Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode14

Pari By Shanzey Rajpoot Episode14

اگر اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے تو کوٸی نہ کوٸی بات تو ضرور ہو گی
ہمان کے آگے پہلے کونسا کسی کی چلی تھی جو آج چلتی
کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ آگے بڑھ کر ہمان سے ٹاکرا کر سکے
عاشی نے تو یہ ہی سوچاتھا کہ
سب کے سامنے سچ بتا کر سب کی نظروں میں گرنے سے بہتر تھا کہ سرے سے ہی مکرجایا جاۓ
ویسے بھی ہمان نے کون سا مجھے گولی ماردینی ہے
بس تھوڑا بہت غصہ کر کہ رہ جاۓ گا
لیکن عاشی کی یہ سوچ اس وقت غلط ثابت ہوٸی
جب ہمان نے ٹریکر بایا اور وہیں عاشی کے حلق سے فلک شگاف چیخ نکلی ۔
نہیں ۔۔۔۔
میں مم۔مم۔میں سب بتاتی ہوں
پھر عاشی وہ سب بتاتی گٸی جو اس نے پری کو کہا تھا
سب گھر والوں کا تاثر نا قابل یقین تھا
ممتا بیگم روتے ہوۓ ہاتھ منہ پر رکھے سسک اٹھیں
تو ان کی بیٹی کو موت کے منہ تک پہنچانے والا کوٸی اور نہیں بلکہ ان کا اپنا خون تھی عاشی
وہ زمین پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھتی چلی گٸیں
انجی عاشی قریب آٸیں اور اس کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کردیا
عاشی کے قدم لڑکھڑاگۓ
وہ گرتے رتے بچی تھی
آنکھوں میں حیرت کا جہان لیے وہ انجی کو دیکھنے لگی
کم سے کم اسے اپنی ماں سے تو یہ امید ہرگز نہیں تھی
کہ وہ کسی اور کے لیے اپنی بیٹی پر ہاتھ اٹھاٸیں
ماما آپ نے عاشی گال پہ ہاتھ رکھے حیرت و صدمے کے مل جلے تاثرات سے بس اتنا ہی بول پاٸی کہ
انجی پھر سے بول اٹھیں
مت کہیں ہمیں ماما
نہیں ہیں ہم آپ کی ماں
ہمیں شرم آتی ہے اپنے آپ کو آپ جیسی بیٹی کی ماں کہتے ہوۓ
کیوں کیا یہ سب آپ نے عاشی
کیوں
جواب دیں ہمیں
کیا آپ کو ذرا بھی رحم نہیں آیا اس معصوم پر
آپ کو ذرا بھی خوف خدا نہیں
اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو
ہمیں اب تک یقین نہیں آرہا کہ آپ نے پری پر اتنا بڑا بہتان لگایا ہے
نہیں ماما میں نے کوٸی بہتان نہیں لگایا
چپ کر جاٸیں آپ
ایک لفظ نہیں عاشی
اور مجھے ماما کہنے کی تو بالکل بھی ضرورت نہیں
شرم سے ڈوب مرنا چاہیے آپ کو
_______
ماما آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں
کیوں نہ کہوں میں آپ کو ماما
میں نے کون سا اتنا بڑا گناہ کردیا ہے
جو آپ مجھے ماما بولنے کے حق سے بھی محروم کرہی ہیں
میں مانتی ہوں میں نے غلط کیا ہے
پر مجھے کیا پتا تھا
کہ میری اتنی سی بات اس کے دل پر لگے گی
عاشی آپ اب بھی یہ سوچتی ہیں کہ آپ نے غلطی کی ہے
نہیں عاشی نہیں آپ نے غلطی نہیں بلکہ آپ نے گناہ کیا ہے ایک پاک دامن لڑکی پر بہتان لگایا ہے ۔
ماما میں نے بہتان نہیں لگایا بس مجھ سے غلطی
انجی نے عاشی کی بات کاٹ دی غلطی مت کہیں اسے بہتان کہیں
بہتان لگایا ہے آپ نے
کیا سوچ کر آپ نے یہ سب کیا
کیا آپ کے پاس ثبوت ہیں یا پھر گواہ جو یہ بات ثابت کر سکیں
کہ اس رات پری اور ہمان انجی بولتے بولتے رک گٸیں
آگے کہ الفاظ تو انہیں کہتے ہوۓ بھی شرم آ رہی تھی
بولیں ہے کوٸی ثبوت ہے کوٸی گواہ
نہیں ۔۔۔ نہیں ہے میرے پاس کوٸی بھی ثبوت اور گواہ
مجھ سے غلطی ہو گٸی
میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا ماما
عاشی ندامت سے بولی ساتھ رو بھی رہی تھی
آنسو متاوتر اس کا چہرہ بھیگو رہے تھے
جملہ درست کریں اپنا
غلطی نہیں بہتان
جو گناہ ہے
جانتی ہیں بہتان لگانے والے کے بارے میں قرآنِ پاک میں کیا بیان کیا ہے رب العزت نے
ہم بتا تے ہیں آپ کو !!!
سورة نور
آیت نمبر٢٣
” جو لوگ بے خبر پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔“
” ہر اس عورت پر بہتان لگانے کی صورت میں جس میں تین اوصاف موجود ہیں: “
”پاکدامنی، بے خبری اور ایمان۔ “
”ایسی عورت پر بہتان عائد کرنا موجب لعنت ہے۔“
عاشی یہ کیا کر دیا آپ نے
ہم نے اپنی پوری زندگی آپ کو دین کی تعلیم دینے میں صرف کی
تو کہاں کوٸی کمی رہ گٸی
افسوس ہے ہمیں ہم اس لڑکی کی ماں ہیں
جو ایک پاک دامن لڑکی پر بہتان لگا چکی ہیں
عاشی آپ بہتان لگانے والے کی سزا نہیں جانتیں
انجی روتے روتے عاشی سے مخاطب ہوٸیں
پر ہم جانتے ہیں
ہمم قرآن کو نہیں بھولے
ہمیں پتا
ہماری تو سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے
کیا اس کی سزہ کے بارے میں پتا ہے آپ کو
قرآن پاک میں ارشاد ہے!
سورة نور
آیت نمبر ٤
”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں
پھر اس پر چار گواہ نہ لائیں۔ پس انہیں اسّی (۸۰) کوڑے
مارو اور ان کی گواہی ہرگز قبول نہ کرو اور یہی فاسق لوگ ہیں“
” یہاں پاکدامن عورتوں پر بے عفتی کا بہتان لگا کر ان کی
عزت و وقار کو مجروح کرنے کے لیے یہ تعبیر اختیار کی گئی ہے۔“
” وہ عورتیں جن کی بے عفتی پر چار گواہ مکمل نہ ہوئے ہوں
پاکدامن شمار ہوتی ہیں۔
یعنی شرعاً پاکدامن ہیں۔
واقع کے اعتبار سے ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔”
آپ کے پاس بھی تو پری کے خلاف کوٸی ثبوت یا گواہان نہیں ہیں
تو یہ آیت آپ جیسے لوگوں کے لیے ہے عاشی۔
”اگر وہ چار گواہ پیش نہ کر سکے تو یہ قابل سرزنش جرم ہے۔“
”آیت میں اگرچہ عورتوں کا ذکر ہے!!!
” لیکن یہ حکم مردوں پر بہتان لگانے والوں کے لیے بھی ہے۔
اس طرح کہ آیت میں جمع مذکر استعمال ہوا ہے
کہ بہتان لگانے والے مردوں کا ذکر ہے
لیکن اگر عورتیں کسی پر بدکاری کا الزام لگاتی ہیں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ “
بالکل عاشی آپ نے نہ صرف پری پر بہتان لگایا بلکہ ہمان پر بھی لگایا ہے۔
”وہ یہ ہے کہ اس کے وقار کو مجروح کرنا حرام ہے۔
خواہ اس خامی کو فاش کر کے ہی کیوں نہ ہو
جو اس میں حقیقتاً موجود ہے جسے غیبت کہتے ہیں۔“
عاشی آپ کو کوٸی حق نہیں پہنچتا کہ آپ کسی کے قردار
کے بارے میں کچھ بھی کہیں پھر چاہے اس انسان میں وہ خامیاں ہوں یا نہ ہوں
”مؤمن کی عزت وقار کے تحفظ کے سلسلے میں اہم ترین قانون قذف کا قانون ہے
کہ اگر کوئی شخص کسی مؤمن پر بدکاری کا الزام لگاتا
اور چار گواہوں سے ثابت نہیں کر سکتا ہے تو:
اس پر اسی (۸۰) کوڑے برساؤ!!!“
عاشی کی آنکھوں سے آنسو متاواتر بہہ رہے تھے
وہ کچھ کہنے کہ قابل نہ رہی تھی
انجی کی باتوں نے اسے لاجواب کر دیا تھا
انجی نے عاشی کو اتنا کچھ سنایا تھا
کہ اسے اپنا آپ وہاں کسی بےکار شے سے کم نہ لگ رہا تھا
ہم سوچ بھی نہیں سکتے
عاشی کہ آپ ایسا کرسکتی ہیں
ہمارا دل اب تک ماننے سے انکاری ہے
یہ سب اگر کسی اور نے ہمیں بتایا ہوتا تو
ہم کبھی یقین نہ کرتے
پر پری کہ منہ سے نکلی بات پر یقین کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہے
ہم ان سے بھی اتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنا آپ سے
کیوں کیا آپ نے ایسا عاشی
انجی روتے ہوۓ زمین پر ڈھے سی گٸیں
عالی نے جلدی سے انہیں سنبھالا ورنہ شاید وہ گر جاتی
عاشی کی باتوں نے انہیں گہرا صدمہ پہنچایا تھا
ہمیں وجہ تو بتاتیں کہ کیوں کیا آپ نے ا یسا
پری نے آخر کیا بیگاڑا تھا آپ کا
بولیں !!!!
انجی زور سے چیخی تھیں
آپ کا کوٸی کسور نہیں عاشی
کوٸی کسور نہیں
ہماری ہی پرورش میں کوٸی کمی رہ گٸی تھی شاید
ان کا چہرہ آنسوٶں سے تر تھا
عاشی نے ممتا بیگم کے سامنے انکی گردن جھکادی تھی
زین نے آگے بڑھ کر ماں کو سہارہ دیا اور ایک کٹیلی نظر عاشی پہ ڈال کر انجی کو وہاں سے لے گیا
ہمان بھی فورا سے بیشتر وہاں سے نکلا
رافع نے ممتا بیگم کو سنبھالا
اب دھیرے دھیرے سب کمرے سے جاو ماہیر نے بھی قدم آگے کی طرف بڑھاۓ
کیوں کہ اسے وہاں رکنا اب مناسب نہ لگا
جو بھی تھا پری اسے بھی عزیز تھی
اور عاشی نے اس کے ساتھ بہت ہی گھٹیا حرکت کی تھی
اتنی آسانی سے تو عاشی کو بھی معافی نہیں ملنی چاہیے تھی
وہ یہ سوچتا وہاں سے واک آٶ ٹ کر گیا
ہمان نماز فجر پڑھ کر تھوڑی دیر آرام کی غرض سے لیٹ گیا
جلد ہی اس پر نیند مہربان ہو گٸی
رات پوری سب کی آنکھوں میں کٹی تھی
ننید تو کسی کو بھی نہیں آٸی پر
عاشی کا سچ سب کو پتا چل جانے کے بعد ہمان کے دل کو قرار میسر آیا تھا
قریباَ دس گیارہ بجے اس کی آنکھ کھلی
تو وہ فریش ہوکر نیچے لاٶنج میں آیا
عالی کھوٸی کھوٸی سی صوفے پر بیٹھی تھی
آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی
ہمان اس کی طرف آیا
انجی کیسی ہیں اس نے عالی سے پوچھا
وہ بھی وہیں سامنے صوفے پہ ٹک گیا
اسے عالی کی طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں لگی
اور پھر ہمان عالی سے اپنے رویے کی معافی بھی مانگنا چاہتا تھا
پر وہ کیا کرتا
بات ہی کچھ ایسی تھی اسے عالی کے ساتھ روڈ بیہیو کرنا پڑا۔
ٹھیک ہیں بس
عاشی سے سخت ناراض ہیں
کچھ کھایا پیا انہوں نے
ہمم زین نے کھلایا ہے تھوڑا بہت
اور ممتا چاچی کیسی ہی
ں وہ بھی بس ٹھیک ہی ہیں
انہیں بھی میں نے زبر دستی کھانا کھلایا ہے
ہممم کیا ہو سکتا ہے
عاشی نے حرکت ہی ایسی کی ہے
ہمان ہنکارہ بھرتےہوۓ بولا
مجھے بھی عاشی سے ایسی حرکت کی امید نہیں تھے
ویل اب تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔
وقت کے ساتھ ساتھ انجی اور ممتا چاچی دونوں ٹھیک ہو جاٸیں گی ۔
امید تو یہ ہی ہے
عالی نے پر امید مگر سریسری لہجے میں کہا
ہمان نے عالی کو دیکھا
گھر کے مسٸلوں میں وہ بھی کافی کمزور ہو گٸ تھی
عالی
ہمان نے اسے پکارہ
ہمم بولو میں سن رہی ہوں
انداز جان چھڑانے والا تھا
جیسے وہ جانتی ہو کہ ہمان کیا کہنے والا ہے
آٸی ایم رٸیلی سوری عالی
عالی نے ماتھے پہ بل ڈال کر اس پاگل کو دیکھا
جو پل تولہ پل میں ماشا ہوجاتا تھا
کیا بات ہے ہمان تمہاری
اس دن تو بپھرے ہوۓ شیر بنے ہوۓ تھے آج تم بھیگی بلی
ہمان نے گھور کر اسے دیکھا
بھیگی بلی مت بولا کرو عالی مجھے
میں تو بولو ں گی
عاشی نے اسے چڑایا
میں اپنے رویے پر بہت شرمندہ تھا ویسے
پر اب لگتا ہے بہت ہی غلط حرکت کرنے لگا تھا تم سے اپنے کیے کی معافی مانگ کے
ہمان غصے سے وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا
اور پیچھے عالی مسکراتی رہی
_________
ہمان ہسپتال آیا تو نین اور پری باتیں کر رہے تھے
اسے دیکھ کر خاموش ہوگۓ
ارے واہ یہاں تو محفل لگی ہوٸی ہے
اس نے ماحول کو خوشگوار بناناچاہا
ہاں
بس اب تم تو تھے نہیں
میں نے اور بڈی نے اکیلے ہی محفل جمالی
نین نے ہنستے ہوۓ جواب دیا
ہمان وارڈ کا دروازہ بند کرتا اندر آگیا
چلو اچھا ہوا تو آگیا
پری نے صبح سے خالی پیٹ مجھے یہاں بٹھا رکھا ہے
اور اوپر سے کہتی ہے مجھے سے باتیں کرو
اب بتاٶ یار کیا باتیں کرو ں میں اس لڑکی سے
میرے پاس تو ساری باتیں ہی ختم ہو گٸیں ۔
نین نے بے چارگی سی شکل بنا کر کہا
تو ہمان اس حالت پر قہقہہ لگا کر ہنسا
تم زرا بیٹھو اس کے پاس میں ناشتہ کرلوں
وہ پیٹ پہ ہاتھ پھیرتا بولا
اور جلدی سے دروازہ کی طرف بڑھ گیا
مبادہ کہیں پری اسے پھر سے نا روک لے
پیچھے ہمان کے قہقہوں نے اس کا دورتک پیچھا کیا
وہ پری کہ پاس بیڈ پر ٹک گیا
پری اب قدرے بہترلگ رہی تھی
چہرہ بھی کافی پر رونق لگ رہا تھا
وہ اندر تک مطمٸن ہو گیا
کہ پری اب بالکل ٹھیک ہے
طبیعت کیسی ہے
پری میرے خیال سے تو اب تم کافی بہتر لگ رہی ہو
ہمان نے پری کا جاٸیزہ لیتے ہوۓ کہا
جی نہیں
میں بہتر نہیں
بلکہ میں تو بالکل ٹھیک ہوں
پری نے فورا ہمان کے جملے کی تصحیح کی
لیکن دیکھیں نہ ہمان
نین بھیا اور ڈاکٹرز مجھے گھر جانے کی پرمیشن دے ہی نہیں رہے
پری نے معصوم سی شکل بناکر کہا
ہمان نے اسے بغور دیکھا
وہ واقع ان تین دنوں میں عاجز آگٸی تھی ہسپتال میں رہ کر
ویسے ایک راز کی بات ہے
ہمان نے اسے تجسس میں ڈالا
کون سی راز کی بات
پری نے بھی پر تجسس لہجے میں پوچھا
ہم آج گھر جارہے ہیں
ہمان نے بولتے ساتھ ہی اسے دیکھا
جس کا چہرہ گھر جانے کے نام سے ہی کھل اٹھا تھا
کتنی عجیب لڑکی تھی یہ
چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش ہوجاتی تھی
اب بھی وہ گھر جانے کے لیے کافی اکساٸیٹڈ تھی
ہمان کو اس کنچن کی سادگی اور معصومیت لے ڈوبی تھی
اب نہ جانے یہ ڈوبی نیا کب پار لگے
شام تک تمہیں ڈسچارج مل جاۓ گا
پھر ہم گھر چلیں گے
ہاں پھر سارہ کے گھر بھی تو جانا ہے نا
ہمان سر اٹھا کےاسےدیکھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *