Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode28

Pari By Shanzey Rajpoot Episode28

ماہیر کو لنڈن گۓ تین دن ہونے کو آۓ ہیں ۔اب تک اس کی واپسی کا کچھ پتا نہیں ۔ رافع فون کرو اسے اور کہو کہ جتنی جلدی ہو سکتا ہے پاکستان واپس آۓ۔ورنہ میں خود اس سے نبٹوں گا ۔
جی بڑے پاپا رافع تعبیداری سے سر اثبات میں ہلاتا وہاں سے چلا گیا۔ افف یہ ماہیر فون کیوں ریسیو نہیں کر رہا۔ آج تو بال بال بچ گیا ۔کل کیا جواب دوں گا۔ بڑے پاپا کو کہ جب سے موصوف گۓ ہیں فون بند کر رکھا ہے۔
زویا میسم کو حسبِ عادت شام کی چاۓ دینے آٸی تھی۔ پر میسم کی کڑک دار آواز نے اس کے پیر جکڑ لیے۔ وہ ماہیر کا ذکر سن کر چاۓ سرونٹ کے ہاتھ بھجوا کے سیدھے کمرے میں آٸی تھی۔ آج تین دن بعد اس کا زخم پھر سے ہرا ہوا تھا ۔ ماہیر کا رویہ اس کی سمجھ سے بالا تر تھا ۔وہ ایسا کیوں کر رہا تھااس کے ساتھ۔ وہ سمجھ کے بھی نہ سمجھ پارہی تھی ۔یا پھر سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔
بچپن سے لے کر اب تک وہ رشتوں اور محبتوں کو ترسی تھی اور اب جب ایک خوبصورت رشتہ ماہیر سے منسلک ہوا تھا۔ تو دل عجب ہی لہہ پہ دھڑکتا تھا۔ سب کچھ نیا نیا پر بہت ہی بھلا لگنے لگا تھا۔ اسے ہر رشتہ ملا تھا۔ سب کا پیار ملا تھا ۔اسے محض تین دن ہی ہوۓ تھے اس گھر میں آۓ مگر وہ سب کے ساتھ ایسے گھل مل گٸی تھی ۔ جیسے بچپن یہیں گزرا ہو ۔
اگر کچھ نہیں ملا تو وہ تھا ماہیر کا پیار ۔ پہلے تو بات ہی اور تھی جب سے نکاح ہوا تھا۔ وہ شادی ہوکر اس گھر میں آٸی تھی۔ اس کے دل میں ماہیر کے لیے خود بہ خود جگہ بن چکی تھی۔ بے شک وہ زبان سے کچھ نہ کہتی تھی۔ تو کیا ماہیر اس کی آنکھوں میں محبت کی پھوٹتی کرنیں نہیں دیکھ سکا۔ بھلا کیوں ۔
اس کیوں کا جواب وہ اچھے سے جانتی تھی ۔اس کیوں کا جواب ماہیر کی وارڈراب میں رکھی اس کی پرسنل ڈاٸیری میں موجود وہ تصویر تھی۔ اس نے قرب سے آنکھیں موند لیں ۔ ایک وہ تھی کتنی تکلیف میں تھی۔ ایک وہ دشمنِ جان تھا۔ جب سے گیا تھا پلٹ کر دیکھنا تو دور کوٸی فون کال یا کوٸی میسیج تک نہ کیا تھا ۔ کیا اتنی ہی بے مول ہوں میں۔ آنسو اس کے گال پہ پھسل گۓ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلک کی آواز سے کسی نے دروازے کا ناب گھمایا اور چرررررر کی آواز سے دوازہ کھلتا چلا گیا۔ پری جلے پیر کی بلی بنے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی ۔
بلیک نیٹ کی شرٹ۔ جس کا اپری حصہ اور سلیوز سے سفید بازو چھلک رہے تھے اور بلیو جینس پہنے وہ کورین بیوٹی لگ رہی تھی ۔ادھر سے اودھر چکر کاٹنے سے لمبے گھنے آبشار کمر پر جھول رہے تھے۔ چہرہ میک اپ سے عاری تھا۔وہ چلتی پھرتی جاپانی گڑیا لگتی تھی۔ دروازہ بند کرنے کی آواز پر وہ مڑی سامنے ہی ہمان سفید کرتے میں گلے میں چادر ڈالے اپنی ازلی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔ پری اس سے چند قدم کے فاصلے پہ تھی۔اس نے پہلے تو آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا پر دوڑ کر ہمان کے گلے لگ گٸی اور اسے زور سے پکڑ لیا ۔
ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا ۔یا پھر پری کو اس کی پناہیں خوبصورت اور آرام داہ لگتی تھیں ۔ نہ جانے کون سا جادو تھا اس کی پناہوں میں ۔وہ خود کو پر سکون محسوس کرتی تھی ۔ وہ کافی دیر تک بنا کچھ بولے اس کے سینے سے لگی رہتی ۔ آج بھی ایسا ہی ہوا ۔ ہمان نے دھیرے سے اسے خود سے الگ کیا ۔اس کے چہرے پہ تھکن کے کوٸی آثار نہ تھے ۔ پری کو جو دیکھ لا تھا محبوب جب اتنا خوبصورت ہو تو تھکن کس کمبخت کو یاد رہے ۔
کہاں تھے ہمان آپ ۔میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہی ہوں ۔ دس از ناٹ فیٸر۔!!!!۔
آپ نے کہا تھا آپ میری ہر وش پوری کریں گے۔ میں نے کہا تھا۔ جلدی آجایا کریں۔ پھر کیوں نہیں آۓ۔وہ اسے اسفسار کرنے لگی ۔ ہمان اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے پہ لے کر بیٹھ گیا ۔کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔ کچھ امپورٹنٹ کام تھا ۔ اسی لیے لیٹ ہوگیا ۔ ہوا کے دوش پر اڑتی زلفویں پری کا چہرہ چوم رہی تھیں ۔ ہمان نے نرمی سے بال اس کے چہرے سے ہٹاۓ ۔
”وہ اسے یونہی دیکھے گیا کوٸی نشہ تھا۔ اس میں ڈرگز سے بھی زیادہ خطرناک لگی ہمان کو وہ ۔ ایسا نشہ جو اب لگ چکا تھا ۔اس کے بغیر تو چین نہ آنا تھا اس کو ۔ پری کو دیکھنا ڈرگس لینے جیسا تھا ۔وہ نشے کی طرح اس پر طاری ہوتی تھی اور وہ مدہوش ہوکر اسے گھنٹوں دیکھتا ۔ کبھی حد سے تجاوز کر جاتا۔حلال رشتہ۔ پاک رشتہ۔ مٹھاس۔ لذت ۔اففف۔۔۔۔
کیا شے ہے یہ نکاح
جب سے ہے کیا
نہ ہوش مجھے رہا۔ “
میں تمہاری ہر وش پوری کروں گا پری۔ ہر وش مطلب ہر وش۔ وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا۔ تمہاری ہر خواہش سر آنکھوں پہ۔ تمہارا نخرہ تمہارا غصہ سر آنکھوں پر ۔
۔آدھی رات بھی بلا مقصد جگادو تو اف تک نہ کہوں ۔میری جان ہو تم میری سانسیں چلتی ہیں تمہاری سانسوں سے۔ میں بھلا کیسے تمہیں یا تمہاری خواہشات کو پس پشت ڈال سکتا ہوں۔ ہمان بول رہا تھا۔ پر پری وہ وہ سن کہاں رہی تھی وہ تو بس اس وجیہہ سے شخص کو دیکھ رہی تھی۔ جو صرف اس کا تھا اتنے خوبصورت اظہارِ محبت پہ تو پری سر تا پا سر شار ہوگٸی ۔
آج تم تیار نہیں ہوٸیں ۔ ورنہ ہمیشہ تو بڑی تیار شیار مس پرفیکٹ لگ رہی ہوتی ہو ۔ مجھے غصہ جو آرہا۔
اچھا !! تو میڈم کو غصہ آرہا تھا۔وہ بھلا کیوں۔
اب وہ باقاٸیدہ دونوں ہاتھوں کی مٹھی بناۓ تھوڑی ٹکاۓ بڑے انہماک سے اسے سن رہا تھا ۔ جو اپنے آپ میں مگن سی بس بولتی جارہی تھی۔ جیسے کسی نے چابی گھمادی ہو ۔
تمہیں غصہ کیوں آرہا تھا۔
کیا آپ مجھے وجہ بتانا پسند کریں گی مس پریشے۔
پری نے سر اٹھاکر اسے دیکھا۔ اس کے لب ہلے تھے اور وہ جی جان سے مسکراٸی تھی ۔ اسے اپناپورا نام بے حد پسند تھا ۔ اس کی لب مسکراۓ تھے ۔ آنکھیں چمکی تھیں۔۔
ہمان نے نفی میں گردن ہلاکے مسکراکر گردن جھٹکی ۔یہ لڑکی سدھر نہیں سکتی ۔جان لے کر رہے گی اس کی یہ مسکراہٹ۔ یہ لڑکی اس کی کمزوری تھی ۔ بس کرو پری کتنا مسکراٶ گی۔ ہمان نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔
ارے بس کرو لڑکی مت ہنسو اتنا ۔کیوں ۔۔کیوں نہ ہنسوں اس کی ہنسی کو بریک لگا تھا ۔ پر آنکھیں تو ازلی مسکراہٹ کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔ مجھے ڈر لگتا ہے پری کہ کہیں تمہیں میری ہی نظر نہ لگ جاۓ۔ تمہیں گھنٹو ں فرصت سے بیٹھ کر تکنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
ہمان نے کہتے ساتھ ہی اس کے ماتھا چوما اور پری کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ۔ تم زندگی ہو میری ۔میں بیان نہیں کر سکتا۔ وہ اس کی آنکھو پر جھکا۔ پری نے آنکھیں موند لیں ۔یوں جیسے اجازت دی ہو ۔ایک ٹھنڈہ ہوا اوپر سے اس کی سانسو سے اٹھتی خوشبو ۔ہمان مدہوش ہونے کو تھا۔ اس سے پہلے کے وہ اس گے مزید قریب ہوتا فون کی رکنگ ٹون نے ماحول میں ارتعاش برپا کیا۔ اور وہ اس سے الگ ہوتا موباٸیل جیب سے نکالتا اٹھ کھڑا ہوا ۔ پری نے ہاتھ اس کا مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ہمان نرمی سے اس کا ہاتھ ہٹایا۔ کال ریسیو کر کے ابھی آیا بس ۔وہ اس کا گال تھپتھپاتا باہر چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان کو گۓ ٹھیک سے پانچ منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ اچانک لاٸیٹ چلی گٸی ۔ ہر سو اندھیرا چھا گیا۔ ہاتھ کو ہاتھ سوجھاٸی نہ دے رہا تھا۔ پری اندھیرے سے ڈرتی تھی ۔ چار سو کالی کھاٸی جیسا اندھیرا ۔اور کھڑی سے سرسراتی ٹھینڈی یخ بستہ ہوا اور ہوا سے پھڑپھڑاتے پردے اس کی روح فنا ہونے لگی تھی ۔ خوف کے مارے وہ پاٶں صوفے پے رکھے سکڑ کر گٹھری بن چکی تھی آواز تو ایسی غاٸب ہوٸی تھی جیسے کمرے میں کوٸی ذی روح نہ ہو۔ کمرے کی کھڑکی سے چھنتی نیلی روشنی میں اسے ایک ہیولہ دیکھاٸی دیا۔قدموں ک چا پ سناٸی دے رہی تھی ۔ کوٸی تھا جو کھڑکی قریب تھا۔ اب تو اسے صحیح معنوں میں خوف آنے لگا تھا ۔اتنا کے وہ اس سردی میں بھی پسینے سے نہاگٸی۔ آواز مزید قریب آتی جارہی تھی ۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہیولہ کھڑکی سے اندر کود گیا ۔ اس نے آنکھیں زور سے میچ لیں ۔ جیسے بلی کبوتر کو دیکھ کر میچتی ہے اسے لگا اب اسے موت سے کوٸی نہیں بچا سکتا ۔ آنکھیں اس کی جب کھلی جب اس ہیولے نے کوٸی چیز بہت ہی قوت کے ساتھ صوفے پہ اچھالی ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہیولہ کھڑکی سے کود کر کہاں غاٸب ہوگیا۔ وہ اندازہ نہ کرسکی۔ اس وقت اسے اپنی جان کی پڑی تھی۔ اس کے جانے کے چن منٹ بعدہی لاٸیٹ بھی آگٸی تھی ۔ پری نے چاروں طرف نظر دوڑاٸی کہیں بھی کچھ بھی تو نہیں تھا ۔ سب کچھ ویسا کا ویسا تھا ۔ پھر کون تھا وہ ۔کیوں آیا تھا۔ پری کے ذہن نے سوالوں کے تانے بانے بننا شروع کر دیے ۔ جب نظر پاس پڑے بوکس پر گٸی۔ تو وہ بری طرح چونکی تھی۔ یہ شاید وہی چیز تھی۔
جو اندھیرے میں وہ ہیولہ اس کی طرف اچھال کر گیا تھا۔ پری نے تجسس میں اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور جلدی سے بوکس اچک لیا ۔ دیکھنے میں گفٹ کی طرح پیک تھا کورنر پر بٹرفلاٸی شیپ میں ربن لگا تھا۔ گفٹ ریپیر کھول کر اس نے بوکس کھولا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک مرسیٹیز بینگلو کے پورچ میں رکی ماہیر نے گاڑی لاک کی اور اندر آیا ۔وہ تین دن بعد گھر آیا تھا اندر آتے ہی اسے سب کچھ یاد آگیا ۔ وہ سر جھٹکتا سیڑھیاں عبور کرنے لگا ۔ اس سے قبل کے وہ اپنے کمرے کی راہ لیتا کسی کی چینگھاڑتی چیخوں نے اس کے کان کے پردے تک ہلا دیے۔ وہ وہی ساکت ہو گیا۔ یہ۔ یہ آواز تو پری کی ہے ۔او میرے اللہ کہیں پری کو کچھ ہو تو نہیں گیا۔اس سے آگے سوچنے سے بہتر وہ پری کے کمرے تک پہنچا وہ دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے آنکھیں میچے بری طرح چیخ رہی تھی ۔ پری!!!!!
مانوس سی آواز پہ پری نے نم وا آنکھوں سے ماہر کو دیکھا وہ بھاگتی ہوٸی ماہیر کے سینے سے جا لگی ۔ ماہیر نے اس کے گرد حصار باند لیا وہ مزید زور زور سے رونے لگی تھی ساتھ ہی چیخ بھی رہی تھی ۔ہمان اور زویا بھی وہیں آ گۓ تھے ۔ ہمان اندر آیا پر اسے کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ ماہیر کو جب سیچوٸیشن کا احساس ہوا تو اس نے دھیرے سے پری کو خود سے الگ کیا ۔ وہ جی بھر شرمندہ ہوا ۔ زویا نے ان دونوں کو اس طرح ایک ساتھ دیکھا ۔تو اندر کہیں لاوا ابلنے لگا۔ حسد کی آگ میں جلتی وہ ماہیر کو شولہ بار نگاہوں سے گھورتی وہاں سے سیکنڈز میں واک آٶٹ کر گٸی مگر جاتے جاتے دروازہ اتنی زور سے بند کر گٸی کہ پری ایک دم ڈر کہ ہمان کے ساتھ لگ گٸی ۔ دونوں ہاتھوں سےاس کی شرٹ مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی۔ ہمان کچھ کہنے کو تھا کہ ماہیر نے ہاتھ اٹھا کے اسے روک دیا ۔
تمہیں ہوش ہے کچھ ۔ ذرا خیال نہیں تمہیں اس کا ۔ ماہیر کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں ۔ مطلب صاف ہے ہمان تم اپنے کاموں میں اس قدر غرق رہنے لگے ہو کہ تمہیں یہ تک علم نہیں کہ پری رو کیوں رہی ہے ۔ لا پرواہی کی حد ہے ہمان ۔ یار ضروری کال تھی سگنل نہیں مل رہے تھے اس لیے آٶٹ آف وے جانا پڑا ۔ ہوا کیا ہے پری ۔کیا ہوا ہے بتاٶ مجھے ۔
ہمان وہ وہ خون ۔۔۔۔بلیڈ۔ گفٹ پیک۔۔۔ خوف کے مارےاس کے منہ سے نکلتے بے ربط جملے ہمان کی کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ پر وہ اتنا سمجھ گیا کہ وہ خوف کے زیرِ اثر ہے۔ یہاں بیٹھو ریلیکس کرو ۔لو پانی پیو ۔پری نے غٹا غٹ پانی کا گلاس پی کر کپکپاتے ہاتھوں سے ہمان کو تھمایا۔ ماہیر تم جاٶ زویا کے پاس میں پری کو سنبھال لوں گا ۔ وہ سر ہلاتا باہر چلا گیا۔ اب بتاٶ کیا ہوا تھا کیوں چیخی تھیں۔ کیا دیکھا تم نے ۔ ہمان کسی تفتیشی آفیسر کی طرح شروع ہو چکا تھا۔ وہ ہمان آپ کے جانے کے بعد نا لاٸٹ چلی گٸی تھی پتا ہے میں کتنا ڈر گٸی تھی ۔
لاٸٹ ۔ ہمان کو جھٹکا لگا زور کا کیونکہ اس وقت پورےگھر کی لاٸٹ تھی ۔ پھر کیا ہوا ۔ پھر وہ ونڈو کھلی تھی وہاں سے کوٸی اندر آیا تھا ۔واٹ کوٸی اندر آیا ایسے کیسے ممکن ہے اتنی ٹف سیکیورٹی پر بھی ۔ اس نے کچھ کیا تو نہیں تمہیں ۔ کوٸی نقصان تو نہیں پہنچایا ۔ دیکھاٶ مجھے ۔ نہیں کچھ بھی نہیں کیا پر ۔پر۔۔۔۔
کیا بولو مجھے پری میرے صبر کا امتحان مت لو ۔ وہ ایک گفٹ پیک پھینک کر گیا تھا ۔ اس میں وہ ۔مم۔م۔ممم۔م میری کیا میری ۔بولو ۔آنسو اس کے گال بھیگو رہے تھے آنکھیں لال ہو چکی تھی ۔ اس میں میری سفید شرٹ جو میں نے سارہ کی مہندی پر پہنی تھی وہ تھی۔ وہ پوری خون سے بھری ہوٸی جا بجا بلیڈ سے کٹ لگے تھے ۔ وہ ایک ہی سانس میں سب بول گٸی ۔ کہاں ہےگفٹ پیک وہ وہاں صوفے پہ ۔ یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے پری ۔تمہارا وہم ہوگا ۔ کوٸی برا خواب دیکھا ہوگا تم نے ۔صوفے پہ بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ گٸی ہوگی ۔ ۔
نہیں میرا وہم نہیں ہمان میں سچ کہہ رہی ہوں۔ مم۔م۔م۔میں نے ااااپنی آنکھوں سےد۔د۔ دیکھا تھا ۔ یہ کوٸی خواب نہیں تھا آپ کو میری بات پہ یقین کیوں نہیں میں جھوٹ نہیں بول رہی ۔ وہ سسک ہی تو اٹھی تھی۔ اتنی بے عتباری اسے برا لگا تھا ۔ہمان اس کی بات کو صرف برا خواب سمجھ رہا تھا ۔اس کیفیت اس کے احساسات اسے علم بھی نہ تھا وہ اس وقت کتنی مشکل سے سرواٸیو کر رہی تھی ۔خوف کے مارے اسکا جسم کانپ رہا تھا۔ روتے روتے وہ سر جھکا گٸی مانو ہار گٸی ۔ آپ کو میری بات پہ یقین نہیں ۔ آپ بہت برے ہیں ہمان ۔ مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی ۔یو ڈونٹ کٸیر می۔
اس کے الفاظوں پہ ہمان کا کلیجہ کٹ گیا ۔ دل کسی نے مٹھی میں لے لیا واقع اتنا تو اسے اس حادثے کا صدمہ نہیں تھا ۔جتنا اسے ہمان کی باتوں سے دکھ پہنچا تھا ۔
وہ کنچن آج پھر ہرٹ ہوٸی تھی ۔ہمان کا دل کیا وہ ڈوب مرے ۔
ہمان نے بنا کچھ کہے اسے خود میں سمیٹ لیا ۔اپنے ساتھ لگاۓ وہ اسے بیڈ تک لایا بلینکٹ اوڑھا کر خود بھی اس کے ساتھ دراز ہوگیا ۔ جانتا تھا۔ جب تک وہ نہیں سوۓ گا۔ پری بھی نہیں سوۓ گی ۔ لمحہ لمحہ اس کے بالوں میں انگلیا چلاتے وہ پری کی باتوں کو سوچتا اور الجھ جاتا آخر کون ہو سکتا ہے جو اتنی دیدہ دلیری سے اتنی سیکیورٹی کے باوجود نا صرف گھر میں بلکہ اسکے کمرے میں آن پہنچا۔ پھر اس طرح سے پری کو خوف زدہ کرنا اس کے کپڑے خون بلیڈ یہ سب بھلا پری سے کسی کی کیا دشمنی ۔ پری نیند میں ہی سسک اٹھی تھی۔ ہمان کی ساری توجہ سوچوں سے نکلتی پر کی جانب ہوگٸی۔ پوری رات وہ جاگتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عاشی کہیں جارہی ہیں آپ ۔ جی مما ۔وہ میں نے اپنا موباٸیل دیا تھا ۔ریپٸرنگ کے لیے وہی لینے جارہی ہوں ۔ رات میں ہمیں ٹھیک نہیں لگ رہا۔ ویسے بھی آجکل ہمان گھر ہی ہیں انہیں پتا چلا تو غصہ ہونگے وہ ۔اففو مما یہ میرا اپنا گھرہےاور پھر جب آپ اور زین مجھے کوٸی روک ٹوک نہیں کرتے تو پھر وہ کیوں خوامخوہ ہی سردار بنا رہتا ہے ۔بری بات عاشی ایسے نہیں کہتے کتنی بد لحاظ ہوتی جا رہی ہیں آپ ۔جاٸیں۔ اگر وہ کچھ کہتا ہ تو مطلب کہ اسے فکر ہے اپنے سے جڑے ہر رشتے کی ۔وہ پرواہ کرتاہے۔
دور دیکھا ہے آپ نے کون سا چل رہا ہے ۔ہاتھ کو ہاتھ کھا رہا ہے ۔ پھر بھی آپ کو سمجھ نہیں آتی ۔۔جاٸیں اب جاکے جلدی سے لے آٸیں ۔۔ اف ماما کا لیکچر ۔۔۔۔ وہ منہ میں بڑبڑاتی زن سے نکل گٸی ۔
ایکسکیوزمی ۔ جی میم ۔میں نے کچھ دن پہلے موباٸیل ریپٸر ہونے دیا تھا ۔ جی میم آپ سلیپ دیکھا دیں۔ یہ لیں ۔ اس نے پرس میں سے سلیپ نکال کر شوپ کیپر کو دی جی میم ۔ آپ دو منٹ ویٹ کریں ۔ اوکے ۔ وہ ادھر ادھر نظریں دوڑاتی۔ رہی یہ لیں میم آپ کا موباٸیل ۔ ۔تھینکس۔ ۔۔۔
شکر ہے ٹھیک تو ہوا اس عالی کی بچی کو نہ چھوڑوں گی نہیں میں نہ اس دن یہ زین کو کافی بنانے سے منع کرتی نہ ہی وہ غصے میں میرا موباٸی توڑتا۔ ۔۔۔
تھوڑی دیر ہی ہوٸی تھی کہ اچانک اس کی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ۔ افف یہ کیا ہوا اب اسے کیا مصیبت پڑ گٸی ۔باہر نکل کر انجن چیک کیا خاصا گرم ہو رہا تھا ۔ یہ اتنا آگ کی طرح کیوں جل رہا ہے اتنی لمبی تو ڈراٸیونگ بھی نہیں کی ۔
وہ شدید پریشان تھی اب تو لیٹ ہونا ہی تھا ۔اچھی خاصی ڈانٹ سننےکو ملے گی۔ مجھے اسنے غصے میں گاڑی کے بونٹ پہ کک ماری نتیجتاً اپنا پیر پہ آپ کلہاڑی مار بیٹھی۔ہیلو ۔۔۔کین ہیلپ یو ۔ عاشی نے مڑ دیکھا وہ ایک خوش شکل نوجوان جینس شرٹ میں ملبوس لڑکی تھی بالوں کی ٹیل پونی بنی تھی ۔ ماٸی نیم از نیہاں۔ یہاں سے گزر رہی تھی تو دیکھا آپ گاڑی پر جھکی تھیں لگتا ہے آپ کی گاڑی خراب ہوگٸی ہے۔
آ۔ نہیں خراب تو نہیں ہوٸی۔ پر سٹارٹ نہیں ہو رہی ۔ اور مجھے گھر جلدی پہنچنا ہے ۔ کوٸی بات نہیں نو پروبلم اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ڈراپ کردیتی ہوں ۔ عاشی کی اداسی پل میں زاٸل ہوٸی عصاب کچھ ڈھیلے پڑے ۔ اس نے اللہ کا شکر ادا کیا جو ہر حال میں اپنے بندوں کو یاد رکھتا ہے ۔ آر یو شیور ۔یس آٸی ایم شیور ۔ تھیکنس آلوٹ ۔ مینشن نوٹ یار۔ وہ دونوں ہی ہلکی پھلکی باتیں کرتی رہیں۔ کبھی عاشی کچھ کہتی تو وہ ہنس دیتی کبھی نیہاں کچھ اسے بتاتی تو عاشی حیرت سے اسے دیکھتی اور پھر ہنس دیتی ۔ عاشی کی ہنسی کو بریک اس وقت لگا جب اس نے گاڑی گھر کے رستے کے بجاۓ مخالف سمت پہ ڈال دی ۔ نہیا گاڑی مخالف سمت لے چکی تھی ۔نہیاں یہ تو تم نے رونگ ٹرن لے لیا ہے ۔ لیفٹ لینا تھا نا ۔ یہ رستہ میرے گھر کو نہیں جاتا ۔ عاشی نےمگن سے انداز میں بولتے جب اسکے چہرے کی طرف دیکھا تو اسے بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ۔
نہیاں کے چہرے پہ اجنبیت اور ایک پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔ جیسے دیکھ کے عاشی کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسنا گٸی ۔ تت تم کون ہو اور مجھے کہاں لے جارہی ہو ۔ دیر سے ہی صحیح تمہیں اجنبییت کااحسا تو ہوا ۔اواوووو دھیرج میری جان دھیرج ۔ سب پتا چل جاۓ گا۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے میری جان ۔صبر کرو ۔ بھاڑ میں گیا تمہارا صبر گاڑی روکو ۔مجھے گھر جانا ہے۔ وہ بری طرح چلاٸی تھی ۔ میں نے کہا گاڑی روکو ۔ تمہیں سناٸی نہیں دیتا ۔ بہری ہوگٸی ہو بلڈی وومین ۔ عاشی کا سکون برباد کر کے نہیاں پر سکون سی ڈراٸیونگ کر رہی تھی ۔ یہ گاڑی تو اب ایک ہہی دفع اور ایک ہی جگہ پہ رکے گی اور وہ میں ڈیساٸڈ کروں کی ۔ تم نہیں ۔ جب تک تم یہ سونگ سنو ۔
ڈونٹ وری میں تمہاری بوریت دور کرنے کے سب ہتھیار آٸی مین سب انتظام کر کے آٸی ہوں ۔ اس نے ہاتھ بڑھاکر ٹیپ آن کیا ۔۔۔۔تمم عاشی کچھ بولتی اس سے پہلے ہی نہیاں نے بیک سیٹ سے ریوالور نکال کر اس کی کنپٹی پہ تان دی چواٸس تمہاری ہے سونگ سننا پسند کرو گی یا پھر ۔۔۔۔ اس نے جملہ جان بوجھ کر ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔
عاشی ڈری سہمی سی اسکی بات ماننے پ مجبور ہوگٸی دوسرا کوٸی چارہ بھی تو نہ تھاوہ بری طرح اسوقت کو کوس رہی تھی۔ جس وقت انجی کہ منع کرنے باوجودوہ گھر سے اکیلے نکل آٸی۔
پر اب کیا کریں
جب چڑیا چگ جاٸیں کھیت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح کافی روشن اور پر نور تھی ۔ رات والے واقع کے بعد زویا اور ماہیر کے درمیان کوٸی سلسلہ کلام نہ جڑا تھا ۔ زویا نے بات کرنے کی کوشش نہ کی تو ماہیر بھی خاموش رہا وہ کوٸی وضاحت نہیں دینا چاہتا تھا ۔ جب اس کی نیت میں پری کو لے کر کوٸی کھوٹ نہیں تھا تو وہ کیوں صفاٸیاں پیش کرتا ۔ دوسری طرف زویا احساس کمتری کا شکار دل میں شکوے و غلط فہمیوں کا انبار جمع کیے بیٹھی تھی ۔ فالحال ماہیر کو خاموشی ہی اس مسٸلے کا بہترین حل لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کب آۓ ۔ رات میں آیا تھا ۔ ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھے میسم ماہیر سے پوچھ گوچھ کر رہے تھے ۔ اس کےبرعکس زویا خاموشی سے پراٹھے کے ساتھ انصاف کر رہی تھی ۔اس نے فکر کرنا چھوڑ دیا تھا ۔ سب کچھ تقدیر پہ چھوڑ کے وہ سکون سے رہنا چاہتی تھی ۔ ہمان صبح کام سے باہر نکل چکا تھا ۔ پری اب کافی حد تک سنبھل گٸی تھی ۔ رات بھر ہمان نے اسے اپنی خوبصورت پناہوں میں محفوظ کر رکھا تھا ۔ اس کا سارا ڈر سارا خوف جھاگ ہو چکا تھا ۔ یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔
دن کا تیسرا پہر لگنے کو تھا ۔ ٹھنڈی ہواٸیں ہلکی دھوپ ماحول کو سرد بنارہی تھی ۔ پری لان میں لگے صوفے کے طرز پہ بنے جھولے پہ بیٹھی تھی ۔ جو ہلکا ہلکا جھولتا رہتا ۔ سامنے لگی زرد اور گلابی پھولوں والی بیل ہوا کے دوش پہ رقصاں تھی ۔ مالی پودوں کو پانی دے کر جا چکا تھا۔ہرے بھرے پیڑ پودے درخت پھول پانی پڑنے سے نکھر سے گۓ تھے ۔ ایک دلفریب قدرتی منظر پری کی آنکھوں کو مسحور کر رہا تھا ۔ وہ اس منظرمیں کھو سی گٸی تھی ۔کل کی نسبت آج وہ حشاش بشاش سی کافی خوش نظر آتی تھی ۔
کاٸی کل کی فل سلیوس کی شرٹ اور کاٸی کلر کے چوڑی دار پاجامہ پہنے وہ اس ہریالی کا حصہ لگ ہی تھی ۔ دوپٹہ کاندھے پہ لٹک رہا تھا ۔ سرخ و سفید رنگت پیلی نارنجی دھوپ پڑنے سے روشن تھی ۔ تراشیدہ ہونٹ ریڈ لیپ سٹک سے پوشیدہ تھے ۔ پاٶں میں سلور ساٸیڈ نگوں کی بارک سی پٹی والی سلیپر پہنے وہ دنیا و جہاں سے بےخبر کوٸی ملکہ لگ رہی تھی۔ جو بڑی ہی شانِ بے نیازی سے تخت ہزارے پہ بیٹھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین ممتا اور افی صاحب تو کچھ دن پہلے ہی کینیڈہ جا چکے تھے ۔ پری نے کافی اسرار کیا کہ وہ کچھ دن تو رک جاٸیں پر بزنس کی وجہ سے انہیں جانا پڑا ۔ میسم نے پری کے یہاں رکنے پر کچھ کہنا چاہا اس پہ انجی نے یہ کہہ کر چپ کروادیا کہ ہمان کی پوسٹنک آج کل یہا ہی ہے ۔ کچھ دن پری کو ساتھ رہنے دیں اور ویسے بھی اب تو وہ دونوں حلال رشتے میں بندھ چکے ہیں ۔ ناچار میسم کو گردن اثبات میں ہلانی پڑی ورنہ اسطرح پری کا ہمان کے ساتھ رہنا برا لگا تھا ۔ اگر میسم نہ بھی مانتا جب بھی ہمان نے اپنی ہی کرنی تھی ۔ تو میسم کی مزاہمت بےکار تھی ۔ اس لیے بچوں کی خوشی میں خوش وہ چپ ہو گۓ ۔ مگر ناجانے اندر کچھ عجیب سا لگا تھا ۔ جیسے کچھ ہے جو ان سے مخفی ہے پر وہ اگنور کر گۓ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلی رات
نہیاں عاشی کو ایک اندھیری جگہ پہ لے آٸی تھی ۔ ہر طرف رسیوں سے بنھے پیک کارٹن رکھے تھے ۔ اندھیرا اتنا زیادہ بھی نہ تھا کہ وہ دیکھ سکتی۔ کوٸی مل یا کوٸی پرانا کارخانہ تھا ۔ جا بجا جالے لگے تھے اور وہ عاشی کی کنپٹی پہ بندوق کی نال رکھے اسے آگے گھسیٹ رہی تھی ۔ وفعتاً اس نے اس بغیر سنبھلے دکھا دیا ۔ جس سے وہ پیچھے رکھی کرسی پہ بری طرح گری تھی ۔ اس کی ہلکی سی چیخ نکلی تھی۔
رابن۔۔۔۔۔۔ نہیاں کی چینگھاڑتی آواز پہ اس کا پارٹنر رابن کسی بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا ۔ لو آگیا تمہارا مال یہاں تک کا کام میرا تھا ۔اب آگے تم سمبھالو اس چڑیا کو ۔ جینس شرٹ میں ہینڈسم سا رابن قدم قدم چلتا عاشی کے پاس آیا ۔ دونوں ہاتھ کرسی کے پیچھے لے جاکر مضبوطی سے باندھ دیے ۔
ڈری سہمی سی عاشی نے ہمت نہ ہارتے ہوۓ ہاتھ کھولنے کی کوشش کی مگر بے سود ۔ غصہ عود آیا تھا ۔ ویسے بھی وہ غصے کی تیز تھی پھٹ پڑی ۔ کون ہو تم لوگ اور کیوں لے کر آۓ ہو مجھے یہاں ۔ کیا چاہتے ہو ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *