Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode23
Pari By Shanzey Rajpoot Episode23
وہ لوگ جیسے ہی گھر آۓ ۔ انجی بے چینی سے آگے بڑھیں۔ کیا ہوا اتنی دیر لگادی آپ لوگوں نے اور زویا کے بابا تو ٹھیک ہے نا ۔ ۔ نین کی بے ساختہ ہنسی چھوٹی ۔ ہمان بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکا کیا کرتا سیچوٸیشن ہی کچھ ایسی تھی۔ جو نہ ۔نہ ۔نہ کر رہا تھا آج اس کی شادی وہ بھی ہاسپیٹل کے ایمرجینسی وارڈ میں سوچتے ہی بندہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاۓ۔
یہ آپ دونوں کو کیا ہوا ۔ہنس کیوں رہے ہیں ۔اور یہ ماہیر کدھر ہیں۔ وہ تو اپنی بیوی کے ساتھ ہیں صبح آٸیں گے۔پری نے معصومیت سے جواب دیا تو نین اور ہمان زور دار قہقہہ لگا کر صوفے پہ گرنے کے انداز میں بیٹھے ۔بیوی۔ ۔۔۔!!!!
سب نے ایک ساتھ بولا یہ ۔یہ کیا کہہ رہے ہیں میسم بھاٸی آپ کچھ بولیں ہمیں تو لگتا ہے نین کی سنگت کا اثر ہے جو ہمان بھی ٹھٹھے پھاڑ پھاڑ کے ہنس رہے ہیں۔
وہ دراصل بات کچھ ایسی ہے کہ۔۔۔۔ پھر میسم نے انہیں ساری بات بتاٸی اب ماجرا یہ تھا پہلے تو نین اور ہمان ہنس رہے تھے اب عالی عاشی زین رافع سمیت سب ہنس رہے تھے ۔ ویسے بالکل صحیح ہوا بھاٸی جان وہ بھی تو بس گھر سے آفس اور آفس سے گھر۔ اب مزہ آۓ گا گھر جو بس گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح خاصی خوشگوار تھی۔ لاٶنج میں بیٹھے سب چاۓ سے لطف اندوز ہورہے تھے چاۓ ہماری عالی صاحبہ کے ہاتھ کی تھی ۔ کافی سگھڑ ہے ہماری عالی انجی نے چاۓ پیتے ہوۓ کہا تو ہادیہ بیگم فورا بولیں رہنے دو انجی کہاں کی سگھڑ ہے۔ یہ بس یہیں آکر اسے سگھڑاپا یاد آتا ہے۔ وہاں تو مجال ہے جو یہ کسی کام کو ہاتھ لگالے۔ وہ ہاتھ نچاتی ہوٸی بڑے مزے سے عالی کے راز افشاں کر رہی تھیں اور عالی غصے سے بس ماں کو گھور کر رہ گٸی اور زین نے یہ خطرناک منظر بڑی ہی دلچسپی سے دیکھا۔ اس کی ناک سرخ ہورہی تھی اور ماتھے میں چار بل پڑ چکے تھے۔ خیر یہ باتیں تو ہوتی ہی رہیں گی۔ کچھ کام کی بات ہوجاۓ ۔ہاں بھٸی اب کچھ مدعے کی بات ہوجاۓ ۔ فواد صاحب نے چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھ کر کہا ۔ بھٸی اب تو سارہ کی شادی بھی بخیرو عافیت نمٹ گٸی اور سب سے مل بھی لیے کافی وقت ہوگیا ہے۔ بزنس بھی مینیجر کے ہاتھوں سونپا ہوا ہے ۔ سو میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ایک دو دن میں ہی واپس ہوجاۓ ۔ افی نے اپنا مدعا بیان کیا۔ اور وہاں پری کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
ہمان نے اسے آنکھوں سے تسلی دی ۔تو وہ کچھ پر سکون ہوگٸی ورنہ کیا بھروسہ تھا اس کا روپڑتی۔ ارے بھٸی اتنی بھی کیا جلدی ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ماہیر اور زویا کا نکاح تو ہو ہی چکا ہے ۔اب جیسے ہی فیضی ٹھیک ہوجاتا اس کی طبیعت کچھ سنبھلتی ہے تو دونوں کی شادی کے بارے میں سوچتے ہیں کوٸی اچھی سی ڈیٹ فیکس کر کے دونوں کی شادی کروادہتے ہیں ۔ لگے ہاتھوں ماہیر بھی نمٹ جاۓ گا ۔۔ کیا خیال ہے ابرار فواد۔ انجی
ہم کیا بولیں بھیا اب جو ٹھیک لگے آپ لوگوں کو ۔ بھٸی میں تو کہتا لڑکے کے ہاتھ پیلے کردو ۔ ابرار کی بات پہ سب ہنسنے لگے پاپا ہاتھ لڑکوں کے نہیں لڑکیوں کے پیلے ہوتے ہیں۔ عالی نے تصحیح کی ۔ اور زین بڑی پرشوق نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور عالی میڈم اسے سو فیصد اگنور کر رہی تھیں ۔
اور تم کیا کہتے ہو بھٸی فواد میں کیا کہہ سکتا ہوں بھٸی جو بچوں کہ خوشی وہ میری خوشی ۔۔۔۔
یاااااااااا ہووووووووو۔۔۔۔۔ عالی اور عاشی نے مل کر نعرہ لگایا۔۔۔
ارے او لڑکی زرا تجھے شرم لحاظ ہے کہ نہیں ہیں سب بڑے بیٹھیں اور تو مینڈکوں کی طرح پھدک رہی ہے۔۔ اوہو ماما اسے پھدکنا نہیں ایسے جوش کہتے ہیں۔ او عالی میڈم اسے جوش نہیں اسے بے ہوش کہتے ہیں۔ سمجھی۔
بس کرو بیگم جب دیکھو میری اکلوتی کے پیچھے نہا دھوکر پڑ جاتی ہو اور نہیں تو کیا بھابھی بیٹیاں جب تک اپنے گھر ہیں کرنے دیجیے موج مستی پتانہیں نصیب انہیں کہاں لے جاۓ ۔
ارے اسے نصیب نے کہاں لے کے جانا یہیں پٹخوں گی اسے بھی ۔ بھابھی اسے تو نہ کہیں ہماری عالی کو جیسی بھی ہے سارہ کے بعد تو اسی سے رونق لگی رہتی ہے ہمارے گھر کی عالیہ کے سرسے گزرتی ہادیہ بیگم کی باتیں وہ تو وہاں سے اٹھ کر ہی چل دی۔ لو ماں تم سکون کرو کسی طرح۔ بہت ہی جلدی ہے کوٸی مجھے پٹخنے کی ۔
بتارہی ہوں میں جو مجھے پٹختے ہوۓ تم نے لیٹر آنسو نہ بہاۓ ہوں تو دیکھنا ۔ عالی وہاں سے تن فن کرتی چلی گٸی پیچھے سب کے قہقہے گونج اٹھے ۔ اچھا میسم بھاٸی ہم تو گھر جارہے ہیں بہت دنوں سے ادھر ہی ہیں ۔زین عاشی چلیں تیاری پکڑیں گھر کی۔ ماما کل چلیں گے نہ۔ عاشی نے سستاتے ہوۓ کہا ۔ چلیں چلیں ہم پھر چکر لگاٸیں گے ویسے بھی ماہیر کی شادی میں پھر یہیں ڈیرہ ڈال لینا ہے سب نے ۔
انجی عاشی اور زین تو گھر چلے گۓ رافع آفس ۔کیونکہ کہ ماہیر نہیں تھا تو اسے ہی مینیج کرنا تھا۔ ممتا پری کو لے کمرے میں چلی گٸیں چلو آرام کرلو تھوڑی دیر ۔ ماما میں پوری رات تو آرام کرتی رہی ہوں۔ وہ اس کا کمفرٹر درست کرتیں باہر چلی گٸیں ۔ماما بھی نہ سنتی ہی نہیں ہے میری بات۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمان میسم کے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اس کا موباٸل بج اٹھا ۔اس نے کال ریسیو کی دوسری طرف حماد تھا ۔
یار کیا شور ڈالا ہے تم نے اور اس چڑیل کو کیا ہوا ہے۔ سارہ کو جب سے ماہیر اور زویا کے نکاح کا پتا چلا تھا وہ تو سب کو کاٹ کھانے کو دورڑ رہی تھی۔ اب بھی وہ پیچھے سب کو جی بھر کوس رہی تھی۔
یار اس چڑیل کو فون دو زرا میں اس کا تو منہ بند کروں ۔یہ لو تم ہی کرو اس سے بات ۔ہاں۔ بھونکو۔
چڑیل پہلی بات تو یہ ہے کہ میں بھونکتا نہیں ہوں اور دوسری بات تم نے اچھے خاصے بندے کو کتا بنادیا ویسے حد ہے ۔ تم بھونکتے نہیں تو بولتے بھی کب ہو اور آۓ تم ایڈے سوہنے ۔ہنہہ۔
کیوں اتنا شور ڈالا ہے۔ہمان نے اسے چھیڑا ۔وہ غصے سے کھول اٹھی بھلا اس کے بھاٸی کا نکاح وہ بھی اس کے بنا یہ تو ظلم ہے سراسر۔ بنو مت ۔میں کب بن رہا ہوں ۔ہمان اس وقت میں بالکل بھی مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔ میرا بس چلے نہ تو تمہیں فون میں سے ہی کچا چبا جاٶں ۔۔
اففف یار ۔ارے ماہیر اچھا ہوا تو آگیا۔ کیوں کیا ہوا۔ خیریت۔ ارے کہاں۔ ہمان نے۔ کال ڈسکنیکٹ کی سارہ کو فون کرکے بات کر اس سے موڈ آف ہے اسکا تیرے نکاح کی وجہ سے ۔واہ دونوں طرف سے بلی کا بکرہ میں ہی ہوں ۔ وہاں وہ تیزگام نے میری جان سولی پہ لٹکادی تھی اور یہاں یہ سارہ کہا جاٶں میں۔ کیا تیز گام کیا مطلب یعنی اس دن جس تیزگام کا تو زکر کر رہا تھا کہیں وہ زویا ہی تو نہیں ۔ہاں یار وہ ہی ہے ناجانے کہاں پھنسا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہیر دو انگلیوں سے اپنا ماتھا مسلنے لگا بے چارہ شدید مشکل میں تھا۔ ہمان کے ہونٹوں پہ شریر سی مسکراہٹ آگٸی۔
“شادی کر کے پھنس گیا یار اچھا خاصا تھا کنوارہ ہا آ۔”
ہمان نے گناگناتے ہوۓ وہاں سے دوڑ لگادی ماہیر کے تاثرات کافی سخت تھے لیکن ہمان کے بھاگتے ہی ماہیر کی بھی ہنسی چھوٹ گٸی۔ اور اس نے سارہ کو فون کرکے سب سیٹ کردیا ورنہ سارہ نے سارا گھر سر پر اٹھالینا تھا۔ گھر میں چہل پہل کم تھی اور باقی سب لوگ اپنے کمرے میں تھے میسم سے بات کرنے کا یہ ایک اچھا موقع تھا ہمان سٹیڈی روم میں آیا میسم چشمہ لگاۓ کتاب ہاتھ میں پکڑے ورک گردانی میں مصروف تھے ۔ قدموں کی آہٹ پہ انہوں نے ہاتھ کی انگلی سے چشمی نیچے کرکے دیکھا تو ہمان تھا کتاب بند کرکے ساٸیڈ پر رکھی۔ آجاٶ برخوردار ۔!!!!
کہو کیسے آنا ہوا صاحب زاد کا۔ ورنہ تو تم بھول کے بھی یہاں نہیں پھٹکتے۔ ایسا نہیں پاپا آپ کو تو پتا ہے نہ میری جوب کا ۔ ہاں ہاں یہ بھی تمہارا اپنا انتخاب تھا خیر کہوں کیا بات ہے۔ ہمان کرسی پر بیٹھ گیا پاپا مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ اور وہ ضروری بات کیا ہے۔ وہ مجھے شادی کرنی ہے ہمان نے بول تو دیا تھا اب ری ایکشن دیکھنا تھا۔ تم اور شادی جاٶ دیکھ کر آٶ پہلے سورج کس سمت سے نکلا ہے ۔۔۔۔
میسم نے ہمان کی بات ہوا میں اڑادی ۔پاپا آٸی ایم سیریس۔ اوہ سارہ کے بعد ماہیر اور اب تم ۔گھر کے سب بچوں کو اکھٹا کر کے ایک ساتھ اجتماعی شادی نہ کرادی جاۓ۔ جھنجٹ ہی ختم میسم نے مزاق سے کہا۔
پاپا پلیز بی سیریس
اس دفع ہمان کا لب و لہجہ کافی سنجیدہ تھا میسم نے نوٹ کیا اچھا ٹھیک ہے تمہیں شادی کرنی ہے پر اس کے لیے ایک عدد لڑکی درکار ہے۔ اور پھر یہ شادی بیاہ کے معاملے اتنی آسانی سے نہیں طےپاتے۔ پاپا میں جانتا ہوں بٹ جب بات گھر کی ہو تو فیضی انکل بھی تو ہمارے گھر کے ہی ہیں نکاح کے بعد آپ نے شادی کتنی جلدی رکھ دی ہے اب سارے معاملے کدھر گۓ ہیں۔
ہممم تو تم ٹھان کر آۓ ہو اپنی منواۓ بنا نہیں دم لو گے۔ میسم نے مسکراکر کہا تو ہمان سر کو خم دے گیا۔ اچھا اب لڑکی ڈھعنڈ لیں اور یہ کام تو سارہ ہی کری گی۔ ہمان نے جھٹ سے سر اٹھایا۔ پاپا لڑکی ڈھونڈنے کی کوٸی ضرورت نہیں وہ میں ڈھونڈ چکا ہوں۔
واقع ۔۔۔!!!!ہاں ۔۔
تو کون ہے وہ جیسے تماہری بیوی ہونے کا شرف نصیب ہوگا۔ پاپا میں پری کو پسند کرتا ہو۔ نہیں بلکہ میں اس پیار کرتا ہوں۔
I love
pari
اور اس کے علاوہ میں اپنی زندگی میں کسی کو بھی شمولیت نہیں دوں گا ۔دیٹس آل۔ چند منٹ کی خاموشی کے کےبعد میسم کا جان دار قہقہہ سناٸی دیا۔ ہمان نے الجھی نظروں سے میسم کو دیکھا۔میں نے کوٸی چٹکلاا سنایا ہے جو پاپا اس طرح ہنس رہے ہیں۔ وہ دل میں سوچ کر رہ گیا۔۔ برخوردار جس رستے پہ تم چل رہے ہو ہم وہاں کے مسافر رہ چکے ہیں۔
تمہیں کیا لگا تھا چپکے چپکے عشق ہوتا رہے گا اور باپ کو پتا بھی نہیں لگے گا۔ تمہارا باپ ہوں تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ کیا سمجھے۔
تمہاری پری کے لیے پسندیدگی مجھ سے چھپی نہیں رہی۔ تم نہ بھی بات کرتے تو میں جب ج بھی فواد سے تمہارے لیے پری کو مانگ لیتا۔ تو پھر آپ نے ابھی تک بات کیوں نہیں کی ۔ارے بھٸی میں تمہارا صبر آزما رہا تھا۔ پر محبت میں صبر کہاں۔ انہوں چشمہ اتار کر میز پر رکھ دیا۔ پاپا آپ چاچو سے بات کریں۔۔۔ کرلوں گا ابھی تو وہ یہیں ہے۔ پاپا میں چاہتا ہوں ماہیر کی شادی میں میرا اور پری کا نکاح ہوجاۓ۔
ہمان نے کچھ سوچ کر پتا پھینکا۔ رشتے کی بات تک تو ٹھیک تھا ہمان لیکن نکاح۔۔۔!!!
کیوں پاپا کیا پروبلم ہے گھر کی ہی تو بات ہے۔ بات تو ہے پر ہمان پری بہت چھوٹی ہے۔صرف سترہ سال کی اور پھر نادان بھی ہے ۔کہاں تم اسے ابھی سے رشتوں کی ڈور میں الجھا رہے ہو۔ یہ کوٸی عمر نہیں ہے اس کی ان سب کاموں کی۔ فالحال تو اس کے آزادی کے دن ہیں پڑھنے لکھنے کے دن ہیں۔ میسم کی بات پہ ہمان نے قرب سے آنکھیں موند لیں۔
اب وہ انہیں پری کے بارے میں کیا بتاتا فالحال تو وہ بتا کر کوٸی بھی رسک نہیں لے سکتا تھا۔ پاپا پلیز میں اس پر کوٸی بوجھ نہیں ڈالوں گا انفیکٹ میں اسے بہت خوش رکھوں گا ۔ہمان مجھے تم پر کوٸی شک نہیں ۔
پری کے علاوہ کوٸی اور بھی ہوتی تو بھی تم اسے خوش رکھتے یہ تمہاری تربیت کا خاصا ہے۔ پر یہ بہت جلدی ہوجاۓ گا ۔پاپا پلیز میری بات مان لیں میں نہیں رہ سکتا پری کے بغیر آپ ابھی صرف نکاح کردیں میں کون سا رخصتی کا کہہ رہا ہوں۔ رہنے دو یہ بات تو تم ایک بار نکاح ہوجاۓ تو تم نے رخصتی کی بھی ایسی ہی رٹ لگانی ہے ۔تو آپ میری بات نہیں مانیں گے۔ دیکھو ہمان میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بات کرتا ہوں فواد سے رشتے کی ۔تو وہ کبھی بھی منع نہیں کریگا لیکن جہاں تک بات نکاح کی ہے مجھے نہیں لگتا کہ ممتا مانے گی پری کے معاملے میں نے اسے شروع سے حساس دیکھا ہے۔اب وہ انہیں کیا بتاتا ۔ کہ سب کچھ ان کی رضامندی سے ہورہا ہے۔ ٹھیک ہے تم جاٶ میں شام میں بات کرتا ہوں اس سے۔ شام میں ہمان ایک دم چلایا۔ میسم نے حیرت سے اسے دیکھا۔ تو ابھی کیوں نہیں ابھی جاٸیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میسم نے اپنی جذباتی اولاد کو دیکھا۔ اور نفی میں گردن ہلاتے اٹھ کھڑے ہوۓ یہ آج کل کے اولادیں اللہ معافی دے ان سے وہ بڑبڑاتے ہوۓ آگے چلے گۓ۔ اور ہمان وہیں ان کی واپسی کا انتظار کرنے بیٹھ گیا۔ ممتا بیگم کمرہ کی ابتر حالت درست کر رہی تھیں اور افی صاحب ٹی وی دیکھنے میں مگن تھے نوک نوک کی آواز پہ انہوں نے والیوم کم کیا ۔کون ہے۔
میسم نے ہلکا کا سا دروازہ کھولا
ارے میسم بھاٸی وہاں کیوں کھڑے ہیں اندر آٸیں بھٸی ۔انہوں نے ٹی وی بند کر کے ریموٹ ساٸیڈ ٹیبل پر پھینکا۔ خیریت بھاٸی صاحب۔ ہاں بس خیریت ہی ہے۔ میسم سامنے صوفے پہ ٹک گۓ۔ افی مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی بس اسی لیے یہاں تک آگیا۔ تو مجھے بلا لیا ہوتا ۔میں آجاتا آپ نے کیوں تکلیف کی۔ ارے نہیں اس میں تکلیف کی کیا بات ہے۔ دکیھو ممتا افی مجھے باتیں گول مول کرنی نہیں آتیں میں سیدھی اور صاف بات کرنے کا عادی ہوں بات دراصل یہ ہے کہ میں یہاں تم سے کچھ مانگنے آیا ہوں۔ ممتا نے افی کو نا سمجھی سے دیکھا ۔ممتا الرٹ رہو تم زرا تمہاری دھن دولت سے بڑھ کر کچھ مانگنے لگا ہوں۔ انکار نہ کرنا۔ میں اپنے ہمان کے لیے تمہاری پری کو مانگنے آیا ہوں۔ اسے میرے ہمان کی جھولی میں ڈالدو۔۔ ایک دفع کے لیے تو ممتا اور افی کو چپ لگ گٸی۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے پری کے بارے میں۔ بغیر سچ بتاۓ رشتے کی ہامی بھرنا فواد صاحب کو ٹھیک نہیں لگا وہ اپنٕے بھاٸی کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہتے تھے۔
میسم بھاٸی پری تو آپ لوگوں کی بھی بیٹی ہے میں اس رشتے سے انکار نہیں کرتا۔ ہمان بہت اچھا بچا ہے مگر ہماری پری وہ اسے تو۔ اس سے بھی تو پوچھنا ہے نا اس سے بغیر پوچھے بھلا ہم کیسے ہاں کردیں۔ اس سے پہلے کہ فواد مزید کچھ بولتے ممتا نے ان کی بات بیچ میں ہی کاٹ کر اپنی شروع کردی۔ ارے پری کی تم فکر مت کرو وہ تو کبھی بھی نہ نہیں کرے گی۔ تو پھر تم بتاٶ افی رشتہ پکا سمجھوں۔ فواد تذبذب کا شکار ہوگۓ ممتا نے ہامی بھردی ۔ہاں ہماری طرف سے تو ہاں ہے میسم بھاٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن یونہی گزرہے رہے تھے لمحے سرک رہے تھے۔ زویا کے بابا بھی ریکوری لے چکے تھے ۔اب وہ پہلے سے کافی بہتر ہوچکے تھے ۔ انہی دنوں میسم نے فیضی کو کھانے پہ گھر بلاکر ماہیر اور زویا کی شادی کی تاریخ رکھ دی ۔ ہماری ینگ پارٹی کافی خوش تھی پھر سے ایک شادی انجوٸیمنٹ۔ ہلا گلا شور شرابا۔
خاص کر عالی اور سارہ کو بہت پسند تھا۔
اسی دوران ہمان بھی واپس آ گیا۔ وہ ماہیر کے نکاح کے دوسرے دن ہی ارجنٹ میشن پر چلا گیا تھا اس کی جاب ہی ایسی تھی۔ کبھی بھی کہیں بھی جانا پڑتا تھا ۔اب بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔وہ کسی میشن پر آٶٹ آف کنٹری تھا۔ میجر ہمان حیدر۔ کی واپسی تھوڑی دیر پہلے ہی ہوٸی تھی۔ سب لوگ اپنی شاپنگ میں بیزی تھے ۔سارہ کو حماد دو تین دن پہلے ہی ملک ہاٶس چھوڑ گیاتھا ۔
سارہ عالیہ عاٸیشہ ممتا بیگم زویا کو شاپنگ کروانے گٸیں تھیں۔ اورا نہیں لے جانے والے زین صاحب تھے۔ انجی نے جانے سے سہولت سے انکار کردیا وہ پری کے پاس رک گٸی تھیں ۔سب نے سمجھایا کہ گھر میں ہادیہ چاچی ہیں پری کے پاس لیکن وہ منع کرتی رہیں ۔سارہ تو پری کو بھی ساتھ لے جانا چاہتی تھی۔ لینک ہمان نے اسے ایک دن پہلے کال کر کے منع کردیا تھا کہ وہ پری کو کسی بھی سلسلے میں گھر سے باہر نہ لے کر جاۓ۔ خاص کر شاپنگ۔
میں خود کراودوں گا آکر۔ گھر کے مرد شادی کے انتظامات دیکھ رہے تھے۔ کل ماہیر اور زویا کی کمباٸین مہندی رکھی گٸی تھی ۔ نکاح تو پہلے ہی ہو چکا تھا ۔ ہمان فریش ہوکر لاٶنج میں آیا تو ۔ کچن سے کھٹر پٹر کی آوازوں نے اس کی توجہ کھینچ لی اور وہ کچن کی طرف بڑھا۔کچن میں پہلا قدم رکھتے ہی اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے کچن کے سٹول پر بیٹھی پری کینو کا جوس نکال رہی تھی۔ ہمان وہیں دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کے سینے پہ ہاتھ باندھ کے کھڑا ہوگیا۔
اب ہماری پری کی کارستانیاں دیکھیں۔ مالٹے کا جوس کیسے نکالا جارہا ہے۔ثابت مالٹا ہاتھ میں لے کر اسے جتنی زور سے ہو سکتا تھا دبایا گیا۔ نتیجہ جوس تو نہ نکلا ماٹے کا ملیدہ نکل گیا۔ پچکا ہوا مالٹا دیکھ کر پری کی ہنسی چھوٹ گٸی ۔ ہمان بھی پیچھے کھڑا ہنس رہا تھا وہ پری پر حیران تھا ۔جو اپنی ہی کارستانیوں بھی کھل کے ہنس رہی تھی۔ پر وہ آگے نہ بڑھا۔ اسے پری کو اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے دیکھ مزہ آرہا تھا ۔اب اس نے دوسرا مالٹا اٹھایا اسے سلیب پے رکھ کر اس پہ زور سے ایک مکا مارا مالٹے کا تو کیا ہی بگڑنا تھا پری کا ہاتھ زور سے سلیب پہ لگا تو وہ ایک دم چیخی ۔ وہ سٹول سے سلیپ ہوجاتی جو ہمان اسے بروقت نہ سنبھالتا۔ ۔
آرام سے۔۔۔!!!!! کیا کرتی ہو لڑکی۔ ۔۔۔!!!!
آپ کب آۓ اور کہاں گۓ تھے اتنے دن کے لیے وہ بھی بغیر بتاۓ۔ ہمان نےگھور کے اسے دیکھا یہ انویٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ میرا ہے اور اس کے فراٸض تم نبھارہی ہو ۔اتنے سارے سوال ایک ساتھ۔کام سے گیا ۔تم سو رہی تھیں اس لیے بغیربتاۓ چلا گیا اور ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیا ہوں ۔۔بس اور کوٸی سوال تو نہیں۔۔۔۔ پری نے مسکراکر نفی میں سر ہلایا۔
دیکھاٶ مجھے کہا لگی ہے ۔پری نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا۔ زیادہ نہیں بس زرا سا سرخ ہوگیا ہے۔
اس نے ہلکے سے اس کا ہاتھ مسلا ٹھیک ہوجاۓ گا۔ ۔تم کچن میں کیا کر رہی ہو ۔وہ اب بھی سٹول پر بیٹھی تھی۔ ہمان کھڑا تھا۔ جوس نکال رہی تھی۔اورنج کا۔
ہمان نے ارد گرد کچن کا جاٸیزہ لیا اس نے کافی مالٹے خراب کیے تھے تقریبا کوٸی ایک درجن ۔پر جوس ایک بوندھ بھی نہ نکلا۔ پری جس طرح سے تم جوس نکال رہی تھی مالٹے کا تو پتا نہیں پر تمہارہ جوس ضرور نکل جاتا۔
تو پھر مجھے جوس پینا تھا تو کیسے نکالتی۔ انجی کدھر ہیں۔ ہمان نے پوچھا۔ وہ صبح سے کام میں لگی ہیں میں نے سوچا ۔ہاں تم نے سوچا کچن کا نقشہ بدل دیا جاۓ کیوں۔ ہمان نے تین سے چار اورنج کا جوس نکال کر گلاس اسے دیا۔ اسے بنتا ہے جوس۔
آپ کا گلاس کدھر ہے۔ میرا گلاس ۔اوپسسس وہ تو رہ ہی گیا ۔ کوٸی بات نہیں ۔پری نے آدھا گلاس پی کر آدھا ہمان کو دے دیا۔ یہ کیا۔ پورا کیوں نہیں پیا۔
یہ آپ پی لیں جب آپ کا گلاس ہوگا تو مجھے اس میں سے آدھا دے دیجیے گا۔ اکیلے اکیلے پینا اچھا نہیں لگتا۔ اس نے وجہ بتاٸی ۔ ہمان نے جوس پی کر گلاس سلیب پہ رکھا۔
پری ۔۔۔!!!
ہمممم ۔۔!!!تم تیار ہوجاٶ۔ کیوں۔ باہر چلتے ہیں شاپنگ کریں گے۔ آپ کے پاس پیسے ہیں ۔ہمان نے آنکھیں سکیڑ اسے دیکھا تو پری کی ہنسی چھوٹ گٸی ۔ مجھے کچھ پسند آجاۓ گا پھر آپ کہیں گے کہ ابھی نہیں بعد میں میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔
“کافی تیز نہیں ہے تمہاری یاداشت”
وہ اسے کمرے میں چھوڑ گیا۔ تم تیار ہو جاٶ ۔تو نیچے آجانا میں وہیں انتظار کر رہا ہوں۔
پری پانچ منٹ میں تیار ہوکر نیچے پورچ میں پہنچ گٸی ہمان۔۔۔!!
وہ شاید کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا جب پری کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا فون جیب میں ڈالا۔ فرنٹ ڈور کھول کے اسے بیٹھایا پھر خود بھی بیٹھ کر گاڑی زن سے بھگا لے گیا۔
مال کے پارکنگ میں گاڑی پارک کی ہمان نے پری کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا ۔ مال میں معمول سے زیادہ رش تھا۔ پری اتنا رش دیکھ کر گھبرا گٸی۔ ہمان!!
۔ہممم۔۔!!! کیا ہوا۔مجھے گھر جانا ہے۔
پری نے لرزتی ہوٸی آواز میں کہا۔ وہ سمجھ گیا تھا وہ اتنے رش کی وجہ سے کہہ رہی ہے ۔ ابھی چلتے ہیں۔ ماہیر بھاٸی کی شادی ہے سب شاپنگ کریں گے تمہیں نہیں کرنی۔ ماما کردیں گی۔ہمان اسے بڑے غور سے دیکھا جو بچوں کی طرح اس کا بازو پکڑے کھڑی تھی ۔ اب سے تمہاری شاپنگ ماما نہیں میں کروں گا کنچن وہ اس کی ناک دباتے ہوۓ بولا۔ پری نے حیرت سے اسے دیکھا۔ پھر چہرے پہ مسکراہٹ آٸی اور بھکرتی چلی گٸی۔ آپ کریں گے اس نے تاٸید چاہیں۔ بالکل۔
پھر تو مزہ آٸیگا۔
مجھے بھی لے کر جایا کریں گے ۔ہممم وہ پری کو لے بوتیک شاپ پر آیا اتنے کام والے کپڑے دیکھ کر پری کی بانچھیں کھل گٸیں ۔وہ منع بھی نہ کرسکی ہمان نے اس کے لیے کٸی ڈریسز جیولری۔ میکاپ سینڈلز ۔سب اکھٹا کرلیا ۔اب اس کا رخ۔ گاڑی کی طرف تھا۔ شاپنگ بیگز پیچھے رکھے اور گاڑی اسٹار ٹ کی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی ۔جب پری کی آواز آٸی۔ ہمان ۔ہمممم۔۔۔!! وہ بول کر چپ ہوگٸی تو ہمان نے دیکھا اسےنیند آ رہی تھی۔ ہمان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہلایا ہمممم کیا ہوا ۔کچھ نہیں۔ اس نے اپنا موبااٸل پری کو دیا ۔یہ لو۔ اس میں گیمز ہیں کھیلو۔
پری نے فون لیا اب وہ فون میں مگن تھی ۔ہمان چاہتا تھا وہ سوۓ نہ ورنہ اس کے لیے پری کو اٹھا مشکل ہوجاتا۔ وہ لوگ گھر آۓ تو سب لوگ لاٶنج میں بیٹھے اپنی شاپنگ ڈسکس کر رہے تھے۔ زویا کو وہ لوگ گھر ڈراپ کر چکے تھے۔ سارہ تو اپنے پاٶں لے کر بیٹھی دوہاٸیاں دینے میں لگی تھی۔ اففف ہاۓ میرے پاٶں چل چل کے چل چل کے آدھے بھی نہیں رہے ۔کوٸی بات نہیں حماد کب کام آٸے گا اس سے دبوالینا۔ بولنے والا نین تھا۔
تم تو شرم ہی بیچ آۓ ہو ۔ تمہیں بڑی حیا ہے۔ ہمان اور پری اندر آۓ تو سب نے چونک کر دیکھا ۔ تو کب آیا ۔
صبح آیا تھا۔ نین اس سے گلے ملتے ہوۓ پوچھنے لگا زین بھی گلے ملا ۔یار نہ تو تمہارے آنے کا پتا ہوتا ہے نہ جانے ۔ ہاں” یہ لوڈ شیڈنگ ہے وہ بھی غیر علانیہ”
نین کی بات پہ سب نے قہقہہ لگایا ۔ ہمان نے شاہنگ بیگز سارہ کو پکڑاۓ پری تو پہلی فرصت میں اپنے روم میں چلی گٸی جلد ہی نیند نے اسے آ گھیرا۔ واہ بھاٸی اتنی ساری شاپنگ ایسا لگتا شادی ماہیر بھاٸی کی نہیں تمہاری ہے۔ سارہ ایک ایک بیگ کھول کر دیکھ رہی تھی اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اتنے نفیسں کام والے کپڑے وہ بھی اتنے مہنگے سارہ کا تو سر چکراگیا۔ جیولری بھی گولڈ اور ڈاٸمنڈ کی تھی ۔اب تو صحیح معنوں میں اسے جھٹکا لگا تھا ۔ اسنے استہفامیہ نظروں سے ہمان کی طرف دیکھا ۔ تو جواب میں اس نے یہ کہا کہ سب کچھ جانتے بوجھتے اتنا حیران ہونا نہیں بنتا تمہارا ۔
یہ سب پری کا سامان ہے اسے تم میری وارڈراب میں سیٹ کروادینا اور باقی تو تم خود سمجھدار ہو کون سی چیز کہاں رکھنی ہے ۔ سارہ جو پاٶں پسارے بیٹھی تھی ایک دم کھڑی ہو گٸی۔ کیا مطلب پری کا سامان تمہارے کمرے میں دماغ تو درست ہے بخار وخار تو نہیں چڑھ گیا۔ سارہ نے اس کا ماتھا چیک کیا۔ دماغ میرا نہیں تمہارا خراب ہے۔
جو اس طرح کی فضول ہانک رہی ہو ۔ یہ شاپنگ تم نے کرواٸی ہے پر کو۔ نین نے اس سے پوچھا ۔
افکورس یار تم لوگ اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو ۔ بات کچھ ہضم نہیں ہوٸی ہمان صاحب ۔ عالی نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا تو ہمان ہنس دیا۔
میں کیا کہہ سکتا ہوں یار۔ ہمیں تو کبھی چوڑی تک نہ دلاٸی عالی نے مصنوعی غصے سے کہا۔
مجھے تو دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔
دال میں کچھ کالا نہیں یہاں پوری دال ہی کالی ہے۔ سارہ نے تنک کے کہا ہمان نے نفی میں سر ہلایا اس کا کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ اور پھر سارہ نے کالی دال مطلب ہمان کی لوو سٹوری کا سارا قصہ نمک مرچ لگا کے سنا ڈالا سب حیرت سے ہمان کو گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔ اس سے پہلے کے ان کی تفتیش شروع ہوتی ۔ہمان نے ان کے سر پر ایک اور بم پھوڑ دیا۔
جاری ہے
