Pari By Shanzey Rajpoot NovelR50762 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07
No Download Link
828.1K
52
Rate this Novel
Pari By Shanzey Rajpoot Episode01 Pari By Shanzey Rajpoot Episode02 Pari By Shanzey Rajpoot Episode03 Pari By Shanzey Rajpoot Episode04 Pari By Shanzey Rajpoot Episode05 Pari By Shanzey Rajpoot Episode06 Pari By Shanzey Rajpoot Episode07 (Watching)Pari By Shanzey Rajpoot Episode08 Pari By Shanzey Rajpoot Episode09 Pari By Shanzey Rajpoot Episode10 Pari By Shanzey Rajpoot Episode11 Pari By Shanzey Rajpoot Episode12 Pari By Shanzey Rajpoot Episode13 Pari By Shanzey Rajpoot Episode14 Pari By Shanzey Rajpoot Episode15 Pari By Shanzey Rajpoot Episode16 Pari By Shanzey Rajpoot Episode17 Pari By Shanzey Rajpoot Episode18 Pari By Shanzey Rajpoot Episode19 Pari By Shanzey Rajpoot Episode20 Pari By Shanzey Rajpoot Episode21 Pari By Shanzey Rajpoot Episode22 Pari By Shanzey Rajpoot Episode23 Pari By Shanzey Rajpoot Episode24 Pari By Shanzey Rajpoot Episode25 Pari By Shanzey Rajpoot Episode26 Pari By Shanzey Rajpoot Episode27 Pari By Shanzey Rajpoot Episode28 Pari By Shanzey Rajpoot Episode29 Pari By Shanzey Rajpoot Episode30 Pari By Shanzey Rajpoot Episode31 Pari By Shanzey Rajpoot Episode32 Pari By Shanzey Rajpoot Episode33 Pari By Shanzey Rajpoot Episode34 Pari By Shanzey Rajpoot Episode35 Pari By Shanzey Rajpoot Episode36 Pari By Shanzey Rajpoot Episode37 Pari By Shanzey Rajpoot Episode38 Pari By Shanzey Rajpoot Episode39 Pari By Shanzey Rajpoot Episode40 Pari By Shanzey Rajpoot Episode41 Pari By Shanzey Rajpoot Episode42 Pari By Shanzey Rajpoot Episode43 Pari By Shanzey Rajpoot Episode44 Pari By Shanzey Rajpoot Episode45 Pari By Shanzey Rajpoot Episode46 Pari By Shanzey Rajpoot Episode47 Pari By Shanzey Rajpoot Episode48 Pari By Shanzey Rajpoot Episode49 Pari By Shanzey Rajpoot Episode50 Pari By Shanzey Rajpoot Episode51 Pari By Shanzey Rajpoot Last Episode
Pari By Shanzey Rajpoot Episode07
Pari By Shanzey Rajpoot Episode07
“عالی نے مسکراتے ہوۓ پری کو رسم کی ساری ڈیٹیل دی”۔
” پری بھی مسکرادی”۔
“تم کرو گی ہمارے ساتھ یہ رسم۔۔ہاں ۔کیوں۔نہیں۔۔۔لاٸیں۔ایک۔پلیٹ۔مجھے بھی دیں”۔۔
“پری نے کہتے ہوۓ ایک پلیٹ اٹھالی”۔
عاشی نے پری کے ہاتھ سے چھیننے کے انداز میں وہ پلیٹ واپس لی”۔۔
“تم اپنی پلیٹ خود تیار کرو نہ کے کرے کراۓ پہ شیر ہو جاٶ”۔۔
“ویسے بھی تمہاری تو عادت ہو گٸی ہے نہ بیٹھ کر کھانے کی”۔۔
“خود تو تم کچھ کرتی نہیں ہو بس لوگ تمہاری چاکری کرتے رہیں”۔۔۔
“عالی نے غصےسے بولتے ہوۓ پلیٹ ٹیبل پر زور سے پٹخ دی جس سے ساری پتیاں منتشر ہو گٸیں” ۔۔
” عاشی جو شروع دن سے لے کر اب تک برداشت کر رہی تھی آج پھٹ پڑی” ۔
“عالی ہال کے گیٹ پر جا چکی تھی اس لیے عاشی کو ایک گولڈن چانس ملا تھا پری پہ اپنا غصہ نکالنے کا”۔۔
“پری وہ تو ہکا بکا رہگٸی اسے عاشی سے اس رویے کی امید نہیں تھی آنکھیں لبالب نمکین پانیوں سے بھرآٸیں” ۔۔
“وہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیوں کو روکنے کی کوشش کرتی وہای تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گٸی”۔۔
“پری گھر میں سب کی لاڈلی تھی سب اس سے پیار کرتے تھے جب سے وہ آٸی تھی سب کی زبان صرف ایک ہی نام تھا پری پری۔پری اور انجی کا پری سے بے حد لگاٶ عاشی کو اندر تک سلگا جاتا تھا”
“انجی عاشی سے بھی ہر وقت پری کی باتیں کیا کرتیں” ۔
“یہی وجہ تھی کہ عاشی کو پری سے حسد ہونے لگا تھا یہ الگ بات تھی کہ وہ ظاہر نہیں کرتی تھی”۔۔
“بارات آ چکی تھی عالی عاشی اور سب نے مل کر بارات کا بہت اچھا ویلکم کیا اور ساتھ ہی حماد کی اچھی خاصی ٹانگ بھی کھینچی” ۔
“عالی نے براٸیڈل روم میں جا کر سارہ کو بتایا اور اسے بھی خوب تنگ کیا” ۔۔
“سارہ نے تو کیا ہی شرمانا تھا “۔
“الٹا وہ خود ان سے ہنسی مزاق میں لگ گٸی”
” ممتا بیگم نے اسے ڈپٹا” ۔
“پری روتے ہوۓ ہال کی پچھلی ساٸیڈ آگٸی یہاں کوٸی بھی نہیں تھا پری کو بھی کوٸی ایسا ہی تاریک گوشہ چاہیے تھا تاکہ کوٸی اسے دیکھ نا پاۓ”۔۔۔
” جب وہ رو چکی دل کچھ ہلکا ہوا تو احساس ہوا کے یہاں بیٹھے اسے کافی وقت گزر گیا ہے تو اس نے وہاں جانے کا سوچا “۔۔
“وہ تیز تیز چل رہی رہی تھی تا کہ جلدی ہال کی فرنٹ ساٸیڈ پہنچ سکے “۔۔۔
“جب سامنے سے آتے وہ لمبے چوڑے وجود سے ٹکراتے ٹکراتے بچی” ۔
“ارے سنبھل کے جانا”
“ابھی گر جاتیں تم” ۔۔
” وہ حماد کا بھاٸی علی تھا جو شاید کسی کام سے اس طرف آیا تھا” ۔
“پری نے اور کچھ تو نہ سنا البتہ اس کا خود کو جانا کہنا پری کو بری طرح کھٹکا۔۔پری نے نظریں جھکالیں”۔۔
“پر مقابل پری کی اس حالت سے خاصا لطف اندوز ہورہا تھا “۔
“پری کو کچھ سمجھ نہ آیا تووہ دو قدم پیچھے ہٹی”۔۔
“علی کی محویت اب ٹوٹی تو وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا”۔۔”ورنہ اس دلربا نے تو علی کے ہوش اڑادیے تھے” ۔۔
“علی دو قدم آگے بڑھا”۔۔
“پری نے دو قدم پیچھے لیے”۔۔
“اگر وہ پیچھے نہ ہوتی تو یقینا ان کے بیچ فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہوتا”۔
“تم بہت خوب صورت ہو جانا” ۔۔
“اس کے الفاظ تھے کوٸی پھلا ہوا سیسہ”۔۔
“پری کو اپنا آپ اس وقت قید پرندے کی مانند لگا”۔۔
“بولنے کی ہمت اس میں نہ تھی”۔۔
“پہلے کب وہ پٹر پٹر پولتی تھی جو اب بولتی”۔۔
“اس کی سٹی گم ہوگٸی “۔
“کُچھ غلطی کروں تو
ڈانٹ لیا کرو جاناں
مگر دور جانے کی بات کر کے
میرا دل نہ دُکھایا کرو”. 
“وہ شاید پری کے دو قدم پیچھے ہونے پر چوٹ کر رہاتھا”۔
“اب تو پری کو صحیح معنوں میں احساس ہورہا تھا کہ وہ غلط وقت پہ غلط جگہ آچکی ہے”۔۔
“گھبراہٹ کے مارے اس کا پورا وجود کانپنے لگا تھا”۔۔
” اس لیے اور کہیں بس نہیں چلا تو کنچی آنکھوں سے جھرنے بہنے لگے”۔۔۔
“علی اسے دیکھ کر کمینگی سے مسکرایا اور ایک قدم پری کی جانب بڑھایا”۔۔
“ہمان مباٸل کان سے لگاۓ بات کر رہا تھا ۔جب اس کی نظر سامنے رکھے ڈیکویشن پیس پر پڑی جس میں پری کا عکس چھلک رہا تھا”۔
” وہ دیکھ کر ٹھٹھکا کیوں کے ہال کے جس ساٸیڈ وہ تھی وہاں کوٸی چڑی کا بچہ بھی نہ تھا”۔۔
” ہمان فورا سے بیشتر کال ڈسکنیکٹ کر کے مباٸیل جیب میں ڈالا”۔۔
“اس کے دماغ میں صرف ایک ہی سوچ گردش کر رہی تھی کہ پری یہاں کیا کر رہی ہے”۔۔
” ہمان اتنی دور سے بھی پری کے چہرے کے اتار چڑھاٶ اسانی سے دیکھ سکتا تھا” ۔۔
” ہمان کی چھٹی حس تیزی سے کام کر رہی تھی”۔۔
“وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا رہداری کی جانب چل دیا”۔۔
“وہ ابھی قریب ہی پہنچا تھا جب اسے پری کے ساتھ کسی اور وجود کا گمان ہوا”۔۔
“وہ چند قدم آگے آیا سامنے ہی پری سر جھکاۓ گھبراٸی سی کھڑی تھی”۔۔۔
“ہمان کی مٹھیاں بھینچ گٸیں “۔
“دماغ کی رگیں تن گٸیں” ۔
“آنکھیں غصے اور اشتعال سے سرخ ہوگٸیں”۔
“وہ اپنے غصے کو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرتے آگے بڑھا” ۔
“ارے یار تم تو اسے ڈر رہی مجھ سے جیسے میں کوٸی بھوت ہوں”۔۔
“چلو تمہاری تسلی کے لیے ایک کام کرتے ہیں وہ پری کی اوپر جھکا اس کی تو روح ہی کانپ اٹھی تھی”۔۔
” علی نے اس کا ہاتھ پکڑنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے کیا ہی تھا کہ کٶٸی ان دونوں کے بیچ آ کھڑا ہوا “۔۔
“علی نے نظر اٹھا کر دیکھا وہ جو کوٸی بھی تھا شدید غصے عالم میں لگ رہا تھا”۔۔
” ہمان پری کے آگے ڈھال بن کر کھڑا تھا “۔۔
“علی کے چہرے پہ شرمندگی کے کوٸی آثار نہیں تھے “۔
” علی نے مکروہ ہنسی ہنستے ہوۓ ہمان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور بولا”۔۔
“برو تم غلط وقت پر آگۓ ہو” ۔۔
“وہ کیا کہتے ہیں”۔۔
“ہاں کباب میں ہڈی علی سر کو داٸیں باٸیں خم دے کر بولا”۔۔
“ویل ابھی تو میں نے کچھ کیا”۔۔۔
“اس پہلے کہ وہ مزید اپنے منہ سے کوٸی غلاظت بکتا ہمان بھاری ہاتھ اٹھا تھا جو ہوا میں ہی معلق رہ گیا”۔۔۔
“علی کی باتوں سے ڈر کے پری نے پیچھے سے ہمان کی شرٹ کو دونوں ہاتھوں سے زور سے پکڑ رکھا تھا”۔۔
” پر ہمان کی کارواٸی پری سی مخفی نہ رہی “۔۔
“جب ہمان کا ہاتھ اٹھا تو پری کی دلخراش چیخ نکلی” ۔
“ہمان کا ہاتھ رک گیا”۔۔
“ہمان۔۔۔۔ن۔ن۔نہیں”۔۔
“پری کی آنسوٶں سے لبریز کانپتی ہوٸی آواز آٸی۔”۔
“ہمان نے اپنا ہاتھ نیچے کیا “۔۔
“ہمان کا غصہ ساتوں آسمان کو چھو رہا تھا” ۔۔
“اس کا بس نہیں چل رہا اس بے باک شخص کا حشر کردے جو پری کے بارے میں گندے مغلظات بک رہا تھا”۔۔
” پر ہمان پری کی وجہ سے خاموش رہا” ۔۔
“یہاں سے چلتے بنو”۔
“اور دوبارہ اگر تم نے پری کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو میں بھول جاٶں کا کہ تم حماد کے بھاٸی ہو”۔۔
“ہمان نے انگلی دیکھا کر اسے وارن کیا”۔۔
“علی ہنستے ہوۓ دو قدم پیچھے ہوا اور دونوں ہاتھ اوپر کیے” ۔۔۔
cool down bro, cool down
I’m going
“چلو اب اپنی شکل گم کرو یہاں سے اس پہلے کہ میں تمہار طبیعت درست کر دوں “۔۔
“ہمان دبی دبی آواز میں دھاڑا وہ نہیں چاہتا کہ شادی میں کوٸی ہنگامہ کھڑا ہو یا کسی بھی قسم کی رکاوٹ آۓ”۔
“علی وہاں سے چلا گیا تو ہمان نے سکھ کا سانس لیا”۔۔
اب اس کا رخ پری کی طرف تھا”۔۔
پری حسب عادت فرش کو گھو رہی تھی
پری وہ چلا گیاہے “۔
“تمہیں گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے”۔۔
“ہمان نے اسے دونوں شانوں سے تھام رکھا تھا “۔۔
“پری تم ٹھیک تو ہو پری کے رسپونس نہ دینے پہ ہمان پریشانی سے گویا ہوا”۔۔
“پری نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا “۔
“جھیل سی گہری آنکھوں میں خوف کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا”۔
“اس پر ستم بھیگی چلمن کا اٹھنا جھکنا۔۔۔جھک کر اٹھنا”
ہمان سانس لینا بھول گیا”۔
“آنسو چلمن کی حدود پار کر کے گالوں پر پھسل گۓ” ۔
“ہمان بنا پلک جھپکاۓ یکٹک اسے دیکھتا رہا”
“کوٸی جادو تھا اس لڑکی کی آنکھوں میں وہ جب جب ان میں دیکھتا اسے اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوتا تھا” ۔۔
” کوٸی کشش تھی اس کے آنسوٶں میں جو ہمان کو اپنی جانب کھینچتی تھی”۔۔
” اس لڑکی کو دیکھ کر ہمان کا ایمان ڈگمانے لگتا تھا آج بھی ایسا ہی ہوا تھا”۔۔۔
“تم ہو جاناں شباب و حسن کی آگ
آگ کی طرح اپنی آنچ میں گم
پھر مرے بازوؤں پہ جھک آئیں
لو مجھے اب جلا ہی ڈالو تم”
جون ایلیا
” ٹھنڈی یخ بستہ ہواٸیں پر افسوں ماحل بنا رہی تھی”
فضا میں طلسم چھایا تھا”۔۔
“ہال کے کوریڈور پے لگی بیل چیٸر ہوا کے دوش پہ مدھر ساز چھیڑ گۓ”۔۔۔
” کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں ہمان پری کے گال کو چھوا جو آنسوٶں سے تر تھا”۔۔۔
“جب وہ ناز آفریں نظر آیا
سارا گھر احمریں نظر آیا
میں نے جب بھی نگاہ کی تو مجھے
اپنا گل شبنمیں نظر آیا”
جون ایلیا
“اس نے دونوں ہاتھ بڑھا کر پری کے آنسو اپنی پوروں پہ چن لیے” ۔۔
“پری نے اس کے ہاتھوں کو پکڑا جس سے اس نے پرے کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے رکھا تھا “۔۔
“وہ بری طرح سسک اٹھی”۔۔
“ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر کیے بنا ہمان کے چوڑے سینے سے لیپٹ گٸ اور دونوں ہاتھوں سے اسے زور سے تھام لیا جیسے کھونے کا ڈر ہو”۔
“ہمان نے پری کو کچھ نہ کہا وہ بس اس کے بالوں کو سہلاتا ان میں انگلیاں چلاتا رہا کہ شاید وہ پر سکون ہو جاۓ”۔۔
“شاید اس لڑکی میں اس کی جان بس چکی تھی پھر کیسے اسے کچھ کہتا “۔۔
“ہمان میں نے کچھ نہیں کیا میں بری نہیں ہوں”۔۔
” وہ اس کے سینے سے لگی بڑبڑا رہی تھی جب ہمان کو لگا شاید وہ کچھ بول رہی ہے”۔۔
“ایک طلسم تھا جسے پری کی آواز نے توڑا “۔
“اور وہ ہوش کہ دنیا میں واپس لوٹا”۔
“پری کو خود سے الگ کیاوہ اب بھی رو رہی تھی ہمان بے حد شرمندہ ہوا کیا حق تھا اسے اس طرح پری کو چھونے کا “۔۔
“یہ سب غلط ہے بہت غلط وہ نفی میں گردن ہلاتا پری کی طرف متوجہ ہوا”۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہی تھیں وہ بھی اکیلی “۔۔۔
“وہ نرم لہجہ پری کا دل موہ لے گیا”۔۔
“وہ میں۔میں۔پری کو سمجھ نہ آیا کیا بتاۓ”۔
“میں عالی کو ڈھونڈنے آٸی تھی کچھ بن نہ پڑا تو جھوٹ بول دیا”۔۔
“وہ ہمان کا غصہ دیکھ چکی تھی اور اپنے لیے اس کے جذبات و احساسات بھی پری سے چھپے نہیں تھے” ۔۔
“اس لیے عاشی والی بات نہ بتانے میں ہی عافیت جانی نہ جانے اس میں جھوٹ بولنے کی طاقت کہاں سے آٸی تھی”۔۔
“ہمان بس ہممم کر کہ رہ گیا”۔۔۔
“اسے چپ کروا کے وہ ہال میں لے آیا”۔۔
“انجی یہ پری کہیں نہیں دکھا دے رہی”۔۔
“مجھے تو فکر ہو رہی پتا نہیں میری بچی کہا گٸی” ۔
“میں پچھلے آدھے گھنٹے سے اسے ہر جگہ دیکھ آٸی ہوں”۔
” میرا دل بہت گھبرا رہا ہے” ۔
“بھا بھی آپ فکر نہ کریں شادی والا ماحول ہے یہیں کہیں ہو گی کزنز کے ساتھ ہم دیکھ کر آتے ہیں آپ تسلی رکھیں”۔۔
“انجی کی نظر ہمان پر پڑی تو وہ اس کہ طرف بڑھ گٸیں”۔۔
“ہمان”۔
” جی انجی”۔۔
” آپ نے پری کو دیکھا ہے کہیں” ۔
“ہاں وہ میرے ساتھ ہی تھی ابھی میں عالی کے پاس چھوڑ آیا ہوں”۔۔۔
“ہمان نے شرارتی انداز میں کہا “۔
“آپنے ڈرا دیا کم سے کم بتا تو دیتے ہمیں کہ وہ آپ کے ساتھ ہے”
” تو ممتا بھابھی اتنی فکر مند نہ ہوتیں”۔۔
“وہ اس کے کان پکڑتی ہوٸی بولیں اچھا معاف کردیں بھٸی اب سے بتا کے لے کر جاٶں گا “۔۔
“ہممم ہمیں آپ کے ارادے بڑے خطرناک لگ رہے ہیں۔۔۔لگتا ہے کچھ کرنا پڑے گا”۔۔
“وہ بڑی معنی خیزی سے بول کر گٸ تھیں”۔
“عالی عاشی ماہیر رافع زین سب اس وقت اسٹیج پر کھڑے تھے تھوڑی دیر میں دودھ پلاٸی کی رسم ہونی تھی”۔
“جبکہ پری عاشی کی باتوں کی وجہ سے نیچے ممتا بیگم کے پاس ہی رکی رہی”۔
“چلیے جیجا جی تیار ہو جاٸیں اب اپنی جیب ہلکی کرنے کے لیے”۔۔
” عالی نے ہنستے ہوۓ عاشی کے ہاتھ پر تالی ماری” ۔۔
“حماد کھل کے مسکرا” ۔
“عالی اور عاشی نے دودھ کا سجا ہوا گلاس حماد کی طرف بڑھایا مگر اس قبل وہ اس نے اس چھٹانک بھر دودھ کے گلاس کی قیمت پوچھنا مناسب سمجھا” ۔۔
“ویسے کیا قیمت ہے اس گلاس کی”۔۔۔
“حماد کے بولنے کی دیر تھی سٹیج ان سب کزنز کے بلند و بالا قہقہوں سے گونج اٹھا” ۔۔
“حماد اپنی سی صورت لے کے بیٹھ گیا۔”۔۔
“بے فکر رہیں آپ ک بیوی سے زیادہ قیمتی نہیں” ۔۔
” حماد کے دودھ پینے کے بعد ان دونوں نے پوورے بیس لاکھ کا مطالبا کیا” ۔
” حیرت کی کیفیت میں حماد کے منہ سے صرف اتنا ہی نکلا بس بیس لاکھ”۔۔
“عالی اور عاشی نے ایک دوسرے کو معنی خیزی سے دیکھا اور سٹیج ایک بار پھر قہقہوں کی زد میں آچکا تھا”۔
“ہنستے ہوۓ کہا ہاں بس بیس لاکھ
“حماد تو بیس لاکھ کا سن کر ہی چکرا گیا”
_________
“پھر کسی طرح کر کرا کر پانچ لاکھ پر عالی اور عاشی مان گٸیں”۔۔۔۔” اور کچھ ہی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا ۔”
“سارہ خود تو روٸی ہی روٸی ساتھ ہال میں سب کو رولا ڈالا کچھ ڈی جے والے کا کمال تھا جس نے بیک گراٶنڈ پہ رخصتی کا میوزک پلے کیا ہوا تھا”۔۔
” اچانک ہال کی ساری لاٸیٹس آف ہو گٸیں سارہ ماہیر کے سینے لگی اشق بہا رہی تھی کہ اچانک گپ اندھیرا ہوگیا “۔۔
“ہال میں ایک دم شور مچنے لگا”۔۔
“اور پھر ایک فوکس لاٸیٹ آن ہوٸی جس میں ہمان کو فوکس کیا جارہا تھا “۔۔
“بیک گراٶنڈ میوزک چینج ہو گیا”۔۔
“ہمان کے ہاتھ میں ماٸیک تھا میوزک کے چلتے چلتے ہی ساری لاٸیٹس اوپن کر دی گٸیں”۔
” سب مبہوت سےہمان کے دیکھنے لگے”۔۔
ہمان ماٸیک نے ہونٹوں قریب کیا اور گانا شروع کیا “
“دروازے پہ تیرے بارات لاۓ گا “
“ڈولی میں بیٹھا کے تجھے لے جاۓ گا “
“گاتا مسیراتا تیرا بھیا رہ جاۓ”
” گاتا میسکراتا تیرا بھیا رہ جاۓ گا”
“آۓ گا دولہا آۓ گا”
“آۓ گا دولہا آۓ گا”
” گاتا مسکراتا تیرا بھیا رہ جاۓ گا “
سارہ کی آنکھوں سے آنسوں جھرنے کی صورت بہنے لگے
“گاتا مسکراتا تیرا بھیا رہ جاۓ “
“ناچیں گے ہم گاۓیں گے ہم”
“کیا دن ہو گا وہ جب تو بنے گی دل دلہن”
“یہ گلیاں یہ چوبارے تیری یاد ستاٸیں گے”
“بن تیرے یہ سب مل کر مجھ کو بہت ستاٸیں”
“میں لیکن اپنے غم سے تیری خوشی سجاٶں گا”
“اپنے ہاتھوں سے سارے گھر میں دیپ جلاٶں گا”
“میرا دل میری جان میری زندگی”
“ہمان سارہ کی طرف شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ہے اس کے پاس آیا”
“تیری ہر خوشی میں ہے میری ہر خوشی”
“کیا دن ہوگا وہ جب تو بنے گی دلہن”
“روۓ گا دل میرا پھر بھی ناچے گاۓ گا”
“ہمان نے اپنی ہتھیلی سے اس کے گرتے آنسو صاف کیے سر کو نفی میں ہلا کر “
“اسے رونے سے باز رہنے اشارہ دیا”
“دروازے پہ تیرے بارات لاۓ گا “
“ڈولی میں بٹھا کے تجھے لے جاۓ گا “
“گاتا مسکراتا تیرا بھیا رہ جاۓ گا “
“آۓ گا دولہا آۓ گا”
“آۓ گا دولہا آۓ گا”
سارہ کو ایک ساٸیڈ سے ماہیر نے پکڑ رکھا تھا اور دوسری ساٸیڈ پر حماد تھا”۔
” ہمان کے اشارے پہ حماد ساٸیڈ پر ہوگیا عجب پیار تھا بہن بھاٸی کا ہر آنکھ اشق بار تھی”۔۔
“دونوں بھاٸیوں نے قرآن کے ساۓ تلے بہن کو رخصت کیا “۔
“عالی کی بھی آنکھیں بھر آٸیں بہت مشکل ہوتا ہے اپنی کسے قیمتی چیز کا اختیار کسی اور کو سونپنے میں “۔۔
“میسم صاحب جتنا دکھی تھے اتنا خوش بھی تھے “۔
“بیٹی کی ذمہ داری مضبوط ہاتھوں میں سونپ کے اب وہ پر سکون تھے”۔
“انہوں نے الٹے ہاتھ سے اپنا نظر کا چشمہ اتارہ اور آنسو صاف کیے”۔۔
“ہال آہستہ آہستہ خالی ہو گیا”۔
“اب ہمیں بھی گھر چلنا چاہیے ماہیر نے سب گھر والوں کو مخاطب کیا”
“ہاں کافی دیر ہوگٸی ہے گھر چلو جواب فواد صاحب نے دیا” ۔۔
“سب گھر چلے گۓ “
” ہمان گھر آ کر اپنے کمرے میں بند ہو گیا” ۔
“اسے کسی طور چین نہیں آرہا تھا”۔
” ہال میں ہوۓ پری والے واقع کے بارے میں سوچ سوچ کر وہ بے حد شرمندہ تھا “۔۔
” میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں” ۔۔
“نہیں مجھے کوٸی حق نہیں پہنچتا” ۔
” یہ سب غلط ہے میرے خدایا”۔
“ہمان اپنے آپ سے بڑبڑانے کے انداز میں بو ل رہا تھا “۔۔۔
“میرا اس سے کوٸی رشتہ نہیں وہ میری محرم نہیں یا اللہ مجھ سے ایک گناہ سر زد ہو چکا ہے “۔
“مجھے معاف کر دے میرے اللہ”۔۔۔
“ہمان روتے روتے سر پکڑ کر وہیں زمین پہ بیٹھ گیا”۔
“میں بہت پیشمان ہوں” ۔۔
“مجھے کہیں سکون نہیں مل رہا میرے مولا “۔۔
“اس کی آنکھیں شدت گریاں سے سرخ ہو رہی تھیں”۔
“اس وقت کے رات تین بج رہےتھے اور ہمان کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی”
جاری ہے
