Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode02
Pari By Shanzey Rajpoot Episode02
افی صاحب نین سے مخاطب ہوئے ۔۔ارے بھئی حسنین (نین) بیٹا ۔تم زرا گاڑی سے سامان نکال کر اندر لے آؤ میں اور تمہاری موم اندر جا رہے ہیں کیوں کہ مجھ سے تو صبر نہیں ہو رہا”۔۔۔۔کہتے ہوئے فواد صاحب اندر کی جانب چلدیے” ۔۔۔
“خود تو جناب اندر چلدیے اور مجھے یہاں سرونٹ کواٹر والوں کی ڈیوٹی تھماگئے” ہنہہ… “۔۔۔۔نین نے مصنوٸی غصے سے گاڑی کے بونٹ پے ایک کک ماری “۔۔۔۔
واہ رے مالک بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے”… نین چہرا آسمان کی طرف کیے دونوں ہاتھ پھیلاۓ خفیف ہوا”۔۔۔۔”ایک تو اتنی لمبی ڈرائیونگ کی اور اوپر سے سامان بھی میں ہی لے کر جاؤں نین بڑبڑاتا ہوا ڈگی سے سامان نکالنے لگا “۔۔۔۔۔
“سب لوگ لاؤنج میں ہی بیٹھے تھے ینگ پارٹی اپنی بیٹھک میں تھی جو خاص ان کی جگہ ہوتی ہے “۔۔۔۔
“جب افی صاحب ممتا کہ ہمراہ اندر آئے اور سب سے ملے میسم ,ابرار اور نادیہ بیگم سب ہی ان سے تپاک سے ملے تھے”۔۔۔۔”بھٸی کہاں تھے تمہیں اور ممتا کو تو ہم لوگوں کی یاد ہی نہیں آتی”۔۔۔
“ارے نہیں میسم بھاٸی بس کچھ کام کا برڈن تھا اور پھر حالات ہی کچھ ایسے بن گۓ کہ آنا ہی نہیں ہوا “۔۔۔”اور رہی بات بھولنے کی تو دل میں رہنے والوں کو بھولا تھوڑا ہی جاتا “۔۔۔بالکل ٹھیک “۔۔۔
“میں اس بات سے پورا پورا اتفاق کرتا ہوں “۔۔۔۔
“نہ تو آدھا آدھا اتفاق کون کرتا ہے ابرار صاحب”۔۔۔۔
“ابرار صاحب نے بےچارگی سے اپنی سر پھری بیوی کو دیکھا انداز ایسا تھا جیسے کہنا چاہتے ہوں کہ”یار کہیں تو بخش دیا کرو”
۔۔۔
اور ابرار صاحب کی شکل دیکھ کے سب کی ہنسی چھوٹ گٸی وہ سب ایسے ہی تھے شروع سے ہی”۔۔۔۔” جب کبھی اکٹھے مل بیٹھتے تو خوب میلا لگتا تھا ان سب کا”۔۔۔۔
“وہ لوگ ہنسنے مے مشغول تھے کہ اتنے میں نین نےگھر کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر سب کو با آواز بلند سلام کیا”۔۔۔
“اسلام علیکم ملک ولا والوں”۔۔۔۔نین قدم قدم چلتا اندر آیا اور ایک دم سے میسم صاحب کو جپھی ڈال لی”۔۔۔۔
اور بھٸی بڑےپاپا کیا حال چال اور چاچو چاچی کیسی گزر رہی ہے بھٸی”۔۔۔۔
“وعلیکم اسلام “۔۔۔۔۔
“سب نے باری باری سلام کا جواب دیا” ۔۔۔ ہم سب تو ٹھیک ہیں بھٸی میسم نے جواب دیا اور ہماری بھی بس گزر ہی رہی ہے ابرار صاحب نے بڑے ہی معصوم انداز میں کہا “—
“کیوں چاچو سب خیریت”۔۔۔۔
“بس مت پوچھ انہوں نےفلمی ہیروٸینوں کی طرح ایک ہاتھ اپنے ماتھے رکھ کر دہاٸی دی”
*”سک بھرے دن بیتو رے بھیا دکھ بھرے دن آیو رے”*
“*بھنگ جیون میں نیا لایو رے”*
“بس پھر کیا تھا ابرار صاحب کی دکھ بھری داستان کی آواز ینگ پارٹی کی بیٹھک تک پہنچ گٸی اور ہماری ینگ پارٹی بھی گھر میں شور شرابا سن کر لاٶنج میں آ گٸی”۔۔۔۔جب انہوں نے لاٶنج کا منظر دیکھا تو سب کی چیخیں نکل گٸیں”
ارے بھٸی ڈر سے نہیں بلکہ خوشی سے فواد اور ممتا کو دیکھ کر”۔۔۔
“نین نے بھی ان کے شور شرابے میں بھرپور ساتھ دیا نین سب سے ملا سب بہت خوش تھے “اور نین وہ تو بہت ایکساٸیٹنگ تھا”۔۔۔
ممتا بیگم کی نظر پری پر پڑی تو انہوں نے بنا ایک سیکنڈ کی دیر کیے اسے اپنے سینے سے لگایا “۔۔۔۔پری تو پہلے ہی پاکستان آ کے بہت خوش تھی اور اب تو وہ اور بھی زیادہ خوشہو گٸی تھی”۔۔۔۔
” ان کی پوری فیملی مکمل ہو گٸی تھی “۔۔۔
نین کی خوش گپیوں اور ابرار صاحب کہ دکھوں کی داستان اور ان کی بیگم نادیہ کی نٹ کھٹ باتوں نے ماحول کو اور بھی خوبصورت اور یادگار بنادیا”۔
______________
“فواد ممتااور نین کے آنے پر شاہ ہاٶس میں شادی کی تیاریاں زورو شور سے شروع ہو چکی تھیں”۔۔۔۔
” ینگ پارٹی اپنی شوپنگ پر روز گھنٹوں بیٹھک میں بیٹھ کر تبصرے کرتیں تا کہ پہلے سے ہی فنکشن میں چار چاند لگانے کے لیے کچھ پلان کر سکیں “۔۔۔
کیوں کہ ملک ولا میں کافی سالوں بعد کوٸی شادی آٸی تھی ورنہ اس سے پہلے ملک ولا میں ہونے والی آخری شادی انجی اور اسد کی تھی “۔۔۔۔
” تو پھر شادی میں دھوم دھڑکا تو بنتا ہے”۔۔۔۔”اس سلسلے میں ہمارے زین اور عالی اول درجے کے شیطان تھے “۔۔۔۔
*******************
” سارہ ماہیر کے ساتھ آفس جاتی تھی کیونکہ بزنس کو ڈیویلپ کرنے کے لیے ماہیر اکیلا کافی نہیں تھا”۔۔۔
” ویسے تو وہ آفس کا سارا کام خود ہی دیکھ لیتا تھا”۔۔۔۔”لیکن کبھی کبھی اسے شدید تھکن ہو جاتی پر وہ کسی سے بھی ذکر نہیں کرتاتھا”۔۔۔۔
” لیکن بہنوں سےبھی کبھی بھاٸیوں کی باتیں چھپی رہی ہیں”۔۔۔” سارہ سے بھی یہ بات چھپی نہیں رہی”۔۔۔۔”اس لیے سارہ نے خاموشی سے بغیر کسی بات کا ذکر کیے پاپا کو کہا کہ وہ آفس جواٸن کرنا چاہتی ہے “۔۔۔
“میسم صاحب کو شدید حیرت نے آن گھیرا کیوں سارہ بہت کم ہی سیریس ہوا کرتی تھی”۔۔۔”اس لیے انہوں نے کافی تفشیش کا اظہار کیا”۔۔۔”
لیکن پھر سارہ کے بار بار اسرار پہ وہ مان گۓ “۔۔۔۔
“پھر سارہ نے آفس جانا شروع کردیا اس طرح ماہیر کا کام بھی خاصا آسان ہو گیا اور وہ گھر کو بھی وقت دینے لگا”۔۔۔ “ورنہ آفس کے کاموں کے چکر میں اکثر آٶٹ آف سیٹی ہونے کی وجہ سے گھر پر کم ہی پایا جاتا تھا”۔۔۔
“ان ہی دنوں ہمان نے اپنے ایک دوست حماد کو گھر دعوت پر بلایا”۔۔۔۔
” حماد ہمان کے ساتھ ہی کام کرتا تھا اور وہ دونوں بچپن کے دوست تھے ایک ساتھ پڑھے تھے اسکول کالج ,یونیورسٹی وغیرہ”۔۔۔
“حماد گھر میں سب کو بہت پسند آیا لیکن شاید ہماد کو گھر میں صرف کوٸی ایک ہی پسند آیا”۔۔۔۔۔”اور وہ کوٸی اور نہیں بلکہ ہماری سارہ میڈم تھیں “۔۔۔۔
” پورے وقت میں حماد کی نظریں سارہ پہ جمی رہیں”۔۔۔۔۔ “یہ بات ہماری ینگ پارٹی سے بھی چھوپی نہیں رہی”۔۔۔”خود ہمان نے بھی یہ سب محسوس کیا پر پھر اپنا وہم سمجھ کے معاملہ رد کر دیا”۔۔۔۔
“حماد اس دن دعوت سے واپس تو آ گیا مگر اپنا دل وہیں چھوڑ آیا”۔۔۔
“وہ پوری رات حماد کی آنکھوں میں کٹی تھی اسے کسی طور چین و سکون کی نیند نہ آ سکی “۔۔۔
” وہ اس بات کا ذکر ہمان سے بھی نہیں کر سکتا تھا”۔۔۔ “کیوں کہ وہ کبھی بھی یہ برداشت نہ کرتا “۔۔۔
“اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ ہمان سے کچھ کہہ پاتا”۔۔۔۔
“پھر دوسری بات جو اسے ہمان کو سب کچھ بتانے سے روک رہی تھی”۔۔۔۔
” وہ یہ تھی کہ ہمان کیا سوچے گا اگر اسے یہ سب پتا چلا کہ میں اس کہ بہن کو پسند کرتا ہوں”۔۔۔
“کیا سوچے گا وہ کیا اس نے اس لیے دعوت پر بلایا تھا مجھے”۔۔۔
” حماد نے گھبرا کر ایک جھرجھری لی”۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔کبھی” نہیں۔۔۔میں اسے سچ بتا کر اپنا سب سے بہترین دوست نہیں کھو سکتا”۔۔۔۔۔
” لیکن میری محبت کا کیا”۔۔۔”وہ عجیب کسمکش میں پھنس گیا”۔۔۔۔
“اس نے ایک بار پھر جھرجھری لی نہیں میں اپنی محبت نہیں کھو سکتا میں بات کروں گا ہمان سے”۔۔۔
“وہ میری بات ضرور سنے گا”۔۔۔”پھر جو ہوگا دیکھا جاۓ گا اب یا تو آر یا پار”۔۔۔۔
” حماد اور ہمان ابھی ابھی ایک میٹنگ اٹینڈ کر کے فارغ ہوۓ تھے اور اب اپنے آفس میں بیٹھے کافی کے مزے لے رہے تھے”۔۔۔
“حماد نے ایک نظر ہمان کے چہرے کو دیکھا شاید وہ وہاں کچھ کھوج رہا تھا”۔۔۔
“اس نے ایک لمبی سانس لی جیسے خود کو پر سکون کرناچاہ رہا ہو یا ہمان کے ری ایکشن کے لیے تیار کر رہا ہو”
“ہمان نے بغور اسے دیکھا “۔۔۔۔
“تو کچھ کہنا چاہتا ہے “۔۔۔کچھ پریشان بھی لگ رہے ہو”۔۔۔۔
“ن ۔ن۔ن۔نہیں تو ۔۔۔تو پھر یہ لڑکیوں کی طرح کیوں ہکلا رہا “۔۔۔
“مطلب صاف ہے کچھ کہنا چاہ رہا ہے جو کہہ نہیں پارہا”۔۔۔
اور تیرے میرے بیچ میں یہ تکلف کب سے آ گیا “۔۔۔
” ہمان نے ٹیبل پہ پڑا پیپر ویٹ گھماتے ہوۓ خفیف انداز میں کہا”۔۔۔۔
“نہیں یار ایسا نہیں ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ میں تجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں”۔۔
“ایسی بھی کیا بات ہے جو تو لڑکیوں کی طرح ہچکچا رہا “
“ہمان تو غصہ کرے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تو مجھ پہ ہاتھ اٹھاۓ یا پھر ہماری دوستی توڑ دے”۔۔۔۔
“حماد کے چہرے پہ عجیب سی کشمکش تھی جو ہمان سے چھپی نا رہ سکی”۔۔۔
” بات کیا ہے آخر جسے سننے کے بعد تمہیں لگتا ہے کے میں یہ سب کر گزروں گا”۔۔۔
“وہ بات۔۔۔ دراصل یہ ہے کہ حماد چٸیر سے کھڑا ہو گیا”۔۔
“کہ”۔۔۔۔
” ہمان نے اسی کے انداز میں کہا”۔۔۔
“دیکھ ہمان میں بہت سادہ سا بندا ہوں “۔۔۔۔
یہ پیار ویار عشق محبت سے میرا دور دور تک کوٸی واستہ نہیں ہے”۔۔۔
“پر جب سے تیرے گھر سے واپس آیا ہوں مجھے لگتا ہے ان سب سے میرا بہت قریبی واستہ پڑ گیا ہے جن سے دور دور تک نہ تھا”۔۔۔
“پہلیاں مت بجھاحماد”۔۔۔
“ہمان نے سنجیدگی سے کہا اب اسے بھی معاملے کی سنجیدگی کا کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا”۔۔۔
“ہمان مجھے تمہاری بہن سارہ بہت پسند ہے “۔۔۔۔
“میں اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں کب کیسے وہ اچھی لگنے لگی میں نہیں جانتا بس اگر کچھ پتا ہے تو یہ کہ میں مریض عشق ہوں”۔۔۔
“حماد کا رخ سامنے دیوار کی طرف تھا اور پشت ہمان کی طرف “۔۔۔
“شاید وہ ہمان کے تاثرات سے بچنا چاہتا تھا”۔۔۔
حماد کے کہنے کی دیر تھی تھوڑی دیر دونوں کے بیچ خاموشی کا راج تھا”۔۔۔۔
“لیکن اگلے ہی پل فضا میں ہمان کے قہقہہ گونجے تھے “
“ہاہاہا۔۔۔۔ہاہاہا یار تو۔۔۔ہاہاہاحماد تجھے وہ ہاہاہا۔
ہنسنے کے باٸث ہمان سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا”۔۔۔ اورحماد وہ تو اس اچانک حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا” وہ جتنا حیران ہوتا اتنا کم”۔۔۔
“لیکن جلد ہی اس کی حیرت غصے میں بدل گٸی “۔۔۔
“وہ ہمان پر خوب غصہ ہوا جس کاخاطر خواہ اثر یہ ہوا کہ ہمان کہ قہقہے بند ہو گۓ”۔۔۔
“تو کیوں منہ بنا کے بیٹھا ہے میں صرف یہ کہہ رہا تھا کہ تجھے ایک وہی چڑیل ملی تھی پیار کرنے کے لیے”۔۔۔
حماد نے اسے گھورا “۔۔۔۔”
“اوکے اوکے میں بات کروں گا پاپا سے ڈونٹ وری یار اس نے اس کاندھا تھپک کر حوصلہ افزاٸی کی”۔۔۔۔”
“ہمان نے میسم صاحب سے بات کی”۔۔۔
” میسم صاحب نے کافی سوچ بچار کے بعد حماد کے پروپوزل کے لٕےسارہ کی رضا مندی سے اور سب گھر والوں کی خوشی سے ہاں کر دی”۔۔
“حماد کو جب پتا چلا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی “۔۔۔
“پھر اسی دوران سارہ اور حماد کی اینگیجمنٹ کر دی گٸی”
“چونکہ حماد اور علی صرف دو بھاٸی اکیلے ہی رہتے تھے” ۔۔۔”علی زیادہ تر فورن کنٹری ہوا کرتا تھا اور دونوں کے پیرنٹس کی ڈیتھ ہو چکی تھی “۔۔۔۔
“اس لیے منگنی کی رسم سادگی کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا گیا”۔۔۔۔۔
“پھر کچھ مہینوں بعد حماد کے بے حد اسرار پر شادی کی تاریخ بھی رکھ دی گٸی “۔۔۔یوں سارہ اور حماد کی زندگی کا سفر شروع ہوا”۔۔۔۔
*****************************
“آج ینگ پارٹی کے تبصروں اور پلاننگ کی آخری بیٹھک تھی”۔۔۔ “ممتا بیگم نے حکم صادر کردیا تھا”۔۔۔” کہ کل صبح تک اپنی تمام تر پلاننگ اور شاپنگ مکمل کرلی جاۓ ورنہ “سب کچھ بھول جاٸیں “۔۔۔۔
“بیٹھک میں تمام نفوذ ساکن تھے مانو جیسے تمام کے تمام مفکرین ہوں اور ایک بہترین زندگی گزارنے کا فلسفہ سوچ رہے ہوں” ۔۔۔
“عالی اور عاشی بیڈ پر دونوں ٹانگے لٹکاۓ بیٹھی تھیں اور کسی گہری سوچ کے تحت خاموش تھیں”۔۔۔اور دوسری طرف سامنے ہی صوفے پر نین پری اور ساٸیڈ والے صوفے پر زین اور رافع بیٹھے” ۔۔۔
“زین مسلسل عالی کو غصے سے گھور رھا تھا”۔۔۔۔
” مگر عالی تو کسی اور ہی دنیا میں تھی اس کا بس نہی چل رہا تھا کہ ان دونوں مفکرین مطلب نفوز کو کچا چبا جاۓ”۔۔۔۔
“رافع زین کی اس حالت پر بس مسکرا کر رہ گیا” ۔۔۔۔
“کیونکہ اگر وہ کچھ بولنے کے لیے لب وا کرتا تو سامنے بیٹھی دونوں نفوس اس کے لیے وبالے جان بن جاتیں”۔۔۔۔ “ویسے بھی یہ کام ” بھیڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا “۔۔۔۔
” سو خاموش رہنے میں ہی آفیت جانی”۔۔۔۔
“نین اپنے موباٸیل میں لگا پڑا تھا”۔۔۔
” ایسے میں پری صحیح والا پک چکی تھی یہاں آ تو گٸ تھی لیکن کیا پتا تھا کہ اس قدر بوریت کا شکار ہو جاۓ گی”۔۔۔
” ویسے بھی اسے کہاں عادت تھی شادی، شاپنگ ویڈنگ، پلانز، فنکشنز، سجنا سنورنا یہ سب تو اس کی زندگی میں دور دور تک کہیں نہیں تھا”۔۔۔۔
” اسے تو بس اپنی لااوبالی زندگی میں ہنسنا مسکرانا اور قدرت سے بے حد لگاٶ تھا“ ۔۔۔۔
” وہ پچھلے دو گھنٹے سے اس خاموش اجلاس کو جھیل رہی تھی”۔۔۔۔۔
” قریب ہی تھا کے ایک بگ بینگ ہو جاتا”۔۔۔۔
“کیونکہ پری کو غصہ یا تو آتا نہیں تھا اور اگر اسے غصہ آ جاتا تو وہ ان دونو ں کو خوب اچھے سے نہ صرف شاپنگ کرواتی بلکہ شادی کے سارے فنگشنز کی تارے اس نے ان دونوں کو آج ہی دیکھا دینے تھے”۔۔۔۔
“مگر اس سے پہلے کہ پری کا پارہ ہاٸی ہوتا “۔۔۔
“چرررررررر کی آواز سے دروازہ کھلا اور یہ کیا”۔۔۔۔
ماہیر صاحب!!! تشریف لاۓ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”۔۔۔۔
“
چلوووو جی!!” ۔۔۔۔
“خاموش اجلاس کے اراکین میں ایک اور رکن کا اضافہ ہو گیا” ۔۔۔
“ہے گاٸیز
!!!السلام عليكم” ۔۔۔۔۔
” کیاہورہا ہے “۔۔۔۔
”اتنی خاموشی“۔۔!!!
”خیریت تو ہے“ ۔۔۔
“عالی اور عاشی نے پہلے تو ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھا پھر ایک نظر ماہیر کو “۔۔۔۔
“دونوں نے اسے منہ پرانگلی رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا “۔۔
“شششش۔۔ شششش “۔۔۔
“مطلب یہ تھا کہ خاموش رہا جاۓ “۔۔۔
“ماہیر خاموش ہو گیا “۔۔۔۔
کیوں کہ عالی اور عاشی دونوں کی فطرت سے اچھی طرح واقف تھا “۔۔۔۔۔
“ماہیر نے ہاتھ کے اشارے سے زین سے پوچھا کہ” کیا ہو رہا ہے“
”بس زین کا تو بند یہیں ٹوٹ گیا ”۔۔۔۔
”ویسے بھی وہ تو خود انتظار میں تھا”۔۔۔
” وہ کہتے ہیں نہ کہ اندھے کو کیا چاہیے”۔۔۔” دو آنکھ“ ۔۔۔وہ حساب زین کے ساتھ تھا”۔۔۔
“اچھا ہوا جو تو آ گیا زین غصے میں صوفے سے اٹھااور ماہیر کے پاس جا کے بولا “۔۔۔
” لےکے جا ان دونوں کو یہاں سے زین نے ایک ہاتھ سے بیڈ کی طرف اشارہ کیا”۔۔۔
جہاں وہ دونو ں بیٹھی تھیں جبکہ دوسرا ہاتھ سے وہ اپنی کنپٹی مسل رہا تھا “۔۔۔۔
جس کا مطلب تھا کہ ” ان دونوں نے تو میرے سر میں درد کر دیا ہے “ ۔۔۔۔
”ماہیر بلیک ڈریس پینٹ, پیرٹ گرین شرٹ پر بلیک واسکٹ, بلیک اینڈ پیرٹ کومبینیشن کی ٹاٸی لگاۓ بالوں کو جیل لگاۓ سلیقے سے سیٹ کیے باٸیں ہاتھ میں کوٹ لیے ہاتھوں میں برانڈیڈ گھڑی اور بلیک شوز پہنےوہ اپنی مردانہ وجاہت لیے بہت ہینڈسم اینڈ ہاٹ
لگ رہا تھا “ ۔۔۔۔
“دونوں نے دماغ خراب کردیا ہے”۔۔۔
“یار پچھلے دو گھنٹے سے اسے پوزیشن میں بیٹھی ہیں” “دیکھ ماہیر میں نے ان سے کہا کہ پہلے میرا پلان سن لو اچھا لگے تو ٹھیک ورنہ جو تم لوگوں کو بہتر لگے وہ کرلینا “۔۔۔۔۔
“مگر نہیں سننا تو دور کی بات یہ کیسی کو بولنے تک نہیں دے رہیں “۔۔۔۔
“زین شدید غصے کے عالم میں بولتا جا رہا تھا”۔۔۔۔
” زین بول رہا تھا اور ماہیر وہ تو اس سب میں کبھی ان دونوں کی طرف دیکھتا تو کبھی زین کی طرف”۔۔۔۔
” وہ تو ان کو صبح آفس جاتے اچھا خاصا چھوڑ کر گیا تھا پھر کیا ہو گیا “۔۔۔۔۔”
” وہ شدید پریشان ہو گیا تھا “۔۔۔۔
“زین کی ان باتوں پہ تو عالی کا دماغ بھگ سے اڑ گیا اور پھر ایک منٹ بس ایک منٹ لگا تھا عالی کا میٹر آوٹ ہونے میں”۔۔۔۔
“بھلا کیسے سہہ لیتی وہ اپنی اتنی بے عزتی” ۔۔۔
“وہ بھی اس زین کہ ہاتھوں “۔۔۔
“تو عالی نے بھی آٶ دیکھا نا تاٶ اور اٹھ کر زین کے مقابل کھڑی ہو گٸی چھوٹی سی ناک غصے سے لال بھبھوکا ہو رہی تھی”۔۔۔۔
“پھر عالی بھی شروع ہو گٸی “۔۔۔۔
”دو گھنٹے لگیں یا چار تمہیں کیا پروبلم ہے“ ۔۔۔۔۔
”تمہیں کونسا بل آرہا ہے“۔۔۔۔
” اور ویسے بھی تمہیں کس نے بلایا یا منتیں کی تھی” ۔۔۔
“اب وہ با قاٸیدہ دونوں ہاتھ جوڑ کر اداکاری کر رہی تھی “۔۔۔۔
” کہ آٶ زین ہمارے ساتھ بیٹھو وہ کیا ہے نہ کہ”۔۔۔۔
” آپ کے آنے سے ہماری محفل میں چار کیا بلکہ چھبیس چاند لگ جاٸیں گے“ ۔۔۔”
” وہ غصے سے تقریبا چلانے کے انداز میں بولی “۔۔۔۔
“رافع بیچارہ حیران پریشان سا کبھی اپنی بہن کو دیکھتا تو کبھی زین کو دیکھتا”۔۔۔۔
” جو کہیں سے بھی مٶدب گھرانے کے نہیں لگ رہے تھے”
“اس وقت وہ جنگل کے بھوکے شیر اور شیرنی لگ رہے تھے جو اپنی بھوک مٹا نے کے لیے ایک دوسرے کو کھاٶں پاڑوں لگے ہوۓ تھے”۔۔۔۔
” پری وہ تو اس اچانک اکتفاد کے لیے تیار نہیں تھی”۔۔۔۔
” وہ تو ان دونوں کے خطرناک تیور دیکھ کر بوکھلا گٸی”۔۔۔ اس سے پہلے کے عالی مزید کچھ کہتی “۔۔۔
“ارےےےے’……… بس”۔۔ بس “۔۔”بسس”۔۔۔
” نین نے بیچ میں آ کر عالی کو چپ کروایا”
” بہت ہو گیا”۔۔۔۔
” زین نے جو بھی کہا بلکل ٹھیک کہا”۔۔۔
” عاشی نے نین کو گھور کر دیکھا”۔۔۔۔
“گھوری ایسی تھی جیسے آنکھوں سے ہی کچا چبانے کا ارادہ رکھتی ہو”۔۔۔۔
“جس پر نین بوکھلا گیا”۔۔۔۔
پھر نفی میں سر ہلا کر کہا”۔۔۔۔
“ہاں میرا مطلب ہے نہیں وہ بس یار اس کا طریقہ تھوڑا غلط تھا ”۔۔۔۔
” تھوڑا اااغلط “۔۔۔
” عالی صدمے سے سر پر ہاتھ رکھ کر چلا نے کے انداز میں بولی”۔۔۔
“نین تو پہلے ہی گڑبڑایا ہوا تھا اب اور بھی اس کی ہوا ٹاٸیٹ ہو گٸی تھی”۔۔۔۔
“کسی نے سچ ہی کہا ہے جہاں دو عرتیں سر جوڑے بیٹھی ہوں انہیں غلطی سے بھی نہ چھیڑو”۔۔۔۔
“پر نین یہ دل میں ہی سوچ کر رہ گیا “۔۔۔۔
“پھر جلدی سے بولا نہیں میرا مطلب ہے کہ” پ ۔پ پورا غلط“ ۔۔۔
“ڈر کے مارے نین کے الفاظ ٹوٹے پھوٹے ادا ہو رہے تھے”۔۔۔۔
“پھر رافع نےعالی کو کندھوں سے تھام کر سمجھایا”۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ انڈیا پاکستان کی جنگ اب اختتام پزیر ہوجانی چاہیے”۔۔۔
” رافع نے صلح جو انداز میں کہا “۔۔۔۔
“عالی تو غصے میں وہاں سے پیر پٹختی چلی گٸی “۔۔۔
“عاشی نے تاسف سے نین کو دیکھ کر نفی میں گردن ہلاٸی اور وہ بھی وہا ںسے واک آٶٹ کر گٸی”۔۔۔
“لگتا ہے میں غلط ہجرے میں آ گیا تھا”
“ماہیر نے کندھے اچکاۓ اور مسکرا کر پری کو دیکھا جو بالکل سن کھڑی تھی”۔۔۔۔
“اسے ہلاٶ جلاٶ کھلاٶ پلاٶ “
” مجھے تو ڈر ہے کہیں انڈیا پاکستان کی جنگ کے اثرات اسے اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں “

“رافع نے پری کی طرف اشارہ کر کے نین کو مخاطب کیا”۔۔۔۔
“نین نے پیچھے مڑ کر دیکھا پری واقع شوکڈ کی کیفیت میں تھی نین نے پری کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لے آیا”۔۔۔۔
“پری ٹرانس کی سی حالت میں نین کے ساتھ چل رہی تھی “۔۔۔
“یک دم پری کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر گٸیں “۔۔۔
“ہے بڈی تمہیں کیا ہوا “۔۔۔
بھاٸی وہ۔۔پری کی آواز اٹک رہی تھی”۔۔۔
“کیا وہ”۔۔۔
“ان کی لڑاٸی ہو گٸی نین بھیا”۔۔۔ “ارے کچھ نہیں ہوتا وہ تو بس لڑتے رہتے ہیں”۔۔۔
“تم دیکھنا کل پھر منہ اٹھا کے ہنسی ٹھٹھہ کر رہے ہوں گے”
“نین کو پتا تھا پری حساس ہے اس لیے اسے دلاسا دیا تا کہ وہ اس بارے میں زیادہ نہ سوچے”۔۔۔۔
“اسے دوا دے کر بلینکٹ اس کے اوپر اڑھایا “۔۔۔۔کمرے کی لاٸٹ آف کر کے نین جانے لگا تو پری نے نین کا ہاتھ پکڑ لیا “۔
” شاید وہ ابھی تک ڈری ہوٸی تھی”۔۔۔۔
نین پری کا ہاتھ پکڑے وہیں بیڈ پر نا جانے کب تک بیٹھا رہا “
جاری ہے
