Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode21

Pari By Shanzey Rajpoot Episode21

وہ پری سے پیار کرتا ہے مان لیجیے افی اور یہ ہی سچ ہے اگر پھر بھی یقین نہیں تو ہمان سے جاکر پوچھیں۔
ممتا بیگم گہرے گہرے سانس لیتیں بیڈ پر جا بیٹھیں۔
اس میں غلط کیا ہے ممتا۔!!!!
کافی دیر بعد افی بولے بھی تو کیا بولے۔
آپ کو نہیں پتا غلط کیا ہے۔
وہ اگر پری سے پیار کرتا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے ممتا۔
انہوں نے افسوس سے افی کو دیکھا وہ ان کی نظروں کا مفہوم نہیں سمجھ پاۓ۔
آپ کی جانکاری کے لیے اتنا بتادوں ۔
کہ پری بھی ہمان سے پیار کرنے لگی ہے بلکہ پیار سے کچھ زیادہ ہی۔
آپ اتنے یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتی ہیں یہ بات ۔
” میں نے اس کی آنکھوں میں محبت کی قندیلیں جلتی دیکھی ہیں ۔ان آنکھوں میں خواہشوں کے روشن دیے دیکھے ہیں محبت کے جگنو آس امیدکی شمعاٸیں دیکھی ہیں کیا کیا نہیں دیکھا میں نے پری کی آنکھوں میں اس کی آنکھوں کو محبت کا رقص کرتے دیکھا ہے ۔ “
“وہ ہر وقت کھوٸی کھوٸی سی رہتی ہے میں نے اسے تنہاٸی میں بھی مسکراتے دیکھا ہے۔ وہ جسے ہار سنگھار پسند نہیں اب اسے سجنا سنورنا اچھا لگتا ہے۔ آج کلاس کی ہر بات میں ہمان کا ذکر ہوتا ہے۔”
اب بھی آپ یہی کہیں گے کہ مجھے غلط فہمی ہے ۔
افی صاحب اب بالکل خاموش تھے۔
اس دن میں نے پری کو ہمان کے ساتھ باہر لان میں دیکھا تھا وہ اس کے کندھے پر سر رکھے چل رہی تھی وہ کھوۓ کھوۓ لہجے میں بولیں۔
افی مجھے ڈر اس بات کا نہیں کہ اسے محبت ہمان سے ہوٸیہے۔
بلکہ اس بات کا ہے کہ اسے محبت ہوگٸی ہے۔
میں آج کہ دن لیے ہی تو اتنا ڈرتی تھی۔
اسی وجہ سے تو اسے کہیں لےکر نہیں جاتی تھی ۔ یہ “محبت انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔ یہ بہت برا مرض ہے فواد ۔ اتنا برا کہ جس تن لگے وہ تن جانے۔ میں نہیں چاہتی کہ پری اس مرض میں مبتلا ہو ۔ کیونکہ اگر اسے یہ مرض لگ گیا تو وہ ٹوٹ جاۓ گی افی ۔ “
تو آپ کیا کریں گی ممتا ۔
میں پری کو یہاں سے لے جاٶں گی۔
اور آپ کو لگتا ہے کہ جگہ بدل لینے سے دل بھی بدل جاۓ گا اس کا ۔
اگر آپ ایسا سوچ رہی ہیں تو بہت غلط سوچ رہی ہیں ۔
نہ یہ مرض لگاۓ لگتا ہے نہ ہٹاۓ ہٹتا ہے۔
انسان بے بس ہوتا ممتا ۔
“پری بھی بے بس ہے اس کا دل اس کے بس میں نہیں اس کی سوچیں اس کے اختیار میں نہیں ۔”
آپ سمجھ کیوں نہیں لیتیں اس بات کو۔
آپ جانتے ہیں پری کے بارے میں وہ یہ سب افورڈ نہیں کرسکتی اور پھر ہمان کیا وہ اسے قبول کرے گا۔
نہیں کبھی نہیں ۔
جب اس راز کے کےبارے میں اسے پتا چلے گا تو ہمان توکیا کوٸی بھی قبول نہیں کرے گا اسے۔
اور پھر میری پری وہ تو ٹوٹ جاۓ گی بکھر جاۓ کی افی اور میرے لیے اسے سمیٹنا مشکل ہوجاۓ گا۔
ماں ہوں میں اس کی۔
نہیں دیکھ سکتی اسے اس حال میں وہ روتے روتے سر جھکا گٸیں۔
افی نے انہیں اپنے ساتھ لگایا وہ خود بھی بہت الجھن کا شکار تھے۔
واقع اولاد کا دکھ کسی سے نہیں دیکھا جاتا۔
خاص کر بیٹیوں کا۔
اللہ ہر بیٹی کا نصیب سونے کا کردے۔
آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان جب سے آیا تھا اس کے دماغ میں صرف ایک ہی بات گردش کر رہی تھی۔
No, pari is not ok.
سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو رہا تھا ۔
بس اس نے سوچ لیا تھا کہ اب کیا کرنا ہے وہ فیصلہ کر چکا تھا۔ اب صبح کا انتظار تھا اسے اپنے فیصلے پر عمل کرنا تھا ۔ وہ ساری سوچیں جھٹکتا آنکھیں موند گیا ۔ چھن سے کسی کا عکس آنکھوں کے پردے پہ لہراگیا۔ اور اس کے ہونٹوں پہ تبسم پھیل گیا۔
اب اسے نیند اچھی آنی تھی ۔دیدار یار جو ہوا تھا۔
اسے سکون قلب ملا تھا سرشاری ہی سرشاری تھی۔
” کوٸی اس پوچھے سکون کیا ہے تو پہلی فرصت میں اس کی زبان سے پری نکلے گا ۔”
پری سکون ہے۔
پری چین ہے۔
وہہ بھوک ہے ۔
وہی پیاس ہے۔
وہی دور ہے۔
وہی پاس ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھنڈی یخ بستہ ہواٶں کا راج تھا موسم خاصا دلنشین تھا ہر سو سرمٸی بادلوں کا راج تھا ہلکی پھلکی بوندا باندی نے پیاری سی صبح کو مزید خوبصورت بنادیا تھا۔
لان میں لگے سرسبز و شاداب پودے ٹھنڈی ہوا کے دوش پہ لہلہارہے تھے۔
پودوں پہ لگے رنگے برنگے پھول ادھر سے اودھر رقص کررہے تھے اوپر سرمٸی بادل نیچے سبز پودے کیا میل تھا قدرت کا عجیب محسور کن منظر جو دیکھلے تو
یہی کہے
“” وہی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے۔””
یہ سب قدرتی مناظر اس قدرت کی بے بہا نعمتوں میں سے ایک ہیں۔۔
کھڑکی میں کھڑی وہ حسن کا شاہکار خوبصورتی کا پیکر جو خود اس دستِ قدرت کا حسین منظر کا حصہ لگ رہی تھی ۔ وہ یک ٹک کھوٸی کھوٸی سی بس اس منظر کو دیکھے گٸی۔
ناجانے کیوں پر آج اس کنچن کا دل بہت اداس تھا ۔
پری۔!!!!
وہ یہ آواز اچھی طرح پہچانتی تھی۔
جی۔!!!
“تھکی نہیں آپ فجر سے کھڑی ہیں آپ یہاں۔”
انجی کی آواز پہ بھی وہ پلٹی نہیں
“نہیں میں بالکل نہیں تھکی مجھے اچھا لگتا ہے یہ سب دیکھنا ۔”
اس نے کھوۓ کھوۓ ہی جواب دیا۔
“وہ اس کی بیڈ شیٹ درست کرتیں اس کے پاس آٸیں ۔ ہماری جان ہیں آپ”۔۔ انہوں نے پیار سے اس کے گال چومے۔چلیں آرام کر لیں تھوڑا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسم اتنا خوشگوار تھا عالی میڈم کا موڈ کافی اچھا تھا۔وہ ابھی کچن صاف کر کے آٸی تھی اور اب وہ موباٸیل میں سونگ پلے کیے آرام سے اس کے لیرکس ساتھ گنگنا رہی تھی ۔
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں۔
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں۔
یاد پیا کی آنے لگی۔
ہاۓ بھیگی بھیگی راتوں میں۔
ٹھنڈی ٹھڈی پون چلے۔
تن من میں ہاۓ آگ لگے۔
تیرے پیار کی چنگاری ۔
انگ انگ میں ہاۓ میرے جلے۔
رم جھم سی برساتوں میں ہاۓ ۔
رم جھم سیییی ۔۔۔۔۔۔!!!!
آٶوووچ۔۔۔!!!!
وہ جو گنگناتی ہوٸی بڑے مزے سے جارہی تھی۔
کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔
عالی اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھی کسی لچکدار ڈالی کی مانند کھنچتی چلی گٸی۔
زین نے جلدی سے دروازہ بند کر کے چٹکی چڑھاٸی اور عالی کو پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگادیا ۔
عالی ششدھ دی زین کو دیکھتی اس سیچوٸیشن کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔
” ۔۔ ز۔ز ز۔زین وہ بس اتنا ہی بول پاٸی ۔”
زین نے اس کے ہونٹوں پہ نگلی رکھ کر اسے چپ کرودیا۔
شششش۔۔!!!
“آج کچھ نہیں بولو گی صرف سنو گی ۔۔”
“کہاں تھیں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔۔”
عالی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہ تھی۔۔۔
“ک۔ک۔ک۔کیوں۔ کر رہے تھے ۔”
تم سے کچھ کہنا ہے وہ عالی کے مزید قریب ہوا اتنا کہ اس کی سانسوں کی تپش عالی کو اپنی گردن پر محسوس ہوٸیں۔ اس نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیں ۔
I am in love with you Alia.
I dont now when and why?
You are in my heart beat.
you are in my soul .
you are in my breath.
you are my sun shine.
وہ اس کے بالوں میں منہ دیے بڑی ہی خوبصورتی سے اظہار محبت کر رہا تھا۔
عالی کو لگا وقت تھم گیا ہے ۔ گھڑی کی سوٸیاں رک گٸی ہیں۔ اتنا خوبصورت اظہار پر وہ کیا کرتی زین کی ہر حرکت نے اس کی بولتی بند کردی تھی۔
پیار تو وہ بھی کرتی تھی پر اس نے کبھی بھی محسوس تک ہونے نہیں دیا۔
You are my life Alia.
You are my everything.
وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے چہرے پہ جھولتی آوارہ لٹو ں کو اپنی انگلی پرلپیٹتا ہوا بولا۔ عالی کی ہمت بس یہیں تک تھی ۔۔
مم۔م۔۔مجھے جانا ہے
عاشی از ویٹنگ می ۔
عالی نے ہلکے سے آنکھیں کھولیں پر زین کی آنکھوں میں اپنے لیے شدت اور جزبات دیکھ کر نظریں جھکا گٸی ۔
زین کو عالی کی یہیں چیز بھاتی تھی وہ جتنی بھی بولڈ تھی پر باحیا تھی ۔
وہ گھر کے مردوں کے علاوہ کسی سے بھی بات نہیں کرتی تھی ۔ اپنے آپ میں رہنے والی ۔وہ پسند تو عالیہ کو شروع سے ہی کرتا تھا مگر اب اس کے جزبات محبت میں بدل چکے تھے ۔
وہ خود بھی اپنی پل پل بدلتی حالت پر ہنس پڑتا تھا۔
زین دو قدم پیچھے ہوا عالیہ نے موقع غنیمت جان کر اپنی جان بچانی چاہی پر ہاۓ رے قسمت آج اس نے جی بھر شرمندہ ہونا تھا ۔
عالی زین کو پہچھے ہوتے دیکھ جلدی سے دروازے کی طرف بھاگی تھی مگر زین نے اس کی کلاٸی پھر سے پکڑلی اور وہ کلاٸی چھڑوانے کی کوشش میں لگی رہی مگر مجال ہے جو چھوٹ
” جاۓ مقابل خاصا ڈھیٹ اور بے شرم تھا ۔ “
“پھر کب آٶ گی۔”
نہات ہی برا سوال وہ صرف دل میں سوچ سکی۔
30Febکو
زین نے سر ہلا ہر اس کلاٸی چھوڑی ۔
اور عالی صاحبہ یوں بھاگی
” جیسے گھدے کے سر سے سینگ ۔”
اور پیچھے جب زین کو 30Feb والی بات سمجھ آٸی تو اس نے زور دار قہقہہ لگایا عالی کو اس کا قہقہہ کا دور تک سناٸی دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
در فٹے منہ۔
بے شرم ۔ بے حیا
آوارہ لفنگا کہیں کا
مجال ہے جو شرم ہو ۔ وہ اپنے کمرے میں آکر دروازہ بند کرتی ہوٸی اسے بہت ہی دلعزیز لفظوں سے نواز رہی تھی اور سر تو اس کا شرم کے مارے اٹھ ہی نہیں رہا تھا ۔ اس زین کی خوشبو اپنے پاس محسوس ہورہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میسم فواد اور ابرار ماہیر کے ساتھ آفس چلے گۓ تھے گو کہ سارہ بزنس وہ اور رافع سنبھالتے تھے مگر میسم اور ابرار بھی ایک آدھ چکر لگا لیا کرتے تھے۔ انجی اور عاٸیشہ تو تھوڑی دیر پہلے گھر چلی گٸی تھیں اب زین بھی چابی گھوماتا شاہ ہاٶس کی طرف نکل پڑا ۔
اب گھر پر صرف ممتا بیگم پری اور عالیہ تھی۔ عالی تو ویسے ہی کمرے سے نکلنے کی غلطی نہیں کرنے والی تھی ۔ کیا بعید تھی اس زین سے پھر کوٸی اوچھی حرکت کرتے وہ اسے جتنے ہوسکتے تھے کوسنے دے رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پر کوٸی نہیں تھا اور یہ ایک بہترین موقع تھا ہمان نے راستہ صاف دیکھ کر ممتا بیگم کے کمرے کا رخ کیا ۔ آج اسنے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ممتا بیگم سے پری کے بارے میں سب کچھ جانے گا ۔
اسے یقین تھا وہ اسے ضرور بتادیں گی۔ وہ رات بھر سوچ سوچ کر تھک گیا تھا پری دواٸیوں کے زیرِ اثر نیند میں تھی
ہمان ممتا چاچی کو ڈھونڈھتا ہوا ٹیرس پر آگیا ۔
ممتا بیگم کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے دور خلاٶں میں ناجانے کیا تلاش کر رہی تھیں ہمان نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھے تو وہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگیں ۔
ہمان تم۔۔۔!!!!
آٶ بیٹھو ۔۔۔!!!!
کافی لوگے۔!!
موسم کافی خوشگوار ہے آج ۔
نہیں۔!!
افسردگی سے کہتے وہ سر ان کی گود میں رکھ کر بیٹھ گیا ۔
ممتا بیگم کرسی پر بیٹھی تھیں اور ہمان نیچے زمین پر۔
کافی کا مگ ساٸیڈ پر رکھتے وہ ہمان کے بالوں میں ہاتھ چلانے لگیں ۔
کیا بات ہے۔
ہمان سب ٹھیک ہے
انہوں نے نرمی سے اس کے بال سہلاتے پوچھا۔کچھ ٹھیک نہیں ہے
کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو ۔
میں بہت تکلیف میں ہوں۔
اس کی آواز کافی بھاری ہو رہی تھی جیسے وہ رو کرآیا ہو۔
ایک چیز مانگ لوں دیں گی مجھے۔
ممتا بیگم کا سر سہلاتا ہاتھ ایک لمہے کو ساکت ہو گیا ۔جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا وہ شاید پری کی بات کر رہا تھا۔
آواز کہیں ان کی حلق میں ہی اٹک گٸی۔
ہمان نے سر اٹھایا۔ کچھ پوچھنا ہے آپ سے۔
بتاٸیں گی مجھے۔
انہوں نے سکھ کی سانس لی ۔وہ پری کو نہیں مانگ رہا تھا وہ تو کچھ پوچھ رہا تھا ۔
پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا۔
ہاں پوچھو مجھے اگر علم ہوا تو ضرور بتادوں گی ۔ہلکی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں کو چھوکر گزری۔
پری کو کیا ہوا ہے ۔
ممتا بیگم کا ہمان کے چہرے پہ رکھا ہاتھ ایک لمحے کو کانپ گیا وہ ہمان سے اس سوال کی توقع نہیں کرسکتی تھیں ۔
ک۔ک۔کیا مطلب ۔م۔میں کچھ سمجھی نہیں۔ الفاظ ساتھ چھوڑ گۓ زبان ایک دم لڑکھڑا گٸی۔
آپ میری بات کا مطلب اچھی طرح جانتی ہیں۔
“کل پری کو ماٸنر برین اٹیک ہوا تھا ۔”
برین اٹیک ہونا کوٸی معمولی بات نہیں اتنا تو میں بھی جانتا ہوں۔
کیوں وہ سب سے اتنی الگ ہے۔ کس چیز کی دواٸیں دیتیں ہیں آپ اسے۔
کیوں اسے آپ کہیں نکلنے نہیں دیتیں۔
اس کے شدید سر درد کے پیچھے کیا وجہ ہے ۔
ہمان کے سوالوں نے ممتا کو کٹھیرے میں کھڑا کردیا تھا۔
اب وہ اسے کیا بتاتیں ۔
ان سوالوں کے جواب سے تو وہ خود ڈرتی تھیں ۔
بتاٸیں مجھے ۔
کیوں جاننا چاہتے ہو تم پری کے بارے میں۔ اور صرف تمہیں ہی یہ کیوں محسوس ہوا کہ پری سب سے الگ ہے ۔ آپ بات کو دوسرا رخ دے چکی ہیں ۔ آپ مجھے بتانا نہیں چاہتیں۔
تو پھر ٹھیک ہے ۔
وہ اٹھ کر جانے لگا۔
بہت فرق ہوتا ہے اپنی ماں میں اور چاچی میں ۔ جو آپ کہتی ہیں نا میں فرق نہیں کرتی بچوں میں وہ میں دیکھ چکا ہوں۔
وہ کہہ کر رکا نہیں۔
ممتا بیگم کے دل کو کچھ ہوا کیوں وہ بار بار ہمان کا دل دکھاتی ہیں ۔
رکو ہمان۔
ہمان کے قدم تھم گۓ پر وہ مڑا نہیں۔
تم پری کے بارے میں جاننا چاہتے ہونا۔
اپنا دل جگر مضبوط کرلو۔
کیونکہ میں تمہیں روتے نہیں دیکھ سکتی۔
سننا چہتے ہو تو سنو ہمان
پری پندرہ سال کی تھی۔ بہت ذہین تھی میری پری ۔ کالج میں فرسٹ کلاس کا پہلا دن تھا اس کا ۔ جب اس دن دوپہر میں مجھے کلاج کے پرنسپل کی کال آٸی تھی ۔جو خبر مجھے سننے کو ملی اس سے میرا دماغ سن ہوگیا۔
کالج پہنچ کر پری کو دیکھا جو درد سے تڑپ رہی تھی پہلی بار میں نے اس کی اتنی بلند اور دلخراش چیخیں سنی تھی۔
“مجھے آج تک وہ چیخیں نہیں بھولتیں ۔ “
نین اور اس کے پاپا پری کو اٹھا کے ہاسپیٹل لے گۓ۔ اور جو مجھے ڈاکٹر نے بتایا میری روح تک کانپ گٸی ۔ بے اختیار ممتا کے آنسو نکل آۓ۔
” پری کو برین ٹیومر ہے ہمان ۔”
ہمان جہاں کا تہاں رہ گیا الفاظ تھے کے زہریل تیر جو اسے گھایل کر گۓ ۔ ممتا کی گود میں دھرے اس کے ہاتھوں پہ لرزا تاری ہوگیا ۔ اس کو لگا جیسے کسی نے اسکی روح کھینچ لی ہو۔اس کا دل چھلنی ہوگیا۔
ممتا رو پڑیں ہمان اپنی چھوڑ کر ممتا کی طرف متوجہ ہوا وہ ماں تھیں انہوں نے کیسے برداشت کیا ہوگا یہ سچ جب انہیں پتا چلا ہوگا کہ پری کو برین ٹیومر ہے۔ اس نے ممتا چاچی کے آنسو صاف کیے ۔ ممتا تھوڑے توقف کے بعد پھر سے بولنے لگیں۔
پری کا نروس سسٹم ویک ہے اسے کافی باتیں یاد نہیں رہتیں ۔اور جب وہ انہیں یاد کرنے کے یے دماغ پہ زور ڈالتی ہے تو اس کا نروس بریک ڈاٶن ہوجاتا ہے یا پھر ماٸنر برین اٹیک آجاتا ہے ۔اور پھر وہ ایسے درد سے تڑپتی ہے۔ اسے ٹینشن راس نہیں ہے ہمان اس لیے میں نے کبھی ایسے حالات پیدا ہی نہیں ہونے دیے کہ وہ ڈیپریشن یا ٹینشن کا شکار ہو۔
یہ سب اس کے لیے موت کا سامان باندھ دیتی ہیں اس لیے میں اسے کہیں بھی نہیں جانے دیتی۔
اس کی پڑھاٸی چھوٹ گٸی ہمان ۔میری پری ہمیشہ فرسٹ ڈیویژن لاتی تھی۔ بہت اچھی تھی وہ پڑھاٸی میں ممتا بیگم سرمٸی بادلوں کو دیکھتی بول رہی تھیں اور ہمان انہماک سے سن رہا تھا۔ وہ پڑھاٸی میں ہی نہیں ہر چیز میں بہترین تھیں
اسے باسکٹ بال بہت پسند تھا ۔ اکثر نین کے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ کار ڈراٸیونگ کا بہت شوک تھا۔ پری کو سفید کرولا بہت پسند تھی ۔ فواد نے اس سے وعدہ کیا تھا اگر وہ کالج میں فرسٹ ڈیویژن لاتی ہے تو کرولا کی چابی اسی دن اس کے ہاتھ میں ہوگی۔
نین نے اسے پرومس کیا تھا وہ اسے کار ڈراٸیو کرنا سکھاۓ گا۔
“پر پھر”۔۔۔!!
آنسو ایک بار پھر بھل بھل کر بہنے لگے۔ قسمت نے اسے ایک موقع تک نہ دیا۔ اس کی بیماری اسے کھاگٸی ۔ بہت کوشش کی میں نے کہ وہ آگے پڑھے ۔
لیکن وہ جب بھی کتابیں کھول کر بیٹھتی تو اس کا سر درد سے چکرا جاتا۔ باسکٹ بال کھیلنے لگتی تو چکراکر گر پڑتی تھی اس بیماری کے بعد تو بہت نڈھال ہوگٸی تھی وہ ۔
اس کا شوق ادھورا رہ گیا ۔وہ کچھ بھی یاد نہیں کرپاتی تھی جب بھی کتابیں اٹھاتی سر پکڑ کر بیٹھ جاتی۔ وہ پڑھنا چاہتی تھی جب بھی اپنے ساتھ کی کسی لڑکی کو کالج جاتے پڑھتے دیکھتی تو رو نے لگتی ٹینشن لیلیتی ۔ بہت مشکل سے سنبھالا ہے میں نے اور نین نے اسے۔ میں نے اس کی پڑھاٸی چھڑوادی۔
کچھ دن میں وہ سب کچھ بھول گٸی ۔ اس کے سارے خواب ٹوٹ گۓ ۔ قسمت کی یہ ستم ظریفی تو بہت کم تھی جو کچھ مہینوں بعد ہی پری ایک دن ناشتہ کر رہی تھی ۔اچانک اس کے منہ سے بلیڈنگ شروع ہوگٸی ۔خون کی الٹی دیکھ کر میں تو چکراگٸی۔
ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کا دل بہت چھوٹا ہے۔ جب اس کا دل خون پمپ کرنا بند کردیتا ہے تو اس کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں۔اور ان میں موجود خون کو جب کوٸی راستہ نہیں ملتا تو منہ کے ذزیعے النی کی صورت بہتا ہے۔
برداشت نہیں ہے اس میں زرا بھی ۔ چھوٹی چھوٹی بات پہ رونے لگتی ہے ۔ کافی باتیں اس کے سمجھ میں نہیں آتی ۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہت کم ہے ۔ ہمان کو وہ دن یاد آیا جب سارہ کی برات والے دن پری بنا سوچے سمجھے اس سے لپٹ گٸی تھی اور ہاسپیٹل میں کیسے اس نے بغیر کسی جھجھک کے ہمان کے گردن میں اپنی بانہوں کا حصار بنالیا تھا۔اور ہمان نے اسے بہت بری طرح جھڑکا تھا اسے اب احساس ہوا کہ اس معصوم پر کیا بیتی ہوگی اور کیسے اس رات لان میں ٹیہلتے ہوۓ وہ اپنا سر ہمان کے کنھے پر ٹکا گٸی۔
چڑیا جتنا دل ہے اس کا۔ وہ باتوں کو سمجھتی کم اور محسوس زیادہ کرتی ہے۔ممتا کی باتوں سے ہمان کو پری کی ہر ادا ہرحرکت یاد آنے لگی جب ہمان اسے محرم نا محرم کا فرق سمجھارہا تھا تو کیسے وہ نا سمجھی کا اظہار کر رہی تھی۔دراصل وہ تو سمجھنے کی صلاحیت سے ہی محروم تھی ۔
ممتا بیگم کی آنکھیں نم تھیں تو ہمان کے آنسو ممتا کا دامن بھیگو رہے تھے اسے تو چپ لگ گٸی تھی۔
میری پری بہت معصوم ہے ہمان وہ کسی کا دل نہیں دکھاتی نا جانے لوگ کیو ں اس کا دل دکھاتے ہیں۔
میری پری سچ میں پری ہے بہت ہی خوبصور ت بے حد سچی بے انتہا سادہ اور صاف گو۔ اور بہت ہی شیشے سے شفاف دل والی
ہر خوبی ہے اس کے اندر ۔
خامی صرف یہ ہے کہ اس کا دل اور دماغ اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ نا اس کا دماغ اس کے بس میں ہے نا اس کا دل ۔ وہ بے بس ہے اور مجھ سے اس کی بےبسی نہیں دیکھی جاتی ۔اور نا ہی میں دنیا کے آگے اپنی پری کا پرچار کرنا چاہتی ہوں۔
وہ چپ ہوگٸی اب کیا بتاتیں سب کچھ تو انہوں اس کے آگے کھول کر رکھ دیا تھا۔ لیکن ایک امتحان تو ان کا مزید باقی تھا خاموش زبان اور ماٶف ذہن کے ساتھ صرف وہ ایک ہی بات سوچ رہی تھیں کہ سب کچھ سچ پتا چلنے کے بعد پتا نہیں ہمان پری کو قبول کرے گا یا نہیں ہمان بھی چپ تھا بالکل چپ ۔
ہمان نے گود میں سے سراٹھایا۔ ممتا نے اسے دیکھا وہ رو رہا تھا پر کیوں وہ یہ نہ سمجھ سکیں
“ایک چیز مانگ لوں دیں گی مجھے۔”
“پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہ رہا ہوں۔”
ممتا بیگم نے سر اثبات میں ہلایا۔
ان سے بولا نہیں جارہا تھا۔
گلے میں آنسوٶں کا ریلا پھنسا تھا۔ ممتا نے اسے دیکھا وہ کافی اجڑا اجڑا سا لگا انہیں ۔
رونے سے اس کی آنھیں سرخ ہوگٸی تھیں۔
“”مجھے پری دے دیں۔”””
ہمان کے الفاظ تھے یا پھول یا جنت کی ٹھنڈی ہوا وہ بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رودیں۔۔
وہ اسے قبول کرنے کو تیار تھا ہاں واقع وہ پری کو ہر حال میں قبول کرنے کو تیار تھا۔
کیا نصیب تھا پری کا ۔ اس کے نصیب کی خاطر ہی تو وہ روتی تھیں ناجانے کون قبول کرے اسے۔
ہمان تھا یا کوٸی فرشتہ صرف لمحے بھر میں اس نے ممتا کی زندگی بھر کی فکریں مٹادی۔
“وہ اللہ بہت بے نیاز ہے۔”
جب کچھ لیتا ہے تواس سے دگنا ہمیں عطا کرتا ہے۔ اللہ نے ہمان کو چنا تھا پری کے لیے اتنے دکھ درد کے بعد ہمان جیسے شخص کا اس کے نصیب میں لکھے جانا ۔اتنا تو اس اسکا حق بنتا ہے ۔
بے شک وہ اللہ اپنے بندوں سے ستر ماٶوں سے زیادہ پیار کرتا ہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *