں دیتا۔
یقین مانو میں میں بالکل بھی انہیں یہ نہیں بتاٶں بتاٶںگا کہ ہمان اپنے نکاح پہ تابڑ بڑتوڑ ناچا تھا۔ہمان نے اسے زبردست گھوری سے نوازہ اسے اس کی عقل پہ شاٸبہ ہوا۔ ”تمہارا قصور نہیں ہے بیٹا سارہ کی سنگت کا اثر ہے۔“
چول کہیں کا۔ ہمان اس کا ہاتھ جھٹک کہ آگے کو چل دیا ادھر حماد ہمان کو منارہا تھا تو ادھر سارہ ماہیر ۔کو بھاٸی پلیز تھوڑا سا نا ارے نہیں بھٸی اچھا لگوں گا کیا میں یہ سب کرتے نہیں تم لوگ کرو میں بس انجواۓ کر رہاہوں ۔
This is not fair bhai.
سارہ کا موڈ خراب ہوگیا ناچار ماہیر کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے یار کیوں نخرو دیکھارہا ہے ایک پرفومنس ہوجاۓ۔ ماہیر اسٹیج سے اتر کر رہمان کے پاس آیا۔ دیکھ ماہیر یار پرفورم وہ بھی میں۔۔۔!!! مجھ سے تو نہیں ہوگا۔ کم آن ہمان ہمان لیٹس پرفورم وہ دیکھو پری پریکتنی خوش ہے تمہیں ڈانس کرتا دیکھے گی۔ تو مزید ہیپی ہو جاۓ گی۔ ٹھیک ہے تو پھر لگاٶ گانا بجاٶ میوزک ۔
ہم بھی تو دیکھاٸیں ہم کسی سے کم نہیں ۔دونوں نے ہم آواز ہو کر کہا۔
ڈی ڈیجے والےنے سونگ پلے کردیا۔
”ساقی رے, عشق میں ڈوبا,ڈوبا,ڈوبا ڈوبا جاۓ ۔“
”تالی مار دو ہتھی ویرا تالی وجے گی۔
ماتھے بندی پیراں میندی لالی سجے گی۔
نو نو نکھرے ناک پہ موتی کیل لگاوے ہیں۔
ہن آپے شیشہ ویکھے بولے سوہنڑیں لگے گی۔
ہن آپے ہن آپے ہن آپے شیشہ وہیکھے ہے۔
ہن آپے , ہن آپے ,ہن آپے , آپے آپے ۔
ہن آپے شیشہ ویکھے بولے سوہنڑیں لگے گی۔
”تالی مار دو ہتھی ویرا تالی وجے گی۔“
”گھونگٹ پیچھے گورا مکھڑا
پانی میں جیسے دیپ جلے ہے۔“
پہلے ایک بار ہمان نے اسٹیپ کیا وہ مسلسل پری کواپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوۓ تھا۔ جیسے وہ اس کے گانے کے ذریعے پری سے اپنے دل کے راز بانٹ رہا ہو۔
گھونگٹ پیچھے گورا مکھڑا
پانی میں جیسے دیپ جلے ہے۔
پھر ماہیر نے۔ زویا تو ماہیر کو دیکھ کر چکرانے کو تھی اب تک اس سنے ایک ریزرو نیچر والے ماہیر کو دیکھا تھا۔ لیکن اب اس کا ہر روپ اس کے دل میں اتر رہا تھا شاید اسے پیار ہونے لگا تھا۔
”چاروں چہار وہی وہی دیکھوں
آنکھوں میں کیسا سپنا چلے۔“
”میرے دن بھی اکیلے
میری راتیں بھی اکیلی
میری راتیں بھی اکیلی ۔“
تنہاٸی ڈسے گی۔
”ہن آپے ہن آپے ہن آپے شیشہ وہکھے ہے۔
ہن آپے , ہن آپے ,ہن آپے , آپے آپے ۔
ہن آپے شیشہ ویکھے بولے سوہنڑیں لگے گی۔“
بس ماہیر تو اتنے سے میں ہی تھک کر پیچھے ہوگیا اور اب ہمان اکیلا ہی پرفورمنس دے رہا تھا ۔
پری تو ہمان کا یہ روپ دیکھ کر ہی دھنگ رہ گٸی تھی۔
”جانڑیں کیسا ٹونڑاں کر گٸی
جیا کا کٹورا میرا درد س بھر گٸی ۔“
ہمان پرفورم کچھ اس طرح کر رہا تھا کہ وہ سٹیپ باۓ سٹیپ پری کے نزدیک آتا جارہا تھا۔ پری کے تو ہاتھ پیر پھولنے لگ تھے۔
”جانڑیں کیسا ٹونڑاں کر گٸی
جیا کا کٹورا میرا درد س بھر گٸی۔“
جاری ہے
