Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode20

Pari By Shanzey Rajpoot Episode20

بیٹا تم صحیح جارہی ہو ۔ ایسی جھاڑ پلاٸیں گے نا بڑے پاپاکہ کے ایف سی کا نام ہی بھول جاٶ گی ۔
تم نے تو سجیسشن مانگا تھا تو میں نے ایزی سا حل بتا دیا۔
ویسے کچھ زیدہ ہی ایزی نہیں ہوگیا ۔!!!
عالی دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کر ادا سے بولی ۔ تو دونوں ایک دم زور سے ہنسدی
ارے لڑکیوں تم لوگ تیاری بھی کرو گی یا پھر یونہی سارا ٹاٸم باتیں بھگارنے میں لگاٶ گی ۔ہادیہ بیگم غصے سے کہتی عالی کے کمر میں ایک دھپ جڑ چکی تھیں ۔
اوٸی اماں کتنی زور سے لگتا ہے یہ ہاتھ ۔ ہاتھ ہے کہ ہتھوڑا عالی اپنی کمر سہلاتی ہوٸی بولی ۔ ہتھوڑا ہے ادھر آ تجھے بتاتی ہوں میں ہادیہ بیگم اس کی طرف لپکی تو وہ عاشی کے پیچھے ہولی
ارے ممانی آپ جاٸیں ہم۔۔ ہم تیاری کرہے ہیں ہاں جلدی جلدی کرو تم سب ۔ جی جی۔
ان کے جاتے ہی عالی آگے آٸی ویسے تمہاری اماں اچھی کلاس لگاتی ہیں تمہاری۔
وہ دونوں کام کرتے کرتے باتیں بھی کرتی جارہی تھیں کباب بنالیتے ہیں ۔
اور چکن چلی راٸس کیسے رہیں گے میرے خیال اب تک کا مینیو ٹھیک جارہا ہے ۔ بڑے پاپا ۔ کیا بات ہے آپ اتنے خوش لگ رہے ہیں کہیں جارہے ہیں ۔پری لاٶنج میں آٸی تو میسم کو خوش باش دیکھ کر پوچھ بیٹھی ارے نہیں میری لیٹل گرل ادھر آٶ ۔پری ان کے پاس جاکر برابر میں بیٹھ گٸی میں تو کہیں نہیں جارہا میرے کچھ مہمان آرہے ہیں ۔
واٶ دیٹس گریٹ بڑے پاپا ۔
پھر تو خوب ساری تیاریاں ہورہی ہونگی کچن میں۔
میں دیکھ کر آتی ہوں ۔ پری کچن میں آٸی تو دونوں کام کرنے میں مصروف تھیں ۔
کیا کیا بن رہا ہے ۔پری کے بولنے پہ دونوں نے بیک وقت مڑ کر دیکھا ۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔پری۔
کچھ نہیں بس تم دونوں کو دیکھنے آٸی ہو کہ کیا بنارہی ہو آج مینیو میں ۔ ممتا چاچی نے تمہیں کچن میں دیکھ لیا نا تو آفت ڈھادیں گی تمہیں پتا ہے نا وہ تمہیں کچن کے آس پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتیں ۔
ایک گلاس پانی ملے گا ۔ زین جو کچن کے پاس سے گزر رہا تھا عالی کہ آواز سن کر کچن میں آگیا اور پانی بھی مانگ لیا ۔ کوٸی تو بہانہ ہونا چاہیے تھا کچن میں جانے کا ورنہ اس کا کیام تھا وہاں اچھی خاصی جھاڑ پڑنی تھی اسے۔
عالی پری سے بات کر رہی تھی اچانک زین کچن کے دروازے سے ابھرا تو عالی اپنے کام میں لگ گٸی۔
زین کو عالی یہ حرکت کافی عجیب لگی پانی نا سہی ایک کپ کافی ہی دے دو ظالمو۔۔!!!!
۔ پری نے الجھ کر زین کو دیکھا ۔ زین بھاٸی پانی اور کافی کا آپس میں کیا متبادل ہے
ارے تم سمجھا کرو لڑکی ۔یہ ایک ٹرک ہے زین نے رازداری سے کہا ۔
ٹھیک تمہیں کافی تمہارے روم میں مل جاۓ گی عاشی نے اسے بولا اور جلدی سے کافی بنانے میں لگ گٸی ۔
پری بھی وہاں سے چلدی ابھی وہ بامشکل چند سیڑھیاں ہی چڑھی تھی کہ اسے سب کچھ گھومتا نظر آیا سر میں درد کی ایک شدید لہر دوڑ گٸی۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے اوپر چڑھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ پر درد اتنا شدید تھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نا سکی ۔
آنکھوں کے آگے اچانک اندھیرا چھاگیا اور وہ اپنا توازن کھوبیٹھی اور درخت کی کسی لچکدار ڈالی کی طرح چکراکر نیچے گرتی پر کسی مضبوط سہارے نے اسے اپنی پناہوں میں لے لیا ۔
ورنہ وہ نیچے گرتی جو اس کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان گھر آیا گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے جیسے ہی اندر لاٶنج میں گیا تو سب سے پہلی نظر سامنے سیڑھیوں پہ کھڑی پری پہ گٸی۔
جو دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے کسی بھی لمحے گرنے کو تھی ۔ ہمان کو اپنی جان سوکھتی ہوٸی محسوس ہوٸی وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا اس پہلے کہ وہ چکراکر نیچے گرجاتی ہمان نے اسے اپنے بازٶوں میں تھام لیا ۔
پری ۔۔۔!!!!
پری۔۔۔!! ہمان ایک ہاتھ سے اسے سہارہ دیے ہوۓ تھا اور دوسرے سے وہ اس کے گال تھپتھپا رہا تھا۔
پری نے آنکھیں نیم واکیں تو اسے ایک شناسا چہرہ نظر آیا ۔ ہمان نے اسے سیدھا کیا اور اسے سہارہ دے کر اسے کمرے میں لے کر آیا ۔ بیٹھو ادھر اسے بیڈ پر بیٹھا کر کمفرٹر اوڑھایا ۔
کیا ہوگیا ہے پری۔
دیکھ کر چلا کرو
میں اگر وقت پر نا پہنچتا تو ناجانے کیا ہو جاتا۔
نازک سی تو تم ہو گرجاتیں تو پرزے الگ ہوجاتےتمہارے
۔ وہ اس کے پاس بیٹھا اسے اپنے ہاتھوں سے پانی پلایا۔ گلاس ساٸیڈ ٹیبل پہ رکھا ۔ تم ٹھیک ہو کیا ہوا ہے ۔
بتاٶ مجھے۔
پری اس کی باتوں کا جواب دیے بغیر دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹی مسلتی۔ تو کبھی اپنے بال نوچ لیتی آنکھوں سے آنسو لڑی کی صورت میں جاری تھے ۔
ہمان اسے اس حال میں دیکھ کر پریشان ہوگیا ۔
پری کیا ہوا ہے تمہیں مجھے بتاٶ ۔
ادھر دیکھو ۔!!!!
ہمان نے اس کی تھوڑی سے چہرہ اوپر کہا تو آنکھوں میں رونے سے سرخ ڈورے ابھر آۓ تھے۔
کنچی آنکھیں مزید دلکش ہوگٸی تھیں ۔
ہمان مبہوت رہ گیا ۔ اس لڑکی اللہ نے بہت حسن سے نوازہ تھا۔
پھر پری کی سسکیوں سے ایک دم ہوش میں آیا کیا ہوا ہے مجھے بتاٶ پری۔
میرا دل بند ہورہا ہے۔
مگر وہ مسلسل اپنے سر کو زور زور سے مسلتی رہی ۔
سر میں درد ہے۔ جس طرح وہ سر پکڑے سسک رہی تھی ہمان کو یہی لگا کہ شاید سر میں درد ہے ۔
ہمان نے اسے بچوں کی طرح پوچھا تو وہ سر اثبات میں ہلاگٸی بولنے کی ہمت تو اس میں تھی نہیں ۔
وہ اتنا شدت سے رونے لگی کہ مجبورا ہمان کو اسے اٹھاکر ہسپیٹل لیجانا پڑا
پری کےمعاملے میں وہ بہت حساس تھا اس نے کسی کو بھی بتاۓ بغیر کسی کو بھی بلانے کے بجاۓ پری کو گود میں اٹھایا کیوں کہ وہ چلنے کی کنڈیشن میں نہیں تھی ہمان اسے لے کر نیچے کی طرف بھاگا ۔عالی عاشی کچن میں مصروف تھیں اس لیے وہ اس طرف توجہ نہ دے سکیں ۔ ہمان نے جلدی سے اسے گاڑی میں بٹھاکر سیٹ بیلٹ باندھا۔ اور خود ڈراٸیو کرتا گاڑی ہاسپیٹل کی طرف دوڑادی ۔ پری پورا رستہ درد سے کراہتی رہی۔ درد سے کراہتی پری سیٹ پر کبھی سر ادھر مارتی تو کبھی اودھر اس کی تکلیف حد سے سوا تھی درد کی شدت اتنی تھی کے پری اپنے حواسوں میں نہ تھی تکلیف کے مارے اس نے ڈیش بورڈ پہ پڑی تمام چیزیں ہاتھ مار کے بکھیر دیں ہمان نے جلدی سے گاڑی روکی مبادہ وہ خود کو ہی نقصان نا پہنچالے ۔
پری ۔ پری ۔۔۔!!!!
کالم ڈاٶن ریلیس ۔ ۔۔!!!!
سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔
میری بات تو سنو پری۔
وہ کچھ سننے کی حالت میں کہا ں تھی ۔
ہمان۔ مان۔ میرا سر ۔۔ وہ بری طرح رونے لگی میرا سر ہمان میرا سر پھٹ جاۓ گا۔
مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔ اس نے ہمان کی آستین کو زور سے مٹھی میں دبالیا ۔ کہ شاید اس کا درد کم ہوجاۓ ہمان اس کی حالت دیکھ کر خود بھی رودیا پری کچھ نہیں ہوگا میں تمہیں کچھ ہونے نہیں دوں گا ۔
پر پری تو اپنے حوش میں ہی نہیں تھی۔
میں مر جاٶں گی ہمان مجھے بچالو ۔ ماما بابا۔نین بھیا ۔پلیز مجھے بچالو۔۔
ہمان سے یہ سب دیکھنا دوبھر ہوگیا ۔ اس نے جلدی سے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی گاڑی ہواٶں سے باتیں کرنے لگی ہمان کٸی دفع سگنل تڑ کر ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا پر وہ پری کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیارتھا ۔
ہاسپیٹل کے آگے گاڑی روک کر پری کو اٹھایا اور اندر لے آیا سامنے ہی ایک لیڈی ڈاکٹر کسی پیشینٹ کو شاید ہدایت دے رہی تھیں ۔ ہمان ان کے پاس گیا ۔ تو وہ ہمان کی طرف متوجہ ہوٸیں کچھ پری کی آہ و پکار نے انہیں پلٹنے پر مجبور کردیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری کو ایمرجینسی وارڈ میں لیجایا گیا تھا ۔ ہمان بےچینی سے باہر چکر کاٹ رہا تھا ۔ قریبا کوٸی ایک گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آٸیں تو ہمان چیتے کی تیزی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھا ۔
کیا لگتی ہیں یہ آپ کی ۔
وہ ڈاکٹر سے اس قمکےفضول سوال کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے سوال پہ ہمان سوچ میں پڑ گیا۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر ہمان نے انہیں یہ بتادیا کہ پری اس کی کزن ہے تو وہ کبھی ا س کو پری کی کنڈیشن کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتاٸیں گی اس لیے اسے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا ۔
She is my wife.
ohhh.
اوہ۔۔!!! آپ آٸیے میرے ساتھ ہمان ان کے پیچھے پچھے کیبن میں آیا۔
plz take your seat.
ہمان کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔ آپ کہ واٸف کی پریویس ریپوٹس ہیں آپ کے پاس ۔
ہمان ایک بار پھر مشکل میں پڑ گیا ۔ پری کی ریپوٹس اس کے پاس کہاں سے ہونگی
پھر کچھ سوچ کر بولا
جی۔
ہممم ۔۔۔!!!
ڈاکٹر نے ہمان کو بہت غور سے دیکھا۔ ہمان کے چہرے پہ خوف کا ایک سایہ سا لہرایا ۔
اسے خطرے کی گھنٹیاں اپنے آس پاس بجتی ہوٸی محسوس ہوٸیں ۔ ڈاکٹر خاموشی سے ہاتھ میں پری کی فاٸل پکڑے ورک گردانی کر رہی تھیں۔
بس ہمان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔۔ آپ کچھ بولتی کیوں نہیں ہیں کیا ہوا ہے پری کو ۔
Is everything ok?
ہمان نے بے قراری سے پوچھا۔
No!!.. everything is not ok.
ڈاکٹر نے مدھم لہجے میں کہا ۔
Tell me about my pari.
what happend to her.
Why are you dont understand my feeling now?
Why are you keep silent?You silence is irritating me.
ہمان غم و غصے کے ملے جلے تاثرات لیے بولا ۔ آواز میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی ۔ ایسا لگتا تھا وہ ابھی رو دے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام گہری ہوچکی تھی۔ ملک ہاٶس میں خاصی رونق لگی تھی ۔۔ ممتا بیگم اور انجی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گروسری کی شاپنگ کر کے واپس آٸی تھیں ۔
عالی اور عاشی بھی کھانے پکانے سے فارغ ہو چکی تھیں۔ وہ تھکی ہاری اپنے کمرے میں تیار ہونے چلی گٸیں۔
کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں مہمان آجانے تھے پھر تو انہیں بالکل بھی موقع نا ملتا ۔
انجی کافی دیر ہوگٸی ہے میں زرا پری کو دیکھ لوں پتا نہیں اس نے کھانا کھایا بھی ہے یا نہیں ایسی ہی ہے بس لاپرواہ سی ۔
دواٸی کا بھی کچھ نہیں پتا دیکھتی ہوں جاکر ۔ ہاں بھابھی آپ جاٸیے ہم یہ سب سامان کچن میں سیٹ کروادیتے ہیں ۔
ممتابیگم جیسے اپنی جگہ سے اٹھیں تو دروازے پر بیل کی آواز سن کر رک گٸی ۔۔
ممانی آپ رہنے دیں میں دیکھتا ہوں کون ہے زین لاٶنج میں بیل کی آواز سن کر آیا تو ممتا کو روک کر خود دروازہ کھولنے چلاگیا۔ اور وہ پھر وہیں ٹک گٸیں ۔
آپ لوگ ۔
زین نے جیسے ہی دروازہ کھولا دو اجنبی چہرے سامنے نظر آۓ ۔
جی ہاں ہم۔وہ ہمیں میسم انکل سے ملنا ہے یہ ان کا ہی گھر ہے نا۔
جی۔ جی آپ آٸیں اندر۔
زین نے ان کو لاٶنج میں بیٹھایا ممتا بیگم اور انجی ان سے ملی زویا ان سے بہت ہی مخلصی سے ملی ۔
میسم ماموں ابرار ماموں ممانی دیکھے کون آیا ہے ۔
زین نے یکا یک سب کو ایک ساتھ آواز دے ڈالی ۔
میسم صاحب تو فیضی کو دیکھتے ہی ایسے کھل گۓ جیسے بھنورہ پھول کو دیکھ کر ۔
عالی اور عاشی بھی لاٶنج میں آٸیں تو انہیں ایک پیاری سی لڑکی نظر آٸی جو ایک طرف خاموش سی بیٹھی تھی اب بھلا وہ بزرگ لوگوں سے کیا بات کرتی
کوٸی تو اس کے ساتھ کا ہوتا یہی سوچتے وہ خاموشی سے ایک جگہ ہی ٹک گٸی تھی۔ عالی اور عاشی دونوں اس کی طرف بڑھیں ۔
اسلام علیک۔
عالی نے سلام میں پیش قدمی کی ۔
تو زویا نے بھی خوش دلی کا مظاہرا کرتے ہوۓ سلام کا جواب دیا۔
عاشی نے سلام کیا وہ دونوں اس کے پاس ہی بیٹھ گٸیں ۔
میرا نام عالیہ ہے اور پیار سے لوگ مجھے عالی کہتے ہیں ۔
سیم ٹو می ماٸی نیم از عاٸشہ اور پیار سے لوگ مجھے عاشی کہتے ہیں ۔
دونوں نے ایک ساتھ تعارف کروایا۔
زویا صدیقی ۔
ناٸس نیم ۔
نین بھی وہیں ان کے پاس آکر بیٹھ گیا اب سین یہ تھا کہ سب لاٶنج میں ہی بیٹھےتھے مگر گھر کے سب بڑے ایک طرف اپنی باتوں میں مشغول تھےتو دوسری طرف ینگ پارٹی نے زویا کو گھیر رکھا تھا ۔
زویا کافی حد تک ان میں گھل مل گٸی تھی۔ تم نے مجھے کافی نہیں دی عالی ۔
یہ اچانک زین کو ناجانے کافی کیسے یاد آگٸی عالی نے اسے گھورا پر زیادہ دیر نہ گھور سکی
” اس کو آنکھو ںمیں ایسا کچھ ضرور تھا عالی کو اپنی نظروں کا زاویہ بدلنا پڑا ۔ پچھلے کچھ دنوں سے زین کے انداز و اطوار اسے کافی مشکوک لگ رہے تھے اب وہ اس سے پہلے کی طرح لڑتا جھگڑتا نہیں تھا۔ اور نا ہی اسے پریشان کرتاتھا ۔ بلکہ اب تو وہ بہت ہی نرمی سے بات کرنے لگا تھا اس سے ۔ اس کے پیچھے کیا وجہ تھی عالی اچھے سے جانتی تھی اتنی بچی تو وہ بھی نہیں تھی کے زین کی باتیں اس کے انداز اور اس کی بولتیآ نکھوں کو نا پڑھ سکتی۔”
عالی اپنی تیز طبیعت کی وجہ سے زیادہ دیر چپ نہ رہ سکی ۔ تم دیکھ نہیں رہے تھے ہم کام کر رہے تھے ۔ کافی تمہارا مسٸلہ تھا ویسے بھی اپنا کام خود کرنا چاہیے ۔ ہیں نا عاشی۔
correct
عاشی نے فورا جواب دیا ۔
عاشی نے بھاٸی کا اترا چہرا دیکھا تو اس سے رہا نا گیا اور اس کے زہن میں ایک شرارت کوندی۔ زین بھاٸی کیوں اپنا کام خود کرنے لگے ۔ ان کی واٸف کرا کرے گی نا ان کے کام۔ عاشی نے عالی کو کہنی ماری ۔
عالی نے اسے گھورا۔ ہاں ہاں تو بنوالیں نا اپنی واٸف سے کافی بلکہ شوق سے بنواٸیں ۔
جب ملے گی نا اس چڑیل کے سڑے ہاتھ کی سڑی کافی تو تمہارے بھیا نے میرے پاس ہی آنا ہے۔
” عالی پلیز ایک کپ کافی بنادو۔ “
عالی انجانے میں ہی بہت گہری بات بول گٸی کچھ دیر خاموشی کے بعد زویا سمیت سب کا قہقہہ گونجا تو عالی چارو ناچار وہاں سے رفوچکر ہولی ۔
میں آتی ہو ابھی مجھے شاید انجی بلا رہی ہیں
تھوڑی دیر میں خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا۔ جب ممتا بیگم کو اچانک پری کا خیال آیا تو وہ اس کے کمرےکی طرف چل دیں۔ کمرے میں پری کو کا نا پاکر ممتا بیگم کے حواس جواب دے گۓ انہوں نے جلدی سے نین کو اشارے سے اپنے پاس بلایا ۔
کیا ہوا ۔اما ۔ آپاتنا پریشان کیوں ہیں سب ٹھیک تو ہے۔۔
نین پری اپنے روم میں نہیں ہے۔
ماما آپ فکر مت کریں میں دیکھتا ہوں ۔ میں نے سب جگہ دیلھ لیا نین پری کہیں نہیں ہے ۔ وہ فکر مند سے بس رو دینے کو تھیں ۔ اچانک ان کے دماغ میں جھماکا سا ہوا ۔
نین ہمان بھی تو گھر پر نہیں ۔
اور پری بھی گھر پر نہیں ۔
کہیں پری ہمان کے ساتھ تو نہیں۔ پر ماما وہ ایسے بنا بتاۓ کیوں لےکر جاۓ گا ۔ اسے بتانا تو چاہیے تھا اسے۔
تو اسے فون کر کے پوچھ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی واٸیف کو ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر۔!!! پلیز جلدی چلیے وہ پیشنٹ۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر ہمان کو بتانے لگیں تھیں ۔کہ ایک نرس جلدی سے بھاگتے ہوۓ اندر آٸی ۔
جلدی چلو ۔ کیا ہوا ہے پیشنٹ کو۔
وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر چلی گٸی ۔ہمان بھی تیزی سے باہر نکلا اچانک اس کا موباٸل رنگ ہوا تو وہ رک گیا موباٸل نکال کر کال ریسیو کی ۔
ہیلو ہمان پری تمہارے ساتھ ہے۔
نین کے براہراست سوال نے ہمان کو سوچوں کے گرداب سے باہرنکال پھینکا ۔
ہاں۔۔
کہاں ہو تم لوگ۔ اور کم سے کم بتا کر تو جانا چاہیے تھا۔ مجھے تم سے تو یہ امید نہیں تھیں ہمان ۔
تم نے اخلاق سے گری ہوٸی حرکت کی ہے۔
جانتے ہوماما کتنا پریشان ہیں ۔
تم ابھی اسی وقت سٹی ہاسپیٹل آجاٶ۔
ہمان نے مختصر سی بات بول کر فون بندھ کردیا۔ اور وہاں نین کو لگا اس نے بہت کچھ غلط کہہ دیا ہے ۔
وہ ماما کو لے کر جلدی سے ہاسپیٹل پہنچا ہمان بینچ پر دونوں ہاتھوں کی مٹھی بناۓ سر جھکاۓ بیٹھا تھا ۔ پری ٹھیک تو ہے نین اس کے ساتھ بیٹھتاہوا بولا ۔
ممتا بیگم کو وہ رستے میں سمجھاتے ہوۓ لایا تھا ورنہ اب تک وہ رو رو کر ادر اٹھالیتیں۔
ہاں ٹھیک ہے ۔
تھوڑی دیر میں ڈسچارج مل جاۓ گا ۔ وہ مزید کچھ بھی کہے بنا وہاں سے چلا گیا ۔ اور نین اس کی پشت دیکھتا رہا پری کو ڈسچارج مل گیا تھا نین اور ممتا بیگم اسے گھر لے آۓ تھے ۔
رات زیادہ ہونے کی وجہ سے کسی کو زرا بھی شک نہیں گزرا۔ ممتا بیگم نے پری کو دواٸیاں دیں اور وہ تھوڑی ہی دیر میں وہ نیند کی آغوش میں چلی گٸی۔
جب انہیں پری کے سونے کا اطمینان ہو گیا تو وہ بھی اٹھ کر اپنی کمرے میں چلی گٸیں ۔
افی صاحب اب تک جاگ رہے تھے۔ سلا آٸیں آپ ہماری بیٹی کو ۔مجھے تو اس سے ملنے تک نہیں دیا ۔ بہت غلط بات ہے ممتا۔
افی نے دیکھا ممتا کو جو ان کی بات نہیں سن رہی تھیں۔ بلکہ خاموش سی کسی غیر مرعی نقطیے کو گھور رہی تھیں۔
افی صاحب نے ان کا کاندھا ہلایا تو وہ بری طرح چونک گٸیں۔
کیا سوچ رہی ہیں ۔سب ٹھیک تو ہے نا۔
ہم کب سے آپ سے بات کر رہے ہیں اور آپ ہیں کہ اتنی خاموش ہیں۔
وہ وہیں ان کے پاس بیٹھ گۓ سب ٹھیک تو ہے نا ممتا۔ کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ وہ اتنی خاموش پاٸی جاٸیں ورنہ تو وہ پری کی خاطرپورا دن بولتی رہتی تھی اور پری ان ہر بات سنتی اور مسکراتی رہتی ۔
ہم وپس کب جارہے ہیں۔
ممتا میں نے کہا تو تھا آپ سے کہ کچھ دن رک جاٶ پھر چلتے ہیں ۔کچھ دن ٹھہیر کر ہی کیوں ابھی کیوں نہیں ۔
ممتا۔۔افی بولے
آخر آپ کے نزدیک میری بات کی کوٸی اہمیت کیوں نہیں ہے ۔آپ میری بات کیوں نہیں مان لیتے۔ ممتا کیا ہوگیا۔
کیوں خوامخواہ میں ایک ہی بات کی ضد پکڑ کر بیٹھ گٸی ہیں۔
کیوں کہ جو مجھے دیکھاٸی دے رہا ہے وہ آپ کو دیکھاٸی نہیں دے رہا۔
ایسا کیا دیکھ لیا ہے آپ نے جو میں نہیں دیکھ پایا۔
آخر مجھے بھی تو پتا چلے۔
ممتا مجھے لگتا ہے کہ اب آپ باتوں کو گول گول گھمانے سے پرہیز کریں اور سیدھی بات کریں ۔انہوں نے ممتا کو شانو سےتھام کر رخ اپنی طرف کیا ان کی آنکھیں نم تھیں۔
انہیں لگا تھا کہ واپس جانے کی پیچھے ضرور ان کہ اپنی غرض ہوگی لیکن ان کی آنکھوں میں آٸی نمی نے انہیں بہت کچھ سمجھادیا تھا۔
مجھے پری کی فکر ہے
وہ یہاں ٹھیک نہیں ہے
ہمان پری کو ہاسپیٹل لے کر گیا تھا۔ اس نے کسی کو بھی بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ پری کی طبیعت خراب ہوگٸی ہے ۔ نین نے فون کرکے پتا کیا۔
ہو سکتا ہےاسے یاد نا رہا ہو پریشانی میں۔
شاید۔۔۔
ہمان پری کی بہت پرراوہ کرتا ہے ۔ آج میرا دھیان نہیں رہا پری پہ لیکن اس کا دھیانہر وقت پری پر ہی رہتا ہے ۔
آپ کیا کہنا چاہتی ہیں ممتا
یہی کہ ہمان پری سے پیار کرتا ہے۔۔یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ۔
بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں ۔
کیوں اس بچے پر غلط الزام لگارہی ہیں ہمان ہرگز ایسا بچا نہیں ہے۔ اس نے کبھی بھی اہنی حد سے تجاوز کرنے کی کوشش نہیں کی ۔
تو آپ کو لگتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں۔
نہیں ممتا میں نے ایسا کب کہا ۔
آپ کو کوٸی غلط فہمی ہوٸی ہو گی
آپ غلط فہمی کہ بات کر رہے ہیں ۔
یاد کریں وہ دن جس دن سارہ کا ولیمہ تھا جب پری کی طبیعت بگڑ گٸی تھی ۔
عالیہ کے بتانے پر ہمان کیسے پاگلوں کی طرح چلاتا ہوا اوپر بھاگا تھا۔ کیسے اس نے کیسی کی بھی پرواہ کیے بنا اسے اپنی گود میں اٹھا کر ہسپتال پہنچایا تھا ۔ کیا یہ سب کرنے کے لیے اس کا بھاٸی نین نہیں تھا ۔
وہ بھی وہیں کھڑا تھا پر ہمان نے نین تو کیا کسی کو بھی اسے ہاتھ لگانے نہیں دیا ہاسپیٹل میں بھی وہی رکا تھا۔اور بھی جاننا چاہیں گے آپ تو سننے آپ کی ہی آنکھوں کے سامنے ہوا واقع پری کے سب سچ بتانے پر کیسے اس کو خون کھولا تھا۔
ہمان نے کیسے جنون میں آ کر عاٸشہ پر ریوالور تان دی تھی یہ کم ہے یا اور بھی کوٸی ثبوت چاہیے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *