Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pari By Shanzey Rajpoot Episode35

Pari By Shanzey Rajpoot Episode35

اس کا موباٸیل دوبارہ رنگ کرنے لگا۔ جس پر اسی بلیک میلر کا نمبر جگمگا رہا تھا۔
”تو کیسا لگا میرہ سرپراٸیزڈ “
”پسند تو آیا ہوگا“۔
”تمہیں تو اللہ پوچھے گا“۔
ہاہاہا۔”عاشی ڈٸیر میری چھوڑو اپنی فکر کرو“۔”میری ایک کلک کی دیر ہے بس۔اور یہ ویڈیو پوری دنیا میں آگ کی طرح پھیل جاۓ گی اور پھر جو ہوگا وہ تم ماچھی طرح جانتی ہو“
”نہیں پلیز ایسا کچھ مت کرنا۔م۔م۔میں تمہارا کام کرنے کےلیے تیار ہوں۔ جیسا تم چاہتے ہو۔ویسا ہی ہوگا“
”گڈ ۔!!!!!!کافی سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے تم نے“
”تم مجھے پلان بتاٶ کیا کرنا ہے۔“
”بیوقوف لڑکی جو کرنا ہے تمہیں خود کرنا ہے اور اس سب میں تمہای کسی قسم کی کوٸی مدد نہیں کر سکتا“
”پر ایک بات یاد رکھنا کوٸی ہوشیاری نہیں ورنہ تمہارے ساتھ وہ کروں گا جو تم سوچ بھی نہیں سکتیں“۔
بولتے ساتھ ہی وہ فون کاٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
عاشی نے تلملاتے ہوۓ فون کو دیکھا۔سمجھتا کیا ہے خود کو ”اگر یہ کلپ کا کا مسٸلہ نہ ہوتا تو میں تمہیں تمہاری قبر تک پہنچادیتی مسٹر بلیک میلر“
وہ ہنکارا بھرتی اٹھ کھڑی ہوٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لنچ پہ ماہیر اور رافع سمیت سب ہی موجود تھے۔یہ میسم صاحب کی ہییکرم نوازی تھی۔جو سب سکون سے بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔عاشی پلیٹ میں چمچ چلاتی مسلسل پری کو دیکھ رہی تھی۔جیسے اسے کچا چباجاۓ گی۔
ہمان کی اچانک نظر عاشی پہ پڑی تو اس نے عاشی کے تاقب میں پری کو پایا۔عاشی کی نظریں اور مسلسل پری کو گھورنا۔ہمان کو کچھ غیر معمولی انہونی کا احساس چھو کر گزرا۔وہ ٹھٹھک چکا تھا۔
عاشی گھورتی کیا کرتی اپنی پلیٹ پہ مجبوراً جھک گٸی۔ ورنہ دل تو اس کا کر رہا تھا کہ ابھی کے ابھی اس کو اپنی نظروں سے دور کردے۔
عاشی کو اپنی پلیٹ پہ جھکے دیکھ ہمان کو قدرے تسلی ہوٸی۔سب نے اچھے سے لنچ کیا۔اب سب لوگ لاٶنج میں بیٹھے چاۓ سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ینگ پارٹی اپنی بیٹھک میں ہلا گلا کر رہی تھی۔ہمان اور حماد ایک کیس پر کام کر رہے تھے۔ تو وہ واپس لاٸبریری جا چکے تھے۔ رافع بھی آفس جا چکا تھا۔ کیونکہ ماہیر کو تو زویا نے بیڑیاں ڈال کے روک لیا تھا۔ تو پگر آفس تو ہر حال میں رافع کو ہی دیکھنا تھا۔
”انجی خیر سے اب تو ہمارے زین اور عالی بھی نبٹ گۓ۔پری اور ہمان بھی۔ میرے خیال سے اب ان کی شادی کر دینی چاہیے۔ممتا اور ابرار بھی آۓ ہوۓ ہیں۔موقع بھی ہے اور محل بھی“
”ناں بھاٸی صاحب۔!!!!!میں تو ابھی سے اپنی عالی کی رخصتی نہیں کرتی۔وہ تو رونق ہے میرے گھر کی“۔
”ارے رہنے دو بیگم پورا دن تو تمہاری لاڈلی اپنے سسرال میں ہی ہوتی ہے“
”آپ تو رہنے دیجیے۔جب دیکھو تو بولتے رہتے ہیں“
بھیا بھابھی آپ لوگ تو ہماری ہر محفل کی جان ہیں سچ میں۔
سچی انجی منہ کی بات چھین لی۔ممتا بیگم مسکراکر بولیں۔
”زین اور عالیہ نہ صحیح تو ہمان اور پری کی رخصتی ہوجانی چاہیے“ویسے بھی وہ اور پری ایک ساتھ ہی تو رہتے ہیں ۔ہمان کا تو کچھ پتا نہیں کب اس کا بلاوا آجاۓ اور اسے لمبے عرصے کے لیے جانا پڑے۔اس کی جاب ہی ایسی ہے
”نہیں میسم بھاٸی مجھے تو کوٸی اعتراض نہیں“
ممتا بیگم نے خوشی سے جواب دیا وہ تو بہت خوش تھیں پری کے لیے کتن فکر رہتی تی انہیں پری۔لیکن اب تو جیسے ساری فکریں ہی مٹ گٸی تھیں۔
بلکہ میںرے اور فواد کے لیے یہ خوشی کا موقع ہوگا“۔” میری پری اپنے گھر کی ہوجاۓ گی۔مجھے اور کیا چاہیے“۔ممتا بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔اس سے بڑھ کر تو اور کوٸی خوشی کی بات ہو ہی نہیں سکتی۔فوادصاحب کے چہرے سے خوشی چھلک رہی تھی۔
تو پھر ٹھیک ہے۔ سب لوگ یہاں موجود ہیں تو شادی کی تاریخ طےکر لیتے ہیں۔ہاں بھٸی نیک کام میں دیری کیسی۔
اگلے ہفتے کی آخری تاریخ رکھ لیتے ہیں ۔
یہ تو بہت جلدی ہو جاۓ گا میسم بھاٸی۔ اتنی تیاریاں کرنی ہیں۔اتنے کام ہوتے ہیں ۔کچھ نہیں ہوتا انجی اپنا ہی گھر ہے اپنے بچوں گی شادی ہے تو پھر کوٸی مسٸلہ ہی نہیں۔ٹھیک ہے میسم ڈن ہوا اگلے ہفتے کی آخری تاریخ۔افی نے تاریخ پکی کرتے ہاں می بھری۔
ویسے بھی کیا فرق پڑتا شادی آج نہیں تو کل کرنی ہی ہے۔ہماری پری تو آلریڈی یہاں ہی دل لگا بیٹھی ہے۔سچ میں بھاٸی صاحب وہ پری جو ایک منٹ میرے بغیر نہیں رہتی تھی۔وہ اب اتنے دن سے یہاں رہ رہی ہے۔مجھے تو یقین ہی نہیں آتا۔
ساری بات پیار کی ہوتی ہے ممتا۔میرا ہمان اسے بہت خوش رکھتا ہے۔ایک آنسو تک نہیں آنے دیتا اس کی آنکھ میں۔اسے دنیا کی ہر خوشی دینے کی کوشش کرتا ہے۔
تو پھر طے ہوا کا ڈھول نگارے بجنے ہی بجنے ہیں۔ابرار صاحب نے تو بیٹھے بیٹھے ہی بھگنڑے ڈالنے شروع کردیے۔انجی نے اپنے بھاٸی کو دیکھ کر مسکرا کر نفی میں گردن ہلاٸی۔😍
__________
شادی کی خبر جب ہمان تک پہنچی تو اسے یقین نہیں آیا کہ دعاٸیں یوں بھی قبول ہوتی ہیں۔وہ بے حد خوش تھا۔اب تو ہر وقت اس کے ہونٹوں پہ تبسم کا پہرا رہتا تھا۔ایک نرم گداز سی مسکراہٹ جو چاہ کر بھی نہ ہٹتی تھی۔اس لیے نہیں کہ وہ پری کی قربت پانا چاہتا۔پری تو پہلے ہی اس کے اتنا قریب رہتی تھی۔اس کے کمرے میں۔ اس کے دل میں۔ اس کے حواسوں تک پہ وہی سوار تھی۔
وجہ یہ تھی کہ وہ پری کو اپنے ساتھ اس کے علاج کے لیے ابروڈ لے جانا چاہتا تھا۔تا کہ وہاں جا کے اس کا علاج اچھے سے کر واسکے۔جو رخصتی کے بنا ناممکن تھا۔لے جانے کو تو وہ اس کو اب بھی لے جا سکتا تھا۔لیکن اول تو اسے خود پری کو اپنے ساتھ بغیر رخصتی کے لے جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
دوسرا اگر وہ لے بھی جاتا تو سب سے بڑا مسٸلہ میسم کا تھا۔ وہ انہیں کیا کہتا۔اگر وہ بات گھومنے پھرنے کی کرتا تو میسم کا سب سے پہلا جواب یہی ہوتا کہ یہ سب رخصتی کے بعد اچھا لگتا ہے۔جو ہمان کر نہیں سکتا تھا۔کیونکہ اس کا اپنا ضمیر اسے ایسا کرنے کی اجازت نہ دیتا۔
پھر دوسرا اوپشن اس کے پاس یہ تھا کہ وہ میسم کو پری کے بارے میں سب سچ بتا دیتا۔میسم کا کیا ری ایکشن ہوتا وہ قطعی نہیں جانتا تھا۔ لیکن ایک امید ضرور تھی۔
اس لیے اس نے صحیح وقت کا انتظار کیا۔
”بے شک اعمال کا دارو مدار نییتوں پر ہے“
(القرآان)
ہمان کی نیت نیک تھی۔ اس لیے اللہ نے منزل اپنے آپ آسان کردی۔وہ کہتے ہیں نا کہ
” جس طرح پانی اپنا راستا خود بناتا ہے بالکل اسی طرح نیک اعمال اپنی منزل اپنے آپ بناتا ہے“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک طرف پری تھی۔ جو اپنی شادی کا سن کر کبھی اتنا خوش ہوتی کہ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر لگتا کہ اسے نظر ہی نہ لگ جاۓ ۔ایک ان چھوا سا خوبصورت سا احساس اسے ہر وقت اپنے حصار میں لیے رہتا۔
جتنا وہ خوش تھی اتنا ہی دکھی بھی۔پر کیوں یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔کبھی کبھی بلا وجہ رونے لگتی۔
بھوک ہڑتال کر لیتی۔ضد کرنے لگتی۔اور نہیں تو ہمان کا سر کھانے بیٹھ جاتی۔
رخصتی تک گھر کے سب لوگوں نے ہمان کو پری سے دور رہنے اور اسے نہ دیکھنے کا کہا تھا۔جس پر وہ صاف لفظوں میں سب کو یہ کہہ آیا کہ مجھے آپ لوگوں کا فیصلہ منظور نہیں ہے چونکہ
”آپ لوگ میرے بڑے ہیں۔ اس لیے آپ کے فیصلے کی میں عزت کرتا ہوں۔اور رہی بات تو آپ لوگ جتنا مرضی زور لگا لیں کرنا آپ لوگوں نے وہی ہے جو آپ لوگ کرنا نہیں چاہتے۔ “
وہ آنکھوں میں شریر سی مسکراہٹ لیے بول کر چلا گیا تھا۔
اسے ایک ضروری کام آن پڑا تھا۔ اسی لیے اسے اسلام آباد جانا پڑا۔وہ پری کو بتاۓ بنا دبے پاٶں رات کے اندھیرے میں جب وہ خواب نشین تھی چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی پری نے پورا گھر سر پر اٹھا لیا۔کبھی بے انتہا خوش ہوتی۔تو کبھی رو پڑتی۔نین اسے چھیڑتا رہتا۔ممتا نین کو آنکھیں دیکھاتیں۔نتیجاتاً۔وہ ہینڈزاپ کر کے ہنستا چلا جاتا۔
ایک نین ہی تو تھا۔جو ہر وقت اپنا کام چھوڑے پری کے پاس یٹھا اسے کا دل بہلاتا رہتا۔ اپنی بہن کی کیفیت وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ ہر وقت ہمان کو مس کرتی ہے۔یقیناً ہمان اسے کوہ کاف کی پریوں کی طرح رکھتا ہوگا۔
یونہی تو نہیں اس کی بہن کملاٸی پھرتی تھی اس کے لیے۔ پری کی قسمت پہ رشک کرتا وہ اسے دیکھ کر من ہی من مسکراتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا تھا۔ تیاریاں اتنی ہی عروج پر تھیں۔شادی کا درمیانی فاصلہ تو جیسے پنکھ لگا کر ڑ گیا تھا۔ممتا بہت خوش رہتی تھیں۔انجی کے تو مانو پاٶں زمین پہ نہیں پڑتے تھے۔ان کی پری ہمیشہ ان کے پاس رہے گی افففف یہ سوچ ہی کتنی پر سکون تھی۔
سارہ زویا اور عالیہ آۓ روز شاپنگ پہ پہنچی ہوتی تھیں اور ان کا ڈراٸیور کبھی زین ہوتا تو کبھی نین۔عالی تو نکاح کے بعد سے جیسے چپ ہو گٸی تھی۔اب ناجانے یہ فطری شرم و حیا تھی جو ہر لڑ کی کو نکاح کے بعد ہوتی ہے یا پھر وہ سچ میں سدھر گٸی تھی۔
جو بھی تھا زین کو وہ اب پہلے سے بھی زیادہ اچھی لگنے لگی تھی۔اکثر وہ سب سے بات کرتی تھی۔لیکن جب زین سامنے ہوتا تو وہ خاموش ہوجاتی یا وہاں اٹھ جاتی۔
سارہ نے تو حماد کا دیا کریڈٹ سارا شاپنگ میں اڑا دیا تھا۔جب کہ لیا اس نے اڑنگ بڑنگ ہی تھا۔
ہر وہ چیز جو اسے اچھی لگتی جھٹ سے خرید لیتی۔ اب تک کی اس کی ساری شاپنگ پری،ماہیر اور ہمان کے لیے تھی۔اس نے پری کے لیے سب سے زیادہ چیزیں لی تھیں۔
بقول اس کے اس کے بھاٸی کی نہیں بلکہ اس کی چھوٹی بہن پری کی شادی تھی۔ان سب میں وہ ہمان کو بالکل فراموش کر چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری شاپنگ دیکھ رہی تھی جو سارا عالی اور زویا کے ساتھ جا کر لاٸی تھی۔جس میں بیش قیمتی ہوم ڈیکیوریشن ایکسیسیریز تھیں۔شوپیس، پردے،جدید قسم کے لیمپس جو وہ ہمان اور پری کے کمرے کے لیے لاٸی تھی۔
شاید وہ ہمان کے کمرے کی تھیم تبدیل کرنے والی تھی۔تھوڑے دن پہلے ہی سارہ نے پری سے اس کا فیورٹ کلر پوچھا تھا۔
وہ سب چیزیں خوشی خوشی دیکھ رہی تھی۔ناجانے پھر کیا ہوا۔وہ اٹھ کر روم میں آگٸی۔جہاں وہ ہمان کے ساتھ رہتی تھی۔ہمان نے کہہ دیا تھا کہ پری کو اس کمرے سے جانے کی ضرورت نہیں۔وہ خود دوسرے کمرے میں شفٹ ہوجاۓ گا۔
زویا اسے لنچ کے لیے بلانے آٸی تھی۔
”پری کھانا لگ گیا ہے آجاٶ سب ویٹ کر رہے ہیں تمہارا“
دروازے میں کھڑی وہ مسکرا کر بول رہی تھی۔پری نے غصے میں گلدان پہ ہاتھ مارا تو وہ دھڑام سے نیچے گر کر چکنا چور ہو گیا۔آواز سنتے ہی ممتا اور انجی اوپر پری کے کمرے میں آٸی تھیں۔
زویا واپس نیچے چلی گٸی۔پری کی حرکت اسے بالکل بری نہیں لگی۔ وہ اس کے جزبات و احساسات سمجھ سکتی تھی۔اوپر سے اس کی نازک طبیعت۔
ممتا اور انجی اندر آٸیں۔پری بھاگ کر انجی کے گلے لگ کر بے آواز رونے لگی۔اپنی کیفیت وہ خود نہیں سمجھ پارہی تھی۔ممتا بیگم کو اپنا آپ وہاں عجیب لگا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پری ان کے گلے لگ کر روتی
ایک عجیب سی کشش تھی۔ جو پری کو انجی کے قریب لے آتی تھی۔پری عجیب سے احساس کے تحت انجی سے اپنے دل کی ہر بات کہہ دیتی تھی اور ان کی بات بھی مان لیتی۔
اب بھی یہی ہوا تھا ممتا بیگم تو نیچے چلی گٸیں۔
”پری میری جان ایسے روتے نہیں ہیں“۔
انہوں نے پری کے آنسو صاف کیے۔”غصہ آرہا تھا ہماری پری کو“۔پری نے اثبات میں گردن ہلادی۔
”ہمان یاد آرہے ہیں“پری نے آنسٶوں سے لبریز آنکھیں اٹھاٸیں۔
جن میں لکھی تحریر وہ پڑھ چکی تھیں۔
انجی کے سوال کا جواب تو پری کی آنکھوں میں موجزن تھا۔”کھانا کھالیں دیکھیں سارا نے خاص آپ کے لیے بنایا ہے یہ شوارمہ اور یہ بیف پاسٹا۔کل بھی آپ نے صرف نام کا کھانا کھایا تھا۔آج بھی ناشتہ ڈھنگ سے نہیں کیا“
”تھوڑا سا کھالیں۔ ہمارے ہاتھ سے۔“
”نہیں مجھے نہیں کھانا“ انجی کھانا لے کر اوپر آٸی تھیں۔ جانتی تھیں۔ پری نیچے نہیں آۓ گی۔انجی نے چمچ میں پاسٹا لے کر پری کے منہ کے آگے کیا تو اس نے منہ ہی اس طرف کر لیا۔
پری تھوڑا سا کھالو۔میری جان۔میرے کلیجے کا ٹکڑا“۔
انجی چمچ واپس رکھ کر پیار سے پچکارا۔تو آنسٶوں کی جھڑی لگ گٸی۔
”مجھے ہمان سے بات کرنی ہے ورنہ میں کچھ بھی نہیں کھاٶں گی“انجی نے اپنی پری کو دیکھا بالکل ان کا بچپن تھی وہ بھی تو ایسے ہی چوٹے ہوتے ضد کیا کرتی تھیں۔
انجی ہر طریقے سے اسے کھانا کھلانے کی کوشش کر چکی تھیں پر وہ ایک ہی بات پر اڑی تھی۔
انجی نے اسے موباٸیل پکڑادیا۔”یہ لیں“
پری نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو انجی مسکرادیں۔
”بات کر لیں ہمان سے“وہ اس کا گال تھپتھپاتی ہوٸی بول کر چلی گٸیں۔پھر جاتے جاتے مڑیں۔”پر ہمیں یہ کھانا فینیش چاہیے“
پری نے جلدی سے آنسو پونچھ کر کانٹیکٹ لسٹ میں سے ہمان کا نمبر نکالا اور کال ملادی۔
پہلی بیل، دوسری پھر تیسری چوتھی۔ کال ڈراپ ہوگٸی۔
پر ہمان نے کال نہیں اٹھاٸی۔اس نے مایوسی سے موباٸیل اٹھا کر پٹخ دیا غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں وہ بھوک ہڑتال کیے بیٹھی تھی۔
آنسو جیسے پلکوں کی باڑ توڑنے کو تھے۔
وہ سر گٹھنوں میں دیے بیٹھ گٸی۔کافی دیر ایسے ہی بیٹھی رہی موباٸیل کی رنگ ٹون پر جھٹ سے سر اٹھایا اور ہاتھ بڑھاکر موباٸیل اٹھایا۔اسکرین پہ ہمان کا نمبر جگمگا رہا تھا۔جلدی سے کال ریسیو کر کے کان سے لگایا۔
اسلام علیکم انجی!!
”کیسی ہیں آپ۔اور پری کیسی ہے۔کم از کم بات ہی کروادیں اس سے“۔”وہ نہیں رہ پاۓ گی میرے بنا۔لکھ کر لے لیں مجھ سے“ہمان اپنی ہی کہے جارہے تھا۔بنا یہ جانے کے جس سے وہ بات کر رہا ہے وہ وہ نہیں بلکہ وہ وہ ہے جس سے وہ بات کرنا چاہ رہا ہے۔
ہمان!!!!
پری کی آواز پہ ہمان کی چلتی زبان کو بریک لگا۔
”پری تم!! کیسی ہو۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری۔کھانا کھایا تم نے۔دواٸی لیتی ہو ٹاٸم پر“
”مجھے کچھ نہیں پتا“۔”پری کیا ہوا ہے اتنی روہانسی کیوں ہو رہی ہو“۔ہمان اس کا بھیگا لہجہ محسوس کر چکا تھا۔اس لیے فکر مندی سے پوچھ بیٹھا۔
”میرا دل نہیں لگ رہا آپ کے بغیر۔مجھے آپ کی یاد آ رہی ہے۔آپ میرے پاس نہیں ہیں نا اسی لیے مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا“۔
بولتے بولتے اس کی آواز رندھ گٸی تھی۔
ہمان کا بس چلتا تو اسے آغوش میں سمیٹ لیتا۔بس چلتا تو وہ اس کے آنسو چن لیتا۔ وہ پاس ہوتا تو یقیناً یہ نوبت ہی نہ آتی۔وہ بھی تو مجبور تھا۔اس کی جاب ہی ایسی تھی۔ ایک کیس کے سلسلے میں اسے اتنی دور جانا پڑا۔
”پری بری بات ہے۔اچھی لڑکیاں روتی بالکل نہیں ہیں“
”تو پھر اچھے لڑکے بھی تو بغیر بتاۓ بغیر ملے اتنی دور نہیں جاتے نا“
پری کی نروٹھے پن سے کہی گٸی بات پہ وہ کھُل کر ہنسا تھا۔کتنے دنوں بعد۔”پری میں آ جاٶں کا ایک دو دن میں“۔
”سچی۔” پری خوشی سے چیخی تھی۔
”مچی“ ہمان بھی اسی کے انداز میں پر جوش سا بولا تھا۔
”جب میں آٶں گا تو پھر تمہیں سب سے چراکے اپنے ساتھ لے جاٶں گا“
ہمان جزبوں سے چور لہجے میں بولا تھا۔
سب باتوں سے انجان پری ایک دم کھلکھلا کے ہنسی تھی۔کتنے دنوں بعد۔
”کہاں لے کر جاٸیں گے“
پری نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔
”اپنی پناہوں میں“
”جہاں صرف میں اور تم“
ہمان کے منہ زور بولتے جزبات، شدت لٹاتے الفاظ،پری کی دل زور سے دھڑکا تھا۔ہاتھ پاٶں ٹھنڈے سے ہوگۓ تھے۔تھوڑی دیر پہلے پٹر پٹر چلتی زبان اب خاموش ہوگٸی تھی۔
مانو جیسے کال پر کوٸی زی روح نہ ہو۔
ہمان اس کی حالت سے کافی محفوظ ہوا۔وہ اس وقت پری کی ایک ایک حرکت ایک ایک ادا جانتا تھا۔اسے پری کے بارے میں ہر چیز جیسے حفظ ہو گٸی تھی۔
پری تمہارے لیے کیا لے کر آٶں یہاں سے۔ اتنا تو وہ پری کو جانتا تھا شرم و حیا سے اس کی پلکیں جھکی ہوٸی ہونگی اور بولنے میں تو وہ کبھی بھی پہل نہیں کریگی۔
اسی لیے ہمان نے ٹاپک ہی بدل دیا۔پری کی آنکھیں چمکیں۔
”ڈٸیری ملک“ ۔ ”کِٹ کیٹ“
جواب حاضر تھا اور وہ جو انتظار میں تھا کہ شاید اس دفع شادی کی وجہ سے کچھ مختلف ہو۔زرا بھی نہ چونکا
اسے پتا تھا وہ یہی مانگے گی۔وہ تو بس ایسے ہی سوچ رہا تھا جبکہ چاکلیٹس تو اس نے دو دن پہلے ہی پورا ڈبہ پیک کرواکر رکھ رکھا تھا۔
”میرے لیے کیا لے کر رکھو گی“
میں بھی تو تمہارے لیے چاکلیٹس لے کر آٶں گا۔ تو میرے لیے بھی تو کچھ ہونا چاہیے۔
” آپ کے لیے تو میں ہوں نا“
پری کو خود بھی پتا نہ چلا وہ انجانے میں ہی صحیح کتنی گہری بات کہہ گٸی تھی۔ساتھ ہی ہمان کا سکن اور چین بھی غارت کر گٸی۔کس کمبخت کو چین آۓ گا۔جب اس کا محبوب خود اس کی راہوں میں پلکیں بچھاۓ اس کا انتظار کر رہا ہو۔
ہمان کے ہونٹوں پہ دلکش مسکراہٹ نے احاطہ کرلیا۔
جب کہ پری کو اب اندازہ ہوا کے وہ کیا کہہ گٸی ہے۔
”تو پھر ٹھیک ہے میں آکر اپنا گفٹ وصولوں گا تم سے وہ بھی پورے استحقاق سے۔“
پری اتنی انجان بھی نہ تھی اور نہ ہی اتنی چھوٹی کہ وہ ہمان کی باتوں کا مفہوم نہ سمجھتی۔ہمان کی معنی خیز باتیں وہ کافی حد تک سمجھنے لگی تھی۔اب بھی وہ سمجھ گٸی تھی۔
ایک بار پھر شرم سے اس کا چہرہ گلنار ہوگیا۔حیا کے کتنے ہی رنگ آ کر اس کے چہرے پہ بکھر گۓ۔ہونٹوں پر دل نشین سی مسکراہٹ۔ گر جو ہمان اسے دیکھ لیتا تو جان سے جاتا۔
مقابل ہتھیاروں سے لیس تھی۔وہ بھی حسن کے۔
”پری تم مجھے اچھی لگتی ہو۔پھر سوچتا ہوں نہیں اچھی نہیں لگتیں بلکہ میں تم سے پیار کرتا ہوں“۔
”پر جب زرا ایک قدم اور آگے بڑھتا ہوں تو لگتا ہے میں تم سے پیار نہیں کرتا، میں تو تم سے محبت کرتا ہوں“۔
”لیکن یہ قدم بھی غلط ثابت ہوتا ہے۔پھر آگے جاتا ہوں تو پتا چلتا ہے مجھے تم سے محبت نہیں ہے“۔
”بلکہ مجھے تم سے عشق ہے“
”وہ عشق جو مجھے اندھیروں سے اجالوں کی طرف لایا“۔
”وہ عشق جس نے مجھے رب کی چوکھٹ پہ گٹھنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا“
”تم میرا وہ عشق ہو پری جس نے مجھے میرے رب سے ملایا اور جو عشق رب سے ملادے وہی عشق عشقِ حقیقی ہے اور وہی عشقِ مجازی“۔
”تم میرا عشقِ مجازی ہو جس نے مجھے عشقِ حقیقی سے ملایا“۔
وہ اپنی گھمبیر آواز س پری کے کانوں میں رس گھول ریا تھا۔اور وہ ہمیشہ کی طرح اسے خاموشی سے سن رہی تھی۔
ہمان سے بات کرکے اس کا نہ صرف دل ہلکا ہوا تھا بلکہ وہ خوش ہوگٸی تھی۔اور تو اور کھانا کھا کے دوا بھی لے لی تھی۔
انجی نے اسے آرام کرنے کا کہا تھا۔بقول سارہ کے کہ کل مہندی اور مایوں ہے تو دلہن کو آرام کرنے دو۔
یہ رسمیں بھی سارہ کی خود سے رکھی گٸی رسمیں تھیں۔ جس میں سارہ عالیہ عاشی زویا شامل تھیں۔ جو کہ ہمان کے ہی کمرے میں رکھی گٸی تھی۔
ہمان نے سب کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ مہندی مایوں کی چونچلہ بازی نہ کریں۔بلکہ سیدھا رخصتی اور ولیمے کی تیاری پکڑیں۔
جس پر میسم صاحب نے اور ان کی چہیتی سارہ نے خاصہ واویلا مچایا۔حماد تو تھا نہیں جو اسے سمجھاتا یا اس کی عقل ٹھیکانے لگاتا۔اس لیے وہ سب سے الگ منہ بنا کے بیٹھ گٸی۔کتنی خواہش تھی اس کی کتنے خواب اور ارمان تھے ہمان کی شادی کو لے کر اس کے۔ہمان نے سارے پانی میں ملادیے۔
انجی نے اسے منایا اور اسے ایک مشورہ دیا کہ وہ تینوں چاروں لڑکیاں مل کر ایک کمرے میں اپنی ہلدی مہندی کی جو بھی رسم ہے اچھے سے کر لیں برات سے تین چار دن پہلے۔
تو وہ خوشی سے ان کے گلے لگ گٸی۔
ساری شاپنگ خوشی خوشی کی تھی۔اور ساری پلاننگ بھی وہ کر چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی پارلر کا سارہ ٹریٹمینٹ پری کو سارہ اور عالیہ نے دیا تھا۔جس میں۔فیشل، مینی کیور،پیڈی کیور تھا۔
جبکہ ہیر کٹنگ پہ پری نے رونا دھونا لگا کے ہمان کو فون کر دیا تھا۔ جس پر سارہ کو ہمان سے اچھی خاصی سننی پڑی تھیں۔
پر وہ اتنی خوش تھی۔
زرا بےعزتی محسوس نہیں ہوٸی۔
اس نے پری کے بالوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ویسے تو پری کو ان سب کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ وہ خود سرخ و سفید بے داغ سی شفاف رنگت کی مالک تھی۔
پری کے بعد ان سب نے اپنا اپنا فیشل کیا۔اورشام ہونے والی چھوٹی سی رسم کے لیے کپڑے نکالنے لگ گٸیں۔
چڑھا دن شام میں بدل چکا تھا۔
پورے گھر کو پیلے گیندے اور گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔گھر خوشبٶوں سے معطر تھا۔لاٶنج سے صوفے ہٹا دیے گۓ تھے جہاں مہمانوں کا انتظام کیا گیا تھا۔انجی ،ممتا اور ہادیہ بیگم سمیت اڑوس پڑوس کی ساری عورتیں اور لڑکیاں جمع ہو کر روز رات کو ڈھولک کی تھاپ پہ گیت گاتیں اور سُر بکھیرتیں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *