Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode51

Pari By Shanzey Rajpoot Episode51

ہمان اور حماد رات بھر گھر نہیں آۓ تھے۔گھر کے سب لوگ پریشان تھے۔ماہیر الگ پریشانی میں آفس نہیں گیا تھا۔کل سے ان دونوں کا کوٸی اتا پتا نہیں تھا،نہ ہی پری کا کچھ پتاچلا تھا۔ٹینشن میں کسی نے ناشتہ تک کرنے کی زحمت نہ کی تھی۔وہ سب لوگ لاٶنج میں بیٹھے تھے۔صبح کا وقت تھا۔عالی اور زویا صوفے پہ ایک ساتھ جڑی بیٹھی تھیں سارہ ماہیر کے کندھے سے لگی بیٹھی تھی۔ابرار صاحب اور ہادیہ بیگم بھی خاموش تھے۔میسم صاحب نہ جانے کن خیالات میں گم تھے۔ممتا تو بس چپ سی ایک طرف کھڑی تھیں افی صاحب بھی اپنی بیٹی کےلیے خاصے ہریشان تھے۔انجی ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھیں۔عاشی نے انہیں مخاطب کیا۔پلیز ماما ریلیکس کریں سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔کسی کام میں پھنسے ہونگے دونوں۔آپ ادھر بیٹھیں۔
انجی صوف پہ بیٹھی ہی تھیں کہ اچانک لاٸٹ چلی گٸی۔
طمیں دیکھتا ہوں۔ماہیر موباٸیل کی ٹارچ آن کرتا ہوا بولا۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی جگہ سے ہلتا ایک آواز نے نہ صرف اس کے بلکہ سب کے ہواس اڑا دیے۔
ایک ریکارڈنک چلاٸی گٸی تھی۔
”ہیلو۔۔!!!!!!
نیہاں۔۔۔!!!! نام تو یاد ہوگا ۔یا پھر میں یاد دلاٶں۔ ۔۔
ک۔ک۔کون۔ن۔ن۔نہیاں م۔میں ک۔کسی ن۔ن۔نہیاں کو نہیں ج۔جانتی ۔۔ اس آواز کو تو سب ہی اچھے سے جانتے تھے یہ عاشی کی آواز تھی۔
ہاہاہاہا۔سٹرینج تم اس نیہاں کو نہیں جانتی۔ یا پھر جاننا نہیں چاہتی۔ مجھے لگتا ہے تم بھول گٸی ہو۔ چلو میں تمہیں یاد دلا دیتا ہوں۔
وہ نہیاں جس کی وجہ سے تم گھر سے آدھی رات سے بھی زیاد وقت تک باہر رہی اوووو سوری بلکہ باہر اس رابن کے ساتھ کافی اچھا وقت گزرا تمہارا۔
Shutup just shutup ..!!!
میں کسی نیہاں اور رابن کو نہیں جانتی سنا تم نے کسی کو نہیں جانتی۔ اور اگر تم نے دوبارہ مجھے کال کی نا تو میں تمہارا حشر بگاڑ دوں گی۔ Understnad that..!!!
سب حیرانی سے اس آواز کو سن رہےتھے ایک کو تو پہچان چکے تھے دوسرےکو پہچاننے سے قاصر تھے۔
اووووہ میں توواقع میں ڈر گیا۔ وہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا ہوا بولا۔ ہاہاہاہا اور پھر کمینگی سے ہنسا۔
ڈٸیر عاشی
See you soon with the the movie…!!!
this was the trailer …!!!!
just wait and watch..۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کےبعد
پر سے وہی آوازیں ان کے کانوں سے ٹکراٸیں۔
نو نو سوٸیٹ ہرٹ ایسا بھول کر بھی مت کرنا۔ ورنہ انجام چند سیکینڈز میں تمہارے سامنے ہوگا۔تم چاہ کر بھی میری کال نہیں کاٹ سکتیں ڈٸیر عاشی۔
سنا ہے اینگیجمنٹ ہے تمہارے أکلوتے بھاٸی کی۔بہت خوش لگ رہا ہے۔پر افسوس کیا فاٸدہ ایسی خوشی کا جو صرف دو پل کی ہو۔ بہت افوس ہوگا مجھے بیچارے کی موت کا۔میں تو ابھی سے ہی اظہارِ افسوس کر رہا ہوں کوٸی شکوہ نہ رہ جاۓ۔
لمحہ بھر پھر خاموشی چھاٸی جس کے بعد اگی ریکارڈنگ اسٹارٹ ہوگٸی۔عاشی کا تو رنگ فق ہوگیا۔وہ کسی بھی طرح یہاں سے اس اندھیرے کا فاٸدہ اٹھا کر بھاگ جانا چاہتی تھی۔پر پاٶں تو جیسے بیڑیوں کی نظر ہو چکے تھے۔
بولو کیا مسٸلہ ہے۔مجھے پری چاہیے۔مجھے تمہاری کزن پری چاہیے“۔وہ بھی ایٹ اینی کوسٹ۔اور تم مجھے پری لا کر دو گی۔میں تمہارا کام کرنے کےلیے تیار ہوں۔ جیسا تم چاہتے ہو۔ویسا ہی ہوگا“
اس کے بعد پھر اگلی ریکارڈنگ چلاٸی گٸی وہ سب اندھیرے میں ہی کھڑے یہ سب سن رہےتھے۔
مصیبت پڑ گٸی ہے اب ۔کہا تو ہے میں کوشش کر رہی ہوں۔ پر اتنا آسان نہیں ہے۔ اس مہارانی کو اس ششم پنجم میں سے نکالنا۔کوٸی بکواس نہیں سننی۔۔ اس ایک ہفتے کے اندر اندر میرا کام ہوجانا چاہیے۔ سمجھیں ورنہ۔۔۔۔
ریکارنڈگ ختم ہوچکی تھی۔سب سن ہوکے تھے
دفعتاً لاٶنج میں سامنے کی دیوار پہ نصب بڑی سی ایل۔ ای ۔ڈی۔ روشن ہوٸی جس میں ایک ویڈیو پلے ہوٸی تھی۔جو سب کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ کر لے گٸی۔
یہ اسی دن کی ہسپتال والی ویڈیو تھی۔جس میں عاشی اپنا فون لینے دوبارہ روم میں گٸی تھی۔
ویڈیو میں عاشی پری کو اس کے کمرے سے ہاتھ پکڑ کر باہر تک لاٸی اور پھر وہاں سے پیچھے کا کاریڈور کراس کیا۔
بس یہ ویڈیو یہیں تک تھی اور اتنی سی ویڈیو نے بہت کچھ سمجھا دیا تھا۔کٸی چھپی باتیں پتا لگی تھیں۔
ویڈیو کے ختم ہوتے ہی لاٶنج دوبارہ روشن ہوگیا۔
سب صدمے میں جا چکے تھے انجی تو ابھی بھی سکرین پر نظریں جماۓ کھڑی تھی۔ماہیر زویا عالی زین رافع سب نے چبھتی نگاہوں سے عاشی کو دیکھا جو رو رہی تھی۔
لاٶنج میں چھاۓ سکوت کو ہمان کے قدموں کی آواز نے توڑا۔سب کی نظر ہمان سے ہوتی اس کے برابر میں کھڑی پری پر ٹہر گٸی۔
ممتا بیگم کا تو اپنی بیٹی کو اس حال میں دیکھ کر کلیجہ منہ کو آگیا۔وہ پری کی طرف بڑھنے لگی تھیں۔جب انجی بھاگ کر پری تک پہنچی اور اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔وہ روٸی تھیں بےحد روٸی تھیں۔خود سے پری کو الگ کر کے انہوں پری کو چوما۔
پری ہماری جان۔اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیے وہ شدت سے بولی تھی۔پھر ایک بار خود سے لگاۓ وہ پری کو اندر لاٸیں۔ممتا بیگم نے پری کو پیار کیا۔کہاں چلی گٸی تھی میری بچی ۔
کیا حال ہوگیا میرے بیٹے کا۔انہوں نے پری کے ماتھے سے بال ہٹاۓ۔ماہیر نے اس کے سر پر دستِ شفقت رکھا تھا۔زین نے اسے اپنےساتھ لگا کر اس کا سر چوما۔ناجانے کس جذبے کے تحت وہ خود بھی نہ سمجھ پایا۔اس کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔سارہ نے اسے خوب ڈانٹا پھر خود ہی رو دی۔رافع نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔باری باری سب نے اسے پیار کیا۔
ہمان پری آپ کو کہاں ملیں۔اس سب میں انجی بھول ہی چکی تھی وہ ویڈیو اور ریکارڈنگ۔
ہمان نے قہر آلود نظر عاشی پر ڈالی۔یہ تو آپ عاشی سے پوچھیں۔پوچھیں اس سے کہ کس کے حوالے کر کے آٸی تھی یہ پری کو۔پوچھیں اس سے کہ کس کے ساتھ ملوث تھی یہ۔پوچھیں اس سے کیا اسے ایسا کرتے اللہ سے خوف نہیں آیا۔
کس مٹی سے بنی ہے آخر یہ عورت۔کیا کر نا چاہتی تھیں تم پری کے ساتھ۔ہمان غصے میں ہاتھ کی مٹھی بناۓ عاشی کی طرف بڑھا تو ماہیر نے اس کا بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا۔ہاگل مت بن ہمان۔وہ وحشی بنا عاشی پہ جھپٹے کو تھا پر ماہیر نے اسے روک لیا۔ورنہ آج اس کا خون ہمان کے ہاتھوں پکا تھا۔
انجی شاکڈ کی سی کیفیت میں عاشی کی طرف پلٹیں۔ک۔ک۔کیوں کیا آپ نے یہ سب ۔ہم پوچھ رہے ہیں کیوں کیا آپ نے یہ سب۔سناٸی نہیں دیا آپ کو ہاں ۔انجی کا ہاتھ اٹھا تھا اور عاشی کے گال پر اپنے نشان چھوڑ گیا۔آپ نے پری کے ساتھ ایسا کیوں کیا ہاں ۔بولیے جواب دیجیے ہمیں۔
ایک اور تھپڑ پڑا تھا عاشی کے گال پر اور وہ روتے ہوۓ بس فرش کو دیکھے جارہی تھی۔کہنے کو کچھ تھا نہیں۔اتنی ظالم اور سفاق ہیں آپ۔ عاشی ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ پری کو لے کر آپ کے دل میں اتنا خناس اتنا غبار بھرا یے اتنا حسد اتنی جلن اتنی بخیلی۔
کیا یہی سب سیکھا ہے آپ نے ہم سے کیا یہی تر بیت کی ہم نے آپ کی۔آپ کو زرا شرم نہیں اسے کسی ایسے مرد کے حوالے کرتے جیسے وہ تو کیا آپ تک نہیں جانتی تھیں۔آپ کو احساس ہے پری کے ساتھ کیا کیا ہوسکتا تھا۔وہ اسے مار دیتا تو۔اس کی عزت کی بھی پرواہ نہیں کی آپ نے جب کہ آپ خود ایک عورت زات ہیں۔اگر وہ انسان پری کو کہیں بیچ دیتا تو کیا کر لیتے ہم۔
کچھ نہیں کر سکتے تھے ہم سواۓ پچھتاوے اور ملال کے۔عاشی آپ نے ہمیں نیچا دیکھانے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔ارے آپ جیسی اولاد کو تو پیدا ہوتے ہی مار دینا چاہیے۔ایسی اولاد کے ہونے سےانسان بے اولاد ہی اچھا۔
اب کیوں چپ ہیں آپ ۔بولیں اب کہاں گٸی زبان آپ کی ۔ہم بھی کہیں آپ اتنی پر سکون کیوں ہے یہ نہیں پتا تھا کہ یہ بد سکونی بھی آپ کی پھیلاٸی ہے۔
ماما میری میری بات سنیں۔پلیز صرف ایک بار ماما ۔ہاتھ مت لگاٸیں ہمیں۔آپ جیسا سمجھ رہی ہیں ویسا نہیں میری بات سنیں۔آپ اب بھی یہی کہیں گی اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی آپ میں اتنی سی بھی شرم اگر باقی بچی ہو تو کم از کم اپنی غلطی تو تسلیم کریں۔
بس ماما آپ اپنی کہے جارہی ہیں میری بھی سنیں۔ہاں ہاں ہاں وہ چیخی تھی زور سے۔میں نے کیا یہ سب میں نے ہی پری کو اغوا کروایا تھا۔پری جو اب تک لاعلم تھی سنتے ہی لڑکھڑا گٸی۔سارہ نے اسے اپنے سہارے پہ کھڑا کیا۔
ہاں کیا میں نے یہ سب۔آپ مجھے مورد الزام ٹہرا رہی ہیں۔ اتنا زلیل کر رہی ہیں۔کیا آپ نے مجھ سے یہ پوچھنے کی کوشش کی کہ عاشی آخر کیوں ایسا قدم اٹھایا۔ کیا وجہ تھی۔نہیں نہ مجھ سے پوچھا تو ہوتا۔
یہ ریکارڈنگ بیچ بیچ کی سناٸی گٸی ہے۔جس کسی نے بھی یہ کیا ہے۔ آپ اس سے کہیں پوری ریکارڈنگ سناۓ۔ماما وہ شخص مجھے بلیک میل کر رہا تھا۔ عاشی نے من و عن اس رابن والا اس رات کا سارہ قصہ سنادیا ۔جب نیہاں اسے دھوکے سے لے گٸی تھی۔بس اسی وجہ سے میں نے یہ قدم ا ٹھایا ماما اگر میں ایسا نہ کرتی تو وہ میری کلپ پوری سوشل میڈیا پہ واٸرل کر دیتا۔
ہم نہیں مانتے عاشی۔کہ آپ نے صرف اپنی عزت کی خاطر پری کا سودا کرڈالا۔اگر اس کی جگہ عالی زویا یا سارہ ہوتی تب بھی آپ یہی کرتیں۔نہیں ماما ایسا نہیں ہے میں ان کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہوں۔تو مطلب آپ پری کے ساتھ ایسا کر سکتی ہیں۔ماما پلیز میری بات ۔۔۔۔۔انجی نے بری طرح اس کے ہاتھ جھٹکے۔
بس کریں عاشی آپ نے یہ سب اپنی عزت کی خاطر نہیں بلکہ آپ نے پری سے اپنی حسد اور بخیلی نکالی ہے ۔ہم شروع دن سے پری کے ساتھ آپ کا برا رویہ نوٹ کر چکے ہیں۔
ہاں ہاں ہاں مجھے حسد ہے پری سے مجھے جلن محسوس ہوتی ہے اس سے ۔یہی سننا چاہتی ہیں نہ آپ۔جب جب آپ اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتی ہیں۔ حسد ہوتا ہے مجھے اس سے۔جب آپ اسکا اتنا خیال رکھتی ہیں، مجھ سے زیاہ اس کی پرواہ کرتی ہیں، ہر وقت آپ کی زبان پر پری کے نام کی تسبیح ہوتی ہے۔ پری ایسی پری ویسی۔
کٸی سالوں کا غبار تھا ۔جو آج وہ نکال رہی تھی ایک بھڑاس تھی جسے نکال کر وہ اپنا آپ ہلکا کر رہی تھی۔ آج وہ پھٹ پڑی تھی کب تک برداشت کرتی۔میرے ہوتے ہوۓ اپنی بیٹی کے ہوتے ہوۓ آپ اسے چھوڑ کر پری کے پیچھے پیچھے رہتی ہیں پھر چاہے وہ یہاں ہو یا نہ ہو۔
بتاٸیں آپ کیا ایسے میرا حسد کربنا جاٸز نہیں۔وہ سانس لینے کو رکی تھی۔تنفس تیز ہو رہا تھا۔آنسو متواتر چہرہ بھیگو رہے تھے۔ شاید ہی وہ اپنی زندگی میں اتنا روٸی ہو۔نہیں اسے جاٸز نہیں عاٸشہ اسے ناجاٸز کہتے ہیں۔
نین بیچ میں بولا تھا اور جو ناجاٸز کرتا ہے نا پھر میرا دل کرتا ہے اسے زندہ درگور کردوں۔
نین کے غصے پہ وہ ہھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھے گٸی کٸی خواب کرچی کرچی ہوۓ تھے ہاۓ رے قسمت اس نے اس طرف سے تو کبھی سوچا ہی نہ تھا۔تم جیسی عورت تو عورت کہلانے کے لاٸق نہیں۔جیسے اپنی ہمزات کی عزت کی بھی پرواہ نہ ہو۔
زلیل لڑکی تم صرف تمہاری وجہ سے آج میری بہن کی یہ حالت ہے۔خدارا ہاتھ جڑوالو مجھ سے یہ دیکھو دو ہاتھ میرے۔چھوڑ دو میری بہن کا پیچھا بخش دو اسے ۔خوشیوں پر اس کابھی حق ہے۔
اسے جینے دو۔جینے دو میری بہن کو۔آخر تم چلی کیوں نہیں جاتیں یہاں سے۔چلی جاٶ کہیں۔ ورنہ مجھے پل پل تم سے خطرہ محسوس ہوگا اپنی بہن کیلیے۔نین نے غصے و بے بسی میں اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے اور عاشی نفی میں گردن ہلاتی دو قدم پیچھے ہوٸی۔
اس بار اس سے واقع بہت بڑی غلطی۔غلطی نہیں گناہ ہوا تھا ۔جس کی معافی نہیں بلکہ سزاہ ہوتی ہے۔
عاشی آخر ہماری پرورش میں کہاں کمی رہ گٸی تھی۔وہ رودی تھیں۔واقع قصور آپ کا نہیں ہماری قسمت خراب ہے۔ ہم نے ہی آپ کی پرورش اچھی نہیں کی ماما ایسا نہ کہیں۔پلیز ۔ماما پلیز ایک بار تو میری۔۔۔۔
بسسسسس!!!! خبردار!! انجی کی گرجدار آواز پہ عاشی کے ہاتھ وہیں رک گۓ۔خبردار!!! جو ہمیں ماما کہا تو خبردار!!! جو ہمیں چھونے کی کوشش بھی کی تو۔مت کہیں ہمیں ماما نہیںں ہیں ہم آپ کی ماں۔نہ ہی آپ ہماری بیٹی ہیں۔
اپنے کرتوتوں سے آج آپ نے ثابت کیا مس عاٸشہ کہ آپ ملک خاندان کا حصہ نہیں ہیں۔آپ کی رگوں میں ہمارا نہیں بلکہ گندہ خون ہے حسد بھرا۔کاش ۔کاش ہم نے اسد کا کہا مان لیا ہوتا ۔کاش ہم آپ کو یتیم خانے سے نہ لاۓ ہوتے گر ہمیں پتا ہوتا کہ یہ خون آگے جاکر ہمارے لیے وبال جان بن جاۓ گا۔ ہماری ہی بیٹی کی جان کے درپہ ہوجاۓ گا۔تو ہم آپ کو کبھی گود نہ لیتے۔
عاشی بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی۔اس پر تو جیسے آسمان آن گرا تھا۔باقی سب کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔زین متحیر سا کبھی انجی تو کبھی عاشی کو دیکھتا۔
حیرت کا جھٹکا تو پری اور ہمان کو بھی لگا تھا۔
آپ ہماری بیٹی نہیں ہیں سنا آپ نٕے ہم آپ کو یتیم خانے سے اٹھا کر لاۓ تھے۔آپ کو اپنا نام دیا پالا پوسا بڑا کیا اچھی پرورش کی لکھایا پڑھایا بدلے میں آپ نے ہمیں کیا دیا۔خالی ہاتھ رہ گۓ ہم خالی ہاتھ انہوں نے دونوں ہاتھ ھیلاتے ہوۓ کہا۔عاشی نے آنکھیں بند کرلیں گویا سچ کو اپنے اندر اتارنا چاہ رہی ہو۔
پری کے ساتھ جو آپ نے کیا ہے نہ وہ ہم تا قیامت نہیں بھولیں گے۔آپ نے ہماری گود اجاڑنے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔آپ نے ہماری بچی کو ہم سےدور کرنےکی کوشش کی ۔پہلے ہی ١٦ سال سولہ سال ہم اپنی پری سے دور رہے ۔
اب جب وہ ہمیشہ کےلیے ہماری نظروں کے سامنے تھیں تو آپ نے انہیں چین نہیں لینے دیا۔
کیوں عاشی کیوں!!! بیٹی ہیں وہ ہماری سگی اولاد۔اپنی کوکھ سے جنا ہے ہم نے انہیں۔ اتنی تکلیفیں اٹھانے کے بعد اسے گود میں لے کر چھو کر دیکھا تھا۔ہم ماں ہیں ان کی پھپھو نہیں۔شادی کے پانچ سال بعد پری پیدا ہوٸی تھیں۔زیادہ عرصہ انہیں ہم گود میں کھلا نہ سکے۔ہم نے انہیں بھابھی کو گود دے دیا تھا۔
اب کے چکرانے کے باری پری کی تھی اتنا بڑا سچ اس کی آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا پھر نمی اور پھر آنسو گالوں پہ بہہ گۓ۔وہ کسی طور مطمٸن نہ تھی۔اسے وحشت ہونے لگی تھی۔دم گھٹ رہا تھا اس کا۔وہ بس چپ چاپ سب سنتی گٸی۔ ناجانے آج کون کون سے رازوں سے پردہ اٹھنا تھا۔یہ نۓ نۓ انکشافات اس کے ہوش اڑانے کو تھے۔
شادی کے بعد جب زین ہماری زندگی میں آۓ تو زندگی اچھی ہوگٸی پر ہمیں ایک ننھی سی پری کی خواہش تھی۔جس کی کلکاریوں سے پورا گھر گونجے۔پر اللہ کو شاید منظو نہیں تھا ۔اسی لیے ہم نےآپ کو گود لے لیا۔
ہر چیز دی ہم نے آپ کو ہر خوشی دی پھر نہ جانے کیوں آپ نے یہ قدم اٹھایا۔
انجی ایک لمحے کو رکی تھیں۔
پھر اسے دیکھا بس ایک آخری وار رہتا تھا۔آپ جانتی ہیں پری کو برین ٹیومر ہے۔زین عالی سارہ اور رافع سمیت ہادیہ بیگم اور ابرار کے سر پر جیسے کسی نے بم پھوڑا تھا۔پری مجرموں کی طرح سر جھکا گٸ۔ہر لمحہ ازیت ناک ہوتا ہے ان کا ۔وہ کس تکلیف سے گزرتی ہیں پتا ہے آپ کو۔
نہیں بالکل نہیں آپ اس کی تکلیف کا اندازہ کبھی نہیں لگا سکتیں۔ کیونکہ آپ اس کی بہن نہیں ہیں ۔
ہم میں اور سکت نہیں ہے آپ کو اپنے سامنے دیکھنے کی۔چلی جاٸیں آپ یہاں سے پلیز ۔یہ سچ تو عاشی کے اوپر بجلی بن کر گرا تھا۔ اسے اب پری کی نازک طبیعت اور نرم مزاجی کی سمجھ آٸی تھی۔وہ خود سے شرمندہ تھی۔نظر اٹھا کر اس اس نے زین کی طرف دیکھا۔
زین نے نگاہیں نفرت سے پھیر لیں۔نین تو فوراً واک آٶٹ کر گیا۔یہ سچ ہی اس کے لیے جان لیوا تھا کہ پری اس کی نہیں بلکہ زین کی بہن ہے۔عاشی نے ایک نگاہ ماہیر پر کی تو وہ زویا کو لیے وہاں سے چلا گیا۔ممتا بیگم نے آگے بڑھ اسے زوردار تھپڑ جڑ دیا۔یہ تھپڑ تجھے ہمیشہ میری پری کے بارے میں برا کرنے اور برا سوچنے سے روکے گا۔
عالی کی طرف دیکھا تو نفی میں گردن ہلاکر رہ گٸی۔
”اب پچھتاوے کیا جب چڑیا چگ گٸیں کھیت۔“
یہ بولنے والی عالی تھی۔ جو اس کے آنسوٶں پر چوٹ کر گٸی تھی۔پری پہلی فرصت میں وہاں سے اپنے روم میں آگٸی ہمان بھی پیچھے چلا گیا۔سارہ نے مٹھیاں بھینچ کر خود کو کنٹرول کیا۔زین اور عالی انجی کو کمرے میں لے گۓ۔
آج جو ہوا تھا وہ سب کی زندگی میں طوفان برپا کر گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دو دن سب کے اسی اضطراب میں رہے۔جو راز افشاں ہوۓ تھے گو کہ سب کا یقین کرنا مشکل تھا۔لیکن کب تک جھوٹ کے سہارے جیتے یقین تو کرنا ہی تھا۔سچ اپنا آپ منواکر رہتا۔پچھلے دو دنوں میں کسی میں بھی ایک دوسرے کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
البتہ آج سب کچھ نارمل تھا۔ ماہیر آفس اور رافع بھی گۓ تھے۔زین بھی آفس گیا تھا۔زویا کچن میں کام کر رہی تھی عالی زویا کے ساتھ کچن میں تھی سارہ انجی کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی۔حماد اب تک گھر نہیں آیا تھا۔ہمان نے اسے فون بھی کیا تھا مگر سب بے سود۔پھر اس نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔جس فیز سے وہ گزر رہا تھا اس کا کچھ دن اکیلے رہنا لازمی تھا۔
سب ہی اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے صرف نین پری اور انجی تھے۔جو اب تک ایک دوسرے کے سامنے نہیں آۓ تھے۔
انجی کیا سب کچھ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا۔انجی اداس سی اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں۔جب سارہ نےنمی گھلے لہجے میں بولا۔اسے شدت سے وہ دن یاد آرہے تھے جب سب ایک ساتھ مل بیٹھتے تھے۔
ہوسکتا ہے بھٸی کیوں نہیں ہو سکتا۔ہمان کی پرجوش سی آواز پہ وہ اٹھی۔ہو سکتا ہے۔یہ جو سب اپنے اپنے گھونسلوں میں گسھے بیٹھے ہیں نا انہیں نکال کر لاٶنج میں جمع کرو۔کچھ کافی شافی کچھ چاۓ شاۓ ہوجاۓ۔وہ ایک آنکھ دباتا ہوا بولا اور سارہ کا تو مانو وہ حساب تھا” اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھ“۔
وہ جمپ لگانے کے انداز میں بیڈ سے اتری تھی۔ہمان وہیں ان کے پاس بیٹھ گیا۔اپنے ہجرے سے باہر کب نکلیں گی قسم سے ترس گیا ہوں آپ کی کیٹ جیسی کیٹ واک کے لیے جو آپ پورے گھر میں کرتی پھرتی تھیں۔انجی جو اداس سی بیٹھی تھیں۔ہمان کی کیٹ واک والی بات پر گھور کر دیکھنے لگیں۔
بدماش ایک تھپر انہوں نے اس کے کندھے پر جڑ دیا۔پھر دونوں ایک ساتھ ہنس دیے۔چلیں ناانجی باہر چلیں جب تک آپ باہر نہیں نکلیں گی۔آپ کی بیٹی بھی نہیں نکلے گی اپنے ہجرے سے باہر۔ضد کی پکی ہے ویسے کس پہ گٸی ہے آپ پہ یہ پھوپھا جی پر۔وہ شرارت سے بولا۔خبردار جو میری بیٹی کے بارے میں کچھ کہا تو۔اوۓ ہوۓ میں صدقے واری جاواں۔ہمان نے ایک ادا سے کہہ کر قہقہہ لگایا۔ چلو پھر بنیچے چلیں۔
ہمم چلیں آج تو لے جا کر ہی دم لیں گے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *