Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode19
Pari By Shanzey Rajpoot Episode19
حماد نے انہیں ساٸیڈ پہ ہو کر اندر آنے کا رستہ دیا ان کے پیچھے ہی عاشی بھی اندر داخل ہوٸی ۔ وہ ہم تو یہاں پری سے ملنے آۓ تھے تو ساتھ میں عاشی بھی ہمارے ساتھ آ گٸیں
دراصل کچھ کہنا چاہتی ہیں عاشی آپ لوگوں سے ۔
انجی رک رک کر بول رہی تھیں کہ کہیں سب کو عاشی کا یہاں لانا برا نہ لگے۔
پری انجی کو دیکھ کر کافی خوش تھی ۔ وہ بھاگنے کے انداز میں انجی کے پاس آٸی اور ان کے گلے سے لگ گٸی ۔ انجی آپ اتنے دن بعد کیون آٸی ہیں ۔ آپ نے مجھے مس نہیں کیا۔۔ پتا ہے میں نے آپ کو کتنا مس کیا ۔ایسے ہی۔ مس نہیں کیا ہم نے آپ کو بلکہ بہت مس کیا ۔
انجی نے پری کو خود سے الگ کیا ۔ پری عاشی آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں اور پھر انجی نے اس کا رخ عاشی کی طرف کردیا عاشی نے ایک نظر پری کو دیکھا جس کے چہرے بناتاثر کے معصومیت لیے ہوۓ تھا
انجی ٹھیک کہتی ہیں پری بہت سادہ سی معصوم لڑکی ہے عاش نے آگے بڑھ کر پری کے آگے ہاتھ جوڑ دیے پری صدمے کی سی کیفیت میں دو قدم پیچھے ہٹی یہ یہ ۔۔۔!!!!
کیا ۔۔!!!کیا کر رہی ہو تم عاشی
پری مجھے معاف کردو میں نے تمہی بہت تکلیف پہنچاٸی ہے وہ بھی جان بوجھ کر پلیز ۔
عاشی کی آنکھیں اشک بار تھیں ایک بار کے لیے تو ہمان بھی دھنگ رہ گیا جو لڑکی کبھی جھکنا نہیں جانتی تھی آج وہ جھکی تھی کسی نے صحیح کہا ہے
“جو پیڑ جھکنا نہیں جانتا وہ ٹوٹ جاتا ہے”
اور” یہ بھی کہ دیر آۓ درست آۓ “
پری نے آگے بڑھ کر عاشی کے دونوں ہاتھ کھولے اور اسے سنبھلنے کا موقع دیے بنا اس سے لپٹ گٸ ۔ عاشی چپ چاپ اس سے لگی آنسو بہاتی رہی پر اب یہ آنسو خوشی کے تھے اسے تو کچھ کہنے کی نوبت ہی نہ آٸی تھی
پری بن کہے ہی سب سمجھ گٸی تھی اور پھر وہ عاشی کو یوں سب کے سامنے شرمندہ جھکے سر نہیں دیکھنا چاہتی تھی جو بھی تھا وہ ان کی فیمیلی کا حصہ تھی
غلطیاں کس سے نہیں ہوتی اور اگر معافی مانگ لی جاۓ تو غلطی کو سدھارا بھی جاسکتا ہے پری اس سے الگ ہوٸی ۔
تم نے بہت دیر کردی عاشی اتنی دیر سے آٸی ہو ۔عاشی آنسوں پونچھتی کچھ الجھ سی گٸی کہ پری کیا کہنا چاہ رہی ہے
ہے نا انجی ۔۔۔!!!اب تو میں ٹھیک ہوگٸی ہوں تم اب آرہی ہو میں جب ہاسپیٹل میں تھی تب تم کہاں تھیں پری کے سوال پر جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا
پری نے ایک نظر سب کو دیکھا پھر بولی انجی عاشی نے ابھی تک مجھ سےمیری طبیعت کا نہیں پوچھا۔ پری نے اداسی سے کہا تو ا نجی مسکرادیں عاشی نے پری کو دیکھا کتنی معصومیت طاری تھی اسکے چہرے پر اچھا بابا میں اب پوچھ لیتی ہوں کیسی طبیعت ہے تمہاری ٹھیک تو ہو نا تم ۔
پری پہلے تو زور سے ہنسی پھر گردن اثبات میں ہلاٸی ۔سب بہت خوش تھے عاشی نے اپنی غلطی نہ صرف نا مانی تھی بلکہ معافی بھی مانگ لی تھی۔ سب نے ہی عاشی کو کھلے دل سے قبول کیا تھا۔ پیچھے سے ینگ پارٹی نے ہم آواز ہوکر کہا
“ویلکم بیک عاشی ۔ “
سارہ اور عالی عاشی کی طرف لپکیں اور جلدی سے اسے زور کی جپھی ڈال لی عاشی کی آنکھیں چھلک پڑیں کتنا غلط کیا تھا اس نے اور یہ سب کتنے اچھے تھے بنا کسی بات اور بتنگڑ کے مجھے اپنا لیا کوٸی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کوٸی بےعزتی نہیں نا ہی کسی نے کوٸی شکوہ و شکایت کی۔ بس کردو اب بچی کہ جان لوگی کیا نین نے دوہاٸی دی۔
وہ دونو ں عاشی سے الگ ہوٸیں تو سارہ نے اسے گھورا کیوں تمہیں کون سی جلن ہورہی ہے
” تم بھی جھپی ڈال لو “
سارہ بنا سوچے سمجھے کیا بول گٸی اسے اندازہ جب ہوا جب اس نے حماد کی کالی گہری آنکھوں میں دیکھا جو سارہ کو کھاجانے والی نظروں سے نواز رہا تھا۔
پری نے ہمان کو دیکھا جو خوشمگین نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ پری تو گڑبڑاگٸی ۔ اور جلدی انجی کے ساتھ نکل لی ۔
عاشی کا شرم سے سر ہی نہیں اٹھ رہا تھا وہ اپنی حالت پہ قابو پانے کیلیے ادھر اودھر دیکھنےلگی ہمان تو نین کو اور سارہ کو خشمگین نگاہوں سے دیکھتا وہاں سے واک آٶٹ کرنے کو تھا جاتے جاتے وہ سیٹی کی دھن بجاتا ہوا گیا جو کہ ایک طنز تھا سارہ اور نین پر
کب سے ہمان کی ٹانگ کھینچ رہے تھے نا بچو۔۔۔!!!!
اب دیکھو مزہ آۓ گا ۔ وہ کہتے ہیں
“”اللہ کی لاٹھی بڑی بےآواز ہے””
اب تم دونوں پر پڑے گی
عالی اور عاشی بھی وہاں سے پھر ہوگٸیں نین اور زین بھی نیچی گردن کر کے چلتے بنے ماہیر تو پہلے ہی جاچکا تھا اب پیچھے سارہ اور حماد ہی بچے تھے ۔حماد خود کو کنٹرول کرتا سارہ کا ہاتھ پکڑ کر نیچے چل پڑا انجی نے دونوں کو زبردستی کھانے پہ روک لیا۔
حماد ایسے تو ہم آپ کو نہیں جانے دیں گے کھانا کھاکر ہی آپ کو یہاں سے اجازت ملے گی انجی نے اسے اور سارہ کو گھسیٹ کر کرسی پر بیٹھایا کافی پر سکون ماحول میں کھانا کھایا گیا ۔ ماحول اتنا پرسکون تھا کہ میسم صاحب کو یہ سکون ایک آنکھ نا بھایا اور وہ بول ہی اٹھے ۔
ملک ہاٶس میں اتنا سکون کیسے ہے آج ۔ تم سب اتنے چپ یہ تو ناقابل یقین ہے ۔ میسم کی بات پر ہمان نے سر اٹھا کر سب کو دیکھا اور گلا کھنکھارا۔
اہم اہم ۔
برابر میں نین بیٹھا بری طرح گڑبڑایا تھا۔
ہمان اپنی مسکراہٹ دباتا اپنی پلیٹ پر جھک گیا اور میسم صاحب بھی چپ ہوگۓ کھانا کھانے کے بعد سارہ اور حماد نے اجازت چاہی اور وہ دونو ں گھر کے لیے نکل گۓ۔
حماد پورے رستے میں خاموش سے ڈراٸیو کرتا رہا ورنہ وہ اکثر سارہ کو تنگ کرتا رہتا تھا اورسارہ کو حماد کی یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی خاموشی معلوم ہو رہی تھی اس نے ایک ترچھی نگاہ حماد پہ ڈالی حماد کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا وہ واپس باہر دوڑتے مناظر میں مصروف ہوگٸی ۔
حماد سارہ کے رخ پھیرتے ہی دلکشی سے مسکرایا ۔
محترمہ سارہ تم زرا گھر چلو تمہیں تو میں جپھی ڈالوں گا وہ بھی اچھی والی۔۔!!!!
وہ دل میں سوچتاہوا مسکرایا آنکھوں میں شرارت بھری تھی معلوم ہوتا تھا آج تو سارہ کو اس نے کسی حال میں نہیں بخشنا۔
گھر پہنچ کر اس نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی سارہ تو تیر کی تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بھاگی تھی کیونکہ اسے پتا تھا کہ اب اس کی شامت پکی ہے۔ حماد اس کو بھاگتا دیکھ کر زور سے ہنسا تھا کچھ بھی کرلو بیگم سارہ آج تو تمہیں میں نہیں چھوڑنے والا ۔
حماد کمرے میں آیا تو سارہ چینج کر چکی تھی اب وہ ناٸٹ ڈریس پہنے ہاتھوں پہ جلدی جلدی لوشن لگانے میں مصروف تھی جب اسے شیشے میں حماد کا عکس نظر آیا گھبراہٹ کے مارے لوشن کی بوٹل اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کرنیچے گر گٸی۔ سارہ اب تو تیری خیر نہیں حماد تو آج شیر کی طرح گھور رہا ہے تجھے اب کیا ہوگا تیرا۔
وہ منہ منہ میں بڑابڑاتی ہمت کر کے اٹھی ہی تھی حماد نے نے اس پیچھے سے پکڑ کر دوبارہ بیٹھادیا ۔
آہاں ۔۔۔!!! کچھ کمی ہے
اس نے شیشے میں سے سارہ کے چہرے کو فوکس کرتے ہے کہا سارہ نے ایک آٸیبرو اٹھا کرسوالیہ انداز میں ایکسپریشن دیے
تو حماد نے ہاتھ بڑھاکر اس کے بالوں کو کیچر کی قید سے آزاد کردیا اس کے بال آبشار کی طرح کمر پر بھکرتے چلے گۓ ۔
ہممممم اب پرفیکٹ ہے
حماد اس کے کندھے پہ تھوڑی ٹکا کر کہتا اس سے دو قدم پیچھے ہوا اور وارڈ راب سے کپڑے لیکر واشروم میں گھس گیا ۔ اور سارہ نے ایک ہاتھ سینے پہ رکھ کر سکھ کی سانس لی ۔
وہ وہاں سے اٹھ کر جلدی سے بیڈ پر آگٸی ۔ پھر یاد آنے پر اٹھ کر سوٸچ بورڈ کی طرف گٸی لاٸیٹ آف کی اب صرف کمرے میں لیمپ کی مدھم مدھم سی روشنی بکھری ہوٸی تھی۔
ابھی وہ پلٹی ہی تھی کہ اس کے سامنے حماد کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
ک۔ک۔کیا ہووا ت۔تم ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے سارہ نے اٹک اٹک کر پوچھا ۔
تمہیں دیکھنے کا لاٸسنس ہے میرے پاس جب جیسے جہاں مرضی تمہیں دیکھ سکتا ہوں
روک سکتی ہو تو روک لو ۔
حماد شوخی سے بولا۔
سارہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر ساٸیڈ سے نکلنے لگی تھی
جب حماد پھر سے بول پڑا۔
تم بہت بولنے لگی ہو آج کل ۔
سارہ نے سر اٹھاکر اسے دیکھا پھر بولی۔
اسے میں اپنی تعریف سمجھوں یا براٸی ۔
جو مرضی سمجھو ۔
گزارا تو تمہیں میرے ساتھ ہی کرنا ہے ۔
کیا کہہ رہی تھیں تم نین کو کچھ سوچ سمجھ کر بول لیا کرو یہ تو میں جانتا ہوں کہ تمہارے اندر عقل کی کمی ہے ۔ پر تمارہے اندر عقل سِرے سے ہی نہیں ہے یہ بات مجھے آج پتا چلی ہے ۔
سارہ نے اپنٕے بچاٶ کے لیے کچھ کہنا چاہا
وہ تو بس میرے منہ سے نکل گیا تھا کونسا میں نے جان بوجھ کر کہا تھا کہ آٶ جپھی ڈال لو۔
سارہ اپنی بیواقوفی میں ایک بار پھر غلط وقت پر غلط لاٸن بول چکی تھی اب وہ پچھتارہی تھی پھر جلدی سے زبان دانتوں تلے دباٸی
ہاۓ رے سارہ تیرا بیڑا غرق۔
حماد نے کافی گہری نظر سے اسے دیکھا ۔۔۔
کیا بات ہے بڑی تمہیں پپیاں جپھیا یاد آ رہی ہیں۔ ہیں ۔
حماد نے اسے چھیڑا ن۔ن۔نہیں۔نہیں۔ پپیاں
ارے نہیں نہیں۔۔۔!!!! پپیاں نہیں اونلی جپھیاں۔۔!!
سارہ نے حماد کی بات کی تصحیح کی۔اب کے بار حماد نے دونوں آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا ۔ ۔
کیا کہا تم نے زرا پھر سے تو کہنا ۔وہ زومعنی لہجہ میں بولا۔
سارہ ایک بار پھر تونے غلطی کردی ۔
حد ہے تیری تو۔
اس نے خود کو دل میں بری طرح کوسا ۔
ناجانے آج کونسا سڑا ہوادن ہے ۔
حماد سارہ کی اگلی بات پر قہقہہ لگاکر ہنسا اور ہنستا ہی چلاگیا سارہ اچھی طرح جانتی تھی وہ اس کی کہی آخری بات پہ ہنس رہا ہے ۔
اور وہ خود کو کوسنے میں لگی تھی ۔ تم بہت ہی کوٸی پہنچی ہوٸی شے ہو یار سارہ ۔
حماد اپنی ہنسی کنٹرول کرتا اسے دونوں کندھوں سے تھام کر بولا ۔ ویسے تم دوسروں کے پیچ اپ کرواتی پھرتی ہو دوسروں کو جپھیاں شپھیاں ڈلواتی ہو یار
کبھی ہم دونوں کے بارے میں بھی سوچو۔۔!!!
حماد کا لہجہ ایک دم بدلا تھا ۔ سارہ نے اسے گھورا اور اس کے دونوں ہاتھ خود پر سے ہٹاۓ ۔بس اتنا سا اسٹیمینا ہےتمہارے اندر۔
میری باتوں سے ہی ڈر گٸیں تم تو۔ سوچو جو اگر میں نے عملاَ یہ کردیا تو ۔تو تم نے تو بے ہوش ہی ہوجانا ہے ۔
وہ شوخی سے کہتا اسکی طرف بڑھا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے ایک جھٹکے سے خود سے قریب کیا ان کے درمیان فاصلہ ناہونے کے برابر تھا۔ سارہ کے دل کی دھڑکن حماد کو صاف سناٸی دے رہی تھی۔ حماد کی سانسو کی تپش اسے اپنی گردن پر محسوس ہوٸی ایک بجلی سی اس کے پورے جسم میں دوڑ گٸی ۔ سارہ کو اپنا دل باہر آتا محسوس ہوا ۔
پر آج تو میں بالکل بھی چھوڑنے کے موڈ میں نہیں ۔کہتے ساتھ ہی وہ سارہ کی گردن سے بال ہٹاتا اس کی گردن پر جھکا سارہ اس کے بانہوں میچلتی خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی حماد نے اسکے بالوں سے منہ نکال کر اسے بھاگنے کا موقع دیے بنا اس اپنی گود میں اٹھایا اور لاکر بیڈ پر لٹایا اور خود بھی دوسری طرف آکر لیٹ گیا ۔ پوری رات وہ سارہ کو اسی طرح تنگ کرتا رہا اس نے تو جیسے اسے پوری رات ناسونے دینے کی قسم کھالی تھی ۔
سارہ نے تو اب توبہ کرلی تھی اب وہ بنا سوچے سمجھے کچھ بھی نہیں بولے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ مارننگ بابا
زویا کچن سے نمودار ہوٸی تو سامنے بیٹھے اپنے جان سے پیارے بابا کو گڈ مارننگ کہا اور ناشتے کی ٹرے ڈاٸیننگ ٹیبل پہ رکھ کر خود بھی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گٸی اب وہ مگن سی ٹوسٹ پہ چھری کی مدد سے بٹر لگارہی تھی وہ بھی بڑی صفاٸی سے۔
زویا اور اس کے بابا ایک مہینہ پہلے ہی انگلینڈ سے اپنے آباٸی وطن پاکستان واپس آۓ تھے۔ شادی کر کے کہ وہ اپنی جوب کی وجہ سے انگیلینڈ اپنی واٸیف صفیہ کو لےکر وہاں شفٹ ہوگۓ تھے پھر کچھ حالات ایسے ہوۓ ان کا بزنس وہاں ترقی کی منازل چھوتا نظر آیا تو وہ وہیں مستقل طرپر سیٹل ہوگۓ اللہ تعلی نے صفیہ اور فیضان کو رحمت سے نوازہ تھاوہ لوگ بہت خوش تھے انہوں نے اس کا نام زویا رکھ دیا زویا بہت ہی زہین چنٹ لڑکی تھی ہر وقت الرٹ رہنے والی۔ وہ لوگ اپنی زندگی میں بہت خوش تھے پھر ان کی زندگی میں ایسا طوفان آیا جو اس گھر کی خوشیاں اپنے ساتھ ہی اڑا لے گیا
صفیہ سیڑھیوں سے گر گٸی تھیں ان کے برین نس ڈیمج ہونے کی وجہ سے وہ موقع پہ دم توڑ گٸیں اس حدثے نے فیضان کو اندر تک تنہا اور خالی کردیا ان کے سکھ دکھ کی ساتھی ان کی شریک حیات بیچ راہ میں انہیں چھوڑ کر چلی گٸی تھیں
ان کا دل اٹھنے لگا تھا ہر وقت دل پر غم کا غلبہ رہنےلگا تھا زویا پہلے سے زیدہ زہین اور سمجھدار ہوگٸی تھی
اسے پتا تھا اس کے بابا زندگی کے سفر میں تنہا رہ گۓ ہیں اب اسے ہی اپنے پیارے بابا کا سہارہ بننا ہے اسلیے اس نے سوچا جب تک پاپا ماما کی یادوں سے موو آن نہیں کریں گے جب تک ایسے ہی رنج و غم میں ڈوبے اپنے آپ کو موت کے دوراہے پہ لاکھڑاکریں گے ۔
اس لیے بہتر ہے کہ اس جگہ سے ہی دوری اختیار کرلی جاۓ جہاں ماما کی بہت سی یادیں ہیں اس نے پاپا سے بنا مشورہ کیے ان پر پاکستان چلنے کا حکم صادر کردیا فیضی بھی اب بنا چوں چراں کیے مان گۓ ویسے بھی اب یہاں سواۓ یادوں کے بچا ہی کیا تھا ۔وہ تمسخر سے مسکراۓ “یادیں بھی وہ جو جلا کر خاک کردیں”
ابھی تو انہیں جینا تھا اپنی زویا کے لیے وہ اپنی زندگی میں ہی زویا کے لیے کوٸی مضبوط سہارہ چاہتے تھے اس لیے وہ پاکستان شفٹ ہوگۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا کتنی بار کہا ہے بیٹا گڈمارننگ نہیں سلام کیاکرو۔انہوں روز کی طرح آج بھی زویا کو تنبیہہ کی
سوری بابا جان ۔نیکٹ ٹاٸم خیال رکھوں گی۔
وہ ناشتہ کرتے ہی اٹھ کھڑی ہوٸی اسے آفس جانا تھا دیر ہورہی تھی وہ جلدی جلدی اپنی چیزیں سمیٹتی بابا جان کو روز والی ہدایت دینے لگی
بابا میں جارہی ہوں آپ نے دواٸی وقت پر لینی ہے کھانا بھی وقت پر کھانا ہے زیادہ دیر سوچنا نہیں ہے میں جلد ہی آجاٶں گی وہ بابا کا ہاتھ چومتی باہر نکل گٸی
اور فیضی اپنی پیاری بیٹی کو دیکھنے لگے جو اتنی جلدی اتنی سمجھدار ہوگٸی تھی
وہ اٹھ کر کمرے تک چلے گۓ دوا لی اور آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گۓ۔
پھر کچھ یاد آنے پرپھرتی سے اٹھے الماری کھولی اس کے درازوں میں پھرولا پھرولی کرنے کے بعد ایک ڈاٸیری نکالی چہرے پی مسکراہٹ کا دور دورہ تھا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا تھا انہوں نے ڈاٸیری کھولی کچھ دیر ورک گردانی کے بعد انہونے اس میں سے دیکھ کر ایک نمبر ڈاٸیل کیا بیل جارہی تھی پھر فون ریسیو کر لیا گیا۔
ہیلو
دوسری طرف کوٸی نسوانی آواز ابھری وہ کافی مایوس ہوۓ نمبر شاید غلط تھا یا پھر اب وہ نمبر کارآمد نہیں تھا
اگلی طرف سےپھر بولا گیا ہیلو۔
کون بول رہا کس بت کرنی ہے ۔
عالی اوپر سے آتی کچن کی طرف جارہی تھی جب لینڈ لاٸن بجنے لگا اس نے ریسیور اٹھایا تو وہ جو کوٸی بھی تھا ہیلو کے بعد خاموش ہوگیا مجبوراَ عالی کو ہی بولنا پڑا ۔
عالی کون ہے ممتا بیگم نے عالی کے پیچھے سے پوچھا پتا نہیں کون ہے کوٸی بولتا ہی نہیں بس ہیلو بولا اور پھر خاموش
اچھا تم پھر سے پوچھو ہو سکتا ہے کوٸی کام کا فون ہو
فیضی نے ہمت کرکے ایک بار پھر بولا
ہیلو
کیا یہ میسم کا نمبر ہے۔
عالی نے سوچ کر جواب دیا
جی ہاں۔۔۔!!!! آپ کو ان سے بات کرنی ہے۔
جی بیٹا آپ میری بات کروادیں گی ان سے
جی جی بالکل۔۔۔!!! کیوں نہیں عالی نے ریسیور ٹیبل پر ہی رکھا اور جلدی سے میسم کے روم میں جاکر اطلاع دی بڑے پاپا آپ کے لیے فون آیا ہے ۔
میرے لیے
وہ بولتے ہوۓ اس کے ساتھ چل پڑے ریسیور اٹھا کر بات کا سلسلہ شروع کیا۔
میسم ہیلو میں فیضی بات کر رہا ہوں یار
فیضی میسم صاحب نے زیر لب نام دہرایا
اور اپنی یاداشت پہ زور ڈالا ت انہیں یاد آیا۔
وہ ایک دم ہنسے ارے ہاں فیضی اتنے سالوں بعد یار کہاں ہو تم ۔
تم تو پڑھاٸی کے بعد ایسا غاٸب ہوۓ کہ پھر موقع ہی نہ ملا تم سے ملنے کا ۔
ہاں بس کچھ مصوفیات ہی ایسی ہوگٸی تھیں خیر تم چھوڑو اپنی بتاٶ ۔
میسم اور فیضی دونوں یونی فیلو تھے سٹڈی کے بعد میسم نے تو بزنس جواٸن کرلیا جبکہ فیضی پر باہر جانے کا بھوت سوار تھا اس لیے گھروالوں نے اس کی شادی کی شرط رکھدی کہ تم شادی کرلو پھر بے شک چلے جانا اس لیے اس نے شادی کے لیے ہاں کردی اور شادی کے بعد وہ صفیہ کو لےکر انگلینڈ شفٹ ہوگیا ۔
ارے یار میں بھی بالکل ٹھیک ہو یہ فون پر بندہ کیا بات کرے تم ایک کام کرو گھر آٶ کسی دن مل بیٹھیں گے دونوں دوست خوب محفل جمے گی ۔ ہاں ہاں کیوں نہیں ۔میرے خیال سے آج شام کو ہی آجاٶ یار کافی عرصہ ہوگیا ملے ہوۓ۔
چلو ٹھیک ہے پھر شام میں ملتے ہیں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حماد تم سے ایک فیور چاہیے ہمان نے حماد کو باہر لنچ پر بلایا تھا کہ وہ اس سے پری کے بارے میں بات کر سکے گھر میں تو اسے سب کے بیچ موقع ہی نہیں ملا تھا ۔
ہممم ۔۔۔۔!!!
کیسا فیور۔۔!!!! حماد نے چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا۔ سارہ تمہیں سب کچھ بتا چکی ہے۔ ہاں مجھے پتا ہے بلکہ ۔میں نے خود بھی پری کے اندر ایبنورمیلیٹی محسوس کی ہے ۔
وہ ایبنارمل نہیں ہے حماد اپنے الفاظ درست کرو ورنہ۔۔!!! حماد کی بات پر وہ جو سکون ہو کر بات کر رہا تھا ایک دم غصے میں آکر بولا ۔
ارے یار تم غصہ کیوں کر رہے ہو آ ٸی ایم سوری ۔ اچھا میرے باپ اب بول بھی لے بول تو دیا ہے سوری ۔
ہمان نے اسے گھورا ۔
جو لڑکی معاف کرنا جانتی ہو جو کسی سے ناراض ہونا ہی نا جانتی ہو وہ بھلا ایب نارمل کیسے ہوسکتی ہے
ایکزیکٹلی بٹ وہ نارمل بھی تو نہیں ہے نا ہمان تم خود سوچو کیا وہ ہم سب سے الگ نہیں ہے ۔ پر میں اسے فالحال کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔
خیر ٹو دا پواٸنٹ آٶ ۔
تم پری کے بارے میں جتنی ہو سکتی ہے معلومات اکٹھی کرو ۔کیونکہ اگریہ کام میں کرو ں گا تو کہیں کسی کو شک نہ ہوجاۓ ۔ یہاں رہ کر تو یہ ہونے سے رہا اس کیلیے تو کینیڈہ جانا پڑے گا۔
اور تم سارہ کو اچھی طرح جانتے ہو پوری جاسوس ہے وہ ۔اور پھر کینیڈا کون سا پڑوس میں رکھا ہے۔ مطلب صاف کہو یہ تمہارے بس کا نہیں ۔
فار گاڈ سیک ہمان میرا یہ مطلب نہیں تھا جب سارہ کو سب کچھ پتا ہے تو تم اسے بتاکربھی تو جاسکتے ہو پھر تو جاسوسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔
ہممم کرتا ہوں کچھ ۔
چلو سب میں چلتا ہوں سارہ بھی گھر میں اکیلی ہے ۔ ٹھیک ہے پھر بعد میں ملتے ہاں ۔وہ لوگ اٹھ کر پارکنگ لاٹ کی طرف چل پڑے اور ہمان گاڑی سٹارٹ کرتا زن سے بھگالے گیا ۔
عالیہ آج کچھ مہمان آرہے ہیں ڈنر پر تو کچھ سا انتظام کرلو ۔
کون آرہا ہے بڑے پاپا۔
ارے بابا مجھ سے زیادہ جلدی تو تم دونوں کو ہے ۔
انہوں نے عاشی اور عالی کو پرجوش دیکھ کر کہا۔
ہاں بھٸی کیوں نا ہو لگتا ہے ماموں آپ کے بہت ہی خاص مہمان ہیں
ہاں ہیں تو ۔پر تمہیں کیسے پتا۔
آپ کے چہرے کی چمک اور خوشی بتارہی ہے ۔ عاشی نے جھٹ جواب دیا ۔ شام میں وہ لوگ آرہے ہیں تو تم لوگ بھی مل لینا ۔
اچھا جاٶ اب تیاری کرو تم دونوں آتے ہی ہوں گے وہ لوگ ۔ وہ دونوں کچن میں میں اپنے کام میں جت گٸیں ۔ عاشی مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا بناٶں ۔ ایک کام کرتے ہیں عالی ۔ سب کچھ کے ایف سی ۔ سے آرڈر کرلیتے ہیں
ہاں بہت اچھے بہت اچھے ۔۔!!!!
جاری ہے
