Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode10

Pari By Shanzey Rajpoot Episode10

“سارہ کےولیمے کا فنکشن عروج پہ تھا
“سب کزنز خوب ہلا گلا کر رہے تھے ساتھ میں حماد کی ٹانگ بھی کھینچ رہے تھے”۔
” پری سٹیج پر آٸی تو سارہ نے حماد سے اس کا اسپیشل تعارف کروایا اور اسے اپنے ساتھ ہی صوفے پہ بٹھالیا”۔
حماد یہ پری ہے بارات والے دن تو یہ سٹیج پہ آٸی ہی نہیں “۔۔
“تم ملنا چاہتے تھے نہ پری سے تو مل لو”۔
اوہ ہ تو تم ہو چھوٹی سی پری جس کی تعریف کر کر کے سارہ میرے کان کھا جاتی تھی”۔۔
مجھے سارہ کی باتوں سے ہی ایسا لگتا تھا جیسے میں تم سےمل چکا ہوں”
تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ کیوٹ ہو لیٹل گرل حماد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کھلے دل سے اس کی تعریف کی”۔
” جواباَ پری کھل کے مسکرادی” ۔
فنکشن اپنے عروج پہ تھا “۔
” پری اسٹیج سے اتر کر جیسے ہی نیچے آٸی تو خلاف توقع علی سامنے سے اسٹیج کی طرف آرہا تھا”
” اسے دیکھ کے تو پری کے حواس معطل ہونے لگے تھے”۔۔
وہ گھبراتی اپنی انگلیاں مروڑتی ادھر اودھر دیکھنے لگی یا شاید اس کی نظریں ہمان کو ڈھونڈ رہی تھیں”۔۔
” اس سے پہلے کے علی قریب آتا پری وہاں سے سٹیج کی بیک ساٸیڈ پر چلی گٸی مبادہ کہیں علی پھر سے کوٸی فضول حرکت کرتا ۔۔۔
“پری علی کو دیکھ کر ہی اتنا ڈر گٸی تھی کہ وہ اس دفعہ بھی بغیر سوچے سمجھے پھر تاریک گوشے میں آگٸی “۔۔
“ہمان نے پری کو وہاں جاتے دیکھ لیا تھا اس لیے وہ پری کے پیچھے ہی چلا گیا اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ لڑکی پھر کسی مصیبت میں نہ پھنس جاۓ”۔
” ہمان نے پری کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو پری ڈر کے مارے ایک دم چیخی” ۔
“اسے لگا کہ علی پھر سے اس کے پیچھے آگیا ہے “۔۔
“ہمان نے جلدی سے اس کے منہ پہ اپنا بھاری ہاتھ رکھا کہیں اگر اس کی چیخ کوٸی سن لیتا تو لینے کے دینے پڑ جانے تھے”۔
“پری میں ہوں ہمان”۔
ہمان کہ آواز سننے کے بعد اس کہیں دل کی تہہ تک سکن ملا تھا”۔۔۔۔
“اندھیرے میں تو وہ اسے پہچننے سے ققصر تھی”۔
“میں اب ہاتھ ہٹانے لگا ہوں پری تم نے چیخنا باکل بھی نہیں ہے” ۔
“ہمان نے پری کے منہ پہ سے ہاتھ ہٹا یا”۔
“پری کی آنکھیں ہمان کو دیکھ کے جھل ملا اٹھیں”
” ہمان”۔۔
“پری نے بھراٸی آواز میں اسے پکارہ”۔
“ہمان ک دل کیا اسے کہیں اپنے سینے میں چھپالے سات پردوں میں جہاں کوٸی خوف اورڈر نہ ہو صرف پیار کا احساس ہو “۔۔
پر فالحال وہ اس لڑکی پر کوٸی حق نہیں رکھتا تھا “۔
پر پھر بھی نہ جانے کیوں وہ لڑکی اسے جان سے بھی زیادہ عزیز تھی “
“اس کے معاملے میں ہمان خود کو ہمیشہ بے بس محسوس کرتا ٥ھا”۔
“ہمان اچھا ہوا آپ آگۓ”۔
“وہ علی ۔وہ علی۔۔۔کیا ہوا ہے “۔۔”پری!!!! علی نے کچھ کہا تمہیں “۔۔۔اس نے پھر سے کوٸی ایسی ویسی حرکت کی تمہارے سارھ” ۔۔
“کیا ہوا ہے مجھے بتاٶ “۔
“میں ابھی اس کی طبیعت درست کرتاہوں “۔
” لگتا ہے پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی اسے”
” نہیں ہمان اس نے کچھ بھی نہیں کیا “۔
“وہ میں بس!!
“پری ہمان کا غصہ دیکھ کر ایک دم گھبراگٸی”۔
” ہاں بولو کیا تم!!!
” اب کے بار ہمان کا لہجہ قدر نرم تھا اسنے محسوس کیا پری اس کے لب و لہہجے سے کافی خوف زدہ ہو چکی تھی “
“ہمان وہ آپ نے کہا تھا کہ علی نہیں آۓ گا یہاں”۔
“پر وہ تو آیا ہے”
پری!! تم فکر مت کرو وہ کچھ نہیں کرے گا “
” فنکشن بس ختم ہونے والا ہے”
پھر تھوڑی ہی دیر میں ہم گھر چلیں گے”۔۔
“ہممم !!!!ٹھیک ہے نا ہمان نے گردن کو خم دے کر اس سے تصدیق چاہی”۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے۔۔”۔
“چلو” ۔۔
“اندر چلیں”۔
” ہمان پری کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا “۔۔
“وہ کسی صورت علی جیسے انسان کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا” ۔۔
” علی کی نیت سے تو وہ اچھی طرح واقف ہو گیا تھا”۔۔۔ “علی سٹیج سے اتر کر سیدھا ہمان کی طرف آیا اور سالام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا”
” ہمان نے ایک سلگتی نگاہ اس پہ ڈالی پری کا تو دل ہی اچھل کے حلق میں آگیا”۔۔
“میں نے تم سے کہا تھا نا کہ”۔۔
“کول ڈاٶن برو میں تو بس دیکھنے آیا تھا “
“کہ کہیں کوٸی میری پرسنیلیٹی سے متاثر ہوکر یہاں آنے سے انکاری تو نہیں ہو گیا”۔۔
“علی نے ہمان کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی”۔۔
“جبکہ نظریں پری پر مرکوز تھیں جو ڈر کے مارے دونوں ہاتھوں سے ہمان کا بازو تھامے سہمی سی کھڑی تھی” ۔
“ہمان اس کی نظروں کا زاویہ اور اس کی بکواس کا مطلب سمجھتے ہوۓ وہا ں سے پری کو لے کر چلا گیا “۔۔۔
__________
“کچھ کھاٶ گی”۔۔
” وہ ڈراٸیو کرتے ہوۓ پری سے پوچھ رہا تھا”۔۔
“اممم!! ۔۔۔۔۔ہاں!!
” پر اگر آج بھی پیسے نہیں ہوۓ تو”۔۔
پری کو مال والی بات ٕیسد آٸی جب اس نے پہلی بار اپنے لیے خود سے کچھ پسند کیا اور
” پھر ہمان کی وجہ سے لے بھی نہ سکی”۔۔۔
“ہمان اس کی بات پہ کھل کے ہنسا”۔۔
ارے نہیں اس وقت میں جلدی میں بھول گیا تھا “۔۔۔
“پر اب تو ہے “۔۔
“تم بتاٶ کیا کھانا ہے تمہیں “۔۔۔۔
“چاکلیٹ آٸیسکریم “۔۔
“ہممم !!!۔”تمہیں چاکلیٹ بہت پسند ہے”۔۔۔
” ہاں مجھے بہت پسند ہے”۔۔۔
وہ مگن سی باہر کے نظارے دیکھ رہی تھی”۔۔۔
اور ساتھ ساتھ ہمان کی باتوں کا جواب بھی دے رہی تھی”۔۔۔
“وہ لوگ آٸیس کریم کھا کر گھر پہنچے تو عالی اور عاشی کی کار کھڑی تھی”۔۔
” ہمان کو سمجھنے میں تھوڑی دیر لگی تھی کہ وہ دونوں اکیلی ہی فنکشن سے واپس آگٸی ہیں “۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اندر جا کے ان دونوں کی عقل ٹھکانے لگاتا ہمان کا موباٸل رنگ کرنے لگا”۔۔
” پری تم اپنے کمرے میں جاٶ ” ۔
” اچھا پر ہمان”۔۔
“ہممم کیا ہوا !!
کچھ کہنا ہے!!
” ہمان کا وہی نرم لہجہ پری کا دل موہ لے گیا ۔
“ہاں وہ میں پوچھ رہی تھی کہ ہم پھر کب جاٸیں گے باہر گھومنے”۔۔۔
“نگاہیں نیچی کیے وہ اس سے استفسار کر رہی تھی” ۔
“مجھے ابھی اور بھی گھومنا تھا ہم جلدی کیوں آگۓ ہمان”۔
“ابھی تو کوٸی بھی نہیں آیا”۔۔
“اب وہ نظریں اٹھاۓ اس سے ضدی لہجے میں گویا ہوٸی” ۔
“ہمان اس پری کے پل پل بدلتے روپ کو دیکھ رہا تھا
“جس کا ہر روپ اسے دیوانہ بنادیتا تھا” ۔
“اب بھی وہ اسے دیوانوں کی طرح خوشی سے سن رہا تھا”۔
” جیسے وہ کوٸی بہت خاص بات کر رہی ہو”۔۔
“ہم واپس اس لیے آگۓ کہ باہر بہت ٹھنڈ ہے اور
” پھر اتنی رات تک باہر گھومنا ٹھیک نہیں”۔۔
“میں تمہیں بہت جلد پھر سے لونگ ڈراٸیو پر لے کر جاٶں گا
“پر ابھی تم اندر جاٶ سب آتے ہونگے ہال سے” ۔۔
“پری اثبات میں سر ہلاتی اندر کی جانب چلدی “۔۔
“لاٶنج میں عالی عاشی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں “۔
“عالی تم آگٸیں”
“ہاں ۔۔۔کیوں !!!نہیں آنا چاہیے تھا ہمیں۔۔”
“تم نے کچھ پلان رکھا تھا کیا “۔۔
جواب عالی کےبجاۓ عاشی نے دیا” ۔۔
” پری اس سےہرگز الجھنا نہیں چاہتی تھی”۔
“اس لیے خاموش رہی البتہ عاشی کی باتوں کا مطلب وہ بالکل نہیں سمجھ پاٸی” ۔۔۔
” عاشی نے اسے کھلا طنز کیا ہمان کو لے کرجو عالی بھی نہ سمجھ سکی”۔۔
“عالی مال میں اور نین کے سامنے ہوٸی اپنی بےعزتی کیسے بھول سکتی تھی “۔۔
“اس کا تو اس نے بدلا لینا ہی تھا”۔۔
“اسے بس اچھے موقع کی تلاش تھی اور
” آج سے بہتر موقع اس کے پاس ہو ہی نہیں سکتا تھا
“گھر کے سب لوگ اب تک ہال میں تھے”۔
عاشی نے پری اور ہمان کو ایک ساتھ ہال سے نکلتے دیکھ لیا تھا”۔۔۔
اس کے خیال کے تحت کہ ہمان اور پری گھر ہی گۓ ہوں گے
“وہ پری ہمان ک ساتھ اکیلی کیوں گٸی اور ہال میں ہمان کا پری کا ہاتھ پکڑنا”۔۔
” اس سے ہرگز برداشت نہ ہوا “۔۔۔
“تو وہ عالی کو بہانے سے اپنے ساتھ لے آٸی کیوں کہ عالی نے ایسے تو آنا نہیں تھا اور
” ہمان کے غصے سے وہ اچھی طرح واقف تھی”۔۔۔۔
“اور جب عاشی گھر آٸی اور اسے پری ہمان کہیں نظر نہیں آۓ تو
” اس کا غصہ اور بھی بڑھ گیا”۔۔۔
“اب سواۓ اس کے انتظار کے اور کوٸی چارہ نہ تھا
“تو وہ عالی کو لاٶنج میں ہی لے کے بیٹھ گٸی”۔۔۔
” پری عاشی کو ایک نظر دیکھتی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے کی طرف چلدی “۔۔۔
“مجھے یہاں بیٹھا کر تم خود کہاں چلیں”۔
“۔ عالی نے عاشی کو صوفے سے اٹھتے دیکا توگھور کے پوچھا”۔۔
” ابھی آتی ہوں تم یہیں بیٹھو” ۔۔
“پری میں دوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھینکا اور چوڑیاں اتارنے لگی” ۔۔
“ابھی اس نے آدھی بھی نہیں اتاری تھیں”۔۔
” کہ اسے آٸینے میں عاشی کا عکس دیکھاٸی دیا”۔۔
عاشی !!۔۔
“پری کے منہ سے بے اختیا ر نکلا “۔۔۔
وہ چوڑیاں چھوڑ چھاڑ ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھی”۔۔
” عاشی تم یہاں!!!۔
“ہاں میں یہاں”۔۔
“کیوں نہیں آسکتی”۔۔
“عاشی نے سوال داغا”۔۔۔
“نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا”۔۔
اندر آٶ نا”۔۔
“پری اپنی نرم طبیعت کے باٸث اس سے سخت رویہ نہ رکھ سکی
” ویسے بھی پری کا غصہ وقتی ہوتا ہے”۔۔۔
” اس لیے اس نے عاشی کو اندر بلایا”
” نہیں میں یہاں بیٹھنے نہیں آٸی بلکہ میں
” تو تمہاری طبیعت صاف کرنے آٸی ہوں”۔۔
“کیا چل کیا رہا یہ سب تمہارے اور ہمان کے بیچ”۔۔۔
” پری کو سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے”۔۔
“ہر وقت تم دونوں ایک ساتھ ہی پاۓ جاتے ہو”۔۔۔
“ک۔ک۔کیا مطلب تم کیا کہہ رہی ہو عاشی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا
“ہاں تمہیں سمجھ آۓ گی بھی کیسے”۔۔
“تم ہمان کے ساتھ کہاں گٸی تھیں “۔۔۔
“وہ بھی اتنی دیر تک بولو اب بولتی کیوں نہیں جواب دو مجھے”۔۔
عاشی کی آواز کافی تیز تھی اور وہ پری کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے جھنجھوڑتی ہوٸی اس سے پوچھ رہی تھی”۔۔۔۔
” تم کیا بتاٶ گی میں بتاتی ہوں تمہیں “۔۔۔۔
“تمہارہ افٸیر چل رہا ہے نہ ہمان کے ساتھ”۔۔۔
“مجھے تم بڑے دھڑلے سے کہہ رہی تھیں اس دن کہ دور رہا کرو میرے نین بھاٸی سے کیوں میرے نین بھاٸی کے آگے پیچھے پھیرتی رہتی ہو”۔۔
“خود ک کے کرتت دیکھے تم نے تم سے تو لاکھ گناہ اچھی ہوں میں “۔۔۔
“کم سے کم میں تمہاری طرح یوں راتوں کو کسی کے ساتھ گھومتی پھرتی نہیں اور
” تمہارے سو کولڈ نین بھیا کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں”
” بولو”۔۔۔
” ارے تم میں شرم نام کی کوٸی چیز ہے بھی کہ نہیں” ۔۔
“تمہیں شرم آتی ہے جو ہر وقت اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھومتی ہو”۔۔۔۔
پری تو منہ کھولے سن سی اسے دیکھ رہی تھی”‘۔۔۔
اس کی بولنے کی صلاحیت تو جیسے نست ونابود ہو چکی تھی”۔۔۔
“ڈیٹ پربھی جایا جا رہا “۔۔۔ہاں امیزنگ!!!۔۔
تم بھولی بھالی پری سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کیا کر رہی ہو کسی کو پتا بھی نہیں۔۔
“اور کل تو تم نے حد ہی کردی بھٸی “۔۔۔
“آٶ دیکھا نا تاٶ ہمان کو اکیلا دیکھ تم تو اس سے جونک کی طرح لپٹ گٸیں”۔۔
” تمہیں ذرا شرم نہیں”۔۔۔
” وہ تو اچھا ہوا جو میں عالی کو لے کر فنکشن ختم ہونے سے پہلے ہی آگٸی “۔۔۔
“میں نے تمہیں اور ہمان کو ایک ساتھ نکلتا ہوا دیکھ لیا تھا “۔۔
“اور اگر میں گھر نہ آتی تو شاید اس سے آگے بھی تمھارا پلان تھا” ۔۔
“ہمان کے کمرے تک تم ویسےبھی پہنچ چکی ہو
” اب اس تک پہنچنے میں بھلا کتنی دیر لگتی”۔۔
“تم تو سجتی سنورتی بھی نہیں ہو پھر یہ سب کس لیے” ۔۔
“ہمان کے لیے نا”۔۔۔
“چلو جی تم دونوں کی آج کی رات تو میں نے ناکام بنادی
“اب تو تم کچھ نہیں کرسکتی” ۔۔۔
“عالی کی آخری بات سن کر پری کے جسم میں کرنٹ سا لگا اور وہ حوش میں آٸی”۔۔۔۔۔
“ایکدم کنچی آنکھیں جھل ملاٸیں”۔۔۔
” آنسو پلکوں کی باڑ توڑنے لگے”۔۔۔
” سرخ وسفید روٸی جیسے گالوں پہ جھرنے بہنے لگے”۔۔۔
“عاشی اسے دیکھ کے تمسخر سے مسکراٸی “۔۔۔
“اس کے انداز میں ایک غرور سا تھا۔”۔۔۔
” آنکھوں میں جیت کی روشنی نمایاں تھی”۔۔۔
” جو وہ چاہتی تھی وہ کر چکی تھی”۔۔۔
“جاٶ یہاں سے پری اپنی تمام تر ہمت جمع کر کے اتنی زور سے چلاٸی تھی
” کہ ایک دفع کے لے عاشی بھی دنگ رہ گٸی”۔۔۔
” پھر جلد ہی اپنےد ل کو سنبھالتی وہا ں سے واک آٶٹ کر گٸی “۔۔۔
“پری الٹے قدم چلتی بیڈ سے جا لگی اور گرنے کے انداز میں بیڈ پہ ڈھے سی گٸی” ۔۔۔
“عاشی کی باتوں نے اس کا دماغ گھومادیا تھا “۔۔۔
“وہ جانتی تھی کہ عاشی اس کے یہاں آنے سے ناخوش ہے “۔۔۔
“پر وہ اس حد تک گر جاۓ گی کہ کسی پاک دامن لڑکی پر بہتان لگاۓ
” یہ تو اس نے کبھی سوچا نہیں تھا”۔۔
” وہ زور زور سے رونے لگی یہاں تک کہ اس کی ہچکیاں بندھ گٸیں”۔۔۔
“روتے روتے اس کے سر میں درد ہو گیا”۔۔
” بامشکل وہ پانی پینے اٹھی پانی گلاس میں ڈالا ابھی اس نے گلاس ہونٹوں سے ہی لگایا تھا کہ درد کی ایک شدید لہر اس کے سر میں سرایت گٸی “۔۔۔
“گلاس اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا”۔۔
“اور وہ اپنا سر تھامے کتنی ہی دیر کھڑی برداشت کرتی رہی” ۔۔
“درد تھا کے تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا”۔۔
“مزید بڑھتا ہی چلا گیا “۔۔
اور درد سے کراہتی پری اپنا توازن برقرا نہ رکھ سکی اور چکرا کر بیڈ پر گر پڑی” ۔۔
“آخری لفظ جو اس کے لبو سے ادا ہوا وہ ہمان کا تھا اس نے اپنے اس درد و تکلیف میں بھی ہمان کو ہی پکارا”۔۔۔
_______
“سارہ اور حماد کے ولیمے کا ریسیپشن اپنے اختتام کو پہنچا تو سب نے گھر کی راہ لی”۔۔۔
“سب لوگ لاٶنج میں بیٹھے شادی کہ باتیں کر رہے تھے”۔۔۔
“ینگ پارٹی بھی اپنی باتوں میں مگن تھی”۔۔
“باتیں بھی وہ جن کا کوٸی اختتام نہیں ۔۔
“اتنے میں ہمان بھی آگیا”۔
” تم کدھر تھے بھٸی” ۔۔
“میسم صاحب نے اپنے صاحبزادے سے پوچھا” ۔۔۔
“ایک ضروری کام تھا”۔۔
“ہممم”۔۔
“وہ صوفے پہ بیٹھا نظریں ادھر اودھر دوڑاتا شاید پری کو ہی تلاش رہاتھا”۔۔
“اور پھر خود ہی خود کی حالت پر ہنس کر نظریں نیچی کیے موباٸل میں لگ گیا”۔۔
” ارے بھٸی یہاں تو اکیلے اکیلے محفل لگی ہے”۔۔۔
“ہماری پری کہاں ہیں” ۔۔
“آج تو اسے بھی بلا کرلاٸیں”۔۔
” ا نجی چاۓ کے کپز کی ٹری سینٹر ٹیبل پہ رکھتی ہوٸی بولیں” ۔۔
“ہاں کیوں نہیں میں بلا کے لاتی ہوں پری کو”۔۔
“عالی جھٹ سے بولتی صوفے سے اٹھ کر اوپر کی چلی گٸی”۔۔
“پیچھے سب اس کی حرکت پر ہنسنے لگے” ۔۔
“ہر کام کی جلدی ہوتی ہے اس لڑکی کو تو “۔
“ہادیہ بیگم فوراَ بولیں” ۔۔
“وہ پری کے کمرے میں پہنچی تو میڈم مزے سے بیڈ پر لیٹی تھی”۔۔۔
” پری عالی نے اسے آواز دی اور اس کے پاس آگٸی پری اٹھو کیا تمیں ا بھی سے ہی سوتا پڑگیا” ۔
“ایک تو تم اور تمہاری پیاری نیند اور اس نیند میں تمہارے سہانے سہانے خواب” ۔۔
“چلو اب اٹھ جاٶ جلدی سے شاباش”
” سب لوگ تمہیں نیچے بلا رہے ہی” ۔۔۔
“عالی کے بولانے پر بھی پری نہیں اٹھی تو عالی کو غصہ آیا “۔۔
“اور وہ بیڈ پہ بیٹھی اسے اٹھانے لگی” ۔۔
“اس کا اردہ پری کو تنگ کرنے کا تھا”۔۔۔
” اسے لگا پری اسے پریشان کر رہی ہے”
” اس لیے کچھ نہیں بول رہی ورنہ وہ بنا چینج کیے کبھی نہیں سوتی”۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *