Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode40

Pari By Shanzey Rajpoot Episode40

سب لوگ لاٶنج میں بیٹھے ہمان کا انتظار کر رہے تھے۔آج ان سب نے شاپنگ کرنے جانا تھا۔ کل تو پھر آٸینہ اور ہمان کی رسمِ حنا رکھی تھی۔
پری جو پانی پینے کی غرض سے نیچے کچن کی طرف آ رہی تھی۔ان سب کو بیٹھا دیکھ اگنور کر کے آگے چل دی۔سارہ جلدی سےاس کے پیچھے آٸی ۔
”پری تم بھی ہمارے ساتھ شاپنگ پر چلو“۔ ”نہیں مجھے فضول کاموں میں کوٸی دلچسپی نہیں “۔
وہ رسانت سے انکار کر گٸی۔”ارے ایسے کیسے یار چلو نا ہماری خاطر“۔ عالی نے اسے منانا چاہا۔”ہاں پری چلو بہت مزہ آۓ گا“۔
زویا نے بھی اس سے کہا تو وہ مزید جھنجلا گٸی۔
”شادی میری تو نہیں ہے۔پھر مجھےکیوں بیچ میں گھسیٹ رہے ہیں۔جس کی شادی ہے وہ جاۓ“۔
وہ بے تاثر لہجے میں کہتی اوپر اپنے کمرے میں چلی گٸی۔
سارہ اور عالی کافی دکھی تھیں کہ پری نہیں جارہی ورنہ وہ ہر شاپنگ میں سب سے آگے ہوتی تھی۔
”کہاں جا رہی ہو ہمان بس آنے والا ہو گا“۔ سارہ نے آٸینہ کو اٹھتا دیکھ کر پوچھا۔ ”بس پانچ منٹ یار میں بس ابھی آٸی“۔
”کیا میں اندر آسکتی ہوں“۔
آواز کی سمت میں دیکھ کر پری کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔آٸینہ اپنے مخصوص مغریبی لباس میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔
سلیو لیس نیوی بلیو شرٹ اوپر نیٹ کی شرک اور ٹاٸیٹ نخنوں سے اوپر تک آتی جینس۔ کرل بال جوڑے میں مقید تھے۔جس کی کچھ لٹیں چہرے پہ بیکھری تھیں۔
اسے دیکھ کے پری کے چیرےکےنقوش تن گۓ۔
”فار یور کاٸینڈ انفار میشن مس آٸیں باٸیں شاٸیں😂😂۔
آپ اندر آ چکی ہیں“۔ وہ بیڈ سے کھڑی ہو کر اسکے پاس آ کر تیزی سے بولی۔
”چلو کوٸی بات نہیں۔ ویل تھینکس“۔پری نے مڑ کر قدرے الجھن سے اسے دیکھا جو مسکرا کر اسے شکریہ کہہ رہی تھی بھلا کیوں وہ سمجھ نہ سکی۔ پر آٸینہ اس کے تاثرات سمجھ گٸی تھی اس لیے مزید بولی۔
”اچھا ہوا تم نے شاپنگ پر جانے سے انکار کر دیا۔ تم ہوتیں تو ہمان اور میں ٹھیک سے شاپنگ نہیں کر پاتے۔وہ کیا ہے نہ کہ زخم ابھی تازہ ہے ہمان کا“۔
” تمہیں اپنے سامنے دیکھےگا تو سیڈ سیڈ ہوجاۓ گا اور مجھے بھی اچھا نہیں لگے گا کہ اس کی ایکس منکوحہ“۔
ایکزکیوز می۔!!!!
”تصحیح کرو اپنے جملے کی۔ میں اب بھی ہمان کی منکوحہ ہوں“۔پری نے تیزی سے اس کی بات کاٹی۔اسے کہاں برداشت تھی کسی کے منہ سے ایسی بات۔
پری نے تقریباً چلا کر کہا۔
” پڑھ لکھ کر سب پیچھے پھینک دیا ہے کیا جو ایکس کا مطلب بھی نہیں پتا۔یا پھر سفارش پر پاس ہوٸی ہو“۔
”اوپسسسسس سوری“۔
وہ ایک ادا سے ہونٹوں کو گول شیپ میں کر کے دنوں آٸیبرو اچکا کر بولی۔ اور دروازے کی سمت چلدی۔
پری نے سکھ کا سانس لیا۔چہرے پہ اب بھی غصہ ھا۔
وہ جاتے جاتے مڑی۔”ویسے ایک بات تو بتاٶ۔ تم نے شادی سے انکار کیوں کیا تھا“۔ پری فوراً مڑی۔
چہرے کا رنگ یکا یک بدلا تھا۔
ماتھے پہ چار بل پڑھ چکے تھے۔آنکھوں میں شدید غصہ سموۓ وہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے اس کی طرف بڑھی۔
اس کے تاثرات دیکھ کرآٸینہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوٸی۔
”شادی کرنےلیے زندہ سلامت رہنا بہت ضروری ہے مس آٸینہ“۔اور ”مجھے تمہاری باتوں سے لگتا ہے کہ تمہیں زندگی پیاری نہیں“۔پری نے اسے غصے سے کہا۔
آٸینہ گھبرا کر نیچے چلی گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”چلیں شاپنگ پر “۔”ریڈی ہو تم لوگ“۔ ہمان نے لاٶنج میں داخل ہوتے پوچھا۔حماد بھی اس کے ساتھ ہی تھا۔”ہاں ہم تو کب سے ریڈی ہیں“۔ آٸینہ نے کھڑے ہو کے اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کے کہا۔
ہمان نے ایک نظر سب کو دیکھا سب تھے سواۓ پری کے۔ ”پری نہیں چل رہی شاپنگ پر۔ہنان نے سرسری سا پوچھا“۔”نہیں ہم نے پوچھا تھا اس سے اس نے انکار کر دیا“۔عالی نے افسردہ دل سے بتایا۔
”چلو کوٸی بات نہیں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوگی۔چلو ہم تو چلتے ہیں“م
وہ لوگ پورچ کی جانب چل دیے۔
حماد کے ساتھ گاڑی میں زویا اور عاشی بیٹھی تھیں جبکہ۔ہمان کی گاڑی میں سارا اور عالی۔
ہ لوگ پورچ میں کھڑے ابھی گاڑی میں بیٹھ ہی رہے تھے۔ جب پری بھی وہاں آ گٸی۔ کاہی رنگ کی شیفون کی کرتی جس کے گلے پی باریک کاہی گرین موتیوں کے کام کی تین انگل چوڑی پٹی لگی تھی۔
کاہی رنگ چوڑی دار پاجامہ پہنے وہ ہمیشہ کی طرح دلکش لگ رہی تھی۔ دوپٹہ ایک طرف کندھے پہ لٹکا ہوا کے دوش پہ اڑ رہا تھا ۔آج بھی سنہری زلفیں پشت پر بکھری پڑی تھیں۔
پیروں میں سلور پرلز کی باریک سے سٹریپ والی سلیپر تھیں جس میں اس کے گورے پاٶں بے حد خوبصورت لگ رہے تھے پیروں کے اطراف میں چلنے کی وجہ لالی سی بیکھری ہوٸی تھی۔ جن سے وہ نیچی نگاہیں کیے سہج سہج قدم اٹھاتی چلی آ رہی تھی۔
ہمان ڈراٸیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔آٸینہ گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی کہ اس کا موباٸیل رنگ کرنے لگا تو۔وہ کال ریسیو کرتی ساٸیڈ پر چلی گٸی۔
پری چلتی ہوٸی ہمان کی کار کے پاس آٸی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر وہ بیٹھنے ہی لگی تھی ۔جب آٸینہ نے اسے جا لیا۔” پری“۔۔۔۔ پری نےسوالیہ انداز سے ایک آٸیبرو اچکاٸی۔
”یہ میری جگہ ہے“۔ آٸینہ نے اسے یاد دلایا۔
پری نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔”یہ جگہ تمہاری ہے تودیکھاٶ پراپرٹی پیپرز“۔ ”میں کچھ سمجھی نہیں“۔
”تم پیچھے بیٹھ جاٶ۔میں پیچھے کیسے بیٹھ سکتی ہوں“۔وہ قدرے اچھنبے سے بولی۔
”کیوں پیچھے کانٹے لگے ہیں۔یا پھر آ گے پھول لگے ہیں“۔
پری کی باتیں تھیں آٸینہ کو اپنا چہرہ دھواں دھواں ہوتا محسوس کیا۔
پری نے گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ بند کیا اور سیٹ بیلٹ باندھا۔ہمان نے ایک نظر اسے دیکھا پر ونڈ سکرین کے پار دیکھنے لگا ۔وہ پہلے ہی مرر میں پری کو آتا ہوا دیکھ چکا تھا۔اس لیے کوٸی ری ایکٹ نہیں کیا
وہ جلتی کڑھتی پیچھے آ کر بیٹھ گٸی اور دروازہ زور سے بند کیا۔”آرام سے آٸینہ یہ گاڑی پری کی ہے“۔ سارہ نے اسے سےبتانا ضروری سمجھا۔
پری کا وہ روب بھرا انداز۔ اب اسے سمجھ میں آیا تھا۔
”یہ جگہ تمہاری ہے۔“۔” تودیکھاٶ پراپرٹی پیپرز۔ میں کچھ سمجھی نہیں“۔
اوہ تو یہ گاڑی اس کی ہے اسی لیے یہ ایسا کہہ رہی تھی۔ وہ قدرے مطمٸن ہوٸی ورنہ آٸینہ کے دل میں پری کی باتوں سے ہزاروں وسوسے پیدا ہونے لگے تھے۔
اسے لگا کہیں پری دوبارہ شادی کے لیے راضی تو نہیں ہوگٸی۔جبھی وہ اس طرح سے حق جتا رہی تھی۔۔
”سوری مجھے پتا نہیں تھا“۔آٸینہ زرا شرمندہ ہوٸی۔ ہمان نے گاڑی سٹار ٹ کی تو پیچھے حماد بھی گاڑی سٹار کر چکا تھا۔
دونوں گاڑیاں سڑک پر آگے پیچھے رواں دواں تھیں ۔
پری نڈو سے باہر دوڑتے بھاگت مناظر دیکھنے میں خود کو مصروف ظاہر کر رہی تھی۔ ساتھ بیٹھا ہمان اپنی بے وفا کنچن پر ایک آ دھ نظر ڈال لیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مال پہنچ کر انچ کر وہ لوگ گاڑی پاک کر کے اندر گۓ سارہ عالی نے پری کو اپنے ساتھ گھسیٹ لیا۔جبکہ ہمان آٸینہ کا ہاتھ تھامے آ گے بڑھ گیا۔پری نے اسے دیکھا تو گویا واقع ہمان اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہے۔
وہ لوگ اپنی اپنی شاپنگ میں مصروف ہو گۓ۔
ہمان آٸینہ کو ایک براٸیڈل شاپ میں لے آیا تھا۔کیا ہوا ۔آٸینہ نے یوں ہمان کو ستون سے ٹیک لگاتے دیکھ کر پوچھا۔
”اونہوں ۔۔کچھ نہیں تم اپنی شاپنگ کرو“ ۔بول کر وہ خود موباٸیل میں مصروف ہو گیا۔
آٸینہ کپڑے دیکھنے لگی۔تھوڑی دیر میں سارہ عالی پری سمیت اسی شاپ میں آ گٸیں۔ہمان نے جلدی سے موباٸیل پینٹ کی پاکٹ میں ڈالا اور آٸینہ کے پاس آیا۔
”نہیں یہ نہیں دوسرا ۔یہ رنگ تم پر بالکل اچھا نہیں لگے گا ۔یہ دیکھو یہ والا پیارا ہے۔مجھے تو یہ پسند ہے“۔
وہ جو اپنے لیے کپڑے خود پسند کر رہی تھی۔ ہمان کو پسند کرتے دیکھ وہ خوشی سے مسکرا اٹھی۔ پری نے دیکھا وہ دونوں ایک دوسرے کو مسکرا مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔
وہ پیر پٹختی شاپ سے باہر آ گٸی۔
بامشکل اس نے اپنے آنسوٶں پر بند باندھا ہوا تھا۔ سر تھا کہ درد سے پھٹنے کو تھا۔ ہمان نے گلاس وال سے دیکھا ۔وہ باہر کھڑی کنپٹی مسل رہی تھی۔یقیناً اس کے سر میں درد تھا۔
ان کی شانگ مکمل ہوٸی تو وہ لوگ باہر آۓ۔
”مجھے تواب زوروں کی بھوک لگنے لگی ہے ہمان پلیز کچھ کھلا ہی دو“۔
کنپٹی مسلتی پری کے ہاتھ ساکت ہو گۓ۔اس کے لیے بہت ضبط کا وقت تھا۔جسے وہ جیسے تیسے جھیل رہی تھی۔
”چلو پھر یہ سامنے ریسٹورینٹ شاپ ہے۔ یہاں بیٹھ کر سکون سے کچھ کھاٸیں گے“۔
حماد کے بولنے کی دیر تھی سارہ سب سے پہلے پہنچی۔
وہ لوگ اپنی اپنی چیٸیر گھسیٹ کر بیٹھ گۓ۔”ویٹر کم ہیٸر
ہمان نے ویٹر کو آواز دی“۔
”یس سر ہاٶ کین آٸی ہیلپ یو ۔بھٸی جلدی جلدی بتاٶ کیا کھانا ہے تم سب نے“۔
”میں تو میٹ بال پاسٹا کھاٶں گی۔رہنے دوسارہ اتنا زیادہ ہوتا ہے وہ نہیں کھایا جاۓ گا تم سے ۔یونہی ضاٸع کرو گی“۔
سارہ کے منہ بنانے پر اس نے وہی آرڈر کر دیا۔
”میرے لیے تو پستا آٸیس کریم منگا لو بس“۔ عالی نے فوراً بولا اور ”پلیز میرے لیے بھی۔“ عاشی نے بھی یہی منگوالیا۔
آٸینہ نے کافی اور چاٸینز آراڈر کیا تھا۔
”پری تم کیا لو گی“ ۔ہمان کی آواز پہ اس نے سر اٹھا کہ دیکھا ۔بولی کچھ بھی نہیں بس خاموش تھی۔
ہمان نے سر جھٹک کے اپنا آرڈر پلیس کروایا۔
”رسملاٸی“۔دونوں نے ایک ساتھ کہا لمحے بھرکو نظریں ملیں۔پری نظریں جھکا گٸی۔سب اس عجیب اتفاق پر حیران تھے پر پھر سب پہلے جیسا ہوگیا۔
”دو رسملاٸی لے آٸیں“۔
سب کا آرڈر آ چکا تھا ۔سب کھانے کے ساتھ تاتھ ہلکی پھلکی باتیں بھی کر رہے تھے۔
پری رس ملاٸی کھا کم گھور زیادہ رہی تھی۔عالی نے اسے کہنی ماری تو وہ اسے دیکھنے لگی۔”گھور کیا رہی ہو پری رسملاٸی کھانے کے لیے ہے گھورنے کے لیے نہیں“۔
”ہممم“۔ وہ اثبات میں سر ہلا گٸی۔نظر جب کافی پیتی اور چاٸینیز کھاتی آٸینہ پہ گٸی جو اپنا دوسرا ہاتھ ہمان کے کندھے پہ رکھ چکی تھی۔
ایک غصے کی لہر اس کے اندر دوڑ گٸی۔اس نے چمچ لینے کی غرض سے ہاتھ بڑھایا۔چمچ کافی کے مگ کے پاس ہی پڑے تھے اس نے چمچ اٹھایا اور ایک نظر سب کو دیکھا جو باتوں میں مگن تھے۔
پری نے چمچ کافی کے مگ پر ہلکا سے مارا کافی کا مگ ڈھلک کر پاس پڑی چاٸینز کی پلیٹ میں گِرا۔
آٸینہ کا منہ دیکھنے والا تھا۔سارہ سمیت سب کا فلک شگاف قہقہہ لگا تھا۔
مع سواۓ ہمان کے ۔وہ مسکرا بھی نہ سکا۔
کافی چھلک کر اس کے کپڑے بھی گندے کر گٸی ۔
ہمان کے کندھے پہ رکھا ہاتھ اس نے جلدی سے ہٹایا اور شرٹ کو جھڑکایا جو داغدار ہو چکی تھی۔پری مزے سے رسملاٸی کھا رہی تھی۔
ہمان نے اسے ٹیشو دیا۔
وہ ایکسکیوز کرتا شاپ سے باہر آ گیا۔
باہر آکر اس ک قہقہہ گونجا تھا۔پھر وہ ایسا ہنسا ایسا ہنسا کہ ہنستا ہی چلا گیا۔آس پاس آتے جاتے لوگ اسے حیرت سے تک رک رک کر دیکھنے لگے۔
وہ رسملاٸی کھاتے مسلسل پری کی حرکتوں کو نوٹ کر رہا تھا۔چمچ اٹھاتے تک تو سب ٹھیک تھا ۔اس کے بعد جو اس نے ارد گرد دیکھ کر کافی کے مگ پر ضرب لگا کر کافی گراٸی تھی۔اس حرکت پہ تو ہمان بامشکل اپنا قہقہہ روک پایا۔
اس پہ تضاد وہ ارد گرد سے بے نیاز ہو کر رسملاٸی کھانے لگی۔ہمان کو لگا کچھ دیر اور اگر قہقہ روکا تو پیٹ میں درد ہی ہوجانا ہے۔
وہ ہنسی روکتا اندر ریسٹورینٹ میں چلا گیا۔آٸینہ نے غم و غصے میں دوبارہ کچھ آرڈر نہیں کیا ۔ہمان کہتا ہی رہ گیا۔پھر وہ بل پے کر کے گھر کی طرف روانے ہو وگۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٸینہ تم ابھی تک تیار نہیں ہوٸیں۔ نہیں۔سارہ میرے کپڑے نہیں مل رہے۔وہ پریشانی سے بولی۔ایسے کیسے نہیں مل رہے۔تم عالی کے شاپنگ بیگز میں دیکھو سب ایک ساتھ ہی رکھے تھے۔ ہو سکتاہے کہ اس کے پاس ہوں۔
سارہ متفکر سی بولی۔وہ دنوں ادھر ادھر ڈھونڈ ہی رہی تھیں۔ اتنےجب عالی ہاتھ میں دو شاپنگ بیگز پکڑے ان کے پاس چلی آٸی۔
یہ لو پکڑو اپنے کپڑے ۔یہ تو تم میرے پاس ہی بھول گٸی تھیں۔رات میرے کمرے میں ہی شاپنگ بیگز بکھیر کہ پڑی تھیں محترمہ۔اب خود کو ہی یاد نہیں۔
عالی نے اسے بیگز تھماتے کہا۔چلو اب تو کپڑے بھی مل گۓ تم جلدی سے ریڈی ہو جاٶ۔ہم لوگ بھی بس تیار ہونے جا رہے ہیں۔تھوڑی دیر میں مہمان بھی آجاٸیں گے۔
سارہ اسے ہدایت کرتی خود بھی عالی کے ساتھ تیار ہونے چلی گٸی۔ آٸینہ شاور لینے چلی گٸی۔
عالی عاشی سارہ اور زویا سب تیار ہو چکی تھیں۔عالی اور عاشی کے کپڑے ایک جیسے تھے۔ زرد رنگ کی ساڑھی پہنے دونوں بالکل منفرد اور سب سے الگ لگ رہی تھیں۔
سارہ نے گلابی شارٹ کرتی اور زرد رنگ کا شرارہ زیب تن کیا تھا۔ہلکا سا میک اپ کیے اور کھلے بالوں میں وہ پیاری سی لگ رہی تھی۔
زویا نے بھی زرد رنگ کی ساڑھی پہنی تھی ۔جس کا بلاٶس نارنجی رنگ کا تھا۔بال سٹریٹ کیے وہ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہی تھیں۔
وہ لوگ آٸینہ کے روم میں آ گٸیں۔آٸینہ بالکل تیار تھی بس بالوں میں برش چلاتی انہیں بار بار ٹھیک کر رہی تھی۔
اچھی لگ رہی ہو۔سارہ نے اسے کندھوں سے تھام کے رخ اپنی طرف کرکے کہا۔
اور تم سب بھی بہت پیاری لگ رہی ہو پر زویا بھابھی آپ تو سب سے زیادہ پیاری لگ رہی ہیں۔ آٸینہ نے ستاٸش سے پر لہجے میں کہا۔
ارے اب بس بھی کرو نیچے چلتے ہیں۔ساری تعریفیں تم ہی کرو گی کیا کچھ لڑکوں کو بھی تو دیکھاٸیں کہ آخر ہم چیز کیا ہیں۔عالی کے بولتے ساتھ ہی سب مل کر ہنسیں تھیں۔
چلو پھر دیر کس بات کی ہے سارہ ان سب کے ساتھ نیچے آ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا گھر زرد رنگ کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ہر طرف موتیے اور گیندے کی بھینی بھینی خوشبو ماحول کو خواب ناک بنا رہی تھی۔
تقریباً سارے مہمان آ چکے تھے۔ماہیر اور رافع مہمانوں کے پاس کھڑے گفتگو میں مگن تھے ۔نین زین کے ساتھ ایک طرف کھڑا تھا۔نین قطع اس شادی سے خوش نہیں تھا۔وہ اپنی پری کو اچھی طرح جانتا تھا۔
اس شادی کے پیچھے ضرور کوٸی نہ کوٸی بات تھی۔ جبھی وہ اتنا بڑا قدم اٹھا رہی تھی۔ورنہ وہ اتنی مضبوط اور بہادر تو کبھی نہ تھی۔نین نے اپنی سوچوں کو لگام دی۔جو بھی تھا اسے شادی تک اپنا موڈ ٹھیک رکھنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفید کرتے پاجامے میں گلے میں رنگ دھاری چنری کا پٹکا ڈالے بالوں کو سلیقے سے سیٹ کیے وہ پورے ماحول پہ چھایا ہوا تھا۔وہ مسکراتا تو آنکھیں میں میں چمک ابھر آتی۔وہ اپنی پوری مردانہ وجاہت کے ساتھ ہر ایک دلوں کی دھڑکن بنا ماحول کو سحر انگیز کر رہا تھا۔
پورا لاٶنج برقی قمقموں سے سجا ہوا تھا۔ لاٶنج کے ساٸیڈ میں ایک طرف کر کے جھولا لگایا تھا۔جسے موتیے اور گیندے نے مکمل طور پر اپنے اندر چھپایا لیا تھا۔اس کے کناروں پر چھوٹی چھوٹی لاٸٹس لگاٸی گٸی تھیں۔
جھولے کے اوپر وسط میں پھولوں کا ایک گل دستہ جھومر کی شکل میں بنا کے سجایا گیا تگا اور اس کے اطراف میں موتیے کی لڑیاں لٹکاٸی گٸی تھیں۔ غرض جھولا حد درجہ خوبصورت بنایا گیا تھا۔
تھوڑی ہی دیر میں خوشبوٸیں بکھیرتی لڑکیاں آٸینہ کو لے کر سیڑھیوں سے آتی دیکھاٸی دیں۔ سارہ اور عالی نے آٸینہ کو جھولے پہ بیٹھایا۔ آٸینہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
سلیو لیس نیٹ کی زرد رنگ کرتی جس پہ گوٹے اور زری کا کام ہوا تھا۔نیچے ٹی پنک شرارہ پہنے سر پہ دوپٹہ سجاۓ وہ مسکرارہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رسم شروع ہو چکی تھی۔ممتا تو نیچے ہی نہ آ ٸی تھیں۔ایک ماں بھلا کیسے اپنی بیٹی کی خوشیوں کے جنازے میں شامل ہوتی۔کسی نے ان کو بلانے کی کوشش نہیں کی سب ہی جانتے تھے۔انہیں کتنا بڑا دھچکا لگا تھا ۔
ممتا تو پری سے شادی سے انکار کی وجہ بھی نہ پوچھ سکیں انہیں ڈر تھا کہ جانے انجانے میں ہی صحیح کہیں پری کو اس کی بیماری کے بارے میں پتا نہ چل جاۓ۔
ہادی بیگم انہیں ایک بار بلانے گٸیں تھیں۔کیونکہ سب مہمان ان کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔پر ممتا نے انکار کر دیا۔
تو وہ چپ چاپ نیچے آ گٸیں۔اگر کوٸی ممتا کا پوچھتا تو وہ یہی جواب سب کو دے رہی تھیں کہ ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔اس لیے نہیں آٸیں۔
میسم کافی خوش دیکھاٸی دے رہے۔بغیر کسی دقت کے ان کی دلی مراد پوری ہوگٸی تھی۔انہیں کسی قسم کی محنت نہیں کرنی پڑی ورنہ وہ یہی سوچ رہے تھے کہ ہمان کو شادی سے انکار کرنے کے لیے کیسے مناٸیں گے۔۔
انہیں تو ہمان کا رد عمل سوچ سوچ کر ہی پریشانی نے گھیرا ہوا تھا۔ پر اب وہ پر سکون تھے۔ابرار نے میسم کے چہرے پہ جانچتی نظروں سے کچھ کھوجنا چاہا پر وہ ناکام رہے۔ ان کے چہرے پہ تو سواۓ خوشیوں أور مسکراہٹ کے کچھ بھی نہ تھا۔
سب لوگ رسم کر رہے تھے۔ممتا بیگم تو ویسے بھی یہاں تھیں نہیں ہادی بیگم اوپر کے کام سنبھال رہی تھیں۔اس لیے مجبوراً انجی کو آٸینہ کے پاس رسم کے لیے جانا پڑا۔کڑا دل کر کے وہ اس کے پاس جھولے پر آ بیٹھیں۔
ابٹن کی تھال میں سے دو انگلی ابٹن کی بھر کر اس کے ہاتھ پہ رکھے پان پتے پہ لگاٸیں۔پھر زرا سی مٹھاٸی کھلا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دے کر اٹھ گٸیں۔آنکھوں میں اب نمی اتر چکی تھی۔
ہمان قدم قدم چلتا انجی کے پاس آیا۔انجی نے جلدی سے اپنے آنکھوں کے نم گوشے صاف کیے۔ انجی پری کدھر ہے۔اسے بلاٸیں۔
انجی نے غصے سے ہمان کو بس ایک نظر دیکھا۔
کوٸی کسر باقی رہ گٸی ہے ہمان۔ جو مزید انہیں تڑپنے کے لیے ہم انہیں یہاں بلا لاٸیں۔
فار گاڈ سیک انجی! یہ راہیں اس کی خود کی منتخب کردہ ہیں۔۔پھر مجھے کس بات کے لیے قصوروار ٹہرا رہی ہیں۔ انجی نے منہ دوسری طرف کر لیا۔شاید وہ ہمان کی کو مزید سننے کے موڈ میں نہ تھیں۔
انجی پلیز! اس وقت یہاں سب پری کا پوچھ رہے ہیں۔سب موجود ہیں سواۓ پری اور ممتا چاچی کے۔ممتا چاچی کا تو کہہ دیا ہم نے کہ طبیعت ٹھیک نہیں اور پری کا کیا کہیں گی۔
آپ پلیز پری کو بلاٸیں۔ہم مہمانوں کو کیا جواب دیں گے۔جب وہ یہ راہ چن ہی چکی ہے تو اس راہ پر چلنے کی سکت بھی ہونی چاہیے۔ ہمان بے لچک لہجے میں بول کر دوبارہ مہمانوں کے جھرمٹ میں گم ہوگیا تھا۔
ناچار انجی کو پری کو بلانے جانا ہی پڑا۔کیونکہ مہمانوں میں کچھ قریبی رشتہ دار بھی موجود تھے جو بار بار پری کا پوچھ رہے تھے۔
ماہیر کی شادی میں پری ہمان کے ساتھ ساتھ ہی تھی۔ جبھی وہ ان سب کی نظروں میں آ گٸی تھی۔ایسے میں اب ہمان کی شادی میں پری کا نہ ہونا سیدھا سیدھا پری اور ہمان کا اسکینڈل بننا تھا۔
سب مہمان یہی سوچتے کہ پری ہمان سے محبت کرتی ہے اس لیے وہ اس شادی میں شریک نہیں ہورہی۔گھر کی عزت کی خاطر ہی انجی بھی چپ ہو گٸی تھیں۔
ورنہ ان کا بالکل بھی دل نہیں چاہ رہا تھا کہ پری یہ فنکشن اٹنیڈ کرے۔ان کا بس چلتا تو وہ پری کو اپنے سینے میں کہیں چھپالیتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری آپ یہاں کیا کر رہی ہیں۔ نیچے چلیں ہمارے ساتھ۔انجی نے پری کے کمرے میں آتے پری کو کھڑکی میں کھڑے پا کر نرمی سے بولا۔
نہیں انجی میرا دل نہیں کر رہا۔میں نیچے جا کر کیا کروں گی۔ وہ بغیر مڑے ہی ہی بولی۔اسے پتا تھا اب انجی اسے نیچے جانے کے لیے مجبور کریں گی۔ پر اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کسی طور اس شادی میں شامل نہیں ہوگی۔
ہم آپ کے دل کا حال اچھی طرح جانتے ہیں پری۔پر ہم کیا کریں ہم مجبور ہیں۔سب لوگ آپ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔نیچے چلیں۔انجی نے پری کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر پیار سےکہا۔۔
جیساکہ آپ سوچ رہی ہیں کہ میں اس شادی پہ بہت غمگین ہوں یا پھر اداس ہوں۔تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے انجی۔
آپ پلیز جاٸیں نیچے۔کوٸی پوچھےتو کہہ دیجیے گا کہ وہ سو چکی ہے۔
اتنا آسان نہیں ہے یہ سب پری۔جتنا آپ سمجھ رہی ہیں۔ہمان کے ساتھ گزارے کٸی لمحے لوگوں کی نظر میں آچکے ہیں۔اگرآپ نیچے نہ گٸیں۔تو لوگ طرح طرح کی باتیں بناٸیں گے۔کچھ نہیں تو ہماری عزت کی خاطر ہی نیچے چلیں۔
انجی کسی طرح پری کو نیچے لے جانا چاہتی تھیں۔وہ واقع مجبور تھیں اس وقت۔
ورنہ دل تو ان کا بھی نہیں کر رہا تھا نیچے جانے کو۔ تو وہ پری کو کیا لےکر جاتیں۔
پری نے بے بس نظروں سے انجی کو دیکھا۔ہماری جان میرے دل کا ٹکڑا۔ چلیں اٹھیں جلدی سے ہم آپ کے کپڑے نکال دیتے ہیں۔انجی نے اسے مسکراتے ہوۓ پیار سے پچکار کر ماتھے پہ بوسہ دیا۔
پری بجھے دل سے اٹھ کر کپڑے لیتی واشروم چلی گٸی۔ انجی نے اسے تیار کیا تھا۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ پھر انجی اسے اپنے ہمراہ نیچے لے کے آ گٸیں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *