Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode03

Pari By Shanzey Rajpoot Episode03

“اس خون کو جما دینے والی سردی میں آسمان کالی چادر اوڑھے سرد ہواٶں کا استقبال کر رہا تھا “۔
“رات کہ اس پہر سنسان سڑک پر دور دور تک کوٸی ذی روح نہ تھا دور کہیں کتوں کہ بھونکنے کی آوازیں رات کا خوفناک تاثر دے رہی تھیں” ۔۔
“آسمان پر بادل اپنا ڈیرہ جماۓ کسی بھی وقت برسنے کی چاہ میں بیتاب تھے”۔
“وہ ابھی اپنا بہت بڑا کام مکمل کر کہ آیا تھا۔۔اپارٹمنٹ کا لاک کھول کے اندر آیا دروازہ لاک کیا”
سب سامان جیسا کا تیسا پڑا تھا وہ جلدی سے الماری کی جانب گیا اوراپنی مطلوبہ چیز اٹھاٸی” ۔۔
“جیپ کی چابی لی اوراپارٹمنٹ لاک کر کے باہر نکل گیا”۔
“اس سردی میں وہ بلیک پینٹ اور بلیک شرٹ پے بلیک ہوڈی پہنے اپنی جیپ میں ںبیٹھا” ۔
“سنسان سڑک کے دونوں اطراف گھنے درخت ہی درخت تھے چار سو دوھند کا راج تھا”۔
“فضا میں خنکی کا راج تھا جانوروں کی بھیانک آوازیں ماحول کو پراسراربنا رہی تھیں” ۔
“ایسے میں گاڑی اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی”
“جیپ ایک پر وقار مقام پر آ کر رکی”۔
“وہ جیپ کا دروازہ کھولتا ہوا باہر نکلا گاڑی کو لاک کیا”۔۔
“پلٹا”۔۔
“سامنے ہی اس کی منزل اس کی راہ تک رہی تھی”۔
💖💕💖💕💖💕💖💕💖💕💖💕
عالی عاشی اپنی اپنی شاپنگ مکمل کر کہ ہال کمرے میں بیٹھے تھیں اور تبصرے کرنے میں مصروف تھیں “۔
“جب انجی ہال کمرے میں داخل ہوٸیں اور ان سب کو اپنے اپنے کمرے کی کے راہ دیکھاٸی” ۔
“ارے بھٸی کیا ہوگیا ہے”
“سونا نہیں ہے کیا”۔
“انجی دل نہیں کر رہا”۔
“عالی عاشی جو اپنے صبح مہندی کے فنگشن کے لیے لاۓ گۓ کپڑے دیکھنے میں محو تھی ” ۔
” دونوں نے ایک ساتھ جاواب دیا”۔۔
“ہمیں لگتا ہے کہ آپ دونوں کا دماغ چل گیا ہے”۔
“ہاتھ کے اشارے سے کہتیں وہ ان کی جانب بڑہیں اور دونوں کو کمرے سے نو دو گیارہ کیا دونوں طرح طرح کہ منہ بناتی اپنے اہپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸیں”
“اب انجی کا رخ پری کہ کمرے کی طرف تھا”۔
“وہ آہستہ سےدروازہ کھول کے دبے پاٶں اندر آٸیں کہ اگر وہ سو رہی ہو تو اس کی نیند میں خلل نہ پیدا ہو”
””پر یہ کیا““۔۔۔😂😂 ہماری پری تو جاگ رہی ہے”
”لو اندر آنے میں جتنی احتیاط کی سب بےکار ۔
😜۔۔”” خیر کوٸی گل نٸ““۔۔😛 “پری” آپ اب تک جاگ رہی ہیں ۔۔۔”وہ پری کے پاس بیڈ پہ بیٹھے اس سے پیار سے گویا تھیں ۔۔
“نہیں”۔۔۔ بس نیند نہیں آ رہی تھی”
“ہممم نٸ جگہ ہے نہ تھوڑا ٹاٸم تو لگےگا ایڈجسڈ ہونے میں۔۔۔ ”وہ پری کہ گال پر پیار سے ہاتھ پھیرتے محبت پاش نظروں سے دیکھتے بولیں ۔“
”دوا لے لی آپ نے “ ” جی انجی لے لی“ ماما نے دے دی تھی۔۔۔ “اچھا چلو اچھی بات ہے ”
””اب بہت رات ہو گٸی ہے آپ سو جاٸیں““ وہ اس کا لحاف درست کرتی ہوٸ بولیں” ۔
”پری کے ماتھے ہر بوسہ دیا“
”پری نے مسکرا کر انجی کو دیکھا“ ” بدلے میں وہ بھی مسکرادیں“ ۔۔۔۔ ”کمرے کی لاٸٹ آف کی اور دروازہ بند کر کہ اپنے کمرے کی جانب چلدی ۔
💞💖💕💞💖💕💞💖💕💞💖💕
”وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتا منزل کے بلکل نزدیک آیا
”چاروں جانب نظر دوڑاٸی“۔
”سب کچھ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا“
” وہ تھوڑا اور دور چل کر گیا تو گارڈ کرسی پہ بیٹھا اونگھ رہا تھا“۔
اب وہ مطمٸن تھا”
” رخ پلٹا اس کے بلکل پاس سامنے لوہے کی سلاخوں کا ایک بہت بڑا گیٹ تھا”۔۔۔۔وہ قدم قدم چلتا گیٹ کے پاس آیا “۔۔
” جہاں بڑا مضبوط تالا اس کا منہ چڑا رہا تھا
”وہ چلتا ہوا گٹ سے زرا آگے گیا دیوار کافی اونچی تھی“۔
” مگر اس کے لیے یہ مشکل نہیں تھا“۔۔۔ اس نے سر سے ہوڈ اتارا چہرے پہ ماسک تھا ہاتھوں میں گلبز تھے” ۔
” کچھ سوچ بچار کہ بعد وہ دیوار سے پانچ فٹ کی دوری پر واقع درخت کے پاس آکر رکا “
” اور اگلے ہی پل وہ بڑی مہارت سے اس درخت کے اوپر چڑھ چکا تھا“۔
”اب وہ مزید ایک بھی لمحہ کی تاخیر کیے بنا دیوار کے اس پار چھلانگ لگا چکا تھا“۔
”یہ ایک بہت خوبصورت ،وسیع وعریض بنگلہ تھا“
جس کے دونوں اطراف لان کی ہری چادر کا ڈیرہ تھا”۔۔۔
“وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا بنگلے کے پیچھلی ساٸیڈ آ گیا”
“جہاں سے چند قدم کی مسافات پہ باغیچہ تھا ۔۔۔۔بنکلے کا پچھلا گیٹ کھلا تھا” یہ رستہ سیڑھیوں سے سیدھا سیکنڈ فلور کے کوریڈور میں کھلتا تھا“۔
”وہ تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتا اوپر آیا“
”چہرے کو ماسک کے پہرے سے آزاد کیا “۔۔۔۔۔۔ ” ہوڈ جیکٹ سامنے ٹیبل پر پھنکا ”
” ایک لمبا سانس خارج کیا“۔۔اب وہ پر سکون تھا
“البتہ ابھی وہ پیچھے مڑا نہیں تھا سب کچھ اسی پوزیشن میں ادھر اورھر پھینکا”
””اب وہ مڑا پر مگر سامنے کا جو منظر وہ اس کے حوش و حواس اوڑانے کے لیے کافی تھا““
“کوریڈور کا یہ منظر جہاں دو صوفے آمنے سامنے اور بیچ میں کانچ کا چھوٹا سا ٹیبل رکھا تھا ““۔
””داہنی طرف کے صوفے پر وہ ایک ذی روح کو دیکھ کے مبہوت ہی تو ہو گیا تھا““
” جی ہاں مبہوت
“وہ کافی دیر تک اسے دور سے یوں ہی تکتا رہا جسے خود کو اس ذی روح کے ہونے کا یقین دلا رہا ہو“۔۔
””💞کہ ہاں یہ سچ میں ہے
“ٹھندی یخ ہوا کا جھونکا آیا اور چلمن کے پردوں سے ٹکراگیا“۔
”چلمن کی چھن چھن سے اس کی مبہوتیت ٹوٹی “
“اس کا مراقبہ ختم ہوا تھا” ۔۔۔۔۔
”اب تو اسے آگے جانا تھا۔۔۔۔
” اسے دیکھنے“۔۔۔
” اسے محسوس کرنے “۔۔۔۔
“وہ آگے بڑھا”۔۔۔
“وہ کوٸی اور نہیں بلکہ وہ تو جیتی جاگتی ایک خوبصورت دوشیزہ تھی”۔۔
” نہیں ۔۔یا۔
”شاید رب کاٸنات کی کوٸی اور مخلوق “ ۔۔
“جیسے اللہ نے اتنا حسن بخشا تھا“ ۔
”اس نے آج تک اتنا حسین چہرا نہیں دیکھا۔“۔۔
” وہ دیوانہ “دیوانی”چال چلتا اس کے قریب آیا”۔
” اسے قریب سے دیکھ کہ تو وہ اور بھی دیوانہ ہو چلا تھا“
“اس اندھیرے میں بھی وہ اس روشن چہرے کو دیکھ سکتا تھا۔
” سرخ و سفید رنگت روٸی کے گولوں جیسے گال ، گھنی پلکیں سایا فگن تھیں“ ۔
” زلفیں ہوا کے دوش پر اڑ رہی تھیں”۔۔۔ چند شریر آوارہ لٹیں اس کا چہرا چوم رہی تھیں“۔
” وہ مگن سا اسے دیکھ رہا تھا” وہ نازک حسن سراپہ تھی“ ”اسے دیکھ کر کسی کانچ کی گڑیا کا گمان ہوتا
”چہرے کا یہ عالم ہے“۔۔۔۔ ”آنکھوں کا کیا عالم ہوگا
”وللہ اس نے شکر کا کلمہ پڑھا
”کہ یہ آنکھیں سیاہ چلمن کے ہالے میں بند ہیں“
“ورنہ شاید 💖”” وہ ““💖 ہو جاتا “
” جسے ہم 💕””عشق ““💕کہتے ہیں“
” وہ مبہوت سا اس پر جھکا ۔۔”دل نادان اس پری زاد کو چھونے پر اکسا رہا تھا“۔
”بے ایمان ہونا چاہتا تھا دل
” کیا کہا جاۓ
“بھلا دل کے آگے بھی کسی کی چلی ہے“ ۔
” نہیں نہ“
” تو بھلا اب کیسے چلتی“۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کے اتنے نزدیک تھا کہ اس کی سانسوں کو محسوس کر سکتا تھا۔۔
“سو رہی تھی وہ نیند کی پری۔۔“ وہ اسے اٹھانا نہیں چاہتا تھا“
”سوٸی ہے تو سٸی ریے“
” وہ اسے ایسے ہی دیکھتا رہے گا“
”تمہیں پتا ہے تم بہت خوبصورت ہو
”وہ اس کانچ کی گڑیا سے مخاطب تھا“
”تو وہ کیا پاگل ہے“
” سوٸی ہوٸی اس پری زاد سے باتیں کر رہا ہے
” پر وہ تو“ ۔۔۔۔”جھلا ہی ہو گیا “
”دل چاہتا ہے تمہیں دیکھتا رہوں “
” وہ اس سوال کر رہا تھا
” کون ہو تم “۔
”” کوٸی پری یا پھر کہیں شہزادی تو نہیں ہو““ ۔
” کہاں سے آٸی ہو“
”” کوہ کاف سے تو نہیں آٸیں “ وہ تھوڑا شریر ہوا“۔۔
“ مجھے تو لگتا 🌹””کرسٹل پیلس““🌹 سے راستہ بھٹک گٸ ہو““۔
گال پر انگلی رکھے اس سے پوچھا“۔۔
” او ماٸی اللہ کہیں تم میرے لیے تو نہیں آٸیں ““
“افففف!!!۔۔۔جناب کافی خوش فہم ہیں“۔
“ وہ مسلسل اس کرسٹل ڈول کو تک رہا تھا ۔۔۔“ جیسے ایک پل کو بھی اگر نظر ہٹاٸی تو کہیں یہ معصوم سی کانچ کی گڑیا کھو نہ جاۓ“۔۔
“فون کی رنگ ٹون نے ماحول میں ارتعاش ڈالا”۔۔۔
“وہ کافی بد مزہ ہوا منہ کے زاوے بھی آڑے ترچھے بناۓ”
” جیسے کہنا چاہ رہا ہو ۔۔
” رنگ میں بھنگ ڈال دیا یار “
”اس نے فون ریسیو کیا۔۔۔ باتیں کرتے کرتے وہ اس حصہ سے کافی آگے چلا گیا۔۔۔
💞💕💞💕💞💕💞💕💞💕💞💕💞
“ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے دلکش چہرے سے ٹکرایا۔۔۔” اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں“۔
” میں یہاں“۔۔۔”وہ حیران ہوتی سیدھی ہو بیٹھی ”
”پھر کچھ یاد آنے پر اپنے سر پر چپت لگاٸی اور مسکراتی ہوٸی اپنی چادر سنبھالتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی “۔۔۔۔
💞💓💗💓💗💓💗💓💗💓💗💓
”وہ فون پر کسی سے ضروری بات کر رہا تھا “
” زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی تیزیسے کام کر رہے تھے “۔
“انگلیاں تیزی سے لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر حرکت کر رہی تھیں “۔
“ضروری انفارمیشن ، میلز چیک کیں اور فون ساٸیڈ ٹیبل پر رکھتا وہ وارڈراب کی جانب گیا “۔۔
” تھکن اتنی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے والے واقع بھی فراموش کر گیا اور لیٹتے ہی نیند نے اس پر گھیرا ڈال لیا “
💖💞💕💖💞💕💖💞💕💖💞
“سورج نے اپنی چمچماتی کرنوں سے صبح کا سلام پیش کیااور” ایک مسکراتی صبح کا آغاز ہوا“۔۔
”پور ملک ہاٶس میں خوشیوں کا سماں تھا“۔۔۔
” ہر طرف خشبوٶں کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں“۔
” پورے گھر کو گلاب اور موتیے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا“۔۔۔” گلاب اور موتیے نے پورے گھر کو معطر کر رکھا تھا“۔
”باہر سے بھی گھر کو لاٸیٹوں کے جگنوٶں نے روشن کیا ہوا تھا “۔
”کہیں میٹھاٸیوں کی خوشبو، تو کہیں چمچماتی رنگا رنگ لاٸیٹز ، پورا گھر آج کسی ریاست کے شہزادے کا محل معلوم ہورہا تھا“۔۔
”گھر کے سب چھوٹے بڑے اپنی اپنی تیاریوں میں مگن تھے“۔
” گہما گہمی اور سرور کا عالم تھا “
” ایسے میں اس ماحول کو، گھر کی لڑکیاں صنف نازک کی سج دھج, چنچل شوخ کی چھن چھن کرتی پایل، کنگن، جھمکے چوڑی ، فنکشن کو چار چاند لگا رہی تھی“
”اوففف، آپ یہاں کیا کر رہی ہیں “۔
” آج آپ کی مہندی ہے،۔۔
”اور آپ پورے گھر میں دندناتی پھر رہی ہیں“ ۔
“انجی نے سارہ کو آڑے ہاتھوں لیا“۔۔۔۔”سارہ پورے گھر میں گھوم پھر رہی تھی، ”اسے یہ سب بہت ایکساٸیٹڈ لگ رہا تھا“۔
” ہوتی بھی کیوں نہ ملک ہاوس میں اتنے سالوں بعد یہ پہلی شادی تھی اس لیے سارہ بہت پر جوش نظر آرہی تھی“۔۔
” ممتا بیگم اسے کہہ کہہ کر تھگ گٸیں کہ اسے مایوں بٹھادو ، تم دلہن ہو اور دلہن کو شادی والے دن ہی سب کو چہرہ دیکھانا چاہیے روپ چڑھتا ہے
” لیکن نہ جی سارہ نے ایک کان سے سنی دوسرے کان سے نکال دی“۔۔
” تھک ہار کر انہوں نے اپنی پیاری نند انجی کو کہہ دیا کہ تم خود ہی سمجھاٶ اسے میرے بس کی تو نہیں ہے“۔۔
” بس پھر کیا تھا“۔۔
” انجی نے کوریڈور میں دیکھ کر سارہ سے دو دو ہاتھ کیے“۔۔
” اف انجی کیا مصیبت ہے شادی میری، دلہن میں ہوں اور میں ہی گھر کی ساج سجاوٹ نہ دیکھوں “۔
“لو بھٸی سارہ نے توآج معصومیت کے سارے ریکارڈہی توڑ ڈالا😜
“آپ کیا بتا رہی ہیں, ہمیں سب پتا ہے“۔۔۔۔” زیادہ بنیں مت” ۔
“انجی اسے بازو سے پکڑتی اس کے کمرے میں لے آٸیں “۔
” بیٹھیں ادھر ہلنا نہیں ہے آپ نے یہاں سے”۔۔۔ ہم باہر جارہے ہیں تھوڑی دیر میں بیوٹیشن آٸے گی آپ کی ڈریس ہم نے نکال دی ہے”۔۔۔
” اسے بیڈ پہ بیٹھا کر تنبیہہ کرتی وہ باہر چلی گٸیں“۔
” عالی تم تیار نہیں ہوٸیں“۔
” عاشی فل تیار کھڑی تھی عالی کے کمرے میں” ۔۔۔پر وہ محترمہ تو اپنے حجرے سے ہی غاٸب تھیں“۔۔۔۔
” اسے جی بھر غصہ آیا تھا اس افلا طون پہ”۔۔۔
اس نے تو سوچا تھا کے وہ اب تک تیار ہو چکی ہوگی“۔۔۔ا”س کی ساری سوچ پہ جگ بھر کر پانی ڈالا تھا عالی نے“۔۔۔
” عاشی“۔۔۔ عالی واشروم سے اپنا دوپٹہ لینے گٸ تھی جو اس کی ڈریس کے ساتھ غلطی سے چلا گیا تھا۔۔باہر آ کر اس کی نظر اس پر پڑی جو اب واپس جا رہی تھی “۔۔۔۔” تو اسے جلدی سے آواز دی”۔۔۔
” تم اب ریڈی نہیں ہویٸں
_______________
“ہاں بس ہو رہی ہوں ۔۔عالی کہتے ساتھ ہی ڈریسنگ چیٸر پر بیٹھ گٸی ۔۔۔۔”
“عالی کا چہرہ مرجھایا مرجھایا سا لگ رہا تھا وہ خوش تھی سارہ کی شادی کو لےکر اور بہت ایکساٸیٹڈ بھی”۔۔
“مگر پرسو رات زین سے ہونے والے جھگڑے نے اس کا سارہ موڈ آف کردیا تھانہ چاہتے ہوۓ بھی وہ زین کی اس حرکت کو بھولا نہیں پا رہی تھی”۔
” وہ ایک عجیب سے احساس میں گھیری ہوٸی تھی وہ بہت ہرٹ ہوٸی تھی” ۔
“زین کتنی بری طرح پیش آیا تھا اس سے کتنا برا بھلا کہا تھا ۔۔شاپنگ تو ہو ہی گٸی تھی پر اب خوشی کی کوٸی لہر اس کے چہرے سے عیاں نہیں تھی” ۔
” اورپھر زین نے بھی تو اس دن کے بعد سے عالی سے مخاطب ہونے کی کوشش ہی نہیں کی تھی”۔
” عاشی نے عالی کے چہرے کو شیشے میں دیکھا ۔۔۔۔بلا شبہ وہ کسی شہزادی سے کم نہی لگ رہی تھی” ۔۔
“کاٸی رنگ کی گوٹے کے کام والی گٹھنوں تک آتی شاٹ شرٹ اور نیچے گولڈن غرارہ جس پر کرتی کے ہم رنگ فالنگ موتی والی لیس لگی تھی اور ساتھ ہم رنگ شیفون کا دوپٹہ۔۔۔”وہ کیسی اپسرہ سے کم بھی نہ تھی۔
” پر اس کا اداس چہرا عاشی کو ایک آنکھ نہ بھایا“۔۔۔”وہ چل کر اس کی چیٸر کےپیچھے کھڑی ہو گٸی ۔
” بہت پیاری لگ رہی ہو تم تو “۔۔۔” وہ اسے کندھوں سے تھامتی ہو ستاٸیش سے بولی“۔۔۔” پر اگلے ہی پل وہ اسے غصے سے گھور رہی تھی “۔
” لے گٸی نہ بازی بولا تھا”
“مجھ سے کم اچھی لگنا
” پر نہیں تم تو اپنے نام کی ایک ہو
” لگ تو ایسا رہا ہے جیسے شادی سارہ کی نہیں بلکہ تمہاری ہے“۔۔۔۔وہ ایک آنکھ دباتی ہوٸی بولی“
“اپنی فضول بکواس اپنے پاس رکھو
“وہ غصے سے گھورتی ہوٸی بولی“۔۔۔”کچھ بھی اول فول بولتی رہتی ہو “
“وہ غصے میں چیٸر سے اٹھ کر باہر کی طرف چلی گٸی
“چلو بھی اب دیر نہیں ہو رہی تمہیں۔۔“عااشی ہنسی ہونٹوں میں دباتی اس کے ہمراہ نیچے ہال میں چلدیں ۔۔
“جہاں فنگشن کی ارینجمنٹز کی گٸی تھیں“۔
”مایوں کا ریسیپشن شروع ہو چکا تھا“
”مہمانوں میں قریبی قریبی تمام رشتہ دار موجود تھے“۔
”انجی سب مہمانوں سے مل کر اب اپنوں کے پاس آ کھڑی ہوٸیں“
”ممتا بیگم بیگم انجی اور ہادیہ بیگم تینوں ایک ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی جبکہ ابرار ، میسم اور فواد مہمانوں سے مل رہے تھے “۔
ہماری ینگ پارٹی رافع اور ماہر اپنے آفس کے دوستوں سے محو گفتگو تھے“۔
” ماہر ہمیشہ کی طرح آفس کٹ میں تھا جبکہ رافع سمیت سب نے سفید کرتا پاجامہ پہنا تھا اور گلے میں گرین اینڈ یلو رنگ کی پٹی ڈال رکھی تھی “
” انجی سب لوگ آچکےمجھے لگتا ہے اب سارہ کو نیچے بلوالو“۔
” ہاں ہم ابھی ان لڑکیوں کو بولتے ہیں جا کر“۔
” تھوڑی دیر بعد سارہ عالیہ اور عاٸشہ کے ہمراہ سیڑھیوں سے نیچے آٸی انجی اور ممتا نے آگے بڑھ کر اسے تھاما اور سٹیج پےرکھےنفیس صوفے پہ بٹھایا”۔۔۔
” سارہ بہت پیاری لگ رہی تھی میک اپ سے پاک چہرہ پنک دوپٹہ کے ہالے میں چاند کی طرح دمکرہا تھا”۔۔
” پیلے ڈریس میں وہ خود بھی کوٸی گیندے کا پھول ہی لگی تھی©۔۔۔۔۔
سارہ کے آتے ہی رسم ومراسم کا دور چلا“۔۔
“ان سب کے بیچ سارہ کو کسی اپنے کی کمی بہت بری طرح کھلی تھی“۔۔
” شادی کا دن ایک لڑکی کے لیے اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت ترین دن ہوتا ہے”۔۔۔
” اور وہ چاہتی ہے اس دن اس کے سارے پنے اس کے پاس ہو اس کے ساتھ ہوں
” آخر کو اس نے گھرسے کوچ کرجانا ہوتا ہے “
“پھر کہاں اپنوں کو اتنے قریب سے دیکھ پاتی ہے زندگی کے معنی ہی بدل جاتے ہیں”
” اور پھر شدت سے یہ اپنے جان سے پیارے کھٹے میٹھے رشتے یاد آتے ہیں“۔
“ایک آنسو چپکے سے پلکوں کی چلمن سے سے جھانکا تھا
” جسے کسی نے بہت پیار سے اپنی انگلیوں پر چن لیا
“اس نے آس بھری نگاہیں اٹھاٸیں “ انجی بہت پیاری نظروں سے اس دیکھ رہی تھیں“۔۔
”کیا آج بھی نہیں آٸیں گے بھاٸی“۔
“کتنے مان سے کہا تھا”
” کیا کچھ نہ تھا ان الفاظوں میں“
” پیار، محبت، آس، چاہ ،خواہش، تمنا
انجی تو کیا اگر کوٸی اور ہوتا تو اس سے بھی سارہ کی آنکھوں کا اداس عالم چھپا نہیں رہتا “۔
”وہ ضرور آٸیں گے “تم دیکھنا ہاں“
”ایکلوتی بہن ہیں آپ اسکی
” پھر“۔۔” کیسے نہیں آٸیں گے“۔۔
” مصروف ہوں گے کیسی کام میں الجھے ہوں گے “۔
“آپ فکر کیوں کرتی ہیں انجی نے سارہ کو پیار سے سمجھایا“۔۔
” کوٸی اور وقت ہوتا تو وہ لڑتی جھگڑتی “۔۔
” لیکن اب تو نہ موقع تھا نہ دستور احساسات کی کشمکش میں گھری وہ منہ نیچے کیے بیٹھی تھی ایک آس اب بھی تھی“۔۔
”ہمان اپنے کمرے اپنی تیاری میں مصروف تھا سفید چیکن کی کڑھا ٸی والے کرتے میں غیضو غضب ڈھا رہا تھا اس پہ ستم یہ کے گلے میں مہندی رنگ کی پٹی ۔۔
” وہ اپنی تمام تر مردانہ وجاہت لیے کسی کو بھی زیر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا”۔
“ایک سحر طاری کر دینے والی شخصیت کا حامل”۔۔۔۔
”ہمان ملک حیدر “ ۔۔”دی گریٹ ہمان ملک.
جاری یے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *